Bulugh al-Maram #760
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا- قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتْ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ. وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: ((الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شِرْكٍ: أَرْضٍ، أَوْ رَبْعٍ، أَوْ حَائِطٍ، لَا يَصْلُحُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يَعْرِضَ عَلَى شَرِيكِهِ)). وَفِي رِوَايَةِ الطَّحَاوِيِّ: قَضَى النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ شَيْءٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس چیز میں شفعے کا فیصلہ دیا ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو‘ مگر جب حد بندی ہو جائے اور راستے الگ ہو جائیں تو پھر شفعہ نہیں۔ (بخاری و مسلم۔ اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے: ’’شفعہ ہر مشترک چیز میں ہے‘ (مثلاً:) زمین میں‘ مکان میں‘ باغ میں۔ اپنے حصے دار (شریک) کے روبرو پیش کیے بغیر چیز فروخت کرنا کسی کے لیے درست نہیں۔‘‘ اور طحاوی کی روایت میں ہے کہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چیز میں شفعے کا حق رکھا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں۔