Muslim99Muslim99

Bulugh al-Maram · Book 7 · Chapter 13

Business Transactions

بَابُ الشُّفْعَةِ · بَابُ الْقِرَاضِ

7 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

760

Bulugh al-Maram #760

Sahih

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا- قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتْ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ. وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: ((الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شِرْكٍ: أَرْضٍ، أَوْ رَبْعٍ، أَوْ حَائِطٍ، لَا يَصْلُحُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يَعْرِضَ عَلَى شَرِيكِهِ)). وَفِي رِوَايَةِ الطَّحَاوِيِّ: قَضَى النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ شَيْءٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس چیز میں شفعے کا فیصلہ دیا ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو‘ مگر جب حد بندی ہو جائے اور راستے الگ ہو جائیں تو پھر شفعہ نہیں۔ (بخاری و مسلم۔ اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے: ’’شفعہ ہر مشترک چیز میں ہے‘ (مثلاً:) زمین میں‘ مکان میں‘ باغ میں۔ اپنے حصے دار (شریک) کے روبرو پیش کیے بغیر چیز فروخت کرنا کسی کے لیے درست نہیں۔‘‘ اور طحاوی کی روایت میں ہے کہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چیز میں شفعے کا حق رکھا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں۔

761

Bulugh al-Maram #761

Sahih

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ)). أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَفِيهِ قِصَّةٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہمسایہ اپنے قرب (ہمسائیگی) کی وجہ سے زیادہ حق رکھتا ہے۔‘‘ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے اور اس کے بارے میں ایک لمبا قصہ ہے۔)

762

Bulugh al-Maram #762

Hasan

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ)). رَوَاهُ النَّسَائِيُّ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَلَهُ عِلَّةٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مکان کا ہمسایہ اس مکان کا زیادہ حق رکھتا ہے۔‘‘ (اسے نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے لیکن اس میں علت ہے۔)

763

Bulugh al-Maram #763

Hasan

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَةِ جَارِهِ، يُنْتَظَرُ بِهَا - وَإِنْ كَانَ غَائِبًا - إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا)). رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْأَرْبَعَةُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہمسایہ اپنے ہمسائے کے شفعے کا زیادہ حقدار ہے۔ اس (ہمسائے) کا انتظار کیا جائے گا اگرچہ وہ غائب ہو بشرطیکہ دونوں کا راستہ ایک ہو۔‘‘ (اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔)

764

Bulugh al-Maram #764

Da'if

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا-، عَنِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: الشُّفْعَةُ كَحَلِّ الْعِقَالِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَزَّارُ، وَزَادَ: ((وَلَا شُفْعَةَ لِغَائِبٍ)). وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’شفعہ رسی کھولنے کی طرح ہے۔‘‘ (اسے ابن ما جہ اور بزار نے روایت کیا ہے۔) اور بزار نے یہ اضافہ بھی نقل کیا ہے: ’’غیر حاضر و غائب کے لیے شفعے کا کوئی حق نہیں۔‘‘ (اس کی سند ضعیف ہے۔)

765

Bulugh al-Maram #765

Da'if

عَنْ صُهَيْبٍ - رضي الله عنه - أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((ثَلَاثٌ فِيهِنَّ الْبَرَكَةُ: الْبَيْعُ إِلَى أَجَلٍ، وَالْمُقَارَضَةُ، وَخَلْطُ الْبُرِّ بِالشَّعِيرِ لِلْبَيْتِ، لَا لِلْبَيْعِ)). رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تین کام بڑے بابرکت ہیں: مدت مقررہ تک بیع‘ مضاربت کرنا اور گندم میں جَو ملانا‘ گھر کے لیے‘ فروخت کرنے کے لیے نہیں۔‘‘ (اسے ابن ماجہ نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔)

766

Bulugh al-Maram #766

Sahih

وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ - رضي الله عنه - أَنَّهُ كَانَ يَشْتَرِطُ عَلَى الرَّجُلِ إِذَا أَعْطَاهُ مَالًا مُقَارَضَةً: أَنْ لَا تَجْعَلَ مَالِي فِي كَبِدٍ رَطْبَةٍ، وَلَا تَحْمِلَهُ فِي بَحْرٍ، وَلَا تَنْزِلَ بِهِ فِي بَطْنِ مَسِيلٍ، فَإِنْ فَعَلْتَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَقَدَ ضَمِنْتَ مَالِي. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَقَالَ مَالِكٌ فِي ((الْمُوَطَّأِ)) عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، [ص:270] عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّهُ عَمِلَ فِي مَالٍ لِعُثْمَانَ عَلَى أَنَّ الرِّبْحَ بَيْنَهُمَا. وَهُوَ مَوْقُوفٌ صَحِيحٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جب کسی شخص کو مضاربت پر اپنا سرمایہ دیتے تو اس سے یہ شرط کر لیا کرتے تھے کہ میرا سرمایہ‘ حیوان کی تجارت میں نہیں لگاؤ گے‘ سمندر میں لے کر نہیں جاؤ گے اور سیلاب کی جگہوں میں لے کر نہیں جاؤ گے۔ اگر تم نے ان میں سے کوئی کام بھی کیا تو میرے مال کے تم خود ضامن و ذمہ دار ہو گے۔ (اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔)امام مالک رحمہ اللہ موطا میں علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب سے‘ وہ (علاء) اپنے باپ (عبدالرحمن) سے اور وہ (عبدالرحمن) اس (علاء) کے دادا (یعقوب) سے بیان کرتے ہیں کہ اس (یعقوب) نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مال میں اس شرط پر تجارت کی تھی کہ منافع دونوں کے درمیان تقسیم ہوگا۔ (یہ حدیث موقوف صحیح ہے۔)