Muslim99Muslim99

Bulugh al-Maram · Book 7 · Chapter 12

Business Transactions

بَابُ الْغَصْبِ

5 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

755

Bulugh al-Maram #755

Sahih

عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا-; أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((مَنْ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا طَوَّقَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے ایک بالشت بھر زمین کسی سے ظلماً لے لی‘ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اتنا حصۂ زمین‘ ساتوں زمینوں سے اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالے گا۔‘‘ (بخاری و مسلم)

756

Bulugh al-Maram #756

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ; - أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - كَانَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ، فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ مَعَ خَادِمٍ لَهَا بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ، فَكَسَرَتِ الْقَصْعَة، فَضَمَّهَا، وَجَعَلَ فِيهَا الطَّعَامَ. وَقَالَ: ((كُلُوا)) وَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ لِلرَّسُولِ، وَحَبَسَ الْمَكْسُورَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَالتِّرْمِذِيُّ، وَسَمَّى الضَّارِبَةَ عَائِشَةَ، وَزَادَ: فَقَالَ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم: ((طَعَامٌ بِطَعَامٍ، وَإِنَاءٌ بِإِنَاءٍ)). وَصَحَّحَهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کے ہاں تشریف فرما تھے۔ کسی دوسری ام المومنین نے اپنے خادم کے ذریعے سے ایک پیالہ بھیجا جس میں کچھ کھانا تھا۔ تو اس بیوی نے اپنا ہاتھ مارا اور وہ پیالہ ٹوٹ گیا‘ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیالے کو جوڑ کر اس میں کھانا ڈال دیا اور فرمایا: ’’کھاؤ۔‘‘ اور لانے والے کے ہاتھ سالم پیالہ بھیج دیا اور ٹوٹا ہوا اپنے پاس رکھ لیا۔ (بخاری و ترمذی) ترمذی نے ہاتھ مار کر پیالہ توڑنے والی کا نام حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بتلایا ہے۔ اور اتنا اضافہ کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کھانے کے بدلے میں کھانا اور برتن کے بدلے میں برتن۔‘‘ (اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے۔)

757

Bulugh al-Maram #757

Da'if

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ، فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ، وَلَهُ نَفَقَتُهُ)). رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْأَرْبَعَةُ إِلَّا النَّسَائِيَّ، وَحَسَّنَهُ التِّرْمِذِيُّ. وَيُقَالُ: إِنَّ الْبُخَارِيَّ ضَعَّفَهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس کسی نے دوسرے لوگوں کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر فصل کاشت کی تو اسے اس فصل میں سے کچھ نہیں ملے گا۔ اسے صرف وہ اخراجات ملیں گے جو اس نے خرچ کیے ہیں۔‘‘ (اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے سوائے نسائی کے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بخاری نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔)

758

Bulugh al-Maram #758

Da'if

وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الصَّحَابَةِ; مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: إِنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي أَرْضٍ، غَرَسَ أَحَدُهُمَا فِيهَا نَخْلًا، وَالْأَرْضُ لِلْآخَرِ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - بِالْأَرْضِ لِصَاحِبِهَا، وَأَمَرَ صَاحِبَ النَّخْلِ أَنْ يُخْرِجَ نَخْلَهُ. وَقَالَ: ((لَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ)). رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ. وَآخِرُهُ عِنْدَ أَصْحَابِ السُّنَنِ مِنْ رِوَايَةِ عُرْوَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ. وَاخْتُلِفَ فِي وَصْلِهِ وَإِرْسَالِهِ، وَفِي تَعْيِين صَحَابِيِّهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی نے بتایا کہ دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زمین کا جھگڑا لے کر آئے‘ جس میں ان میں سے ایک نے کھجور کے درخت لگا دیے تھے جبکہ زمین دوسرے شخص کی تھی‘ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ زمین ‘ زمین والے کی ہے اور کھجور کے درخت لگانے والا اپنے درخت اکھاڑ لے‘ نیز فرمایا: ’’ظالم رگ (انسان کے اندر دوسرے کا حق مارنے کا منفی جذبہ یا منفی جذبے کے تحت کی گئی غاصبانہ کارروائی) کا کوئی حق نہیں۔‘‘ (اسے ابوداود نے روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ اس حدیث کا آخری جز اصحابِ سنن نے عروہ عن سعید بن زید کی سند سے روایت کیا ہے۔ اس روایت کے مرسل اور موصول ہونے اور اس کے صحابی کے تعین میں اختلاف ہے۔)

759

Bulugh al-Maram #759

Sahih

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ; - رضي الله عنه - أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: فِي خُطْبَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى ((إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ [وَأَعْرَاضَكُمْ] عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے روز منیٰ میں اپنے خطبے میں فرمایا: ’’بے شک تمھارے خون‘ تمھارے اموال اور تمھاری آبروئیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمھارا آج کا یہ دن تمھارے اس شہر اور تمھارے اس مہینے میں حرمت والا ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم)