Muslim99Muslim99

Bulugh al-Maram · Book 6 · Chapter 3

Hajj

بَابُ صِفَةِ الْحَجِّ وَدُخُولِ مَكَّةَ

38 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

607

Bulugh al-Maram #607

Sahih

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - حَجَّ، فَخَرَجْنَا مَعَهُ، حَتَّى أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ، فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ، فَقَالَ: ((اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ، وَأَحْرِمِي)).وَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ: ((لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ)). حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ، فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ أَتَى مَقَامَ إِبْرَاهِيمَ فَصَلَّى، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الرُّكْنِ فَاسْتَلَمَهُ. ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الصَّفَا، فَلَمَّا دَنَا مِنَ الصَّفَا قَرَأَ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ} [البقرة: 158] ((أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ)) فَرَقِيَ الصَّفَا، حَتَّى رَأَى الْبَيْتَ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَوَحَّدَ اللَّهَ وَكَبَّرَهُ وَقَالَ: ((لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ [وَحْدَهُ] أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ)). ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ نَزَلَ إِلَى الْمَرْوَةِ، حَتَّى انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي [سَعَى] حَتَّى إِذَا صَعَدَتَا مَشَى إِلَى الْمَرْوَةِ فَفَعَلَ عَلَى الْمَرْوَةِ، كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا … فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَفِيهِ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ تَوَجَّهُوا إِلَى مِنَى، وَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَصَلَّى بِهَا الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ، وَالْعِشَاءَ، وَالْفَجْرَ، ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلًا حَتَّى طَلَعَتْ الشَّمْسُ، فَأَجَازَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ، فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ فَنَزَلَ بِهَا. حَتَّى إِذَا زَاغَتْ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ، فَرُحِلَتْ لَهُ، فَأَتَى بَطْنَ الْوَادِي، فَخَطَبَ النَّاسَ. ثُمَّ أَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا.ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى أَتَى الْمَوْقِفَ فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ إِلَى الصَّخَرَاتِ، وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَذَهَبَتْ الصُّفْرَةُ قَلِيلًا، حَتَّى غَابَ الْقُرْصُ، وَدَفَعَ، وَقَدْ شَنَقَ لِلْقَصْوَاءِ الزِّمَامَ حَتَّى إِنَّ رَأْسَهَا لَيُصِيبُ مَوْرِكَ رَحْلِهِ، وَيَقُولُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى: ((أَيُّهَا النَّاسُ، السَّكِينَةَ، السَّكِينَةَ)) ، كُلَّمَا أَتَى حَبْلًا أَرْخَى لَهَا قَلِيلًا حَتَّى تَصْعَدَ.حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ، فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ، وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، فَصَلَّى الْفَجْرَ، حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ. ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى أَتَى الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَدَعَاهُ، وَكَبَّرَهُ، وَهَلَّلَهُ فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى أَسْفَرَ جِدًّا. فَدَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، حَتَّى أَتَى بَطْنَ مُحَسِّرَ فَحَرَّكَ قَلِيلًا، ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تَخْرُجُ عَلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى، حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ، فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا، مِثْلَ حَصَى الْخَذْفِ، رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ، فَنَحَرَ، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَأَفَاضَ إِلَى الْبَيْتِ، فَصَلَّى بِمَكَّةَ الظُّهْرَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ مُطَوَّلًا.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو ہم آپ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے بچے کو جنم دیا۔ آپ نے فرمایا: ’’غسل کر کے ایک لنگوٹ باندھ لے اور احرام باندھ لے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ذوالحلیفہ کی) مسجد میں نماز پڑھی اور قصواء (اونٹنی) پر سوار ہو گئے یہاں تک کہ جب آپ بیداء کے برابر آئے تو آپ نے توحیدکا تلبیہ پکارا [لَـبَّیْکَ‘ اللّٰھُمَّ لَـبَّیْکَ لَـبَّیْکَ…لاَشَرِیکَ لَکَ] ’’حاضر ہوں‘ اے میرے اللہ! میں حاضر ہوں۔ میں حاضر ہوں‘تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں۔ بلاشبہ سب تعریفیں اور نعمتیں تیری ہیں۔ اوربادشاہت بھی تیری ہے‘ تیرا کوئی شریک نہیں۔‘‘ یہاں تک کہ ہم بیت اللہ میں داخل ہوئے۔ آپ نے رکن (حجر اسود) کو بوسہ دیا‘ تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکروں میں معمول کے مطابق چلے‘ پھر آپ مقام ابراہیم پر آئے اور نماز پڑھی‘ پھر رکن (حجر اسود) کی طرف واپس آئے اور اسے بوسہ دیا‘ پھر (مسجد حرام کے) دروازے سے صفا کی طرف نکلے۔ جب صفا کے نزدیک پہنچے تو یہ آیت پڑھی: ﴿اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ﴾ (البقرۃ۲:۱۵۸) ’’بلاشبہ صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔‘‘ (پھر فرمایا:) ’’میں (سعی کو) اس مقام سے شروع کرتا ہوں جہاں سے اللہ نے شروع کیا ہے۔‘‘ (میں اسی سے شروع کرتا ہوں جس کا نام اللہ نے پہلے لیا ہے۔) پھر آپ صفا پر چڑھے یہاں تک کہ آپ نے بیت اللہ کو دیکھا‘ پھر قبلہ رخ ہوئے اور اللہ کی وحدانیت اور کبریائی بیان کی اور کہا: [لاَ إلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ‘ وَحْدَہُ‘ لاَشَرِیکَ لَہُ... وَھَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ] ’’اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ یکتا ہے‘ کوئی اس کا شریک نہیں۔ بادشاہی اور سب خوبیاں اسی کی ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور کفار کی جماعتوں کو اسی اکیلے نے شکست دی۔‘‘ پھر ان (الفاظ کو پہلی بار اور دوسری بار پڑھنے) کے درمیان دعا مانگی۔ تین بار ایسا کیا‘ پھر صفا سے اترکر مروہ کی طرف چلے حتی کہ جب آپ کے قدم وادی کے نشیب میں پڑے تو آپ دوڑنے لگے یہاں تک کہ آپ بلند جگہ پہنچے تو مروہ کی طرف پیدل چلنے لگے‘ پھر مروہ پر وہی کچھ کیا جو صفا پر کیا تھا‘ پھر حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے ساری حدیث بیان کی جس میں یہ ہے کہ جب ترویہ کا دن (۸ ذوالحجہ) ہوا تو لوگ منیٰ کی طرف متوجہ ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے (اور منی پہنچے)۔ آپ نے وہاں ظہر‘ عصر‘ مغرب‘ عشاء اور صبح کی نمازیں پڑھیں‘ پھر تھوڑی دیر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ سورج نکل آیا تو وہاں سے روانہ ہوئے اور (مزدلفہ سے گزرتے ہوئے) عرفات میں پہنچے تو وہاں ایک خیمہ لگا ہوا پایا جو آپ کے لیے نمرہ میں لگایا گیا تھا‘ آپ وہاں تشریف فرما ہوئے‘ پھر جب سورج ڈھلنے لگا تو آپ نے قصواء پر پالان رکھنے کا حکم دیا۔ آپ سوار ہو کر وادی کے نشیب میں آئے اور لوگوں کو خطبہ دیا‘ پھر اذان دلوائی‘ پھر اقامت کہلواکر نماز ظہر ادا کی‘ پھر اقامت کہلواکر عصر کی نماز پڑھی اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہ پڑھی‘ پھر سوار ہو کر ٹھہرنے کی جگہ پر پہنچے تو اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ پتھروں کی طرف کر دیا اور پیدل چلنے والوں کے راستے کو اپنے سامنے کرلیا اور اپنا رخ قبلے کی جانب کر لیا‘ پھر آپ ٹھہرے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور تھوڑی سی زردی ختم ہو گئی۔ جب سورج مکمل طور پر غروب ہوگیا تو آپ (اسی حالت میں) واپس ہوئے۔ آپ نے قصواء کی مہار اتنی کھینچ رکھی تھی کہ اس کا سر آپ کے پالان کے اگلے ابھرے ہوئے حصے کو پہنچتا تھا اور آپ اپنے داہنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے: ’’لوگو! آرام سے چلو‘ آرام سے چلو۔‘‘ اور جب بھی آپ کسی ٹیلے پر آتے تو مہار تھوڑی سی ڈھیلی کردیتے حتی کہ وہ (اونٹنی) اوپر چڑھ جاتی یہاں تک کہ آپ مزدلفہ تشریف لائے اور وہاں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی اور دونوں کے درمیان کوئی نفل نماز نہیں پڑھی‘ پھر آپ لیٹ گئے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ جب صبح کا وقت ظاہر ہوا تو آپ نے اذان اور اقامت سے فجر کی نماز پڑھی‘ پھر سوار ہو کر مشعر حرام پر آئے‘ چنانچہ آپ قبلہ رو ہوئے‘ دعا کی اور تکبیر و تہلیل کہتے رہے۔ خوب روشنی ہونے تکآپ وہاں ٹھہرے رہے‘ پھر سورج نکلنے سے پہلے واپس ہو کر وادی ٔ محسر کے نشیب میں آئے تو سواری کو کچھ تیز کر دیا‘ پھر درمیانی راستے پر چلے جو جمرۂ کبریٰ (بڑے شیطان) پر پہنچتا ہے‘ پھر آپ اس جمرے پر آئے جو درخت کے پاس ہے اور اسے سات کنکریاں وادی کے نشیب سے ماریں۔ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے۔ ان میں سے ہر کنکری خذف (لوبیا اور چنے وغیرہ کے دانے) کے برابر تھی‘ پھر آپ قربان گاہ کی طرف گئے اور وہاں قربانی کی‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئے‘ پھر مکہ میں ظہر کی نماز پڑھی۔ (اسے مسلم نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔)

608

Bulugh al-Maram #608

Da'if

وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ - رضي الله عنه: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ تَلْبِيَتِهِ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ سَأَلَ اللَّهَ رِضْوَانَهُ وَالْجَنَّةَ، وَاسْتَعَاذَ بِرَحْمَتِهِ مِنَ النَّارِ. رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حج یا عمرے میں تلبیہ‘ یعنی لبیک کہنے سے فارغ ہوتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کی رضامندی اور جنت طلب کرتے اور اس کی رحمت کے ساتھ آگ سے پناہ مانگتے۔ (اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔)

609

Bulugh al-Maram #609

Sahih

وَعَنْ جَابِرٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((نَحَرْتُ هَاهُنَا، وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ، فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ، وَوَقَفْتُ هَاهُنَا، وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَوَقَفْتُ هَاهُنَا وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ)). رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے قربانی اس جگہ کی ہے مگر منیٰ سارے کا سارا قربان گاہ ہے‘ لہٰذا تم اپنے اپنے ٹھہرنے کے مقامات پر قربانی کر و۔ اور میں نے اس جگہ قیام کیا ہے مگر عرفات کا سارا میدان جائے قیام ہے۔ اور میں نے یہاں قیام کیا مگر مزدلفہ سارا جائے قیام ہے۔‘‘ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔)

610

Bulugh al-Maram #610

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - لَمَّا جَاءَ إِلَى مَكَّةَ دَخَلَهَا مِنْ [ص:217] أَعْلَاهَا، وَخَرَجَ مِنْ أَسْفَلِهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب (حج کے لیے) مکہ میں داخل ہوئے تو مکہ کی بالائی جانب سے داخل ہوئے اور اس کے زیریں حصے سے نکلے۔ (بخاری و مسلم)

611

Bulugh al-Maram #611

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّهُ كَانَ لَا يَقْدُمُ مَكَّةَ إِلَّا بَاتَ بِذِي طُوَى حَتَّى يُصْبِحَ وَيَغْتَسِلَ، وَيَذْكُرُ ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ جب بھی مکہ میں آتے تو ذی طویٰ میں صبح تک شب بسر کرتے اور غسل کرتے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم)

612

Bulugh al-Maram #612

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّهُ كَانَ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ وَيَسْجُدُ عَلَيْهِ. رَوَاهُ الْحَاكِمُ مَرْفُوعًا، وَالْبَيْهَقِيُّ مَوْقُوفًا.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ حجر اسود کو بوسہ دیتے اور اس پر سجدہ کرتے۔ (اسے حاکم نے مرفوع اور بیہقی نے موقوف روایت کیا ہے۔)

613

Bulugh al-Maram #613

Sahih

وَعَنْهُ رضي الله عنه قَالَ: أَمَرَهُمْ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - أَنْ يَرْمُلُوا ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ، وَيَمْشُوا أَرْبَعًا، مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ تین چکروں میں ہلکا ہلکا دوڑ کر چلیں اور چار چکر عام معمول کے مطابق چل کر لگائیں اور دونوں رکنوں کے مابین پیدل چلیں۔ (بخاری و مسلم)

614

Bulugh al-Maram #614

Sahih

وَعَنِ ابنِ عُمَرَ رضي الله عنهما أَنَّه إِذَا طَافَ بِالبَيتِ الطَّواف الأَول خب ثلاثا ومشي أربعاً وفي رواية: رأيت رسول الله صلي الله عليه وسلم إذا طاف في الحج أو العمرة أول ما يقدم فانه يسعي ثلاثة اطواف بالبيت ويمشي أربعة متفق عليه

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ جب بھی بیت اللہ کا طواف قدوم (پہلا طواف) کرتے تو اس کے پہلے تین چکروں میں پہلوانوں کی سی چال چلتے اور (باقی) چار میں آہستہ چلتے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:) میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ حج یا عمرے کے لیے جب بھی طواف قدوم کرتے تو اس کے پہلے تین چکر دوڑ کر لگاتے اور باقی چار میں آپ آہستہ چال چلتے۔ (بخاری ومسلم)

615

Bulugh al-Maram #615

Sahih

وَعَنْهُ قَالَ: لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَسْتَلِمُ مِنَ الْبَيْتِ غَيْرَ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں یمانی رکنوں کے سوا بیت اللہ کے کسی رکن کو چھوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔)

616

Bulugh al-Maram #616

Sahih

وَعَنْ عُمَرَ - رضي الله عنه: أَنَّهُ قَبَّلَ الْحَجَرَ [الْأَسْوَدَ] فَقَالَ: إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا: مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ تو پتھر ہے۔ تو کسی قسم کے نفع و نقصان کا مالک نہیں۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا۔ (بخاری و مسلم)

617

Bulugh al-Maram #617

Sahih

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ - رضي الله عنه - قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَيَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ مَعَهُ، وَيُقْبِّلُ الْمِحْجَنَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا ہے۔ آپ چھڑی سے‘ جو آپ کے پاس تھی‘ حجر اسود کو چھوتے اور پھر اس چھڑی کو بوسہ دیتے تھے۔ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔)

618

Bulugh al-Maram #618

Da'if

وَعَنْ يَعْلَى بْنَ أُمَيَّةَ - رضي الله عنه - قَالَ: طَافَ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - مُضْطَبِعًا بِبُرْدٍ [ص:218] أَخْضَرَ. رَوَاهُ الْخَمْسَةُ إِلَّا النَّسَائِيَّ، وَصَحَّحَهُ التِّرْمِذِيُّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سبز چادر میں طواف کیا جس کو آپ نے دائیں بغل سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈال رکھا تھا۔ (اسے نسائی کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے صحیح قرار دیا ہے۔)

619

Bulugh al-Maram #619

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنه - قَالَ: كَانَ يُهِلُّ مِنَّا الْمُهِلُّ فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ، وَيُكَبِّرُ [مِنَّا] الْمُكَبِّرُ فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم میں سے کچھ لوگ تلبیہ کہتے تھے‘ انھیں بھی برا نہیں سمجھا جاتا تھا اور بعض ہم میں سے تکبیریں کہتے تھے، انھیں بھی برا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ (بخاری و مسلم)

620

Bulugh al-Maram #620

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي الثَّقَلِ، أَوْ قَالَ فِي الضَّعَفَةِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے‘ انھوں نے کہا کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافروں کے سامان کے ساتھ‘ یا کہا کہ کمزوروں کے ساتھ رات ہی کو مزدلفہ سے (منیٰ کی جانب) بھیج دیا تھا۔ (بخاری و مسلم)

621

Bulugh al-Maram #621

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ: أَنْ تَدْفَعَ قَبْلَهُ، وَكَانَتْ ثَبِطَةً - تَعْنِي: ثَقِيلَةً - فَأَذِنَ لَهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِمَا.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے مزدلفہ کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ آپ سے پہلے واپس آجائے اور (یہ اجازت انھوں نے اس لیے طلب کی کہ) وہ بھاری جسم والی تھیں۔ آپ نے انھیں اجازت دے دی۔ (بخاری و مسلم)

622

Bulugh al-Maram #622

Da'if

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ)). رَوَاهُ الْخَمْسَةُ إِلَّا النَّسَائِيَّ، وَفِيهِ انْقِطَاعٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ’’طلوع آفتاب سے پہلے کنکریاں نہ مارو۔‘‘ (اسے نسائی کے علاوہ پانچوں نے روایت کیا ہے۔ اس کی سند میں انقطاع ہے)

623

Bulugh al-Maram #623

Hasan

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَرْسَلَ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - بِأُمِّ سَلَمَةَ لَيْلَةَ النَّحْرِ، فَرَمَتِ الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ، ثُمَّ مَضَتْ فَأَفَاضَتْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَإِسْنَادُهُ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو قربانی والی رات پہلے بھیج دیا تھا‘ چنانچہ انھوں نے طلوع فجر سے پہلے کنکریاں ماریں‘ پھر جاکر طواف افاضہ کیا۔ (اسے ابوداود نے روایت کیا ہے اور اس کی سند مسلم کی شرط پر ہے۔)

624

Bulugh al-Maram #624

Sahih

وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((مَنْ شَهِدَ صَلَاتَنَا هَذِهِ - يَعْنِي: بِالْمُزْدَلِفَةِ - فَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّى نَدْفَعَ، وَقَدْ وَقَفَ بِعَرَفَةَ قَبْلَ ذَلِكَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ)). رَوَاهُ الْخَمْسَةُ، وَصَحَّحَهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ خُزَيْمَةَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص ہمارے ساتھ اس نماز‘ یعنی مزدلفہ میں (فجر کی نماز میں) شامل ہوا اور ہمارے ساتھ وقوف کیا یہاں تک کہ ہم نے کوچ کیا اور اس سے پہلے وہ رات کو یا دن کو عرفہ میں وقوف (عرفات میں قیام) کر چکا ہو تو اس کا حج مکمل ہوگیا اور اس نے اپنا میل کچیل دور کرلیا۔‘‘ (اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔)

625

Bulugh al-Maram #625

Sahih

وَعَنْ عُمَرَ - رضي الله عنه - قَالَ: إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَيَقُولُونَ: أَشْرِقْ ثَبِيرُ وَأَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - خَالَفَهُمْ، ثُمَّ أَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مشرکین (مزدلفہ سے) طلوع آفتاب کے بعد واپس لوٹتے تھے اور کہتے تھے: اے ثبیر (پہاڑ!) روشن ہو جا۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور طلوع آفتاب سے پہلے وہاں سے کوچ کیا۔ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔)

626

Bulugh al-Maram #626

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَا: لَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم دونوں سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرۂ عقبہ کو کنکری مارنے تک تلبیہ کہتے رہے۔ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔)

627

Bulugh al-Maram #627

Sahih

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه: أَنَّهُ جَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ، وَمِنًى عَنْ يَمِينِهِ، وَرَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَقَالَ: هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انھوں نے بیت اللہ کو اپنی بائیں جانب اور منیٰ کو اپنی دائیں جانب رکھا اور جمرے کو سات کنکریاں ماریں اور فرمایا کہ یہ اس ہستی کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جس پر سورۂ بقرہ کا نزول ہوا تھا۔ (بخاری و مسلم)

628

Bulugh al-Maram #628

Sahih

وَعَنْ جَابِرٍ - رضي الله عنه - قَالَ: رَمَى رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى، وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَإِذَا زَادَتِ الشَّمْسُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کو قربانی کے روز چاشت کے وقت کنکریاں ماریں اور اس روز کے بعد آفتاب ڈھلنے کے بعد (کنکریاں مارتے رہے۔) (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔)

629

Bulugh al-Maram #629

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّهُ كَانَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ الدُّنْيَا، بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ عَلَى أَثَرِ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ، ثُمَّ يُسْهِلُ، فَيَقُومُ فَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ، فَيَقُومُ طَوِيلًا، وَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَرْمِي الْوُسْطَى، ثُمَّ يَأْخُذُ ذَاتَ الشِّمَالِ فَيُسْهِلُ، وَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، ثُمَّ يَدْعُو فَيَرْفَعُ يَدَيْهِ وَيَقُومُ طَوِيلًا، ثُمَّ يَرْمِي جَمْرَةَ ذَاتِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا، ثُمَّ يَنْصَرِفُ، فَيَقُولُ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَفْعَلُهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ (مسجد خیف کے) سب سے قریبی جمرے کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری مارتے وقت تکبیر کہتے‘ پھر آگے تشریف لے جاتے اور نرم جگہ (میدان میں) آکر کھڑے ہو جاتے اور قبلہ رخ ہو کر طویل قیام فرماتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے‘ پھر جمرۂ وسطیٰ (درمیانی جمرے) کو کنکریاں مارتے‘ پھر بائیں جانب ہو جاتے اور نرم جگہ (میدان) میں آکر قبلہ رخ کھڑے ہو جاتے‘ پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور دعا کرتے ہوئے طویل قیام فرماتے۔ اس کے بعد جمرۂ عقبہ کو کنکریاں وادی کی نچلی جگہ سے مارتے مگر وہاں قیام نہ فرماتے‘ پھر واپس تشریف لے آتے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔)

630

Bulugh al-Maram #630

Sahih

وَعَنْـهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ)) قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: ((وَالْمُقَصِّرِينَ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’الٰہی! سر منڈانے والے (حاجیوں) پر رحم فرما۔‘‘ صحابۂ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بال کٹوانے والوں پر بھی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا: ’’بال کٹوانے والوں پر بھی (رحم فرما)۔‘‘ (بخاری و مسلم)

631

Bulugh al-Maram #631

Sahih

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِوِ بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَقَفَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَجَعَلُوا يَسْأَلُونَهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: لَمْ أَشْعُرْ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ. قَالَ: ((اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ)) فَجَاءَ آخَرُ، فَقَالَ: لَمْ أَشْعُرْ، فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: ((اِرْمِ وَلَا حَرَجَ)) فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ: ((افْعَلْ وَلَا حَرَجَ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں ایک مقام پر کھڑے ہوگئے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ سے سوالات کرنے شروع کیے۔ کسی نے کہا: مجھے علم نہیں تھا تو میں نے قربانی سے پہلے حجامت بنوا لی۔ آپ نے اس سے فرمایا: ’’اب قربانی کرلو ‘کوئی حرج نہیں۔‘‘ اور ایک آدمی نے عرض کیا کہ مجھے معلوم نہیں تھا تومیں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی۔ آپ نے اس سے فرمایا: ’’اب کنکریاں مار لے ‘کوئی حرج نہیں۔‘‘ اس روز آپ سے جس عمل کے مقدم و مؤخر کرنے کے متعلق بھی استفسار کیا گیا‘ آپ نے یہی فرمایا: ’’اب کر لو‘ کوئی حرج نہیں۔‘‘ (بخاری و مسلم)

632

Bulugh al-Maram #632

Sahih

وَعَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - نَحَرَ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حجامت کرانے سے پہلے قربانی کی اور اپنے صحابہ کو بھی اس کا حکم دیا۔ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔)

633

Bulugh al-Maram #633

Da'if

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِذَا رَمَيْتُمْ وَحَلَقْتُمْ فَقَدَ حَلَّ لَكُمْ الطِّيبُ وَكُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ)). رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب کنکریاں مار لو اور سر کے بال منڈوا لو تو تمھارے لیے بیویوں کے علاوہ خوشبو اور دیگر تمام چیزیں حلال ہوگئیں۔‘‘ (اسے احمد اور ابوداود نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ضعف ہے۔)

634

Bulugh al-Maram #634

Hasan

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((لَيْسَ عَلَى [ص:223] النِّسَاءِ حَلْقٌ، وَإِنَّمَا يُقَصِّرْنَ)). رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عورتوں کے لیے سر منڈوانا نہیں بلکہ ان کے لیے صرف بال کٹوانا ہے۔‘‘ (اسے ابوداود نے حسن سند سے روایت کیا ہے۔)

635

Bulugh al-Maram #635

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - رضي الله عنه - اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى، مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منیٰ والی راتیں مکہ میں گزارنے کی اجازت طلب کی تاکہ وہ آب زمزم پلا سکیں‘ چنانچہ آپ نے انھیں اجازت دے دی۔ (بخاری و مسلم)

636

Bulugh al-Maram #636

Sahih

وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ - رضي الله عنه: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - أَرْخَصَ لِرُعَاة الْإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ عَنْ مِنًى، يَرْمُونَ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ يَرْمُونَ الْغَدِ لِيَوْمَيْنِ، ثُمَّ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّفْرِ. رَوَاهُ الْخَمْسَةُ، وَصَحَّحَهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ حِبَّانَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے چرواہوں کو منیٰ سے باہر رات گزارنے کی اجازت دے دی کہ قربانی کے دن کنکریاں ماریں‘ پھر کل اور پرسوں دو روز کی (اکٹھی ایک دن) کنکریاں ماریں‘ پھر کوچ کے روز کنکریاں ماریں۔ (اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔)

637

Bulugh al-Maram #637

Sahih

وَعَنْ أَبِي بِكْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَوْمَ النَّحْرِ ... الْحَدِيثَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے روز خطبہ دیا۔ اور ساری حدیث ذکر کی۔ (بخاری و مسلم)

638

Bulugh al-Maram #638

Hasan

وَعَنْ سَرَّاءَ بِنْتِ نَبْهَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَوْمَ الرُّءُوسِ فَقَالَ: ((أَلَيْسَ هَذَا أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ؟)). الْحَدِيثَ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سراء بنت نبہان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سروں والے دن خطبہ دیا اور فرمایا: ’’کیا یہ دن ایام تشریق کا درمیانی دن نہیں ہے؟‘‘ اور ساری حدیث ذکر کی۔ (اسے ابوداود نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔)

639

Bulugh al-Maram #639

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ لَهَا: ((طَوَافُكِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ يَكْفِيكَ لِحَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ)). رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ’’تیرا بیت اللہ کا طواف کر لینا اور صفا اور مروہ کے مابین سعی کر لینا تیرے حج اور تیرے عمرے (دونوں) کے لیے کافی ہے۔‘‘ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔)

640

Bulugh al-Maram #640

Hasan

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا; أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - لَمْ يَرْمُلْ فِي السَّبْعِ الَّذِي أَفَاضَ فِيهِ. رَوَاهُ الْخَمْسَةُ إِلَّا التِّرْمِذِيَّ، وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف افاضہ کے سات چکروں میں رمل نہیں کیا۔ (اسے ترمذی کے علاوہ پانچوں نے روایت کیا ہے اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔)

641

Bulugh al-Maram #641

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنه: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، ثُمَّ رَقَدَ رَقْدَةً بِالْمُحَصَّبِ، ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محصب میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازیں پڑھیں‘ پھر (وہاں) تھوڑا سا سوگئے۔ پھر (بعدازاں) سوار ہو کر بیت اللہ کی جانب تشریف لے گئے اور اس کا طواف کیا۔ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔)

642

Bulugh al-Maram #642

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُ ذَلِكَ - أَيْ النُّزُولَ بِالْأَبْطَحِ - وَتَقُولُ: إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - لِأَنَّهُ كَانَ مَنْزِلًا أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ ابطح (محصب) میں قیام نہیں کرتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقام پر اس لیے قیام فرمایا تھا کہ یہاں سے واپسی میں آسانی و سہولت زیادہ تھی۔(اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔)

643

Bulugh al-Maram #643

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أُمِرَ النَّاسُ أَنْ يَكُونَ آخِرَ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ، إِلَّا أَنَّهُ خَفَّفَ عَنِ الْحَائِضِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ ان کا سب سے آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہو مگر حائضہ عورتوں کے لیے تخفیف کر دی گئی ہے۔ (بخاری و مسلم)

644

Bulugh al-Maram #644

Sahih

وَعَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، وَصَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةٍ فِي مَسْجِدِي بِمِائَةِ صَلَاةٍ)). رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میری اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنے کا ثواب دوسری مساجد میں نماز ادا کرنے کے مقابلے میں ہزار گنا زیادہ ہے سوائے مسجد حرام کے۔ اور مسجد حرام میں ایک نماز کی ادائیگی میری اس مسجد میں سو نماز پڑھنے سے افضل ہے۔‘‘ (اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔)