Muslim99Muslim99

Bulugh al-Maram · Book 4 · Chapter 1

Zakah

بَابُ الزَّكَاةِ

22 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

483

Bulugh al-Maram #483

Sahih

عَنِ اِبْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - بَعَثَ مُعَاذًا - رضي الله عنه - إِلَى الْيَمَنِ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ: أَنَّ اللَّهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ، تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ، فَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف روانہ فرمایا۔ پھر ساری حدیث بیان کی‘ جس میں ہے: ’’اللہ تعالیٰ نے ان کے اموال پر زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے مال داروں سے وصول کی جائے اور انھی کے محتاجوں اور غریبوں میں تقسیم کر دی جائے۔‘‘ (بخاری و مسلم‘ الفاظ بخاری کے ہیں۔)

484

Bulugh al-Maram #484

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنه - أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ - رضي الله عنه - كَتَبَ لَهُ - هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - عَلَى الْمُسْلِمِينَ، وَالَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ: ((فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ فَمَا دُونَهَا الْغَنَمُ فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ أُنْثَى فَإِنْ لَمْ تَكُنْ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلَاثِينَ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ أُنْثَى، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ إِلَى سِتِّينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ، فَإِذَا بَلَغَتْ وَاحِدَةً وَسِتِّينَ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ إِلَى تِسْعِينَ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ، وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ.وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ إِلَّا أَرْبَعٌ مِنَ الْإِبِلِ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا.وَفِي صَدَقَةِ الْغَنَمِ سَائِمَتِهَا إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ إِلَى مِائَتَيْنِ فَفِيهَا شَاتَانِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى مِائَتَيْنِ إِلَى ثَلَاثمِائَةٍ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلَاثِمِائَةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، فَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةٍ شَاةً وَاحِدَةً فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ، إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا.وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، وَلَا يُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ، إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَّدِّقُ، وَفِي الرِّقَةِ رُبُعُ الْعُشْرِ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ إِلَّا تِسْعِينَ وَمِائَةً فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ، وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اِسْتَيْسَرَتَا لَهُ، أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ الْحِقَّةُ، وَعِنْدَهُ الْجَذَعَةُ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْجَذَعَةُ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَّدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ)). رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو فریضۂزکاۃ کے سلسلے میں یہ تحریر لکھ کر دی تھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر مقرر فرمایا تھا اور جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیا تھا: ’’اونٹوں کی چوبیس یا اس سے کم تعداد پر بکریاں ہیں‘ ہر پانچ اونٹوں پر ایک بکری۔ جب تعداد پچیس سے پینتیس تک ہو جائے تو اس تعداد پر بنت مخاض (ایک سالہ) اونٹنی لازم ہوگی۔ اگر وہ میسر نہ ہو تو پھر ابن لبـون (دو سالہ) نر بچہ واجب ہوگا۔ اور جب چھتیس سے پینتالیس تک تعداد پہنچ جائے تو ان میں بنت لبون (دو سالہ) اونٹنی عائد ہوگی۔ جب چھیالیس سے ساٹھ تک تعداد پہنچ جائے تو ان میں حقـہ (تین سالہ) جفتی کے قابل جوان اونٹنی ذمے پڑے گی۔ جب اکسٹھ سے پچھتر تک پہنچ جائے تو ان میں جذعہ (چار سالہ اونٹنی) لازم ہوگی۔ جب چھہتر سے نوے تک تعداد ہو جائے تو ان میں دو بنت لبون (دو دو سالہ دو اونٹنیاں) پڑیں گی۔ جب اکانوے سے ایک سو بیس تک عدد پہنچ جائے تو ان میں دو حقے (تین تین سالہ دو جوان اونٹنیاں) ادا کرنا ہوں گی جو اونٹ کی جفتی کے قابل ہوں۔ اور جب تعداد ایک سو بیس سے زائد ہو جائے تو پھر ہر چالیس اونٹوں پر بنت لبون (دو سالہ) اور ہر پچاس پر حقـہ (تین سالہ اونٹنی) واجب ہوگی۔ اور جس کے پاس صرف چار ہی اونٹ ہوں تو اس تعداد پر کوئی زکاۃ نہیں الا یہ کہ ان کا مالک چاہے۔ بکریوں کی زکاۃ ‘جو باہر (جنگل و صحرا میں) چرنے جاتی ہوں‘ ان میں چالیس سے لے کر ایک سو بیس تک صرف ایک بکری زکاۃ میں وصول کی جائے گی۔ جب یہ تعداد ایک سو بیس سے بڑھ کر دو سو تک پہنچ جائے تو دو بکریاں زکاۃ میں وصول کی جائیں گی۔ پھر جب دو سو سے بڑھ کر تین سو تک پہنچ جائیں گی تو تین بکریاں وصول کی جائیں گی۔ جب تعداد تین سو سے بڑھ جائے تو ہر سو پر ایک بکری زکاۃ وصول کی جائے گی۔ اگر کسی کی باہر جنگل میں چرنے والی بکریاں چالیس سے ایک عدد بھی کم ہوں تو مالک پر کوئی زکاۃ نہیں الا یہ کہ مالک چاہے۔ اور زکاۃ کے ڈر سے متفرق (الگ الگ) جانوروں کو اکٹھا نہ کیا جائے اور اکٹھے جانوروں کو الگ الگ نہ کیا جائے۔ اور جو جانور دو آدمیوں کے مشترکہ ہوں تو وہ مشترکہ طور پر (زکاۃ کا حصہ نکالنے کے بعد) آپس میں اپنے اپنے حصے کے مطابق حساب کر لیں۔ زکاۃ میں بوڑھا اور یک چشم (کانا) جانور نہ لیا جائے اور نہ سانڈ ہی لیا جائے الا یہ کہ زکاۃ دینے والا آپ چاہے۔ چاندی (میں زکاۃ) کا نصاب دو سو درہم ہے۔ اس میں سے چالیسواں حصہ زکاۃ ہے۔ اگر کسی کے پاس ایک سو نوے درہم ہوں تو اس پر زکاۃ واجب نہیں الا یہ کہ اس کا مالک خود دینا چاہے۔ اور جس کے اونٹوں کی زکاۃ میں جذعہ (چار سالہ اونٹنی) واجب ہو اور اس کے پاس جذعہ نہ ہو بلکہ حقہ (تین سالہ جوان اونٹنی) ہو تو اس سے حقـہ اور دو بکریاں وصول کی جائیں گی بشرطیکہ بکریاں بآسانی دستیاب ہو سکیں‘ یا بیس درہم وصول کیے جائیں گے۔ اور جس کی زکاۃ میں حقـہ (تین سالہ جوان اونٹنی) آتی ہو لیکن اس کے پاس تین سالہ جوان اونٹنی نہ ہو بلکہ جذعـہ (چارسالہ اونٹنی) ہو تو اس سے وہی جذعـہ (چار سالہ اونٹنی) وصول کر لی جائے گی مگر زکاۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں دے گا۔ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔)

485

Bulugh al-Maram #485

Da'if

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ - رضي الله عنه: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ بَقَرَةً تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عَدْلَهُ مُعَافِرَ. رَوَاهُ الْخَمْسَةُ، وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ، وَحَسَّنَهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَشَارَ إِلَى اِخْتِلَافٍ فِي وَصْلِهِ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَالْحَاكِمُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں یمن کی طرف (عامل مقرر کر کے) بھیجا تو انھیں حکم دیا کہ وہ ہر تیس گایوں میں سے ایک سال کا ایک بچھڑا یا بچھڑی وصول کرے اور ہر چالیس میں سے ایک مسنہ (دو دانت والی گائے یا بیل) وصول کرے۔ اور ہر بالغ مرد سے ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا (جزیے کے طور پر) لے۔ (اسے پانچوں نے روایت کیا ہے۔ متن کے الفاظ احمد کے ہیں اوراسے ترمذی نے حسن قرار دیا ہے اور اس کے موصول ہونے کے بارے میں اختلاف کی طرف اشارہ کیا ہے‘ نیز اسے ابن حبان اور حاکم دونوں نے صحیح کہا ہے۔)

486

Bulugh al-Maram #486

Hasan

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((تُؤْخَذُ صَدَقَاتُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى مِيَاهِهِمْ)). رَوَاهُ أَحْمَدُ. وَلِأَبِي دَاوُدَ: ((وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دُورِهِمْ)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ (شعیب) سے اور وہ اپنے دادا (حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما ) سے روایت کرتے ہیں‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمانوں سے زکاۃ ان کے پانی پلانے کی جگہوں پر وصول کی جائے گی۔‘‘ (اسے احمد نے روایت کیا ہے۔) اور ابوداود کی روایت میں ہے: ’’مسلمانوں کے مالوں کی زکاۃ ان کے گھروں ہی میں جا کر حاصل کی جائے ۔‘‘

487

Bulugh al-Maram #487

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلَا [فِي] فَرَسِهِ صَدَقَةٌ)). رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَلِمُسْلِمٍ: لَيْسَ فِي الْعَبْدِ صَدَقَةٌ إِلَّا صَدَقَةُ الْفِطْرِ)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمان پر اس کے (خدمت گار) غلام اور اس (کی سواری) کے گھوڑے پر زکاۃ (فرض) نہیں۔‘‘ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔) اور مسلم کی روایت میں ہے کہ ’’غلام میں زکاۃ نہیں مگر صدقۃ الفطر ہے۔‘‘

488

Bulugh al-Maram #488

Hasan

وَعَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((فِي كُلِّ سَائِمَةِ إِبِلٍ: فِي أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ، لَا تُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا، مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا بِهَا فَلَهُ أَجْرُهُ، وَمَنْ مَنَعَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ مَالِهِ، عَزْمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا، لَا يَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ)). رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ، وَعَلَّقَ الشَّافِعِيُّ الْقَوْلَ بِهِ عَلَى ثُبُوتِهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ (حکیم) اس (بہز) کے دادا سے روایت کرتے ہیں‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر چالیس اونٹوں میں جو کہ جنگل میں چرتے ہوں ایک بنت لبون (دو سالہ مادہ اونٹنی) ہے اور انھیں ان کے حساب سے جدا جدا نہ کیا جائے گا۔ جو شخص حصول ثواب کی نیت سے زکاۃ ادا کرے گا تو اس کے لیے اس کا اجر و ثواب ہے۔ اور جو زکاۃ روکے گا تو ہم اس سے زبردستی وصول کریں گے اور اس کا آدھا مال (مزید بھی) لیں گے۔ یہ ہمارے پروردگار کے فرائض میں سے ایک فریضہ ہے۔ اس میں آل محمد کے لیے کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘ (اسے احمد‘ ابوداود اور نسائی نے روا??ت کیا ہے اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے اور شافعی نے اس کے ثابت ہونے پر اپنے قول کو معلق رکھا ہے۔)

489

Bulugh al-Maram #489

Da'if

وَعَنْ عَلِيٍّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِذَا كَانَتْ لَكَ مِائَتَا دِرْهَمٍ - وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ - فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، وَلَيْسَ عَلَيْكَ شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ لَكَ عِشْرُونَ دِينَارًا، وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ، فَفِيهَا نِصْفُ دِينَارٍ، فَمَا زَادَ فَبِحِسَابِ ذَلِكَ، وَلَيْسَ فِي مَالٍ زَكَاةٌ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ)). رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَهُوَ حَسَنٌ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي رَفْعِهِ. وَلِلتِّرْمِذِيِّ; عَنِ ابْنِ عُمَرَ: ((مَنِ اسْتَفَادَ مَالًا، فَلَا زَكَاةَ عَلَيْهِ حَتَّى يَحُولَ الْحَوْلُ)). وَالرَّاجِحُ وَقْفُهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تمھارے پاس دو سو درہم ہوں اور ان پر پورا سال گزر جائے تو ان میں پانچ درہم زکاۃ ہے۔ اور تجھ پر کوئی چیز لازم نہیں حتیٰ کہ تیرے پاس بیس دینار ہوں اور ان پر پورا سال گزر جائے‘ تو ان میں نصف دینار زکاۃ ہے۔ جو اس سے زیادہ ہوگا تو اسی حساب سے اس پر زکاۃ ہوگی۔ کسی بھی مال پر اس وقت تک زکاۃ نہیں جب تک کہ اس پر پورا سال نہ گزر جائے۔‘‘ (اسے ابوداود نے روایت کیا ہے اور یہ حسن ہے۔ اس کے مرفوع ہونے میں ائمہ نے اختلاف کیا ہے۔) اور ترمذی میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ جس شخص کو مال مستفاد (سال کے دوران میں حاصل ہونے والا مال) ملا اس پر بھی سال گزرنے سے پہلے کوئی زکاۃ نہیں۔ اور راجح یہی ہے کہ یہ روایت موقوف ہے۔

490

Bulugh al-Maram #490

Da'if

وَعَنْ عَلِيٍّ - رضي الله عنه - قَالَ: ((لَيْسَ فِي الْبَقَرِ الْعَوَامِلِ صَدَقَةٌ)). رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالدَّارَقُطْنِيُّ، وَالرَّاجِحُ وَقْفُهُ أَيْضًا.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کام کرنے والے بیلوں پر زکاۃ واجب نہیں۔ (اسے ابوداود اور دارقطنی نے روایت کیا ہے۔ راجح یہی ہے کہ یہ بھی موقوف ہے۔)

491

Bulugh al-Maram #491

Da'if

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ; عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِوٍ; أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((مَنْ وَلِيَ يَتِيمًا لَهُ مَالٌ، فَلْيَتَّجِرْ لَهُ، وَلَا يَتْرُكْهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الصَّدَقَةُ)). رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالدَّارَقُطْنِيُّ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ. وَلَهُ شَاهِدٌ مُرْسَلٌ عِنْدَ الشَّافِعِيِّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص کسی مال دار یتیم کا متولی بنے‘ اسے چاہیے کہ مال یتیم کو تجارت میں لگائے۔ اسے یوں ہی بے کار پڑا نہ رہنے دے کہ زکاۃ ہی اسے کھا جائے۔‘‘ (اسے ترمذی اور دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند ضعیف ہے‘ البتہ امام شافعی کے پاس ایک مرسل روایت اس کی شاہد ہے۔)

492

Bulugh al-Maram #492

Sahih

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى - رضي الله عنه - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ قَالَ: ((اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب لوگ زکاۃ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ ان کے لیے یوں دعا فرماتے تھے۔ ’’یااللہ! ان پر رحم و کرم فرما۔‘‘ (بخاری و مسلم)

493

Bulugh al-Maram #493

Da'if

وَعَنْ عَلِيٍّ - رضي الله عنه: أَنَّ الْعَبَّاسَ - رضي الله عنه - سَأَلَ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ، فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالْحَاكِمُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آیا زکاۃ اپنے مقررہ وقت سے پہلے ادا ہو سکتی ہے؟ تو آپ نے انھیں اس کی اجازت دے دی۔ (اسے ترمذی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔)

494

Bulugh al-Maram #494

Sahih

وَعَنْ جَابِرِ [بْنِ عَبْدِ اللَّهِ]- رضي الله عنه - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ ذَوْدٍ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ)). رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَلَهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ: ((لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ مِنْ تَمْرٍ وَلَا حَبٍّ صَدَقَةٌ)). وَأَصْلُ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پانچ اوقیوں سے کم چاندی میں کوئی زکاۃ نہیں۔ اور پانچ سے کم اونٹوں میں بھی زکاۃ نہیں۔ اور پانچ وسق سے کم کھجوروں میں بھی زکاۃ نہیں۔‘‘ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔) اور مسلم ہی میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پانچ وسق سے کم کھجوروں یا غلے میں زکاۃ نہیں۔ (حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت کی اصل بخاری و مسلم میں ہے۔)

495

Bulugh al-Maram #495

Sahih

وَعَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ، أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا: الْعُشْرُ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ: نِصْفُ الْعُشْرِ)). رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَلِأَبِي دَاوُدَ: ((أَوْ كَانَ بَعْلًا: الْعُشْرُ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّوَانِي أَوِ النَّضْحِ: نِصْفُ الْعُشْرِ)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں‘ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جو زمین آسمان (بارش) اور چشموں سے سیراب ہوتی ہو یا وہ خودبخود (جڑوں سے پانی کھینچنے سے) سیراب ہو‘ اس میں دسواں حصہ (عشر) زکاۃ ہے‘ اور جو زمین پانی کھینچ کر سیراب کی جاتی ہو‘ اس میں بیسواں حصہ (نصف عشر) ہے۔‘‘ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔) ابوداود کی روایت میں ہے: ’’اگر زمین نمی والی ہو (جسے سیراب کرنے کی ضرورت نہ ہو) تو اس میں عشر ہے اور اگر جانوروں کے ذریعے سے (یا ڈول سے پانی) کھینچ کر سیراب کی جاتی ہو‘ اس میں بیسواں حصہ (نصف عشر) ہے۔‘‘

496

Bulugh al-Maram #496

Da'if

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ; وَمُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا; أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ لَهُمَا: ((لَا تَأْخُذَا فِي الصَّدَقَةِ إِلَّا مِنْ هَذِهِ الْأَصْنَافِ الْأَرْبَعَةِ: الشَّعِيرِ، وَالْحِنْطَةِ، وَالزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ)). رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْحَاكِمُ. وَلِلدَّارَقُطْنِيِّ، عَنْ مُعَاذٍ: فَأَمَّا الْقِثَّاءُ، وَالْبِطِّيخُ، وَالرُّمَّانُ، وَالْقَصَبُ، فَقَدْ عَفَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم. وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما دونوں سے مروی ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ’’ جو‘ گندم‘ منقیٰ (کشمش) اور کھجور ان چار اصناف کے علاوہ کسی غلے پر زکاۃ وصول نہ کرنا۔‘‘ (اسے طبرانی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔) اور دارقطنی میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیرا (ککڑی)‘ تربوز‘ انار اور گنے میں زکاۃ معاف فرمائی ہے۔ ( اس روایت کی سند ضعیف ہے۔)

497

Bulugh al-Maram #497

Hasan

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا- قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِذَا خَرَصْتُمْ، فَخُذُوا، وَدَعُوا الثُّلُثَ، فَإِنْ لَمْ تَدَعُوا الثُّلُثَ، فَدَعُوا الرُّبُعَ)). رَوَاهُ الْخَمْسَةُ إِلَّا اِبْنَ مَاجَهْ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَالْحَاكِمُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا: ’’جب تم (درختوں پر پھلوں کا) تخمینہ اور اندازہ لگاؤ تو (تم ان کا پھل اتار سکتے ہو پھر) تخمینے کے مطابق زکاۃ وصول کر لو اور (اندازہ کیے ہوئے پھل میں سے) تیسرا حصہ چھوڑ دیا کرو۔ اگر تیسرا حصہ نہیں چھوڑ سکتے تو چوتھا حصہ چھوڑ دیا کرو۔‘‘ (اسے ابن ماجہ کے علاوہ پانچوں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔)

498

Bulugh al-Maram #498

Da'if

وَعَنْ عَتَّابِ بنِ أُسَيْدٍ - رضي الله عنه - قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - أَنْ يُخْرَصَ الْعِنَبُ كَمَا يُخْرَصُ النَّخْلُ، وَتُؤْخَذَ زَكَاتُهُ زَبِيبًا. رَوَاهُ الْخَمْسَةُ، وَفِيهِ انْقِطَاعٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا: ’’انگوروں (کے کچے پھل) کا اندازہ بھی اسی طرح لگایا جائے جس طرح کھجوروں کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ اور ان کی زکاۃ کشمش کی صورت میں وصول کی جائے۔‘‘ (اسے پانچوں نے روایت کیا ہے مگر اس میں انقطاع ہے۔)

499

Bulugh al-Maram #499

Hasan

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ; أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - وَمَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا، وَفِي يَدِ ابْنَتِهَا مِسْكَتَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَهَا: ((أَتُعْطِينَ زَكَاةَ هَذَا?)) قَالَتْ: لَا. قَالَ: ((أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ بِهِمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ؟)) فَأَلْقَتْهُمَا. رَوَاهُ الثَّلَاثَةُ، وَإِسْنَادُهُ قَوِيٌّ. وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ: مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد (شعیب) سے اور وہ (شعیب) اپنے دادا (عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما ) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک خاتون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس کے ہمراہ اس کی بیٹی بھی تھی۔ اور بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن تھے۔ آپ نے اس خاتون سے پوچھا: ’’کیا تو اس کی زکاۃ دیتی ہے؟‘‘ اس نے عرض کیا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’کیا تجھے یہ پسند ہے کہ قیامت کے روز تجھے اللہ ان کے بدلے میں آگ کے دو کنگن پہنائے؟‘‘ یہ سن کر اس خاتون نے دونوں کنگن پھینک دیے۔ (اسے تینوں نے روایت کیا ہے۔ اس کی سند قوی ہے‘ اور اسے حاکم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرکے صحیح کہا ہے۔)

500

Bulugh al-Maram #500

Da'if

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا; أَنَّهَا كَانَتْ تَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَكَنْزٌ هُوَ? فَقَالَ: ((إِذَا أَدَّيْتِ زَكَاتَهُ، فَلَيْسَ بِكَنْزٍ)). رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالدَّارَقُطْنِيُّ، وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ سونے کے پازیب پہنا کرتی تھیں۔ انھوں نے دریافت کیا اے اللہ کے رسول! کیا: یہ کنز ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’جب تو نے اس کی زکاۃ ادا کر دی تو پھر یہ کنز نہیں۔‘‘ (اسے ابوداود اور دارقطنی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔)

501

Bulugh al-Maram #501

Da'if

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ - رضي الله عنه - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَأْمُرُنَا; أَنْ نُخْرِجَ الصَّدَقَةَ مِنَ الَّذِي نَعُدُّهُ لِلْبَيْعِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَإِسْنَادُهُ لَيِّنٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سامان تجارت سے زکاۃ نکالنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ (اسے ابوداود نے روایت کیا ہے اور اس کی سند کمزور ہے۔)

502

Bulugh al-Maram #502

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((وَفِي الرِّكَازِ: الْخُمُسُ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مدفون خزانے میں خمس (پانچواں حصہ) ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم)

503

Bulugh al-Maram #503

Hasan

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ; أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فِي كَنْزٍ وَجَدَهُ رَجُلٌ فِي خَرِبَةٍ: ((إِنْ وَجَدْتَهُ فِي قَرْيَةٍ مَسْكُونَةٍ، فَعَرِّفْهُ، وَإِنْ وَجَدْتَهُ فِي قَرْيَةٍ غَيْرِ مَسْكُونَةٍ، فَفِيهِ وَفِي الرِّكَازِ: الْخُمُسُ)). أَخْرَجَهُ ابْنُ مَاجَهْ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خزانے کے بارے میں‘ جو کسی آدمی کو اجاڑ ویران جگہ سے ملے‘ فرمایا: ’’اگر تو نے یہ خزانہ کسی آباد جگہ سے پایا ہے تو اس کی تحقیق کے لیے اعلان کر۔ اور اگر تو نے کسی غیر آباد جگہ سے پایا ہے تو اس میں اور رکاز میں پانچواں حصہ ہے۔‘‘ (اسے ابن ماجہ نے حسن سند سے روایت کیا ہے۔)

504

Bulugh al-Maram #504

Hasan

وَعَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ - رضي الله عنه: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - أَخَذَ مِنَ الْمَعَادِنِ الْقَبَلِيَّةِ الصَّدَقَةَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بلال بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قَـبَل جگہ میں واقع کانوں سے زکاۃ وصول کی۔ (اسے ابوداود نے روایت کیا ہے۔)