Bulugh al-Maram #262
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُحَيْنَةَ -رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - صَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ، فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، وَلَمْ يَجْلِسْ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ، وَانْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ، كَبَّرَ وَهُوَ جَالِسٌ. وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ثُمَّ سَلَّمَ - أَخْرَجَهُ السَّبْعَةُ، وَهَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ. وَفِي رِوَايَةٍ لمُسْلِمٍ: يُكَبِّرُ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، مَكَانَ مَا نَسِىَ مِنَ الْجُلُوسِ.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نماز ظہر پڑھائی تو دو رکعتیں ادا کر کے تشہد میں نہ بیٹھے اور سیدھے کھڑے ہوگئے اور لوگ (مقتدی) بھی آپ کے ساتھ ہی کھڑے ہوگئے حتی کہ جب آپ نے نماز پوری ادا کر لی اور لوگ سلام پھیرنے کے انتظار میں تھے‘ آپ نے بیٹھے بیٹھے ہی اللہ اکبر کہا اور سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا۔ (اسے ساتوں نے روایت کیا ہے۔ اوریہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ ) اور مسلم کی روایت میں ہے کہ ہر سجدے کے لیے بیٹھے ہوئے اللہ اکبر کہتے تھے اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا (تشہد میں) بیٹھنا بھول جانے کے بدلے میں۔ (دو رکعت کے بعد تشہد میں بیٹھنا بھول گئے تھے اس کی تلافی کے لیے دو سجدے کیے۔)