Muslim99Muslim99

Bulugh al-Maram · Book 2 · Chapter 6

Prayer

بَابُ سُجُودِ السَّهْوِ وَغَيْرِهِ

18 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

262

Bulugh al-Maram #262

Sahih

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُحَيْنَةَ -رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - صَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ، فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، وَلَمْ يَجْلِسْ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ، وَانْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ، كَبَّرَ وَهُوَ جَالِسٌ. وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ثُمَّ سَلَّمَ - أَخْرَجَهُ السَّبْعَةُ، وَهَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ. وَفِي رِوَايَةٍ لمُسْلِمٍ: يُكَبِّرُ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، مَكَانَ مَا نَسِىَ مِنَ الْجُلُوسِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نماز ظہر پڑھائی تو دو رکعتیں ادا کر کے تشہد میں نہ بیٹھے اور سیدھے کھڑے ہوگئے اور لوگ (مقتدی) بھی آپ کے ساتھ ہی کھڑے ہوگئے حتی کہ جب آپ نے نماز پوری ادا کر لی اور لوگ سلام پھیرنے کے انتظار میں تھے‘ آپ نے بیٹھے بیٹھے ہی اللہ اکبر کہا اور سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا۔ (اسے ساتوں نے روایت کیا ہے۔ اوریہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ ) اور مسلم کی روایت میں ہے کہ ہر سجدے کے لیے بیٹھے ہوئے اللہ اکبر کہتے تھے اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا (تشہد میں) بیٹھنا بھول جانے کے بدلے میں۔ (دو رکعت کے بعد تشہد میں بیٹھنا بھول گئے تھے اس کی تلافی کے لیے دو سجدے کیے۔)

263

Bulugh al-Maram #263

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ - قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - إِحْدَى صَلَاتِي الْعَشِيِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ، فَقَالُوا: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ! وَرَجُلٌ يَدْعُوهُ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - ذَا الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَسِيتَ أَمْ قُصِرَتْ؟ فَقَالَ: ((لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ)) فَقَالَ: بَلَى، قَدْ نَسِيتَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ، أَوْ أَطْوَلَ [ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَكَبَّرَ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ، فَكَبَّرَ، فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ، أَوْ أَطْوَلَ]. ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: صَلَاةُ الْعَصْرِ. وَلِأَبِي دَاوُدَ، فَقَالَ: ((أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟)) فَأَوْمَئُوا: أَيْ نَعَمْ. وَهِيَ فِي ((الصَّحِيحَيْنِ)) لَكِنْ بِلَفْظِ: فَقَالُوا. وَهِيَ فِي رِوَايَةٍ لَهُ: وَلَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَقَّنَهُ اللَّهُ تَعَالَى ذَلِكَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھلے پہر کی دو نمازوں (ظہر اور عصر) میں سے ایک میں دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا اور مسجد کے سامنے (کی طرف گاڑی ہوئی) ایک لکڑی کے پاس جا کر کھڑے ہوگئے اور اپنا ہاتھ اس پر رکھ لیا۔ لوگوں (نمازیوں) میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے‘یہ دونوں آپ سے (اس بارے میں) بات کرنے سے ڈر گئے۔ اورجلد باز لوگ مسجد سے نکل گئے تو لوگوں نے (آپس میں سرگوشی کے انداز میں ایک دوسرے سے) پوچھنا شروع کیا کہ کیا نماز میں کمی کر دی گئی ہے؟ ایک آدمی تھا جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم (اس کے لمبے ہاتھوں کی وجہ سے) ذوالیدین کہہ کر بلاتے تھے‘ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ (آج) بھول گئے ہیں یا نماز کم کر دی گئی ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز میں کمی کی گئی ہے۔‘‘ اس شخص نے پھر عرض کیا: کیوں نہیں‘ بلکہ آپ یقینا بھول گئے ہیں۔ پھر آپ نے دو رکعتیں (جو چھوٹ گئی تھیں) پڑھیں اور سلام پھیرا ‘پھر اللہ اکبر کہہ کر اپنے (معمول کے) سجدوں کی طرح سجدہ کیا یا ان سے بھی لمبا۔ پھر اللہ اکبر کہہ کر سر اوپر اٹھایا‘ پھر اللہ اکبر کہہ کر سرمبارک زمین پر رکھا اور اپنے (معمول کے) سجدے کی طرح یا اس سے کچھ طویل سجدہ کیا اور پھر اللہ اکبر کہہ کر اپنا سر اٹھایا۔(بخاری و مسلم- یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ یہ عصر کی نماز تھی۔ اور ابوداود کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ’’کیا ذوالیدین نے ٹھیک کہا ہے؟‘‘ تو لوگوں نے سر ہلا کر اشاروں سے کہا: ہاں۔ یہ اضافہ صحیحین میں بھی ہے لیکن ان میں [فَقَالُوا] کے لفظ کے ساتھ مروی ہے۔ (زبان سے انھوں نے کہا۔) اور ابوداود ہی کی ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب تک اللہ کی جانب سے یقین نہ ہوا اس وقت تک سجدۂ سہو نہیں کیا۔ (جو کہ سنداً ضعیف ہے۔)

264

Bulugh al-Maram #264

Sahih

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - صَلَّى بِهِمْ، فَسَهَا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ تَشَهَّدَ، ثُمَّ سَلَّمَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ وَحَسَّنَهُ، وَالْحَاكِمُ وَصَحَّحَهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں نماز پڑھائی تو آپ بھول گئے‘ چنانچہ آپ نے دو سجدے کیے‘ پھر تشہد پڑھا اور پھر سلام پھیرا۔ (اسے ابوداود اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے حسن قرار دیا ہے اور اسے حاکم نے بھی روایت کیا ہے اور صحیح قرار دیاہے۔)

265

Bulugh al-Maram #265

Sahih

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى أَثْلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا? فَلْيَطْرَحِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعْنَ [لَهُ] صَلَاتَهُ، وَإِنْ كَانَ صَلَّى تَمَامًا كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ)). رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک لاحق ہو جائے اور یہ معلوم نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں‘ تین یا چار؟ تو ایسی صورت میں شک کو چھوڑ دے اور جس پر یقین ہو اس پر نماز کی بنا رکھے‘ پھر سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کر لے۔ پس اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھی ہوں گی تو یہ دو سجدے اس کی نماز کو جفت بنا دیں گے (ایک رکعت کے قائم مقام ہو کر اس کی نماز کو چھ رکعت بنا دیں گے) اور اگر وہ پہلے ہی پوری نماز پڑھ چکا ہے تو یہ دو سجدے شیطان کے لیے باعث ذلت و اہانت (اس کی ناک رگڑائی) ہوں گے۔‘‘ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔)

266

Bulugh al-Maram #266

Sahih

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ: ((وَمَا ذَلِكَ؟)). قَالُوا: صَلَّيْتَ كَذَا، قَالَ: فَثَنَى رِجْلَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ: ((إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ، فلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: ((فَلْيُتِمَّ، ثُمَّ يُسَلِّمْ، ثُمَّ يَسْجُدْ)). وَلِمُسْلِمٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - سَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ وَالْكَلَامِ. وَلِأَحْمَدَ، وَأَبِي دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيِّ; مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ بْنِ جَعْفَرٍ مَرْفُوعًا: ((مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ)). وَصَحَّحَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے نماز پڑھائی۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ کی خدمت میں عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نئی چیز رونما ہوئی ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’وہ کیا ہے؟‘‘ انھوں نے عرض کیا: آپ نے تو اتنی اتنی نماز ادا فرمائی ہے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ نے اپنے دونوں پاؤں موڑے اور قبلہ رو ہو کر دو سجدے کیے‘ پھر سلام پھیرا‘ پھر ہماری جانب متوجہ ہو کر فرمایا: ’’اگر نماز میں کوئی نئی چیز پیدا ہوئی ہوتی تو میں خود تمھیں اس سے باخبر کرتا لیکن میں بھی تمھاری طرح انسان ہوں‘ اسی طرح بھول جاتا ہوں جس طرح تم لوگ بھول جاتے ہو‘ لہٰذا جب میں بھول جاؤں تو تم مجھے یاد کرا دیا کرو۔ اور جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک واقع ہو جائے تو صحیح صورت حال یاد کرنے کی کوشش کرے‘ پھر اپنی نماز اسی بنیاد پر مکمل کر لے اور پھر دو سجدے کر لے۔‘‘ ( بخاری و مسلم)اور بخاری ہی کی ایک دوسری روایت میں ہے: (آپ نے فرمایا: ’’پہلے) نماز مکمل کرے‘ پھر سلام پھیرے اور پھر سجدے کرے۔‘‘ اور مسلم کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدۂ سہو سلام و کلام کے بعد کیا تھا۔مسند احمد‘ ابوداود اور نسائی میں حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے مرفوع روایت ہے: ’’جس شخص کو نماز میں شک واقع ہو جائے تو اسے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرنے چاہییں۔‘‘ (اسے ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیاہے۔)

267

Bulugh al-Maram #267

Da'if

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ - رضي الله عنه: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ، فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَاسْتَتَمَّ قَائِمًا، فَلْيَمْضِ، وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ، وَإِنْ لَمْ يَسْتَتِمْ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ وَلَا سَهْوَ عَلَيْهِ)). رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَالدَّارَقُطْنِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ بِسَنَدٍ ضَعِيفٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کو شک لاحق ہوجائے اور وہ دو رکعتوں کے بعد کھڑا ہو جائے حتی کہ بالکل سیدھا کھڑا ہو جائے تو اگلی رکعت کو جاری رکھے اور واپس نہ لوٹے اور بعد میں سہو کے دو سجدے کر لے۔ اور اگر بالکل سیدھا کھڑا نہ ہوا ہو تو بیٹھ جائے۔ اور اس صورت میں اس پر سجدۂ سہو نہیں۔‘‘ (اسے ابوداود‘ ابن ماجہ اور دارقطنی نے روایت کیا ہے۔ یہ الفاظ دارقطنی کے ہیں۔ اس کی سند ضعیف ہے۔)

268

Bulugh al-Maram #268

Da'if

وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((لَيْسَ عَلَى مَنْ خَلَفَ الْإِمَامَ سَهْوٌ، فَإِنْ سَهَا الْإِمَامُ فَعَلَيْهِ وَعَلَى مَنْ خَلْفَهُ)). رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْبَيْهَقِيُّ بِسَنَدٍ ضَعِيفٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کسی مقتدی پر سجدۂ سہو نہیں ہے۔ ہاں‘ اگر امام بھول جائے تو پھر امام اور مقتدی دونوں پر سجدۂ سہو ہے۔‘‘ (اسے بزار اور بیہقی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔)

269

Bulugh al-Maram #269

Hasan

وَعَنْ ثَوْبَانَ - رضي الله عنه: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((لِكُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ)). رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ بِسَنَدٍ ضَعِيفٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر سہو کے لیے دو سجدے ہیں جو سلام پھیرنے کے بعد ہیں۔‘‘ (اسے ابوداود اور ابن ماجہ دونوں نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔)

270

Bulugh al-Maram #270

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: سَجَدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي: (إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ) ، و: (اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ) رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے سورۂ ﴿ اِذَا السَّمَآئُ انْشَقَّتْ ﴾ اور سورۂ ﴿ اِقْـرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ ﴾ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدۂ تلاوت کیا ہے۔ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔)

271

Bulugh al-Maram #271

Sahih

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: (صٓ] ) لَيْسَتْ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَسْجُدُ فِيهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سورۂ صٓ کا سجدہ ان میں سے نہیں ہے جن کا ذکر عزیمت اور تاکید کے ساتھ کیا گیا ہے‘ البتہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔)

272

Bulugh al-Maram #272

Sahih

وَعَنْهُ رضي الله عنه : أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - سَجَدَ بِالنَّجْمِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ نجم میں سجدۂ تلاوت کیا۔ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔)

273

Bulugh al-Maram #273

Sahih

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - النَّجْمَ، فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو سورۂ نجم کی قراء ت کی تو آپ نے اس میں سجدۂ تلاوت نہیں کیا۔ (بخاری و مسلم)

274

Bulugh al-Maram #274

Hasan

وَعَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ - رضي الله عنه - قَالَ: فُضِّلَتْ سُورَةُ الْحَجِّ بِسَجْدَتَيْنِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي ((الْمَرَاسِيلِ)). وَرَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ مَوْصُولًا مِنْ حَدِيثِ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَزَادَ: فَمَنْ لَمْ يَسْجُدْهُمَا، فَلَا يَقْرَأْهَا. وَسَنَدُهُ ضَعِيفٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خالد بن معدان رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سورۂ حج کو دو سجدۂ تلاوت کی وجہ سے فضیلت دی گئی ہے۔ (اسے ابوداود نے مراسیل میں ذکر کیا ہے۔) اور اسے احمد اور ترمذی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے: ’’جو یہ دونوں سجدے نہ کرنا چاہے وہ اس (سورت) کی تلاوت ہی نہ کرے۔‘‘ (اس کی سند ضعیف ہے۔)

275

Bulugh al-Maram #275

Sahih

وَعَنْ عُمَرَ - رضي الله عنه - قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا نَمُرُّ بِالسُّجُودِ فَمَنْ سَجَدَ فَقَدْ أَصَابَ، وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِيهِ: إِنَّ اللَّهَ [تَعَالَى] لَمْ يَفْرِضْ السُّجُودَ إِلَّا أَنْ نَشَاءَ وَهُوَ فِي ((الْمُوَطَّأِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ انھوں نے فرمایا: لوگو! ہم (تلاوت کے) سجدوں کے پاس سے گزرتے (ان کی آیات تلاوت کرتے) ہیں‘ چنانچہ جس نے سجدہ کیا اس نے درست کیا اور جس نے نہ کیا اس پر کوئی گناہ نہیں۔ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔) اور موطا میں یہ الفاظ ہیں: اللہ تعالیٰ نے سجدۂ تلاوت فرض نہیں کیا مگر ہم چاہیں تو سجدہ کریں۔

276

Bulugh al-Maram #276

Hasan

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -[قَالَ]: كَانَ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - يَقْرَأُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ، فَإِذَا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ، كَبَّرَ، وَسَجَدَ، وَسَجَدْنَا مَعَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِسَنَدٍ فِيهِ لِيِنٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے قرآن مجید کی تلاوت فرماتے تھے‘ چنانچہ جب آپ سجدے کی آیت سے گزرتے تو اللہ اکبر کہہ کر سجدے میں چلے جاتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ ہی سجدہ کرتے۔ (اسے ابوداود نے کمزور سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔)

277

Bulugh al-Maram #277

Hasan

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ - رضي الله عنه: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - كَانَ إِذَا جَاءَهُ أَمْرٌ يَسُرُّهُ خَرَّ سَاجِدًا لِلَّهِ. رَوَاهُ الْخَمْسَةُ إِلَّا النَّسَائِيَّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی خوشخبری ملتی تو اللہ کے حضور سجدے میں گر جاتے۔ (اسے نسائی کے علاوہ پانچوں نے روایت کیا ہے۔)

278

Bulugh al-Maram #278

Hasan

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - رضي الله عنه - قَالَ: سَجَدَ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ: ((إِنَّ جِبْرِيلَ آتَانِي، فَبَشَّرَنِي، فَسَجَدْت لِلَّهِ شُكْرًا)). رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور لمبا سجدہ کیا‘ پھر سجدے سے سر اٹھا کر فرمایا: ’’ابھی جبریل ایک خوشخبری لے کر میرے پاس آئے تو وہ مژدہ سن کر میں نے اللہ کے حضور سجدۂ شکر ادا کیا۔‘‘ (اسے احمد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔)

279

Bulugh al-Maram #279

Sahih

وَعَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - بَعَثَ عَلِيًّا إِلَى الْيَمَنِ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ - قَالَ: فَكَتَبَ عَلِيٌّ - رضي الله عنه - بِإِسْلَامِهِمْ، فَلَمَّا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - الْكِتَابَ خَرَّ سَاجِدًا. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ. وَأَصْلُهُ فِي الْبُخَارِيِّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا۔ راوی نے حدیث بیان کی جس میں اس نے کہا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اہل یمن کے اسلام قبول کرنے کی روداد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ارسال فرمائی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مکتوب پڑھا تو آپ اس پر اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدہ ریز ہوگئے۔ (اسے بیہقی نے روایت کیا ہے اور اس کی اصل بخاری میں موجود ہے۔)