Muslim99Muslim99

Bulugh al-Maram · Book 2 · Chapter 4

Prayer

بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ (1)

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

210

Bulugh al-Maram #210

Sahih

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا)). أَخْرَجَهُ السَّبْعَةُ، وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ. وَلِابْنِ مَاجَهْ بِإِسْنَادِ مُسْلِمٍ: ((حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَائِمًا)). وَمِثْلُهُ فِي حَدِيثِ رِفَاعَةَ عِنْدَ أَحْمَدَ وَابْنِ حِبَّانَ وَفِي لَفْظٍ لِأَحْمَدَ: ((فَأَقِمْ صُلْبَكَ حَتَّى تَرْجِعَ الْعِظَامُ)). وَلِلنَّسَائِيِّ، وَأَبِي دَاوُدَ مِنْ حَدِيثِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ: ((إِنَّهَا لَنْ تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ، ثُمَّ يُكَبِّرَ اللَّهَ، وَيَحْمَدَهُ، وَيُثْنِيَ عَلَيْهِ)). وَفِيهَا ((فَإِنْ كَانَ مَعَكَ قُرْآنٌ فَاقْرَأْ وَإِلَّا فَاحْمَدِ اللَّهَ، وَكَبِّرْهُ، وهلِّلْهُ)). وَلِأَبِي دَاوُدَ: ((ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَبِمَا شَاءَ اللَّهُ))وَلِابْنِ حِبَّانَ: ((ثُمَّ بِمَا شِئْتَ)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم نماز ادا کرنے کے لیے کھڑا ہونے کا ارادہ کرو تو پہلے اچھی طرح وضو کر لو‘ پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر (اللہ اکبر) کہو‘ پھر قرآن کا جو حصہ تم آسانی سے پڑھ سکتے ہو‘ پڑھو۔ پھر رکوع کرو اور پوری طرح اطمینان سے رکوع کرو‘ پھر (رکوع سے) سر اٹھاؤ اور پورے اطمینان سے کھڑے ہو۔ پھر سجدہ کرو اور پورے اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو‘ پھر سجدے سے اپنا سر اٹھا کر پورے اطمینان سے بیٹھ جاؤ۔ پھر دوسرا سجدہ کرو اور پورے اطمینان سے سجدہ کرو۔ پھر اپنی ساری (باقی) نماز میں اسی طرح (اطمینان سے ارکان نماز ادا) کرو۔‘‘ (اسے ساتوں نے روایت کیا ہے اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔) اور ابن ماجہ نے مسلم کی سند سے (رکوع سے کھڑے ہونے کے وقت) یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ’’پورے اطمینان سے کھڑے ہو جاؤ۔‘‘ احمد اور ابن حبان میں رفاعہ بن رافع بن مالک رضی اللہ عنہما کی روایت بھی اسی طرح ہے۔ اور مسند احمد کی ایک روایت میں ہے: ’’اپنی کمر (پشت) کو سیدھا کرو یہاں تک کہ ہڈیاں (اپنے مقام پر) واپس آجائیں۔‘‘ نسائی اور ابوداود میں رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: ’’تم میں سے کسی کی نماز مکمل نہیں ہو سکتی حتی کہ وہ (اسی طرح) وضو کامل کر لے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے‘ پھر تکبیر کہے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے۔‘‘ اور اس روایت میں یہ بھی مذکور ہے: ’’اگر تجھے قرآن کا کچھ حصہ یاد ہو تو اسے پڑھ‘ بصورت دیگر الحمدللّٰہ‘ اللّٰہ أکبر اور لا إلٰہ إلا اللّٰہ پڑھا کر۔‘‘ابوداود میں ہے: ’’پھر سورئہ فاتحہ پڑھ اور مزید جو اللہ چاہے۔‘‘اور ابن حبان میں ہے: ’’پھر جو تم چاہو (پڑھو۔‘‘)

211

Bulugh al-Maram #211

Sahih

وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - إِذَا كَبَّرَ جَعَلَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهِ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ اسْتَوَى حَتَّى يَعُودَ كُلُّ فَقَارٍ مَكَانَهُ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلَا قَابِضِهِمَا، وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ الْقِبْلَةَ، وَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ جَلَسَ عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى، وَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ قَدَّمَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْأُخْرَى، وَقَعَدَ عَلَى مَقْعَدَتِهِ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر (اولیٰ) کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر تک اٹھاتے اور جب رکوع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے گھٹنوں کو مضبوطی سے پکڑ لیتے تھے‘ پھر اپنی پشت مبارک جھکا لیتے‘ پھر جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو اس طرح سیدھے کھڑے ہوتے کہ ہر جوڑ اپنی اپنی جگہ پر لوٹ آتا۔ پھر (اس کے بعد) جب سجدہ فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھ (زمین پر) اس طرح رکھتے کہ (بازو) زمین پر بچھے ہوتے نہ (پہلوؤں کی طرف) سمٹے ہوتے۔ اور آپ (حالت سجدہ میں) اپنے دونوں پاؤں کی انگلیاں قبلہ رخ کرتے۔ اور جب آپ دو رکعت پڑھ کر بیٹھتے تو بائیں پاؤں کے اوپر بیٹھتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے۔ اور جب آخری رکعت میں بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں (دائیں ران کے نیچے سے) آگے بڑھا دیتے اور دایاں کھڑا رکھتے اور سرین پر بیٹھ جاتے۔ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔)

212

Bulugh al-Maram #212

Sahih

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رضي الله عنه - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ: ((وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَّرَ السَّمَوَاتِ)) ... إِلَى قَوْلِهِ: ((مِنْ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ... )) إِلَى آخِرِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: أَنَّ ذَلِكَ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو (پہلے) یہ دعا پڑھتے : [وَجَّھْتُ وَجْھِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ] سے لے کر [مِنَ الْمُسْلِمِینَ] تک۔ (پھر یہ پڑھتے:) [اَللّٰھُمَّ أَنْتَ الْمَلِکُ‘ لَا إِلٰـہَ إِلَّا أَنْتَ‘ أَنْتَ رَبِّي وَ أَنَا عَبْدُکَ] سے لے کر آخر تک۔ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔) اور مسلم ہی کی ایک روایت میں ہے کہ آپ یہ رات کی نماز (تہجد) میں پڑھا کرتے تھے۔

213

Bulugh al-Maram #213

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - إِذَا كَبَّرَ لِلصَّلَاةِ سَكَتَ هُنَيَّةً، قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: ((أَقُولُ: اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ تکبیر تحریمہ کے بعد تھوڑی دیر خاموش رہتے‘ پھر قرا ء ت شروع کرتے۔ (ایک روز) میں نے اس کے متعلق آپ سے پوچھ لیا (کہ اے اللہ کے رسول! وقفے کے دوران میں آپ کیا پڑھتے ہیں؟) آپ نے فرمایا: ’’میں [اَللّْٰھُمَّ! بَاعِدْ بَیْنِي وَبَیْنَ خَطَایَايَ… الخ] پڑھتا ہوں۔ ’’اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے مابین اتنا فاصلہ اور دوری فرما دے جتنا مشرق و مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔ اے اللہ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے اس طرح صاف فرما دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے پانی‘ برف اور اولوں کے ساتھ دھو ڈال۔‘‘ (بخاری و مسلم)

214

Bulugh al-Maram #214

Sahih

وَعَنْ عُمَرَ - رضي الله عنه - أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: ((سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، تَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ)). رَوَاهُ مُسْلِمٌ بِسَنَدٍ مُنْقَطِعٍ، وَالدَّارَقُطْنِيُّ مَوْصُولًا، وَهُوَ مَوْقُوفٌ. وَنَحْوُهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَرْفُوعًا عِنْدَ الْخَمْسَةِ. وَفِيهِ: وَكَانَ يَقُولُ بَعْدَ التَّكْبِيرِ: ((أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، مِنْ هَمْزِهِ، وَنَفْخِهِ، وَنَفْثِهِ)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ (وقفے کے دوران میں) پڑھتے تھے:[سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ …الخ] ’’اے اللہ! تو پاک ہے (ہر عیب اور ہر نقص سے۔) سب تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں۔ بابرکت ہے تیرا نام اور بلند ہے تیری شان۔ اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘ (اسے مسلم نے منقطع اور دارقطنی نے موصول روایت کیا ہے اور یہ موقوف ہے۔) اورپانچوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں یہ بھی ذکر ہے کہ تکبیر تحریمہ کے بعد تَعَوُّذ (أَعُوذُ بِاللّٰہِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ مِنْ ھَمْزِہٖ وَ نَفْخِہٖ وَنَفْثِہٖ) پڑھتے تھے۔ ’’میں اللہ سمیع و علیم کی پناہ لیتا ہوں شیطان مردود سے‘ اس کے وسوسوں سے‘ اس کے پھونکنے سے‘ یعنی کبر و نخوت سے اور اس کے اشعار اور جادو سے۔‘‘

215

Bulugh al-Maram #215

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَسْتَفْتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ، وَالْقِرَاءَةَ: بِـ (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ، وَلَمْ يُصَوِّبْهُ، وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ. وَكَانَ إِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا. وَإِذَا رَفَعَ مِنَ السُّجُودِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا. وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ. وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ الْيُمْنَى. وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عُقْبَةِ الشَّيْطَانِ، وَيَنْهَى أَنْ يَفْتَرِشَ الرَّجُلُ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ. وَكَانَ يُخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، وَلَهُ عِلَّةٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا آغاز اللہ اکبر سے کرتے اور قراء ت اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ(سورئہ فاتحہ) سے شروع کرتے تھے۔ اور جب رکوع کرتے تو اپنا سر مبارک نہ اونچا رکھتے اور نہ زیادہ نیچے جھکاتے بلکہ اس کے درمیان میں رکھتے۔ اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے جب تک کہ بالکل سیدھے کھڑے نہ ہو جاتے۔ اور جب سجدے سے سر اٹھاتے تو دوسرا سجدہ اس وقت تک نہ کرتے جب تک کہ درست انداز میں بیٹھ نہ جاتے۔ اور ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھتے اور اپنے بائیں پاؤں کو زمین پر بچھا لیتے اور دائیں کو کھڑا رکھتے۔ اور آپ شیطان کی چوکڑی اور درندوں کی طرح بازو بچھا کر بیٹھنے سے منع فرماتے۔ اور نماز کو سلام کے ساتھ ختم کرتے تھے۔ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے اور اس کی سند معلول ہے۔)

216

Bulugh al-Maram #216

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ [ص:81] مَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي حَدِيثِ أَبِي حُمَيْدٍ، عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ: يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يُكَبِّرَ. وَلِمُسْلِمٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ - رضي الله عنه - نَحْوُ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، وَلَكِنْ قَالَ: حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر تک اٹھاتے اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے (تب بھی اسی طرح رفع الیدین کرتے تھے)۔ (بخاری و مسلم) اور ابوداود میں حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے حتی کہ وہ آپ کے کندھوں کے برابر آ جاتے‘ پھر اللہ اکبر کہتے۔ اور مسلم میں حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کی طرح مروی ہے لیکن اس میں ہے کہ اپنے کانوں کے اوپر والے حصے تک اٹھاتے۔

217

Bulugh al-Maram #217

Sahih

وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ - رضي الله عنه - قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى صَدْرِهِ. أَخْرَجَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی‘ آپ نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھ کر دونوں ہاتھ سینے پر باندھ لیے۔‘‘ (اسے ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے۔)

218

Bulugh al-Maram #218

Sahih

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ، لِابْنِ حِبَّانَ وَالدَّارَقُطْنِيِّ: لَا تَجْزِي صَلَاةٌ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ)). وَفِي أُخْرَى، لِأَحْمَدَ وَأَبِي دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيِّ، وَابْنِ حِبَّانَ: ((لَعَلَّكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفَ إِمَامِكُمْ?)) قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: ((لَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے (نماز میں) ام القرآن نہ پڑھی۔‘‘ (بخاری و مسلم) ابن حبان اور دارقطنی میں روایت ہے: ’’جس نماز میں سورئہ فاتحہ نہ پڑھی گئی ہو وہ نماز کافی نہیں ہوتی۔‘‘ احمد‘ ابوداود‘ ترمذی اور ابن حبان کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ ’’شاید تم لوگ امام کے پیچھے (کچھ) پڑھتے ہو؟‘‘ ہم نے عرض کیا: جی ہاں‘ (پڑھتے ہیں۔) آپ نے فرمایا: ’’ایسا نہ کیا کرو سوائے سورئہ فاتحہ کے‘ اس لیے کہ جس نے اسے نہ پڑھا اس کی (تو) نماز ہی نہیں۔‘‘

219

Bulugh al-Maram #219

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنه: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الصَّلَاةِ بِـ (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. زَادَ مُسْلِمٌ: لَا يَذْكُرُونَ: (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) فِي أَوَّلِ قِرَاءَةٍ وَلَا فِي آخِرِهَا. وَفِي رِوَايَةٍ لِأَحْمَدَ، وَالنَّسَائِيِّ وَابْنِ خُزَيْمَةَ: لَا يَجْهَرُونَ بِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. وَفِي أُخْرَى لِابْنِ خُزَيْمَةَ: كَانُوا يُسِرُّونَ. وَعَلَى هَذَا يُحْمَلُ النَّفْيُ فِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ، خِلَافًا لِمَنْ أَعَلَّهَا.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ‘ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سب نماز کا آغاز [اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ] سے کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) مسلم نے یہ اضافہ بھی نقل کیا ہے: قراء ت کے شروع اور آخر دونوں موقعوں پر [بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ] نہیں پڑھتے تھے۔ مسند احمد‘ نسائی اور ابن خزیمہ کی ایک روایت میں ہے: [بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ] کو جہری طور پر (اونچی آواز سے) نہیں پڑھتے تھے۔ ابن خزیمہ کی ایک دوسری روایت میں ہے: وہ بسم اللہ‘ آہستہ پڑھتے تھے۔ اور اسی پر صحیح مسلم کی روایت کی نفی کو محمول کیا جائے گا بخلاف ان لوگوں کے جنھوں نے اسے معلول کہاہے۔

220

Bulugh al-Maram #220

Sahih

وَعَنْ نُعَيْمٍ الْمُجَمِّرِ - رضي الله عنه - قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَرَأَ: (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ: (وَلَا الضَّالِّينَ) ، قَالَ: ((آمِينَ)) وَيَقُولُ كُلَّمَا سَجَدَ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الْجُلُوسِ: اللَّهُ أَكْبَرُ. ثُمَّ يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ خُزَيْمَةَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعیم مجمر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی امامت میں نماز پڑھی تو انھوں نے پہلے بسم اللہ تلاوت فرمائی‘ پھر بعد ازاں ام القرآن (سورئہ فاتحہ) پڑھی حتی کہ جب آپ ﴿وَلَاالضَّآلِّیْن﴾ پر پہنچ گئے تو آمین کہی۔ اور جب بھی سجدہ کرتے اور جب بھی بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے‘ پھر سلام پھیر کر فرمایا: مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقینا میں نماز کی ادائیگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تم سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔ (میری نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بہت مشابہ ہے۔) (اسے نسائی اور ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے۔)

221

Bulugh al-Maram #221

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِذَا قَرَأْتُمْ الْفَاتِحَةَ فَاقْرَءُوا: (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) ، فَإِنَّهَا إِحْدَى آيَاتِهَا)). رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ، وَصَوَّبَ وَقْفَهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم سورئہ فاتحہ پڑھو تو بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی (ساتھ ہی) پڑھا کرو‘ اس لیے کہ وہ بھی سورئہ فاتحہ کی ایک آیت ہے۔‘‘ (اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اس کے موقوف ہونے کو درست قرار دیا ہے۔)

222

Bulugh al-Maram #222

Sahih

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ أُمِّ الْقُرْآنِ رَفَعَ صَوْتَهُ [ص:84] وَقَالَ: ((آمِينَ)). رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَحَسَّنَهُ، وَالْحَاكِمُ وَصَحَّحَهُ. وَلِأَبِي دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيِّ مِنْ حَدِيثِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ نَحْوُهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ام القرآن (سورئہ فاتحہ) کی قراء ت سے فارغ ہوتے تو آمین بلند آواز سے کہتے۔ (اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور حسن کہا ہے۔ اور اسے حاکم نے بھی روایت کیا ہے اور صحیح قرار دیا ہے‘ نیز ابوداود اور ترمذی میں حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اسی طرح ہے۔)

223

Bulugh al-Maram #223

Hasan

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا- قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ: إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ آخُذَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا، فَعَلِّمْنِي مَا يُجْزِئُنِي [مِنْهُ]. قَالَ: ((سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلٌ وَلَا قُوَّةً إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ ... )). الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَالدَّارَقُطْنِيُّ، وَالْحَاكِمُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں قرآن میں سے کچھ بھی یاد نہیں رکھ سکتا‘ لہٰذا مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیں جو (میری نماز کے لیے) اس کی جگہ کافی ہو جائے۔ آپ نے فرمایا: ’’تم [سُبْحَانَ اللّٰہِ‘ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ‘ وَ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ‘ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ‘ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِيِّ الْعَظِیمِ] ’’اللہ پاک ہے‘ اسی کی تعریف ہے‘ اس کے سوا کوئی معبود نہیں‘ اور اللہ سب سے بڑا ہے‘ برائیوں سے بچنا اور نیکی کی توفیق‘ اللہ کے سوا کسی سے ممکن نہیں۔‘‘ پڑھا کرو۔‘‘ لمبی حدیث ہے۔ (اسے احمد‘ ابوداود اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان‘ دارقطنی اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔)

224

Bulugh al-Maram #224

Sahih

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يُصَلِّي بِنَا، فَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ - فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ - بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا، وَيُطَوِّلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى، وَيَقْرَأُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورئہ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے تھے اور کبھی کبھی ہمیں کوئی آیت سنا بھی دیتے تھے۔ آپ پہلی رکعت لمبی کرتے تھے اور آخری دونوں رکعتوں میں صرف فاتحۃ الکتاب پڑھتے تھے۔ (بخاری و مسلم)

225

Bulugh al-Maram #225

Sahih

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: كُنَّا نَحْزُرُ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ قَدْرَ: (الم تَنْزِيلُ) السَّجْدَةِ. وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ. وَفِي الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَالْأُخْرَيَيْنِ مِنْ الظُّهْرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نماز ظہر اور عصر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگایا کرتے تھے‘ چنانچہ ہم نے اندازہ لگایا کہ آپ ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں میں اتنا قیام فرماتے جتنی دیر میں سورئہ الٓمّٓ السجدۃ کی تلاوت کی جا سکے‘ اور آخری دونوں رکعتوں میں پہلی دونوں کے نصف کے برابر۔ اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں ظہر کی آخری دونوں رکعتوں کے برابر‘ اور عصر کی آخری دونوں میں عصر کی پہلی دو رکعتوں سے نصف۔ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔)

226

Bulugh al-Maram #226

Sahih

وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ - رضي الله عنه - قَالَ: كَانَ فُلَانٌ يُطِيلُ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَيُخَفِّفُ الْعَصْرَ، وَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ، وَفِي الْعِشَاءِ بِوَسَطِهِ وَفِي الصُّبْحِ بِطُولِهِ. فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - مِنْ هَذَا. أَخْرَجَهُ النَّسَائِيُّ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ فلاں صاحب ظہر کی پہلی دو رکعتیں لمبی کرتے ہیں‘ نماز عصر میں تخفیف کرتے ہیں‘ نماز مغرب میں قصار مفصل (چھوٹی سورتیں)‘ عشاء میں اوساط مفصل اور صبح کی نماز میں طوال مفصل پڑھتے ہیں۔ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کسی کی امامت میں اس سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ نماز نہیں پڑھی۔ (اسے نسائی نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔)

227

Bulugh al-Maram #227

Sahih

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ - رضي الله عنه - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب میں سورۂ طور پڑھتے سنا ہے۔ (بخاری و مسلم)

228

Bulugh al-Maram #228

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمْعَةِ: (الم تَنْزِيلُ) السَّجْدَةَ، وَ (هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ) مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَلِلطَّبرَانِيِّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ: يُدِيمُ ذَلِكَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز نماز فجر کی پہلی رکعت میں الٓمّٓ تَنْزِیْل (سورۂ سجدہ) اور دوسری میں ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ (سورۂ دہر) پڑھا کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) اور طبرانی میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے کہ آپ ہمیشہ ایسا کرتے تھے۔

229

Bulugh al-Maram #229

Sahih

وَعَنْ حُذَيْفَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - فَمَا مَرَّتْ بِهِ آيَةُ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا يَسْأَلُ، وَلَا آيَةُ عَذَابٍ إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْهَا. أَخْرَجَهُ الْخَمْسَةُ، وَحَسَّنَهُ التِّرْمِذِيُّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی‘ جب ایسی آیت گزرتی جس میں رحمت الٰہی کا ذکر ہوتا تو آپ وہاں رک کر رحمت طلب فرماتے اور جب آیت عذاب گزرتی تو وہاں رک کر اس سے ضرور پناہ مانگتے۔ (اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے حسن قرار دیا ہے۔)

230

Bulugh al-Maram #230

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((أَلَا وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ)). رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’(لوگو!) سن لو کہ مجھے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے‘ لہٰذا رکوع میں اپنے مالک و پروردگار کی عظمت بیان کرو اور سجدے میں کثرت سے دعا کیا کرو‘ یہ اس لائق ہے کہ تمھاری دعا قبول کر لی جائے۔‘‘ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔)

231

Bulugh al-Maram #231

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا- قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: ((سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجود میں [سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِکَ‘ اَللّٰھُمَّ ! اغْفِرْلِي] ’’تو پاک ہے اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! اپنی حمد و ثنا کے ساتھ۔ اے اللہ! مجھے بخش دے۔‘‘ پڑھا کرتے تھے۔ (بخاری ومسلم)

232

Bulugh al-Maram #232

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: ((سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ)) حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ: ((رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ)) ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا، وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنِ اثْنَتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو کھڑے ہوتے وقت اللہ اکبر کہتے۔ پھر جب رکوع کے لیے جاتے تو اس وقت اللہ اکبر کہتے۔ پھر رکوع سے اپنی پشت کو اٹھاتے وقت [سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ] کہتے اور پھر جب رکوع سے سیدھے کھڑے ہوتے تو [رَبَّنَا وَ لَکَ الْحَمْدُ] کہتے۔ پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدے کے لیے جھکتے۔ پھر سجدے سے اپنا سر اٹھاتے وقت اللہ اکبر کہتے۔ پھر سجدے میں جاتے ہوئے اللہ اکبر کہتے‘ پھر سجدے سے اٹھتے ہوئے اللہ اکبر کہتے۔ پھر ساری نماز میں اسی طرح کرتے۔ پھر جب دوسری رکعت کے بعد (تشہد پڑھ کر) اٹھتے تو بھی اللہ اکبر کہتے۔(بخاری و مسلم)

233

Bulugh al-Maram #233

Sahih

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ: ((اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ - وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ - اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ)). رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اَللّٰھُمَّ! رَبَّنَا لَکَ… الخ کہتے تھے۔ ’’اے اللہ! اے ہمارے رب! تعریف صرف تیرے لیے ہے‘ اتنی تعریف جس سے آسمان و زمین بھر جائیں اور اس کے بعد ہر وہ چیز بھر جائے جسے تو چاہے۔ اے تعریف اور بزرگی کے مالک! بہترین بات جو کسی بندے نے کہی … (بندے کے اقوال و کلمات میں سے رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ والا قول سب سے زیادہ استحقاق رکھتا ہے کہ اسے کہا جائے۔) اور ہم سبھی تیرے بندے ہیں … اے اللہ! جو کچھ تو عطا فرمائے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے تو ہی نہ دے اسے کوئی عطا کرنے والا نہیں اور کسی بخت اور نصیب والے کو اس کی بزرگی اور بخت تیرے عذاب کے مقابلے میں کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔‘‘ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔)

234

Bulugh al-Maram #234

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ: عَلَى الْجَبْهَةِ - وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أَنْفِهِ - وَالْيَدَيْنِ، وَالرُّكْبَتَيْنِ، وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے سات ہڈیوں (اعضاء) پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے:پیشانی پر‘… اور اپنے دست مبارک سے اپنے ناک کی طرف اشارہ کیا… اور دونوں ہاتھوں‘ دونوں گھٹنوں اور دونوں قدموں کے کناروں پر۔‘‘ (بخاری و مسلم)

235

Bulugh al-Maram #235

Sahih

وَعَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ - رضي الله عنه: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - كَانَ إِذَا صَلَّى فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ، حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبِطَيْهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز ادا فرماتے اور سجدہ کرتے تو (اس حالت میں) اپنے دونوں بازو اپنے پہلوؤں سے الگ رکھتے تھے‘ یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی۔(بخاری و مسلم)

236

Bulugh al-Maram #236

Sahih

وَعَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِذَا سَجَدْتَ فَضَعْ كَفَّيْكَ، وَارْفَعْ مِرْفَقَيْكَ)). رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تو سجدہ کرے تو (اس وقت) اپنی ہتھیلیوں کو (زمین پر) ٹکا دے اور اپنی کہنیوں کو اوپر اٹھا لے۔‘‘ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔)

237

Bulugh al-Maram #237

Da'if

وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ - رضي الله عنه: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - كَانَ إِذَا رَكَعَ فَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، وَإِذَا سَجَدَ ضَمَّ أَصَابِعَهُ. رَوَاهُ الْحَاكِمُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع میں ہوتے تو اپنی (ہاتھوں کی) انگلیاں کھلی رکھتے اور سجدے میں ہوتے تو اپنی (ہاتھوں کی) انگلیاں باہم ملا لیا کرتے تھے۔ (اسے حاکم نے روایت کیا ہے۔)

238

Bulugh al-Maram #238

Da'if

وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يُصَلِّي مُتَرَبِّعًا. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ چار زانو بیٹھ کر نماز ادا فرمارہے تھے۔ (اسے نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔)

239

Bulugh al-Maram #239

Da'if

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - كَانَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: ((اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَعَافِنِي، وَارْزُقْنِي)). رَوَاهُ الْأَرْبَعَةُ إِلَّا النَّسَائِيُّ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي دَاوُدَ، وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھتے تھے : [اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِي‘ وَارْحَمْنِي‘ وَاھْدِنِي‘ وَعَافِنِي‘ وَارْزُقْنِي] ’’یا اللہ! مجھے بخش دے‘ مجھ پر رحم فرما‘ مجھے راہ ہدایت پر چلا‘ مجھے عافیت عطا فرما اور مجھے رزق (حلال) عطا فرما۔ ‘‘(اسے نسائی کے علاوہ چاروں نے روایت کیا ہے۔ یہ الفاظ ابوداود کے ہیں۔ اور اسے حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔)

240

Bulugh al-Maram #240

Sahih

وَعَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ - رضي الله عنه: أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - يُصَلِّي، فَإِذَا كَانَ فِي وِتْرٍ مِنْ صَلَاتِهِ لَمْ يَنْهَضْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ادا فرماتے دیکھا‘ جب آپ نماز کی طاق رکعت (پہلی اور تیسری) میں ہوتے تو سیدھے بیٹھنے سے پہلے کھڑے نہ ہوتے۔ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔)

241

Bulugh al-Maram #241

Sahih

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ، يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، ثُمَّ تَرَكَهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَلِأَحْمَدَ وَالدَّارَقُطْنِيِّ نَحْوُهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، وَزَادَ: فَأَمَّا فِي الصُّبْحِ فَلَمْ يَزَلْ يَقْنُتُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا مہینہ رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی۔ اس میں آپ عرب کے قبیلوں میں سے بعض قبیلوں کے لیے بددعا فرماتے‘ پھر اسے چھوڑ دیا۔ (بخاری و مسلم) احمد اور دارقطنی نے ایک اور طریق سے اسے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ صبح کی نماز میں دعائے قنوت تادم زیست کرتے رہے۔

242

Bulugh al-Maram #242

Da'if

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم: كَانَ لَا يَقْنُتُ إِلَّا إِذَا دَعَا لِقَوْمٍ، أَوْ دَعَا عَلَى قَوْمٍ. صَحَّحَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم کے حق میں دعا یا کسی کے لیے بددعا کرتے تو صرف اسی وقت قنوت پڑھتے تھے (ورنہ نہیں پڑھتے تھے)۔ (اسے ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔)

243

Bulugh al-Maram #243

Sahih

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقِ الْأَشْجَعِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ! إِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَعَلَيٍّ، أَفَكَانُوا يَقْنَتُونَ فِي الْفَجْرِ? قَالَ: أَيْ بُنَيَّ، مُحْدَثٌ. رَوَاهُ الْخَمْسَةُ، إِلَّا أَبَا دَاوُدَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن طارق اشجعی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے والد سے استفسار کیا: ابا جان! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ‘ ابوبکر‘ عمر‘ عثمان اور علی رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ کیا یہ سب نماز فجر میں قنوت پڑھا کرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ بیٹا! یہ نئی بات ہے۔ (اسے ابوداود کے علاوہ پانچوں نے روایت کیا ہے۔)

244

Bulugh al-Maram #244

Sahih

وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ: ((اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ)). رَوَاهُ الْخَمْسَةُ. وَزَادَ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ: ((وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ)). زَادَ النَّسَائِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ فِي آخِرِهِ: ((وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ)). وَلِلْبَيْهَقِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يُعَلِّمُنَا دُعَاءً نَدْعُو بِهِ فِي الْقُنُوتِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ. وَفِي سَنَدِهِ ضَعْفٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند کلمات سکھائے کہ میں انھیں وتر کی قنوت میں پڑھا کروں۔ (اور وہ یہ ہیں:) [اَللّٰھُمَّ! اھْدِنِي فِیمَنْ ھَدَیْتَ…الخ ]’’اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنھیں تو نے رشد و ہدایت سے نوازا ہے۔ اور مجھے عافیت دے کر ان میں شامل فرما دے جنھیں تو نے عافیت بخشی ہے۔ اور جن کو تو نے اپنا دوست قرار دیا ہے ان میں مجھے بھی شامل کر کے اپنا دوست بنا لے۔ جو کچھ تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس میں میرے لیے برکت ڈال دے اور جس چیز کا تو نے فیصلہ فرما دیا ہے اس کے شرو برائی سے مجھے محفوظ رکھ اور بچا لے۔ یقینا فیصلہ تو ہی صادر فرماتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جاسکتا۔ اور جس کا تو والی بنا وہ کبھی ذلیل و خوار اور رسوا نہیں ہو سکتا۔ اے ہمارے پروردگار! تو ہی برکت والا اور بلند و بالا ہے۔‘‘ (اسے پانچوں نے روایت کیا ہے۔) طبرانی اور بیہقی نے [وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ] کا اضافہ بھی نقل کیا ہے۔ یعنی اور جس سے تونے دشمنی کی وہ عزت نہیں پاسکتا‘ نیز نسائی نے ایک دوسرے طریق سے اس دعا کے آخر میں [وَصَلَّی اللّٰہُ عَلَی النَّبِيِّ]کا اضافہ بھی روایت کیا ہے‘ یعنی اور اللہ ‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت نازل فرمائے۔اور بیہقی میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دعا سکھاتے تھے جسے ہم صبح کی نماز میں دعائے قنوت کی صورت میں مانگتے تھے۔(اس کی سند میں ضعف ہے۔)

245

Bulugh al-Maram #245

Hasan

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْرُكْ كَمَا يَبْرُكُ الْبَعِيرُ، وَلْيَضَعْ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ)). أَخْرَجَهُ الثَّلَاثَةُ. وَهُوَ أَقْوَى مِنْ حَدِيثِ وَائِلٍ رضي الله عنه:رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ. أَخْرَجَهُ الْأَرْبَعَةُ. فَإِنْ لِلْأَوَّلِ شَاهِدًا مِنْ حَدِيثِ: ابْنِ عُمَرَ - رضي الله عنه - صَحَّحَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ، وَذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ مُعَلَّقًا مَوْقُوفًا.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے‘ اور چاہیے کہ گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھ زمین پر رکھے۔‘‘ (اسے تینوں نے روایت کیا ہے۔) اور یہ مذکورہ حدیث حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث سے قوی تر ہے جس میں یہ ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدے میں جاتے دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھٹنے‘ ہاتھوں سے پہلے زمین پر رکھتے تھے۔ (اسے چاروں نے روایت کیا ہے۔ پہلی حدیث کا شاہد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے جسے ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے اور بخاری نے اسے تعلیقاً موقوف بیان کیا ہے۔)

246

Bulugh al-Maram #246

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - كَانَ إِذَا قَعَدَ لِلتَّشَهُّدِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَالْيُمْنَى عَلَى الْيُمْنَى، وَعَقَدَ ثَلَاثَةً وَخَمْسِينَ، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا، وَأَشَارَ بِالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد کے لیے بیٹھتے تو اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر اور دایاں ہاتھ اپنے دائیں گھٹنے پر رکھتے اور تریپن(۵۳)کی گرہ دیتے اور اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کرتے۔ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔) اور مسلم ہی کی ایک روایت میں ہے کہ آپ اپنی تمام انگلیاں بند کر لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ ملی ہوئی انگلی سے اشارہ کرتے۔

247

Bulugh al-Maram #247

Sahih

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - قَالَ: الْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ: ((إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ، وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ، فَيَدْعُو)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ. وَلِلنَّسَائِيِّ: كُنَّا نَقُولُ قَبْلِ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيْنَا التَّشَهُّدُ. وَلِأَحْمَدَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - عَلَّمَهُ التَّشَهُّد، وَأَمَرَهُ أَنْ يُعَلِّمَهُ النَّاسَ. وَلِمُسْلِمٍ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنه - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ: ((التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ ... )). إِلَى آخِرِهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو تشہد میں یوں کہے : [اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ … الخ]’’تمام قولی‘ فعلی اور مالی عبادتیں صرف اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی! سلام ہو آپ پر اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ سلام ہو ہم پر اور اللہ کے صالح بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور اس کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔‘‘ پھر اسے اس دعا کا انتخاب کرنا چاہیے جو اسے سب سے اچھی لگے اوروہ مانگے۔‘‘ (بخاری و مسلم- الفاظ بخاری کے ہیں۔) اور سنن نسائی میں ہے کہ ہم تشہد فرض ہونے سے پہلے (کچھ کلمات) کہا کرتے تھے۔ اور مسند احمد میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تشہد سکھایا اور حکم دیا کہ اسے لوگوں کو سکھاؤ۔ اور مسلم میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یوں تشہد سکھاتے تھے: [اَلتَّحِیَّاتُ الْمَبَارَکَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ لِلّٰہِ …الخ]

248

Bulugh al-Maram #248

Hasan

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ - رضي الله عنه - قَالَ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - رَجُلًا يَدْعُو فِي صَلَاتِهِ، لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ: ((عَجِلَ هَذَا)) ثُمَّ دَعَاهُ، فَقَالَ: ((إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِتَحْمِيدِ رَبِّهِ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - ثُمَّ يَدْعُو بِمَا شَاءَ)). رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالثَّلَاثَةُ، وَصَحَّحَهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ حِبَّانَ، وَالْحَاكِمُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنی نماز میں دعا کرتے سنا۔ اس نے اللہ کی حمد بیان کی نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا۔ آپ نے فرمایا: ’’اس نے جلدی کی ہے۔‘‘ پھر آپ نے اسے اپنے پاس بلایا اور کہا: ’’تم میں سے جب کوئی دعا مانگنے لگے تو پہلے اسے اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرنی چاہیے‘ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا چاہیے‘ پھر اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔‘‘ (اسے احمد اور تینوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی‘ ابن حبان اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔)

249

Bulugh al-Maram #249

Sahih

وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَرَنَا اللَّهُ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ? فَسَكَتَ، ثُمَّ قَالَ: ((قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ. وَالسَّلَامُ كَمَا عَلَّمْتُكُمْ)). رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَزَادَ ابْنُ خُزَيْمَةَ فِيهِ: فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ، إِذَا نَحْنُ صَلَّيْنَا عَلَيْكَ فِي صَلَاتِنَا.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم فرمایا ہے‘ تو ہم کس طرح آپ پر درود بھیجیں؟ آپ (تھوڑی دیر) خاموش رہے‘ پھر فرمایا: ’’اس طرح کہا کرو: [اَللّٰھُمَّ! صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ …الخ ] ’’اے اللہ! محمد اور آل محمد پر رحمت نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) پر رحمت نازل فرمائی۔ اور برکت نازل فرما محمد اور آل محمد پر جس طرح تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم ( علیہ السلام ) پر جہانوں میں۔ یقینا تو ستودہ صفات ہے اور بزرگ ہے۔‘‘ اور رہا سلام‘ تو وہ اس طرح ہے جس طرح کہ تم جانتے ہو۔‘‘ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔) اور ابن خزیمہ نے اس میں اتنا اضافہ نقل کیا ہے (صحابہ نے عرض کیا) کہ جب ہم نماز پڑھ رہے ہوں تو اس وقت آپ پر درود کس طرح پڑھیں؟