Muslim99Muslim99

Bulugh al-Maram · Book 2 · Chapter 14

Prayer

بَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ

9 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

406

Bulugh al-Maram #406

Hasan

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - مُتَوَاضِعًا، مُتَبَذِّلًا، مُتَخَشِّعًا، مُتَرَسِّلًا، مُتَضَرِّعًا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ، لَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ. رَوَاهُ الْخَمْسَةُ، وَصَحَّحَهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَابْنُ حِبَّانَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تواضع کرتے ہوئے‘ ترک زینت کرتے ہوئے‘ خشوع ظاہر کرتے ہوئے ‘ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اور بڑی زاری اور تضرع کرتے ہوئے نماز کے لیے باہر نکلے اور نماز عید کی طرح لوگوں کو دو رکعات نماز پڑھائی۔ تمھارے اس خطبے کی طرح خطبہ ارشاد نہیں فرمایا۔ (اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی‘ ابوعوانہ اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔)

407

Bulugh al-Maram #407

Hasan

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: شَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قُحُوطَ الْمَطَرِ، فَأَمَرَ بِمِنْبَرٍ، فَوُضِعَ لَهُ فِي الْمُصَلَّى، وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ، فَخَرَجَ حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَكَبَّرَ وَحَمِدَ اللَّهَ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدَبَ دِيَارِكُمْ، وَقَدْ أَمَرَكُمْ اللَّهُ أَنْ تَدْعُوَهُ، وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ، ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ))، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ إِبِطَيْهِ، ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ، وَقَلَبَ رِدَاءَهُ، وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ، ثُمَّ أَقْبِلَ عَلَى النَّاسِ وَنَزَلَ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَأَنْشَأَ اللَّهُ سَحَابَةً، فَرَعَدَتْ، وَبَرَقَتْ، ثُمَّ أَمْطَرَتْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: ((غَرِيبٌ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ)). وَقِصَّةُ التَّحْوِيلِ فِي ((الصَّحِيحِ)) مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وَفِيهِ: فَتَوَجَّهَ إِلَى الْقِبْلَةِ، يَدْعُو، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، جَهَرَ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ. وَلِلدَّارَقُطْنِيِّ مِنْ مُرْسَلِ أَبِي جَعْفَرٍ الْبَاقِرِ: وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ؛ لِيَتَحَوَّلَ الْقَحْطُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش بند ہو جانے کی شکایت کی تو آپ نے منبر (لے جانے) کا حکم فرمایا‘ چنانچہ آپ کے لیے عیدگاہ میں منبر لا کر رکھ دیا گیا۔ آپ نے لوگوں سے ایک دن کا وعدہ کیا کہ وہ سارے باہر نکلیں‘ پھر آپ اس وقت نکلے جب سورج کا کنارہ ظاہر ہوا‘ آپ منبر پر بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور حمد و ستائش بیان کی‘ پھر (لوگوں سے مخاطب ہو کر) فرمایا: ’’تم نے اپنے علاقوں کی خشک سالی کا شکوہ کیا ہے‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے کہ اسے پکارو وہ تمھاری دعا قبول فرمائے گا۔‘‘ پھر فرمایا: ’’تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو کائنات کا پروردگار ‘ بڑا مہربان‘ نہایت رحم کرنے والا ہے۔ روز جزا کا مالک ہے۔ اللہ کے سوا دوسرا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔ الٰہی! تو ہی اللہ ہے‘ تیرے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں۔ تو غنی ہے اور ہم فقیر و محتاج ہیں۔ ہم پر باران رحمت کا نزول فرما۔ جو کچھ تو ہم پر نازل فرمائے اسے ہمارے لیے قوت اور ایک وقت تک کے لیے گزران بنا دے۔‘‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں دست مبارک اوپر اٹھائے کہ وہ بتدریج آہستہ آہستہ اوپر اٹھتے گئے اور آپ دعا میں مشغول رہے یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی۔ پھر لوگوں کی جانب اپنی پشت کر کے کھڑے ہوگئے (قبلہ رو ہو گئے) اور اپنی چادر کو پلٹایا جبکہ آپ اپنے ہاتھ اوپر اٹھائے ہوئے تھے‘ بعدازاں لوگوں کی جانب منہ کیا اور منبر سے نیچے تشریف لے آئے اور دو رکعت نماز پڑھائی۔ اسی لمحے اللہ تعالیٰ نے ایک بدلی بھیجی‘ وہ گرجی‘ چمکی‘ پھر برسنے لگی۔ (اسے ابوداود نے روایت کیا ہے اور غریب کہا ہے اور اس کی سند عمدہ ہے۔) صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی روایت میں چادر تبدیل کرنے کا قصہ موجود ہے۔ اور اس روایت میں ہے: پھر آپ نے قبلے کی طرف رخ کیا اور دعا فرماتے رہے‘ پھر دو رکعت نماز ادا فرمائی اور ان میں قراء ت بلند آواز سے کی۔ اور دارقطنی میں ابوجعفر باقر کی مرسل روایت میں ہے کہ آپ نے اپنی چادر اس لیے پلٹی کہ قحط سالی بھی اسی طرح پلٹ جائے۔

408

Bulugh al-Maram #408

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنه: أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَالنَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - قَائِمٌ يَخْطُبُ. فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ، وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللَّهَ [عَزَّ وَجَلَّ] يُغِيثُنَا، فَرَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: ((اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا ... )). فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ الدُّعَاءُ بِإِمْسَاكِهَا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جمعے کے روز مسجد میں داخل ہوا‘ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اموال (مویشی) ہلاک ہوگئے اور آمدورفت کے راستے بند ہوگئے ہیں۔ اللہ کے حضور دعا فرمائیں کہ وہ ہم پر بارش نازل فرمائے۔ آپ نے اسی وقت اپنے ہاتھ اوپر اٹھائے اور دعا فرمائی: ’’الٰہی! بارش سے ہماری فریاد رسی فرما۔ یاالٰہی! باران رحمت سے ہماری فریاد رسی فرما۔ اے اللہ! باران رحمت سے ہماری فریاد رسی فرما۔‘‘ پھر ساری حدیث بیان کی۔ اس میں بارش کے بند کروانے کی دعا کا بھی ذکر ہے۔ (بخاری و مسلم)

409

Bulugh al-Maram #409

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ عُمَرَ - رضي الله عنه - كَانَ إِذَا قَحِطُوا يَسْتَسْقِي بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ. وَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَسْتَسْقِي إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا، فَيُسْقَوْنَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ (کے زمانے میں) جب لوگ قحط میں مبتلا ہو جاتے تو وہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ (کی دعا) کے ذریعے سے بارش طلب فرماتے اور یوں دعا کرتے: ’’اے اللہ! ہم تجھ سے تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کی دعا) کے ذریعے سے بارش طلب کرتے تھے‘ تو ہمیں باران رحمت سے نواز دیتا تھا۔ اب ہم تیرے حضور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا (کی دعا کے ذریعے سے) بارش طلب کرتے ہیں‘ لہٰذا تو ہمیں بارش سے سیراب فرما دے۔ (اس دعا کی قبولیت کے نتیجے میں) انھیں بارش سے سیراب کر دیا جاتا۔ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔)

410

Bulugh al-Maram #410

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: أَصَابَنَا - وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - مَطَرٌ قَالَ: فَحَسَرَ ثَوْبَهُ، حَتَّى أَصَابَهُ مِنَ الْمَطَرِ، وَقَالَ: ((إِنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ)). رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے یہ حدیث بھی مروی ہے کہ ہم ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ بارش ہونے لگی۔ تو آپ نے اپنے بدن اطہر سے کپڑا ہٹا لیا حتی کہ بارش آپ کے جسم اطیب پر پڑنے لگی اور آپ نے فرمایا: ’’یہ ابھی ابھی اپنے رب کے ہاں سے آئی ہے۔‘‘ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔)

411

Bulugh al-Maram #411

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا; أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ قَالَ: ((اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا)). أَخْرَجَاهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش کو دیکھتے تو اس طرح دعا مانگتے: ’’اے اللہ! اس بارش کو نفع بخش بنا دے۔‘‘ (اسے بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔)

412

Bulugh al-Maram #412

Da'if

وَعَنْ سَعْدٍ - رضي الله عنه: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - دَعَا فِي الِاسْتِسْقَاءِ: ((اللَّهُمَّ جَلِّلْنَا سَحَابًا، كَثِيفًا، قَصِيفًا، دَلُوقًا، ضَحُوكًا، تُمْطِرُنَا مِنْهُ رَذَاذًا، قِطْقِطًا، سَجْلًا، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ)). رَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ فِي ((صَحِيحِهِ)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش طلب کرنے کے لیے یہ دعا مانگی: ’’الٰہی! ہمیں ایسے بادل سے ڈھانپ لے جو گہرا تہ بہ تہ ‘ کڑکنے والا‘ زور سے برسنے والا‘ چمکنے گرجنے والا ہو‘ تو اس سے ہم پر چھوٹے چھوٹے قطرات والی‘ انتہائی باریک بوندوں والی اور موسلا دھار بارش برسا۔اے بزرگی اور عزت کے مالک!‘‘ (اسے ابو عوانہ نے اپنی ’’صحیح‘‘ میں روایت کیا ہے۔)

413

Bulugh al-Maram #413

Hasan

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((خَرَجَ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَسْتَسْقِي، فَرَأَى نَمْلَةً مُسْتَلْقِيَةً عَلَى ظَهْرِهَا رَافِعَةً قَوَائِمَهَا إِلَى السَّمَاءِ تَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنَّا خَلْقٌ مِنْ خَلْقِكَ، لَيْسَ بِنَا غِنًى عَنْ سُقْيَاكَ، فَقَالَ: ارْجِعُوا لَقَدْ سُقِيتُمْ بِدَعْوَةِ غَيْرِكُمْ)). رَوَاهُ أَحْمَدُ وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حضرت سلیمان علیہ السلام بارش طلب کرنے کے لیے باہر نکلے تو انھوں نے ایک چیونٹی کو پشت کے بل لیٹے ہوئے‘ ٹانگیں آسمان کی جانب اٹھائے ہوئے دیکھا‘ جو بارگاہ رب العزت میں عرض کر رہی تھی: الٰہی! ہم بھی تیری مخلوق میں سے ایک مخلوق ہیں اور تیری بارش سے بے نیاز و مستغنی نہیں ہیں۔ یہ سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: چلو واپس چلیں‘ تم اپنے غیر کی دعا کی بدولت بارش سے سیراب کر دیے گئے ہو۔‘‘ (اسے احمد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے صحیح قرار دیاہے۔)

414

Bulugh al-Maram #414

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنه: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - اسْتَسْقَى فَأَشَارَ بِظَهْرِ كَفَّيْهِ إِلَى السَّمَاءِ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے لیے دعا فرمائی تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کی پشت کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔)