Muslim99Muslim99

Bulugh al-Maram · Book 2 · Chapter 13

Prayer

بَابُ صَلَاةِ الْكُسُوفِ

5 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

401

Bulugh al-Maram #401

Sahih

عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ النَّاسُ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا، فَادْعُوا اللَّهَ وَصَلُّوا، حَتَّى تَنْكَشِفَ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: ((حَتَّى تَنْجَلِيَ)). وَلِلْبُخَارِيِّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرَةَ - رضي الله عنه: ((فَصَلُّوا وَادْعُوا حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں (آپ کے لخت جگر) ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کے روز سورج گرہن لگا تو لوگوں نے کہا کہ سورج گرہن ابراہیم کی وفات کی وجہ سے لگا ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’شمس و قمر اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ انھیں گرہن کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں لگتا‘ چنانچہ جب تم انھیں اس حالت میں دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرو اور نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ (سورج) واضح ہو جائے (گرہن کھل جائے۔)‘‘ (بخاری و مسلم) اور بخاری کی ایک روایت میں ہے : ’’نماز پڑھتے رہو یہاں تک کہ وہ روشن ہو جائے۔‘‘ اور بخاری میں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: ’’چنانچہ نماز پڑھو اور دعا مانگو یہاں تک کہ وہ کیفیت جو تمھارے سامنے ہے‘ دور ہو جائے۔‘‘

402

Bulugh al-Maram #402

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - جَهَرَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ بِقِرَاءَتِهِ، فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ، وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَهَذَا لَفْظُ مُسْلِمٍ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: فَبَعَثَ مُنَادِيًا يُنَادِي: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہن کی نماز میں قراء ت بلند آواز سے کی اور دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار ہی سجدے کیے۔ (بخاری و مسلم۔ یہ الفاظ مسلم کے ہیں) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے: آپ نے منادی کرنے والے کو بھیجا جو [اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ] ’’نماز جمع کرنے والی ہے۔‘‘ کی منادی کرتا تھا۔

403

Bulugh al-Maram #403

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: انْخَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - فَصَلَّى، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، نَحْوًا مِنْ قِرَاءَةِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، [ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ] ، ثُمَّ رَفَعَ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ. فَخَطَبَ النَّاسَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: صَلَّى حِينَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ. وَعَنْ عَلِيٍّ مِثْلُ ذَلِكَ. وَلَهُ: عَنْ جَابِرٍ - رضي الله عنه: صَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ بِأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ. وَلِأَبِي دَاوُدَ: عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: صَلَّى، فَرَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، وَفَعَلَ فِي الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج گرہن ہوا۔ آپ نے نماز کسوف ادا فرمائی‘ اس میں لمبا قیام کیا‘ سورۂ بقرہ کی تلاوت کے برابر۔ پھر رکوع بھی بہت لمبا کیا‘ پھر سر اٹھایا (رکوع سے کھڑے ہوئے) تو قیام بھی طویل کیا مگر پہلے قیام سے کم۔ پھر لمبا رکوع کیا لیکن پہلے رکوع سے کم۔ پھر سجدہ ریز ہوئے (اس کے بعد) پھر لمبا قیام کیا اور وہ پہلے قیام سے کچھ کم تھا۔ پھر ایک لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کچھ کم تھا۔ پھر (رکوع سے) اپنا سر مبارک اٹھایا اور ایک لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے کچھ کم تھا۔ اس کے بعد پھر ایک اور لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کچھ کم تھا۔ پھر اپنا سر مبارک (رکوع سے) اٹھایا‘ پھر سجدہ کیا پھر (آخر کار) سلام پھیر دیا تو (اس دوران میں) سورج روشن ہو چکا تھا‘ پھر آپ نے لوگوں کو وعظ بھی کیا۔ (بخاری و مسلم- یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔) مسلم کی ایک روایت میں ہے: آپ نے سورج گرہن کے موقع پر نماز پڑھی تو آٹھ رکوع ‘چار سجدوں کے درمیان ادا کیے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح روایت ہے۔اور مسلم ہی کی ایک روایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے یوں بھی ہے: آپ نے چھ رکوع‘ چار سجدوں کے ساتھ ادا کیے۔اور ابوداود میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے نماز کسوف پڑھی اور پانچ رکوع اور دو سجدے پہلی رکعت میں کیے اور اسی طرح دوسری رکعت میں کیا۔

404

Bulugh al-Maram #404

Da'if

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَا هَبَّتْ رِيحٌ قَطُّ إِلَّا جَثَا النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَقَالَ: ((اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا رَحْمَةً، وَلَا تَجْعَلَهَا عَذَابًا)). رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب بھی تیز و تند ہوا چلتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر یوں (بارگاہ الٰہی میں) عرض کرتے: ’’الٰہی! اس (ہوا) کو رحمت بنا‘ اسے عذاب نہ بنا۔‘‘ (اسے شافعی اور طبرانی دونوں نے روایت کیا ہے۔)

405

Bulugh al-Maram #405

Sahih

وَعَنْهُ رضي الله عنه: أَنَّهُ صَلَّى فِي زَلْزَلَةٍ سِتَّ رَكَعَاتٍ، وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، وَقَالَ: هَكَذَا صَلَاةُ الْآيَاتِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ. وَذَكَرَ الشَّافِعِيُّ عَنْ عَلِيٍّ - رضي الله عنه - مِثْلَهُ دُونَ آخِرِهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے یہ حدیث بھی مروی ہے کہ آپ نے زلزلے کی وجہ سے چار سجدوں اور چھ رکوعوں سے نماز پڑھی اور فرمایا کہ آیات الٰہی کی نماز اسی طرح پڑھی جاتی ہے۔ (اسے بیہقی نے روایت کیا ہے۔ اور امام شافعی نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت ذکر کی ہے‘ البتہ اس میں روایت کے آخری الفاظ نہیں ہیں۔)