Bulugh al-Maram #401
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ النَّاسُ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا، فَادْعُوا اللَّهَ وَصَلُّوا، حَتَّى تَنْكَشِفَ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: ((حَتَّى تَنْجَلِيَ)). وَلِلْبُخَارِيِّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرَةَ - رضي الله عنه: ((فَصَلُّوا وَادْعُوا حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ)).
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں (آپ کے لخت جگر) ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کے روز سورج گرہن لگا تو لوگوں نے کہا کہ سورج گرہن ابراہیم کی وفات کی وجہ سے لگا ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’شمس و قمر اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ انھیں گرہن کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں لگتا‘ چنانچہ جب تم انھیں اس حالت میں دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرو اور نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ (سورج) واضح ہو جائے (گرہن کھل جائے۔)‘‘ (بخاری و مسلم) اور بخاری کی ایک روایت میں ہے : ’’نماز پڑھتے رہو یہاں تک کہ وہ روشن ہو جائے۔‘‘ اور بخاری میں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: ’’چنانچہ نماز پڑھو اور دعا مانگو یہاں تک کہ وہ کیفیت جو تمھارے سامنے ہے‘ دور ہو جائے۔‘‘