Muslim99Muslim99

Bulugh al-Maram · Book 10 · Chapter 3

Legal Penalties

بَابُ حَدِّ السَّرِقَةِ

11 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1053

Bulugh al-Maram #1053

Sahih

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((لَا تُقْطَعُ يَدُ سَارِقٍ إِلَّا فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَاللَّفْظُ لِمُسْلِم وَلَفْظُ الْبُخَارِيِّ: ((تُقْطَعُ الْيَدُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا)). وَفِي رِوَايَةٍ لِأَحْمَدَ: ((اقْطَعُوا فِي رُبُعِ دِينَارٍ، وَلَا تَقْطَعُوا فِيمَا هُوَ أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زائد چوری کرنے پر ہی کاٹا جائے۔‘‘ (بخاری و مسلم- یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔) اور بخاری کے الفاظ ہیں: ’’چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زائد پر کاٹا جائے گا۔‘‘ اور احمد کی روایت میں ہے: ’’چوتھائی دینار میں ہاتھ کاٹ دو اور اس سے کم قیمت کی چوری پر نہ کاٹو۔‘‘

1054

Bulugh al-Maram #1054

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَطَعَ فِي مِجَنٍ، ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈھال کی چوری میں ‘ جس کی قیمت تین درہم تھی‘ ہاتھ کاٹا۔ (بخاری و مسلم)

1055

Bulugh al-Maram #1055

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ؛ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ، فَتُقْطَعُ يَدُهُ، وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ، فَتُقْطَعُ يَدُهُ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ أَيْضًا.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اس چور پر جو انڈا چوری کر کے اپنا ہاتھ کٹوا لیتا ہے۔ اور رسی چوری کرتا ہے اور اپنا ہاتھ کٹوا لیتا ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم)

1056

Bulugh al-Maram #1056

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((أَتَشْفَعُ فِي حَدٍ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ؟)). ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ، فَقَالَ: ((أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ ... )). الْحَدِيثَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ. وَلَهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ: عَنْ عَائِشَةَ: كَانَتِ امْرَأَةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ، وَتَجْحَدُهُ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - بِقَطْعِ يَدِهَا.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تم اللہ کی مقرر کردہ حدود میں سے ایک حدکے بارے میں سفارش کرتے ہو؟‘‘ پھر آپ نے کھڑے ہوکر خطبہ دیا اور فرمایا: ’’لوگو! بے شک تم سے پہلے لوگوں کو اسی چیز نے ہلاک کیا کہ جب ان میں سے کوئی معزز آدمی چوری کرلیتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور (کم حیثیت والا) آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کر دیتے۔‘‘ (بخاری و مسلم۔ اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔) اور مسلم میں ایک اور سندسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے منقول ہے کہ ایک عورت ادھار سامان لیا کرتی تھی‘ پھر انکار کر دیتی تھی تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کاہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمایا۔

1057

Bulugh al-Maram #1057

Sahih

وَعَنْ جَابِرٍ - رضي الله عنه -، عَنِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((لَيْسَ عَلَى خَائِنٍ وَلَا مُنْتَهِبٍ، وِلَا مُخْتَلِسٍ، قَطْعٌ)). رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْأَرْبَعَةُ، وَصَحَّحَهُ التِّرْمِذِ??ُّ، وَابْنُ حِبَّانَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’خیانت کرنے والے‘ اچک کر لے جانے والے اور ڈاکا ڈالنے والے کے لیے قطع ید کی سزا نہیں ہے۔‘‘ (اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے۔ ترمذی اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔)

1058

Bulugh al-Maram #1058

Sahih

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ - رضي الله عنه -، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: ((لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ)). رَوَاهُ الْمَذْكُورُونَ، وَصَحَّحَهُ أَيْضًا التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ حِبَّانَ

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ’’پھل اور درخت خرما کی گری (چرانے) میں ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں ہے۔‘‘ (اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے۔ ترمذی اور ابن حبان نے اسے بھی صحیح قرار دیا ہے۔)

1059

Bulugh al-Maram #1059

Da'if

وَعَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - بِلِصٍّ قَدِ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا، وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - ((مَا إِخَالَكَ سَرَقْتَ)). قَالَ: بَلَى، فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ. وَجِيءَ بِهِ، فَقَالَ: ((اسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ))، فَقَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: ((اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ))، ثَلَاثًا. أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَأَحْمَدُ، وَالنَّسَائِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَأَخْرَجَهُ الْحَاكِمُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَسَاقَهُ بِمَعْنَاهُ، وَقَالَ فِيهِ: ((اذْهَبُوا بِهِ، فَاقْطَعُوهُ، ثُمَّ احْسِمُوهُ)). وَأَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ أَيْضًا، وَقَالَ: لَا بَأْسَ بِإِسْنَادِهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابو امیہ مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا۔ اس نے چوری کا اعتراف کیا مگر سامان اس کے پاس نہ پایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ’’میں خیال نہیں کرتا کہ تم نے چوری کی ہوگی۔‘‘ اس نے کہا: کیوں نہیں! (میں نے چوری کی ہے۔) آپ نے دو یا تین مرتبہ اسی طرح دہرایا۔ پھر آپ نے حکم صادر فرمایا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ اس کے بعد اسے آپ کی خدمت میں لایا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’اللہ سے اپنے گناہ کی بخشش مانگ اور اس سے توبہ کر۔‘‘ اس نے کہا: میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں، پھر آپ نے تین مرتبہ فرمایا: ’’الٰہی! اس کی توبہ قبول فرما۔‘‘ (اسے ابوداود نے روایت کیا ہے۔ الفاظ بھی اسی کے ہیں‘ نیز احمد اور نسائی نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔) اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اسی مفہوم کے مطابق اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: ’’اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو‘ پھر اسے داغ دینا۔‘‘ (اسے بزار نے بھی روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی سند میں کوئی نقص نہیں ہے۔)

1060

Bulugh al-Maram #1060

Da'if

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((لَا يُغَرَّمُ السَّارِقُ إِذَا أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ)). رَوَاهُ النَّسَائِيُّ، وَبَيَّنَ أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ. وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هُوَ مُنْكَرٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب چور پر حد قائم کر دی جائے تو پھر اس پر تاوان (جرمانہ) نہیں ڈالا جائے گا۔‘‘ (اسے نسائی نے روایت کیا ہے اور بیان کیا ہے کہ یہ منقطع ہے اور ابوحاتم نے اسے منکر کہا ہے۔)

1061

Bulugh al-Maram #1061

Hasan

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ التَّمْرِ الْمُعَلَّقِ؟ فَقَالَ: ((مَنْ أَصَابَ بِفِيهِ مِنْ ذِي حَاجَةٍ، غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً، فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ، وَمَنْ خَرَجَ بِشَيْءٍ مِنْهُ، فَعَلَيْهِ الْغَرَامَةُ وَالْعُقُوبَةُ، وَمَنْ خَرَجَ بِشَيْءٍ مِنْهُ بَعْدَ أَنْ يُؤْوِيَهُ الْجَرِينُ، فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ)). أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ سے درختوں پر لٹکی ہوئی کھجوروں کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’جو ضرورت مند شخص اسے وہیں کھالے اور دامن نہ بھرے تو اس پر کوئی سرزنش نہیں۔ اور جو شخص وہاں سے کچھ لے کر نکل جائے تو اس پر تاوان بھی ہے اور سزا بھی۔ اور جو شخص کھجور کے کھلیان میں پہنچنے کے بعد اس میں سے کچھ لے جائے اور وہ ڈھال کی قیمت کے مساوی ہو تو اس پر قطع ید کی سزا نافذ ہوگی۔‘‘ (اسے ابوداود اور نسائی نے بیان کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔)

1062

Bulugh al-Maram #1062

Hasan

وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمِّيَّةٍ - رضي الله عنه - أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ لَهُ لَمَّا أَمَرَ بِقَطْعِ الَّذِي سَرَقَ رِدَاءَهُ، فَشَفَعَ فِيهِ: ((هَلَّا كَانَ ذَلِكَ قَبْلِ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ؟)). أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ، وَالْأَرْبَعَةَ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ الْجَارُودِ، وَالْحَاكِمُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا‘ جبکہ آپ نے اس آدمی کا ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمایا تھا جس نے ان (صفوان) کی چادر چرائی تھی اور انھوں نے اس کے حق میں سفارش کی تھی: ’’اسے میرے پاس لانے سے پہلے تم سے ایسا کیوں نہ ہوا (کہ اسے معاف کر دیتے؟‘‘) (اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ابن جارود اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔)

1063

Bulugh al-Maram #1063

Hasan

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: جِيءَ بِسَارِقٍ إِلَى النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ: ((اقْتُلُوهُ)). فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّمَا سَرَقَ. قَالَ: ((اقْطَعُوهُ)) فَقَطَعَ، ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّانِيَةِ، فَقَالَ ((اقْتُلُوهُ)) فَذَكَرَ مِثْلَهُ، ثُمَّ جِيءَ بِهِ الرَّابِعَةِ كَذَلِكَ، ثُمَّ جِيءَ بِهِ الْخَامِسَةِ فَقَالَ: ((اُقْتُلُوهُ)). أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنِّسَائِيُّ، وَاسْتَنْكَرَهُ. وَأَخْرُجَ مِنْ حَدِيثِ الْحَارِثِ بْنِ حَاطِبٍ نَحْوَهُ. وَذَكَرَ الشَّافِعِيُّ أَنَّ الْقَتْلَ فِي الْخَامِسَةِ مَنْسُوخٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’اسے قتل کردو۔‘‘ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول !اس نے تو چوری کی ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’ اس کا ہاتھ کاٹ دو۔‘‘ چنانچہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ پھر اسے دوبارہ پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’اسے مار ڈالو۔‘‘ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے پہلے کی طرح ذکر کیا۔ پھر اسے تیسری بار لایا گیا تو پھر اسی طرح ذکر کیا۔ پھر اسی طرح چوتھی مرتبہ گرفتار کر کے پیش کیا گیا ۔ پھر پانچویں مرتبہ گرفتار کر کے پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’اسے قتل کر دو۔‘‘ (اسے ابوداود اور نسائی نے روایت کیا ہے اور نسائی نے اسے منکر قرار دیا ہے اور حارث بن حاطب کے حوالے سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ پانچویں مرتبہ مار ڈالنا منسوخ ہے۔)