Muslim99Muslim99

Bulugh al-Maram · Book 1 · Chapter 3

Purification

Hadith 81–120

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

81

Bulugh al-Maram #81

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((اتَّقُوا اللَّاعِنِينَ: الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيقِ النَّاسِ، أَوْ فِي ظِلِّهِمْ)). رَوَاهُ مُسْلِمٌ. زَادَ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ مُعَاذٍ: ((وَالْمَوَارِدَ)). وَلِأَحْمَدَ; عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ((أَوْ نَقْعِ مَاءٍ)). وَفِيهِمَا ضَعْفٌ. وَأَخْرَجَ الطَّبَرَانِيُّ النَّهْيَ عَنْ تَحْتِ الْأَشْجَارِ الْمُثْمِرَةِ، وَضَفَّةِ النَّهْرِ الْجَارِي. مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ بِسَنَدٍ ضَعِيفٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لعنت کا سبب بننے والے دو امور سے اجتناب کرو۔ ایک لوگوں کے راستے میں‘ دوسرا (ان کے آرام کرنے کی) سایہ دار جگہ میں قضائے حاجت کرنے سے۔‘‘ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔)اور ابوداود نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ’’گھاٹوں‘‘ کا لفظ زائد بیان کیا ہے۔ اور اس روایت کے الفاظ اس طرح ہیں: ’’لعنت کے تین اسباب سے اجتناب کرو۔ گھاٹوں پر‘ شاہراہ عام پر اور سائے کے نیچے رفع حاجت کرنے سے۔‘‘ اور امام احمد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے روایت بیان کی ہے (اس میں ہے:) ’’یا جہاں پانی جمع ہوتا ہو وہاں بھی رفع حاجت سے بچنا چاہیے۔‘‘ (ان دونوں روایتوں میں کچھ ضعف ہے۔) اور طبرانی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پھل دار درختوں کے نیچے اور جاری و ساری نہر کے کنارے پر قضائے حاجت کرنے سے ممانعت والی روایت بیان کی ہے۔ (اس کی سند ضعیف ہے۔)

82

Bulugh al-Maram #82

Da'if

وَعَنْ جَابِرٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِذَا تَغَوَّطَ الرَّجُلَانِ فَلْيَتَوَارَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَنْ صَاحِبِهِ، وَلَا يَتَحَدَّثَا، فَإِنَّ اللَّهَ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ)). رَوَاهُ. وَصَحَّحَهُ ابْنُ السَّكَنِ، وَابْنُ الْقَطَّانِ، وَهُوَ مَعْلُولٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب دو آدمی قضائے حاجت کریں تو ان کو ایک دوسرے سے پردے اور اوٹ میں ہونا چاہیے۔ اور وہ ایک دوسرے سے باہم گفتگو بھی نہ کریں‘ اس لیے کہ ایسے فعل پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔ (اس روایت کو احمد نے روایت کیا ہے اور ابن سکن اور ابن قطان نے صحیح قرار دیا ہے مگر یہ حدیث معلول ہے۔)

83

Bulugh al-Maram #83

Sahih

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((لَا يُمْسِكَنَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَهُوَ يَبُولُ، وَلَا يَتَمَسَّحْ مِنَ الْخَلَاءِ بِيَمِينِهِ، وَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی بھی شخص پیشاب کرتے وقت دائیں ہاتھ سے اپنے عضو مخصوص کو نہ چھوئے‘ اور نہ قضائے حاجت کے بعد دائیں ہاتھ سے استنجا کرے‘ اور نہ پانی پیتے وقت برتن میں سانس لے۔ (بخاری و مسلم۔ یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔)

84

Bulugh al-Maram #84

Sahih

وَعَنْ سَلْمَانَ - رضي الله عنه - قَالَ: لَقَدْ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ عَظْمٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا کہ ہم قضائے حاجت اور پیشاب کے وقت قبلہ رخ ہوں یا دائیں ہاتھ سے استنجا کریں یا تین ڈھیلوں سے کم سے استنجا کریں یا گوبر اور ہڈی سے استنجا کریں۔ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔)

85

Bulugh al-Maram #85

Sahih

وَلِلسَّبْعَةِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أَيُّوبَ - رضي الله عنه: ((لَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ وَلَا تَستَدبِرُوهَا، وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور ساتوں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے: ’’قضائے حاجت اور پیشاب کرتے وقت قبلہ رخ نہ بیٹھو اور نہ اس کی طرف پشت کرو بلکہ مشرق یا مغرب کی جانب رخ کرو۔‘‘

86

Bulugh al-Maram #86

Da'if

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا; أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((مَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ)). رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو قضائے حاجت کے لیے جائے اسے پردہ کرنا چاہیے۔‘‘ (اسے ابوداود نے روایت کیا ہے۔)

87

Bulugh al-Maram #87

Sahih

وَعَنْهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا; - أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ الْغَائِطِ قَالَ: ((غُفْرَانَكَ)). أَخْرَجَهُ الْخَمْسَةُ، وَصَحَّحَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَالْحَاكِمُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (جب قضائے حاجت سے فارغ ہو کر) بیت الخلا سے باہر آتے تو [غُفْرَانَکَ] کہتے ’’اے اللہ! میں تیری بخشش طلب کرتا ہوں۔‘‘ (اسے پانچوں نے روایت کیا ہے‘ نیز ابوحاتم اور حاکم دونوں نے صحیح قرار دیا ہے۔)

88

Bulugh al-Maram #88

Sahih

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - الْغَائِطَ، فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، فَوَجَدْتُ حَجَرَيْنِ، وَلَمْ أَجِدْ ثَالِثًا. فَأَتَيْتُهُ بِرَوْثَةٍ. فَأَخَذَهُمَا وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ، وَقَالَ: ((هَذَا رِكْسٌ)). أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ. زَادَ أَحْمَدُ، وَالدَّارَقُطْنِيُّ: ((ائْتِنِي بِغَيْرِهَا)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کو جانے لگے تو مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے تین پتھر لے آؤں۔ مجھے دو پتھر تو مل گئے‘ تیسرا نہ مل سکا۔ میں (مجبوراً) گوبر کا ایک خشک ٹکڑا لے آیا۔ آپ نے دونوں پتھر تو لے لیے لیکن گوبر کو دور پھینک دیا اور فرمایا: ’’یہ تو (بذات خود) پلید ہے۔‘‘ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔) احمد اور دارقطنی نے یہ اضافہ کیا ہے: ’’اس کی بجائے اور لے آؤ۔‘‘

89

Bulugh al-Maram #89

Hasan

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - نَهَى أَنْ يُسْتَنْجَى بِعَظْمٍ، أَوْ رَوْثٍ، وَقَالَ: ((إِنَّهُمَا لَا يُطَهِّرَانِ)). رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَصَحَّحَهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہڈی اور گوبر سے استنجا کرنے سے منع فرمایا‘ اور (ساتھ ہی) فرمایا: ’’یہ دونوں پاک نہیں کر سکتے۔‘‘ (اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور صحیح قرار دیا ہے۔)

90

Bulugh al-Maram #90

Da'if

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((اسْتَنْزِهُوا مِنَ الْبَوْلِ، فَإِنَّ عَامَّةَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنْهُ)). رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ. وَلِلْحَاكِمِ: ((أَكْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ)). وَهُوَ صَحِ??حُ الْإِسْنَادِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ پیشاب (کے چھینٹوں) سے بچو کیونکہ عمومی عذاب قبر اسی کی و جہ سے ہوتا ہے۔‘‘ (اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے۔)اور حاکم کی روایت میں ہے: ’’اکثر عذاب قبر پیشاب (کے چھینٹوں) کی وجہ سے ہوتا ہے۔‘‘ (اس کی سند صحیح ہے۔)

91

Bulugh al-Maram #91

Da'if

وَعَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي الْخَلَاءِ أَنْ نَقْعُدَ عَلَى الْيُسْرَى، وَنَنْصِبَ الْيُمْنَى. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ بِسَنَدٍ ضَعِيفٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قضائے حاجت کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: ’’ہم بائیں پاؤں پر وزن دے کر بیٹھیں اور دائیں کو کھڑا رکھیں (اس پر بوجھ کم ڈالیں)۔‘‘ (اسے بیہقی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔)

92

Bulugh al-Maram #92

Da'if

وَعَنْ عِيسَى بْنِ يَزْدَادَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلْيَنْثُرْ ذَكَرَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ)). رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه بِسَنَدٍ ضَعِيفٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عیسیٰ بن یزداد اپنے والد سے روایت بیان کرتے ہیں‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنے عضو مخصوص کو تین مرتبہ سوت لے۔‘‘ (اسے ابن ماجہ نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔)

93

Bulugh al-Maram #93

Da'if

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - سَأَلَ أَهْلَ قُبَاءٍ، فَقَالُوا: إِنَّا نُتْبِعُ الْحِجَارَةَ الْمَاءَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِسَنَدٍ ضَعِيفٍ. وَأَصْلُهُ فِي أَبِي دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيّ وَصَحَّحَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - بِدُونِ ذِكْرِ الْحِجَارَةِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل قباء سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھاری (پاکیزگی کے بارے میں) بڑی تعریف فرمائی ہے (اس کی وجہ کیا ہے؟) انھوں نے عرض کیا کہ ہم ڈھیلوں کے (استعمال کے) بعد مزید طہارت کے لیے پانی بھی استعمال کرتے ہیں۔ (اسے بزار نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور اس کی اصل ابوداود اور ترمذی میں ہے۔ (اسی سلسلے میں) ابن خزیمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کو صحیح قرار دیا ہے‘ البتہ اس میں ڈھیلوں کا ذکر نہیں ہے۔)

94

Bulugh al-Maram #94

Sahih

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ)). رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَأَصْلُهُ فِي الْبُخَارِيِّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ پانی کا استعمال خروج پانی سے ہے۔‘‘ (جب تک منی کا خروج نہ ہو اس وقت تک غسل واجب نہیں ہوتا۔) (اسے مسلم نے روایت کیا ہے اور اصل روایت بخاری میں ہے۔)

95

Bulugh al-Maram #95

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ، ثُمَّ جَهَدَهَا، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. زَادَ مُسْلِمٌ: ((وَإِنْ لَمْ يُنْزِلْ)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جب تم میں سے کوئی شخص عورت کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھ جائے‘ پھر اس میں کوشش کرے تو اس پر غسل واجب ہوگیا۔‘‘ (بخاری و مسلم) اور مسلم نے یہ اضافہ نقل کیا ہے: ’’خواہ انزال نہ ہو۔‘‘

96

Bulugh al-Maram #96

Sahih

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ; أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ - وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي طَلْحَةَ - قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحِي مِنَ الْحَقِّ، فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ الْغُسْلُ إِذَا احْتَلَمَتْ? قَالَ: ((نَعَمْ. إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ)). الْحَدِيثَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ حق بیان کرنے سے حیا نہیں کرتا تو بتائیں کیا عورت کو جب احتلام ہو جائے تو اس پر بھی غسل فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں! جب وہ پانی دیکھے۔‘‘ (بخاری ومسلم)

97

Bulugh al-Maram #97

Sahih

وَعَنْ أَنَسِ [بْنِ مَالِكٍ]- رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ- قَالَ: ((تَغْتَسِلُ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. زَادَ مُسْلِمٌ: فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: وَهَلْ يَكُونُ هَذَا? قَالَ: ((نَعَمْ فَمِنْ أَيْنَ يَكُونُ الشَّبَهُ؟))

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے متعلق جو خواب میں وہی کچھ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے (یعنی احتلام)، آپ نے فرمایا: ’’ وہ غسل کرے۔ ‘‘ (بخاری و مسلم) اور مسلم نے یہ اضافہ بھی نقل کیا ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے (آپ کے جواب دینے پر) مزید دریافت کیا: کیا ایسا (عورت کے ساتھ) بھی ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں‘ (اگر ایسا نہ ہوتا) تو مشابہت کہاں سے ہوتی؟‘‘

98

Bulugh al-Maram #98

Hasan

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - يَغْتَسِلُ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنَ الْجَنَابَةِ، وَيَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَمِنَ الْحِجَامَةِ، وَمِنْ غُسْلِ الْمَيِّتِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزوں کی وجہ سے غسل کیا کرتے تھے: جنابت سے‘ جمعے کے روز‘ سینگی لگوانے کے بعد اور میت کو غسل دینے کی وجہ سے۔ (اسے ابوداود نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔)

99

Bulugh al-Maram #99

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - فِي قِصَّةِ ثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ، عِنْدَمَا أَسْلَم - وَأَمَرَهُ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - أَنْ يَغْتَسِلَ. رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ. وَأَصْلُهُ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے واقعے کے متعلق مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غسل کرنے کا حکم فرمایا۔ (اسے عبدالرزاق نے روایت کیا ہے۔ اور اس کی اصل بخاری و مسلم میں ہے۔)

100

Bulugh al-Maram #100

Sahih

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رضي الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((غُسْلُ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ)). أَخْرَجَهُ السَّبْعَةُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جمعے کے روز غسل کرنا ہر بالغ پر واجب ہے۔‘‘ (اسے ساتوں نے روایت کیا ہے۔)

101

Bulugh al-Maram #101

Hasan

وَعَنْ سَمُرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ، وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ)). رَوَاهُ الْخَمْسَةُ، وَحَسَّنَهُ التِّرْمِذِيُّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے جمعے کے روز وضو کیا اس نے اچھا اور بہتر کیا۔ اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل اور بہترین ہے۔‘‘ (اسے پانچوں نے روایت کیا ہے‘ اور ترمذی نے حسن قرار دیا ہے۔)

102

Bulugh al-Maram #102

Hasan

وَعَنْ عَلِيٍّ - رضي الله عنه - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ مَا لَمْ يَكُنْ [ص:36] جُنُبًا. رَوَاهُ الْخَمْسَةُ، وَهَذَا لَفْظُ التِّرْمِذِيِّ وَحَسَّنَةُ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت کے علاوہ ہر حالت میں ہمیں قرآن مجید پڑھا دیا کرتے تھے۔ (اسے احمد او ر چاروں نے روایت کیا ہے۔ یہ الفاظ ترمذی کے ہیں اور انھوں نے اسے حسن کہا ہے جبکہ ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔)

103

Bulugh al-Maram #103

Sahih

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ بَيْنَهُمَا وُضُوءًا)). رَوَاهُ مُسْلِمٌ. زَادَ الْحَاكِمُ: ((فَإِنَّهُ أَنْشَطُ لِلْعَوْدِ)). وَلِلْأَرْبَعَةِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَمَسَّ مَاءً. وَهُوَ مَعْلُولٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’ جب تم میں سے کوئی اپنی اہلیہ کے پاس جائے‘ (تعلق زن و شو قائم کرے) پھر دوبارہ (لطف اندوز ہونے کا) ارادہ ہو تو دونوں باریوں کے درمیان میں وضو کر لے۔‘‘ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔) اور حاکم میں یہ اضافہ بھی ہے: ’’یہ (وضو) دوبارہ مباشرت کے لیے زیادہ باعث نشاط ہے۔‘‘اور سنن اربعہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جاتے تھے۔ (یہ روایت معلول ہے۔)

104

Bulugh al-Maram #104

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ، فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يَأْخُذُ الْمَاءَ، فَيُدْخِلُ أَصَابِعَهُ فِي أُصُولِ الشَّعْرِ، ثُمَّ حَفَنَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ. وَلَهُمَا فِي حَدِيثِ مَيْمُونَةَ: ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى فَرْجِهِ، فَغَسَلَهُ بِشِمَالِهِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِهَا الْأَرْضَ. وَفِي رِوَايَةٍ: فَمَسَحَهَا بِالتُّرَابِ. وَفِي آخِرِهِ: ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِالْمِنْدِيلِ، فَرَدَّهُ، وَفِيهِ: وَجَعَلَ يَنْفُضُ الْمَاءَ بِيَدِهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو اس طرح آغاز کرتے کہ پہلے ہاتھ دھوتے‘ پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنی شرم گاہ دھوتے۔ پھر وضو کرتے‘ پھر پانی لے کر اپنی انگلیوں کے ذریعے سے سر کے بالوں کی جڑوں میں (پانی) داخل کرتے۔ پھر تین چلو پانی کے بھر کر یکے بعد دیگرے سر پر ڈالتے۔ پھر باقی سارے جسم پر پانی بہاتے اور (آخر میں) دونوں پاؤں دھوتے۔ (بخاری ومسلم۔ اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔)اور بخاری ومسلم میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں اس طرح ہے: پھر اپنے عضو مخصوص پر پانی ڈالتے اور اپنے بائیں ہاتھ سے اسے دھوتے اور ہاتھوں کو زمین پر مار کر مٹی سے ملتے (اور صاف کرتے۔) اور ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے: پھر دونوں ہاتھ مٹی سے مل کر اچھی طرح صاف کرتے۔ اس روایت کے آخر میں ہے: پھر میں نے آپ کی خدمت میں رومال (تولیہ) پیش کیا مگر آپ نے اسے واپس لوٹا دیا۔ اوراس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے (بدن پر جو پانی رہ گیا تھا اسے) اپنے ہاتھ سے جھاڑنا شروع کر دیا۔

105

Bulugh al-Maram #105

Sahih

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي اِمْرَأَةٌ أَشُدُّ شَعْرَ رَأْسِي، أَفَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ؟ وَفِي رِوَايَةٍ: وَالْحَيْضَةِ؟ فَقَالَ: ((لَا، إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ)). رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے سر کے بال (مینڈھیوں کی شکل میں) مضبوطی سے باندھ لیتی ہوں۔ کیا غسل جنابت کے موقع پر ان کو کھولوں؟ اور ایک روایت میں حیض سے فارغ ہو کر غسل کے وقت کے الفاظ ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’نہیں! (کھولنے کی ضرورت نہیں) بس تیرے لیے یہی کافی ہے کہ تو اپنے سر پر تین لپ پانی بہا دیا کرے۔‘‘ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔)

106

Bulugh al-Maram #106

Hasan

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِنِّي لَا أُحِلُّ الْمَسْجِدَ لِحَائِضٍ وَلَا جُنُبٍ)). رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں حیض والی عورت اور جنبی کے لیے مسجد (میں داخلہ) حلال نہیں کرتا۔‘‘ (اسے ابوداود نے روایت کیاہے اور ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیاہے۔)

107

Bulugh al-Maram #107

Sahih

وَعَنْهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، تَخْتَلِفُ أَيْدِينَا فِيهِ مِنَ الْجَنَابَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. زَادَ ابْنُ حِبَّانَ: وَتَلْتَقِي أَيْدِينَا.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے غسل جنابت کر لیا کرتے تھے۔ اس برتن میں ہمارے ہاتھ یکے بعد دیگرے داخل ہوتے تھے۔ (بخاری و مسلم) اور ابن حبان نے یہ اضافہ مزید نقل کیا ہے: ’’بسا اوقات دونوں کے ہاتھ ایک دوسرے سے چھو جاتے تھے۔‘‘

108

Bulugh al-Maram #108

Da'if

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِنَّ تَحْتَ كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةً، فَاغْسِلُوا الشَّعْرَ، وَأَنْقُوا الْبَشَرَ)). رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ وَضَعَّفَاهُ. وَلِأَحْمَدَ عَنْ عَائِشَةَ نَحْوُهُ، وَفِيهِ رَاوٍ مَجْهُولٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :’’ ہر بال کے نیچے جنابت کا اثر ہوتا ہے‘ اس لیے بالوں کو (اچھی طرح) دھویا کرو اور جسم کو اچھی طرح (مل کر) صاف کیا کرو۔‘‘(اسے ابوداود اور ترمذی نے روایت کیا ہے‘ اور اسے ان دونوں نے ضعیف بھی قرار دیا ہے۔ مسند احمد میں بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت ہے اور اس میں ایک راوی مجہول الحال ہے۔)

109

Bulugh al-Maram #109

Sahih

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا; أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، فَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَلْيُصَلِّ)). وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَفِي حَدِيثِ حُذَيْفَةَ عِنْدَ مُسْلِمٍ: ((وَجُعِلَتْ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُورًا، إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ)). وَعَنْ عَلِيٍّ - رضي الله عنه - عِنْدَ أَحْمَدَ: ((وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَهُورًا)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو بھی نہیں دی گئیں: مجھے ایک مہینے کی مسافت سے (دشمن پر) رعب و دبدبے سے مدد دی گئی ہے۔ اور ساری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور طہارت و پاکیزگی کا ذریعہ بنائی گئی ہے۔ اب جس آدمی کو (جہاں بھی) نماز کا وقت آجائے اسے نماز پڑھ لینی چاہیے۔‘‘ اور راوی نے آگے پوری حدیث ذکر کی۔مسلم میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’جب ہمیں پانی دستیاب نہ ہو تو زمین کی مٹی ہمارے لیے پاک کرنے والی بنا دی گئی ہے۔‘‘ مسند احمد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے: ’’مٹی میرے لیے حصول طہارت کا ذریعہ بنائی گئی ہے۔‘‘

110

Bulugh al-Maram #110

Sahih

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - فِي حَاجَةٍ، فَأَجْنَبْتُ، فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: ((إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ بِيَدَيْكَ هَكَذَا))، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ الْأَرْضَ ضَرْبَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ مَسَحَ الشِّمَالَ عَلَى الْيَمِينِ، وَظَاهِرَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: وَضَرَبَ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ، وَنَفَخَ فِيهِمَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی حاجت کے لیے بھیجا۔ میں جنبی ہوگیا اور مجھے پانی دستیاب نہ ہو سکا تو میں مٹی میں اس طرح لوٹ پوٹ ہوا جس طرح چوپایہ لوٹ پوٹ ہوتا ہے۔ پھر (ضرورت سے فارغ ہو کر) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ آپ کے گوش گزار کیا۔ آپ نے فرمایا: ’’تجھے اپنے ہاتھ سے اس طرح کر لینا ہی کافی تھا۔‘‘ پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک مرتبہ زمین پر مارا‘ پھر بائیں کو دائیں پر‘ یعنی اپنے ہاتھوں کی پشت اور چہرے پر ملا۔ (بخاری و مسلم۔ یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔) اور بخاری کی روایت میں ہے کہ آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر ماریں اور ان دونوں میں پھونک ماری، پھر ان کو اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مل لیا۔

111

Bulugh al-Maram #111

Da'if

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((التَّيَمُّمُ ضَرْبَتَانِ: ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ، وَضَرْبَةٌ لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ)). رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ، وَصَحَّحَ الْأَئِمَّةُ وَقْفَهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’تیمم دو ضربوں سے ہوتا ہے‘ ایک ضرب چہرے کے لیے اور ایک ضرب دونوں ہاتھوں کے لیے۔‘‘ (اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور دوسرے ائمہ نے اس کے موقوف ہونے کو صحیح کہا ہے۔)

112

Bulugh al-Maram #112

Hasan

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((الصَّعِيدُ وُضُوءُ الْمُسْلِمِ، وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ، فَإِذَا وَجَدَ الْمَاءَ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ، وَلْيُمِسَّهُ بَشَرَتَهُ)). رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ الْقَطَّانِ، [وَ] لَكِنْ صَوَّبَ الدَّارَقُطْنِيُّ إِرْسَالَهُ. وَلِلتِّرْمِذِيِّ: عَنْ أَبِي ذَرٍّ نَحْوُهُ، وَصَحَّحَهُ. وَالحَاكِمُ أَيضًا.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ مٹی مومن مسلمان کا وضو ہے‘ خواہ دس برس تک اسے پانی نہ ملے۔ مگر جب پانی دستیاب ہو جائے تو پھر اسے اللہ سے ڈرنا چاہیے اور اپنے جسم پر پانی پہنچانا چاہیے۔‘‘ (اسے بزار نے روایت کیا ہے اور ابن قطان نے صحیح قرار دیا ہے‘ لیکن دارقطنی نے اس کے مرسل ہونے کو درست کہا ہے۔ اور ترمذی میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ (ترمذی) اور حاکم نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔)

113

Bulugh al-Maram #113

Hasan

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: خَرَجَ رَجُلَانِ فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ - وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ - فَتَيَمَّمَا صَعِيدًا طَيِّبًا، فَصَلَّيَا، ثُمَّ وَجَدَا الْمَاءَ فِي الْوَقْتِ. فَأَعَادَ أَحَدُهُمَا الصَّلَاةَ وَالْوُضُوءَ، وَلَمْ يُعِدِ الْآخَرُ، ثُمَّ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَذَكَرَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ: ((أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلَاتُكَ)) وَقَالَ لِلْآخَرِ: ((لَكَ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ)). رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، [و] النَّسَائِيُّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ دو آدمی سفر پر نکلے‘ نماز کا وقت آگیا مگر ان کے پاس پانی نہیں تھا۔ دونوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھ لی۔ پھر دونوں کو نماز کی ادائیگی کے وقت ہی میں پانی بھی دستیاب ہوگیا تو ان میں سے ایک صاحب نے وضو کیا اور نماز دوبارہ ادا کر لی مگر دوسرے نے وضو کیا نہ نماز دہرائی۔ سفر سے واپسی پر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا واقعہ سنایا۔ آپ نے اس شخص کو جس نے نماز دوبارہ نہیں پڑھی تھی‘ فرمایا: ’’تو نے سنت کے مطابق کیا اور تجھے تیری نماز کافی ہوگئی۔‘‘ اور دوسرے سے فرمایا: ’’تجھے دگنا اجر ملے گا۔‘‘ (اسے ابوداود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔)

114

Bulugh al-Maram #114

Da'if

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ - عز وجل: {وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ} قَالَ: ((إِذَا كَانَتْ بِالرَّجُلِ الْجِرَاحَةُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْقُرُوحُ، فَيُجْنِبُ، فَيَخَافُ أَنْ يَمُوتَ إِنْ اِغْتَسَلَ: تَيَمَّمَ)). رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ مَوْقُوفًا، وَرَفَعَهُ الْبَزَّارُ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ، وَالْحَاكِمُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿وَاِنْ کُنْتُمْ مَّرْضٰی أَوْ عَلٰی سَفَرٍ﴾ کے متعلق مروی ہے کہ جب کسی شخص کو اللہ کی راہ میں زخم اور پھوڑوں کا سامنا کرنا پڑے اور اسی حالت میں اسے جنابت لاحق ہو جائے اور غسل کرنے کی صورت میں مر جانے کا اندیشہ ہو تو وہ تیمم کرلے۔ (اس روایت کو دارقطنی نے موقوف اور بزار نے مرفوع بیان کیا ہے اور ابن خزیمہ اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔)

115

Bulugh al-Maram #115

Da'if

وَعَنْ عَلِيٍّ - رضي الله عنه - قَالَ: انْكَسَرَتْ إِحْدَى زَنْدَيَّ فَسَأَلَتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَأَمَرَنِي أَنْ أَمْسَحَ عَلَى الْجَبَائِرِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه بِسَنَدٍ وَاهٍ جِدًّا.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرا ایک کلائی کا جوڑ‘ یعنی گٹّا ٹوٹ گیا‘ چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (وضو کے بارے میں) پوچھا تو آپ نے مجھے پٹیوں پر مسح کرنے کا حکم دیا۔ (اسے ابن ما جہ نے نہایت ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔)

116

Bulugh al-Maram #116

Da'if

وَعَنْ جَابِرٍ [بْنُ عَبْدِ اللَّهِ] رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي الرَّجُلِ الَّذِي شُجَّ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ: ((إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ، وَيَعْصِبَ عَلَى جُرْحِهِ خِرْقَةً، ثُمَّ يَمْسَحَ عَلَيْهَا وَيَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِهِ)). رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِسَنَدٍ فِيهِ ضَعْفٌ، وَفِيهِ اِخْتِلَافٌ عَلَى رُوَاتِهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں مروی ہے جس کے سر پر زخم آیا تھا اور اسی حالت میں اس نے غسل کر لیا اور وفات پا گیاتھا‘ کہ اسے تو اتنا ہی کافی تھا کہ تیمم کر لیتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھ کر مسح کرتا اور باقی بدن کو دھو لیتا۔ (اس روایت کو ابوداود نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور اس کے ایک راوی پر اختلاف ہے۔)

117

Bulugh al-Maram #117

Da'if

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مِنْ السُّنَّةِ أَنْ لَا يُصَلِّيَ الرَّجُلُ بِالتَّيَمُّمِ إِلَّا صَلَاةً وَاحِدَةً، ثُمَّ يَتَيَمَّمُ لِلصَّلَاةِ الْأُخْرَى. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ جِدًّا.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سنت یہی ہے کہ تیمم کرنے والا شخص تیمم سے ایک ہی نماز پڑھے اور دوسری نماز کے لیے ازسر نو تیمم کرے۔ (اسے دارقطنی نے نہایت ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔)

118

Bulugh al-Maram #118

Da'if

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِنَّ دَمَ الْحَيْضِ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِي مِنَ الصَّلَاةِ، فَإِذَا كَانَ الْآخَرُ فَتَوَضَّئِي، وَصَلِّي)). رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَالْحَاكِمُ، وَاسْتَنْكَرَهُ أَبُو حَاتِمٍ. وَفِي حَدِيثِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ: لِتَجْلِسْ فِي مِرْكَنٍ، فَإِذَا رَأَتْ صُفْرَةً فَوْقَ الْمَاءِ، فَلْتَغْتَسِلْ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَغْتَسِلْ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَغْتَسِلْ لِلْفَجْرِ غُسْلًا، وَتَتَوَضَّأْ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا استحاضے کی (دائمی) مریضہ تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا: ’’حیض کے خون کی رنگت سیاہ ہوتی ہے‘ اسے آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے۔ جن ایام میں یہ خون آرہا ہو تو ان ایام میں نماز چھوڑ دو اور جب دوسرے ایام ہوں تو وضو کر کے نماز پڑھ لیا کرو۔‘‘ (اسے ابوداود اور نسائی نے روایت کیا ہے‘ ابن حبان اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے منکر کہا ہے۔)ابوداود میں حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں ہے: ’’ایک ٹب میں بیٹھ جائے اور جب وہ پانی کے اوپر زردی دیکھے تو ظہر اور عصر دونوں نمازوں کے لیے ایک غسل کر لے اور اسی طرح مغرب اور عشاء کی نمازوں کے لیے ایک غسل کر لے اور نماز فجر کے لیے بھی ایک غسل کر لے اور ان کے درمیان میں وضو کر لے۔‘‘

119

Bulugh al-Maram #119

Da'if

وَعَنْ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَتْ: كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَبِيرَةً شَدِيدَةً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - أَسْتَفْتِيهِ، فَقَالَ: ((إِنَّمَا هِيَ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَيَّامٍ، أَوْ سَبْعَةً، ثُمَّ اغْتَسِلِي، فَإِذَا اسْتَنْقَأْتِ فَصَلِّي أَرْبَعَةً وَعِشْرِينَ، أَوْ ثَلَاثَةً وَعِشْرِينَ، وَصُومِي وَصَلِّي، فَإِنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُكَ، وَكَذَلِكَ فَافْعَلِي كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ، فَإِنْ قَوِيتِ عَلَى أَنْ تُؤَخِّرِي الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِي الْعَصْرَ، ثُمَّ تَغْتَسِلِي حِينَ تَطْهُرِينَ وَتُصَلِّينَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرِ جَمِيعًا، ثُمَّ تُؤَخِّرِينَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِينَ الْعِشَاءِ، ثُمَّ تَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ، فَافْعَلِي. وَتَغْتَسِلِينَ مَعَ الصُّبْحِ وَتُصَلِّينَ)). قَالَ: ((وَهُوَ أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ)). رَوَاهُ الْخَمْسَةُ إِلَّا النَّسَائِيَّ، وَصَحَّحَهُ التِّرْمِذِيُّ، وَحَسَّنَهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سخت قسم کے استحاضے میں مبتلا رہتی تھی جو کثرت سے آتا رہتا تھا۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں استفسار کے لیے حاضر ہوئی تو آپ نے فرمایا: ’’ یہ تو شیطان کی چوک (لات مارنا) ہے‘ لہٰذا تو چھ یا سات ایام کو ایام حیض شمار کر کے پھر نہا لے۔ جب تو اچھی طرح پاک صاف ہو جائے تو پھر چوبیس یا تئیس دن روزے رکھ اور نماز پڑھ۔ یقینا یہ تیرے لیے کافی ہے۔ اور ہر ماہ اسی طرح کر لیا کر جیسا کہ حیض والی خواتین کرتی ہیں۔ پھر اگر تم میں ظہر کو ذرا مؤخر کرنے اور عصر کو ذرا مقدم کرنے کی ہمت و طاقت ہے تو پھر غسل کر لے جب کہ پاک صاف ہو جائے اور ظہر و عصر دونوں کو اکٹھا کرکے پڑھ لے۔ پھر مغرب کو مؤخر اور عشاء کو ذرا مقدم کر کے غسل کر لے اور دونوں نمازوں کو جمع کر لے‘ یعنی اگر تو یہ طاقت رکھتی ہے تو ایسا کرلے۔ اور صبح کی نماز کے لیے الگ غسل کر لے اور نماز پڑھ لے۔‘‘ پھر فرمایا: ’’دونوں باتوں میں سے مجھے یہ زیادہ پسند اور محبوب ہے۔‘‘ (اسے نسائی کے علاوہ باقی پانچوں نے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے صحیح قرار دیا ہے اور بخاری نے حسن کہا ہے۔)

120

Bulugh al-Maram #120

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ شَكَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - الدَّمَ، فَقَالَ: ((اُمْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي))، فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ كُلَّ صَلَاةٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: ((وَتَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ)). وَهِيَ لِأَبِي دَاوُدَ وَغَيْرِهِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استحاضے کے خون کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: ’’تمھارے ماہواری کے ایام جس قدر پہلے (سے متعین تھے اور نماز روزے سے) روکتے تھے‘ اب بھی اتنے دن ٹھہری رہ۔ پھراس کے بعد غسل کر لے۔‘‘ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اس کے بعد ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔) اور بخاری کی روایت میں ہے: ’’پھر ہر نماز کے لیے (ازسر نو) وضو کر لیا کر۔‘‘ ابوداود اور دیگر محدثین نے اس حدیث کو دوسرے طریق (سند) سے روایت کیاہے۔