Muslim99Muslim99

Al-Sunan al-Kubra Nasai · Book 52 · Chapter 3

The Book of Stoning (Rajm)

Hadith 8496–8535

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

8496

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8496

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أنبأ زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَمَلٍ ، فَأَعْيَا ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَيِّبَهُ ، قَالَ : فَلَحِقَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَا لَهُ وَضَرَبَهُ ، قَالَ : فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ ، قَالَ : أَتَبِيعُنِيهِ بِأُوقِيَّةٍ ؟ وَالأُوقِيَّةُ : أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا ، قَالَ : قُلْتُ : لا ، قَالَ : تَبِيعُنِيهِ ؟ فَبِعْتُهُ بِأُوقِيَّةٍ وَاسْتَثْنَيْتُ حِمْلانَهُ إِلَى أَهْلِي ، فَلَمَّا بَلَغَنَا ، أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ ، فنقَدَني ثَمَنَهُ ، ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : " أَتَرَى أنَّما مَا كَسْتُكَ لآخُذَ جَمَلِكَ ؟ خُذْ جَمَلَكَ وَدَرَاهِمَكَ فَهُمَا لَكَ """

EnglishUnverified translation

Ahmad bin Sulaiman told us, he said: Yazid told us, he said: Zakaria informed us, on the authority of Amir, on the authority of Jabir, that he was walking with the Prophet, may God bless him and grant him peace. He was upon him and greeted a camel, but it became tired and wanted to let it go. He said: “Then the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, overtook me, so he called for it and struck it. He said So he walked a walk like no other. He said: Will you sell it to me for an uqiyah? And the uqiyah is forty dirhams. He said: I said: No. He said: Will you sell it to me? With an uqiyah, and I excluded his lambs for my family. When we reached the level, I brought him the camel, and he gave me its price. Then I came back, and he sent for me and said: “You see? I did not cover you to take your camel? “Take your camels and your dirhams, and they are yours.” (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے احمد بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے یزید نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم کو زکریا نے عامر سے اور جابر رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تھے اور ایک اونٹ کو سلام کیا، لیکن وہ تھک گیا اور اسے چھوڑنا چاہا۔ اس نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ لیا، آپ آپ نے اسے بلایا اور مارا، آپ نے فرمایا آپ اس طرح چل دیا جیسے کوئی اور نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اسے ایک اوقیہ کے عوض مجھے بیچو گے؟ اور اوقیہ چالیس درہم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اسے اپنے عقد کے ساتھ بیچو گے؟ جب ہم منزل پر پہنچے تو میں اس کے پاس اونٹ لے کر آیا، اس نے مجھے اس کی قیمت بتائی، پھر اس نے مجھے بلایا اور کہا: تم نے دیکھا؟ میں نے آپ کو آپ کا اونٹ لینے کے لیے نہیں ڈھانپا؟ ’’اپنے اونٹ اور درہم لے لو وہ تمہارے ہیں۔‘‘

8497

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8497

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جُعَيل الأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صِلَّى اللَهُ عِلَيْهِ وَسَلَّم فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ ، وَأَنَا عَلَى فَرَسٍ لِي عَجْفَاءَ ضَعِيفَةً ، فَلَحِقَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : سِرْ يَا صَاحِبَ الْفَرَسِ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَجْفَاءُ ضَعِيفَةٌ ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِخْفَقَةً كَانَتْ مَعَهُ ، فَضَرَبَهَا بِهَا ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِيهَا " ، قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي مَا أَمْلِكُ رَأْسَهَا أَنْ تَقَدُمَ النَّاسَ ، قَالَ : فَلَقَدْ بِعْتُ مِنْ بَطْنِهَا بِاثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا ."

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Rafi’ told us, he said: Muhammad bin Abdullah Al-Raqqashi told us, he said: Rafi’ bin Salamah bin Ziyad told me, he said: told me Abdullah bin Abi Al-Jaad, on the authority of Ja’il Al-Ashja’i, said: I fought with the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, in some of his campaigns, and I was on A mare of mine was lean and weak. Then the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, caught up with me and said: “Go, owner of the horse.” I said: O Messenger of God, it is lean. She was weak, so the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, picked up a whisk that he had with him and hit her with it, and said: “O God, bless him with it.” He said: I saw that I could not control her head in front of people. He said: I sold her belly for twelve thousand. (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، فرمایا: ہم سے محمد بن عبداللہ الرقاشی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے رافع بن سلمہ بن زیاد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے عبداللہ بن ابی الجعد نے بیان کیا، جعیل اشجعی سے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض مہمات میں میں نے آپ کی مدد کی تھی۔ دبلا اور کمزور تھا. پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ لیا اور فرمایا: گھوڑے کے مالک جاؤ۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ، یہ دبلی پتلی ہے۔ وہ ضعیف تھی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس موجود ایک چٹکی اٹھائی اور اسے مارا اور فرمایا: اے اللہ اس پر برکت نازل فرما۔ اس نے کہا: میں نے دیکھا کہ میں لوگوں کے سامنے اس کے سر پر قابو نہیں رکھ سکتا تھا۔ اس نے کہا: میں نے اس کا پیٹ بارہ ہزار میں بیچا۔

8498

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8498

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَوْدِيِّ ، عَنْ وَبَرَةَ أَبِي كُرْزٍ الْحَارِثِيِّ ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ ، إِذْأَبْصَرَ غُلامًا مِنْ قُرَيْشٍ شَابًّا مُتَنَحِّيًا عَنِ الطَّرِيقِ يَسِيرُ ، فَقَالَ : أَلَيْسَ فُلانًا ؟ " قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " فَادْعُوهُ " ، قَالُوا : فَدَعَوْهُ ، فَقَالَ : " لِمَ تَنَحَّيْتَ عَنِ الطَّرِيقِ ؟ " قَالَ : كَرِهْتُ الْغُبَارَ ، قَالَ : " لا تَنَحَّ عَنْهُ ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، أَنَّهُ لذَرِيرَةِ الْجَنَّةِ "، أنبأ أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَوْدِيُّ ، أَنَّ وَبَرَةَ أَبَا كُرْزٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ زِيَادٍ ، يَقُولُ : " بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ ، إِذْ مَرَّ بِغُلامٍ مِنْ قُرَيْشٍ " نَحْوَهُ"

EnglishUnverified translation

Ahmad bin Saeed told us, he said: Ishaq told us, meaning Ibn Mansour, he said: Zuhair told us, on the authority of Dawud bin Abdullah Al-Awdi, On the authority of Wabara Abu Karz al-Harithi, on the authority of Rabi’ ibn Ziyad, he said: While the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, was walking, he saw a boy from A young man of Quraysh was walking away from the road, and he said: “Isn’t he so-and-so?” They said: Yes, he said: “Call him.” They said: They called him, and he said: “Why did you step out of the road?” He said: I hate dust. He said: “Do not turn away from it, for by the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, it is an offspring of Paradise.” Abu Dawud reported. He said: He told us. Al-Hasan bin Muhammad bin Ayan, he said: Zuhayr told us, he said: Dawud bin Abdullah Al-Awdi told us, that Wabra Abu Karaz told him, He heard Rabia bin Ziyad say: “While the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, was walking, he passed by a boy from Quraysh,” and something similar. (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے احمد بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے زہیر نے داؤد بن عبداللہ العودی سے، وہ وبرہ ابو کرز حارثی سے، انہوں نے ربیع بن زیاد سے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان کو چلتے پھرتے ہوئے جا رہے تھے۔ قریش راستے سے ہٹ رہے تھے، آپ نے فرمایا: کیا وہ فلاں نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، اس نے کہا: اسے بلاؤ۔ انہوں نے کہا: انہوں نے اسے بلایا، تو اس نے کہا: تم راستے سے کیوں ہٹ گئے؟ اس نے کہا: مجھے خاک سے نفرت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے منہ نہ پھیرنا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، یہ جنت کی اولاد ہے۔ ابوداؤد نے رپورٹ کیا۔ اس نے کہا: اس نے ہمیں بتایا۔ حسن بن محمد بن عیان نے کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے داؤد بن عبداللہ العودی نے بیان کیا، ان سے وبرہ ابو کاراز نے بیان کیا، انہوں نے ربیعہ بن زیاد رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب چل رہے تھے آپ قریش کے ایک لڑکے کے پاس سے گزرے۔

8499

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8499

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أنبأ وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ ،فَاسْتَعَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لأَبِي طَلْحَةَ ، يُقَالُ لَهُ مَنْدُوبٌ ، فَرَكِبَهُ ، فَرَجَعَ ، فَقَالَ : مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا """

EnglishUnverified translation

Ishaq bin Ibrahim told us, he said: Waki` told us, he said: Shu`bah told us, on the authority of Qatada, on the authority of Anas, he said: There was panic in Medina, So the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, borrowed a horse of Abu Talha’s, called Mandub, and he rode it. He returned and said: “We did not see any terror. And if We find it to be a sea.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، وہ قتادہ کی سند سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: مدینہ میں خوف و ہراس پھیل گیا، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک گھوڑا قرض لیا جس کا نام مندوب کہا جاتا تھا۔ وہ واپس آیا اور کہا: \ہم نے کوئی دہشت نہیں دیکھی، اور اگر ہم اسے سمندر سمجھیں۔\""""

8500

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8500

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، قَالَ : مَا كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَطَيَّرُ مِنْ شَيْءٍ ، وَلَكِنْ كَانَ إِذَا سَأَلَ عَنِ اسْمِ الرَّجُلِ ، فَكَانَ حَسَنًا ، رُئِيَ الْبِشَارَةُ فِي وَجْهِهِ ، وَإِنْ كَانَ سَيِّئًا ، رُئِيَ ذَلِكَ فِيهِ ، وَإِذَا سَأَلَ عَنِ اسْمِ الأَرْضِ ، فَكَانَ حَسَنًا ، رُئِيَ الْبِشَارَةُ فِي وَجْهِهِ ، وَإِنْ كَانَ سَيِّئًا ، رُئِيَ ذَلِكَ فِيهِ """

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Al-Muthanna told us, on the authority of Muadh bin Hisham, he said: My father told me, on the authority of Qatada, on the authority of Abdullah bin Buraidah, on the authority of his father He was one of the emigrants, and he said: “The Prophet of God, may God bless him and grant him peace, would not fly away from anything, but when he was asked about the man’s name, he would Good, the good news was seen on his face, and if it was bad, that was seen in him, and if he was asked about the name of the land, it was good, it was seen. The good news is on his face, and even if he is bad, that is seen in him.” (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، انہوں نے معاذ بن ہشام سے، انہوں نے فرمایا: مجھ سے میرے والد نے قتادہ کی سند سے، وہ عبداللہ بن بریدہ کے واسطہ سے، اپنے والد سے کہ وہ ہجرت کرنے والوں میں سے تھے، اور انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اچھے نام کے بارے میں پوچھتے آپ اچھا نام نہ چھوڑتے۔ اس کے چہرے پر خبر نظر آتی تھی، اور اگر برا تھا تو اس میں نظر آتا تھا، اور اگر اس سے زمین کے نام کے بارے میں پوچھا جاتا تھا، تو وہ اچھی تھی، اس کے چہرے پر بشارت نظر آتی تھی، اور اگر وہ بُری تھی تو بھی اس میں نظر آتی تھی۔\" 8501"""

8501

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8501

أنبأ عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُوَيْدٍ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ ، عَنْ زُهَيْرٍ وَهُوَ ابْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، ثِقَةٌ مَأْمُونٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَأَشْرَفَ بِالنَّاسِ عَلَى وَادٍ ، فَجَهَرُوا بِالتَّكْبِيرِ وَالتَّهْلِيلِ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَرَفَعَ عَاصِمٌ صَوْتَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ،ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ ، إِنَّ الَّذِي تَدَعُونَ لَيْسَ بِأَصَمَّ ، إِنَّهُ سَمِيعٌ قَرِيبٌ ، إِنَّهُ مَعَكُمْ " ، أَعَادَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ أَبُو مُوسَى : فَسَمِعَنِي أَقُولُ وَأَنَا خَلْفَهُ : لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ ، فَقَالَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ، أَلا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " قُلْتُ : بَلَى ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ، قَالَ : " لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ """

EnglishUnverified translation

Abdah bin Abdullah reported, on the authority of Suwayd, who is Ibn Amr Al-Kalbi, on the authority of Zuhair, who is Ibn Muawiyah, who said: Asim Al-Ahwal told us, Trustworthy and trustworthy, on the authority of Abu Uthman, who said: Abu Musa told me, saying: We were with the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, on a journey, so he treated the people On a valley, so they shouted “Allahu Akbar” (God is great), there is no god but God, and Asim raised his voice, and the Prophet, may God bless him and grant him peace, said: “Oh! O people, be careful with yourselves. Indeed, the one whom you call upon is not deaf. Indeed, he hears and is near. He is with you. He repeated it three times. Abu said. Musa: Then he heard me say while I was behind him: There is no power nor strength except in Allah. So he said: “O Abdullah bin Qais, shall I not direct you to a word from among the treasures?” Paradise? I said: Yes, may my father and mother be sacrificed for you. He said: There is no power nor strength except in God. (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبیدہ بن عبداللہ نے بیان کیا، سوید کی روایات سے، جو ابن عمرو کلبی ہیں، زہیر کی روایات سے، جو ابن معاویہ ہیں، اس نے کہا: عاصم احول نے ہمیں بتایا، جو بھروسے کے قابل اور امین تھے، ابو عثمان کی روایات سے، اس نے کہا: ابو موسی نے مجھے بتایا، کہہا: "ہم اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے، تو لوگوں کو ایک وادی پر چڑھا دیا، تو انہوں نے بلند آواز سے تکبیر اور تہلیل کی: اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، اور عاصم نے اپنی آواز بلند کی، تو نبی ﷺ نے فرمایا: 'اے لوگ! اپنے آپ پر رحم کرو، بے شک جسے تم پکار رہے ہو وہ بہرا نہیں، بے شک وہ سننے والا اور قریب ہے، بے شک وہ تمہارے ساتھ ہے۔' اس نے اسے تین بار دوہرایا۔ ابو موسی نے کہا: پھر اس نے مجھے سنا کہ میں اس کے پیچھے کہہ رہا تھا: لا حول ولا قوت الا باللہ، تو فرمایا: 'اے عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں سے ایک لفظ بتا دوں؟' میں نے کہا: 'ہاں، میری ماں اور باپ آپ پر نثار۔' فرمایا: 'لا حول ولا قوت الا باللہ۔'" (صلی اللہ علیہ وسلم)

8502

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8502

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَبِشْرُ بْنُ هِلالٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالا : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : أَخَذَ النَّاسُ فِي عُقْبَةٍ أَوْ ثَنِيَّةٍ ، فَكُلَّمَا عَلا عَلَيْهَا رَجُلٌ ، نَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّكُمْ لا تَدْعُونَ أَصَمَّ ، وَلا غَائِبًا " ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا مُوسَى ، أَلا أَدُلُّكَ عَلَى كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " ، قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : " تَقُولُ : لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ """

EnglishUnverified translation

Amr bin Ali and Bishr bin Hilal told us, and the wording is his. They said: Yahya told us, on the authority of Suleiman, on the authority of Abu Uthman, on the authority of Abu Musa. Al-Ash'ari said: The people gathered around an obstacle or a bend, and whenever a man ascended it, he called at the top of his voice: There is no god but God, and God Greater, so the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said: “You will not call a deaf person or an absent person.” Then he said: “O Abu Musa, shall I not guide you to treasures?” Paradise? “I said: Yes. He said: “You say: There is no power nor strength except in God.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے عمرو بن علی اور بشر بن ہلال نے بیان کیا اور قول ان کا ہے۔ انہوں نے کہا: ہم سے یحییٰ نے سلیمان سے، ابو عثمان کی سند سے، ابو موسیٰ سے۔ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لوگ کسی رکاوٹ یا موڑ کے گرد جمع ہو جاتے تھے، اور جب کوئی آدمی اس پر چڑھتا تھا، تو اس نے بلند آواز سے پکارا: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکارو گے۔ پھر فرمایا: اے ابو موسیٰ کیا میں تجھے خزانے کی رہنمائی نہ کروں؟ جنت؟ میں نے کہا: ہاں، اس نے کہا: تم کہتے ہو: خدا کے سوا کوئی طاقت اور طاقت نہیں ہے۔

8503

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8503

أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صُدْرَانَ الْبَصْرِيُّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عن الحسن ، قَالَ : قَالَ جَابِرٌ : كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ،فَصَعِدْنَا كَبَّرْنَا ، وَإِذَا انْحَدَرْنَا سَبَّحْنَا """

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Ibrahim bin Sadran Al-Basri reported, on the authority of Khalid bin Al-Harith, on the authority of Ash’ath, on the authority of Al-Hasan, who said: Jabir said: “When we were with The Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, was on a journey, so we ascended and said “Allahu Akbar,” and when we descended we said “Allahu Akbar.” (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن ابراہیم بن صدران البصری نے خالد بن حارث سے، اشعث کی سند سے، حسن کی سند سے، انہوں نے کہا: جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے، آپ ہم نے اوپر چڑھے اور کہا: جب ہم نے اکبر کہا اور کہا: اکبر۔\" 8504"""

8504

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8504

أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ يُعْرَفُ بِالْفَرَّاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ يَسْمَعُ قِرَاءَةَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَهُوَ يَؤُمُّ النَّاسِ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ دَارِ أَبِي جَهْمٍ ، وَقَالَ كَعْبُ الأَحْبَارِ : وَالَّذِي فَلَقَ الْبَحْرَ لِمُوسَى ، لأَنَّ صُهَيْبًا حَدَّثَنِي ، أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَرَى قَرْيَةً يُرِيدُ دُخُولَهَا ، إِلا قَالَ حِينَ يَرَاهَا : اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ ، وَرَبَّ الأَرْضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ ، فَإِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرِ أَهْلِهَا ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا "، وَحَلَفَ كَعْبٌ بِالَّذِي فَلَقَ الْبَحْرَ لِمُوسَى ، لأَنَّهَا كَانَتْ دَعَوَاتِ دَاوُدَ حِينَ يَرَى الْعَدُوَّ"

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Nasr al-Naysaburi, known as al-Farra, informed us, he said: Ayoub ibn Sulayman told us, he said: Abu Bakr told us, on the authority of Sulayman, on the authority of Abu Suhail bin Malik, on the authority of his father, that he used to listen to the reading of Omar bin Al-Khattab, while he was leading the people in the mosque of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace. He greeted him from the house of Abu Jahm, and Ka’b al-Ahbar said: By the one who parted the sea for Moses, because Suhayb told me that Muhammad is the Messenger of God, may God bless him and grant him peace. When he saw a village he wanted to enter, he said: “O God, Lord of the seven heavens and what they overshadow, and Lord of the seven earths and what We have diminished, by the Lord of the devils and what they have led astray, by the Lord of the winds and what they have caused. Indeed, we ask you for the good of this town and the good of its people, and we seek refuge in protect you from the evil of it, the evil of its people, and the evil of what is in it.” Ka’b swore by the one who divided the sea to Moses, for these were the supplications of David when he saw the enemy. (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن نصر نیشابوری جو فرّاء کے نام سے مشہور ہیں، نے بتایا: ایوب بن سلیمان نے ہمیں بتایا، ابو بکر نے ہمیں بتایا، سلیمان نے، ابو سہیل بن مالک نے، اپنے والد کی طرف سے، کہ وہ عمر بن خطاب کی قیرات سنتے تھے جب وہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں لوگوں کی امامت کر رہے تھے، اور یہ بات ابو جہم کے گھر سے آ رہی تھی۔ اور کعب احبار نے کہا: اس کی قسم جس نے موسیٰ کے لیے سمندر کو دو حصہ کر دیا، کیونکہ صہیب نے مجھے بتایا کہ محمد رسول اللہ ﷺ جب بھی کسی بستی کو دیکھتے جس میں داخل ہونا چاہتے، تو اسے دیکھ کر یہ دعا کرتے: "اے اللہ! سات آسمانوں اور جو کچھ انہوں نے ڈھانپ رکھا ہے ان کا رب، اور سات زمینوں اور جو کچھ انہوں نے ہلکا کر دیا ہے ان کا رب، اور شیاطین اور جو کچھ انہوں نے گمراہ کیا ان کا رب، اور ہواؤں اور جو کچھ انہوں نے اڑایا ان کا رب! بے شک ہم اس بستی کی بھلائی اور اس کے لوگوں کی بھلائی مانگتے ہیں، اور اس کی برائی، اس کے لوگوں کی برائی، اور جو کچھ اس میں ہے اس کی برائی سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔" اور کعب نے اس کی قسم کھائی جس نے موسیٰ کے لیے سمندر کو دو حصہ کر دیا، کیونکہ یہ دعا داؤد کی تھی جب وہ دushman کو دیکھتے تھے۔

8505

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8505

أنبأ عَمْرُو بْنُ سَوَادِ بْنِ الأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : أنبأ ابن وَهْبٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ كَعْبًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ صُهَيْبًا صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرَ قَرْيَةً يُرِيدُ دُخُولَهَا ، إِلا قَالَ حِينَ يَرَاهَا : اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ ، وَمَا أَظْلَلْنَ ، وَرَبَّ الأَرْضِينَ السَّبْعِ ، وَمَا أَقْلَلْنَ ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ ، وَمَا أَضْلَلْنَ ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ ، ومَا ذَرَيْنَ ، فَإِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا ، وَشَرِّ مَا فِيهَا """

EnglishUnverified translation

Amr bin Sawad bin Al-Aswad bin Amr reported, saying: Ibn Wahb reported, saying: Hafs bin Maysarah informed me, on the authority of Musa bin Uqba, on the authority of Ata’ bin Abi Marwan, on the authority of his father, that Ka’b narrated to him, that Suhayb, the companion of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, narrated to him, that the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, narrated to him that He, peace and blessings be upon him, never saw a village he wanted to enter except that he said when he saw it: “O God, Lord of the seven heavens, and what they cast over, and Lord of the seven earths, and what We have diminished, by the Lord of the devils, and they have not led us astray, by the Lord of the winds, and we have not abandoned. Indeed, we ask you for the good of this town and the good of its people. We seek refuge in You from its evil, the evil of its people, and the evil of what is in it.” (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن سواد بن اسود بن عمرو بیان کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ ابن وہب نے بیان کیا، کہا: مجھے حفص بن میسرہ نے موسیٰ بن عقبہ کی سند سے، عطاء بن ابی مروان کی سند سے، اپنے والد کی سند سے، کعب نے ان سے بیان کیا، کہ صہیب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی ایسے گاؤں کو نہیں دیکھا جس میں وہ داخل ہونا چاہتے تھے سوائے اس کے کہ جب انہوں نے اسے دیکھا تو فرمایا: اے اللہ ساتوں آسمانوں کے رب اور ساتوں زمینوں کے رب اور جو کچھ ہم نے کم کر دیا ہے، اس کے رب کی قسم اور شیطانوں کے رب کی قسم، جس نے ہم پر شیطانوں کو فتح نہیں کیا۔ ہم آپ سے اس بستی اور اس کے باشندوں کی بھلائی کا سوال کرتے ہیں۔

8506

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8506

أنبأ يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَيْضًا يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ بِلالٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ ، فَأَسْحَرَ يَقُولُ : سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللَّهِ وَحُسْنِ بَلائِهِ عَلَيْنَا ، رَبَّنَا صَاحِبْنَا وَأَفْضِلْ عَلَيْنَا ، عَائِذًا بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ """

EnglishUnverified translation

Yunus bin Abdul-Ala reported on the authority of Ibn Wahb, who said: He also told me, meaning Suleiman bin Bilal, on the authority of Suhail bin Abi Saleh, on the authority of his father, On the authority of Abu Hurairah, that when the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was on a journey, he would say: “The one who hears praises God and his good affliction.” upon us, our Lord, our Companion, and bestow blessings upon us. We seek refuge with God from the Fire.” (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یونس بن عبد العلا نے ابن وہب سے روایت کی، انہوں نے کہا: انہوں نے مجھ سے یہ بھی بیان کیا، یعنی سلیمان بن بلال نے، سہیل بن ابی صالح کی سند سے، اپنے والد کی سند سے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: \وہ ایک نیک سفر میں تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سفر پر تھا۔ مصیبت.\" ہم پر اے ہمارے رب، ہمارے ساتھی، اور ہم پر رحمت نازل فرما۔ ہم آگ سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔\""""

8507

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8507

أنبأ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَحْسَنُ النَّاسِ ، وَأَجْوَدُ النَّاسِ ، وَأَشْجَعُ النَّاسِ ، قَالَ : وَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً سَمِعُوا صَوْتًا ، فَتَلَقَّاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَرَسٍ لأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ ، وَهُوَ مُتَقَلِّدٌ سَيْفَهُ ، فَقَالَ : لَمْ تُرَاعُوا ، لَمْ تُرَاعُوا " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَدْتُهُ بَحْرًا "، يَعْنِي : الْفَرَسَ"

EnglishUnverified translation

Qutaibah bin Saeed reported, saying: Hammad told us, on the authority of Thabit, on the authority of Anas, who said: The Messenger of God, may God bless him and grant him peace, was the best of people. The most generous of people, and the bravest of people, he said: The people of Medina were terrified one night when they heard a voice, and the Prophet, may God bless him and grant him peace, met them riding a horse. Abu Talha was naked, and he was girding his sword, so he said: “You were not heeded, you were not heeded.” Then the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said: “I found it at sea.” Meaning: the horse (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہ ہم سے حماد نے ثابت کی روایت سے اور انس رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہترین لوگوں میں سے تھے۔ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی، اور لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر، انہوں نے کہا: مدینہ کے لوگ ایک رات گھبرا گئے جب انہوں نے ایک آواز سنی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے گھوڑے پر سوار ہوئے۔ ابو طلحہ ننگے تھے اور تلوار باندھ رہے تھے، تو انہوں نے کہا: \تمہاری بات نہیں مانی گئی، آپ پر توجہ نہیں دی گئی۔\" پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اسے سمندر میں پایا۔ معنی: گھوڑا"""

8508

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8508

أنبأ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ بَعْجَةَ بْنِ بدر الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : خَيْرُ مَا عَاشَ النَّاسُ لَهُ : رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، كُلَّمَا سَمِعَ هَيْعَةً أَوْ فَزْعَةً ، طَارَ عَلَى مَتْنِ فَرَسِهِ ، فَالْتَمَسَ الْمَوْتَ وَالْقَتْلَ فِي مَظَانِّهِ ، أَوْ رَجُلٌ فِي شُعْبَةٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ ، أَوْ فِي بَطْنِ وَادٍ مِنْ هَذِهِ الأَوْدِيَةِ فِي غَنِيمَةٍ لَهُ ، يُقِيمُ الصَّلاةَ ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَيَعْبُدُ اللَّهَ ، حَتَّى يَأْتِيَهُ الْيَقِينُ ، لَيْسَ مِنَ النَّاسِ إِلا فِي خَيْرٍ """

EnglishUnverified translation

Qutaibah bin Saeed reported, saying: Ya’qub told us, on the authority of Abu Hazim, on the authority of Baja bin Badr al-Juhani, on the authority of Abu Hurairah, that the Messenger of God May God’s prayers and peace be upon him, he said: “The best thing that people have ever lived for is a man holding the reins of his horse in the path of God. Whenever he hears a sound or panic, he flies on Aboard his horse, he sought death and killing in his place, or as a man in one of these branches, or in the depths of a valley of these. valleys as a spoil for him. He establishes prayer, pays zakat, and worships God, until certainty comes to him. He is not among people but in the best.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہ ہم سے یعقوب نے ابو حازم کی روایت سے بجاہ بن بدر جہنی کی روایت سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوگوں کے لیے سب سے بہتر چیز جس کے لیے زندہ رہا ہے وہ ہے جو اللہ کے گھوڑے کو پکڑے ہوئے ہو یا جب اس نے اپنی آواز کو پکڑ رکھا ہو۔ گھبرا کر وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر موت کی تلاش میں رہتا ہے، یا ان میں سے کسی ایک وادی کی گہرائی میں اس کے لیے غنیمت ہے، وہ نماز قائم کرتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے، اور اللہ کی عبادت کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ لوگوں میں سے بہترین ہے۔

8509

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8509

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عِصَامٍ الْمُزَنِيَّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً ، قَالَ : إِنْ رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا ، أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا ، فَلا تَقْتُلُوا أَحَدًا """

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Abdullah bin Yazid Al-Muqri told us, he said: Sufyan told us, he said: Abdul-Malik bin Nawfal bin Musahiq told us, He said: I heard Ibn Issam Al-Muzani, on the authority of his father, who said: Whenever the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, sent a convoy, he said: “If you see mosque, or you hear a muezzin, so do not kill anyone.” (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے محمد بن عبداللہ بن یزید المقری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالمالک بن نوفل بن مصاحق نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عصام المزنی کو اپنے والد سے سنا، وہ کہتے تھے: جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو مسجد میں دیکھا آپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قافلہ بھیجا۔ موذن آپ کسی کو قتل نہ کرو۔

8510

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8510

أنبأ يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَذَكَرَ آخَر ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً ، وَأَنَا فِيهِمْ ، قَالَ : إِنْ لَقِيتُمْ فُلانًا وَفُلانًا ، فَحَرِّقُوهُمَا بِالنَّارِ " فَلَمَّا وَدَّعَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : "إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُ أَنْ تُحَرِّقُوهُمَا بِالنَّارِ ، وَإِنَّهُ لا يَنْبَغِي أَنْ يُعَذِّبَ بِعَذَابِ اللَّهِ ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمَا ، فَاقْتُلُوهُمَا """

EnglishUnverified translation

Yunus bin Abdul-Ala told us, he said: Ibn Wahb told us, he said: Amr bin Al-Harith told me, and another mentioned, on the authority of Bukayr bin Abdullah, On the authority of Suleiman bin Yassar, on the authority of Abu Hurairah, he said: The Messenger of God, may God bless him and grant him peace, sent a troop, and I am among them. He said: “If you meet so-and-so And so-and-so, burn them with fire.” Then when the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, bade farewell to us, he said: “Indeed, I commanded that you burn them with fire, and it should not be To be punished with the punishment of God, so when you meet them, kill them.” (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے یونس بن عبد العلا نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے عمرو بن حارث نے بیان کیا، اور ایک اور نے بکیر بن عبداللہ سے، سلیمان بن یسار سے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان ایک دستہ بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر آپ فلاں فلاں سے ملو آپ انہیں آگ سے جلا دو۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں الوداع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک میں نے حکم دیا تھا کہ تم انہیں آگ سے جلا دو، اور ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ خدا کے عذاب سے عذاب ہو، لہٰذا جب تم ان سے ملو تو انہیں قتل کر دو“۔

8511

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8511

أنبأ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ ، عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا " ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً ، بَعَثَهُمْ أَوَّلَ النَّهَارِ"

EnglishUnverified translation

Amr bin Ali reported, he said: Khaled told us, he said: Shu’bah told us, on the authority of Ya’la bin Ata’, on the authority of Amara bin Hadid, on the authority of Sakhr Al-Ghamidi, that the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said: “Oh God, bless my nation with its firstborn.” And the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, was He sent a company, sent them out early in the day.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے شعبہ نے یعلیٰ بن عطا سے، عمارہ بن حدید سے، انہوں نے صخر الغامدی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ میری امت کو اس کے پہلوٹھے میں برکت عطا فرما“۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام پھیر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت بھیجی، انہیں صبح سویرے باہر بھیج دیا۔

8512

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8512

الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ ، وأنا أسمعُ ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عمر بْنُ مَالِكٍ ، وَذَكَرَ آخَرُ قَبْلَهُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ سَلْمَانَ الأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِيَّةٍ تَخْرُجُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَخْرُجُ اللَّيْلَةَ ، أَمْ نَمْكُثُ حَتَّى نُصْبِحَ ؟ قَالَ : أَوَ لا تُحِبُّونَ يَعْنِي أَنْ تَبِيتُوا فِي خِرَافٍ مِنْ خِرَافِ الْجَنَّةِ ؟ "والْخِرَافُ : الْحَدِيقَةُ"

EnglishUnverified translation

Al-Harith bin Miskin read about it, and I hear, on the authority of Ibn Wahb, he said: Omar bin Malik told me, and another before him mentioned, on the authority of Ibn Abi Ja`far, on the authority of Safwan bin Sulaym, on the authority of Salman al-Aghar, on the authority of Abu Hurairah, who said: The Messenger of God, may God bless him and grant him peace, ordered a secret group to go out They said: O Messenger of God, shall we go out tonight, or shall we stay until morning? He said: “Do you not like, meaning, to spend the night among the sheep of Paradise?” And the sheep: the garden.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حارث بن مسکین نے اس کے بارے میں پڑھا، اور میں نے ابن وہب سے سنا، انہوں نے کہا: مجھ سے عمر بن مالک نے بیان کیا اور ان سے پہلے ایک دوسرے نے بیان کیا، ابن ابی جعفر سے، صفوان بن سلیم کی روایت سے، سلمان الاثار کی سند سے، انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا: ایک خفیہ گروہ کو باہر نکلنے کا حکم دیا انہوں نے کہا: یا رسول اللہ کیا ہم آج رات نکلیں گے یا صبح تک قیام کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا آپ جنت کی بھیڑوں کے درمیان رات گزارنا پسند نہیں کرتے؟ اور بھیڑ: باغ۔

8513

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8513

أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ، لأَحْبَبْتُ أَنْ لا أَتَخَلَّفَ عَنْ سَرِيَّةٍ تَخْرُجُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلَكِنْ لا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ ، وَلا يَجِدُونَ مَا يَتَحَمَّلُونَ عَلَيْهِ ، وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا بَعْدِي ، فَوَدِدْتُ أَنِّي أُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلُ ، ثُمَّ أَحْيَا فَأُقْتَلُ ، ثُمَّ أَحْيَا فَأُقْتَلُ ، ثُمَّ أَحْيَا فَأُقْتَلُ """

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Salamah and al-Harith ibn Miskin reported on the authority of Ibn al-Qasim, who said: Malik told me, on the authority of Yahya ibn Sa`id, on the authority of Abu Salih Al-Samman, on the authority of Abu Hurairah, on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, who said: “Were it not that I would make it difficult for my nation, I would love not to fall behind.” About a group that goes out for the sake of God, but I cannot find anything to compel them to do, and they do not find anything to support them with, and it is difficult for them to remain behind. After me, I wished to fight in the cause of God and be killed, then come back to life and be killed, then come back to life and be killed, then come back to life and be killed.” (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سلمہ اور حارث بن مسکین نے ابن القاسم سے روایت کی ہے، انہوں نے کہا: مجھ سے مالک نے یحییٰ بن سعید کی سند سے، ابو صالح السمان کی سند سے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے بیان کیا، اللہ تعالیٰ نے یہ کہا کہ میں اس پر سختی نہیں کروں گا، جس نے مجھے یہ کہا: قوم، میں پیچھے نہ پڑنا پسند کروں گا۔\ ایک ایسے گروہ کے بارے میں جو خدا کے لیے نکلتا ہے، لیکن مجھے ان پر مجبور کرنے کے لیے کوئی چیز نہیں ملتی، اور ان کے لیے ان کی حمایت کے لیے کوئی چیز نہیں ملتی، اور ان کے لیے پیچھے رہنا مشکل ہے۔ میرے بعد میں نے چاہا کہ خدا کی راہ میں لڑوں اور مارا جاؤں، پھر زندہ ہو کر مارا جاؤں، پھر زندہ ہو جاؤں اور مارا جاؤں، پھر زندہ ہو جاؤں اور مارا جاؤں“۔"""

8514

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8514

أنبأ عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أنبأ زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَصِينُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا ، وَحَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، على أنس بنَ مالك وهو قائمٌ يُصلِّي ، فأطالَ القيامَ ، ثم جلَسَ ، فقلتُ : يا أبتِ ، أما تعرِفُ هذا ؟ قال : مَن هذا ؟ فنسَبْتُه له ، فبكى حتى شهَقَ ، ثم قَالَ : لَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ ، لَحَدَّثْتُ بِهِ الْيَوْمَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكَ ،فَبَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فِي أَرْبَعِينَ رَاكِبًا إِلَى ابْنِ دُومَةَ الْجَنْدَلِ ، فَقَالَ : إِنَّ قَدَرْتُمْ عَلَى أَخْذِهِ ، فَخُذُوهُ ، وَلا تَقْتُلُوهُ ، وَإِنْ لَمْ تَقْدِرُوا عَلَى أَخْذِهِ ، فَاقْتُلُوهُ " ، فَجَاءُوا قَصْرَهُ ، فَقَالَ أَهْلُهٌ : مَا خَرَجَ مُنْذُ شَهْرَيْنِ قَبْلَ الْيَوْمِ ، فَوَجَدْنَاهُ يَرْمِي الصَّيْدَ ، فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَى أَخْذِهِ ، فَقَتَلْنَاهُ ، فَجَاءُوا بِمُدَرَّعَةٍ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنْ دِيبَاجٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَعْجَبُونَ مِنْهَا ، قَالَ : " أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذِهِ ؟ ! لمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ أَلْيَنُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ """

EnglishUnverified translation

Abdah bin Abdullah narrated, saying: Zayd bin Hubab narrated, saying: Muhammad bin Salih narrated to us, saying: Husayn bin Abdul Rahman narrated to me, He said: I and Hafs bin Ubaid Allah bin Anas entered upon Anas bin Malik while he was standing praying, so he stood for a long time, then sat down, so I said: O father, do you not know this? He said: Who is this? So I attributed it to him, and he cried until he gasped, then said: I heard a hadith from the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, and if I had narrated it one day in the past, I would have narrated it. Today: We, together with the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, invaded Tabuk, so he sent Khalid ibn al-Walid with forty riders to Ibn Dumat al-Jandal. So he said: “If you are able to take him, then take him, and do not kill him, but if you are not able to take him, then kill him.” So they came to his palace, and he said His family: He had not been out for two months before today, and we found him shooting game, but we were unable to take him, so we killed him, so they came With an armor that had brocade on it, he went to the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, and his companions marveled at it. He said: “Do you marvel at the Are these the handkerchiefs of Saad bin Muadh softer than those in Paradise? (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدہ بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا: زید بن حباب نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن صالح نے بیان کیا، کہا: مجھ سے حسین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں اور حفص بن عبید اللہ بن انس انس بن مالک کے پاس گئے، جب وہ نماز پڑھ رہے تھے، تو وہ کافی دیر تک کھڑے رہے، پھر کہا: اے ابا جان، کیا آپ یہ نہیں جانتے؟ اس نے کہا: یہ کون ہے؟ تو میں نے اسے ان کی طرف منسوب کیا تو وہ روئے یہاں تک کہ وہ ہانپ گئے، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے، اور اگر میں اسے پہلے کسی دن روایت کرتا آپ میں اسے بیان کرتا۔ آج: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر تبوک پر حملہ کیا آپ آپ نے خالد بن ولید کو چالیس سواروں کے ساتھ ابن دمت الجندل کے پاس بھیجا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اسے پکڑنے پر قادر ہو تو اسے لے لو، اسے قتل نہ کرو، لیکن اگر تم اسے پکڑنے کی طاقت نہیں رکھتے تو اسے قتل کر دو“۔ چنانچہ وہ اس کے محل میں آئے اور اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: وہ آج سے پہلے دو مہینے سے باہر نہیں گیا تھا، اور ہم نے اسے شوٹنگ کا کھیل پایا، لیکن ہم اسے پکڑنے میں ناکام رہے، اس لیے ہم نے اسے مار ڈالا، تو وہ ایک زرہ لے کر آئے جو اس پر بروکڈ تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، اور آپ کے ساتھی اس پر حیران ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں تعجب ہوا کہ کیا یہ سعد بن معاذ کے رومال جنتی رومالوں سے زیادہ نرم ہیں؟

8515

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8515

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو رَوْقٍ عَطِيَّةُ بْنُ الْحَارِثِ الْهَمَذَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْغَرِيف ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ ، فَقَالَ : سِيرُوا بِاسْمِ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، تُقَاتِلُونَ عَدُوَّ اللَّهِ ، وَلا تَغُلُّوا ، وَلا تَغْدِرُوا ، وَلا تُمَثِّلُوا ، وَلا تَقْتُلُوا وَلِيدًا """

EnglishUnverified translation

Harun bin Abdullah told me, he said: Abu Usama told us, he said: Abu Ruq Atiya bin Al-Harith Al-Hamdhani told us, he said: Abu Al-Gharif told us, on the authority of Safwan bin Assal, who said: The Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, sent us in a expedition, and he said: “Proceed in the name of God in For the sake of God, you fight the enemy of God, and do not commit excesses, and do not commit treachery, and do not mutilate, and do not kill a newborn.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجھ سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوالرق عطیہ بن الحارث ہمدانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابو الغرف نے صفوان بن عسال کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مہم میں بھیجا تھا، انہوں نے کہا: اللہ کے نام سے ایک مہم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ خدا کے دشمن سے لڑو، اور زیادتی نہ کرو، خیانت نہ کرو، اور نہ ہی کسی نوزائیدہ کو قتل کرو۔\" 8516"""

8516

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8516

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ ، عَنِ ابْنِ عِصَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ جَيْشًا أَوْ سَرِيَّةً ، قَالَ لَهُمْ : إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا ، أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا ، فَلا تَقْتُلُوا أَحَدًا " ، فَبَعَثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً ، فَأَمَرْنَا بِذَلِكَ ، فَخَرَجْنَا نَسِيرُ فِي أَرْضِ تِهَامَةَ ، فَأَدْرَكْنَا رَجُلا يَسُوقُ ظَعَائِنَ ، فَعَرَضْنَا عَلَيْهِ الإِسْلامَ ، فَقُلْنَا : أَمُسْلِمٌ أَنْتَ ؟ فَقَالَ : وَمَا الإِسْلامُ ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ ، فَإِذَا هُوَ لا يَعْرِفُهُ ، قَالَ : فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ ، فَمَا أَنْتُمْ صَانِعُونَ ؟ قُلْنَا : نَقْتُلُكَ ، قَالَ : فَهَلْ أَنْتُمْ مُنتظِرِيَّ حَتَّى أُدْرِكَ الظَّعَائِنَ ؟ قُلْنَا : نَعَمْ ، وَنَحْنُ مُدرِكُوكَ ، فَخَرَجَ ، فَأَتَى امْرَأَةً ، وَهِيَ فِي هَوْدَجِهَا ، فَقَالَ : أَسْلِمِي حُبَيْشُ قَبْلَ انْقِطَاعِ الْعَيْشِ ، أَسْلِمِي عَشْرًا ، وَثَمَانِيًا تَتْرًا ، وَسَبْعًا وِتْرًا ، ثُمَّ قَالَ : أَتَذْكُرْنَ إِذْ طَالَعْتُكُمْ فَوَجَدْتُكُمْ بِحِلْيَةٍ أَوْ أَلْفَيْتُكُمْ بِالْخَوَانِقِ أَلَمْ يكُ حَقًّا أَنْ يَنُولَ عَاشِقٌ تَكَلَّفَ إِدْلاجَ السُّرَى وَالْوَدَائِقِ فَلا ذَنْبَ لِي قَدْ قُلْتُ إِذْ أَهَلْنا مَعًا أَثِيبِي بوَصْلٍ قَبْلَ إِحْدَى الصَّفَائِقِ أَثِيبِي بِوُدٍّ قَبْلَ أَنْ تَشْحَطَ النّوَى وَيَنْأَى الأَمِيرُ بِالْحَبِيبِ الْمُفَارِقِ ثُمَّ أَتَانَا ، فَقَالَ : شَأْنُكُمْ ، فَقَدَّمْنَاهُ ، فَضَرَبْنَا عُنُقَهُ ، فَنَزَلَتِ الأُخْرَى عَلَيْهِ مِنْ هَوْدَجِهَا ، فَحَنَتْ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَتْ"

EnglishUnverified translation

Saeed bin Abdul Rahman told us, he said: Sufyan told us, on the authority of Ibn Nawfal bin Musahaq, on the authority of Ibn Issam, on the authority of his father, he said: Whenever the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, sent an army or a troop, he would say to them: “If you see a mosque, or hear a muezzin, do not “You kill someone.” So the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, sent us a detachment and ordered us to do so. We went out walking in the land of Tihama, and we overtook a man. He was driving lizards, so We offered him Islam and said: Are you a Muslim? He said: What is Islam? So we told him, and if he did not know it, he said: If I do not do it, what will you do? We said: We will kill you. He said: Are you waiting for me until I catch up with the oppressors? We said: Yes, and we are overtaking you. So he went out and came to a woman who was wearing her howdah and said: Surrender Hubaysh before the end of livelihood. Aslam ten times, and eight times, and seven times, then he said: Do you remember when I looked at you and found you wearing jewelry, or I met you? In the gorges, was it not true that a lover who took the trouble of bringing in secrets and documents should die? Is it not my fault? I said, “When we were brought together together, I will be rewarded with a connection before One of the servants greeted Ethibi cordially before the hearts grew cold and the prince moved away from the departed beloved. Then he came to us and said: What is your business? So we presented him. So we beheaded him, and the other woman descended on him from her howdah and felt compassion for him until she died. (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن عبدالرحمن نے ہمیں بتایا، سفيان نے، ابن نوفل بن مساحق نے، ابن عصام نے، اپنے والد کی طرف سے، کہ رسول اللہ ﷺ جب بھی کسی فوج یا سرية کو بھیجتے، تو ان سے فرماتے: "اگر تم مسجد دیکھو، یا مؤذن کی آواز سنو، تو کسی کو مت مارو۔" تو نبی ﷺ نے ہمیں ایک سرية کے طور پر بھیجا اور ہمیں اس بات کا حکم دیا۔ ہم تہامہ کی زمین میں چلتے ہوئے نکلے، تو ہمیں ایک آدمی ملا جو اپنی بیویوں کو لے جا رہا تھا۔ ہم نے اس کو اسلام پیش کیا، پوچھا: "کیا تو مسلم ہے؟" اس نے کہا: "اسلام کیا ہے؟" تو ہم نے اسے بتایا، تو پتا چلا کہ وہ اسے نہیں جانتا۔ اس نے کہا: "اگر میں یہ نہ کروں، تو تم کیا کرو گے؟" ہم نے کہا: "ہم تمہیں مار ڈالیں گے۔" اس نے کہا: "کیا تم میرا انتظار کرو گے جب تک میں اپنی بیویوں تک پہنچ جاؤں؟" ہم نے کہا: "ہاں، اور ہم تمہیں پکڑ لیں گے۔" تو وہ گیا، اپنی ایک بیوی کے پاس آیا جو ہودج میں تھی، اور کہا: "ایمان لاؤ ہبیش، رزق ختم ہونے سے پہلے، دس بار، اور آٹھ بار، اور سات بار وتر کی طرح۔" پھر کہا: "کیا تم یاد رکھتی ہو جب میں تمہیں دیکھا تھا اور تمہیں زیور میں پایا تھا، یا تمہیں درہوں میں ملا تھا، کیا یہ حق نہ تھا کہ عاشق جو رازوں اور امانتوں کو لانے میں تکلیف اٹھائے، اسے ملے؟ میرا کوئی قصور نہیں، میں نے کہا جب ہم ایک ساتھ آئے، مجھے ایک نوکر سے ملاقات کا اجر دو، محبت کا اجر دو دوریاں بڑھنے اور امیر محبوب جدا ہونے والے کو دور لے جانے سے پہلے۔" پھر وہ ہمارے پاس آیا، کہا: "تمہارا کام۔" تو ہم نے اسے پیش کیا، اس کی گردن مار دی، تو دوسری بیوی اس کے اوپر ہودج سے اتری، اس پر رحم کھایا یہاں تک کہ مر گئی۔

8517

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8517

أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ رَاشِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أُسَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبَعَثَ عَشَرَةَ رَهْطٍ سَرِيَّةً عَيْنَا ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيَّ جَدَّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْهُدَاةِ ، وَهِيَ بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ ، ذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ ، يُقَالُ لَهُمْ : بَنِي لَحْيَانَ ، فنَفَرُوا لَهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ ، فَاقْتَصُّوا آثَارَهُمْ ، حَتَّى وَجَدُوا مَأْكَلَهُمْ تَمْرًا تَزَوَّدُوهُ مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَاتَّبَعُوا آثَارَهُمْ ، فَلَمَّا رَآهُمْ عَاصِمٌ وَأَصْحَابُهُ ، لَجَئُوا إِلَى فَدْفَدٍ ، وَأَحَاطَ بِهِمُ الْقَوْمُ ، فَقَالُوا لَهُمُ : انْزِلُوا وَأَعْطُونا بِأَيْدِيكُمْ ، وَلَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ ، لا يُقْتَلُ مَعَكُمْ أَحَدٌ ، فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ أَمِيرُ السَّرِيَّةِ : أَمَّا أَنَا ، فَوَاللَّهِ لا أَنْزِلُ الْيَوْمَ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ ، اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا نَبِيَّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَمَوْهُمْ بِالنَّبْلِ ، فَقَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةٍ ، ثُمَّ نَزَلَ إِلَيْهِمْ ثَلاثَةُ رَهْطٍ بِالْعَهْدِ وَالْمِيثَاقِ ، مِنْهُمْ خُبَيْبٌ الأَنْصَارِيُّ ، وَابْنُ دَثِنَةَ ، وَرَجُلٌ آخِرُ ، فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ ، أَطْلَقُوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ ، فَأَوْثَقُوهُمْ ، فَقَالَ الرَّجُلُ الثَّالِثُ : هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ ، وَاللَّهِ لا أَصْحَبُكُمْ فَجَرُّوهُ ، وَعَالَجُوهُ ، فَأَبَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ ، فَقَتَلُوهُ ، فَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبٍ وَابْنِ دَثِنَةَ ، حَتَّى بَاعُوهُمَا بِمَكَّةَ بَعْدَ وَقعةِ بَدْرٍ ، فَابْتَاعَ خُبَيْبًا بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ ، وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ بْنَ عَامِرٍ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَلَبِثَ خُبَيْبٌ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا ، فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ابْنَةَ الْحَارِثِ ، فأَخْبَرَتْهُمْ ، أَنَّهُمْ حِينَ اجْتَمَعُوا اسْتَعَارَ مِنْهَا مُوسَى يَسْتَحِدُّ بِهَا ، فَأَعَارَتْهُ ، قَالَتْ : فَدَرَجَ ابْنٌ لِي ، وَأَنَا غَافِلَةٌ ، حَتَّى أَتَاهُ ، قَالَتْ : فَوَجَدْتُهُ عَلَى فَخِذِهِ ، وَالْمُوسَى بِيَدِهِ ، فَفَزِعْتُ فَزْعَةً عَرَفَهَا خُبَيْبٌ فِي وَجْهِي ، فَقَالَ : أَتَخْشَيْنَ أَنْ أَقْتُلَهُ ؟ مَا كُنْتُ لأَفْعَلَ ذَلِكَ ، قَالَتْ : وَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ ، لَقَدْ وَجَدْتُهُ يَوْمًا يَأْكُلُ مِنْ قِطْفِ عِنَبٍ فِي يَدِهِ ، وَإِنَّهُ لَمُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ ، وَمَا بِمَكَّةَ مِنْ ثَمَرَةٍ ، فَكَانَتْ تَقُولُ : " إِنَّهُ لرِزْقٌ مِنَ اللَّهِ رَزَقَهُ خُبَيْبًا " ، فَلَمَّا خَرَجُوا مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ فِي الْحِلِّ ، قَالَ لَهُمْ خُبَيْبٌ : ذَرُونِي أَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ ، فَتَرَكَهُ فَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : لَوْلا أَنْ تَظُنُّوا أَنَّ مَا بِي جَزَعٌ لَزِدْتُ ، اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا . فما أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ جَنْبٍ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الإِلهِ وَإِنْ يَشَأْ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ أَبُو سِرْوَعَةَ عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، فَقَتَلَهُ ، فَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ سَنَّ الرَّكْعَتَيْنِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ قُتِلَ صَبْرًا ، وَاسْتَجَابَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِعَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ يَوْمَ أُصِيبَ ، فَأَخْبَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ خَبَرَهُمْ يَوْمَ أُصِيبُوا ، وَبَعَثَ نَاسٌ مِنْ كُفَّارِ قُرَيْشٍ إِلَى عَاصِمٍ حِينَ حُدِّثُوا أَنَّهُ قُتِلَ ، لِيُؤْتَوْا بِشَيْءٍ مِنْهُ يُعرَفُ ، وَكَانَ قَتَلَ رَجُلا مِنْ عُظَمَائِهِمْ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَبَعَثَ اللَّهُ عَلَى عَاصِمٍ مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ ، فَحَمَتْهُ مِنْ رَسُولِهِمْ ، فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَى أَنْ يَقْطَعَ مِنْ لَحْمِهِ شَيْئًا """

EnglishUnverified translation

'Imran ibn Bakkar ibn Rashid informed me, saying: Abu al-Yaman narrated to us, saying: Shu'ayb narrated to us, from al-Zuhri, who said: 'Amr ibn Abi Sufyan ibn Usayd ibn Jariyah al-Thaqafi — who was one of the companions of Abu Hurayrah — informed me that Abu Hurayrah said: "The Prophet ﷺ sent a detachment of ten men as a scouting party, appointing over them 'Asim ibn Thabit al-Ansari, the grandfather of 'Asim ibn 'Umar ibn al-Khattab. They set out until they were at al-Hudah, which is between 'Usfan and Makkah. They were mentioned to a tribe of Hudhayl called Banu Lihyan. About a hundred archers hastened toward them. They tracked their tracks until they found their food — dates they had provisioned from Madinah. They followed their tracks. When 'Asim and his companions saw them, they took refuge in a rocky elevation, and the people surrounded them. They said to them: 'Come down and give us your hands, and you shall have our covenant and pledge that none of you will be killed.' 'Asim ibn Thabit, the commander of the detachment, said: 'As for me, by Allah, I shall not today place myself under the protection of a disbeliever. O Allah, inform Your Prophet ﷺ about us.' They shot them with arrows and killed 'Asim along with seven others. Then three men came down under the covenant and pledge, among them Khubayb al-Ansari, ibn Dathinah, and another man. When they had them in their power, they loosed the bowstrings and bound them. The third man said: 'This is the first betrayal. By Allah, I shall not accompany you.' They dragged him and tried to compel him, but he refused to accompany them, so they killed him. They set out with Khubayb and ibn Dathinah until they sold them in Makkah after the Battle of Badr. Khubayb was purchased by the Banu al-Harith ibn 'Amir ibn Nawfal ibn 'Abd Manaf. Khubayb was the one who had killed al-Harith ibn 'Amir on the day of Badr. Khubayb remained with them as a captive. 'Abd Allah ibn 'Abbas informed me that the daughter of al-Harith told them that when they had gathered, he (Khubayb) asked her for a razor to shave with, and she lent it to him. She said: 'A young son of mine crawled, while I was unaware, until he reached him.' She said: 'I found him upon his thigh, with the razor in his hand. I became alarmed with an alarm that Khubayb recognized in my face. He said: "Do you fear that I would kill him? I would never do that." She said: 'By Allah, I have never seen a captive better than Khubayb. I found him one day eating from a cluster of grapes in his hand, while he was bound in iron, and there was no fruit in Makkah.' She used to say: 'It is indeed a provision from Allah that He has provided to Khubayb.' When they went out from the Sacred Precinct to kill him in the non-sacred territory, Khubayb said to them: 'Allow me to perform two rak'ahs of prayer.' They left him, and he performed two rak'ahs. Then he said: 'Were it not that you would think I am afraid, I would have added more. O Allah, count them all.' He then recited: I care not, when I am killed as a Muslim, On which side my fall shall be for Allah. And that is in the essence of Allah, and if He wills, He may bless the limbs of a dismembered body. Then Abu Sirwa'ah 'Uqbah ibn al-Harith arose and killed him. Khubayb was the one who established the practice of the two rak'ahs for every Muslim killed in a state of patience. Allah, the Almighty, the Majestic, answered the supplication of 'Asim ibn Thabit on the day he was killed. The Prophet ﷺ informed his companions of their news on the day they were killed. Some men from the disbelievers of Quraysh were sent to 'Asim when they were told he had been killed, to bring back something of him by which he could be recognized, for he had killed one of their leaders on the day of Badr. Allah sent upon 'Asim a cloud-like cover of hornets, which protected him from their messenger, so they were unable to cut any piece of his flesh."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ رَاشِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أُسَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَشَرَةَ رَهْطٍ سَرِيَّةً عَيْنَا ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيَّ جَدَّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْهُدَاةِ ، وَهِيَ بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ ، ذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ ، يُقَالُ لَهُمْ : بَنِي لَحْيَانَ ، فنَفَرُوا لَهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ ، فَاقْتَصُّوا آثَارَهُمْ ، حَتَّى وَجَدُوا مَأْكَلَهُمْ تَمْرًا تَزَوَّدُوهُ مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَاتَّبَعُوا آثَارَهُمْ ، فَلَمَّا رَآهُمْ عَاصِمٌ وَأَصْحَابُهُ ، لَجَئُوا إِلَى فَدْفَدٍ ، وَأَحَاطَ بِهِمُ الْقَوْمُ ، فَقَالُوا لَهُمُ : انْزِلُوا وَأَعْطُونا بِأَيْدِيكُمْ ، وَلَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ ، لا يُقْتَلُ مَعَكُمْ أَحَدٌ ، فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ أَمِيرُ السَّرِيَّةِ : أَمَّا أَنَا ، فَوَاللَّهِ لا أَنْزِلُ الْيَوْمَ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ ، اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا نَبِيَّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَمَوْهُمْ بِالنَّبْلِ ، فَقَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةٍ ، ثُمَّ نَزَلَ إِلَيْهِمْ ثَلاثَةُ رَهْطٍ بِالْعَهْدِ وَالْمِيثَاقِ ، مِنْهُمْ خُبَيْبٌ الأَنْصَارِيُّ ، وَابْنُ دَثِنَةَ ، وَرَجُلٌ آخِرُ ، فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ ، أَطْلَقُوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ ، فَأَوْثَقُوهُمْ ، فَقَالَ الرَّجُلُ الثَّالِثُ : هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ ، وَاللَّهِ لا أَصْحَبُكُمْ فَجَرُّوهُ ، وَعَالَجُوهُ ، فَأَبَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ ، فَقَتَلُوهُ ، فَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبٍ وَابْنِ دَثِنَةَ ، حَتَّى بَاعُوهُمَا بِمَكَّةَ بَعْدَ وَقعةِ بَدْرٍ ، فَابْتَاعَ خُبَيْبًا بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ ، وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ بْنَ عَامِرٍ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَلَبِثَ خُبَيْبٌ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا ، فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ابْنَةَ الْحَارِثِ ، فأَخْبَرَتْهُمْ ، أَنَّهُمْ حِينَ اجْتَمَعُوا اسْتَعَارَ مِنْهَا مُوسَى يَسْتَحِدُّ بِهَا ، فَأَعَارَتْهُ ، قَالَتْ : فَدَرَجَ ابْنٌ لِي ، وَأَنَا غَافِلَةٌ ، حَتَّى أَتَاهُ ، قَالَتْ : فَوَجَدْتُهُ عَلَى فَخِذِهِ ، وَالْمُوسَى بِيَدِهِ ، فَفَزِعْتُ فَزْعَةً عَرَفَهَا خُبَيْبٌ فِي وَجْهِي ، فَقَالَ : \ أَتَخْشَيْنَ أَنْ أَقْتُلَهُ ؟ مَا كُنْتُ لأَفْعَلَ ذَلِكَ ، قَالَتْ : وَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ ، لَقَدْ وَجَدْتُهُ يَوْمًا يَأْكُلُ مِنْ قِطْفِ عِنَبٍ فِي يَدِهِ ، وَإِنَّهُ لَمُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ ، وَمَا بِمَكَّةَ مِنْ ثَمَرَةٍ ، فَكَانَتْ تَقُولُ : \" إِنَّهُ لرِزْقٌ مِنَ اللَّهِ رَزَقَهُ خُبَيْبًا \" ، فَلَمَّا خَرَجُوا مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ فِي الْحِلِّ ، قَالَ لَهُمْ خُبَيْبٌ : ذَرُونِي أَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ ، فَتَرَكَهُ فَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : لَوْلا أَنْ تَظُنُّوا أَنَّ مَا بِي جَزَعٌ لَزِدْتُ ، اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا . فما أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ جَنْبٍ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الإِلهِ وَإِنْ يَشَأْ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ أَبُو سِرْوَعَةَ عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، فَقَتَلَهُ ، فَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ سَنَّ الرَّكْعَتَيْنِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ قُتِلَ صَبْرًا ، وَاسْتَجَابَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِعَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ يَوْمَ أُصِيبَ ، فَأَخْبَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ خَبَرَهُمْ يَوْمَ أُصِيبُوا ، وَبَعَثَ نَاسٌ مِنْ كُفَّارِ قُرَيْشٍ إِلَى عَاصِمٍ حِينَ حُدِّثُوا أَنَّهُ قُتِلَ ، لِيُؤْتَوْا بِشَيْءٍ مِنْهُ يُعرَفُ ، وَكَانَ قَتَلَ رَجُلا مِنْ عُظَمَائِهِمْ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَبَعَثَ اللَّهُ عَلَى عَاصِمٍ مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ ، فَحَمَتْهُ مِنْ رَسُولِهِمْ ، فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَى أَنْ يَقْطَعَ مِنْ لَحْمِهِ شَيْئًا \""""

8518

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8518

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، وَمَرْوَانِ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، قَلَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ ، وَأَشْعَرَ ، وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ ، وَبَعَثَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَيْنَا لَهُ مِنْ خُزَاعَةَ يُخْبِرُهُ عَنْ قُرَيْشٍ ، وَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِغَدِيرِ الأَشْطَاطِ قَرِيبًا مِنْ عُسْفَانَ ، أَتَاهُ عُتْبَةُ الْخُزَاعِيُّ ، فَقَالَ : إِنِّي تَرَكْتُ كَعْبَ بْنَ لُؤَيٍّ ، وَعَامِرَ بْنَ لُؤَيٍّ قَدْ جَمَعُوا لَكَ الأَحَابِيشَ ، وَجَمَعُوا لَكَ جُمُوعًا ، وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ وَصَادُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَشِيرُوا عَلَيَّ ، أَتَرَوْنَ بِأَنْ أميلَ إِلَى ذَرَارِيِّ هَؤُلاءِ الَّذِينَ أَعَانُوهُمْ فَنُصِيبَهُمْ ، فَإِنْ يَغْدِرُوا يَغْدِرُوا ، قَعَدُوا مَوْتُورِينَ ، وَإِنْ نَجَوْا ، يَكُونُوا عُنُقًا قَطَعَهَا اللَّهُ ، أَمْ تَرَوْنَ أَنْ أَؤُمَّ الْبَيْتَ ، فَمَنْ صَدَّنَا عَنْهُ قَاتَلْنَاهُ ؟ " فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّمَا جِئْنَا مُعْتَمِرِينَ ، وَلَمْ نَأْتِ لِقِتَالِ أَحَدٍ ، وَلَكِنْ مَنْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْبَيْتِ ، قَاتَلْنَاهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَتَرَوَّحُوا إِذًا "، مُخْتَصَرٌ"

EnglishUnverified translation

Yaqoub bin Ibrahim told us, he said: Yahya Al-Qattan told us, he said: Abdullah bin Al-Mubarak told us, he said: Muammar told us, on the authority of Al-Zuhri, on the authority of Urwa, on the authority of Al-Miswar ibn Makhramah, and Marwan ibn Al-Hakam, who said: The Messenger of God, may God bless him and grant him peace, went out some time ago. Al-Hudaybiyyah with some ten hundred of his companions, until they were in Dhul-Hulayfah. The Prophet, may God bless him and grant him peace, imitated the sacrificial animal, and felt, He entered into ihram for the Umrah, and sent his servants from Khuza’ah to tell him about the Quraysh. The Prophet, may God bless him and grant him peace, walked until he was At Ghadir al-Ishtāt, near Usfan, Utbah al-Khuza’i came to him and said: I have left Ka’b ibn Luayy, and Aamir ibn Luayy have gathered for you. The Abyssinians, and they gathered a group of people against you, and they were fighting you and repelled you from the House. Then the Prophet, may God bless him and grant him peace, said: “Admonish me. Do you think I will turn? To the descendants of those who helped them, they will be their share. If they betray, they will be treacherous. They will remain dead, and if they will survive, they will be a neck that has been severed. By God, or do you think that I should lead the House, and whoever turns us away from it, we will fight him.” Abu Bakr said: God and His Messenger know best, O Prophet of God. We came to perform Umrah, and we did not come to fight anyone, but whoever came between us and the House, we will fight him. Then the Prophet, may God bless him and grant him peace, said: “So go away.” So, brief (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ القطان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے معمر نے زہری سے، عروہ سے، مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے اور مروان بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ دیر پہلے باہر گئے تھے۔ الحدیبیہ اپنے دس سو ساتھیوں کے ساتھ، یہاں تک کہ وہ ذوالحلیفہ میں تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور کی مشابہت کی اور محسوس کیا کہ آپ نے عمرہ کا احرام باندھا اور خزاعہ سے اپنے خادموں کو قریش کے بارے میں بتانے کے لیے بھیجا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے یہاں تک کہ آپ غدیر الاشتات میں تھے، عسفان کے قریب، عتبہ الخزاعی آپ کے پاس آیا اور کہا: میں کعب بن لوی کو چھوڑ کر آیا ہوں، اور عامر بن لوئی آپ کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ حبشیوں نے اور آپ کے خلاف لوگوں کی ایک جماعت کو جمع کیا اور آپ سے لڑ رہے تھے اور آپ کو بیت اللہ سے دفع کر دیا تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے نصیحت کرو، کیا آپ سمجھتے ہو کہ میں پلٹ جاؤں گا، جن لوگوں نے ان کی مدد کی ہے ان کی اولادوں کی طرف وہ ان کا حصہ ہوں گے، اگر وہ خیانت کریں گے تو وہ خیانت کریں گے، وہ مردہ رہیں گے، اور اگر زندہ رہیں گے تو وہ کٹی ہوئی گردن ہوں گے، خدا کی قسم، یا تم یہ سوچتے ہو کہ ہم کون ہیں جو ہم سے لڑیں گے اور ہم اس گھر سے لڑیں گے؟ وہ۔\ ابوبکر نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں یا رسول اللہ! ہم عمرہ کرنے آئے ہیں اور کسی سے لڑنے نہیں آئے لیکن جو ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان آئے گا ہم اس سے لڑیں گے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ چلے جاؤ۔ تو، مختصر"""

8519

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8519

أنبأ الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، وَسُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟ " قَالَ الزُّبَيْرُ : أَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا ، وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ """

EnglishUnverified translation

Al-Qasim bin Zakaria reported, saying: Abu Usama told us, on the authority of Hisham bin Urwa, and Sufyan bin Saeed, on the authority of Muhammad bin Al-Munkadir, On the authority of Jabir, he said: The Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said: “Who brings us the news of the people?” Al-Zubayr said: I do, so the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said. He, peace and blessings of God be upon him, said: “For every prophet there is a disciple, and my disciple is Al-Zubair.” (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بن زکریا نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو اسامہ نے ہشام بن عروہ سے اور سفیان بن سعید نے محمد بن المنکدر سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں لوگوں کی خبر کون پہنچاتا ہے؟ زبیر نے کہا: میں کرتا ہوں، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: \ہر نبی کے لیے ایک شاگرد ہوتا ہے اور میرا شاگرد الزبیر ہے۔\""""

8520

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8520

أنبأ يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : أنبأ ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ : مَنْ رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ بَنِي قُرَيْظَةَ ؟ " قَالَ الزُّبَيْرُ : أَنَا ، فَذَهَبَ عَلَى فَرَسِهِ ، فَجَاءَ بِخَبَرِهِمْ ، ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ : أَنَا فَذَهَبَ ، ثُمَّ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا ، وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ """

EnglishUnverified translation

Yunus bin Abdul-Ala reported, saying: Ibn Wahb reported, saying: Sa`id bin Abdul-Rahman told me, on the authority of Hisham bin Urwa, on the authority of Muhammad Ibn Al-Munkadir, on the authority of Jabir Ibn Abdullah, that the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said on the Day of the Trench: “Who is the man who brings us news? Banu Qurayza? Al-Zubair said: I do, so he went on his horse and brought their news, then he said the second time, so Al-Zubair said: I did, then he went. Third, the Prophet, may God bless him and grant him peace, said: “Every prophet has a disciple, and my disciple is Al-Zubair.” (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یونس بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا کہ ابن وہب نے بیان کیا کہ مجھ سے سعید بن عبدالرحمٰن نے ہشام بن عروہ کی روایت سے محمد بن المنکدر سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی آدم کی خبر کس نے دی؟ قریظہ نے کہا: میں کرتا ہوں، تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور ان کی خبر لے کر آیا، پھر اس نے دوسری مرتبہ کہا، تو زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: \ہر نبی کا ایک شاگرد ہوتا ہے، اور میرا شاگرد الزبیر ہے۔\""""

8521

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8521

أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، قَالَ : قَالَ وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ : أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : لَمَّا اشْتَدَّ الأَمْرُ يَوْمَ بَنِي قُرَيْظَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِهِمْ ؟ " فَلَمْ يَذْهَبْ أَحَدٌ ، فَذَهَبَ الزُّبَيْرُ ، فَجَاءَ بِخَبَرِهِمْ ، ثُمَّ اشْتَدَّ الأَمْرُ أَيْضًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِهِمْ ؟ " فَلَمْ يَذْهَبْ أَحَدٌ فَذَهَبَ الزُّبَيْرُ ، ثُمَّ اشْتَدَّ الأَمْرُ أَيْضًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِهِمْ ؟ " ، فَلَمْ يَذْهَبْ أَحَدٌ ، فَذَهَبَ الزُّبَيْرُ ، فَجَاءَ بِخَبَرِهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا ، وَإِنَّ الزُّبَيْرَ حَوَارِيَّ """

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Abdullah bin Al-Mubarak reported, saying: Suleiman bin Harb told us, saying: Hammad bin Zaid told us, on the authority of Hisham bin Urwa, He said: Wahb bin Kaysan said: I bear witness that I heard Jabir bin Abdullah say: When the situation became severe on the day of Banu Qurayza, the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said Peace and blessings of God be upon him: “Who will bring us their news?” No one went, so Al-Zubayr went and brought their news. Then the matter became more severe, so the Prophet said May God’s prayers and peace be upon him: “Who will bring us their news?” No one went, so Al-Zubayr went. Then the matter became more severe, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: He said: “Who will bring us their news?” No one went, so Al-Zubayr went and brought their news, and the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, said: He said: “Indeed, every prophet has a disciple, and Al-Zubayr is a disciple.” (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے کہا: وہب بن کیسان نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: جب بنو قریظہ کے دن حالات سخت ہو گئے، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی خبر کون لائے گا؟ کوئی نہیں گیا تو الزبیر گئے اور ان کی خبر لے آئے۔ پھر معاملہ مزید سنگین ہو گیا، آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: \کون ہے جو ہمیں ان کی خبر لائے گا؟\" کوئی نہیں گیا تو الزبیر چلے گئے۔ پھر معاملہ مزید سنگین ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ نے فرمایا: ہمیں ان کی خبر کون لائے گا؟ کوئی نہیں گیا، چنانچہ زبیر رضی اللہ عنہ گئے اور ان کی خبر لے کر آئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک ہر نبی کا ایک شاگرد ہوتا ہے اور زبیر کا شاگرد ہوتا ہے۔"""

8522

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8522

أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : أنبأ أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ عَيْنٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَازِلٌ ، فَلَمَّا طَعِمَ انْسَلَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَيَّ الرَّجُلُ ، اقْتُلُوهُ " ، فَابْتَدَرَهُ الْقَوْمُ ، قَالَ : وَكَانَ أَبِي لَسِبِقُ الْفَرَسَ شَدًّا ، فَسَبَقَهُمْ إِلَيْهِ ، فَأَخَذَهُ بِخِطَامِ رَاحِلَتِهِ ، فَقَتَلَهُ ، فَنَفَّلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ"

EnglishUnverified translation

Ahmad bin Sulaiman reported, saying: Ja`far bin Aoun told us, saying: Abu Umays reported, on the authority of Iyas bin Salamah bin Al-Akwa’, on the authority of his father, saying: A group of polytheists came to the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, while he was camping. When he tasted it, he slipped away, and the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said: “Ali is the man, kill him.” Then the people rushed to him and said: “My father was in a hurry to outrun the horse, so he overtook them and caught him by the muzzle of his camel. So he killed him, then the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, plundered him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

احمد بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جعفر بن عون نے بیان کیا، کہا: ابو عمیس نے ایاس بن سلمہ بن اکوع سے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: مشرکین کا ایک گروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ جب اس نے اسے چکھا آپ وہ کھسک گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی وہ شخص ہے، اسے قتل کر دو۔ پھر لوگ اس کے پاس آئے اور کہا: میرے والد کو گھوڑے سے آگے نکلنے کی جلدی تھی، اس نے ان کو پکڑ لیا اور اپنے اونٹ کے منہ سے پکڑ لیا، آپ انہوں نے اسے قتل کر دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لوٹ لیا۔

8523

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8523

أنبأ أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَتَبَ إِلَى قَيْصَرَ يَدْعُوهُ إِلَى الإِسْلامِ ، وَبَعَثَ بِكِتَابِهِ مَعَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ ،وَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى ، لِيَدْفَعَهُ إِلَى قَيْصَرَ ، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ بُصْرَى إِلَى قَيْصَرَ ، وَكَانَ قَيْصَرُ لَمَّا كَشَفَ اللَّهُ عَنْهُ جُنُودَ فَارِسَ ، مَشَى مِنْ حِمْصَ إِلَى إِيلِيَاءَ شُكْرًا لَمَّا أَبْلاهُ اللَّهُ ، فَلَمَّا جَاءَ قَيْصَرَ كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ حِينَ قَرَأَهُ : الْتَمِسُوا هَلْ هَهُنَا مِنْ قَوْمِهِ مِنْ أَحَدٍ ؟ ليَسْأَلُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟، مُخْتَصَرٌ

EnglishUnverified translation

Abu Dawud narrated, he said: Ya’qub narrated to us, he said: My father narrated to us, on the authority of Salih, on the authority of Ibn Shihab, he said: Ubayd Allah ibn Abd informed me. Allah ibn Utbah said that Abdullah ibn Abbas informed him that the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, wrote to Caesar inviting him to Islam. He sent his letter with Dihya al-Kalbi, and the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, ordered him to deliver it to the chief of Busra, so that he could deliver it to the governor of Busra. Caesar, so the Azim of Busra gave him to Caesar, and when Caesar was revealed by God to the soldiers of Persia, he walked from Homs to Ilia in thanks for what God made him successful. When Caesar brought the letter of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, he said when he read it: Seek, is there anyone here among his people? To ask him about the Messenger of God, may God bless him and grant him peace?, brief.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوداؤد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے یعقوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے میرے والد نے، صالح کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھے عبید اللہ بن عبد نے خبر دی ہے۔ اللہ بن عتبہ نے کہا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر کو خط لکھا جس میں انہیں اسلام کی دعوت دی۔ اس نے اپنا خط دحیہ الکلبی کے پاس بھیجا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اسے بصرہ کے سردار تک پہنچا دو تاکہ وہ اسے گورنر بصرہ تک پہنچا دیں۔ قیصر، چنانچہ بصرہ کے عجم نے اسے قیصر کے حوالے کر دیا، اور جب قیصر کو خدا کی طرف سے فارس کے سپاہیوں پر نازل کیا گیا، تو وہ حمص سے ایلیا تک پیدل چل کر اس کا شکر ادا کیا کہ خدا نے اسے کامیاب کیا۔ جب قیصر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط لے کر آیا آپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پڑھتے ہوئے کہا: تلاش کرو، کیا ان کی قوم میں کوئی ہے؟ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھنا، اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائے؟، مختصر۔

8524

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8524

أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ كِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كِسْرَى ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى ،وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ ، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى ، فَلَمَّا قَرَأَهُ كِسْرَى مَزَّقَهُ """

EnglishUnverified translation

Ahmad bin Amr bin Al-Sarh reported, saying: Ibn Wahb told us, saying: Yunus informed me, on the authority of Ibn Shihab, on the authority of the letter of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace. May God bless him and grant him peace. To Khosrau, Ibn Shihab said: Ubayd Allah told me that Abdullah bin Abbas told him that the Messenger of God, may God bless him and grant him peace “He sent his letter to Khosrau, and ordered him to deliver it to the Grandmaster of Bahrain, so the Grandmaster of Bahrain delivered it to Khosrau,” he said. When Khosrau read it, he tore it up.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے یونس نے ابن شہاب کی سند سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خط سے خبر دی۔ خدا اس پر رحم کرے اور اسے سلامتی عطا کرے۔ خسرو کے پاس، ابن شہاب نے کہا: مجھے عبید اللہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا خط خسرو کے پاس بھیجا اور حکم دیا کہ وہ اسے بحرین کے گرینڈ ماسٹر کے پاس پہنچا دے، تو بحرین کے گرینڈ ماسٹر نے اسے خسرو کے حوالے کر دیا۔ خسرو نے اسے پڑھا تو پھاڑ دیا۔

8525

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8525

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَتَبَ قَبْلَ مَوْتِهِ إِلَى كِسْرَى ، وَإِلَى قَيْصَرَ ، وَإِلَى النَّجَاشِيِّ ، وَإِلَى كُلِّ جُبَارٍ ، يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى ، لَيْسَ النَّجَاشِيُّ الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

EnglishUnverified translation

Yusuf bin Hammad told us, he said: Abdul Ala told us, on the authority of Sa`id, on the authority of Qatada, on the authority of Anas, that the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, “ Before his death, he wrote to Chosroes, to Caesar, to the Negus, and to every tyrant, calling them to God Almighty, not the Negus who prayed. The Messenger of God, may God bless him and grant him peace.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے یوسف بن حماد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبد العلا نے سعید کی سند سے، قتادہ کی روایت سے، وہ انس رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے پہلے خسرو کو، قیصر کو، نجاشی کو اور ہر اس ظالم کو لکھا، جو اللہ کے رسول کو پکارتا تھا، وہ اللہ کے رسول کو پکارتا نہیں تھا۔ خدا اسے برکت دے اور اسے سلامتی عطا فرمائے۔\" 8526"""

8526

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8526

أنبأ حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ بِشْرٍ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ كِتَابًا إِلَى الرُّومِ ، فَقَالُوا : إِنَّهُمْ لا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلا مَخْتُومًا ،فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ ، وَنَقَشَ فِيهِ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ """

EnglishUnverified translation

Humayd ibn Masada narrated on the authority of Bishr, who is Ibn al-Mufaddal, who said: Shu`bah narrated to us, on the authority of Qatada, on the authority of Anas, who said: The Messenger of God wanted God, may God’s prayers and peace be upon him, asked him to write a letter to the Romans, and they said: “They do not read a letter unless it is sealed.” So he took a silver seal. It is as if I were looking at the whiteness of it in his hand, and engraved on it: Muhammad is the Messenger of God.” (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمید بن مسعدہ نے بشر کی روایت سے جو ابن المفضل ہیں، انہوں نے کہا: ہم سے شعبہ نے قتادہ کی روایت سے اور انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ وہ رومیوں کو خط لکھیں، اور انہوں نے کہا: بحریہ کے بغیر خط نہیں پڑھا"۔ چنانچہ اس نے چاندی کی مہر لی۔ گویا میں اس کے ہاتھ میں اس کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں اور اس پر کندہ کر رہا ہوں: محمد اللہ کے رسول ہیں۔

8527

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8527

أنبأ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ ، وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ ، وَالثَّلاثَةُ رَكْبٌ """

EnglishUnverified translation

Qutayba bin Saeed reported, on the authority of Malik, on the authority of Abd al-Rahman bin Harmala, on the authority of Amr bin Shuaib, on the authority of his father, on the authority of his grandfather, that The Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said: “The rider is a devil, and the two riders are two devils, and the three are riders.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتیبہ بن سعید مالک سے، عبدالرحمٰن بن حرملہ سے، عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوار شیطان ہے، سوار دو ہیں اور سوار دو شیطان ہیں۔

8528

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8528

أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ ، قَالَ : عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ ما فِي الْوَحْدَةِ ، مَا سَارَ رَاكِبٌ بِلَيْلٍ أَبَدًا """

EnglishUnverified translation

Al-Mughirah bin Abdul Rahman told us, he said: Muhammad bin Rabi’ah told us, he said: Omar bin Muhammad Al-Amri told us, he said: On the authority of his father, On the authority of Ibn Umar, he said: The Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said: “If people knew what is in a loneliness, a rider would never travel at night.” (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے المغیرہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن ربیعہ نے بیان کیا، انہوں نے فرمایا کہ ہم سے عمر بن محمد العامری نے بیان کیا، انہوں نے کہا: اپنے والد سے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ رات میں کیا ہوتا ہے تو کبھی سفر نہ کرتے“۔

8529

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8529

الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مِنَ الْوَحْدَةِ ، مَا أَعْلَمُ مَا سَارَ رَاكِبٌ وَحْدَهُ بِلَيْلٍ """

EnglishUnverified translation

Al-Harith bin Miskin read about it, and I hear, on the authority of Sufyan, on the authority of Asim, on the authority of his father, that he heard his grandfather Abdullah bin Omar He narrates, on the authority of the Prophet, may God bless him and grant him peace, who said: “If people knew about loneliness, I would not know if a rider traveled alone at night.” (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حارث بن مسکین نے اس کے بارے میں پڑھا اور میں نے سفیان سے، عاصم کی روایت سے، اپنے والد سے سنا کہ انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن عمر سے سنا، وہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: \اگر لوگوں کو تنہائی کا علم ہوتا تو میں رات کو تنہا سفر نہ کرتا۔\""""

8530

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8530

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ يَوْمًا فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفِهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ : إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفِي ، وَأَنَا نَائِمٌ ، فَاسْتَيْقَظْتُ ، وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا " ، فَقَالَ لِي : مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ فَقُلْتُ : " اللَّهُ " ، فَقَالَ لي : مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ فَقُلْتُ : " اللَّهُ " ، فَشَامَ السَّيْفَ وَجَلَسَ ، وَهُوَ ذَا جَالِسٌ "، ثُمَّ لَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Ismail bin Ibrahim told me, he said: Suleiman told us, he said: Ibrahim told me, on the authority of Al-Zuhri, on the authority of Sinan bin Abi Sinan al-Du’ali, that Jabir bin Abdullah al-Ansari told him that he had launched a raid with the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, before Najd. Then one day the woman who said it met them in a valley full of brooks, so the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, descended, and the people dispersed in the brook, seeking shade. By trees, and the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, descended under a tree and stuck his sword to it. The Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said to a man He said to him: “This man pierced my sword while I was sleeping, and I woke up with a prayer in his hand.” So he said to me: Who will protect you from me? So I said: “God,” and he said to me: Who will prevent you from me? So I said: “By God,” and he drew the sword and sat down, and behold, he was sitting. Then the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, did not punish him. (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجھ سے محمد بن اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابراہیم نے الزہری کی سند سے، سنان بن ابی سنان الدعالی کی سند سے، ان سے جابر بن عبداللہ الانصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک چھاپہ مارا تھا۔ پھر ایک دن وہ عورت جس نے یہ کہا تھا ان سے نہروں سے بھری وادی میں ملاقات ہوئی آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے اور لوگ سایہ کی تلاش میں نالے میں منتشر ہو گئے۔ درختوں سے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے اترے اور اپنی تلوار اس سے چپکا دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: اس شخص نے میری تلوار کو اس وقت چھید دیا جب میں سو رہا تھا اور میں اس کے ہاتھ میں دعا کے ساتھ بیدار ہوا۔ تو اس نے مجھ سے کہا: تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ تو میں نے کہا: \خدا\" اور اس نے مجھ سے کہا: تمہیں مجھ سے کون روکے گا؟ تو میں نے کہا: \"خدا کی قسم\" اور وہ تلوار نکال کر بیٹھ گیا، اور دیکھو وہ بیٹھا ہوا تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب نہیں دیا۔"""

8531

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8531

أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَلْقَمَةَ ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : كَذَا فِي كِتَابِي ، وَالصَّوَابُ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَذَكَرُوا أَنَّهُمْ نَزَلُوا دَهَاسًا مِنَ الأَرْضِ يَعْنِي بِالدَّهَاسِ : الرَّمْلَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَكْلَؤُنَا ؟ " فَقَالَ بِلالٌ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِذًا تَنَامُ " ، فَنَامُوا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَاسْتَيْقَظَ نَاسٌ فِيهِمْ فُلانٌ وَفُلانٌ ، وَفِيهِمْ عُمَرُ ، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " افْعَلُوا كَمَا كُنْتُمُ تَفْعَلُونَ " ، فَفَعَلْنَا ، قَالَ : " كَذَلِكَ فَافْعَلُوا لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِيَ " ، قَالَ : فَضَلَّتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطَلَبْتُهَا ، فَوَجَدْتُ حَبْلَهَا قَدْ تَعَلَّقَ بِشَجَرَةٍ ، فَجِئْتُ بِهَا ، فَرَكِبَ فَسِرْنَا ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ ، اشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، وَعَرَفْنَا ذَلِكَ فِيهِ ، فَتَنَحَّى مُنْتَبِذًا خَلْفَنا ، فَجَعَلَ يُغَطِّي رَأْسَهُ ، فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ ، حَتَّى عَرَفْنَا أَنَّهُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ ، فَأَتَانَا ، فَأَخْبَرَنَا أَنَّهُ أُنْزِلَ عَلَيْهِ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا "

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Al-Muthanna and Muhammad bin Bashar reported on the authority of Muhammad, who said: Shu’bah told us, on the authority of Jami’ bin Shaddad, who said: I heard Abd al-Rahman Ibn Alqama, Abu Abdul Rahman said: This is in my book, and the correct thing is: Abdul Rahman bin Abi Alqama, he said: I heard Abdullah bin Masoud said: We arrived with the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, at the time of Hudaybiyyah, and they mentioned that they descended trampling through the land, meaning By being trampled on by sand. Then the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said: “Who will eat us?” Bilal said: It is me, O Messenger of God. He said: “Then you sleep?” So they slept until the sun rose, then some people woke up among them so-and-so and so-and-so, and among them was Omar. The Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, woke up and said: “Do as “You used to do it.” So we did. He said: “So do it for someone who fell asleep or forgot.” He said: The camel of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, lost weight. So I looked for her, and I found that her rope was attached to a tree, so I brought her, and we rode, and when the Prophet, may God bless him and grant him peace, descended The revelation was upon him, and this became difficult for him, and we knew that about him, so he moved aside, withdrawing behind us, and began to cover his head, and it became difficult for him, until We knew that it had been revealed to him, so he came to us, so he informed us that it had been revealed to him. Indeed, We have opened for you a clear opening. (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن المثنیٰ اور محمد بن بشار نے محمد سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، جامی بن شداد سے، انہوں نے کہا: میں نے عبدالرحمٰن بن علقمہ سے سنا، ابو عبدالرحمٰن نے کہا: یہ میری کتاب میں ہے، اور صحیح بات یہ ہے: عبدالرحمٰن بن ابی علقمہ، انہوں نے کہا: ہم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: حدیبیہ کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پیش کیا اور انہوں نے ذکر کیا کہ وہ زمین سے روندتے ہوئے اترے تھے، یعنی ریت سے روندتے ہوئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں کون کھائے گا؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہوں یا رسول اللہ! اس نے فرمایا: پھر آپ سوتے ہو؟ چنانچہ وہ سوتے رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوا، پھر ان میں سے کچھ لوگ جاگ گئے، فلاں فلاں، اور ان میں عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور فرمایا: \ویسی کرو جیسا کہ آپ کرتے تھے۔\" تو ہم نے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس ایسا کرو جو سو گیا ہو یا بھول گیا ہو۔ اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا وزن کم ہو گیا۔ چنانچہ میں نے اسے تلاش کیا تو میں نے دیکھا کہ اس کی رسی ایک درخت کے ساتھ لگی ہوئی ہے تو میں اسے لے آیا اور ہم سوار ہوئے اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اترے تو ان پر وحی نازل ہوئی اور یہ بات ان کے لیے مشکل ہوگئی اور ہمیں ان کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ ہمارے پیچھے ہٹ گیا اور اپنا سر ڈھانپنے لگا، یہاں تک کہ اس پر نازل ہونا مشکل ہو گیا۔ تو اس نے ہمیں بتایا کہ یہ ان پر نازل ہوا ہے۔ بے شک ہم نے تمہارے لیے ایک کھلا دروازہ کھول دیا ہے۔"""

8532

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8532

أنبأ سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : أنبأ عَبْدُ اللَّهِ ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَانَ الْحُدَيْبِيَةِ ، قَالَ : مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ ؟ " قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَقُلْتُ : أَنَا ، قَالَ : " إِنَّكَ تَنَامُ " وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ ؟ " قَالَ : فَقُلْتُ : أَنَا ، قَالَ : " إِنَّكَ تَنَامُ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ ؟ " قَالَ : وَسَكَتَ الْقَوْمُ ، فَقُلْتُ : أَنَا ، قَالَ : " فَأَنْتَ إِذًا " ، قَالَ : فَحَرَسْتُهُمْ ، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ أَدْرَكَنِي ، مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنِمْتُ فَمَا اسْتَيْقَظْتُ ، إِلا بِحَرِّ الشَّمْسِ عَلَى أَكْتَافِنَا ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَنَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ لا تَنَامُوا عَنْهَا ، لَمْ تَنَامُوا ، وَلَكِنْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ سُنَّةً لِمَنْ بَعْدَكُمْ ، لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِيَ """

EnglishUnverified translation

Suwayd bin Nasr reported, he said: Abdullah reported, on the authority of Al-Masudi, on the authority of Jami’ bin Shaddad, on the authority of Abdul Rahman bin Abi Alqamah, he said: He said: Abdullah: When the Prophet, may God bless him and grant him peace, returned at the time of Hudaybiyyah, he said: “Who is guarding us tonight?” Abdullah said: So I said: I, he said. “You are sleeping,” and the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said: “Who is guarding us tonight?” He said: So I said: I am. He said: “You are sleeping,” then he said. The Messenger of God, may God bless him and grant him peace: “Who is guarding us tonight?” He said: And the people remained silent, so I said: I am. He said: “Then you?” He said: So I guarded them until, at dawn, they overtook me, as the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said. So I slept and did not wake up except for the sea. The sun is on our shoulders, so the Prophet, may God bless him and grant him peace, got up and did as he used to do, and the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said: “If God had willed That you do not sleep on it, you did not sleep on it, but God wanted it to be a Sunnah for those after you, for those who slept or forgot.” (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سوید بن نصر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: عبداللہ نے مسعودی سے، جامی بن شداد سے، عبدالرحمٰن بن ابی علقمہ سے، انہوں نے کہا: انہوں نے کہا: عبداللہ: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے وقت واپس آئے آپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم رات کو پہرہ دے رہے ہیں؟ عبداللہ نے کہا: تو میں نے کہا: میں، اس نے کہا۔ \آپ سو رہے ہو\" اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: \"آج رات ہماری حفاظت کون کر رہا ہے؟\" اس نے کہا: تو میں نے کہا: میں ہوں۔ اس نے کہا: تم سو رہے ہو، پھر اس نے کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: \"آج رات ہماری حفاظت کون کر رہا ہے؟\" اس نے کہا: اور لوگ خاموش رہے، تو میں نے کہا: میں ہوں۔ اس نے کہا: پھر تم؟ انہوں نے کہا: پس میں نے ان کی حفاظت کی یہاں تک کہ فجر کے وقت انہوں نے مجھے پکڑ لیا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ چنانچہ میں سو گیا اور سمندر کے سوا نہیں جاگا۔ سورج ہمارے کندھوں پر ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور جیسا آپ کرتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: \"اگر اللہ چاہتا کہ تم اس پر نہ سوؤ، تو تم اس پر نہ سوئے، لیکن اللہ نے چاہا کہ یہ تمہارے بعد والوں کے لیے، سوئے ہوئے یا بھول جانے والوں کے لیے سنت ہو۔\""""

8533

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8533

أنبأ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَانَ الْحُدَيْبِيَةِ ، قَالَ : لا تُوقِدُوا نَارًا بِلَيْلٍ " ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ ، قَالَ : " أَوْقِدُوا وَاصْطَنِعُوا ، فَإِنَّهُ لا يُدْرِكُ قَوْمٌ بَعْدَكُمْ صَاعَكُمْ وَلا مُدَّكُمْ """

EnglishUnverified translation

Yaqoub bin Ibrahim reported, he said: Yahya told us, on the authority of Muhammad bin Abi Yahya, he said: My father told me, that Abu Sa`id al-Khudri He told him that when the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, was in Al-Hudaybiyyah, he said: “Do not light a fire at night.” So when he was after that, he said: “ “Incite and create, for no people after you will realize your allowance or your supply.” (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن ابی یحییٰ سے، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے، ان سے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ میں تھے آپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کو آگ نہ جلاو۔ چنانچہ جب وہ اس کے بعد تھا، تو اس نے کہا: ’’بڑھاؤ اور پیدا کرو، کیونکہ تمہارے بعد کوئی بھی شخص تمہارے الاؤنس یا سپلائی کا احساس نہیں کرے گا۔‘‘

8534

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8534

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، عَنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلاءِ بْنِ زَبر ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عُبَيْدِ اللَّهِ مُسْلِمَ بْنَ مِشْكَمٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلا ، فَعَسْكَرَ ، تَفَرَّقُوا عَنْهُ فِي الشِّعَابِ وَالأَوْدِيَةِ ، فَقَامَ فِيهِمْ ، فَقَالَ : إِنَّ تَفَرُّقَكُمْ فِي الشِّعَابِ وَالأَوْدِيَةِ ، إِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ "، فَكَانُوا إِذَا نَزَلُوا بَعْدَ ذَلِكَ ، انْضَمَّ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، حَتَّى إِنَّكَ تَقُولُ : لَوْ بَسَطْتَ عَلَيْهِمْ كِسَاءً لعَمَّتْهُمْ ، أَوْ نَحْوُ ذَلِكَ"

EnglishUnverified translation

Amr bin Uthman told me, on the authority of Al-Walid, on the authority of Abdullah bin Al-Ala bin Zubr, that he heard from Abu Ubayd Allah Muslim bin Mishkam, He says: Abu Tha’labah Al-Khushani told us, he said: Whenever the Prophet, may God bless him and grant him peace, camped at a place, he would camp, and they would separate from him in the forests. And the valleys, so he stood among them and said: “Your dispersal among the paths and valleys is only from Satan.” So when they descended after that They joined one another, to the point that you say: If you had spread a covering over them, you would have covered them, or something like that. (Peace Be Upon Him)

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجھ سے عمرو بن عثمان نے ولید سے، عبداللہ بن علاء بن زبر کی سند سے، انہوں نے ابو عبید اللہ مسلم بن مشکم سے سنا، وہ کہتے ہیں: ہم سے ابو ثعلبہ خشنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیمہ لگایا، آپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم الگ جگہ پر پڑاؤ ڈالتے اور سب سے الگ جگہ پر پڑاؤ ڈالتے۔ اور وادیاں، آپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: \تمہارا راستوں اور وادیوں میں پھیلنا شیطان کی طرف سے ہے۔\" پس جب وہ اس کے بعد اترے تو وہ ایک دوسرے سے مل گئے، یہاں تک کہ تم کہتے ہو: اگر تم ان پر چادر بچھا دیتے تو تم انہیں ڈھانپ لیتے، یا اس جیسی کوئی چیز۔"""

8535

Al-Sunan al-Kubra Nasai #8535

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْفِرُ مَعَنَا الْخَنْدَقَ ، وَالتُّرَابُ قَدْ عَلا بَطْنَهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ لَوْلا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلا تَصَدَّقْنَا وَلا صَلَّيْنَ فَأَنْزِلنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا إِنَّ الأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا دِينَنَا أَبَيْنَا """

EnglishUnverified translation

Ali bin Al-Hussein told us, he said: Umayyah told us, on the authority of Shu’bah, on the authority of Abu Ishaq, on the authority of Al-Bara’, he said: The Messenger of God, may God bless him and grant him peace, was He, peace and blessings be upon him, was digging the trench with us, and the dirt was on his stomach, and he was saying: “O God, had it not been for you, we would not have been guided, nor would we have given charity, nor had we prayed.” So send down a peace upon us. Indeed, the evil ones have transgressed against us when they wanted our father’s religion.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہم سے علی بن الحسین نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے امیہ نے شعبہ کی سند سے، ابواسحاق کی سند سے، انہوں نے براء رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ خندق کھود رہے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے پیٹ میں مٹی نہیں تھی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”تمہارے پیٹ میں مٹی نہیں تھی۔ نہ ہم ہدایت پاتے، نہ ہم نے صدقہ دیا ہوتا، نہ ہم نماز پڑھتے۔\ تو ہم پر سلامتی نازل فرما۔ درحقیقت شریروں نے ہم پر ظلم کیا جب وہ ہمارے باپ کا دین چاہتے تھے۔\""""