5082 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ قَالَ : نَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ قَالَ : نَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ - قَالَ : وَكُنْتُ أَدْعُو جَدِّي أَبِي - قَالَ : نَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ : كَانَ لِآلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَادِمٌ تَخْدُمُهُمْ ، يُقَالُ لَهَا : بَرَّةُ ، فَلَقِيَهَا رَجُلٌ ، فَقَالَ لَهَا : يَا بَرَّةُ غَطِّي شُعَيْفَاتِكِ ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا لَنْ يُغْنِيَ عَنْكِ مِنَ اللهِ شَيْئًا ، فَأَخْبَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ مُحْمَرَّةً وَجْنَتَاهُ - وَكُنَّا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ نَعْرِفُ غَضَبَهُ بِجَرِّ رِدَائِهِ ، وَحُمْرَةِ وَجْنَتَيْهِ - فَأَخَذْنَا السِّلَاحَ ، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، مُرْنَا بِمَا شِئْتَ ، فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَوْ أَمَرْتَنَا بِأُمَّهَاتِنَا وَآبَائِنَا وَأَوْلَادِنَا لَأَمْضَيْنَا قَوْلَكَ فِيهِمْ ، [5/203] فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " مَنْ أَنَا ؟ " فَقُلْنَا : أَنْتَ رَسُولُ اللهِ . قَالَ : " نَعَمْ وَلَكِنْ مَنْ أَنَا ؟ " . فَقُلْنَا : أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ . قَالَ : أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ ، وَأَوَّلُ مَنْ يُنْفَضُ التُّرَابُ عَنْ رَأْسِهِ وَلَا فَخْرَ ، وَأَوَّلُ دَاخِلٍ الْجَنَّةَ وَلَا فَخْرَ ، مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَحِمِي لَا تَنْفَعُ ، لَيْسَ كَمَا زَعَمُوا ، إِنِّي لَأَشْفَعُ ، وَأُشَفَّعُ حَتَّى إِنَّ مَنْ أَشْفَعُ لَهُ لَيَشْفَعُ فَيُشَفَّعُ ، حَتَّى إِنَّ إِبْلِيسَ لَيَتَطَاوَلُ فِي الشَّفَاعَةِ " . " لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ إِلَّا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، تَفَرَّدَ بِهِ : عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ " .
EnglishUnverified translation
Muhammad ibn al-Abbas al-Mu'addib narrated to us, saying: Ubayd ibn Ishaq al-Attar narrated to us, saying: al-Qasim ibn Muhammad ibn Abdullah ibn Muhammad ibn Aqil narrated to us, saying: My father Abdullah ibn Muhammad ibn Aqil narrated to me - and I used to call my grandfather my father - saying: Jabir ibn Abdullah narrated to us, saying: The family of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) had a servant who served them, called Barrah. A man met her and said to her: O Barrah, cover your little hairs, for Muhammad will not avail you anything against Allah. She informed the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him), so he came out dragging his cloak with his cheeks reddened - and we, the Ansar, recognized his anger by the dragging of his cloak and the redness of his cheeks - so we took up arms, then came to him and said: O Messenger of Allah, command us as you wish; by the One Who sent you with the truth, if you commanded us regarding our mothers, fathers, and children, we would carry out your word concerning them. So he ascended the minbar, praised Allah and extolled Him, and said: Who am I? We said: You are the Messenger of Allah. He said: Yes, but who am I? We said: You are Muhammad ibn Abdullah ibn Abd al-Muttalib ibn Hashim ibn Abd Manaf. He said: I am the master of the children of Adam, and no boast; the first for whom the earth will split open, and no boast; the first from whose head the dust will be shaken off, and no boast; the first to enter Paradise, and no boast. What is the matter with people who claim that my kinship does not benefit? It is not as they claimed; I will intercede, and my intercession will be accepted, until even those for whom I intercede will intercede and their intercession will be accepted, until even Iblis will stretch forth hope in intercession. No one narrated this hadith from Abdullah ibn Muhammad ibn Aqil, from Jabir, except al-Qasim ibn Abdullah; Ubayd ibn Ishaq is alone in narrating it.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
ہم سے محمد بن عباس مؤدب نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبید بن اسحاق عطار نے بیان کیا، کہا: ہم سے قاسم بن محمد بن عبد اللہ بن محمد بن عقیل نے بیان کیا، کہا: مجھ سے میرے والد عبد اللہ بن محمد بن عقیل نے بیان کیا اور میں اپنے دادا کو والد کہتا تھا کہا: ہم سے جابر بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کی ایک خادمہ تھی جو ان کی خدمت کرتی تھی، اسے برہ کہا جاتا تھا۔ ایک شخص اس سے ملا اور اس سے کہا: اے برہ! اپنے بال ڈھانپ لو، کیونکہ محمد اللہ کے مقابلے میں تمہارے کچھ کام نہ آئیں گے۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی، تو آپ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے جبکہ آپ کے رخسار سرخ تھے اور ہم انصار آپ کے غصے کو چادر گھسیٹنے اور رخساروں کی سرخی سے پہچانتے تھے تو ہم نے ہتھیار اٹھائے، پھر آپ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں جو چاہیں حکم دیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، اگر آپ ہمیں ہماری ماؤں، باپوں اور اولاد کے بارے میں حکم دیں تو ہم ان میں آپ کا قول نافذ کر دیں گے۔ پس آپ منبر پر چڑھے، اللہ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا: میں کون ہوں؟ ہم نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ نے فرمایا: ہاں، لیکن میں کون ہوں؟ ہم نے کہا: آپ محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف ہیں۔ آپ نے فرمایا: میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور کوئی فخر نہیں، سب سے پہلا ہوں جس سے زمین پھٹے گی اور کوئی فخر نہیں، سب سے پہلا ہوں جس کے سر سے مٹی جھاڑی جائے گی اور کوئی فخر نہیں، سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والا ہوں اور کوئی فخر نہیں۔ ان لوگوں کا کیا حال ہے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ میری رشتہ داری نفع نہ دے گی؟ جیسا انہوں نے دعویٰ کیا ویسا نہیں، میں شفاعت کروں گا اور میری شفاعت قبول کی جائے گی، حتیٰ کہ جس کے لیے میں شفاعت کروں گا وہ بھی شفاعت کرے گا تو اس کی شفاعت قبول کی جائے گی، حتیٰ کہ ابلیس بھی شفاعت میں امید لگائے گا۔ یہ حدیث عبد اللہ بن محمد بن عقیل سے جابر سے قاسم بن عبد اللہ کے سوا کسی نے روایت نہیں کی، اس میں عبید بن اسحاق منفرد ہیں۔