Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 51–60 of 286

51

وَإِذْ وَٰعَدْنَا مُوسَىٰٓ أَرْبَعِينَ لَيْلَةًۭ ثُمَّ ٱتَّخَذْتُمُ ٱلْعِجْلَ مِنۢ بَعْدِهِۦ وَأَنتُمْ ظَٰلِمُونَ

اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ کیا تو تم نے ان کے پیچھے بچھڑے کو (معبود) مقرر کر لیا اور تم ظلم کر رہے تھے

Explained together with ayah 45

Al-Baqara 2:51Listen in Qur'an →
52

ثُمَّ عَفَوْنَا عَنكُم مِّنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

پھر اس کے بعد ہم نے تم کو معاف کر دیا، تاکہ تم شکر کرو

Explained together with ayah 45

Al-Baqara 2:52Listen in Qur'an →
53

وَإِذْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ

اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کئے، تاکہ تم ہدایت حاصل کرو

Explained together with ayah 45

Al-Baqara 2:53Listen in Qur'an →
54

وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ يَٰقَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنفُسَكُم بِٱتِّخَاذِكُمُ ٱلْعِجْلَ فَتُوبُوٓا۟ إِلَىٰ بَارِئِكُمْ فَٱقْتُلُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌۭ لَّكُمْ عِندَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ بھائیو، تم نے بچھڑے کو (معبود) ٹھہرانے میں (بڑا) ظلم کیا ہے، تو اپنے پیدا کرنے والے کے آگے توبہ کرو اور اپنے تئیں ہلاک کر ڈالو۔ تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے حق میں یہی بہتر ہے۔ پھر اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا۔ وہ بے شک معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے

Explained together with ayah 45

Al-Baqara 2:54Listen in Qur'an →
55

وَإِذْ قُلْتُمْ يَٰمُوسَىٰ لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ نَرَى ٱللَّهَ جَهْرَةًۭ فَأَخَذَتْكُمُ ٱلصَّٰعِقَةُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ

اور جب تم نے (موسیٰ) سے کہا کہ موسیٰ، جب تک ہم خدا کو سامنے نہ دیکھ لیں گے، تم پر ایمان نہیں لائیں گے، تو تم کو بجلی نے آ گھیرا اور تم دیکھ رہے تھے

Explained together with ayah 45

Al-Baqara 2:55Listen in Qur'an →
56

ثُمَّ بَعَثْنَٰكُم مِّنۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

پھر موت آ جانے کے بعد ہم نے تم کو ازسرِ نو زندہ کر دیا، تاکہ احسان مانو

Explained together with ayah 45

Al-Baqara 2:56Listen in Qur'an →
57

وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ ٱلْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمُ ٱلْمَنَّ وَٱلسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا۟ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقْنَٰكُمْ ۖ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

اور بادل کا تم پر سایہ کئے رکھا اور (تمہارے لیے) من و سلویٰ اتارتے رہے کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں، ان کو کھاؤ (پیو) مگر تمہارے بزرگوں نے ان نعمتوں کی کچھ قدر نہ جانی (اور) وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑتے تھے بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے تھے

Explained together with ayah 45

Al-Baqara 2:57Listen in Qur'an →
58

وَإِذْ قُلْنَا ٱدْخُلُوا۟ هَٰذِهِ ٱلْقَرْيَةَ فَكُلُوا۟ مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًۭا وَٱدْخُلُوا۟ ٱلْبَابَ سُجَّدًۭا وَقُولُوا۟ حِطَّةٌۭ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطَٰيَٰكُمْ ۚ وَسَنَزِيدُ ٱلْمُحْسِنِينَ

اور جب ہم نے (ان سے) کہا کہ اس گاؤں میں داخل ہو جاؤ اور اس میں جہاں سے چاہو، خوب کھاؤ (پیو) اور (دیکھنا) دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا اور حطة کہنا، ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے

Explained together with ayah 45

Al-Baqara 2:58Listen in Qur'an →
59

فَبَدَّلَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ قَوْلًا غَيْرَ ٱلَّذِى قِيلَ لَهُمْ فَأَنزَلْنَا عَلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ رِجْزًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ

تو جو ظالم تھے، انہوں نے اس لفظ کو، جس کا ان کو حکم دیا تھا، بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا، پس ہم نے (ان) ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا، کیونکہ نافرمانیاں کئے جاتے تھے

اذکار کے توقیفی ہونے کی دلیل - قول باری ہے : فبذل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لھم (مگر جو بات کہی گئی تھی ظالموں نے اسے بدل کر کچھ اور کردیا) اس آیت میں اذکار و اقوال کے سلسلے میں جس توقیف، یعنی جوں کے توں رکھنے کا جو ذکر ہے اس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ اذکار و اقوال میں تغیر و تبدل جائز نہیں ہے۔ اس سے بعض دفعہ ہمارے مخالفین ہمارے اس قول کے خلاف استدلال کرتے ہیں کہ ہم تعظیم و تسبیح کے الفاظ سے تحریمہ صلوۃ جائز قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح امام ابوحنیفہ کے نزدیک نماز کے اندر فارسی میں قرأت کا جواز ہے، نیز ہم تملیک کے لفظ سے بیع اور اسی طرح کے دوسرے عقود کے جواز کے قائل ہیں، لیکن ہمارے مخالفین کا یہ استدلال ہم پر الزم نہیں ہوتا اس لئے کہ زیر بحث آیت ان لوگوں کے متعلق ہے جن سے کہا گیا تھا کہ : ادخلوا الباب سجداً وقولوا حطۃ (بستی کے دروازے میں سجدہ ریز ہوتے داخل ہونا اور کہتے جانا حطۃ ، حطۃ ) یعنی خدا سے اپنی خطائوں کی معانفی مانگتے ہوئے جانا۔ حسن اور قتادہ نے کہا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ انہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ استغفار کرتے ہوئے بستی میں داخل ہوں۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ انہیں یہ کہنے کا حکم دیا گیا تھا کہ ” یہ بات برحق ہے اور اسی طرح ہے جیسے تم سے کہی گئی تھی، عکرمہ کے قول کے مطابق انہیں : لا الہ الا اللہ کہنے کا حکم ملا تھا، لیکن انہوں نے اس کے بجائے تجاہل اور استہزاء سے کام لیتے ہوئے، ” حنطۃ حمراء “ (سرخ گندم) کہنا شروع کردیا۔ حضرت ابن عباس اور دیگر صحابہ کرام نیز حسن بصری سے منقول ہے کہ یہ لوگ صرف اس لئے قابل مذمت گردانے گئے کہ انہوں نے امر شدہ افاظ کو ایسے الفاظ سے بدل ڈالا تھا جو معنی کے اعتبار سے ان کے اضداد تھے۔ انہیں توبہ اور استغفار کا حکم دیا گیا تھا، لیکن یہ لوگ اپنے گناہوں پر اصرار اور حکم الٰہی کے استہزاء کی راہ پر چل پڑے۔ جہاں تک معنی میں ترادف کے ساتھ الفاظ میں تبدیلی کا تعلق ہے تو زیر بحث آیت میں اس صورت سے کوئی تعرض نہیں کیا ہے، کیونکہ آیت تو ان لوگوں کی حکایت بیان کر رہی ہے جنہوں نے الفاظ و معانی دونوں میں تبدیلی پیدا کردی تھی اور اس کے نتیجے میں انہیں مذمت لاحق ہوگئی تھی۔ اب اس مذمت کے اندر ان کے ساتھ صرف ویہ لوگ شریک ہوں گے جو ہو بہو ان جیسا فعل کریں گے۔ لیکن جو شخص لفظ میں تبدیلی کر کے سابقہ معنی باقی رہنے دے تو آیت ایسے شخص کو اپنے دائرے میں نہیں لیتی۔- آیت میں مذکورہ لوگوں کے فعل بد کی نظیر ان لوگوں کا فعل ہے جو اس قول باری : الا علی ازواجھم او ما ملکت ایمانھم (مگر اپنی بیویوں اور اپنی لونڈیوں) کی موجودگی میں متعہ کے جواز کے قائل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو اس آیت کے ذریعے عورت کی شرمگاہ کو صرف دو صورتوں کے اندر مباح کرنے کی رہنمائی کردی ہے۔ اس لئے جو شخص متعہ کے ذریعے جو معنی اور لفظ دونوں کے اعتبار مباح کرنے کی رہنمائی کردی ہے۔ اس لئے جو شخص متعہ کے ذریعے جو معنی اور لفظ دونوں کے اعتبار سے نکاح اور ملک یمین کے خلاف ہے، عورت کی شرمگاہ کو مباح قرار دے گا اسے زیر بحث آیت کے حکم کے تحت مذکورہ بالا مذمت لاحق ہوجائے گی۔

Al-Baqara 2:59Listen in Qur'an →
60

۞ وَإِذِ ٱسْتَسْقَىٰ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ فَقُلْنَا ٱضْرِب بِّعَصَاكَ ٱلْحَجَرَ ۖ فَٱنفَجَرَتْ مِنْهُ ٱثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًۭا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍۢ مَّشْرَبَهُمْ ۖ كُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ مِن رِّزْقِ ٱللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے (خدا سے) پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مارو۔ (انہوں نے لاٹھی ماری) تو پھر اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، اور تمام لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کر (کے پانی پی) لیا۔ (ہم نے حکم دیا کہ) خدا کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی کھاؤ اور پیو، مگر زمین میں فساد نہ کرتے پھرنا

Explained together with ayah 59

Al-Baqara 2:60Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.