الٓمٓ
الم
No commentary on this ayah in this edition.
سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ
Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr
Ayahs 1–10 of 200
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
الٓمٓ
الم
No commentary on this ayah in this edition.
ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلْحَىُّ ٱلْقَيُّومُ
خدا (جو معبود برحق ہے) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہمیشہ زندہ رہنے والا
No commentary on this ayah in this edition.
نَزَّلَ عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ بِٱلْحَقِّ مُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنزَلَ ٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ
اس نے (اے محمدﷺ) تم پر سچی کتاب نازل کی جو پہلی (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اسی نے تورات اور انجیل نازل کی
No commentary on this ayah in this edition.
مِن قَبْلُ هُدًۭى لِّلنَّاسِ وَأَنزَلَ ٱلْفُرْقَانَ ۗ إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌۭ شَدِيدٌۭ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌۭ ذُو ٱنتِقَامٍ
(یعنی) لوگوں کی ہدایت کے لیے پہلے (تورات اور انجیل اتاری) اور (پھر قرآن جو حق اور باطل کو) الگ الگ کر دینے والا (ہے) نازل کیا جو لوگ خدا کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ان کو سخت عذاب ہوگا اور خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے
No commentary on this ayah in this edition.
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَخْفَىٰ عَلَيْهِ شَىْءٌۭ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا فِى ٱلسَّمَآءِ
خدا (ایسا خبیر وبصیر ہے کہ) کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں
No commentary on this ayah in this edition.
هُوَ ٱلَّذِى يُصَوِّرُكُمْ فِى ٱلْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَآءُ ۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ
وہی تو ہے جو (ماں کے پیٹ میں) جیسی چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں
No commentary on this ayah in this edition.
هُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ مِنْهُ ءَايَٰتٌۭ مُّحْكَمَٰتٌ هُنَّ أُمُّ ٱلْكِتَٰبِ وَأُخَرُ مُتَشَٰبِهَٰتٌۭ ۖ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِمْ زَيْغٌۭ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَٰبَهَ مِنْهُ ٱبْتِغَآءَ ٱلْفِتْنَةِ وَٱبْتِغَآءَ تَأْوِيلِهِۦ ۗ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُۥٓ إِلَّا ٱللَّهُ ۗ وَٱلرَّٰسِخُونَ فِى ٱلْعِلْمِ يَقُولُونَ ءَامَنَّا بِهِۦ كُلٌّۭ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ
وہی تو ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی جس کی بعض آیتیں محکم ہیں (اور) وہی اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ ہیں تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کا اتباع کرتے ہیں تاکہ فتنہ برپا کریں اور مراد اصلی کا پتہ لگائیں حالانکہ مراد اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جو لوگ علم میں دست گاہ کامل رکھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو عقل مند ہی قبول کرتے ہیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم - محکمات اور متشابہات کا بیان - قول باری ہے (ھوالذی انزل علیک الکتاب منہ ایات محکمات ھن امرالکتب واخرمتشابھات) وہی خدا ہے جس نے تم پر یہ کتاب نازل کی ہے اس میں دوطرح کی آیتیں ہیں ایک حکمات جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات تاآخر آیت ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی اس تفسیر کے آغاز میں محکم اور متشابہ کے معانی بیان کردیئے ہیں اور یہ بھی واضح کردیا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی دوقسمیں ہیں، ایک کے لحاظ سے پورے قرآن کو اس کے ساتھ موصوف کرنا ورست ہے اور دوسرے کے لحاظ سے قرآن کے بعض حصوں کو اس کے ساتھ مختص کرنا صحیح ہے قول باری ہے (الرکتاب احکمت آیاتہ ثم فصلت من لدن حکیم خبیر) ، الریہ کتاب ایسی ہے کہ اس کی آیات محکم ہیں اور پھر ان کی تفصیل ایک حکیم وخبیرذات کی طرف سے بیان کردی گئی ہے) نیز فرمایا (الرتلک آیات الکتاب الحکیم ، الر، یہ حکمت والی کتاب کی آیات ہیں) اللہ تعالیٰ نے ان آیات ہیں پورے قرآن کو صفت محکم کے ساتھ موصوف کردیا ہے۔- ایک جگہ ارشاد فرمایا (اللہ نزل احسن الحدیث کتا بامتشابھامثانی ما اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل کیا ہے، ایک کتاب باہم ملتی جلتی ہے اور بار باردہرائی ہوئی) یہاں اللہ تعالیٰ نے پورے قرآن کو صفت متشابہ کے ساتھ موصوف کردیا۔ پھر دوسری جگہ فرمایا (ھو) الذی انزل علیک الکتاب منہ ایات محکمات ھن امر الکتاب واخرمتشابھات) اس آیت میں یہ بیان کیا کہ قرآن کے بعض حصے محکم ہیں اور بعض حصے متشابہ ، محکمیت کی صفت جو پورے قرآن میں پائی جاتی ہے اس سے مراد وہ درستی صداقت اور اتقان اور پختگی جن کی بناپر قرآن کو ہر کلام پر فضیلت حاصل ہے رہ گئے قرآن مجید کے وہ مخصوص مقامات جن کے متعلق ارشاد ہوا (منہ ایات محکمات ھن ام الکتاب) تو اس سے مرادہروہ لفظ سے جس کے معنی میں کوئی اشتراک نہ ہو اور سامع کے نزدیک اس میں ایک کے سوا اور کسی معنی کا احتمال ہی نہ ہو۔- ہم نے اس بارے میں اہل علم کے اختلاف کا ذکر کردیا ہے تاہم اتنی بات ضرور ہے کہ اس آیت میں مذکورلفظ احکام ہمارے بیان کردہ مفہوم کو لازما اپنے ضمن میں لیئے ہوئے ہے۔ یعنی وہ آیات جو کتاب کی اصل بنیاد قراردی گئی ہیں اور جنکی طرف متشابہات کو لوٹایاجاتا ہے۔ یعنی متشابہات کے معانی کی تقین کے لیئے ان آیات کو معیار اورکسوٹی بنایاجاتا ہے تشابہ کی صفت جو پورے قرآن میں پائی جاتی ہے اور جس کا ذکرباری تعالیٰ نے ان الفاظ میں فرمایا، (کتابامتشابھا) تو اس سے مراد وہ ماثلت ہے جو آیات میں پائی جاتی ہے۔ نیز اس سے اس بات کی بھی نفی کرنا مقصود ہے کہ قرآنی آیات اختلاف بیان اور تضادات کے نقائص سے پاک ہیں۔ رہ گئے وہ متشابہات جو قرآن کے بعض حصوں کے ساتھ مختص ہیں تو ہم نے ان کے متعلق سلف کے اقوال کا تذکرہ کردیا ہے۔ حضرت ابن عباس سے یہ مروی ہے کہ محکم سے مرادناسخ اور متشابہ سے مراد منسوخ ہے۔ ہمارے نزدیک یہ محکم اور متشابہ کی ایک قسم ہے اس لیئے کہ حضرت ابن عباس نے اس بات کی نفی نہیں کی نفی نہیں کی کہ محکم اور متشابہ کی ان کے علاوہ اور صورتیں نہیں ہیں۔ اسی بات کی گنجائش ہے کہ ناسخ کو محکم کا نام دیاجائے اس لیئے کہ اس کا حکم اپنی جگہ باقی رہتا ہے اور عرب کے لوگ مضبوط اور پائیدار عمارت کو محکم کے نام سے پکارتے ہیں اسی طرح مضبوط لڑی والے ہارکو بھی محکم کا نام دیاجاتا ہے ۔ جسے کھولنا ممکن نہ ہو اس لیئے ناسخ کو بھی محکم کانا م دینا درست ہے اس لیئے کہ ناسخ کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں ثبات اور بقار کی صفت پائی جاتی ہے۔ دوسری طرف منسوخ کو متشابہ کہنا بھی درست ہے کیونکہ وہ تلاوت میں محکم کے مماثل ہوتا ہے۔ اس بناپر تلاوت کرنے والے کے لیئے اس کا حکم ثابت اور نسخ کے لحاظ سے مشتبہ ہوجاتا ہے۔ اس حیثیت سے منسوخ کو متشابہ کہنا درست ہے۔- جس شخص نے یہ کہا ہے کہ محکم وہ ہے جس کے الفاظ میں تکرارنہ ہو اور …
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْوَهَّابُ
اے پروردگار جب تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے تو اس کے بعد ہمارے دلوں میں کجی نہ پیدا کر دیجیو اور ہمیں اپنے ہاں سے نعمت عطا فرما تو تو بڑا عطا فرمانے والا ہے
Explained together with ayah 7
رَبَّنَآ إِنَّكَ جَامِعُ ٱلنَّاسِ لِيَوْمٍۢ لَّا رَيْبَ فِيهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُخْلِفُ ٱلْمِيعَادَ
اے پروردگار! تو اس روز جس (کے آنے) میں کچھ بھی شک نہیں سب لوگوں کو (اپنے حضور میں) جمع کرلے گا بے شک خدا خلاف وعدہ نہیں کرتا
Explained together with ayah 7
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَن تُغْنِىَ عَنْهُمْ أَمْوَٰلُهُمْ وَلَآ أَوْلَٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيْـًۭٔا ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمْ وَقُودُ ٱلنَّارِ
جو لوگ کافر ہوئے (اس دن) نہ تو ان کا مال ہی خدا (کے عذاب) سے ان کو بچا سکے گا اور نہ ان کی اولاد ہی (کچھ کام آئے گی) اور یہ لوگ آتش (جہنم) کا ایندھن ہوں گے
Explained together with ayah 7
Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.