Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 151–160 of 286

151

كَمَآ أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًۭا مِّنكُمْ يَتْلُوا۟ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا۟ تَعْلَمُونَ

جس طرح (منجملہ اور نعمتوں کے) ہم نے تم میں تمھیں میں سے ایک رسول بھیجے ہیں جو تم کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور تمہیں پاک بناتے اور کتاب (یعنی قرآن) اور دانائی سکھاتے ہیں، اور ایسی باتیں بتاتے ہیں، جو تم پہلے نہیں جانتے تھے

Explained together with ayah 150

Al-Baqara 2:151Listen in Qur'an →
152

فَٱذْكُرُونِىٓ أَذْكُرْكُمْ وَٱشْكُرُوا۟ لِى وَلَا تَكْفُرُونِ

سو تم مجھے یاد کرو۔ میں تمہیں یاد کیا کروں گا۔ اور میرے احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا

ذکر اللہ کے وجوب کا بیان - قول باری ہے : فاذکرونی اذکرکم ( لہٰذا تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا) یہ آیت اللہ کی یاد کے امر اور حکم کو متضمن ہے۔ ہم اللہ کو کئی طریقوں سے یاد کرسکتے ہیں، اس بارے میں سلف سے کئی اقوال منقول ہیں۔ ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے تم مجھے میری اطاعت کے ذریعے یاد رکھو میں تمہیں اپنی رحمت کے ذریعے یاد رکھوں گا۔ ایک اور قول ہے تم مجھے میری نعمتوں پر حمد و ثناء کے ذریعے یاد رکھو میں تمہیں تمہاری اطاعت کو سراہنے کے ذریعے یاد رکھوں گا۔ ایک اور قول ہے تم مجھے شکر کے ذریعے یاد رکھو میں تمہیں ثواب کے ذریعے یاد رکھوں گا۔ ایک اور قول کے مطابق تم مجھے دعا کے ذریعے یاد رکھو میں تمہیں دعا کی قبولیت کے ذریعے یاد رکھوں گا۔ تاہم آیت کے الفاظ ان تمام معانی کا احتمال رکھتے ہیں۔ آیت کے الفاظ ان سب کوش امل اور ان سب کو متحمل ہیں۔- اگر یہاں کہاجائے کہ یہ جائز نہیں ہے کہ ایک ہی فقط سے تمام معانی کو اللہ کی مراد قرار دیاجائے کیونکہ مذکورہ لفظ مختلف معانی میں مشترک ہیں، تو اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ بات اس طرح نہیں ہے اس لئے کہ یاد الٰہی کی یہ تمام مختلف صورتیں ایک ہی معنی کی طرف راجع ہوتی ہیں ذکر کا لفظ ایسا ہی ہے جیسے انسان کا اسم جو مذکر اور مونث سب کو شامل ہے یا اخواہ کا لفظ جو عینی، علاتی اور اخیانی تمام بھائیوں کو شامل ہے۔ اسی طرح لفظ شراکت اور اس جیسے دیگر الفاظ ہیں ان کا اطلاق اگرچہ مختلف معانی پر ہوتا ہے لیکن جس وجہ سے ان سب کو ایک نام دیاجاتا ہے وہ ہم معنی ہوتا ہے۔ یہی کیفیت ذکر اللہ کے لفظ کی ہے اس میں چونکہ طاعت کا معنی ہے اور اللہ کی طاعت کبھی ذکر باللسان سے کی جاتی ہے کبھی اعضاء وجو اروح سے صادر ہونے والے افعال و اعمال کے ذریعے کبھی اعتقاد قلب کے ذریعے، کبھی اس کی ذات کی نشاندہی کرنے والے دلائل سے، کبھی اس کی عظمت کے بارے میں غور و فکر کے ذریعے اور کبھی اس کے سامنے دست و عادرازکر نے اور اسے پکارنے سے، اس لئے ایک لفظ کے اندر ان تمام معانی کا ارادہ کرلیناجائز ہے جس طرح خود لفظ طاعت ہے کہ اس کے ذریعے مختلف قسموں کی تمام طاعات کا ارادہ کرنا درست ہے جبکہ طاعت کا حکم علی الاطلاق وارد ہو مثلاً یہ قول باری : اطیعو اللہ واطیعو الرسول ( اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو) ۔- اسی طرح لفظ معصیت ہے شریعت میں مذکور نہی کا لفظ معصیت کی تمام تر صورتوں کو شامل ہے۔ اس بنا پر قول باری : فاذکرونی ذکر الٰہی کی تمام صورتوں کے امرا ور حکم کو متضمن ہے ذکر کی ایک صورت تو اللہ کی اطاعت کی تمام شکلیں ہیں اور اطاعت ذکر الٰہی کی سب سے بڑھ کر عمومی صورت ہے۔ ذکر کی دوسری صورت یہ ہے کہ زبان سے اللہ کی ذات کی تعظیم کے لئے حمد و ثناء کی جائے۔ نیز شکر کے طورپر اور اس کی نعمتوں کے اعتراف کے طورپر اس کا نام لیاجائے اور ذکر الٰہی کی تیسری صورت یہ ہے کہ لوگوں کو اس کی ذات کی طرف بلا کر اس کی ذات کی نشاندہی کرنے والے دلائل و براہین سے آگاہ کرکے انہیں ان میں غورو فکر کی دعوت دی جائے اور اس کا ذکر کیا جائے۔- اسی طر ح لوگوں کے سامنے اللہ کی واحدانیت اور اس کی حکمت و قدرت ثابت کرکے نیز اس کی آیات و بنیات کی طرف توجہ دلا کر اس کا ذکر کیا جائے۔ ذکر الٰہ کی یہ تیسری قسم ذکر کی سب سے افضل قسم ہے اور ذکر کی دیگر تمام صورتیں اس پر مبنی اور اسی کی تابع ہیں اس کے ذریعے ہی یقین و طمانیت قلب حاصل ہوتی ہے۔ ارشاد باری ہے الا بذکر اللہ تطمئن القلوب ( آگاہ رہو اللہ ہی کی یاد سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے) اس سے ذکر قلب مراد ہے جو اللہ کی ذات کی نشاندہی کرنے والے دلائل و براہین نیز اس کی ایات و بنیات پر غور و فکر کا دوسرا نام ہے) ۔- ان دلائل و براہین نیز آیات و بینات پر غور و فکر میں جس قدر اضافہ ہوگا اسی قدر قلوب کو زیادہ اطمینان اور سکون نصیب ہوگا۔ یہی وہ …

Al-Baqara 2:152Listen in Qur'an →
153

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱسْتَعِينُوا۟ بِٱلصَّبْرِ وَٱلصَّلَوٰةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ

اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بےشک خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

قول باری ہے : یایھا الذین اٰمنو استعینوا بالصبروالصلاۃ ( ایے ایمان لانے والو، صبر اور نماز سے کام لو) اللہ سبحانہ نے اس آیت کا ذکر اپنے قول : فاذکرونی اذکرکم کے بعد فرمایا، جو اس امرپر دلالت کرتا ہے کہ صبر کرنا، نیز نماز پڑھنا اللہ کے ذکر کی ( جو اس کی ذات کی نشاندہی کرنے والے دلائل و براہین ، نیز اس کی قدرت و عظمت پر غور و فکر کا دوسرا نام ہے) انسانی عقول کے نزدیک ایک لطیف صورت ہے۔ یہ قول باری اس قول باری کی طرح ہے ان الصلوۃ تنھی علی الفحشاء والمنکر ( بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی رہتی ہے) اس کے بعد فرمایا : ولذکر اللہ اکبر۔ ( اور اللہ کا ذکر بڑھ کر ہے) یعنی اپنے دلوں کے اندر اللہ کو یاد کرنا، دوسرے الفاظ میں کائنات کے اندر اس کی ذات کی نشاندہی کرنے والے دلائل پر غور و فکر کرنا نماز پڑھنے سے بڑھ کر ہے کیونکہ نماز اس ذکر کو قائم و دائم رکھنے میں صرف مدد دیتی اور اس کی راہ ہموار کرتی ہے۔

Al-Baqara 2:153Listen in Qur'an →
154

وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَن يُقْتَلُ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمْوَٰتٌۢ ۚ بَلْ أَحْيَآءٌۭ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ

اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں ان کی نسبت یہ کہنا کہ وہ مرے ہوئے ہیں (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں جانتے

قول باری ہے : ولا تقولو ا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء ولکن لا تشعرون ( اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہوتا) اس آیت میں خبر دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ شہیدوں کو ان کی موت کے بعد زندہ کردیتا ہے۔ اس سے یہ مراد لینا درست نہیں کہ انہیں قیامت کے دن زندہ کیا جائے گا، اس لئے کہ اللہ کی مراد یہ ہوتی تو یہ نہ فرماتا : ولکن لا تشعرون اس لئے کہ اللہ سبحانہ کا یہ ارشاد اس بات کی خبر دے رہا ہے کہ موت کے بعد ان کی زندگی کا ہمیں علم نہیں ہے۔ اگر قیامت کے دن انہیں زندہ کرنا مراد ہوتا تو اہل ایمان کو اس کا شعور ہوتا اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس زندگی سے مراد وہ زندگی ہے جو انہیں قیامت سے پہلے ہی عطا کردی جائے گی۔ یہاں جب یہ بات جائز ہوگئی کہ اہل ایمان کو قیامت سے پہلے ان کی قبروں میں زندہ کردیاجائے گا اور وہ قبروں کے اندر اللہ کی نعمتوں سے بہرہ یاب ہوں گے تو یہ بھی جائز ہے کہ کافروں کو ان کی قبروں میں زندہ کرکے انہیں عذاب دیا جائے گا۔ یہ بات عذاب قبر کے منکرین کے قول کو باطل کردیتی ہے۔- یہاں اگر یہ کہاجائے کہ تمام اہل ایمان موت کے بعد اللہ کی نعمتوں سے سرفراز ہوں گے تو پھر اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کو کیوں خاص کیا گیا ؟- اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اللہ سبحانہ نے پہلے سے بشارت دے کر ان کے شرف اور ان کی عظمت کا ذکر کیا ہو اور پھر دوسری آیت میں وہ بات بیان فرما دی جو ان کے ساتھ مخصوص ہے، چناچہ ارشاد ہوا احیاء عند ربھم یرزقون ( وہ لوگ اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں رزق پاتے رہتے ہیں)- اگر یہاں یہ کہاجائے کہ وہ زندہ کس طرح ہوسکتے ہیں جب کہ ہم انہیں مردر ایا م کے بعد اپنی قبروں کے اندر بوسیدہ ہڈیوں کی شکل میں دیکھتے ہیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس بارے میں لوگوں کے دو اقوال ہیں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انسان دراصل روح کا نام ہے جو ایک لطیف جسم ہے اور راحت و تکلیف اسی روح کو لاحق ہوتی ہے۔ انسانی جثے کو لاحق نہیں ہوتی کچھ لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ انسان اس جسم کثیف کا نام جس کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔ ان کے قول کے مطابق اللہ سبحانہ، اس جسم کے بعض اجزاء کو اتنی مقدار میں لطیف بنا دیتا ہے کہ اس کے ذریعے انسانی ڈھانچہ قائم رہ سکے اور پھر آرام و راحت پہنچاتا ہے۔ یہ لطیف اجزاء اس طورپر رہتے ہیں کہ اللہ سبحانہ اپنے حسب منشاء ان کے استحقاق کے مطابق عذاب دیتا یا راحت پہنچاتا ہے۔ پھر اللہ سبحانہ، ان اجزاء کو قیامت سے پہلے دوسری مختولقات کی طرف فنا کردے گا اور قیامت کے دن حشر نشر کے لئے زندہ کردے گا۔- ابو القاسم عبداللہ بن محمد بن اسحاق المروزی نے حدیث بیان کی، ان سے الحسن بن یحییٰ بن ابی الربیع الجرجانی نے، ان سے عبدالرزاق نے، ان سے معمر نے زہری سے اور انہوں نے حضر ت کعب بن مالک (رض) سے سنا کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان کا نسمہ ( روح) پرندے کی شکل میں جنت کے درختوں سے لٹکتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ اسے اس کے جسد کی طرف لوٹا دیتا ہے۔

Al-Baqara 2:154Listen in Qur'an →
155

وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَىْءٍۢ مِّنَ ٱلْخَوْفِ وَٱلْجُوعِ وَنَقْصٍۢ مِّنَ ٱلْأَمْوَٰلِ وَٱلْأَنفُسِ وَٱلثَّمَرَٰتِ ۗ وَبَشِّرِ ٱلصَّٰبِرِينَ

اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میوؤں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے توصبر کرنے والوں کو (خدا کی خوشنودی کی) بشارت سنا دو

قول باری ہے : ولنبلونکم بشئی من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرات وبشر الصابرین الذین اذا اصابتھم مصیبۃ قالو ا انا للہ وانا الیہ راجعون ( اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدینوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمہاری آزمائش کریں گے۔ ان حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے تو کہیں کہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے، انہیں خوشخبری دے دو ( تا قول باری : واولئک ھم المھتدون ( اور یہی ہیں ہدایت یافتہ) عطاء الربیع اور حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ اس خطاب سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد الہجرۃ صحابہ کرام مراد ہیں۔- ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ یہ ممکن ہے کہ اللہ سبحانہ نے پہلے ہی ان سے وہ باتیں بیان کردیں جو ہجرت کے بعد انہیں اللہ کی راہ میں تکلیفوں اور سختیوں کی صورت میں پیش آنے والی تھیں۔ اس بیان کی دو وجہیں بیان ہوسکتی ہیں ۔ اول یہ کہ حضرات صحابہ کرام (رض) ان باتوں کے پیشگی سماع سے اپنی طبیعتوں کو سختیوں پر صبر کرنے کا عادی بنالیں تاکہ جب یہ مشکلات پیش آئیں تو ان پر بہ آسانی صبر کرسکیں۔- دوم یہ کہ نفس کا صبر کا عادی بنانے پر انہیں فوری طورپر اس کا ثواب مل جائے۔ قول باری وبشر الصابرین۔ یعنی ان لوگوں کو بشارت دیجئے جو مذکورہ شدائد پر صبر کرنے والے ہیں۔

Al-Baqara 2:155Listen in Qur'an →
156

ٱلَّذِينَ إِذَآ أَصَٰبَتْهُم مُّصِيبَةٌۭ قَالُوٓا۟ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ

ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

قول باری : الذین اذا اصابتھم مصیبۃ قالو انا للہ وانا الیہ راجعون سے مراد۔ واللہ اعلم۔- اس حالت میں ان کی طرف سے اللہ کے لیے عبودیت اور اس کی مالکیت کا اقرار ہے۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے انہیں آزما سکتا ہے تاکہ انہیں صبر کرنے کا ثواب عطا کرے اور ان کی ان کمزوریوں کی اصلاح کردے جن کا اسے علم ہے کیونکہ خیروصلاح کے کام کے سلسلے میں اللہ سبحانہ کی ذات پر کوئی الزام عائد نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے کہ اس کے تمام افعال حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اس طرح مذکورہ حالت کے اندر بندوں کی طرف سے عبودیت کا اقرار دراصل اپنا معاملہ اس کے سپرد کردینے اور آزمائش میں اس کے فیصلوں کے سامنے سر تسلیم خم کردینے کے مترادف ہے۔ جس طرح ارشاد ہے واللہ یقضی بالحق والذین یدعون من دونہ لا یقصون بشئی ( اللہ تعالیٰ مبنی برحق فیصلے کرتا ہے اور اس کے سوا جن کو یہ پکارتے ہیں وہ کسی چیز کا فیصلہ نہیں کرسکتے) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کا قول ہے میرے لئے آسمان سے گر جانا اس امر سے بڑھ کر پسندیدہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی فیصلے کے بارے میں لب کشائی کروں اور کہوں کاش ایسا فیصلہ نہ ہوتا۔- قول باری ہے : انا للہ وانا الیہ راجعون ( ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اس کی طرف ہی لوٹ کر جانے والے ہیں) اس میں بعث و نشور کا اقرار اور اس امر کا) اعتراف ہے کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو ان کے استحقاق کے مطابق بدلہ دے گا اور اس طرح اس کے ہاں نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں ہوگا۔ آگے اللہ نے ان نعمتوں کا ذکر فرمایا جو شدائد پر صبر کرنے والوں کے لئے اس کے ہاں ہیں۔ ارشاد ہوا : اولئک علیھم صلوات من ربھم ورحمۃ واولئک ھم المھتدون ( ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایت ہوں گی، اس کی رحمت ان پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رد ہیں) یعنی ان کے رب کی طرف سے ان پر برکتیں اور رحمتیں نازل ہوں گی اور ان کا رب ان کے صبر کو سرا ہے گا۔ یہ ایسی نعمتیں ہیں جن کی قدروقیمت کا اندازہ ذات باری کے سوا کسی اور کو نہیں ہے۔- ایک اور آیت میں ارشاد ہوا : انما یوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب۔ ( بیشک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بےحساب دیاجائے گا) زیر بحث آیت میں مذکورہ مصائب شدائد کی چند صورتیں وہ تھیں جو صحابہ کرام کے ساتھ مشرکین کے سلوک اور رویے کے سبب سے سامنے آنے والی تھیں اور چند صورتیں وہ تھیں جو اللہ کی طرف سے آزمائش کی شکل میں ظہور پذیر ہوئیں۔- مشرکین کے رویے کا اظہار تو یوں ہوا کہ مدینہ کے مہاجرین اور انصار کے سوا پورا عرب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دشمنی پر کمر بستہ ہوگیا تھا اور جس سے جوبن پڑا اس نے اپنے دل میں لگی ہوئی عداوت کی آگ بجھانے کے لئے کیا۔- آیت میں جس خوف کا ذکر ہے اس سے مراد صحابہ کرام (رض) کو لاحق ہونے والا وہ خوف ہے جو اپنی قلت اور دشمنوں کی کثرت تعداد کی وجہ سے انہیں لگا رہتا تھا۔- آیت میں جس جوع یعنی بھوک کا ذکر ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ صحابہ کرام (رض) تنگدست تھے اور انہیں فقرو فاقہ کے مراحل سے گزرنا پڑا تھا۔ فقرو فاقہ کے بارے میں یہ کہنا ممکن ہے کہ کبھی یہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے، وہ اس طرح کہ صحابہ کرام کے اموال تلف ہوجاتے اور اس کے نتیجے میں وہ فقر و فاقہ سے دوچار ہوجاتے۔ اس بارے میں یہ کہنا بھی ممکن ہے کہ دشمنوں کی وجہ سے بھی انہیں فقرو فاقہ کی تکلیف اٹھانی پڑی، یعنی ان پر دشمنوں کا غلبہ ہوجاتا۔- آیت میں جان و مال کے نقصانات اور پھلوں کی پیداوار میں کمی کا جو ذکر ہوا ہے اس میں دو احتمال ہے۔ مال کے نقصانات کے بارے میں یہ کہنا ممکن ہے کہ دشمن ان کا سبب ہوتا ہے، اسی طرح پھلوں کی پیداوار میں کمی کے سلسلے میں یہ کہنا درست ہے کہ حضرات صحابہ کرام (رض) دشمنوں کے ساتھ جنگوں میں مصروفیت کی بنا پر درختوں اور اراضی کی دیکھ بھال نہ کرسکتے اور اس طرح پیداوار میں کمی واقع ہوجاتی۔ یہ بھی کہنا درست ہے کہ آفات …

Al-Baqara 2:156Listen in Qur'an →
157

أُو۟لَٰٓئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَٰتٌۭ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌۭ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُهْتَدُونَ

یہی لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی مہربانی اور رحمت ہے۔ اور یہی سیدھے رستے پر ہیں

Explained together with ayah 156

Al-Baqara 2:157Listen in Qur'an →
158

۞ إِنَّ ٱلصَّفَا وَٱلْمَرْوَةَ مِن شَعَآئِرِ ٱللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ ٱلْبَيْتَ أَوِ ٱعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًۭا فَإِنَّ ٱللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ

بےشک (کوہ) صفا اور مروہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ تو جو شخص خانہٴ کعبہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے۔ (بلکہ طواف ایک قسم کا نیک کام ہے) اور جو کوئی نیک کام کرے تو خدا قدر شناس اور دانا ہے

صفا اور مروہ کے درمیان سعی - ارشاد باری ہے : ان الصفاء والمروۃ من شعائر اللہ فمن حج البیت او امتمر فلا جناح علیہ ان یطوف بھما ( یقینا صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں لہٰذا جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس کے لیے کوئی گناہ کی بات نہیں کہ وہ ا ن دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کرے) ابن عینیہ سے مروی ہے انہوں نے زہری سے اور انہوں نے عروہ سے روایت بیان کی ہے کہ میں نے مذکورہ بالا آیت کی تلاوت حضرت عائشہ (رض) کے سامنے کرکے ان سے کہا کہ اگر میں سعی نہ کروں تو مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہوگی۔ یہ سن کر حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : بھانجے تم نے بہت بری بات کہی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے درمیان سعی کی ہے اور مسلمانوں نے بھی ان کے درمیان سعی کی ہے۔ اس طرح سعی ایک سنت بن گئی۔ مناۃ بت کے نام لیوا ان کے درمیان سعی نہیں کرتے تھے۔ جب اسلام آگیا تو مسلمانوں نے ان کے درمیان سعی کرنے میں ہچکچاہٹ کا اظہار کیا۔ حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوگئی اس پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے درمیان سعی کی اور اس طرح یہ بات سنت قرار پائی۔- عروہ کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا تذکرہ ابوبکر بن عبدالرحمن (رض) سے کیا، تو انہوں نے کہا کہ : یہی علم کی بات ہے ۔ بہت سے اہل علم کا قول ہے کہ اس بارے میں صرف ایسے لوگوں نے سوال کیا تھا جو صفا مروہ کے درمیان سعی کیا کرتے تھے میرے خیال میں آیت کا نزول دونوں گروہوں کے بارے میں ہوا ہے۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے اس آیت کی تفسیر میں روایت بیان کی ہے کہ صفا پہاڑی پر بہت سے بت نصب تھے اور مسلمان ان بتوں کی وجہ سیس عی نہیں کرتے تھے اس پر اللہ نے آیت نازل فرمائی۔ فلا جناح علیہ ان یطوف بھما۔- ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) کے نزدیک اس آیت کے نزول کا سبب ان لوگوں کا سوال تھا جہ مناۃ بت کا نام بلند آواز سے پکارتے تھے اور اس کے پجاری ہونے کی بنا پر صفا اور مروہ کے درمیان چکر نہیں لگاتے تھے۔ جبکہ حضر ت ابن عباس اور ابوبکر بن عبدالرحمن کے قول کے مطابق آیت کا نزول ان لوگوں کے سوال کی وجہ سے ہوا تھا جو ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کرتے تھے۔ ان پہاڑوں پر بہت بت نصب تھے جس کی وجہ سے اسلام آنے کے بعد بھی لوگ ان کے درمیان سعی کرنے سے پرہیز کرتے تھے۔ ممکن ہے آیت کے نزول کا سبب ان دونوں گروہوں کا سوال ہو۔- صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے اور ایوب نے ابن ابن ملیکہ سے اور دونوں حضرت عائشہ (رض) سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی شخص کے حج اور عمرہ کو اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جب تک کہ اس نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہیں کرلی۔ ابو الطفیل نے حضرت ابن عباس (رض) سے ذکر کیا ہے کہ ان دونوں کے درمیان سعی سنت ہے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی ادائیگی کی ہے۔ عاصم الاحوال نے حضرت انس (رض) سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : ہم صفا اور مروہ کے درمیان سعی کو ناپسند نہیں کرتے تھے، حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوگئی۔ ان کے درمیان سعی نقل ہے۔ عطاء سے مروی ہے کہ انہوں نے ابن الزبیر (رض) سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جو شخص چاہے وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کرے۔ عطاء اور مجاہد سے منقول ہے کہ جو شخص صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کرے اس پر کوئی چیز عائد نہیں ہوگی۔- اس بارے میں فقہائے امصار کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب سفیان ثوری اور امام مالک کا قول ہے کہ حج اور عمرہ کے اندر سعی واجب ہے اور اگر اسے ترک کردیا گیا ہو تو اس کے بدلے دم، یعنی ایک جانور قربانی کردینا کافی ہوگا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ سعی ترک کرنے کی صورت میں دم دینا کافی نہیں ہوگا بلکہ متعلقہ شخص پر واپس آکر سعی کرنا لازم ہوگا۔- ابو بکر حصاص کہتے ہیں ہمارے اصحاب …

Al-Baqara 2:158Listen in Qur'an →
159

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَآ أَنزَلْنَا مِنَ ٱلْبَيِّنَٰتِ وَٱلْهُدَىٰ مِنۢ بَعْدِ مَا بَيَّنَّٰهُ لِلنَّاسِ فِى ٱلْكِتَٰبِ ۙ أُو۟لَٰٓئِكَ يَلْعَنُهُمُ ٱللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ ٱللَّٰعِنُونَ

جو لوگ ہمارے حکموں اور ہدایتوں کو جو ہم نے نازل کی ہیں (کسی غرض فاسد سے) چھپاتے ہیں باوجود یہ کہ ہم نے ان لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اپنی کتاب میں کھول کھول کر بیان کردیا ہے۔ ایسوں پر خدا اور تمام لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں

کتمان علم سے نہی کا بیان - قول باری ہے ان الذین یکتمون ما انزلنا من البینات والھدی۔ ( جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی روشن تعلیمات اور ہدایات کو چھپاتے ہیں) تاکہ آخر آیت۔ دوسری جگہ فرمایا۔ ان الذین یکتمون ما انزل اللہ من الکتب ویشترون بہ ثمناً قلیلاً ( جو لوگ ان احکام کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل کیے ہیں اور تھوڑے سے دینویں فائدوں پر انہیں بھینٹ چڑھاتے ہیں) تا آخر آیت۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہوا۔ واذا اخذ اللہ میثاق الذین اوتو الکتب لتبینۃ للناس ولا تکتمونہ ( ان اہل کتاب کو وہ عہد بھی یاد دلائو جو اللہ نے ان سے لیا تھا کہ تمہیں کتاب کی تعلیمات کو لوگوں میں پھیلانا ہوگا، انہیں پوشیدہ رکھنا نہیں ہوگا) یہ تمام آیتیں لوگوں کے سامنے علوم دین کو واضح کرنے کی موجب ہیں اور علوم دین کو چھپانے سے روکتی ہیں۔ یہ آیتیں چونکہ منصوص علیہ کے بیان کے لزول پر دلالت کرتی ہیں اس لئے یہ مدکول علیہ علم کو بیان کرنا بھی واجب کرتی ہیں۔ ارشاد باری ہے یکتمون ما انزلنا من البینت والھدی۔ یہ حکم اللہ سبحانہ کے تمام احکام کو شامل ہے کیونکہ ” الھدیٰ “ کا اسم سب کو شامل ہے اور قول باری یکتمون ما انزل اللہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس بارے میں نص یا دلیل کی جہت سے علم میں آنے والے احکام کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ قول باری لتبینتہ ولا تکتمونہ تمام احکامات کے لئے عام ہے۔ نیز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے علم میں آنے والے احکامات بھی ان آیات کے تحت ہیں۔ کتاب اللہ میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اخباء آحاد قبول کرنے پر بھی دلالت موجود ہے۔ خواہ یہ نص کی جہت سے ہو یا دلالت کی جہت سے۔- یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا ہے کہ اگر اللہ کی کتاب میں ایک آیت موجود نہ ہوتی تو میں کبھی تم سے حدیثیں بیان نہ کرتا۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی۔ ان الذین یکتمون ما انزلنا من البینت والھدی۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نے یہ بتادیا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی حدیث بھی بینات اور ہدی میں داخل ہے۔- شعبہ نے قتادہ سے قول باری :( واذا خذا اللہ میثاق الذین اوتو الکتب تا آخر آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ وہ عہد ہے جو اللہ سبحانہ نے اہل علم سے لیا ہے اس لئے جو شخص کسی حکم کا علم رکھتا ہو اسے چاہیے کہ دوسروں کو اس کی تعلیم دے۔ خبر دار تم کتمان علم سے ہمیشہ بچتے رہو کیونکہ کتمان علم ہلاکت ہے۔ علم کو بیان کرنے کے سلسلے میں اس آیت کی نظریہ قول باری ہے اگرچہ اس میں علم کو چھپانے والے کے لیے کسی وعید کا ذکر نہیں ہے۔ فلولا نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھو ا فی الدین ولینذرواقومھم اذا رجعو ا الیھم لعلھم یحذرون (مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہر حصہ میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جا کر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے تاکہ وہ (غیر مسلمانہ روشن سے ) پرہیز کرتے)- حجاج نے عطاء سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت بیان کی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص کسی بات کا علم رکھتا ہو اور پھر وہ اسے چھپائے تو قیامت کے دن وہ اس حالت میں آئے گا کہ اسے آگ کی لگام پہنا دی گئی ہوگی۔ - اگر یہاں یہ کہاجائے کہ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ زیر بحث آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی تھی جب انہوں نے اپنی کتابوں میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات کو چھپالیا ؟ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ایک سبب آیت کے عموم کے دائرے کو ان تمام صورتوں اور احکامات تک وسیع کردینے میں رکاوٹ نہیں بنتا جنہیں مذکورہ آیت اپنے ضمن میں لے لے۔ حکم کا مدار لفظ ہے سبب نہیں۔ الہ یہ کہ ایسی کوئی دلالت قائم ہوجائے جس سے صرف سبب پر اقتصار کرنا واجب قرار پائے۔- زیر بحث آیات سے ان اخبار کو قبول کرنے کے …

Al-Baqara 2:159Listen in Qur'an →
160

إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُوا۟ وَأَصْلَحُوا۟ وَبَيَّنُوا۟ فَأُو۟لَٰٓئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنَا ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ

ہاں جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کرلیتے اور (احکام الہیٰ کو) صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کے قصور معاف کردیتا ہوں اور میں بڑا معاف کرنے والا (اور) رحم والا ہوں

قول باری ہے : الا الذین تابو واصلحو وبینوا ( البتہ جو لوگ اس روش سے باز آ جائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں اور جو کچھ چھپاتے ہیں ( اسے بیان کرنے لگیں) یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ کتمان علم سے توبہ صرف اظہار بیان کے ذریعے ہوسکتی ہے اور توبہ کے لیے اتنی بات کافی نہیں ہے کہ ماضی میں کتمان پر ندامت کا اظہار کردیاجائے۔

Al-Baqara 2:160Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.