Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 141–150 of 286

141

تِلْكَ أُمَّةٌۭ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْـَٔلُونَ عَمَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

یہ جماعت گزر چکی۔ ان کو وہ (ملے گا) جو انہوں نے کیا، اور تم کو وہ جو تم نے کیا۔ اور جو عمل وہ کرتے تھے، اس کی پرسش تم سے نہیں ہوگی

Explained together with ayah 137

Al-Baqara 2:141Listen in Qur'an →
142

۞ سَيَقُولُ ٱلسُّفَهَآءُ مِنَ ٱلنَّاسِ مَا وَلَّىٰهُمْ عَن قِبْلَتِهِمُ ٱلَّتِى كَانُوا۟ عَلَيْهَا ۚ قُل لِّلَّهِ ٱلْمَشْرِقُ وَٱلْمَغْرِبُ ۚ يَهْدِى مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

احمق لوگ کہیں گے کہ مسلمان جس قبلے پر (پہلے سے چلے آتے) تھے (اب) اس سے کیوں منہ پھیر بیٹھے۔ تم کہہ دو کہ مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے، سیدھے رستے پر چلاتا ہے

قول باری ہے : سیقول السفھاء من الناس ماولھم عن قبلتھم التی کانوا علیھا ( نادان لوگ ضرور کہیں گے، انہیں کیا ہوا کہ پہلے یہ جس قبلے کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے اس سے یکا یک پھرگئے)- ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ اہل اسلام کے مابین اس امر میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں نیز ہجرت کے بعد ایک عرصے تک مدینہ میں بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے۔ حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت براء بن عازب (رض) نے کہا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدینہ تشریف آور کے سترہ مہینے بعد تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا۔ قتادہ نے کہا ہے کہ سولہ ماہ بعد۔ حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ یہ عرصہ نو ماہ یا دس ماہ کا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا۔- زیر بحث آیات کے اندر اللہ تعالیٰ نے نقاً بیان فرما دیا کہ نماز غیرکعبہ کے رخ ادا کی جاتی تھی اور پھر اللہ سبحانہ نے اپنے قول : سیقول السفھا من الناس تا آخر آیت کے ذریعے نیز : وما جعلنا القبلتہ التی کنت علیھا الا لنعلم من یتبع الرسول ممن ینقلب علی عقبیہ ( پہلے جس طرف تم رخ کرتے تھے اس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لیے قبلہ مقرر کیا تھا کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھرجاتا ہے) اور : قد نری تقلب وجھک فی السماء فلنولینک قلیلۃ ترضھا ( یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں، لو ہم اسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں جسے تم پسند کرتے ہو ( کے ذریعے قبلہ کا رخ پھیر دیا۔ مذکورہ بالا تمام آیات اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غیر کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی طرف رخ پھیر دیا تھا۔ یہ بات ان لوگوں کے قول کو باطل کردیتی ہے جو کہتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت میں کوئی ناسخ و منسوخ نہیں ہے۔- بیت المقدس کی طرف حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رخ کرنے کے بارے میں اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا یہ فرض تھا اور اس کے سوا کوئی اور بات جائز نہیں تھی، یا آپ کو بیت المقدس کی طرف اور اس کے سوا کسی اور طرف رخ کرنے کا اختیار تھا۔ الربیع بن انس کے قول کے مطابق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بارے میں اختیار دیا گیا تھا، جبکہ حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ بیت المقدس کی طرف رخ کرنا فرض تھا اور اس سلسلے میں کوئی تخییر نہیں تھی۔ مذکورہ بالا دونوں اقوال میں سے جو قول بھی قبول کیا جائے اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ بیت المقدس کی طرف رخ کرنا فرض تھا کیونکہ تخییرا سے فرضیت کے دائرے سے خارج نہیں کرتی جس طرح مثلاً کفائرہ یمین میں کئی باتوں کے درمیان تخییر ہے لیکن ان میں سے جس صورت کے تحت یہ کفارہ ادا کیا جائے گا وہ قرض قرار پائے گی۔ یا جس طرح اول یا درمیانی یا آخر وقت میں نماز کی ادائیگی۔ جعفر بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے علی بن ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہ انہوں نے فرمایا :” قرآن کی سب سے پہلی بات جو منسوخ ہوئی وہ قبلے کی بات تھی وہ اس طرح کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو اللہ نے آپ کو بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرنے کا حکم دیا۔ اس پر یہودی بڑے خوش ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ اوپر دس مہینے اس کی طرف رخ کیا لیکن آپ کو اپنے جد امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ دل سے پسند تھا۔ آپ اس کے لیے اللہ سے دعائیں کرتے اور آسمان کی طرف رخ کرنا فرض تھا اور مذکورہ بالا آیت کے ذریعے یہ فرضیت منسوخ ہوگئی۔ اس میں ان حضرات کے قول پر کوئی دلالت نہیں ہے جو کہتے ہیں کہ تخییر کے بغیر بیت المقدس کی طرف رخ کرنا فرض تھا۔ یہاں یہ بھی ممکن ہے کہ بیت المقدس کی طرف رخ …

Al-Baqara 2:142Listen in Qur'an →
143

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَٰكُمْ أُمَّةًۭ وَسَطًۭا لِّتَكُونُوا۟ شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِ وَيَكُونَ ٱلرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًۭا ۗ وَمَا جَعَلْنَا ٱلْقِبْلَةَ ٱلَّتِى كُنتَ عَلَيْهَآ إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ ٱلرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ ۚ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُ ۗ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَٰنَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَءُوفٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخرالزماں) تم پر گواہ بنیں۔ اور جس قبلے پر تم (پہلے) تھے، اس کو ہم نے اس لیے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں، کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہتا ہے، اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور یہ بات (یعنی تحویل قبلہ لوگوں کو) گراں معلوم ہوئی، مگر جن کو خدا نے ہدایت بخشی (وہ اسے گراں نہیں سمجھتے) اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یونہی کھو دے۔ خدا تو لوگوں پر بڑا مہربان (اور) صاحبِ رحمت ہے

اجماع کی صحت پر بحث - قول باری ہے۔ وکذلک جعلنا کم امۃ وسطاً لتکونو ا شھداء علی الناس ( اور اسی طرح تو نے تمہیں ایک امت وسط بنایا تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو) اہل لغت کے قول کے مطابق وسط عدل، یعنی معتدل کو کہتے ہیں اور عدل وہ ہے جو کوتاہی کرنے والے اور غلو کرنے والے کے درمیان ہو۔ ایک قول کے مطابق وسط کے معنی ہیں خیار یعنی بہترین، یہ دونوں معنی یکساں ہیں اس لئے کہ عدل خیار، یعنی بہترین ہی ہوتا ہے۔ زہیر کا شعر ہے ؎- ھم وسط یرضی الانام بحکمھم اذا طرقت احدی اللیا بعظم - (اگر لوگوں کو کوئی اہم مسئلہ پیش آ جائے تو ایسے موقعہ پر میرے ممدوحین اس قدر معتدل اور بہترین لوگ ثابت ہوئے ہیں کہ ان کے صادر کردہ فیصلے پر تمام لوگ رضا مند ہوجاتے ہیں)- قول باری : لتکونوا شھداء علی الناس کا مفہوم ہے ” تاکہ تم لوگوں پر گواہ بن جائو “۔- لفظ شھداء کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ مسلمان دنیا و آخرت میں لوگوں پر ان کے ان اعمال کی گواہی دیں گے جن کے اندر انہوں نے حق کی خلاف ورزی کی تھی۔ قول باری ہے۔ وحی بالنبین والشھداء (اور نبیوں اور گواہوں کو لایاجائے گا) اور ایک قول کے مطابق مسلمان انبیاء (علیہم السلام) کے حق میں ان کی جھٹلانے والی امتوں کے خلاف گواہی دیں گے کہ ان انبیاء نے امتوں کو پیغام حق پہنچا دیا تھا ۔ مسلمانوں کی یہ گواہی اس بنا پر ہوگی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں اس بات سے آگاہ فرما دیا تھا۔ ایک اور قول کے مطابق زیر بحث لفظ کا مفہوم ہے تاکہ تم اپنی دی ہوئی گواہیوں میں حجت بن جائو جس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امت کے ہر فردپر شہید بمعنی حجت ہیں۔ “- ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ مذکورہ لفظ ان تمام معانی کا احتمال رکھتا ہے اور یہ جائز ہے کہ یہ تمام معانی اللہ کی مراد ہوں ۔ یعنی امت مسلمہ دنیا اور آخرت میں لوگوں کے اعمال کی ان پر گواہی دے گی اور اس امت کے افراد انبیاء (علیہم السلام) کے حق میں ان کی امتوں کے خلاف گواہی دیں گے۔ یہ گواہی اس بنا پر ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق انہیں بتایا ہے اور اس کے ساتھ یہ امت شریعت کو بعد میں آنے والے لوگوں کی طرف منتقل کرنے میں ان پر حجت ہوگی اور یہ اللہ کے جن احکام کا اعتقاد رکھیں اور جو فیصلے کریں ان میں بھی حجت ہیں۔- اس آیت میں دو وجوہ سے اجماع امت کی صحت پر دلالت موجود ہے۔ اول یہ کہ اس امت کو عدالت یعنی عادل ہونے کے وصف سے موصوف کیا گیا ہے نیز یہ کہ یہ بہترین ہیں۔ یہ بات اس امر کی متقضی ہے کہ اس امت کی تصدیق کی جائے اور اس کے قول کی صحت کا حکم عائد کیا جائے نیز یہ بات گمراہی پر امت کے اجماع کی نفی کرتی ہے۔- دوم یہ کہ قول باری : لتکونو ا شھداء علی الناس۔ کا مفہوم ہے کہ یہ امت لوگوں پر اسی طرح حجت ہے جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس امت پر حجت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افراد کو دوسروں پر گواہ بنادیا تو گویا ان کے حق میں عدالت کا نیز ان کا قول قبول کرنے کا حمک بھی عائد کردیا کیونکہ اللہ کے مقرر کردہ گواہ نہ تو کافر ہوسکتے ہیں اور نہ ہی گمراہ۔ اس طرح آیت اس بات کی متقضی ہوگئی کہ امت کے افراد آخرت میں ان لوگوں پر گواہ بنیں گے جن کے اعمال کا انہوں نے ہر زمانے میں مشاہدہ کیا ہے۔ ایسے لوگوں پر یہ گواہ نہیں بنیں گے جو ان کے زمانے سے پہلے مرچکے ہوں جس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر اس شخض پر گواہ ہیں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں موجود تھا۔ یہ بات اس صورت میں ہوگی جب گواہی سے آخرت میں لوگوں پر ان کے اعمال کی گواہی مراد ہو، لیکن اگر گواہی سے حجت مراد ہو تو اس صورت میں یہ عنصر ثانی یعنی اپنے بعد کے زمانے کے ان لوگوں پر حجت ہوں گے جنہیں انہوں نے دیکھا تھا نیز ان لوگوں پر بھی جو قیامت تک ان کے بعد آئیں گے۔ جس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوری امت پر اول سے لے کر آخر تک گواہ …

Al-Baqara 2:143Listen in Qur'an →
144

قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِى ٱلسَّمَآءِ ۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةًۭ تَرْضَىٰهَا ۚ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا۟ وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُۥ ۗ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ

(اے محمدﷺ) ہم تمہارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں۔ سو ہم تم کو اسی قبلے کی طرف جس کو تم پسند کرتے ہو، منہ کرنے کا حکم دیں گے تو اپنا منہ مسجد حرام (یعنی خانہٴ کعبہ) کی طرف پھیر لو۔ اور تم لوگ جہاں ہوا کرو، (نماز پڑھنے کے وقت) اسی مسجد کی طرف منہ کر لیا کرو۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے، وہ خوب جانتے ہیں کہ (نیا قبلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں، خدا ان سے بے خبر نہیں

استقبال قبلہ پر بحث - قول باری ہے : قد نری تقلب وجھک فی السماء فلنو لینک قبلۃ ترضھا ( یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں، لو، ہم اسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں جسے تم پسند کرتے ہو) ایک قول کے مطابق تقلب کے معنی تحول ( بار بار پھرنے) کے ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آسمان کی طرف بار بار اپنا چہرہ اس لیے کرتے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تحویل قبلہ کا وعدہ کرلیا گیا تھا۔ اس لئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سلسلے میں وحی کے منتظر تھے اور اللہ سے اس کی درخواست کرتے تھے۔ اس لئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنا چہرہ مبارک بار بار آسمان کی طرف کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ انبیاء (علیہم السلام) اللہ کی طرف سے اجازت کے بعد ہی اس سے درخواست اور سوال کرتے ہیں۔ بلا اذن درخواست کی صورت میں خود انہیں یہ کھٹکا ہوتا ہے کہ کہیں ان کی درخواست قوم کے لئے فتنہ اور آزمائش کا سبب نہ بن جائے۔ اس کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کا رخ کعبے کی طرف پھیر دے اور اس طرح یہودیوں سے ممتاز ہوجانے اور ان سے ہٹ کر الگ راہ متعین کرنے کی صورت پیدا ہوجائے۔ یہ بات مجاہد سے مروی ہے ۔ حضرت ابن عباس (رض) کے قول کے مطابق حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کعبہ کی طرف رخ کرنا اس لئے پسند تھا کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جد امجد حضر ت ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ تھا، ایک اور قول کے مطابق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عربوں کو ایمان کی طرف راغب کرنے کی خاطر یہ بات پسند فرمائی تھی۔ قول باری : فلنو لینک قبلۃ ترضھا کا یہی مفہوم ہے۔- قول باری ہے : فول وجھک شطر المسجد الحرام ( پس مسجد حرام کی طرف رخ پھیر دو ) اہل لغت کے قول کے مطابق شطر کا لفظ ایک مشترک اسم ہے جو دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک معنی نصف کے ہیں جب آپ ایک چیز دو نصف حصوں میں تقسیم کردیتے ہیں تو کہتے ہیں شطرت الشئی یعنی میں نے اسے نصف نصف کردیا۔ عرب کے لوگ کہتے ہیں : احلب حلبالک شطرہ ( جانور سے دودھ نکال لو، آدھا تمہارا ہوگا) شطر کا دوسرا معنی : نحوہ وتلقاء ہ ( اس کی طرف) ہے۔ آیت سے یہی معنی مراد ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) ، ابو العالیہ، مجاہد اور ابربیع بن انس کا یہی قول ہے۔ پہلا معنی مراد لینا جائز نہیں ہے کیونکہ کوئی شخص بھی اس بات کا قائل نہیں ہے کہ اس پر مسجد حرام کے نصف حصے کی طرخ رخ کرنا فرض ہے۔- تمام اہل اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر ایک شخص بیت اللہ کے ایک کونے کی طرف رخ کرکے نماز پڑھ لے تو اس کی نماز درست ہوجائے گی کیونکہ ایسی صورت میں وہ بیت اللہ کے شطر یعنی اس کی طرف متوجہ ہوگا۔- اللہ تعالیٰ نے مسجد حرام کی طرف رخ کرنے کا ذکر کیا ہے لیکن اس کی مراد بیت اللہ ہے کیونکہ اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اگر ایک شخص مکہ میں ہو اور وہ مسجد حرام کی طرف رخ کرکے نماز پڑھے تو اس کی نماز اس وقت تک درست نہیں ہوگی جب تک کہ وہ بیت اللہ کے محاذات میں نہ ہو۔- قول باری ہے : وحیث ما کنتم قولو ا وجوھکم شطرہ ( اب جہاں کہیں بھی تم ہو اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھا کرو) یہ خطاب ان لوگوں کے لئے ہے جو کعبہ کے سامنے ہوں اور ان لوگوں کے لیے بھی جو کعبہ سے دور اور اس کے سامنے نہ ہوں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جو شخص کعبہ کے پاس ہو اس پر عین کعبہ کی طرف رخ کرنا فرض ہے اور جو شخص کعبہ سے دور ہو اس پر کعبہ کی طرف رخ کرنا فرض ہے، یعنی اس جہت کی طرف جس کے متعلق اس کا غالب گمان ہو کہ یہ کعبہ کی جہت ہے کیونکہ یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ ایسا شخص عین کعبہ کی طرف رخ کرنے کا مکلف نہیں ہے اس لئے کہ ایسا کرنا اس کے بس میں نہیں ہے۔ ارشاد باری ہے : لا یکلف اللہ نفساً الا وسعھا ( اللہ تعالیٰ کسی …

Al-Baqara 2:144Listen in Qur'an →
145

وَلَئِنْ أَتَيْتَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ بِكُلِّ ءَايَةٍۢ مَّا تَبِعُوا۟ قِبْلَتَكَ ۚ وَمَآ أَنتَ بِتَابِعٍۢ قِبْلَتَهُمْ ۚ وَمَا بَعْضُهُم بِتَابِعٍۢ قِبْلَةَ بَعْضٍۢ ۚ وَلَئِنِ ٱتَّبَعْتَ أَهْوَآءَهُم مِّنۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلْعِلْمِ ۙ إِنَّكَ إِذًۭا لَّمِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور اگر تم ان اہلِ کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ، تو بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہ کریں۔ اور تم بھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہو۔ اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں۔ اور اگر تم باوجود اس کے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحئ خدا) آ چکی ہے، ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے

Explained together with ayah 144

Al-Baqara 2:145Listen in Qur'an →
146

ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَعْرِفُونَهُۥ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَآءَهُمْ ۖ وَإِنَّ فَرِيقًۭا مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ ٱلْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ ان (پیغمبر آخرالزماں) کو اس طرح پہچانتے ہیں، جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں، مگر ایک فریق ان میں سے سچی بات کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے

Explained together with ayah 144

Al-Baqara 2:146Listen in Qur'an →
147

ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُمْتَرِينَ

(اے پیغمبر، یہ نیا قبلہ) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

Explained together with ayah 144

Al-Baqara 2:147Listen in Qur'an →
148

وَلِكُلٍّۢ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا ۖ فَٱسْتَبِقُوا۟ ٱلْخَيْرَٰتِ ۚ أَيْنَ مَا تَكُونُوا۟ يَأْتِ بِكُمُ ٱللَّهُ جَمِيعًا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

اور ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک سمت (مقرر) ہے۔ جدھر وہ (عبادت کے وقت) منہ کیا کرتے ہیں۔ تو تم نیکیوں میں سبقت حاصل کرو۔ تم جہاں رہو گے خدا تم سب کو جمع کرلے گا۔ بے شک خدا ہر چیز پر قادر ہے

قول باری ہے : ولکل وجھۃ ھو مولیھا ( اور ہر ایک کے لئے ایک رخ ہے جس کی طرف وہ مڑتا ہے) ایک قول کے مطابق اس کی تفسیر یہ ہے کہ ہر ایک کے لئے ایک قبلہ ہے۔ یہ بات مجاہد سے مروی ہے جس نے کہا ہے : ہر ایک کے لئے ایک طریقہ ہے یعنی اسلام جسے اللہ تعالیٰ نے بطور شریعت جاری کیا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) ، مجاہد اور السدی سے منقول ہے کہ یہود اور نصاریٰ میں سے ہر ملت کے لئے ایک طریقہ مقرر ہے حسن بصری نے کہا ہے کہ ہر نبی کے لئے طریقہ تو ایک ہے یعنی اسلام اگرچہ احکام مختلف ہیں جس طرح یہ قول باری ہے ( لکل جعلنا منکم شرعۃ و مھا جاً ( ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کی ہے) قتادہ نے کہا ہے کہ اس سے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے اور کعبہ کی طرف رخ کرکے ان کی نماز مراد ہے۔ ایک اور قول کے مطابق اس کا مفہوم ہے دنیا کے مختلف گوشوں میں پھیلی ہوئی مسلم اقوام میں سے ہر قوم کے لئے جن کے علاقوں سے کعبہ کی جہتیں یا تو پیچھے کی طرف ہیں یا آگے کی طرف یا دائیں یا بائیں۔ گویا آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ کعبے کی مختلف جہتوں میں سے کوئی ایک جہت دوسری کسی جہت کی بہ نسبت قبلہ بننے کے لئے اولیٰ نہیں ہوتی بلکہ کعبہ کی ہر جہت قبلہ کی جہت بن سکتی ہے۔- مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) میزاب رحمت کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے یہ آیت تلاوت کی فلنو لینک قبلۃ ترضھا اور کہا : ” یہی قبلہ ہے “۔ بعض لوگوں نے حضرت ابن عمر (رض) کے اس قول سے یہ سمجھا ہے کہ آپ نے قبلہ کہہ کر میزاب رحمت مراد لی ہے حالانکہ بات ایسی نہیں ہے کیونکہ حضرت ابن عمر (رض) نے یہ کہہ کر درحقیقت کعبہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ میزاب رحمت کی جہت کی تخصیص نہیں کی کہ اس کے ساتھ کعبہ ک دوسری جہتیں شامل نہ ہوں اور تخصیص کی بات کس طرح درست ہوسکتی ہے جبکہ یہ آیتیں موجود ہیں۔ واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی۔ نیز قول وجھک شطرا لمسجد الحرام تمام مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ کعبہ کی طرف رخ کرنے والوں کے لیے اس کی تمام جہتیں قبلہ ہیں۔ قول باری : ولکل وجھۃ ھو مولیھا۔ اس پر دلالت کرتا ہے کہ کعبہ سے دور شخص جس بات کا مکلف ہے وہ یہ ہے کہ اپنے ظن غالب سے کام لے کر کعبہ کی جہت کا رخ کرے۔ کعبہ کے محاذات میں آنے کا وہ مکلف نہیں ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ کعبہ سے دور بسنے والے اس کے محاذات میں آ جائیں۔- قول باری ہے : فاستبقوا الخیرات ( پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو) مراد یہ ہے کہ طاعات کی طرف سبقت کی جائے اور اس سلسلے میں پوری چستی سے کام لیاجائے۔ اس آیت میں یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ طاعات میں تعجیل کرنا ان میں تاخیر کرنے سے افضل ہے، بشرطیکہ کوئی ایسی دلیل موجود نہ ہو جو تاخیر کی فضیلت کا پتہ دیتی ہو۔ مثلاً اول وقت میں نماز کی ادائیگی میں تعجیل، اسی طرح زکوۃ اور فریضہ حج کی ادائیگی میں تعجیل کہ وقت آتے ہی اور سبب موجود ہوتے ہی ان کی ادائیگی کرلی جائے۔ آیت سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ امر علی الفور ہوتا ہے یعنی اس پر فی الفور عمل ضروری ہے اور اس میں تاخیر کے جواز کے لئے دلیل کی ضرورت ہوتی ہے وہ اس طرح کہ اگر امر غیر موقف ہو تو سب کے نزدیک اس پر فی الفور عمل لا محالہ نیکی اور بھلائی شمار ہوگا اس طرح زیر بحث آیت کے مض مومن کی بنا پر امر کی تعجیل کا ایجاب ضروری ہوگیا کیونکہ امروجوب کا متقضی ہوتا ہے۔

Al-Baqara 2:148Listen in Qur'an →
149

وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۖ وَإِنَّهُۥ لَلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ ۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

اور تم جہاں سے نکلو، (نماز میں) اپنا منہ مسجد محترم کی طرف کر لیا کرو بےشک وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور تم لوگ جو کچھ کرتے ہو۔ خدا اس سے بے خبر نہیں

Explained together with ayah 148

Al-Baqara 2:149Listen in Qur'an →
150

وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا۟ وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُۥ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلَّا ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْهُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَٱخْشَوْنِى وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِى عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ

اور تم جہاں سے نکلو، مسجدِ محترم کی طرف منہ (کرکے نماز پڑھا) کرو۔ اور مسلمانو، تم جہاں ہوا کرو، اسی (مسجد) کی طرف رخ کیا کرو۔ (یہ تاکید) اس لیے (کی گئی ہے) کہ لوگ تم کو کسی طرح کا الزام نہ دے سکیں۔ مگر ان میں سے جو ظالم ہیں، (وہ الزام دیں تو دیں) سو ان سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا۔ اور یہ بھی مقصود ہے کہ تم کو اپنی تمام نعمتیں بخشوں اور یہ بھی کہ تم راہِ راست پر چلو

قول باری ہے : لئلا یکون للناس علیکم جحۃ الا الذین ظلموا منھم ( تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ ملے۔ ہاں جو ظالم ہیں ان کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی) اس آیت سے بعض لوگوں نے ایسے استثناء کے جواز کے لیے استدلال کیا ہے جس میں مستثنیٰ مستثنیٰ منہ کی جنس میں سے نہ ہو۔ آیت میں مذکورہ استثناء کے بارے میں اہل لغت کے مابین اختلاف رائے ہے۔ بعض کے خیال میں یہ استثنائے منقطع ہے اور آیت کے معنی ہیں لیکن ان میں سے جو ظالم ہیں وہ شبہ کے ساتھ اپنا تعلق جوڑے رکھتے ہیں اور اسے حجت کا درجہ دیتے ہیں جس طرح یہ قول باری ہے۔ مالھم بہ من علم الا اتباع الظن ( اس کے متعلق ) انہیں کوئی علم نہیں ہے لیکن بس اتباع ظن ہے) ۔- نابغہ ذیبانی کا شعر ہے ؎- ولا عیب فیھم غیر ان سیوفھم بھن فلول من قراغ الکتائب - (میرے ممدوحین کے اندر اس کے سوا اور کوئی عیب نہیں کہ لشکروں سے ٹکرا ٹکرا کر ان کی تلواروں میں دندانے پڑگئے ہیں)- شعر کا مفہوم یہ ہے لیکن ان کی تلواروں میں دندانے پڑگئے ہیں اور یہ کوئی عیب کی بات نہیں ہے۔ ایک اور قول کے مطابق زیر بحث آیت میں مذکورہ لفظ حجت مجادلہ اور محاجہ ( باہمی بحث و مباحثہ اور دلیل بازی) کے معنوں میں ہے۔ گویا آیت کا مفہوم یہ ہے تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف دلیل بازی کا موقعہ نہ ملے۔ ہاں جو ظالم ہیں وہ تو باطل دلائل کا سہارا لیکر تم سے ضرور مباحثہ اور مجادلہ کریں گے۔ ابو عبیدہ کے قول کے مطابق آیت میں مذکورہ حرف ( الا) وائو کے معنوں میں ہے گویا یہ کہا گیا تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ ملے اور نہ ان لوگوں کو ہی جو ظالم ہیں لیکن فراء نحوی اور اکثر اہل لغت نے ابو عبیدہ کی یہ تاویل مسترد کردی ہے فراء نے کہا ہے کہ حرف الا حرف وائو کے معنوں میں صرف اسی وقت آتا ہے جب اس سے پہلے کوئی استثناء گزر چکا ہو۔ مثلاً شاعر کا قول ہے ؎- ما بالمدینۃ دارغیر واحدۃ دارالخلیفۃ الا دارمروان - (مدینہ میں خلیفہ اور مروان کے گھروں کے سوا اور کوئی گھر نہیں ہے) یعنی شاعر نے گویا یہ کہا کہ ” مدینہ میں کوئی گھر نہیں ہے، مگر خلیفہ کا گھر اور مروان کا گھر۔- قطرب کے قول کے مطابق آیت کا مفہوم ہے تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ ملے اور صرف ان لوگوں کے خلاف انہیں حجت ملے جو ظالم ہیں۔ بعض نحویوں نے اس تاویل کو بھی مسترد کردیا ہے۔

Al-Baqara 2:150Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.