قول باری ہے : سیقول السفھاء من الناس ماولھم عن قبلتھم التی کانوا علیھا ( نادان لوگ ضرور کہیں گے، انہیں کیا ہوا کہ پہلے یہ جس قبلے کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے اس سے یکا یک پھرگئے)- ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ اہل اسلام کے مابین اس امر میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں نیز ہجرت کے بعد ایک عرصے تک مدینہ میں بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے۔ حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت براء بن عازب (رض) نے کہا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدینہ تشریف آور کے سترہ مہینے بعد تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا۔ قتادہ نے کہا ہے کہ سولہ ماہ بعد۔ حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ یہ عرصہ نو ماہ یا دس ماہ کا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا۔- زیر بحث آیات کے اندر اللہ تعالیٰ نے نقاً بیان فرما دیا کہ نماز غیرکعبہ کے رخ ادا کی جاتی تھی اور پھر اللہ سبحانہ نے اپنے قول : سیقول السفھا من الناس تا آخر آیت کے ذریعے نیز : وما جعلنا القبلتہ التی کنت علیھا الا لنعلم من یتبع الرسول ممن ینقلب علی عقبیہ ( پہلے جس طرف تم رخ کرتے تھے اس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لیے قبلہ مقرر کیا تھا کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھرجاتا ہے) اور : قد نری تقلب وجھک فی السماء فلنولینک قلیلۃ ترضھا ( یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں، لو ہم اسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں جسے تم پسند کرتے ہو ( کے ذریعے قبلہ کا رخ پھیر دیا۔ مذکورہ بالا تمام آیات اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غیر کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی طرف رخ پھیر دیا تھا۔ یہ بات ان لوگوں کے قول کو باطل کردیتی ہے جو کہتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت میں کوئی ناسخ و منسوخ نہیں ہے۔- بیت المقدس کی طرف حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رخ کرنے کے بارے میں اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا یہ فرض تھا اور اس کے سوا کوئی اور بات جائز نہیں تھی، یا آپ کو بیت المقدس کی طرف اور اس کے سوا کسی اور طرف رخ کرنے کا اختیار تھا۔ الربیع بن انس کے قول کے مطابق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بارے میں اختیار دیا گیا تھا، جبکہ حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ بیت المقدس کی طرف رخ کرنا فرض تھا اور اس سلسلے میں کوئی تخییر نہیں تھی۔ مذکورہ بالا دونوں اقوال میں سے جو قول بھی قبول کیا جائے اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ بیت المقدس کی طرف رخ کرنا فرض تھا کیونکہ تخییرا سے فرضیت کے دائرے سے خارج نہیں کرتی جس طرح مثلاً کفائرہ یمین میں کئی باتوں کے درمیان تخییر ہے لیکن ان میں سے جس صورت کے تحت یہ کفارہ ادا کیا جائے گا وہ قرض قرار پائے گی۔ یا جس طرح اول یا درمیانی یا آخر وقت میں نماز کی ادائیگی۔ جعفر بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے علی بن ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہ انہوں نے فرمایا :” قرآن کی سب سے پہلی بات جو منسوخ ہوئی وہ قبلے کی بات تھی وہ اس طرح کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو اللہ نے آپ کو بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرنے کا حکم دیا۔ اس پر یہودی بڑے خوش ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ اوپر دس مہینے اس کی طرف رخ کیا لیکن آپ کو اپنے جد امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ دل سے پسند تھا۔ آپ اس کے لیے اللہ سے دعائیں کرتے اور آسمان کی طرف رخ کرنا فرض تھا اور مذکورہ بالا آیت کے ذریعے یہ فرضیت منسوخ ہوگئی۔ اس میں ان حضرات کے قول پر کوئی دلالت نہیں ہے جو کہتے ہیں کہ تخییر کے بغیر بیت المقدس کی طرف رخ کرنا فرض تھا۔ یہاں یہ بھی ممکن ہے کہ بیت المقدس کی طرف رخ …