Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 81–90 of 286

81

بَلَىٰ مَن كَسَبَ سَيِّئَةًۭ وَأَحَٰطَتْ بِهِۦ خَطِيٓـَٔتُهُۥ فَأُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

ہاں جو برے کام کرے، اور اس کے گناہ (ہر طرف سے) گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے

قول باری ہے : بلی من کسب سیئۃ و احاطت بہ خطیئتہ فاولئک اصحب النار، ھم فیھا خلدون (جو بھی باری کمائے گا اور اپنی خطا کاری کے چکر میں پڑا رہے گا وہ دوزخی ہے اور وہ دوزخ ہی میں ہمیشہ رہے گا) اس آیت سے یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ دوزخ کا استحقاق دو شرطوں کی بنا پر ہوتا ہے۔ اول یہ کہ اس بدی کی بنا پر جو وہ کمات ا ہے اور دوم یہ کہ اپنی خطا کاری کے چکر میں پڑے رہنے کی بنا پر۔ اگر ان میں سے کسی ایک شرط کا وجود ہو تو وہ دوزخ کا مستحق نہیں ہوگا۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص طلاق یا عتاق یا کسی اور سلسلے میں دو شرطوں پر عقدیمین کرے تو ان میں سے کسی ایک شرط کے وجود کی صورت میں وہ حانث قرار نہیں پائے گا۔ جب تک دوسری شرط بھی نہ پائی جائے۔

Al-Baqara 2:81Listen in Qur'an →
82

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

اور جو ایمان لائیں اور نیک کام کریں، وہ جنت کے مالک ہوں گے (اور) ہمیشہ اس میں (عیش کرتے) رہیں گے

Explained together with ayah 81

Al-Baqara 2:82Listen in Qur'an →
83

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَٰقَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا ٱللَّهَ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَانًۭا وَذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَقُولُوا۟ لِلنَّاسِ حُسْنًۭا وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّنكُمْ وَأَنتُم مُّعْرِضُونَ

اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھلائی کرتے رہنا اور لوگوں سے اچھی باتیں کہنا، اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہنا، تو چند شخصوں کے سوا تم سب (اس عہد سے) منہ پھیر کر پھر بیٹھے

قول باری ہے۔ ” واذ اخذنا میثاق بنی اسرائیل لاتعبدون الا اللہ وبالوالدین احساناً ) (یاد کرو، اسرائیل کی اولاد سے ہم نے پختہ عہد لیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنا) یہ قول باری والدین کے حق کی تاکید اور ان کے ساتھ نیک سلوک کرنے کے وجوب پر دلالت کرتا ہے خواہ والدین کافر ہوں یا مومن کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو اپنی عبادت کے حکم کے ساتھ مقرون کردیا ہے۔- قول باری ہے : وذی القربی رشتے داروں کے ساتھ، صلہ رحمی اور تیامی و مساکین کے ساتھ حسن سلوک کے وجوب پر دلالت کرتا ہے۔- قول باری ہے : وقولو ا للناس حسناً (اور لوگوں سے بھلی بات کہنا) ابو جعفر محمد بن علی سے مروی ہے کہ تمام لوگوں سے بھی بات کہو۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ وہ لوگ مسلمان اور کافر کے بارے میں اس حکم کے پابند تھے، مذکورہ بالا قول باری اسی امر پر دلالت کرتا ہے۔- ایک قول کے مطاب قیہ آیت اس قول باری کی ہم معنی ہے : ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالتیھی احسن (اے نبی ) اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ذریعے دعوت دو اور لوگوں سے ایسے طریقے سے مباحثہ کرو جو بہترین ہو) اس آیت میں مذکورہ احسان سے مراد اللہ کی طرف بلانا اور اس بارے میں ہر ایک کے ساتھ خیر خواہی کرنا ہے۔ حضرت ابن عباس اور قتادہ سے مروی ہے کہ قتال کے حکم کی وجہ سے یہ آیت منسوخ ہوگئی ہے۔- اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا یحب اللہ الجھر بالسوء من انقول الا من ظلم (اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگمانی پر زبان کھولے، الآیہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو) اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لعنت بھیجنے اور ان سے برأت کا اظہار کرنے کا حکم دیا ہے، نیز معاصی میں مبتلا لوگوں کی نکیر کا بھی حکم ملا ہے۔ یہ ایسے امور ہیں جن کے متعلق انبیاء (علیہم السلام) کے شرائع کے اندر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قول حسن یعنی بھلی بات کہنے کا جو حکم ملا ہے اس سے یا تو یہ مراد ہے ک ہ اس کا دائرہ مسلمانوں نیز ان لوگوں تک محدود ہے جو لعنت اور نکیر کے مستحق نہیں ہیں۔ اس صورت میں قول حسن خاص ہوگا۔ یا اس سے اللہ کی طرف دعوت دینا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا ہے۔ اس صورت میں یہ عام ہوگا۔ دعوت الی اللہ نیز امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تمام افعال حسن شمار ہوتے ہیں اور اللہ نے اس آیت کے ذریعے ہمیں خبر دی ہے کہ اس نے بنی اسرائیل سے ان تمام باتوں کا عہد لیا تھا۔ میثاق اس عقد کو کہتے ہیں خبر دی ہے کہ اس نے بنی اسرائیل سے ان تمام باتوں کا عہد لیا تھا۔ میثاق اس عقد کو کہتے ہیں جسے وعید یا قسم کے ذریعے مئوکد کردیا گیا ہو۔ مثلاً حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام سے بیعت لی تھی اور یہ بیعت اپنی مذکورہ شرائط کے تحت ہوئی تھی۔

Al-Baqara 2:83Listen in Qur'an →
84

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَٰقَكُمْ لَا تَسْفِكُونَ دِمَآءَكُمْ وَلَا تُخْرِجُونَ أَنفُسَكُم مِّن دِيَٰرِكُمْ ثُمَّ أَقْرَرْتُمْ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ

اور جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ آپس میں کشت وخون نہ کرنا اور اپنے کو ان کے وطن سے نہ نکالنا تو تم نے اقرار کر لیا، اور تم (اس بات کے) گواہ ہو

قول باری ہے : فراذا خذنا میثاقکم لاتسفکون دمآء کو ولا تخجون انفسکم من دیارکم (یاد کرو۔ ہم نے تم سے مضبوط عہد لیا تھا کہ آپس میں ایک دوسرے کا خون نہ بہانا اور نہ ایک دور سے کو گھر سے بےگھر کرنا) اس آیت میں دو معنوں کا احتمال ہے پہلا یہ کہ تم آپس میں ایک دوسرے کی جان نہ لو، نیز ایک دوسرے کو گھر سے بےگھر نہ کرو جس طرح یہ قول باری ہے : ولا تقتلوا انفسکم (اور اپنی جانیں نہ لو) نیز : وقاتلوا و قتلوا ( اور انہوں نے قتل کیا اور قتل ہوئے) دو سرا معنی یہ ہے کہ ہر شخص اپنی جان خود اپنے ہاتھوں سے نہ لے، یعنی خود کشی نہ کرے جس طرح ہنود کرتے تھے یا جس طرح وہ لوگ کرتے ہیں جو زندگی کی سختیوں کا مقابلہ کرنے کی تاب نہیں رکھتے۔ مایوس ہو کر زندگی سے چھٹکارا حاصل کر لیت ییہں۔ یا یہ کہ وہ کسی اور کی جان نہ لے کر پھر بدلے کے طور پر اپنی جان گنوا بیٹھے اور اس طرح خود اپنے آپ کو قتل کرنے والا بن جائے۔ چونکہ آیت کے الفاظ کے الفاظ میں دونوں معنوں کا احتمال ہے اس لئے اسے دونوں معنوں پر محمول کیا جانا واجب ہوگا۔- اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تورات کی شریعت کے اس حکم کی خبر دی ہے جسے یہود چھپاتے تھے کیونکہ اس حکم کی وجہ سے انہیں نقصان کا سامنا کرنا پڑتا اور وہ قابل مذمت گردانے جاتے چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس حکم کی خبر دے دی اور اسے یہود یک طرف سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے انکار کے معاملے میں ان پر حجت اور دلالت بنادیا۔ اس لئے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ تو آسمانی کتابیں پڑھی تھیں اور نہ ہی ان میں موجود مضامین کے متعلق آپ کو کوئی علم تھا۔ اس لئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بتائی ہوئی مذکورہ بالا خبر صرف اس بات پر مبنی تھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی اطلاع دی گئی تھی، یہی کیفیت ان تمام خبروں کی ہے جن کی اطلاع زیر بحث آیات کی بعد والی آیات میں دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں ارشاد ہے : وکانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا (باوجودیکہ اس کی آمد سے پہلے وہ خود کفار کے مقابلے میں فتح و نصرت کی دعائیں ماگنا کرتے تھے۔ ) اللہ تعالیٰ نے ہی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بنی اسرائیل کی ان تمام باتوں کی خبر دی تھی جن کی بنا پر ان کی مذمت کی گئی تھی اور جنہیں یہ لوگوں سے چھپائے رکھتے تھے۔ ان خبروں کے ذریعے بنی اسرائیل کے کفر اور ظلم کا پول کھول دیا تھا اور ان کے تمام قبائح ظاہر کردیئے تھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دی ہوئی یہ تمام خبریں آپ کی نبوت پر دلالت کرتی تھیں۔

Al-Baqara 2:84Listen in Qur'an →
85

ثُمَّ أَنتُمْ هَٰٓؤُلَآءِ تَقْتُلُونَ أَنفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِيقًۭا مِّنكُم مِّن دِيَٰرِهِمْ تَظَٰهَرُونَ عَلَيْهِم بِٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَٰنِ وَإِن يَأْتُوكُمْ أُسَٰرَىٰ تُفَٰدُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُمْ ۚ أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ ٱلْكِتَٰبِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍۢ ۚ فَمَا جَزَآءُ مَن يَفْعَلُ ذَٰلِكَ مِنكُمْ إِلَّا خِزْىٌۭ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ وَيَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ يُرَدُّونَ إِلَىٰٓ أَشَدِّ ٱلْعَذَابِ ۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

پھر تم وہی ہو کہ اپنوں کو قتل بھی کر دیتے ہو اور اپنے میں سے بعض لوگوں پر گناہ اور ظلم سے چڑھائی کرکے انہیں وطن سے نکال بھی دیتے ہو، اور اگر وہ تمہارے پاس قید ہو کر آئیں تو بدلہ دے کر ان کو چھڑا بھی لیتے ہو، حالانکہ ان کا نکال دینا ہی تم کو حرام تھا۔ (یہ) کیا (بات ہے کہ) تم کتابِ (خدا) کے بعض احکام کو تو مانتے ہو اور بعض سے انکار کئے دیتے ہو، تو جو تم میں سے ایسی حرکت کریں، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ دنیا کی زندگی میں تو رسوائی ہو اور قیامت کے دن سخت سے سخت عذاب میں ڈال دیئے جائیں اور جو کام تم کرتے ہو، خدا ان سے غافل نہیں

قول باری ہے : وان یاتوکم اسری تفادوھم وھو محرم علیکم اخراجہم افتومنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض (اور جب وہ لڑائی میں پکڑے ہوئے تمہارے پاس آتے ہیں تو ا ن کی رہائی کے لئے فدیہ کا لین دین کرتے ہو، حالانکہ انہیں گھروں سے نکالنا ہی سرے سے تم پر حرام تھ، تو کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو ؟ )- یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ لڑائی میں قید ہوجانے پر یہودیوں کا فدیہ دے کر انہیں چھڑا لینا ان پر واجب تھا اور ان میں سے ایک گروہ کو ان کے گھروں سے نکالنا ان پر حرام تھا۔ جب ان میں سے بعض لوگوں اپنے دشمنوں کو گرفتار کرلیتے تو ان پر ان کی رہائی کے لئے فدیہ دینا واجب ہوتا۔ اس طرح یہ لوگ خود یہودیوں کے ایک گروہ کو ان کے گھروں سے نکال کر کتاب اللہ یعنی تورات کے ایک حصے کے ساتھ کفر کرتے کیونکہ اس طرح وہ اللہ کی طرف سے ایک ممنوعہ فعل کے مرتکب ہوجاتے تھے اور پھر گرفتار شدہ یہودیوں کی رہائی کے لئے فدیہ کالین دین کر کے تورات کے ایک حصے پر ایمان رکھتے کیونکہ ایسی صورت میں وہ اللہ کی طرف سے ان پر واجب شدہ کام سر انجام دے دیتے، اس پورے پس منظر کو ذہن نشین کرنے کے لئے درج ذیل اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔- ” نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد سے پہلے مدینے کے اطراف کے یہودی قبائل نے اپنے ہمسایہ عرب قبائل (اوس اور خزرج ) سے حلیفانہ تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ جب ایک عرب قبیلہ دوسرے قبیلے سے برسر جنگ ہوتا تو دونوں کے حلیف یہودی قبیلے بھی اپنے اپنے حلیف کا ساتھ دیتے تھے اور ایک دوسرے کے مقابلے میں نبرد آزما ہوجاتے تھے، ان کا یہ فعل صریح طور پر کتاب اللہ کے خلاف تھا اور وہ جانتے بوجھتے کتاب اللہ کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ مگر لڑائی کے بعد جب ایک یہودی قبیلے کے اسیران جنگ دوسرے یہودی قبیلے کے ہاتھ آتے تو غالب قبیلہ فدیہ لے کر انہیں چھوڑتا اور مغلوب قبیلہ فدیہ دے کر انہیں چھڑاتا تھا اور اس فدیے کے لین دین کو جائز ٹھہرانے کے لئے کتاب اللہ سے استدلال کیا جاتا تھا۔ گویا وہ کتاب اللہ کی اس اجازت کو تو سر آنکھوں پر رکھتے تھے کہ اسیران جنگ کو فدیے کو چھوڑا جائے مگر اس حکم کو ٹھکرا دیتے تھے کہ آپس میں جنگ ہی نہ کی جائے۔ (تفہیم القرآن جلد اول)- قیدیوں کو فدیہ کا لین دین کر کے چھڑانے کے وجوب کا حکم ہم پر بھی ثابت ہے، الحجاج بن ارطاۃ نے الحکم سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت بیان کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرات مہاجرین و انصار کے درمیان ایک تحریر لکھ دی تھی کہ وہ ایک دوسرے پر لازم ہونے والا خون بہا اور تاوان ادا کریں گے۔ اپنے قیدیوں کا فدیہ معروف طریقے سے ادا کریں گے اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات کو درست رکھیں گے۔ منصوبے نے شقیق بن سلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت بیان کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” کھانا کھلائو، سلام کو عام کرو، مریض کی عیادت کرو اور قیدی کو چھڑائو۔ “ یہ دونوں حدیثیں قیدی کو چھڑانے پر دلالت کرتی ہیں، اس لئے کہ مذکورہ لفظ (العانی) کے معنی اسیر اور قیدی کے ہیں۔ حضرت عمران بن حصین اور حضرت سلمہ بن الاکوع نے روایت بیان کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کی رہائی کے بدلے میں مسلمان قیدیوں کو رہا کرایا تھا۔ سفیان ثوری نے عبداللہ بن شریک سے اور انہوں نے بشربن غالب سے روایت بیان کی ہے کہ حضرت حسین بن علی (رض) سے پوچھا گیا کہ اسیر کو فدیہ دے کر چھڑانا کس کے ذمہ ہوتا ہے تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ : اس سر زمین کے لوگوں پر جس کے دفاع میں مذکورہ قیدی جنگ کرتا ہے۔

Al-Baqara 2:85Listen in Qur'an →
86

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱشْتَرَوُا۟ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا بِٱلْءَاخِرَةِ ۖ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ ٱلْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی۔ سو نہ تو ان سے عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو (اور طرح کی) مدد ملے گی

Explained together with ayah 85

Al-Baqara 2:86Listen in Qur'an →
87

وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَٰبَ وَقَفَّيْنَا مِنۢ بَعْدِهِۦ بِٱلرُّسُلِ ۖ وَءَاتَيْنَا عِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ٱلْبَيِّنَٰتِ وَأَيَّدْنَٰهُ بِرُوحِ ٱلْقُدُسِ ۗ أَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُولٌۢ بِمَا لَا تَهْوَىٰٓ أَنفُسُكُمُ ٱسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًۭا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًۭا تَقْتُلُونَ

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی اور ان کے پیچھے یکے بعد دیگرے پیغمبر بھیجتے رہے اور عیسیٰ بن مریم کو کھلے نشانات بخشے اور روح القدس (یعنی جبرئیل) سے ان کو مدد دی۔تو جب کوئی پیغمبر تمہارے پاس ایسی باتیں لے کر آئے، جن کو تمہارا جی نہیں چاہتا تھا، تو تم سرکش ہو جاتے رہے، اور ایک گروہ (انبیاء) کو تو جھٹلاتے رہے اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے

Explained together with ayah 85

Al-Baqara 2:87Listen in Qur'an →
88

وَقَالُوا۟ قُلُوبُنَا غُلْفٌۢ ۚ بَل لَّعَنَهُمُ ٱللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيلًۭا مَّا يُؤْمِنُونَ

اور کہتے ہیں، ہمارے دل پردے میں ہیں۔ (نہیں) بلکہ الله نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے۔ پس یہ تھوڑے ہی پر ایمان لاتے ہیں

Explained together with ayah 85

Al-Baqara 2:88Listen in Qur'an →
89

وَلَمَّا جَآءَهُمْ كِتَٰبٌۭ مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ مُصَدِّقٌۭ لِّمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا۟ مِن قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فَلَمَّا جَآءَهُم مَّا عَرَفُوا۟ كَفَرُوا۟ بِهِۦ ۚ فَلَعْنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلْكَٰفِرِينَ

اور جب الله کے ہاں سے ان کے پاس کتاب آئی جو ان کی (آسمانی) کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے، اور وہ پہلے (ہمیشہ) کافروں پر فتح مانگا کرتے تھے، تو جس چیز کو وہ خوب پہچانتے تھے، جب ان کے پاس آپہنچی تو اس سے کافر ہو گئے۔ پس کافروں پر الله کی لعنت

Explained together with ayah 85

Al-Baqara 2:89Listen in Qur'an →
90

بِئْسَمَا ٱشْتَرَوْا۟ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمْ أَن يَكْفُرُوا۟ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بَغْيًا أَن يُنَزِّلَ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۖ فَبَآءُو بِغَضَبٍ عَلَىٰ غَضَبٍۢ ۚ وَلِلْكَٰفِرِينَ عَذَابٌۭ مُّهِينٌۭ

جس چیز کے بدلے انہوں نے اپنے تئیں بیچ ڈالا، وہ بہت بری ہے، یعنی اس جلن سے کہ خدا اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے، اپنی مہربانی سے نازل فرماتا ہے۔ خدا کی نازل کی ہوئی کتاب سے کفر کرنے لگے تو وہ (اس کے) غضب بالائے غضب میں مبتلا ہو گئے۔ اور کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

Explained together with ayah 85

Al-Baqara 2:90Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.