Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 71–80 of 286

71

قَالَ إِنَّهُۥ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌۭ لَّا ذَلُولٌۭ تُثِيرُ ٱلْأَرْضَ وَلَا تَسْقِى ٱلْحَرْثَ مُسَلَّمَةٌۭ لَّا شِيَةَ فِيهَا ۚ قَالُوا۟ ٱلْـَٰٔنَ جِئْتَ بِٱلْحَقِّ ۚ فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُوا۟ يَفْعَلُونَ

موسیٰ نے کہا کہ خدا فرماتا ہے کہ وہ بیل کام میں لگا ہوا نہ ہو، نہ تو زمین جوتتا ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتا ہو۔ اس میں کسی طرح کا داغ نہ ہو۔ کہنے لگے، اب تم نے سب باتیں درست بتا دیں۔ غرض (بڑی مشکل سے) انہوں نے اس بیل کو ذبح کیا، اور وہ ایسا کرنے والے تھے نہیں

Explained together with ayah 67

Al-Baqara 2:71Listen in Qur'an →
72

وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًۭا فَٱدَّٰرَْٰٔتُمْ فِيهَا ۖ وَٱللَّهُ مُخْرِجٌۭ مَّا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ

اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا، تو اس میں باہم جھگڑنے لگے۔ لیکن جو بات تم چھپا رہے تھے، خدا اس کو ظاہر کرنے والا تھا

Explained together with ayah 67

Al-Baqara 2:72Listen in Qur'an →
73

فَقُلْنَا ٱضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا ۚ كَذَٰلِكَ يُحْىِ ٱللَّهُ ٱلْمَوْتَىٰ وَيُرِيكُمْ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ

تو ہم نے کہا کہ اس بیل کا کوئی سا ٹکڑا مقتول کو مارو۔ اس طرح خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تم کو اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو

Explained together with ayah 67

Al-Baqara 2:73Listen in Qur'an →
74

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم مِّنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ فَهِىَ كَٱلْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةًۭ ۚ وَإِنَّ مِنَ ٱلْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ ٱلْأَنْهَٰرُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ ٱلْمَآءُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ ٱللَّهِ ۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے۔ گویا وہ پتھر ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت۔ اور پتھر تو بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں، اور ان میں سے پانی نکلنے لگتا ہے، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں، اور خدا تمہارے عملوں سے بے خبر نہیں

Explained together with ayah 67

Al-Baqara 2:74Listen in Qur'an →
75

۞ أَفَتَطْمَعُونَ أَن يُؤْمِنُوا۟ لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌۭ مِّنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلَٰمَ ٱللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُۥ مِنۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

(مومنو) کیا تم امید رکھتے ہو کہ یہ لوگ تمہارے (دین کے) قائل ہو جائیں گے، (حالانکہ) ان میں سے کچھ لوگ کلامِ خدا (یعنی تورات) کو سنتے، پھر اس کے سمجھ لینے کے بعد اس کو جان بوجھ کر بدل دیتے رہے ہیں

قول باری ہے : افتطمعون ان یومنوا لکم و قد کان فریق منھم یسمعون کلام اللہ ثم یحرفونہ من بعدما عقلوہ وھم یعلمون (اے مسلمانو اب کیا ان لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے حلان کہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی) یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ حق کا علم رکھنے کے باوجود اس سے معاندت برتنے والا شخص ایک جاہل انسان کی بہ نسبت رشد و ہدایت سے زیادہ دور ہتا ہے اور اس کے سدھر جانے کے امکانات جاہل کے مقابل ی میں کم ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ قول باری ہے : افتطمعون ان یومنوا لکم ان کے رشد و ہدایت کی توقع ختم ہوجانے کی خبر دے رہا ہے۔ کیونکہ انہوں نے حق کا علم ہوجانے کے بعد اسے جھٹلانے اور اس کے خلاف محاذ قائم کرنے کی کوشش کی۔

Al-Baqara 2:75Listen in Qur'an →
76

وَإِذَا لَقُوا۟ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍۢ قَالُوٓا۟ أَتُحَدِّثُونَهُم بِمَا فَتَحَ ٱللَّهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَآجُّوكُم بِهِۦ عِندَ رَبِّكُمْ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لے آئے ہیں۔ اور جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، جو بات خدا نے تم پر ظاہر فرمائی ہے، وہ تم ان کو اس لیے بتائے دیتے ہو کہ (قیامت کے دن) اسی کے حوالے سے تمہارے پروردگار کے سامنے تم کو الزام دیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟

Explained together with ayah 75

Al-Baqara 2:76Listen in Qur'an →
77

أَوَلَا يَعْلَمُونَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ

کیا یہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ جو کچھ یہ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں، خدا کو (سب) معلوم ہے

Explained together with ayah 75

Al-Baqara 2:77Listen in Qur'an →
78

وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لَا يَعْلَمُونَ ٱلْكِتَٰبَ إِلَّآ أَمَانِىَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ

اور بعض ان میں ان پڑھ ہیں کہ اپنے باطل خیالات کے سوا (خدا کی) کتاب سے واقف ہی نہیں اور وہ صرف ظن سے کام لیتے ہیں

Explained together with ayah 75

Al-Baqara 2:78Listen in Qur'an →
79

فَوَيْلٌۭ لِّلَّذِينَ يَكْتُبُونَ ٱلْكِتَٰبَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَٰذَا مِنْ عِندِ ٱللَّهِ لِيَشْتَرُوا۟ بِهِۦ ثَمَنًۭا قَلِيلًۭا ۖ فَوَيْلٌۭ لَّهُم مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌۭ لَّهُم مِّمَّا يَكْسِبُونَ

تو ان لوگوں پر افسوس ہے جو اپنے ہاتھ سے تو کتاب لکھتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ یہ خدا کے پاس سے (آئی) ہے، تاکہ اس کے عوض تھوڑی سے قیمت (یعنی دنیوی منفعت) حاصل کریں۔ ان پر افسوس ہے، اس لیے کہ (بےاصل باتیں) اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور (پھر) ان پر افسوس ہے، اس لیے کہ ایسے کام کرتے ہیں

Explained together with ayah 75

Al-Baqara 2:79Listen in Qur'an →
80

وَقَالُوا۟ لَن تَمَسَّنَا ٱلنَّارُ إِلَّآ أَيَّامًۭا مَّعْدُودَةًۭ ۚ قُلْ أَتَّخَذْتُمْ عِندَ ٱللَّهِ عَهْدًۭا فَلَن يُخْلِفَ ٱللَّهُ عَهْدَهُۥٓ ۖ أَمْ تَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

اور کہتے ہیں کہ (دوزخ کی) آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی۔ ان سے پوچھو، کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے کہ خدا اپنے اقرار کے خلاف نہیں کرے گا۔ (نہیں)، بلکہ تم خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں مطلق علم نہیں

قول باری ہے : وقالوا لن تمسنا النار الا ایا ما معدودۃ (وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہرگز چھونے والی نہیں الآیہ کہ چند روز کی سزا مل جائے تو مل جائے) معدودۃ کا ایک معنی یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ تھوڑے ہوں گے جس طرح یہ قول باری ہے : وشروہ بثمن بحسن درا ھم معدودۃ (آخر کار انہوں نے اس کو تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا)- (قتادہ نے : ایا ما معدودۃ کی تفسیر میں کہا ہے کہ یہ چالیس دن ہوں گے یعنی اتنے دن جتنے دن انہوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی۔ حسن بصری اور مجاہد نے کہا ہے کہ یہ سات دن ہوں گے۔ قول باری ہے : (کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون ایاماً معدودات) (اے ایمان والو تم پر روزے فرض کردیئے گئے جس طرح تم سے پہلے ابنیاء کے پیروئوں پر فرض کئے گئے تھے، اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی ۔ چند مقرر دنوں کے روزے ہیں) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایام صوم اور رمضان کے پورے مہینے کے دنوں کو معدودات کا نام دیا۔ یعنی گنتی کے چند دن۔- ہمارے شیوخ نے حیض کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ مدت یعنی تین دن اور دس دن کے لئے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد سے استدلال کیا ہے : مستحاضہ اپنے اقراء کے ایام کی تعداد نماز کی ادائیگی چھوڑ دے گی۔ “ بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں : تم اپنے حیض کے ایام کی تعداد کے مطابق نماز چھوڑ دو ۔ “ ہمارے حضرات نے اس سے استدلال کیا ہے کہ حیض کی مدت کو ایام کا نام دیا گیا ہے اور ایام کی کم سے کم مقدار تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے اس لئے کہ تین دنوں سے کم مقدار کو ایک یا دو دن کہا جاتا ہے اور دس دن سے زیادہ مقدار کو گیارہ دن کہا جاتا ہے ۔ اس لئے ایام کا اسم تین سے لے کر دس دنوں کی مدت کو شامل ہوگا اور اس سے حیض کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ مدت پر دلالت حاصل ہوجائے گی۔- بعض لوگ اس استدلال پر قول باری : ایاماً معدودات کے ذریعے یہ کہہ کر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ رمضان کے پورے مہینے کے ایام ہیں نیز وہ قول باری : الا ایا ماً معدودۃ کے ذریعے بھی یہ کہہ کر اعتراض کرتے ہیں کہ ایک قول کے مطابق یہ ایام چالیس دن ہیں۔ لیکن یہ بات مذکورہ استدلال کے لئے قادح نہیں ہے کیونکہ یہ جائز ہے کہ اللہ سبحانہ نے : معدودات کے لفظ سے قلیل ایام مراد لئے ہوں جس طرح یہ قول باری ہے : دراھم معدودۃ یعنی تھوڑے سے دراہم اور اس سے عدد کی تحدید اور اس کی مقدار کی توقیت مراد نہ لی ہو، بلکہ اس سے مراد یہ ہو کہ اللہ نے مسلمانوں پر اتنے روزے فرض نہیں کئے جو ان کے لئے مشکل اور سخت ہوجائیں۔ یہاں یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے ایک مبہم وقت مراد لیا گیا ہو جس طرح عربوں کا قول ہے۔” ایام بنی امیۃ یا ایام الحجاج “ (بنی امیہ یا حجاج کا عہد اور زمانہ) اس قول سے ایام کی تحدید مراد نہیں ہے، بلکہ اس سے بنی امیہ کی حکومت کا زمانہ مراد ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد :” تم اپنے اقراء کے ایام میں نماز چھوڑ دو ۔ “ سے لا محالہ تحدید ایام مراد ہے، کیونکہ حیض کا ایک معین اور مخصوص وقت ہوتا ہے جس سے حیض نہ تو تجاوز کرتا ہے اور نہ ہی اس سے کم ہوتا ہے۔ اس لئے جب ایام کی اضافت ایک مخصوص عدد کی طرف ہوگی تو وہ تین سے لے کر دس دنوں کے ایام کو شامل ہوں گے۔

Al-Baqara 2:80Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.