تفسیر آیت 67 تا 73:- قول باری ہے : انا اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ، قالوا اتتخذنا ھزواً (اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے، کہنے لگے کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو) تا قول باری : واذ قتلتم نفساً فادار اتم فیھا واللہ مخرج ما کنتم تکتمون، فقلنا اضربوہ ببعضھا (اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا، پھر اس کے بارے میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھوپنے لگے تھے اور اللہ نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے کھول کر رکھ دے گا۔ اس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اس کے ایک حصے سے ضرب لگائو تا آخر آیت۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ان آیات اور ان میں مذکورہ قصہ مقتول اور ذبح بقرہ کے اندر کئی قسم کے احکام اور اعلیٰ معانی پر دلائل موجود ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ قول باری : واذا قتلم نفساً اگرچہ تلاوت کے اندر موخر ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے یہ گائے کے متعلق بیان کردہ تمام امور پر مقدم ہے کیونکہ گائے ذبح کرنے کا حکم صرف اس لئے دیا گیا تھا کہ اس کا سبب ایک آدمی کا قتل تھا۔ اس سلسلے میں دو اور وجوہ بھی بیان کی گئی ہیں۔ پلہی وجہ یہ بیان ہوئی ہے کہ قتل کا ذکر اگرچہ تلاوت کے اندر مئوخر ہے۔ لیکن نزول کے اندر مقدم ہے اور دوسری وجہ یہ بیان ہوئی ہے کہ آیت کے نزول کی ترتیب تلاوت کی ترتیب کے مطابق ہے ۔ تاہم یہ معنی کے اعتبار سے مقدم ہے۔ اس لئے کہ حرف وائو ترتیب کا موجب نہیں ہوتا۔ مثلاً اگر ایک شخص کہے ” مجھے یاد ہے کہ میں نے زید کو ایک ہزار درہم دیئے تھے جب اس نے میرا مکان بنایا تھا۔ “ حالانکہ مکان کی تعمیر ایک ہزار درہم دینے پر مقدم تھی۔ گائے کا ذکر نزول کے اندر مقدم ہے اس کی دلیل یہ قول باری ہے : فقلنا اشربوہ ببعضھا۔ یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ گائے کا ذکر اس سے پہلے ہوچکا تھا اس بنا پر درج بالا فقرے کے اندر اس کا ذکر ضمیر کی صورت میں کیا گیا۔ اس کی نظیر حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں طوفان اور اس کے اختتام کے ذکر کے بعد یہ قول باری ہے : قلنا احمل فیھا من کل زوجین اثنین واھلک الا من سبق علیہ القول ون امن۔ وما امن معہ الا قلیل (ہم نے کہا ” ہر قسم کے جانوروں کا ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو، اپنے گھر والوں کو بھی … سوائے ان اشخاص کے جن کی نشان دہی پہلی ک جای چکی ہے … اس میں سوار کرلو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں۔ “ اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح کے ساتھ ایمان لائے تھے) یہ بات تو معلوم ہی ہے کہ یہ گفتگو ان کی ہلاکت سے پہلے ہوئی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کلام میں تقدیم و تاخیر حرف وائو کے ذریعے معطوف صورت میں ہو تو یہ بات لفظ کی ترتیب پر معنی کی ترتیب کی موجب نہیں بنتی۔- قول باری : ان اللہ یا مرکم ان تدبحوا بقرۃ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ذبح بقرہ کا حکم کسی مجہول اور غیر معروف گائے کے ذبح کا جواز لے کر وارد ہوا تھا اور مامور کو اختیار تھا کہ وہ ایسی ادنیٰ سے ادنیٰ گائے ذبح کر دے جس پر بقرہ کے لفظ کا اطلاق ہوتا ہو۔- عموم کا اثبات کرنے والوں اور عموم کی نفی کرنے والوں کے درمیان درج بالا قول باری کے معنی کے متعلق اختلاف پیدا ہوگیا ہے۔ ہر فریق نے اس کے ذریعے اپنے مسلک کے حق میں استدلال کیا ہے۔ جو لوگ عموم کے قائل ہیں انہوں نے مذکورہ قو ل باری سے مطلق صورت میں اس کے درود کی جہت سے استدلال کیا ہے۔ یعنی ان کے نزدیک قول باری میں مذکورہ امر ایسا امر تھا جو ان تمام احاد میں سے جنہیں لفظ کا عموم شامل تھا ہر واحد کے اندر لازم تھا ، یعنی اگر وہ کسی بھی گائے کو ذبح کردیتے تو کام چل جاتا، لیکن جب انہوں نے اللہ کے رسول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بار بار مراجعت کر کے انہیں تنگ کردیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر مذکورہ تکلیف، یعنی حکم کے اندر شدت پیدا کردی اور اللہ کے رسول سے بار بار مراجعت پر ان الفاظ میں …