Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 61–70 of 286

61

وَإِذْ قُلْتُمْ يَٰمُوسَىٰ لَن نَّصْبِرَ عَلَىٰ طَعَامٍۢ وَٰحِدٍۢ فَٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنۢبِتُ ٱلْأَرْضُ مِنۢ بَقْلِهَا وَقِثَّآئِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا ۖ قَالَ أَتَسْتَبْدِلُونَ ٱلَّذِى هُوَ أَدْنَىٰ بِٱلَّذِى هُوَ خَيْرٌ ۚ ٱهْبِطُوا۟ مِصْرًۭا فَإِنَّ لَكُم مَّا سَأَلْتُمْ ۗ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ ٱلذِّلَّةُ وَٱلْمَسْكَنَةُ وَبَآءُو بِغَضَبٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا۟ يَكْفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَيَقْتُلُونَ ٱلنَّبِيِّۦنَ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ ۗ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا۟ وَّكَانُوا۟ يَعْتَدُونَ

اور جب تم نے کہا کہ موسیٰ! ہم سے ایک (ہی) کھانے پر صبر نہیں ہو سکتا تو اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ ترکاری اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز (وغیرہ) جو نباتات زمین سے اُگتی ہیں، ہمارے لیے پیدا کر دے۔ انہوں نے کہا کہ بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہوں۔ (اگر یہی چیزیں مطلوب ہیں) تو کسی شہر میں جا اترو، وہاں جو مانگتے ہو، مل جائے گا۔ اور (آخرکار) ذلت (ورسوائی) اور محتاجی (وبے نوائی) ان سے چمٹا دی گئی اور وہ الله کے غضب میں گرفتار ہو گئے۔ یہ اس لیے کہ وہ الله کی آیتوں سے انکار کرتے تھے اور (اس کے) نبیوں کو ناحق قتل کر دیتے تھے۔ (یعنی) یہ اس لیے کہ نافرمانی کئے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے

Explained together with ayah 59

Al-Baqara 2:61Listen in Qur'an →
62

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَٱلَّذِينَ هَادُوا۟ وَٱلنَّصَٰرَىٰ وَٱلصَّٰبِـِٔينَ مَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَعَمِلَ صَٰلِحًۭا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست، (یعنی کوئی شخص کسی قوم و مذہب کا ہو) جو خدا اور روز قیامت پر ایمان لائے گا، اور نیک عمل کرے گا، تو ایسے لوگوں کو ان (کے اعمال) کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غم ناک ہوں گے

Explained together with ayah 59

Al-Baqara 2:62Listen in Qur'an →
63

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَٰقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ ٱلطُّورَ خُذُوا۟ مَآ ءَاتَيْنَٰكُم بِقُوَّةٍۢ وَٱذْكُرُوا۟ مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

اور جب ہم نے تم سے عہد (کر) لیا اور کوہِ طُور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا) کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑے رہو، اور جو اس میں (لکھا) ہے، اسے یاد رکھو، تاکہ (عذاب سے) محفوظ رہو

Explained together with ayah 59

Al-Baqara 2:63Listen in Qur'an →
64

ثُمَّ تَوَلَّيْتُم مِّنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ ۖ فَلَوْلَا فَضْلُ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُۥ لَكُنتُم مِّنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

تو تم اس کے بعد (عہد سے) پھر گئے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تم خسارے میں پڑے گئے ہوتے

Explained together with ayah 59

Al-Baqara 2:64Listen in Qur'an →
65

وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ ٱلَّذِينَ ٱعْتَدَوْا۟ مِنكُمْ فِى ٱلسَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا۟ قِرَدَةً خَٰسِـِٔينَ

اور تم ان لوگوں کو خوب جانتے ہوں، جو تم میں سے ہفتے کے دن (مچھلی کا شکار کرنے) میں حد سے تجاوز کر گئے تھے، تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل وخوار بندر ہو جاؤ

Explained together with ayah 59

Al-Baqara 2:65Listen in Qur'an →
66

فَجَعَلْنَٰهَا نَكَٰلًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةًۭ لِّلْمُتَّقِينَ

اور اس قصے کو اس وقت کے لوگوں کے لیے اور جو ان کے بعد آنے والے تھے عبرت اور پرہیز گاروں کے لیے نصیحت بنا دیا

Explained together with ayah 59

Al-Baqara 2:66Listen in Qur'an →
67

وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦٓ إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تَذْبَحُوا۟ بَقَرَةًۭ ۖ قَالُوٓا۟ أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًۭا ۖ قَالَ أَعُوذُ بِٱللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ ٱلْجَٰهِلِينَ

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ ایک بیل ذبح کرو۔ وہ بولے، کیا تم ہم سے ہنسی کرتے ہو۔ (موسیٰ نے) کہا کہ میں الله کی پناہ مانگتا ہوں کہ نادان بنوں

تفسیر آیت 67 تا 73:- قول باری ہے : انا اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ، قالوا اتتخذنا ھزواً (اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے، کہنے لگے کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو) تا قول باری : واذ قتلتم نفساً فادار اتم فیھا واللہ مخرج ما کنتم تکتمون، فقلنا اضربوہ ببعضھا (اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا، پھر اس کے بارے میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھوپنے لگے تھے اور اللہ نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے کھول کر رکھ دے گا۔ اس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اس کے ایک حصے سے ضرب لگائو تا آخر آیت۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ان آیات اور ان میں مذکورہ قصہ مقتول اور ذبح بقرہ کے اندر کئی قسم کے احکام اور اعلیٰ معانی پر دلائل موجود ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ قول باری : واذا قتلم نفساً اگرچہ تلاوت کے اندر موخر ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے یہ گائے کے متعلق بیان کردہ تمام امور پر مقدم ہے کیونکہ گائے ذبح کرنے کا حکم صرف اس لئے دیا گیا تھا کہ اس کا سبب ایک آدمی کا قتل تھا۔ اس سلسلے میں دو اور وجوہ بھی بیان کی گئی ہیں۔ پلہی وجہ یہ بیان ہوئی ہے کہ قتل کا ذکر اگرچہ تلاوت کے اندر مئوخر ہے۔ لیکن نزول کے اندر مقدم ہے اور دوسری وجہ یہ بیان ہوئی ہے کہ آیت کے نزول کی ترتیب تلاوت کی ترتیب کے مطابق ہے ۔ تاہم یہ معنی کے اعتبار سے مقدم ہے۔ اس لئے کہ حرف وائو ترتیب کا موجب نہیں ہوتا۔ مثلاً اگر ایک شخص کہے ” مجھے یاد ہے کہ میں نے زید کو ایک ہزار درہم دیئے تھے جب اس نے میرا مکان بنایا تھا۔ “ حالانکہ مکان کی تعمیر ایک ہزار درہم دینے پر مقدم تھی۔ گائے کا ذکر نزول کے اندر مقدم ہے اس کی دلیل یہ قول باری ہے : فقلنا اشربوہ ببعضھا۔ یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ گائے کا ذکر اس سے پہلے ہوچکا تھا اس بنا پر درج بالا فقرے کے اندر اس کا ذکر ضمیر کی صورت میں کیا گیا۔ اس کی نظیر حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں طوفان اور اس کے اختتام کے ذکر کے بعد یہ قول باری ہے : قلنا احمل فیھا من کل زوجین اثنین واھلک الا من سبق علیہ القول ون امن۔ وما امن معہ الا قلیل (ہم نے کہا ” ہر قسم کے جانوروں کا ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو، اپنے گھر والوں کو بھی … سوائے ان اشخاص کے جن کی نشان دہی پہلی ک جای چکی ہے … اس میں سوار کرلو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں۔ “ اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح کے ساتھ ایمان لائے تھے) یہ بات تو معلوم ہی ہے کہ یہ گفتگو ان کی ہلاکت سے پہلے ہوئی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کلام میں تقدیم و تاخیر حرف وائو کے ذریعے معطوف صورت میں ہو تو یہ بات لفظ کی ترتیب پر معنی کی ترتیب کی موجب نہیں بنتی۔- قول باری : ان اللہ یا مرکم ان تدبحوا بقرۃ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ذبح بقرہ کا حکم کسی مجہول اور غیر معروف گائے کے ذبح کا جواز لے کر وارد ہوا تھا اور مامور کو اختیار تھا کہ وہ ایسی ادنیٰ سے ادنیٰ گائے ذبح کر دے جس پر بقرہ کے لفظ کا اطلاق ہوتا ہو۔- عموم کا اثبات کرنے والوں اور عموم کی نفی کرنے والوں کے درمیان درج بالا قول باری کے معنی کے متعلق اختلاف پیدا ہوگیا ہے۔ ہر فریق نے اس کے ذریعے اپنے مسلک کے حق میں استدلال کیا ہے۔ جو لوگ عموم کے قائل ہیں انہوں نے مذکورہ قو ل باری سے مطلق صورت میں اس کے درود کی جہت سے استدلال کیا ہے۔ یعنی ان کے نزدیک قول باری میں مذکورہ امر ایسا امر تھا جو ان تمام احاد میں سے جنہیں لفظ کا عموم شامل تھا ہر واحد کے اندر لازم تھا ، یعنی اگر وہ کسی بھی گائے کو ذبح کردیتے تو کام چل جاتا، لیکن جب انہوں نے اللہ کے رسول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بار بار مراجعت کر کے انہیں تنگ کردیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر مذکورہ تکلیف، یعنی حکم کے اندر شدت پیدا کردی اور اللہ کے رسول سے بار بار مراجعت پر ان الفاظ میں …

Al-Baqara 2:67Listen in Qur'an →
68

قَالُوا۟ ٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا هِىَ ۚ قَالَ إِنَّهُۥ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌۭ لَّا فَارِضٌۭ وَلَا بِكْرٌ عَوَانٌۢ بَيْنَ ذَٰلِكَ ۖ فَٱفْعَلُوا۟ مَا تُؤْمَرُونَ

انہوں نے کہا کہ اپنے پروردگار سے التجا کیجئے کہ وہ ہمیں یہ بتائے کہ وہ بیل کس طرح کا ہو۔ (موسیٰ نے) کہا کہ پروردگار فرماتا ہے کہ وہ بیل نہ تو بوڑھا ہو اور نہ بچھڑا، بلکہ ان کے درمیان (یعنی جوان) ہو۔ جیسا تم کو حکم دیا گیا ہے، ویسا کرو

Explained together with ayah 67

Al-Baqara 2:68Listen in Qur'an →
69

قَالُوا۟ ٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا لَوْنُهَا ۚ قَالَ إِنَّهُۥ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌۭ صَفْرَآءُ فَاقِعٌۭ لَّوْنُهَا تَسُرُّ ٱلنَّٰظِرِينَ

انہوں نے کہا کہ پروردگار سے درخواست کیجئے کہ ہم کو یہ بھی بتائے کہ اس کا رنگ کیسا ہو۔ موسیٰ نے کہا، پروردگار فرماتا ہے کہ اس کا رنگ گہرا زرد ہو کہ دیکھنے والوں (کے دل) کو خوش کر دیتا ہو

Explained together with ayah 67

Al-Baqara 2:69Listen in Qur'an →
70

قَالُوا۟ ٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا هِىَ إِنَّ ٱلْبَقَرَ تَشَٰبَهَ عَلَيْنَا وَإِنَّآ إِن شَآءَ ٱللَّهُ لَمُهْتَدُونَ

انہوں نے کہا کہ (اب کے) پروردگار سے پھر درخواست کیجئے کہ ہم کو بتا دے کہ وہ اور کس کس طرح کا ہو، کیونکہ بہت سے بیل ہمیں ایک دوسرے کے مشابہ معلوم ہوتے ہیں، (پھر) خدا نے چاہا تو ہمیں ٹھیک بات معلوم ہو جائے گی

Explained together with ayah 67

Al-Baqara 2:70Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.