Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 41–50 of 286

41

وَءَامِنُوا۟ بِمَآ أَنزَلْتُ مُصَدِّقًۭا لِّمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُونُوٓا۟ أَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهِۦ ۖ وَلَا تَشْتَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِى ثَمَنًۭا قَلِيلًۭا وَإِيَّٰىَ فَٱتَّقُونِ

اور جو کتاب میں نے (اپنے رسول محمدﷺ پر) نازل کی ہے جو تمہاری کتاب تورات کو سچا کہتی ہے، اس پر ایمان لاؤ اور اس سے منکرِ اول نہ بنو، اور میری آیتوں میں (تحریف کر کے) ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منعفت) نہ حاصل کرو، اور مجھی سے خوف رکھو

قول باری ہے : وامنوا بما انزلت مصدقاً لما معکم ولاتکونوا اول کافر بہ (اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے اس پر ایمان لائو۔ یہ اس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود ہے، لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جائو) ایک قول کے مطابق قول باری : ولاتکونوا اول کافربہ کا فائدہ یہ ہے کہ اگرچہ سب سے پہلے اور سب سے آخر دونوں سے کفر کا صدور قبیح ہے اور سب کو اس سے روکا گیا ہے، تاہم کفر کے اندر سابق شخص کی پیروی دوسرے لوگ کریں گے جس کی بنا پر اس کا جرم اور گناہ دوسروں کے جرم اور گناہ سے بڑھ کر ہوگا۔ جس طرح یہ قول باری ہے : ولیحملن اثقالھم و اتقا لا مع اثقالھم (اور یہ لوگ ضرور اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے اس بوجھ کے ساتھ دیگر بوجھ بھی اٹھائیں گے) نیز : من جل ذلک کتبنا علی بنی اسرآئیل انہ من قتل نفساً بغیر نفس او فساد فی الارض فکا نما قتل الناس جمیعاً (اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آدم کے قاتل بیٹے پر ظلماً قتل ہونے والے ہر مقتول کے قاتل کے گناہ کا ایک حصہ ہ وگا کیونکہ وہ پہلا شخص تھا جس نے قتل کرنے کی رسم جاری کی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :” جو شخص نیکی کی کوئی رسم جاری رکے گا اسے اس کا اجر ملے گا، نیز ان تمام لوگوں کا بھی اجر اسے ملے گا جو قیامت تک اس پر عمل کرتے جائیں گے۔

Al-Baqara 2:41Listen in Qur'an →
42

وَلَا تَلْبِسُوا۟ ٱلْحَقَّ بِٱلْبَٰطِلِ وَتَكْتُمُوا۟ ٱلْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ، اور سچی بات کو جان بوجھ کر نہ چھپاؤ

Explained together with ayah 41

Al-Baqara 2:42Listen in Qur'an →
43

وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱرْكَعُوا۟ مَعَ ٱلرَّٰكِعِينَ

اور نماز پڑھا کرو اور زکوٰة دیا کرو اور (خدا کے آگے) جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو

قول باری ہے : واقیمو الصلوۃ واتوا الزکوۃ وارکعوا مع الرکعین۔ (اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو) آیت میں مذکورہ صلوۃ و زکوۃ یا تو مہود و معلوم صلوۃ و زکوۃ کی طرف راجع ہیں جنہیں اللہ نے بیان کردیا ہے۔ یا یہ اس مجمل صلوۃ اور مجمل زکوۃ کو شامل ہیں جو بیان پر موقوف تھیں۔ البتہ ہمیں اب یہ معلوم ہے کہ ان سے وہ فرض نمازیں اور وہ مفروض زکوۃ مراد ہیں جن کا ہم سے خطاب کیا گیا ہے، یا تو خطاب کے درود کے وقت یہ باتیں مخاطبین کو معلوم تھیں یا یہ کہ مذکورہ باتیں مجمل تھیں اور اس کے بعد ان سے مراد کا بیان وارد ہوگیا اور اس طرح یہ معلوم بن گئیں۔- قول باری : وارکعوا معن الرکعین نماز میں رکوع کی فرضیت کے اثبات کا مفہوم ادا کرتا ہے۔ ایک قول کے مطابق رکوع کا ذکر خاص طور پر اس لئے کیا گیا کہ اہل کتاب کے نمازوں میں رکوع کا وجود نہیں تھا اس لئے آیت کے ذریعے نماز کے اندر رکوع کے وجود پر نص کردیا گیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ قول باری : وارکعوا خود نماز سے عبارت ہو جس طرح آیت : فاقو وا ما تیسر من القرآن اور آیت (وقرآن الفجور ان قرآن الفجر کا ن مشھوداً میں قرأت کے لفظ سے نماز کی تعبیر کی گئی ہے۔ آیت کا مفہوم ہے۔ ” فجر کی نماز “ اس طرح زیر بحث آیت وارکعوا مع الراکین دو فائدوں پر مشتمل ہوجائے گی۔ ایک فائدہ تو ایجاب رکوع کا ہے اس لئے کہ رکوع کے لفظ سے نماز کی تعبیر صرف اس لئے کی گئی ہے کہ رکوع نماز کے فرائض میں شامل ہے اور دوسرا فائدہ نمازیوں کے ساتھ مل کر نماز ادا کرنے کا حکم ہے۔- اگر یہاں یہ کہا جائے کہ قول باری : واقیمیا الصلوۃ میں نماز کا ذکر گزر چکا تھا اس لئے یہ درست نہیں کہ اس پر رکوع کا عطف کر کے بعینیہ نماز مراد لی جائے۔- اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات ممکن ہے کہ جس نماز کا شروع میں ذکر ہوا ہے اس سے اجمال مراد ہو، معہود و معلوم نماز مراد نہ ہو۔ ایسی صورت میں : وارکعوا مع الراکعین کے ذریعے اس نماز کا حوالہ دیا گیا ہے جس کا بیان اس کے رکوع نیز تمام فرائض کے ساتھ ہوا ہے، نیز اہل کتاب کی نماز چونکہ رکوع کے بغیر تھی اور لفظ میں یہ احتمال تھا کہ اس کا مرجع مذکورہ نماز ہے اس لئے یہ بیان کردیا کہ وہ نماز مراد نہیں جس کے اہل کتاب پابند تھے، بلکہ وہ نماز مرا د ہے جس میں رکوع ہے،

Al-Baqara 2:43Listen in Qur'an →
44

۞ أَتَأْمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ ٱلْكِتَٰبَ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

(یہ) کیا (عقل کی بات ہے کہ) تم لوگوں کو نیکی کرنے کو کہتے ہو اور اپنے تئیں فراموش کئے دیتے ہو، حالانکہ تم کتاب (خدا) بھی پڑھتے ہو۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟

Explained together with ayah 43

Al-Baqara 2:44Listen in Qur'an →
45

وَٱسْتَعِينُوا۟ بِٱلصَّبْرِ وَٱلصَّلَوٰةِ ۚ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى ٱلْخَٰشِعِينَ

اور (رنج وتکلیف میں) صبر اور نماز سے مدد لیا کرو اور بے شک نماز گراں ہے، مگر ان لوگوں پر (گراں نہیں) جو عجز کرنے والے ہیں

قول باری ہے : واستعینوا بالصبروا الصلوۃ اور صبر اور نماز کے ذریعے مدد کرو) اس میں صبر کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ کے فرض کردہ فرائض کی ادائیگی اور اس کے معاصی سے اجتناب پر فرض نماز کو بروئے کار لانے کے ساتھ متعلق ہے۔ سعید نے قتادہ سے روایت بیان کی ہے کہ صبر اور نماز دونوں باتیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت نماز کی ادائیگی، گناہوں سے اجتناب اور فرائض کی بجا آوری میں بڑی ممد و معاون ہیں جس طرح یہ قول باری ہے :- (بےشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی رہتی ہے) یہاں بھی احتمال ہے کہ آیت میں مذکورہ صبر اور صلوۃ سے مستحب صبر و صلوۃ ، مثلاً نفلی روزے اور نفلی نماز مراد ہو، مفروض صبر و صلوۃ مراد نہ ہوں تاہم زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ ان کی مفروض صورتیں مراد ہیں اس لئے کہ امر کے صیغے کا ظاہر ایجاب کے لئے ہوتا ہے اور دلالت کے بغیر اسے کسی اور معنی کی طرف موڑا نہیں جاسکتا۔- قول باری ہے : وانھا لکبیرۃ (اور بیشک نماز ایک سخت مشکل کام ہے) اس میں ضمیر مئونث مذکورہ دو باتوں میں سے ایک کی طرف راجع ہے حالانکہ پہلے ان دونوں باتوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے : واللہ و رسولہ احق ان یرضوا (حالانکہ اللہ اور اس کا رسول اس بات کے زیادہ حق دار تھے کہ یہ لوگ انہیں راضی کرتے) نیز ارشاد ہے : واذا راوجارۃ اولھوان انفقضوا الیھا (جب یہ لوگ کوئی تجارت یا کھیل تماشا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ )- شاعرکا شعر ہے۔- فمن یک امسی بالمدینۃ رحلہ فانی وقیار بھا لغریب - جس شخص کا کجا وہ مدینہ میں ٹک گیا ہے ، یعنی وہ اس شہر میں رہائش پذیر ہوگیا ہے تو وہ وہاں رہائش پذیر ہوگیا لیکن جہاں تک میرا اور قیار کا تعلق ہے تو ہم اس شہر میں اجنبی اور مسافر ہیں۔ )

Al-Baqara 2:45Listen in Qur'an →
46

ٱلَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَٰقُوا۟ رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ

اور جو یقین کئے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

Explained together with ayah 45

Al-Baqara 2:46Listen in Qur'an →
47

يَٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتِىَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّى فَضَّلْتُكُمْ عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ

اے یعقوب کی اولاد! میرے وہ احسان یاد کرو، جو میں نے تم پر کئے تھے اور یہ کہ میں نے تم کو جہان کے لوگوں پر فضیلت بخشی تھی

Explained together with ayah 45

Al-Baqara 2:47Listen in Qur'an →
48

وَٱتَّقُوا۟ يَوْمًۭا لَّا تَجْزِى نَفْسٌ عَن نَّفْسٍۢ شَيْـًۭٔا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَٰعَةٌۭ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌۭ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ

اور اس دن سے ڈرو جب کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے اور نہ کسی کی سفارش منظور کی جائے اور نہ کسی سے کسی طرح کا بدلہ قبول کیا جائے اور نہ لوگ (کسی اور طرح) مدد حاصل کر سکیں

Explained together with ayah 45

Al-Baqara 2:48Listen in Qur'an →
49

وَإِذْ نَجَّيْنَٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌۭ

اور (ہمارے ان احسانات کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو قومِ فرعون سے نجات بخشی وہ (لوگ) تم کو بڑا دکھ دیتے تھے تمہارے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی

Explained together with ayah 45

Al-Baqara 2:49Listen in Qur'an →
50

وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ ٱلْبَحْرَ فَأَنجَيْنَٰكُمْ وَأَغْرَقْنَآ ءَالَ فِرْعَوْنَ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ

اور جب ہم نے تمہارے لیے دریا کو پھاڑ دیا تم کو نجات دی اور فرعون کی قوم کو غرق کر دیا اور تم دیکھ ہی تو رہے تھے

Explained together with ayah 45

Al-Baqara 2:50Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.