الٓمٓ
الم
No commentary on this ayah in this edition.
سُورَةُ البَقَرَةِ
Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr
Ayahs 1–10 of 286
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
الٓمٓ
الم
No commentary on this ayah in this edition.
ذَٰلِكَ ٱلْكِتَٰبُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًۭى لِّلْمُتَّقِينَ
یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے
No commentary on this ayah in this edition.
ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِٱلْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ يُنفِقُونَ
جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
اقامت صلوۃ اور انفاق فی سبیل اللہ - قول باری ہے : (الذین یومنون بالغیب و یقیمون الصلوۃ و مما رزقنھم ینفقون) لوگ جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز قائم کرتے ہیں اور ہم نے انہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں) یہ قول باری نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کے امر اور حکم کو متضمن ہے کیونکہ اللہ سبحانہ نے یہ دونوں باتیں متقین کی صفات اور تقویٰ کی شرائط قرار دی ہیں، سج طرح ایمان بالغیب کو تقویٰ کی شرط قرار دیا گیا ہے، ایمان بالغیب سے مراد اللہ اور بعث و نشور پر نیز ان تمام باتوں پر ایمان لانا ہے جن کا اعتقاد ہم پر بطریق استدلال لازم ہوگیا ہے۔ تقویٰ کی شرائط قرار پانا آیت میں مذکورہ صلوۃ و زکوۃ کے ایجاب کا مقتضی بن گیا ہے۔- اقامت صلوۃ کے کئی معانی بیان ہوئے ہیں۔ ایک معنی اتمام صلوۃ ہے اور یہ معنی ” تفویم الشئی و تعقیقہ ایک چیز کو درست کرنا اور اسے حقیقت کا رنگ دینا۔ “ سے ماخوذ ہے۔ اور اسی معنی میں یہ قول باری ہے : واقیموا الوزن بالقسط اور زوزن کو ٹھیک رکھو انصاف کے ساتھ ایک معنی نماز کو اس کے تمام ارکان مثلاً قیام و رکوع و غیر ہما کے ساتھ اذکرنا ہیں۔ قیام کے لفظ سے ان تمام ارکان کی تعبیر کی گئی ہے، کیونکہ قیام نماز کے فرائض میں شامل ہے ، اگرچہ نماز اس کے سوا دیگر فرائض و ارکان پر مشتمل ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے : فاقروا ما تیسر من القرآن (قرآ ن میں سے جو کچھ آسانی سے پڑھا جاسکے اس کی قرأت کرو) یہاں نماز مراد ہے جس کے اندر قرأت کی جاتی ہے۔ اسی طرح قول باری ہے : وقرآن الفجر ( اور قرآن فجر) اس سے مراد فجر کی نماز میں قرأت ہے۔ اسی طرح قول باری : واذا قیل لھم ارکعوا الایرکعون (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رکوع کرو تو رکوع نہیں کرتے) نیز وارکعوا و اسجدوا (رکوع اور سجدہ کرو) نیز : وارکعوا مع الراکعین (رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نماز کے ارکان یعنی اس کے فرائض میں سے ایک رکن اور فرض کا ذکر کر کے اس امرپر دلالت قائم کردی کہ مذکورہ رکن نماز کے اندر فرض ہے۔ اس کے ساتھ اس عمل کے ایجاب پر بھی دلالت قائم کردی جس کا شمار نماز کے فرائض ہوتا ہے اس طرح قول باری : ویقتیمون الصلوۃ نماز میں قیام کا موجب اور نماز کے ایک فرض کی خبر دینے والا بن گیا۔- قول باری : یقیمون الصلوۃ میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ متقین نماز کے فرائض پر نماز کے اوقات میں دوام کرتے ہیں، یعنی وہ ہمیشہ اوقات صلوۃ میں نماز کو اس کے فرائض و ارکان کے ساتھ ادا کرتے رہتے ہیں۔ جس طرح یہ قول باری ہے : ان الصلوۃ کانت علی المومنین کتاباً موقوتاً (بےشک) اہل ایمان پ نماز اس کے معلوم و متعین اوقات میں فرض ہے) یعنی نماز اپنے معلوم اوقات میں فرض ہے۔ اسی طرح ارشاد باری ہے : قائماً بالقسط یعنی وہ انصاف کی ترازو کو قائم رکھتا ہے اور انصاف سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کرتا۔- عرب کے لوگ ایسی چیز کو قائم کا نام دیتے ہیں جو تسلسل کے ساتھ ٹھہری ہوئی ہو اور اس کے فاعل کو مقیم کہتے ہیں۔ محاورہ ہے : فلان یقیم ارزاق الجند (فلاں شخص فوج کی خوراک و تنخواہ کا مقیم یعنی منتظم ہے) ایک قول کے مطابق زیر بحث آیت کا مفہوم اس محاورہ سے ماخوذ ہے : قامت السوق (بازار کھل گیا) یہ فقرہ اس وقت کہا جاتا ہے جب بازار کے لوگ بازار پہنچ جائیں۔ اس صورت میں آیت کے معنی ہوں گے کہ دوسرے تمام کام کاج چھوڑ کر نماز میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ اسی مفہوم میں : قد قامت الصلوۃ (نماز کھڑی ہوگئی) کا فقرہ بھی ہے۔- سطور بالا میں اقامت صلوۃ کے جو مختلف معانی بیان کئے گئے ہیں ان کے متعلق یہ کہنا جائز ہے کہ وہ سب کے سب آیت کی مراد بن سکتے ہیں۔ قول باری : ومما رزقنھم ینفقون خطاب کے اندر اور اس کے سیاق و سباق ہیں اس بات پر دلالت موجود ہے کہ انفاق سے مراد فرض شدہ انفاق ہے۔ یہ وہ مالی حقوق ہیں جو اللہ کے لئے واجب ہیں، یعنی زکوۃ وغیرہ کیونکہ …
وَٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِٱلْءَاخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ
اور جو کتاب (اے محمدﷺ) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں
Explained together with ayah 3
أُو۟لَٰٓئِكَ عَلَىٰ هُدًۭى مِّن رَّبِّهِمْ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ
یہی لوگ اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں
Explained together with ayah 3
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
جو لوگ کافر ہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لانے کے
Explained together with ayah 3
خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلَىٰٓ أَبْصَٰرِهِمْ غِشَٰوَةٌۭ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ
خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑا ہوا) ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب (تیار) ہے
Explained together with ayah 3
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَبِٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَمَا هُم بِمُؤْمِنِينَ
اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے
اللہ تعالیٰ نے منافقین کی کیفیت بیان کرتے ہوئے ان کے متعلق خبر دی ہے کہ وہ مسلمانوں کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں حالانکہ ان کا عقیدہ ایمان کا نہیں ہوتا اور اپنے بھائی بندوں یعنی شیاطین کے سامنے کفر کا اظہار کرتے ہیں، چناچہ ارشاد ہے : ومن الناس من یقول امنا باللہ والیوم الاخروما ھم بمئومنین (اور لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے حالانکہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں) نیز : یخادعون اللہ والذین امنوا (وہ اللہ اور اہل ایمان کو دھوکا دیتے ہیں) تاقول باری : واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنا واذا خلوا الی شیاطینھم قالوا انا معکم انما نحن مستھزئون (اور جب وہ ان لوگوں سے ملتے ہیں جو ایمان لے آئے تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے اور جب اپنے شیطانوں کے ساتھ تنہا رہ جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو ان لوگوں کے ساتھ محض مذاق کر رہے ہیں) اس آیت سے ایسے زندیق کی تو یہ تسلیم کرلینے پر استدلال کیا جاتا ہے جس کے افعال و اقوال سے اس کے چھپے ہوئے کفر کا پتہ چلا ہو ۔ لیکن پھر اس نے ایمان کا اظہار کیا ہو، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے منافقین کے چھپے ہوئے کفر کی خبر دے کر انہیں قتل کردینے کا حکم نہیں دیا، بلکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کا ظاہر قبول کرلینے کا امر فرمایا اور ان کا باطن، نیز ان کے عقیدے کی خرابی کا معاملہ جس کا علم اللہ کو تھا اللہ کے حوالے کردینے کا حکم دیا۔- یہ بات تو واضح ہے کہ زیر بحث آیات کا نزول قتال کی فرضیت کے بعد ہوا تھا کیونکہ یہ آیتیں مدینہ منورہ میں نازل ہوئی تھیں اور مشرکین سے قتال کی فرضیت ہجرت کے بعد ہی ہوگئی تھی۔ ان آیات کے نظائر سورة برأت اور سورة محمد ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) نیز دیگر سورتوں میں موجود ہیں جہاں منافقین کا ذکر کر کے ان کا ظاہر قبول کرلینے اور انہیں ان تمام مشرکین کے احکام پر محمول نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جن کے ساتھ ہمیں قتال کرنے کا حکم ملا ہے۔ جب ہم ان نظائر کی تفسیر پر پہنچیں گے تو وہاں ان کے احکام بھی بیان کریں گے اور زندیق (بےدین اور باطنی طور پر کافر ) کے بارے میں اہل علم کے اختلاف اور ان کے استدلال کا ذکر بھی کریں گے۔- ایک شخص کے ظاہر کو قبول کرلینے کی بات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد سے واضح ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ دیں، یعنی کلمہ توحید کا اقرار نہ کرلیں۔ جب وہ یہ کہہ دیں گے تو وہ مجھ سے اپنی جانیں اور اپنے اموال محفوظ کرلیں گے۔ البتہ کسی حق کے بدلے ان کی جان اور مال پر گرفت ہو سکے گی اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔ “ حضرت اسامہ ایک جنگ کے اندر کسی شخص پر نیزے سے حملہ آور ہوئے۔ اس شخص نے لا الہ الا اللہ کا کلمہ پڑھا، لیکن اس کے باوجود حضرت اسامہ نے اسے قتل کر دای۔ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بات کی اطلاع لمی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت اسامہ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا ؟ ‘ یعنی ایسے شخص کو اس کے ظاہر پر حمول کرنا چاہیے تھا اور اس کے باطن کو نظر انداز کردینا چاہیے تھا کہ باطن کا حال جاننے کے لئے ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قول باری : ومن الناس من یقول امنا باللہ والیوم الاخر وما ھم بمئومنین۔ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اعتقاد کے بغیر اقرار کا نام ایمان نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے منافقین کے اقرار بالا یمان کی خبر دے کر : وما ھم بمئومنین کے ذریعے ان سے ایمان کی علامت کی نفی کردی۔ مجاہد سے مروی ہے کہ سورة بقرہ کی ابتدا میں چار آیتیں اہل ایمان کی تعریف میں ہیں، دو آیتیں کافروں کے بارے میں ہیں اور تیرہ آیتیں …
يُخَٰدِعُونَ ٱللَّهَ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
یہ (اپنے پندار میں) خدا کو اور مومنوں کو چکما دیتے ہیں مگر (حقیقت میں) اپنے سوا کسی کو چکما نہیں دیتے اور اس سے بے خبر ہیں
قول باری : یخد عون اللہ والذین امنوا لغت کے اعتبار سے مجاز ہے۔ اس لئے خدیعہ کے اصل معنی اخفاء کے ہیں۔ منافق دوسروں کو دھوکا دینے کے لئے اشتراک ، یعنی شرک کو چھپائے رکھتا اور دھوکے اور ملمع کاری کے طور پر ایمان کا اظہار کرتا ہے لیکن اللہ کی نظروں سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رکھی جاسکتی اور نہ ہی حقیقت میں اسے دھوکا دیا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو خداع کی صفت بد سے موصوف کیا ہے ان کا معاملہ دو میں سے ایک حال سے خالی نہیں ہے۔ یا تو وہ اللہ کی معرفت رکھتے تھے اور یہ جانتے تھے کہ اپنے عقائد پر پردہ ڈال کر وہ اللہ کو کسی طرح دھوکا نہیں دے سکتے یا انہیں اس کی معرفت نہیں تھی۔ یہ بات ذرا بعید ہے کیونکہ یہ کہنا درست نہیں ہے معرفت کے بغیر دھوکا دہی کا قصد کیا جاسکتا ہے، تاہم اللہ تعالیٰ نے ان پر لفظ خداع کا اطلاق اس وجہ سے کیا ہے کہ انہوں نے دھوکا دینے والے شخص جیسا کردار ادا کیا تھا اور دھوکا دہی کا وبال خود ان پر آپڑا تھا۔ اس طرح گویا وہ اپنے آپ کو دھوکا دے رہے تھے۔ ایک قول کے مطابق اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دھوکا دیتے ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر حذف کردیا گیا ہے جس طرح قول باری : ان الذین یوذون اللہ ورسولہ (جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں) میں مراد یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے دوستوں کو ایذا دیتے ہیں۔- مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں سے جو صورت بھی اختیار کی جائے وہ مجاز پر مبنی ہوگی، حقیقت نہیں ہوگی اور اس کا استعمال صرف ایسے مقام پر جائز ہوگا جہاں اس پر دلیل چسپاں ہوجائے گی۔ ان منافقین نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صرف تقیہ کے طور پر دھوکا دینے کی کوشش کی تھی تاکہ ان سے تمام مشرکین کے احاکم ٹل جائیں جن کے تحت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور الہ ایمان کو انہیں قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا یہ بھی ممکن ہے کہ منافقین نے اہل ایمان کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار اس بنا پر کیا تھا کہ ان کے ساتھ اسی طرح کے دوستانہ مراسم پیدا کرسکیں جس طرح کے مراسم مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رکھتے تھے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ مسلمانوں کے سامنے منافقین کے اظہار ایمان کا مقصد یہ ہو کہ مسلمان اپنے راز ان کے سامنے کھول دیں اور پھر وہ یہ راز مسلمانوں کے دشمنوں تک پہنچا دیں۔- اسی طرح قول باری : اللہ یستھزی بھم (اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے) بھی مجاز ہے۔ اس بارے میں کئی اور اقوال بھی ہیں۔ ایک قول کے مطابق یہ بات کلام کا مقابلہ اس جیسے کلام کے ساتھ کرنے کی جہت سے کہی گئی ہے، اگرچہ وہ اس کے ہم معنی نہیں ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے : وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا (اور برائی کا بدلہ اس جیسی برائی ہے) یہاں دوسرا سیئہ حقیقت میں سیئہ نہیں ہے، بلکہ حسنہ، یعنی نیکی ہے، لیکن جب اس کے بالمقابل سیئہ کا ذکر ہو تو اس پر بھی سیئہ کا اسم جاری کردیا گیا : اسیطرح قول باری ہے : فمن اعتدی علیکم فاعتدواعلیہ بمثل ما اعتدی علکیم (جو شخص تمہارے ساتھ زیادتی کرے تم بھی اس کے ساتھ اس جیسی زیادتی کے ساتھ پیش آئو) یہاں مذکورہ دوسری زیادتی حقیقت میں زیادتی نہیں۔ اسی طرح یہ قول باری ہے :- اور اگر تم سزا دو تو اتنی ہی سزا دو جتنی سزا تمہیں دی گئی ہے) یہاں مذکورہ پہلی سزا حقیقت میں سزا نہیں ہے، بلکہ ایک لفظ کے بالمقابل اس جیسا لفظ ذکر ہوا ہے اور الفاظ میں یکسانیت پیدا کی گئی ہے عرب کے لوگ کہتے ہیں : اجلزاء بالجزاء (ادلے کا بدلہ) حالانکہ پہلی جزا حقیقت میں جزا نہیں ہے، بلکہ بدلہ ہے۔ شاعر کا درج ذیل شعر بھی اسی کیفیت کا حامل ہے۔- الا لا یجھلن احد علینا فنجھل قوق جھل الجھاھلینا - (خبر دار ہمارے سامنے کوئی شخص اپنی جاہلانہ روش کا مظاہرہ نہ کرے ورنہ ہم اس کے جواب میں جاہلوں کی تمام جاہلانہ روشوں سے آگے نکل جائیں گے)- یہاں یہ بات واضح ہے کہ شاعر …
فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌۭ فَزَادَهُمُ ٱللَّهُ مَرَضًۭا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْذِبُونَ
ان کے دلوں میں (کفر کا) مرض تھا۔ خدا نے ان کا مرض اور زیادہ کر دیا اور ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا
دنیاوی سزائیں جرائم کے مطابق نہیں ہوتیں - منافقین کی مجرمانہ روش کفر کا کھلم کھلا اظہار کرنے والے کافروں کی مجرمانہ روش سے زیادہ سنگین تھی کیونکہ انہوں نے استہزاء اور دھوکہ وہی دونوں کو یک جا کرلیا تھا، جیسا کہ قول باری : یخادعون اللہ اور انما نحن مستھزون سے واضح ہے۔ یہ بات کفر میں زیادتی ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ : فی الدرک الاسفل من النار (جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے) اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے منافقین کی سزا اور آخرت میں عذاب کے استحقاق کی خبر دیتے ہوئے دنیا میں ان کے احکام اور شرک کا کھلم کھلا اظہار کرنے والوں کے احکام کے درمیان فرق رکھا ہے، یعنی ان کی طرف سے ایمان کے اظہار کی بنا پر ان سے قتل کا حکم رفع کردیا ہے اور وراثت وغیرہ کے اندر انہیں مسلمانوں جیسا قرار دیا ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ دنیاوی سزائیں جرائم کی مقدار کے مطابق نہیں مقرر کی گئیں، بلکہ ان کی بنیاد ان مصالح پر رکھی گئی ہے جن کا علم اللہ کو ہے ۔ اور اسی علم کی بنیاد پر اللہ نے اپنے احکام جاری کئے ہیں، چناچہ اللہ نے محض زانی پر رجم کی سزا واجب کردی ہے اور توبہ کی بنا پر رجم کی یہ سزا زانی سے دور نہیں کی۔- آپ نہیں دیکھتے کہ ماعز کو رجم کرنے کے بعد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے متعلق فرمایا : اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ یہ تو بہ ٹیکس اور چنگی وصول کرنے والا کرے تو اس کی بخشش ہوجائے۔- الغا مدیہ قبیلہ غامد سے تعلق رکھنے والی ایک عورت جس نے زنا کاری کا ارتکاب کیا تھا کو رجم کرنے کے بعد بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح ارشاد فرمایا تھا۔- کفر زنا سے زیادہ سنگین جرم ہے۔ لیکن اگر ایک شخص کفر کرنے کے بعد توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہوجائے گی، چناچہ ارشاد باری ہے : قل للذین کفروا ان ینتھوا یغفرلھم ماسلف ) (آپ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنہوں نے کفر کیا کہ اگر وہ باز آ جائیں تو ان کا سابقہ کفرکومعاف کردیا جائے گا۔ )- اسی طرح اللہ تعالیٰ نے زنا کے قاذف کو اسی کوڑے لگانے کا حکم دیا، لیکن کفر کے قاذف پر کوئی حد اور سزا واجب نہیں کی، حالانکہ کفر زنا سے زیادہ سنگین جرم ہے۔ شراب پینے والے پر حد واجب کردی، لیکن خون پینے والے اور مردار کھانے الے پر کوئی حد واجب نہیں کی۔- ان مثالوں سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ دنیاوی سزائیں جرائم کی مقدار کے مطابق مقرر نہیں کی گئیں۔ جب یہ بات عقل کے نزدیک جائز ہے کہ زنا، قذف اور سرقہ کے جرائم میں سرے سے کوئی حدواجب نہ کی جائے، بلکہ ایسے مجرموں کا معاملہ آخرت میں ملنے والی سزائوں پر مئوخر کردیا جائے تو عقلی طور پر یہ بھی جائز ہے کہ ان سزائوں کے مابین فرق رکھا جائے، یعنی بعض جرائم کی سزا بعض دوسرے جرائم کی نسبت زیادہ سخت رکھی جائے۔ اسی بنا پر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ حدود کا اثبات قیاس کے ذریعے کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ ان کے اثبات کا ذریعہ توقیف ، اشارع کی طرف سے راہنمائی) یا اجماع امت ہے، زیر بحث آیات میں اللہ سبحانہ نے منافقین کا احوال بیان کر کے انہیں ان کی حالت پر برقرار رہنے دیا اور ہمیں ان کے ساتھ قتال کرنے کا حکم نہیں دیا۔ یہی چیز ہمارے درج بالا قول کی اصل اور بنیاد ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ کی واجب کردہ حدود اور سزائوں کا نفاذ امام المسلمین، یعنی خلیفہ اور حاکم وقت نیز شرعی امور کے نگرانوں کا فعل ہوتا ہے۔ اس لئے ان کی حیثیت وہی ہوتی ہے جو ان آلام و تکالیف کی ہے جو اللہ کی طرف سے مجرموں کو سزا کے طور پر دی جاتی ہیں۔- جب یہ بات ممکن ہے کہ ایک منافق کو دنیا کے اندر بیماری اور فقر و فاقہ کی صورت میں کوئی سزا نہ ملے، بلکہ اس کے برعکس اس کے لئے عیش و آرام کے ساتھ زندگی گزارنے کی چھوٹ ہو اور اس کے کفر و نفاق کی زسا کو آخرت پر مئوخر کردیا جائے، تو یہ بات بھی جائز ہے کہ اللہ ہمیں دنیا کے اندر منافق کو قتل …
Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.