Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 31–40 of 286

31

وَعَلَّمَ ءَادَمَ ٱلْأَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ فَقَالَ أَنۢبِـُٔونِى بِأَسْمَآءِ هَٰٓؤُلَآءِ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

اور اس نے آدم کو سب (چیزوں کے) نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ

قول باری ہے :- (علم آدم الاسماء کلھا ثم عرضھم علی الملٓئکۃ فقال انبونی باسماء ھولآء ان کنتم صدقین۔ (اس کے بعد اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا : اگر تمہارا خیال صحیح ہے کہ (کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے انتظام بگڑ جائے گا) تو ذرا ان چیزوں کے نام بتائو اگر تم سچے ہو) یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ نے حضرت آدم کو تمام اشایء کے نام سکھا دیئے، یعنی اجنسا کا ان کے معانی کے ساتھ کیونکہ اسماء کے ذکر میں لفظ کے اندر عموم ہے اور قو ل باری : ثم عرضھم علی المٓئکۃ کے اندر اس بات پر دلالت ہے کہ اللہ نے حضرت آدم کی اولاد کے ناموں کا ارادہ کیا تھا جیسا کہ الربیع بن انس سے مروی ہے۔ تاہم حضرت ابن عباس اور مجاہد سے مروی ہے کہ اللہ نے حضرت آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھا دیئے تھے۔- اگر یہاں کہا جائے کہ قول باری : عرضھم اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ذوی العقول کے اسماء تھے اس لئے کہ (ھم) کی ضمیر ذوی العقول کے لئے استعمال ہوتی ہے، غیر ذوی العقول کے لئے استعمال نہیں ہوتی، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ نے جب ذوی العقول اور غیر ذوی العقول دونوں کا ارادہ کیا تو پھر ذوی العقول کے اسم کی تغیب درست ہوگئی جیسا کہ یہ قول باری ہے : خلق کل دابۃ من مآء فمنھم من یمشی علی بطنہ و منھم من یمشی علی رجلین ومنھم من یمشی علی اربع (اور اللہ ہی نے ہر چلنے والے جانور کو پانی سے پیدا کیا ہے۔ سو ان میں سے وہ بھی ہیں جو پیٹ کے بل چلتے ہیں اور وہ بھی جو دوپیروں پر چلتے ہیں اور وہ بھی ہیں جو چار پیروں پر چلتے ہیں) جب جملے کے اندر ذوی العقول داخل ہوگئے تو پھر سب کو یہی درجہ دیا گیا۔ زیر بحث آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کی طرف سے حضرت آدم (علیہ السلام) کو تمام مختلف زبانوں کے اصول سے واقف کرا دیا گیا تھا اور اللہ نے انہیں یہ اصول ان کے معانی کے ساتھ سکھا دیئے تھے کیونکہ معانی کے بغیر اسماء کی معرفت کی کوئی فضیلت نہیں ہوتی۔ یہ بات علم کے شرف اور اس کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جب فرشتوں کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی فضیلت سے آگاہ کرنا چاہا تو انہیں تمام اسماء کا ان کے معانی کے ساتھ علم عطا کردیا حتی کہ حضرت آدم نے فرشتوں کو ان اسماء کی خبر دی۔ فرشتوں کو ان اسماء کا علم نہیں دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں انہوں نے حضرت آدم کی فضیلت کا اعتراف کرلیا۔- بعض لوگوں کا قول ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کی زبان طوفان نوح تک ایک تھی۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے اس طوفان میں اہل زمین کو غرق کردیا صرف نوح (علیہ السلام) کی نسل سے زندہ رہ جانے والے بچ رہے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی وفات کے بعد ان کی اولاد بڑھی اور تعداد زیادہ ہوگئی تو انہوں نے بابل میں ایک اونچا محل تعمیر کرنے کا ارادہ کیا تاکہ اگر طوفان دوبارہ آئے تو اس محل کے ذریعے اپنا بچائو کرلیں۔ اسی دوران میں اللہ تعالیٰ نے ان کی زبان کی تحلیل کردی اور ہر گروہ اپنی سابقہ زبان بھول گیا اور پھر اللہ نے وہ زبانیں سکھائیں جو وراثت میں ان کی اولاد کو م لیں اور پھر یہ لوگ دنیا کے مختلف حصوں میں بکھر گئے اور نئے نئے شہر آباد کئے۔- بعض لوگ اس نظریے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک کامل العقل انسان کا اپنی وہ زبان بھلو جانا ناممکن ہے جس میں وہ کل تک گفتگو کرتا تھا، بلکہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد مذکورہ تمام زبانیں جانتی تھی، یہاں تک کہ یہ سب گروہ روئے زمین میں بکھر گئے اور ہر ایک گروہ نے صرف اسی زبان پر اقتصار کرلیا جس کے ذریعے آج ان کی بول چال ہوتی ہے۔ باقیمانہ تمام زبانیں ترک کردیں جن کا انہیں علم تھا۔ ان کی اولاد نے یہ زبانیں ان سے نہیں سیکھیں یہی وجہ تھی کہ ان کے بعد آنے والی نسلیں تمام زبانیں نہیں جانتی تھیں۔

Al-Baqara 2:31Listen in Qur'an →
32

قَالُوا۟ سُبْحَٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَآ إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَآ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ

انہوں نے کہا، تو پاک ہے۔ جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے، اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ بے شک تو دانا (اور) حکمت والا ہے

Explained together with ayah 31

Al-Baqara 2:32Listen in Qur'an →
33

قَالَ يَٰٓـَٔادَمُ أَنۢبِئْهُم بِأَسْمَآئِهِمْ ۖ فَلَمَّآ أَنۢبَأَهُم بِأَسْمَآئِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّىٓ أَعْلَمُ غَيْبَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ

(تب) خدا نے (آدم کو) حکم دیا کہ آدم! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ۔ جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو (فرشتوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جاتنا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو (سب) مجھ کو معلوم ہے

Explained together with ayah 31

Al-Baqara 2:33Listen in Qur'an →
34

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَٰٓئِكَةِ ٱسْجُدُوا۟ لِءَادَمَ فَسَجَدُوٓا۟ إِلَّآ إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَٱسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو وہ سجدے میں گر پڑے مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آکر کافر بن گیا

غیر اللہ کو سجدہ کرنا - قول باری ہے : واذ قلنا للملٓئکۃ اسجدوالا دم فسجدوا (اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا) شعبہ نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ ریز ہو کر دراصل فرشتوں نے اللہ کی اطاعت کی تھی۔ اللہ ہی نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو مسحور ملائکہ ہونے کا اعزاز بخشا تھا۔ معمر نے قتادہ سے قول باری : وخروالہ سجداً (اور اس کے سامنے سجدے میں گرپڑے) کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ برادران یوسف (علیہ السلام) کی تحیت یعنی سلام کرنے کا طریقہ یہی تھا کہ وہ اس مقصد کے لئے سجدہ ریز ہوجاتے تھے۔- اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی امتناع نہیں ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو فرشتوں کا سجدہ دراصل اللہ کی عبادت اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے لئے اعزاز اور ان کے حق میں تحیت کی صورت تھی۔ یہی بات برادران یوسف (علیہ السلام) کی سجدہ ریزی کے متعلق بھی کہی جاسکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کے لئے عبادت جائز نہیں اور اعزاز و تحیت اس شخص کے لئے جائز ہے جو ایک گونہ تعظیم کا مستحق قرار پائے۔ اس سلسلے میں بعض حضرات کا قول ہے کہ فرشتوں نے سجدہ تو اللہ کو کیا تھا اور حضرت آدم (علیہ السلام) ان کے لئے بمنزلہ قبلہ تھے، لیکن یہ ایک کھوکھلی توجیہہ ہے کیونکہ ایسی صورت میں حضرت آدم (علیہ السلام) کے کسی مزیت و فضیلت کا کوئی پہلو نہیں ہوگا جبکہ زیر بحث آیت کا ظاہر اس امر کا مقتضی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی تعظیم و تکریم ہوئی تھی۔ اس بنا پر سجدہ کو اس کے حقیقی معنوں پر محمول کیا جائے گا جس طرح حمد کے ظاہر لفظ کو اس صورت میں اس کے حقیقی معنوں پر محمول کیا جاتا ہے جب یہ لفظ حمد کے ظاہر لفظ کو اس صورت میں اس کے حقیقی معنوں پر محمول کیا جاتا ہے جب یہ لفظ حمد کے مستحق کے لئے واقع ہو اسے مجازی معنوں پر معمول نہیں کیا جائے گا جس طرح یہ فقرہ کہا جائے کہ ” اخلاق فلان محمودۃ “ (فلاح کے اخلاق محمود، یعنی قابل ستائش ہیں) یا ” اخلاق فلان مذمومۃ “ (فلاں کے اخلاق قابل مذمت ہیں) اس لئے کہ لفظ کا حکم یہ ہوتا ہے کہ اسے اس کی حقیقت اور اس کے باب پر مجہول کیا جائے۔ سجدے کا حکم حضرت آدم (علیہ السلام) کے لئے اعزاز کے طور پر تھا، اس پر ابلیس کا وہ قول دلالت کرتا ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کے ان الفاظ میں کیا ہے : آ اسجد لمن خلقت طیناً ہ فال ارائیتک ھذا الذی کر مت علی (کیا میں اس کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے بنایا ہے۔ پھر وہ بولا :” دیکھ تو سہی کیا یہ اس قابل تھا کہ تو نے اسے مجھ پر فضیلت دی) ابلیس نے یہاں پر بتادیا کہ سجدہ کرنے سے اس کا باز رہنا اس بنا پر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کا حکم دے کر آدم (علیہ السلام) کی تفصیل اور ان کے اعزاز کا اظہار کردیا تھا۔ - اگر سجدے کا حکم اس بنا پر ہوتا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے والوں کے لئے بس قبلہ بنادیا گیا تھا اور اس میں ان کے اعزاز کی کوئی بات نہ ہوتی تو پھر اس صورت میں ابلیس کو ان سے اس فضیلت پر حسد کرنے کی کوئی وجہ نہ ہوتی جس طرح کعبہ شریف کو قبلہ بنادیا گیا ہے اور اس میں کعبہ سے حسد کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ دراصل حضرت آدم (علیہ السلام) کی شریعت میں مخلوق کو سجدہ کرنا جائز تھا اور عین ممکن ہے کہ یہی صورت حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے تک باقی رہی ہو کہ جو شخص کسی قسم کی تعظیم کا مستحق ہو اس کے اعزاز اور عظمت کا اظہار کرنے کے لئے لوگ اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے ہوں جس طرح ہمارے زمانے میں اس مقصد کے لئے مصافحہ اور معانقہ کرنے، نیز ہاتھوں کو بوسہ دینے کا رواج ہے۔- ہاتھوں کو بوسہ دینے کی اباحت کے سلسلے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کئی روایات منقول ہیں۔ اس بارے میں کراہت بھی مروی ہے ، البتہ ہماری شریعت میں غیر اللہ کو اعزاز اور تحیت …

Al-Baqara 2:34Listen in Qur'an →
35

وَقُلْنَا يَٰٓـَٔادَمُ ٱسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ ٱلْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور ہم نے کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک کھاؤ (پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے

Explained together with ayah 34

Al-Baqara 2:35Listen in Qur'an →
36

فَأَزَلَّهُمَا ٱلشَّيْطَٰنُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ ۖ وَقُلْنَا ٱهْبِطُوا۟ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۭ ۖ وَلَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّۭ وَمَتَٰعٌ إِلَىٰ حِينٍۢ

پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (عیش ونشاط) میں تھے، اس سے ان کو نکلوا دیا۔ تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں سے) چلے جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کر دیا گیا) ہے

Explained together with ayah 34

Al-Baqara 2:36Listen in Qur'an →
37

فَتَلَقَّىٰٓ ءَادَمُ مِن رَّبِّهِۦ كَلِمَٰتٍۢ فَتَابَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ

پھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے (اور معافی مانگی) تو اس نے ان کا قصور معاف کر دیا بے شک وہ معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے

Explained together with ayah 34

Al-Baqara 2:37Listen in Qur'an →
38

قُلْنَا ٱهْبِطُوا۟ مِنْهَا جَمِيعًۭا ۖ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّى هُدًۭى فَمَن تَبِعَ هُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

ہم نے فرمایا کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پہنچے تو (اس کی پیروی کرنا کہ) جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

Explained together with ayah 34

Al-Baqara 2:38Listen in Qur'an →
39

وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

اور جنہوں نے (اس کو) قبول نہ کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، وہ دوزخ میں جانے والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے

Explained together with ayah 34

Al-Baqara 2:39Listen in Qur'an →
40

يَٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتِىَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَوْفُوا۟ بِعَهْدِىٓ أُوفِ بِعَهْدِكُمْ وَإِيَّٰىَ فَٱرْهَبُونِ

اے یعقوب کی اولاد! میرے وہ احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کئے تھے اور اس اقرار کو پورا کرو جو تم نے مجھ سے کیا تھا۔ میں اس اقرار کو پورا کروں گا جو میں نے تم سے کیا تھا اور مجھی سے ڈرتے رہو

Explained together with ayah 34

Al-Baqara 2:40Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.