ادھار لین دین کا بیان - قول باری ہے (یآیھا الذین اٰمنوا اذا تداینتم بدین الیٰ اجل مسمی فاکتبوہ ( ) اے ایمان والو جب کسی مقرر مدت کے لئے تم آپس میں ادھار لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو)- ابو بکر جصاص کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں کا مسلک یہ ہے کہ مقرر مدت کے لئے ادھار لین دین کے متعلق تحریر اور گواہی اس قول باری (فاکتبوہ) ( ) تا قول باری (فاستشھدوا شھیدین من رجالکم ( ) اپنے مردوں میں سے دو گواہ مقرر کرلو) کی بنا پر واجب تھی پھر یہ وجوب اس قول باری (فان امن بعضکم بعضا فلیود الذی ائوتمن امانتہ۔ ( ) اگر تم میں سے کوئی شخص دوسرے پر بھروسہ کرکے اس کے ساتھ کوئی معاملہ کرے تو جس پر بھروسہ کیا گیا ہے اسے چاہیے کہ امانت ادا کردے)- یہ تفسیر حضرت ابو سعید خدری (رض) ، شعبی، حسن بصری وغیرہم سے مروی ہے۔ بعض دوسروں کا قول ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہوئی بلکہ محکم یعنی غیر منسوخ ہے۔ عاصم احول اور دائود بن ابی ہند نے عکرمہ سے روایت کی ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا تھا کہ : ” خدا کی قسم قرض کی آیت محکم ہے اور اس کا کوئی حصہ منسوخ نہیں ہوا۔ “- شعبہ نے فراس سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے ابو بردہ سے، انہوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا : تین آدمی ایسے ہیں جو اللہ سے فریاد کرتے ہیں مگر ان کی فریاد سنی نہیں جاتی ایک وہ شخص جس کی بیوی بدخلق ہو اور وہ اسے طلاق نہ دے، دوسرا وہ شخص جو یتیم کے بالغ ہونے سے پہلے اس کا مال اس کے حوالے کردے۔- حالانکہ قول باری ہے (ولا توتوا السفھاء اموالکم۔ ( ) تم بیوقوفوں کو اپنا مال نہ دو ) تیسرا وہ شخص جو کسی کو اپنا ماض قرض دے اور اس پر گواہ نہ بنائے۔ “- ابو بکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرفوعاً بھی مروی ہے۔ جویبر نے ضحاک سے روایت کی کہ ایسے شخص کا حق اگر ضائع ہوجائے تو اس پر اسے اجر نہیں ملے گا۔ اور اگر یہ حق مار لینے والے کے خلاف بددعا بھی کرے گا تو اس کی بددعا قبول نہیں ہوگی کیونکہ یہ اللہ کے حق کے ترک کا مرتکب ہوا ہے اور اس نے اس کے حکم کی پرواہ نہیں کی ہے۔- سعید بن جبیر کا قول ہے کہ (واشھدو اذاتیایعتم ( ) اور تجارتی معاملے طے کرتے وقت گواہ کرلیا کرو) یعنی اپنے حقوق پر گواہ کرلیا کرو جبکہ ان کی ادائیگی کے لئے مدت مقرر کی گئی ہو یا مدت مقرر نہ کی گئی ہو۔ بہرحال تمہیں ہر حال میں اپنے حقوق پر گواہ کرلینے چاہئیں۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ کسی شخص نے عطاء بن ابی رباح سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص آدھے درہم کے بدلے کوئی چیز خریدے تو اس پر بھی گواہی قائم کرے۔- عطاء نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ قول باری (واشھدوا اذا تایعتم) ( ) کی یہی تفسیر ہے۔ مغیرہ نے ابراہیم نخعی سے روایت کی ہے کہ ایک مٹھے سبزی کے سودے پر بھی گواہ بنائے۔ حسن بصری اور شعبی سے مروی ہے کہ اگر چاہے تو گواہ کرلے اور اگر چاہے تو نہ کرے کیونکہ قول باری ہے (فان امن بعضکم بعضاً ) ( ) - لیث نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) جب کوئی چیز فروخت کرتے تو گواہ بنالیتے لیکن تحریر نہ کرتے۔ یہ اس پر دالی ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) اسے مستحب سمجھتے تھے کیونکہ اگر اسے واجب سمجھتے تو گواہی کے ساتھ ساتھ تحریر بھی ضروری ہوتی اس لئے کہ آیت میں ان دونوں باتوں کا حکم دیا گیا ہو۔- ابو بکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت (فاکتبوہ) ( ) تا آیت (واستشھدوا شھیدین من رجالکم) نیز قول باری (واشھدوا اذا تبایعتم) ( ) یا تو اپنے نزول کے وقت سے ہی مقرر مدت کے لئے ادھار یعنی دین پر گواہی اور تحریر دونوں کو واجب کرتی تھیں۔ پھر ان کا یہ حکم ثابت اور مستقر رہا یہاں تک کہ ان کے وجوب کا نسخ قول باری (فان امن بعضکم بعضاً فلیود الذی ائوتمن امانتہ) ( ) کی صورت میں وارد ہوگیا یا یہ کہ وجوب کا حکم اور اس کا نسخ دونوں کا نزول ایک ساتھ ہوگیا۔- اگر دوسری بات ہو تو …