Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 281–286 of 286

281

وَٱتَّقُوا۟ يَوْمًۭا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى ٱللَّهِ ۖ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍۢ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

اور اس دن سے ڈرو جب کہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا۔ اور کسی کا کچھ نقصان نہ ہوگا

Explained together with ayah 280

Al-Baqara 2:281Listen in Qur'an →
282

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى فَٱكْتُبُوهُ ۚ وَلْيَكْتُب بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِٱلْعَدْلِ ۚ وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَن يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ ٱللَّهُ ۚ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ ٱلَّذِى عَلَيْهِ ٱلْحَقُّ وَلْيَتَّقِ ٱللَّهَ رَبَّهُۥ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْـًۭٔا ۚ فَإِن كَانَ ٱلَّذِى عَلَيْهِ ٱلْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَن يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُۥ بِٱلْعَدْلِ ۚ وَٱسْتَشْهِدُوا۟ شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌۭ وَٱمْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ ٱلشُّهَدَآءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَىٰهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَىٰهُمَا ٱلْأُخْرَىٰ ۚ وَلَا يَأْبَ ٱلشُّهَدَآءُ إِذَا مَا دُعُوا۟ ۚ وَلَا تَسْـَٔمُوٓا۟ أَن تَكْتُبُوهُ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا إِلَىٰٓ أَجَلِهِۦ ۚ ذَٰلِكُمْ أَقْسَطُ عِندَ ٱللَّهِ وَأَقْوَمُ لِلشَّهَٰدَةِ وَأَدْنَىٰٓ أَلَّا تَرْتَابُوٓا۟ ۖ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً حَاضِرَةًۭ تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلَّا تَكْتُبُوهَا ۗ وَأَشْهِدُوٓا۟ إِذَا تَبَايَعْتُمْ ۚ وَلَا يُضَآرَّ كَاتِبٌۭ وَلَا شَهِيدٌۭ ۚ وَإِن تَفْعَلُوا۟ فَإِنَّهُۥ فُسُوقٌۢ بِكُمْ ۗ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۖ وَيُعَلِّمُكُمُ ٱللَّهُ ۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۭ

مومنو! جب تم آپس میں کسی میعاد معین کے لئے قرض کا معاملہ کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو اور لکھنے والا تم میں (کسی کا نقصان نہ کرے بلکہ) انصاف سے لکھے نیز لکھنے والا جیسا اسے خدا نے سکھایا ہے لکھنے سے انکار بھی نہ کرے اور دستاویز لکھ دے۔ اور جو شخص قرض لے وہی (دستاویز کا) مضمون بول کر لکھوائے اور خدا سے کہ اس کا مالک ہے خوف کرے اور زر قرض میں سے کچھ کم نہ لکھوائے۔ اور اگر قرض لینے والا بےعقل یا ضعیف ہو یا مضمون لکھوانے کی قابلیت نہ رکھتا ہو تو جو اس کا ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ مضمون لکھوائے۔ اور اپنے میں سے دو مردوں کو (ایسے معاملے کے) گواہ کرلیا کرو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جن کو تم گواہ پسند کرو (کافی ہیں) کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے گی تو دوسری اسے یاد دلادے گی۔ اور جب گواہ (گواہی کے لئے طلب کئے جائیں تو انکار نہ کریں۔ اور قرض تھوڑا ہو یا بہت اس (کی دستاویز) کے لکھنے میں کاہلی نہ کرنا۔ یہ بات خدا کے نزدیک نہایت قرین انصاف ہے اور شہادت کے لئے بھی یہ بہت درست طریقہ ہے۔ اس سے تمہیں کسی طرح کا شک وہ شبہ بھی نہیں پڑے گا۔ ہاں اگر سودا دست بدست ہو جو تم آپس میں لیتے دیتے ہو تو اگر (ایسے معاملے کی) دستاویز نہ لکھوتو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اور جب خرید وفروخت کیا کرو تو بھی گواہ کرلیا کرو۔ اور کاتب دستاویز اور گواہ (معاملہ کرنے والوں کا) کسی طرح نقصان نہ کریں۔ اگر تم (لوگ) ایسا کرو تو یہ تمہارے لئے گناہ کی بات ہے۔ اور خدا سے ڈرو اور (دیکھو کہ) وہ تم کو (کیسی مفید باتیں) سکھاتا ہے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

ادھار لین دین کا بیان - قول باری ہے (یآیھا الذین اٰمنوا اذا تداینتم بدین الیٰ اجل مسمی فاکتبوہ ( ) اے ایمان والو جب کسی مقرر مدت کے لئے تم آپس میں ادھار لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو)- ابو بکر جصاص کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں کا مسلک یہ ہے کہ مقرر مدت کے لئے ادھار لین دین کے متعلق تحریر اور گواہی اس قول باری (فاکتبوہ) ( ) تا قول باری (فاستشھدوا شھیدین من رجالکم ( ) اپنے مردوں میں سے دو گواہ مقرر کرلو) کی بنا پر واجب تھی پھر یہ وجوب اس قول باری (فان امن بعضکم بعضا فلیود الذی ائوتمن امانتہ۔ ( ) اگر تم میں سے کوئی شخص دوسرے پر بھروسہ کرکے اس کے ساتھ کوئی معاملہ کرے تو جس پر بھروسہ کیا گیا ہے اسے چاہیے کہ امانت ادا کردے)- یہ تفسیر حضرت ابو سعید خدری (رض) ، شعبی، حسن بصری وغیرہم سے مروی ہے۔ بعض دوسروں کا قول ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہوئی بلکہ محکم یعنی غیر منسوخ ہے۔ عاصم احول اور دائود بن ابی ہند نے عکرمہ سے روایت کی ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا تھا کہ : ” خدا کی قسم قرض کی آیت محکم ہے اور اس کا کوئی حصہ منسوخ نہیں ہوا۔ “- شعبہ نے فراس سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے ابو بردہ سے، انہوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا : تین آدمی ایسے ہیں جو اللہ سے فریاد کرتے ہیں مگر ان کی فریاد سنی نہیں جاتی ایک وہ شخص جس کی بیوی بدخلق ہو اور وہ اسے طلاق نہ دے، دوسرا وہ شخص جو یتیم کے بالغ ہونے سے پہلے اس کا مال اس کے حوالے کردے۔- حالانکہ قول باری ہے (ولا توتوا السفھاء اموالکم۔ ( ) تم بیوقوفوں کو اپنا مال نہ دو ) تیسرا وہ شخص جو کسی کو اپنا ماض قرض دے اور اس پر گواہ نہ بنائے۔ “- ابو بکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرفوعاً بھی مروی ہے۔ جویبر نے ضحاک سے روایت کی کہ ایسے شخص کا حق اگر ضائع ہوجائے تو اس پر اسے اجر نہیں ملے گا۔ اور اگر یہ حق مار لینے والے کے خلاف بددعا بھی کرے گا تو اس کی بددعا قبول نہیں ہوگی کیونکہ یہ اللہ کے حق کے ترک کا مرتکب ہوا ہے اور اس نے اس کے حکم کی پرواہ نہیں کی ہے۔- سعید بن جبیر کا قول ہے کہ (واشھدو اذاتیایعتم ( ) اور تجارتی معاملے طے کرتے وقت گواہ کرلیا کرو) یعنی اپنے حقوق پر گواہ کرلیا کرو جبکہ ان کی ادائیگی کے لئے مدت مقرر کی گئی ہو یا مدت مقرر نہ کی گئی ہو۔ بہرحال تمہیں ہر حال میں اپنے حقوق پر گواہ کرلینے چاہئیں۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ کسی شخص نے عطاء بن ابی رباح سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص آدھے درہم کے بدلے کوئی چیز خریدے تو اس پر بھی گواہی قائم کرے۔- عطاء نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ قول باری (واشھدوا اذا تایعتم) ( ) کی یہی تفسیر ہے۔ مغیرہ نے ابراہیم نخعی سے روایت کی ہے کہ ایک مٹھے سبزی کے سودے پر بھی گواہ بنائے۔ حسن بصری اور شعبی سے مروی ہے کہ اگر چاہے تو گواہ کرلے اور اگر چاہے تو نہ کرے کیونکہ قول باری ہے (فان امن بعضکم بعضاً ) ( ) - لیث نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) جب کوئی چیز فروخت کرتے تو گواہ بنالیتے لیکن تحریر نہ کرتے۔ یہ اس پر دالی ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) اسے مستحب سمجھتے تھے کیونکہ اگر اسے واجب سمجھتے تو گواہی کے ساتھ ساتھ تحریر بھی ضروری ہوتی اس لئے کہ آیت میں ان دونوں باتوں کا حکم دیا گیا ہو۔- ابو بکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت (فاکتبوہ) ( ) تا آیت (واستشھدوا شھیدین من رجالکم) نیز قول باری (واشھدوا اذا تبایعتم) ( ) یا تو اپنے نزول کے وقت سے ہی مقرر مدت کے لئے ادھار یعنی دین پر گواہی اور تحریر دونوں کو واجب کرتی تھیں۔ پھر ان کا یہ حکم ثابت اور مستقر رہا یہاں تک کہ ان کے وجوب کا نسخ قول باری (فان امن بعضکم بعضاً فلیود الذی ائوتمن امانتہ) ( ) کی صورت میں وارد ہوگیا یا یہ کہ وجوب کا حکم اور اس کا نسخ دونوں کا نزول ایک ساتھ ہوگیا۔- اگر دوسری بات ہو تو …

Al-Baqara 2:282Listen in Qur'an →
283

۞ وَإِن كُنتُمْ عَلَىٰ سَفَرٍۢ وَلَمْ تَجِدُوا۟ كَاتِبًۭا فَرِهَٰنٌۭ مَّقْبُوضَةٌۭ ۖ فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُم بَعْضًۭا فَلْيُؤَدِّ ٱلَّذِى ٱؤْتُمِنَ أَمَٰنَتَهُۥ وَلْيَتَّقِ ٱللَّهَ رَبَّهُۥ ۗ وَلَا تَكْتُمُوا۟ ٱلشَّهَٰدَةَ ۚ وَمَن يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُۥٓ ءَاثِمٌۭ قَلْبُهُۥ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌۭ

اور اگر تم سفر پر ہواور (دستاویز) لکھنے والا مل نہ سکے تو (کوئی چیز) رہن یا قبضہ رکھ کر (قرض لے لو) اور اگر کوئی کسی کو امین سمجھے (یعنی رہن کے بغیر قرض دیدے) تو امانتدار کو چاہیئے کہ صاحب امانت کی امانت ادا کردے اور خدا سے جو اس کا پروردگار ہے ڈرے۔اور (دیکھنا) شہادت کو مت چھپانا۔ جو اس کو چھپائے گا وہ دل کا گنہگار ہوگا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)- غلاموں کی گواہی کے مسئلے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ قتادہ نے حسن بصری سے اور انہوں نے حضرت علی (رض) سے یہ روایت کی ہے کہ بچے پر بچے کی اور غلام پر غلام کی گواہی جائز ہے ۔ ہمیں عبدالرحمن بن سیما نے روایت بیان کی ، انہیں عبداللہ بن احمد نے، انہیں ان کے والد نے، انہیں عبدالرحمن بن ہمام نے کہ میں نے قتادہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا تھا کہ حضرت علی (رض) گواہی کے سلسلے میں بچوں سے پوچھتے اور ان سے معلومات حاصل کرتے تھے ( یعنی ان سے گواہی نہیں لیتے تھے ) یہ روایت پہلی روایت کو کمزور کردیتی ہے۔- حسن بن غیاث نے مختار بن فلفل سے اور انہوں نے حضرت انس (رض) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم کہ کسی نے غلام کی گواہی مسترد کردی ہو، “ عثمان البتی کا قول ہے کہ غلام کی اپنے آقا کے حق میں گواہی جائز نہیں البتہ دوسروں کے حق میں درست ہے۔ ابن شرمہ کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ ایسی گواہی جائز سمجھتے تھے اور قراضی شریح سے اس کا جواز نقل کرتے تھے ۔ ابن ابی لیلیٰ غلاموں کی گواہی قبول نہیں کرتے تھے۔۔- جن دنوں یہ کوفہ کے قاضی تھے، وہاں خوارج کا تسلط ہوگیا، انہوں نے ان سے غلاموں کی گواہی قبول کرنے نیز بہت سے ایسے مسائل تسلیم کرنے کا حکم دیا جن کے خوارج قائل تھے اور قاضی صاحب مخالف تھے، قاضی صاحب نے ان کے اس حکم کے سامنے سر جھکا دیا اور انہوں نے قاضی صاحب کو ان کے عہدے پر برقرار رکھا لیکن جب رات ہوئی تو قاضی صاحب چپکے سے اپنی سواری پر سوار ہوکر مکہ مکرمہ پہنچے۔ جب عباسیوں کا دور آیا تو انہوں نے قاضی صاحب کو پھر سے کوفہ کا قاضی مقرر کردیا۔- زہری نے سعید بن المسیب سے روایت کی ہے کہ حضرت عثمان (رض) نے غلام کے آزاد ہوجانے پر اس کی گواہی کے جواز کا فیصلہ دیا تھا بشرطیکہ اس سے پہلے اس کی گواہی روز نہ کی گئی ہو۔ شعبہ نے مغیرہ سے روایت کی ہے کہ ابراہیم نخعی معمولی معاملے میں غلام کی گواہی کو جائز قرار دیتے تھے، شعبہ نے یونس سے اور انہوں نے حسن بصری سے بھی اس طرح کی روایت کی ہے۔- حسن بصری سے یہ بھی روایت ہے کہ غلام کی گواہی جائز نہیں ہے۔ حفص نے حجاج سے، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ غلام کی گواہی جائز نہیں ہے امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد، زفر، ابن شبرمہ ( ایک روایت کے مطابق) امام مالک، حسن بن صالح اور امام شافعی کا قول ہے کہ غلام کی گراہی کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے۔- ابو بکر حصاص کہتے ہیں کہ ہم نے آیت میں پائی جانے والی دلالت کا ذکر کیا ہے کہ اس میں جس گواہی کا ذکر ہے وہ آزاد مردوں کے ساتھ خاص ہے۔ غلاموں سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ ان کی گواہی کی نفی پر قول باری ( ولا یأب الشھداء اذا مادعوا۔ جب گواہوں کو گواہی دینے کے لیے بلایاجائے تو وہ انکار نہ کریں) دلالت کرتا ہے۔ بعض سے اس کی تفسیر یوں منقول ہے کہ جب گواہ کو بلایاجائے تو اسے گواہی دے دینی چاہیے، بعض کا قول ہے کہ جب کسی کو گواہ بنالیا گیا ہو اور پھر اسے گواہی کے لیے طلب کیا جائے تو وہ انکار نہ کرے۔- بعضوں نے یہ کہا ہے کہ دونوں صورتوں میں گواہ پر گواہی دینا واجب ہے اور ظاہر ہے کہ غلام پر اس کے آقا کا حق ہوتا ہے اور وہ اس کی خدمت میں مصروف رہتا ہے اس لیے اسے آقا کی خدمت چھوڑ کر گواہی کے لیے جانے کا حق نہیں ہے بلکہ اسے اس سے روک دیا گیا ہے جس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ وہ گواہی دینے پر مامور نہیں ہے۔- آپ نہیں دیکھتے کہ اس کے لیے اس بات کی بھی گنجائش نہیں ہے کہ آقا کی خدمت چھوڑ کر خط پڑھنے یا خط لکھوانے یا گواہ بننے میں مصروف ہوجائے۔ اس پر اس کے آقا کا اتنا حق ہے کہ حج اور جمعہ کے متعلق خطاب الٰہی میں وہ شامل نہیں ہے اس لیے گواہی کا بھی یہی حکم ہونا چاہیے کیونکہ گواہی کا معاملہ حج اور جمعہ کے معاملہ سے بھی کم درجے کا ہے۔- گواہی فرض …

Al-Baqara 2:283Listen in Qur'an →
284

لِّلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَإِن تُبْدُوا۟ مَا فِىٓ أَنفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُم بِهِ ٱللَّهُ ۖ فَيَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ

جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ تم اپنے دلوں کی بات کو ظاہر کرو گے تو یا چھپاؤ گے تو خدا تم سے اس کا حساب لے گا پھر وہ جسے چاہے مغفرت کرے اور جسے چاہے عذاب دے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

(آیت 282 کی بقیہ تفسیر)- اللہ تعالیٰ نے مقبول گواہوں کو دو صفات سے متصف کیا ہے۔ ایک صفت عدالت چناچہ ارشاد باری ہے اثنان ذو ا عدلی منکم تم میں سے دو گواہ جو عال ہوں ۔ نیز ارشاد ہے واشھدوا ذوی عدل منکم اور اپنوں میں سے دعادل آدمیوں کو گواہ بنا لو دوسری صفت ان کا پسندیدہ ہونا ہے چناچہ ارشاد ہے ممن ترضون من الشھدا ان لوگوں میں سے جنہیں تم پسند کرتے ہو۔ پسندیدہ لوگوں میں عدالت کی صفت کا ہونا ضروری ہے اور بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص صفت عدالت سے متصف ہوتا ہے لیکن گواہی کے معاملے میں وہ نا پسندید ہ ہوتا ہے ۔ مثلاً وہ شخص باوجود اپنی نیکی اور تقویٰ کے ، نا تجربہ کار ، سادہ لوح اور بیخبر ہو کہ جسے بہت آسانی سے دام تز ویر میں پھنسایا جاسکتا ہو اور جسے ملمع کاری کے ذریعے دھوکا دیا جاسکتا ہو۔- اس لیے قول باری ممن ترضون من الشھداء دو باتوں پر مشتمل ہے اول عدالت و بیدار مغزی ، دوم ذہانت وقوت حفظ ۔ اللہ تعالیٰ نے زناکے سلسلے میں گواہی کو مطلق رکھا ہے اور اسے عدالت کے ذکر کے ساتھ مقید نہیں کیا حالانکہ عدالت اور پسندیدگی دونوں ہی گواہی کی شرطیں ہیں۔ وہ اس لیے ارشاد باری ہے اذا جاء کم فاسق بنبا فتبینوا جب تمہارا فاسق انسان کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرلیا کرو۔- آیت میں فاسق و فاجر لوگوں کی دی ہوئی خبروں کے متعلق تحقیق کرلیا کرو۔- آیت میں فاسق و فاجر لوگوں کی دی ہوئی خبروں کے متعلق تحقیق کے ایجاب کا عمومی حکم ہے اور گواہی بھی ایک خبر ہے۔ اس لیے اگر گواہ فاسق ہو تو اس کی گواہی کی چھان بین کرلینا واجب ہے جب اللہ تعالیٰ نے فاسق کی خبر کی تحقیق کرنے کا نصعا ً حکم دے دیا اور پسندیدہ قسم کے عادل گواہوں کی گواہی قبول کرلینا ہم پر واجب کردیا جبکہ کسی شخص کے فسق کے متعلق یقینی علم حاصل ہوسکتا لیکن عدالت کے متعلق ایسا نہیں ہوسکتا بلکہ صرف ظاہری حالت پر انحصار کرنا ہوتا ہے تو اس سے ہمیں معلوم ہوگیا کہ اس کی بنیاد ظن غالب اور گواہ کے ظاہری صلاح و تقویٰ ، دیانت و امانت اور صداقت لسانی پر رکھی گئی ہے۔ اس چیز کی بنیاد اگرچہ ظن غالب پر ہے۔- تا ہم یہ بھی علم کی ایک قسم ہے جس طرح کہ ہجرت کر کے آنے والی خواتین کے متعلق ارشاد باری ہے فان علمتوھن مومنان فلا تر جعوھن الا الکفار اگر تمہیں ان کے متعلق یہ علم ہوجائے کہ وہ ایمان والیاں ہیں تو انہیں کافروں کی طرف واپس نہ بھیجو اس علم کا تعلق ظاہری طور پر حاصل ہونے والے علم سے ہے۔ حقیقی طور پر حاصل ہونے والے علم سے نہیں ہے۔ اسی طرح کسی گواہ کی عدالت کے متعلق حکم لگانے کا ذریعہ ظاہری طور پر حاصل ہونے والا علم ہے۔ اس کا تعلق اس کے اندرونی حالات سے تعلق رکھنے والے علم سے نہیں ہے کیونکہ یہ غیب ہے جس کا علم صرف اللہ کا ذات کو حاصل ہے ۔ یہ چیز نئے پیدا ہونے والے حالات کے احکام معلوم کرنے کی غرض سے اپنی رائے اور اجتہاد سے کام لینے کے قائلین کے قول کی صحت کے لیے ایک بڑے اصل اور بنیاد کا کام دیتی ہے۔- کیونکہ گواہیاں دین اور دنیا دونوں کے امور کی نشانیوں میں سے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان گواہیوں کے ساتھ بندوں کے مصالح کو پیوستہ کردیا ہے جن کا تعلق و ثائق یعنی دستاویزوں ، حقوق اور اثاثوں کے اثبات نیز نسب ، خونبہا وغیرہ کے ثبوت اور نکاح کی بنا پر جنسی تعلق کی حلت کا اثبات وغیرہ سے ہے اور یہ گواہیاں ظن غالب اور رائے کے رجحان اور جھکائو پر مبنی ہوتی ہیں ۔ اس لیے کہ کسی شخص کے لیے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ یقینی علم کی بنا پر کسی گواہ کی گواہی پر صحت اور دوستی کا حکم لگا دے۔- یہ چیز ہر زمانے میں ایک امام معصوم کے وجود کے نظریے کی تردید کرتی ہے نیز جن لوگوں کا یہ استدلال ہے کہ تمام دینی امور کا تعلق اس صورت کے ساتھ ہونا چاہیے جو علم حقیقی کو واجب کرتی ہو ۔ ظن غالب اور رائے کے جھکائو پر نہیں ہونا چاہیے اس لیے اگر اما م معصوم نہیں ہوگا تو …

Al-Baqara 2:284Listen in Qur'an →
285

ءَامَنَ ٱلرَّسُولُ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِۦ وَٱلْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍۢ مِّن رُّسُلِهِۦ ۚ وَقَالُوا۟ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ ٱلْمَصِيرُ

رسول (خدا) اس کتاب پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور مومن بھی۔ سب خدا پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں (اورکہتے ہیں کہ) ہم اس کے پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور وہ (خدا سے) عرض کرتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا۔ اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے

(آیت 282 کی بقیہ تفسیر)- تم اس کے متعلق تحریر لکھنے سے اکتاہٹ یا بیزاری کا اظہار نہ کرو۔ اس لئے کہ یہ بات تو معلوم ہی ہے کہ یہاں اس سے قیراط اور دانق (قیراط نصف دانق اور دانق ورہم کا چھٹا حصہ) مراد نہیں ہے۔ کیونکہ اتنی قلیل رقم میں ایک مدت تک ادھار لین دین کی لوگوں میں عادت نہیں ہے۔- اللہ نے یہ بتادیا کہ اتنی تھوڑی مقدار جس میں مدت کی تعین عام طور پر کرلی جاتی ہے تحریر اور گواہی کے لحاظ سے جس کی یہاں ترغیب دی گئی ہے۔ اس کا بھی وہی حکم ہے جو کثیر مقدار کا کیونکہ یہ معلوم ہوچکا ہے کہ آیت میں بالکل معمولی رقم نہیں ہے۔- البتہ ایسی تھوڑی مقدار سج کے لین دین کی لوگوں کو عادت ہوتی ہے۔ اس کے متعلق تحریر اور گواہی کی ترغیب دی گئی ہے۔ اب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جس معاملے کی بنیاد لوگوں کی روزمرہ عادت پر ہوا سے معلوم کرنے کا طریقہ اجتہاد اور ظن غالب ہے۔- یہ چیز اس بات کی دلیل ہے ان نئے مسائل میں اجتہاد کا جواز ہے جن کے متعلق نہ تو فقہاء کا اتفاق ہے اور نہ ہی توقیف یعنی شریعت کی رہنمائی ہے۔ قول باری (الی اجلہ) کا مطلب ادائیگی کے مقررہ وقت کے پہنچ جانے تک دستاویز میں مدت کا بھی ذکر کیا جائے گا اور ادائیگی کے وقت کا بھی جس طرح کہ اصل قرض کا ذکر ہوگا۔- یہ بات اس چیز کی دلیل ہے کہ ان دونوں پر لازم یہ ہے کہ دستاویز میں دین کی صفت یا کیفیت اس کی مقدار اور اس کی واپسی کے متعلق سب کچھ تحریر کریں۔ اس لئے کہ اجل یعنی مدت بھی دین کی کیفیتوں میں سے ایک کیفیت ہے۔ اس لئے اجل سے متعلق تمام باتوں کا حکم بھی وہی ہوگا جو اجل یعنی مدت کا ہے۔- قول باری ہے (ذلکم اقسط عند اللہ و اقوم لشھادۃ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ طریقہ تمہارے لئے زیادہ مبنی بر انصاف ہے اس سے شہادت قائم ہونے میں زیادہ سہولت ہوتی ہے) اس میں اس غرض کا بیان ہے جس کے تحت تحریر اور گواہی کا حکم دیا گیا ہے۔ اور وہ غرض یہ ہے کہ ادھار لین دین کرنے والے طرفین کے لئے معاملے میں پختگی اور احتیاط کا پورا سامان مہیا کردیا جائے تاکہ آپس میں انکار اور مقدمے بازی کی صورت میں معاملہ پیچیدگیوں اور بےقاعدگیوں سے محفوظ رہے۔- نیز دستاویز لکھنے سے کیا مراد ہے وہ بھی بیان کردیا اور لوگوں کو بتادیا کہ یہ طریقہ اللہ کے نزدیک زیادہ مبنی بر انصاف ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات اس بات کے لحاظ سے زیادہ عادل اور اولیٰ ہے کہ لوگوں کے درمیان چھینا چھپٹی اور ایک دوسرے پر ظلم کرنے اور حق مار لینے والی کیفیت پیدا نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اس طریقے سے گواہی قائم ہونے میں زیادہ سہولت بھی ہے۔ یعنی … واللہ اعلم … یہ طریقہ گواہی قائم کرنے کے لئے اس طریقے کی بہ نسبت زیادہ ٹھوس اور واضح ہے جبکہ دستاویز اور گواہ نہ ہوں اس کے ساتھ گواہی میں شک و شبہ کی نفی کے لئے بھی یہ طریقہ بہتر ہے۔- اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں یہ اطلاع دی کہ سا نے تحریر اور گواہی کا جو حکم دیا ہے اس میں ہماری دینی اور دنیوی بھلائی کو مدنظر رکھا گیا ہے اور اس کا مقصد مسلمانوں کے آپس میں ایک دوسرے پر ظلم اور حق مار لینے کی تمام راہوں کو بند کرنا ہے۔- اس کے ساتھ یہ بھی بتادیا کہ تحریر کی وجہ سے جو احتیاطی صورتحال پیدا ہوتی ہے اس سے گواہی کے متعلق شک و شبہ کی نفی ہوجاتی ہے اور یہ بات اللہ کے نزدیک دستاویز کی عدم تحریر کی بہ نسبت زیادہ مبنی بر انصاف ہے۔ اس لئے کہ دستاویز نہ ہونے کی صورت میں گواہ شک و شبہ میں مبتلا ہوجائے گا اور پھر اسی شک و شبہ کی کیفیت کے ساتھ وہ گواہی بھی دے گا اور اس طرح ایک ممنوع چیز کا مرتکب قرار پائے گا یا وہ گواہی دینے کے لئے تیار نہیں ہوگا اور اس طرح مدعی کے حق کو ضائع کرنے والا قرار پائے گا۔- اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ گواہی اس وقت درست ہوتی ہے جب اس کے متعلق شک و شبہ کا ازالہ ہوجاتا ہے اور یہ کہ گواہ کے لئے گواہی دینا اسی وقت جائز ہوتا ہے جب اسے یہ …

Al-Baqara 2:285Listen in Qur'an →
286

لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا ٱكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ إِن نَّسِينَآ أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ إِصْرًۭا كَمَا حَمَلْتَهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِۦ ۖ وَٱعْفُ عَنَّا وَٱغْفِرْ لَنَا وَٱرْحَمْنَآ ۚ أَنتَ مَوْلَىٰنَا فَٱنصُرْنَا عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَٰفِرِينَ

خدا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اچھے کام کرے گا تو اس کو ان کا فائدہ ملے گا برے کرے گا تو اسے ان کا نقصان پہنچے گا۔ اے پروردگار اگر ہم سے بھول یا چوک ہوگئی ہو تو ہم سے مؤاخذہ نہ کیجیو۔ اے پروردگار ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالیو جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے پروردگار جتنا بوجھ اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں اتنا ہمارے سر پر نہ رکھیو۔ اور (اے پروردگار) ہمارے گناہوں سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے۔ اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا مالک ہے اور ہم کو کافروں پر غالب فرما

ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ امام مالک کا قول ظاہر قرآن سے زیادہ قریب ہے۔ کیونکہ قول باری ہے (قرھان مقبوضۃ) اللہ تعالیٰ نے رہن کو گواہی کے قائمقام کردیا ہے اور اس شخص پر اعتماد نہیں کیا جس پر حق ہے کیونکہ اس سے وثیقہ لیا ہے جس طرح کہ دین کی مقدار کے متعلق اس پر بھروسہ نہیں کیا اس لئے کہ اس پر گواہی قائم کی ہے۔- دستاویز اور گواہ اس پر لازم آنے والے حق کی مقدار کا پتہ دیتے ہیں اس لئے راہن کے قول کی تصدیق نہیں کی گئی اور رہن اس حد تک گواہوں کے قائم مقام ہوگیا جس حد تک اس کی مقدار رہن کی قیمت کے اندر رہی لیکن جب یہ مقدار اس کی قیمت سے تجاوز کر جائے تو پھر وثیقہ کا کوئی کام نہیں اس صورت میں مرتہن مدعی ہوگا اور مدعی علیہ۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ درج بالا استدلال عجیب و غریب قسم کا استدلال ہے۔ وہ اس طرح کہ مستدل کا یہ کنا ہے کہ جب راہن پر اعتماد نہ کیا گیا یہاں تک کہ اس سے رہن رکھوا لیا گیا تو رہن گواہی کے قائم مقام بن گیا اور پھر یہ دعویٰ کیا کہ یہ ظاہر قرآن کے موافق ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کا قول معتبر قرار دیا جس پر حق ہے۔- کیونکہ قول باری ہے (والیملل الذی علیہ الحق والیتق اللہ ربہ ولا یبخس منہ شیئاً ) اللہ تعالیٰ نے اس حالت میں بھی اس کے قول کو معتبر قرار دیا جس میں اسے گواہی قائم کرنے اور دستاویز لکھوانے کا حکم دیا اور طالب یعنی قرض خواہ کی طرف سے مطلوب پر عدم اعتماد کو مطلوب کے قول کے اعتبار کے لئے مانع قرار نہیں دیا۔- تو پھر مرتہن کی طرف سے راہن سے رہن رکھوا کر معاملہ پختہ کرنے کے ذریعے عدم اعتماد کا اظہار مطلوب کے قول کو قبول کرنے سے کس طرح مانع ہوسکتا ہے اور یہ کس طرح طالب کے دعوے کی تصدیق کا موجب بن سکتا ہے۔ مستدل کی بیان کردہ بات ظاہر قرآن کے مخالف ہے اور مرتہن کی طرف سے عدم اعتماد کی تصدیق کے لئے اس کی قائم کردہ علت نص کتاب کی رو سے غلط ہے۔- پھر اس کا یہ دعویٰ کہ اس کی بات ظاہر قرآن کے موافق ہے۔ اتنہائی تعجب انگیز دعویٰ ہے ۔ وہ اس طرح کہ قرآن مجید نے اس کے دعوے کے بطلان کا اس وقت فیصلہ دے دیا جب کہ اس حالت میں بھی مطلوب کے قول کو تسلیم کیا جس میں اس پر اعتماد نہیں کیا گیا۔- بلکہ دستاویز اور گواہوں کے ذریعے اس سے معاملے کو پختہ کرایا گیا اور مستدل کا گمان یہ ہے کہ اس سے رہن رکھوا کر گویا اس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تو اس سے یہ ضروری ہوگیا کہ طالب کے قول کا اعتبار کیا جائے اور پھر یہ گمان کرلیا کہ اس کا قول ظاہر قرآن کے موافق ہے اور پھر اس پر اس بات کی بنیاد رکھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر اعتماد نہیں کیا اور یہ کہ رہن پختگی اور بھروسے کا ذریعہ بنا جس طرح گواہی پختگی اور اعتماد کا ذریعہ ہے اور اس طرح رہن گواہی کے قائم مقام ہوگیا۔- مستدل نے یہ جو کچھ بیان کیا ہے اس کا ظاہر قرآن سے کوئی واسطہ نہیں اور ہم نے پہلے ہی دلائل سے ثابت کردیا ہے کہ یہ قرآن کے خلاف ہے۔ دراصل یہ قیاس ہے اور اس میں رہن کے مسئلے کو گواہی کے مسئلے پر قیاس کیا گیا ہے اور علت یہ بیان کی گئی ہے کہ رہن اور گواہی دونوں صورتوں میں مقروض پر قرض کی اس مقدار کے متعلق اعتماد اور بھروسہ نہیں کیا گیا جو اس کے ذمے ہے یہ قیاس کئی وجوہ سے باطل ہے۔- اول یہ کہ ظاہر قرآن سے اس کی تردید ہو رہی ہے اس کی تفصیل ہم پچھلی سطور میں بیان کر آئے ہیں۔ دوم یہ قیاس ایک مسئلے پر سب کے اتفاق کی وجہ سے منتقض ہوجاتا ہے۔ یہ وہ یہ کہ اگر کسی پر کسی کا قرض ہو اور قرض خواہ مقروض سے کفیل یعنی ضامن لے لے اس کے بعد قرض کی مقدار میں دونوں کا اختلاف ہوجائے تو اس صورت میں سب کے نزدیک مطلوب یعنی مقروض کا قول اس پر لازم آنے والے قرض کے متعلق معتبر ہوگا۔ اور اس طرح کفیل لے کر اس پر جس عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا تھا۔ وہ طالب یعنی قرض خواہ کے قول کی تصدیق کا موجب نہیں بنا …

Al-Baqara 2:286Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.