Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 271–280 of 286

271

إِن تُبْدُوا۟ ٱلصَّدَقَٰتِ فَنِعِمَّا هِىَ ۖ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا ٱلْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۚ وَيُكَفِّرُ عَنكُم مِّن سَيِّـَٔاتِكُمْ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌۭ

اگر تم خیرات ظاہر دو تو وہ بھی خوب ہے اور اگر پوشیدہ دو اور دو بھی اہل حاجت کو تو وہ خوب تر ہے اور (اس طرح کا دینا) تمہارے گناہوں کو بھی دور کردے گا۔ اور خدا کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے

قول باری ہے (ان تبدوا الصدقات فنعماھی وان تخفوھا وتوتوھا الفقراء فھو خیر لکم، ( ) اگر اپنے صدقات علانیہ دو تو یہ بھی اچھا ہے لیکن اگر چھپا کر حاجت مندوں کو دو تو یہ بھی اچھا ہے) حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ یہ آیت نفلی صدقہ کے بارے میں ہے لیکن صدقہ واجبہ کا اظہار افضل ہے تاکہ عدم ادائیگی کے الزام سے دامن بچا رہے۔- حسن بصری، یزید بن ابی حبیب اور قتادہ کا قول ہے کہ تمام صدقات میں اخفا افضل ہے اللہ تعالیٰ نے صدقہ کے اظہار کی اسی طرح تعریف کی ہے جس طرح صدقہ کے اخفاء کی۔- قول باری ہے (الذین ینفقون اموالھم باللیل والنھار سراً وعلانیۃ فلھم اجرھم عند ربھم، ( ) جو لوگ اپنا مال رات اور دن میں چھپا کر اور علانیہ (اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے لئے ان کے رب کے نزدیک اجر ہے) ۔- اور یہ جائز ہے کہ قول باری (وان تخفوھا وتوتوھا الفقراء فھو خیر لکم) ( ) نفلی صدقہ کے متعلق ہو جیسا کہ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ قول باری ان تمام صدقات کے متعلق ہو جن کی ادائیگی کی ذمہ داری قبول کرنے والوں پر ہو خواہ وہ نفلی صدقات ہوں یا صدقات واجبہ۔ اور وہ صدقات ان میں داخل نہ ہوں جن کی وصولی امام المسلمین کے ذمہ ہو۔- تاہم آیت کا عموم تمام صدقات کا متقاضی ہے کیونکہ ’ الصدقات ‘ ( ) الف لام جنس کے لئے ہے اس بنا پر یہ صدقہ کی تمام اقسام کو شامل ہے۔ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ تمام صدقات کا مصرف فقراء ہیں اور فقراء صرف فقر کی بنا پر ان کے مستحق ہیں۔ کسی اور وجہ سے نہیں۔- اللہ تعالیٰ نے اپنے قول (انما الصدقات للفقراء والمساکین) ( ) میں صدقات کے جن مصارف کا ذکر فرمایا ہے ان کا استحقاق بھی فقر کی بنا پر ہے کسی اور وجہ سے نہیں۔ اصناف کا ذکر اس لئے ہوا ہے کہ ان تمام میں جو بات مشترک پائی جاتی ہے وہ فقر ہے۔ اور اسباب فقران سب کو عام ہے۔- البتہ ان مصارف میں سے مولفتہ القلوب اور عالمین زکوٰۃ صدقہ کو بطور صدقہ نہیں لیتے بلکہ امام المسلمین کے ہاتھوں میدں یہ صدقات فقراء کے لئے آتے ہیں پھر ان کو مؤلفتہ القلوب اور عالمین پر صدقہ کی بنا پر خرچ نہیں کیا جاتا بلکہ ان کے عمل کے عوض کے طور پر خرچ کیا جاتا ہے یا اہل اسلام سے ان کی ایذاء رسانی کو دور رکھنے یا انہیں اسلام کی طرف راغب کرنے کے لئے خرچ کیا جاتا ہے۔- اس آیت سے ہمارے مخالفین نے یہ استدلال کیا ہے کہ صدقات کی تمام مدیں فقراء کو دینا جائز ہے۔ امام المسلمین کو ان کی ادائیگی ضروری نہیں، نیز یہ کہ جب لوگ مویشیوں کی زکوٰۃ فقراء کو دے دیں تو پھر امام کا حق باقی نہیں رہتا کہ وہ ان سے اس کی وصولی کرے۔ کیونکہ قول باری ہے (وان تخفوھا وتوتوھا الفقرآء فھو خیرلکم) ( ) یہ آیت تمام صدقات کے لئے عام ہے کیونکہ لفظ ’ الصدقۃ ‘ اسم جنس ہے۔- ابو بکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں ہمارے نزدیک کوئی ایسی دلالت موجود نہیں ہے جس سے ان مخالفین کا قول ثابت ہوجائے۔ اس لئے کہ آیت میں زیادہ سے زیادہ جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کرنے والے کے لئے یہ طریقہ بہتر ہے۔ اس سے یہ بات معلوم نہیں ہوتی کہ وصولی کے سلسلے میں امام کا حق ساقط ہوگیا۔- نیز از خود ادائیگی کا بہتر ہونا وصولی کے سلسلے میں امام کے حق کے منافی نہیں ہے کیونکہ اس میں کوئی امتناع نہیں ہے کہ از خود ادائیگی کرکے بہتر صورت حال حاصل کرلی جائے اور امام کو دوبارہ ادا کرکے اس خیر کو اور بڑھالیا جائے۔ علاوہ ازیں ہم نے پہلے ذکر کردیا ہے کہ بعض لوگوں کا قول ہے کہ زیر بحث آیت نفلی صدقہ کے متعلق ہے۔ صدقہ واجبہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔- بعض اہل علم کا یہ قول ہے کہ اس بات پر گویا اجماع ہوگیا ہے کہ صدقہ واجبہ یعنی زکوٰۃ و عشر وغیرہ کی اعلانیہ ادائیگی چھپا کر ادا کرنے سے افضل ہے۔ جیسا کہ فرض نمازوں کے متعلق فقہاء کا قول ہے۔ اسی بنا پر اہل اسلام کو حکم دیا گیا کہ وہ فرض نمازوں کے لئے …

Al-Baqara 2:271Listen in Qur'an →
272

۞ لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَىٰهُمْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ ۗ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِنْ خَيْرٍۢ فَلِأَنفُسِكُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُونَ إِلَّا ٱبْتِغَآءَ وَجْهِ ٱللَّهِ ۚ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِنْ خَيْرٍۢ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ

(اے محمدﷺ) تم ان لوگوں کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہو بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے۔ اور (مومنو) تم جو مال خرچ کرو گے تو اس کا فائدہ تمہیں کو ہے اور تم جو خرچ کرو گے خدا کی خوشنودی کے لئے کرو گے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا اور تمہارا کچھ نقصان نہیں کیا جائے گا،

صدقہ کے مال میں سے مشرک کو کچھ دینا - قول باری ہے (لیس علیک ھداھم ولکن اللہ یھدی من یشآء وما تنفقوا من خیر فلانفسکم ( ) تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہچیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور خیرات میں جو مال تم خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے لئے بھلا ہے) ۔- ابو بکر جصاص کہتے ہیں کہ اس خطاب کے گزشتہ حصے اور اس کی ترتیب اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قول باری (لیس علیک ھدھم) ( ) کا معنی غیر مسلموں کو صدقہ کا مال دینے میں آپ کے ذمہ ان کی ہدایت نہیں ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے خطاب کی ابتدا اس قول (ان تندوا الصدقات فنعماھی) ( ) سے کی پھر اس پر اس قول (لیس علک ھداھم) ( ) کو عطف کیا۔- پھر اس کے بعد یہ ارشاد فرمایا (وما تنفقوا من خیر فلانفسکم) ( ) یہ ساری ترتیب نیز ابتدائے خطاب اور صدقہ کے ذکر کا تاخر اس پر دلاتے کرتے ہیں کہ اس سے مرادان لوگوں کو صدقہ دینے کی اباحت ہے خواہ وہ دین اسلام پر نہ بھی ہوں۔ یہ بات سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے :- جعفر بن ابی المغیرہ سے مروی ہے کہ سعید بن جبیر نے کہا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تھا کہ الا تصدقوا الاعلیٰ اھل ینکم ( ) صرف اپنے دینی مذہب والوں کو صدقہ دو ) اس پر یہ آیت نازل ہوئی (لیس علیک ھداھم) ( ) - اس پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (تصدقوا علی اھل الادیان ( ) تم مختلف مذاہب والوں کو صدقہ دے سکتے ہو) حجاج نے سالم المکی سے، انہوں نے ابن الحنفیہ سے روایت کی ہے کہ لوگ مشرکین کو صدقہ دینا ناپسند کرتے تھے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل کی (لیس علیک ھداھم ) ( ) اس کے بعد لوگ انہیں نفلی صدقہ دینے لگے۔- ابو جصاص کہتے ہیں کہ ہمیں نہیں معلوم کہ ” پھر لوگ انہیں نفلی صدقہ دینے لگے “ کس کا کلام ہے۔ اس میں یہ گنجائش ہے اس سے مراد زکوٰۃ اور مویشیوں کی صدقات واجب نہ ہوں بلکہ دوسرے صدقات مثلاً قسموں کے کفارے وغیرہ مراد ہوں۔ نیز درج بالا قول آیت کی تخصیص کو واجب نہیں کرتا کیونکہ ان کا یہ فعل و جوب کا مقتضی نہیں ہے لیکن انہیں یہ اختیار ہے کہ چاہیں تو غیر مسلموں کو صدقہ دے دیں اور چاہیں تو نہ دیں۔- اعمش نے جعفر بن ایاس سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ بہت سے لوگ ایسے تھے جن کی بنو قریظہ اور بنو نظیر کے ساتھ رشتہ داریاں تھیں وہ انہیں صدقات و خیرات دینے سے پرہیز کرتے تھے وہ چاہتے تھے کہ یہ لوگ پہلے مسلمان ہوجائیں پھر انہیں صدقات دیئے جائیں۔- اس پر یہ آیت نازل ہوئی (لیس علیک ھداھم ولکن اللہ یھدی من یشاء) ( ) تاآخر آیت ہشام بن عروہ نے اپنے والد عروہ ہے۔ انہوں نے اپنی والدہ اسماء سے روایت کی کہ حضرت اسماء (رض) نے فرمایا ۔ میری والدہ قریش کے زمانے میں میرے پاس کچھ لینے کی غرض سے آئی، وہ ابھی مشرک تھی، میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسے کچھ دینے کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے اس کی اجازت دے دی۔- ابو بکر جصاص کہتے ہیں کہ اس معنی پر زیر بحث آیت کی دلالت کی نظر وہ دلالت ہے جو اس قول باری (ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما اسیرا۔ ( ) اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں) میں موجود ہے۔ حسن بصری سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ قیدی ہیں جو مشرکین میں سے گرفتار ہوکر آئے تھے۔ سعید بن جبیر (رض) اور عطاء سے مروی ہے کہ اس سے مراد اہل قبلہ یعنی مسلمان واہل کتاب اور مشرکین مراد ہیں۔- ابو بکر جصاص کہتے کہ پہلی بات زیادہ واضح ہے کیونکہ دارالسلام میں مشرک کے علاوہ اور کوئی اسیر جنگ نہیں ہوتا۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (لآ ینھاکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم وتقسطو الیھم ( ) اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کے معاملے میں تمہارے ساتھ قتال نہیں کیا اور نہ ہی تمہیں تمہارے گھروں سے …

Al-Baqara 2:272Listen in Qur'an →
273

لِلْفُقَرَآءِ ٱلَّذِينَ أُحْصِرُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًۭا فِى ٱلْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ ٱلْجَاهِلُ أَغْنِيَآءَ مِنَ ٱلتَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيمَٰهُمْ لَا يَسْـَٔلُونَ ٱلنَّاسَ إِلْحَافًۭا ۗ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِنْ خَيْرٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٌ

(اور ہاں تم جو خرچ کرو گے تو) ان حاجتمندوں کے لئے جو خدا کی راہ میں رکے بیٹھے ہیں اور ملک میں کسی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھتے (اور مانگنے سے عار رکھتے ہیں) یہاں تک کہ نہ مانگنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان کو غنی خیال کرتا ہے اور تم قیافے سے ان کو صاف پہچان لو (کہ حاجتمند ہیں اور شرم کے سبب) لوگوں سے (منہ پھوڑ کر اور) لپٹ کر نہیں مانگ سکتے اور تم جو مال خرچ کرو گے کچھ شک نہیں کہ خدا اس کو جانتا ہے

قول باری ہے (للفقراء الٓین احصروا فی سبیل اللہ لا یستطیعون ضرباً فی الارض یحسبھم الجاہل اغنیآء من التعفف تعرفھم بسیماھم لا یسئلون الناس الحافاً ۔ وما تنفقوا من خسیر فان اللہ بہ علیم۔ ( ) خاص طور پر مدد کے مستحق وہ تنگ دست لوگ ہیں جو اللہ کے کام میں ایسے گھر گئے ہیں کہ اپنی ذاتی کسب معاش کے لئے زمین میں کوئی دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے۔ ان کی خود داری دیکھ کر ناواقف آدمی گمان کرتا ہے کہ یہ خوش حال ہیں۔ تم ان کے چہروں سے ان کی اندرونی حالت پہچان سکتے ہو۔ مگر وہ ایسے لوگ نہیں ہیں کہ لوگوں کے پیچھے پڑ کر کچھ مانگیں۔ ان کی اعانت میں جو کچھ مال تم خرچ کروگے وہ اللہ سے پوشیدہ نہیں رہے گا) یعنی اللہ کو اس نفقہ کی خبر ہے جس کا ذکر شروع میں کیا گیا ہے اور اس سے مراد صدقہ ہے۔ محاہد اور سدی سے مروی ہے کہ اس سے فقراء مہاجرین مراد ہیں۔- قول باری (احصروا فی سبیل اللہ) ( ) کے متعلق ایک قول ہے کہ ان لوگوں نے اپنے آپ کو دشمن کفار کے خوف سے تجارت کرنے سے روکے رکھا ہے۔ قتادہ سے یہی روایت ہے کیونکہ احصار کا معنی اپنے آپ کو مرض یا ضرورت یا خوف کی بنا پر تصرف کرنے اور چلنے پھرنے سے روکے رکھنا ہے۔ اگر دشمن رکاوٹ بن جائے تو اس موقع پر کہا جاتا ہے ” احصرہ “ یعنی اس نے اسے روکے رکھا۔- قول باری (یحسبھم الجاھل اغنیاء من التعفف) ( ) کا معنی ۔۔۔ واللہ اعلم ۔۔۔ وہ شخص ہے جو ان کی حالت سے ناواقف ہے۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ ان لوگوں کی ظاہری ہیئت اور لباس مال داروں کی حالت کے مشابہ ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ناواقف انہیں مالدار گمان نہ کرتا کیونکہ فقر اور تنگ دستی کی نشاندہی دو باتوں سے ہوتی ہے۔- ایک تو ظاہری خستگی اور بدحالی اور دوسری اپنے آپ کو فقیرکہہ کر دست سوال دراز کرنا ناواقف انہیں مالدار اس لئے خیال کرتا ہے کہ اسے ان کی ظاہری ہیئت اور لباس کی عمدگی نظر آتی ہے جو عام طور پر خوش حالی کی علامت ہوتی ہے۔ آیت میں اس پر دلالت ہورہی ہے کہ جس شخص کے جسم پر اچھے اور قیمتی کپڑے ہوں اسے زکوٰۃ دے دینے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسے شخص کو بھی زکوٰۃ دینے کا حکم دیا ہے جس کی ظاہری حالت مالداروں کی حالت کے مشابہ ہو۔- آیت کی اس پر بھی دلالت ہورہی ہے کہ ایک صحت مند اور تندرست انسان کو بھی زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو زکوٰۃ کی رقم دینے کا حکم دیا تھا۔ یہ لوگ مہاجرین میں سے تھے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مشرکین کے خلاف جنگوں میں بھی حصہ لیتے تھے، یہ لوگ نہ تو بیمار تھے اور نہ ہی بینائی سے معذور۔- قول باری ہے (تعرفھم بسیماھم ) ’ السیما ‘ ( ) علامت کو کہتے ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد تخشع یعنی عاجزی ہے۔ سدی اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ اس سے مراد تنگ دستی کی علامت ہے۔ قول باری ہے (سیماھم فی وجوھھم من اثر السجود۔ ( ) ان کی نشانی ان کے چہروں پر ہے جو سجدے کا نشان ہے) یعنی ان کی علامت۔ اس لئے جائز ہے کہ وہ علامت جس کا ذکر قول باری (تعرفھم بسیماھم) ( ) میں ہے، اس سے مراد انسان کے چہرے پر نمایاں ہونے والی بدحالی اور دل کی پریشانی ہو اگرچہ ایسے انسانوں کا لباس اور ظاہری ہیئت عمدہ اور اچھی کیوں نہ ہو۔- یہ بھی جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی ایس نشان بتادیا ہو جسے آپ ان کے اندر دیکھ کر ان کی تنگ دستی کا پتہ چلا لیتے تھے۔ اگرچہ ہمیں ان کی یہ تنگ دستی ان کے سوال اور ان کی خستہ حالی کو دیکھ کر ہی معلوم ہوسکتی ہے۔ یہ اس دلالت کرتا ہے کہ ایک شخص کی ظاہری حالت اور علامت کو اس کی اندرونی حالت کا اندازہ لگانے میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔- ہمارے اصحاب نے اس کا اعتبار کیا ہے جبکہ دارالسلام یا دارالحرب میں کوئی ایسی لاش ملے جس کے کفر یا اسلام کے متعلق کچھ معلوم نہ ہو تو لاش کی ظاہری علامتوں کو …

Al-Baqara 2:273Listen in Qur'an →
274

ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُم بِٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ سِرًّۭا وَعَلَانِيَةًۭ فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

جو لوگ اپنا مال رات اور دن اور پوشیدہ اور ظاہر (راہ خدا میں) خرچ کرتے رہتے ہیں ان کا صلہ پروردگار کے پاس ہے اور ان کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ غم

Explained together with ayah 273

Al-Baqara 2:274Listen in Qur'an →
275

ٱلَّذِينَ يَأْكُلُونَ ٱلرِّبَوٰا۟ لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ ٱلَّذِى يَتَخَبَّطُهُ ٱلشَّيْطَٰنُ مِنَ ٱلْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوٓا۟ إِنَّمَا ٱلْبَيْعُ مِثْلُ ٱلرِّبَوٰا۟ ۗ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلْبَيْعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰا۟ ۚ فَمَن جَآءَهُۥ مَوْعِظَةٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ فَٱنتَهَىٰ فَلَهُۥ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قبروں سے) اس طرح (حواس باختہ) اٹھیں گے جیسے کسی کو جن نے لپٹ کر دیوانہ بنا دیا ہو یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ سودا بیچنا بھی تو (نفع کے لحاظ سے) ویسا ہی ہے جیسے سود (لینا) حالانکہ سودے کو خدا نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ تو جس شخص کے پاس خدا کی نصیحت پہنچی اور وہ (سود لینے سے) باز آگیا تو جو پہلے ہوچکا وہ اس کا۔ اور (قیامت میں) اس کا معاملہ خدا کے سپرد اور جو پھر لینے لگا تو ایسے لوگ دوزخی ہیں کہ ہمیشہ دوزخ میں (جلتے) رہیں گے

ربوٰ کا بیان - قول باری ہے (الذین یاکلون الربوٰا لایقومون الا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطن من المس۔ ذلک بانھم قالوا انما البیع مثل الربوٰا واحل اللہ البیع وحرم الربوٰا۔ ( ) جو لوگ سود کھاتے ہیں ان کا حال اس شخص کا سا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھوڑ کر بائولا کردیا ہو۔ اور اس حالت میں ان کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ تجارت بھی تو آخر سود ہی جیسی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام)- ابو بکر جصاص کہتے ہیں کہ ربوا کے معنی زیادتی اور اضافے کے ہیں۔ اسی سے لفظ الرابیۃ ہے جس کے معنی ابھری ہوئی زمین کے ہیں کیونکہ اپنے ارد گرد کی زمین کے مقابلے میں زیادہ ابھری ہوئی ہوتی ہے۔ اسی سے الربوۃ ( ) بھی ہے جس کے معنی ٹیلے کے ہیں۔ اسی سے یہ محاورہ بھی ہے ” اربی فلان علی فلان فی القول او الفعل (فلاں شخص فلاں سے قول یا فعل میں بڑھ گیا)- شرعی لحاظ سے یہ لفظ کئی معانی پر محمول ہوتا ہے جس کے لئے لغت میں یہ اسم موضوع نہیں تھا۔ اس پر حضرت اسامہ بن زید (رض) کی وہ حدیث دلالت کرتی ہے جس میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نسا ( ) یعنی ادھار کو ربوٰ قرار دیا۔ آپ کا قول ہے (انما الربوٰ فی النسیۃ ( ) ربو ادھار میں ہوتا ہے) ۔- حضرت عمر (رض) کا قول ہے : ” ربوا کے کئی دروازے یعنی صورتیں ہیں جو پوشیدہ نہیں ہیں۔ ان میں سے ایک صورت جانور کی بیع سلم ہے۔ “ حضرت عمر (رض) کا یہ قول بھی ہے کہ : ” ربوٰ کی آیت قرآن کی ان آیتوں میں سے ہے جو آخر میں نازل ہوئیں اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی وضاحت کرنے سے پہلے اس دنیا سے رخصت ہوگئے اس لئے ربوٰ اور ریبۃ ( ) یعنی شک والی بات کو ترک کردو۔ “- اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ لفظ ربوٰ ایک اسم شرعی بن گیا ورنہ اگر یہ اپنے اصلی معنی پر برقرار رہتا تو حضرت عمر (رض) سے اس کا معنی مخفی نہ ہوتا۔ جبکہ آپ اہل زبان تھے اور لغوی لحاظ سے اسموں کے معانی سے واقف تھے۔ اس پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ اہل عرب سونے کے بدلے سونا اور چاندی کے بدلے چاندی کی ادھار خریدو فروخت کو ربوٰ ( ) نہیں سمجھتے تھے جبکہ شریعت میں یہ چیز ربوٰ ہے۔ ( ) - ہمارے اس بیان سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ ربوٰ کا شمار بھی ان اسماء میں ہوگیا جو مجمل تھے اور انہیں بیان کی ضرورت تھی۔ اس قسم کے اسماء وہ ہیں جو لغت سے شرع کی طرف منتقل کئے گئے تھے اور ان کا اطلاق ایسے معانی پر ہوتا تھا جن کے لئے یہ اسماء لغوی لحاظ سے موضوع نہیں تھے۔ مثلاً صلوٰۃ، صوم، زکوٰۃ۔- اس لئے اس لفظ ربوٰ کو بیان کی ضرورت ہے اور عقود کی کسی صورت کی تحریم کے لئے اس لفظ کے عموم سے استدلال درست نہیں ہے۔ صرف ان صورتوں کی تحریم کے لئے اس سے استدلال کیا جاسکتا ہے جہاں یہ دلالت قائم ہوجائے کہ شرع میں یہ صورت اس لفظ کا مسمی اور مدلول بن رہی ہے۔- حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت سی آیتوں میں اللہ کی مراد کی نص اور توقیف یعنی الفاظ اور بیان کی صورت میں وضاحت فرمائی ہے اور بعض مقامات پر دلیل کے طور پر بیان کی ہے اس لئے اہل علم توقیف اور استدلال کے ذریعے اللہ کی مراد معلوم کرنے میں ناکام نہیں رہے۔- اہل عرب کے ہاں ربوا کا جو مفہوم تھا اور جس پر وہ آپس کی لین دین میں عمل پیرا ہوتے تھے یہ تھا کہ درہم و دینار قرض لیے جائیں۔ قرض کی ایک مدت ہو اور مدت گزرنے پر لی ہوئی رقم کچھ اضافے کے ساتھ واپس کردی جائے۔ اس اضافے کا فیصلہ باہمی رضامندی سے ہوتا تھا۔- ان کے بیع بالتقد یعنی سونا چاندی کی سونا چاندی کے بدلے اور ایک ہی جنس میں تفاضل یعنی کمی بیشی کی صورت کے ساتھ خریدو فروخت معروف و مروج نہیں تھی۔ ان کے ہاں ربوٰ کی جو صورت معروف و مروج تھی وہ قرض کی لین دین کی شکل میں پائی جاتی تھی۔- اسی لئے ارشاد باری ہے (وما اٰتیتم من ربا لیربوا فی اموال الناس فلا یربوا عنداللہ، ( ) اور جو چیزتم اس غرض سے …

Al-Baqara 2:275Listen in Qur'an →
276

يَمْحَقُ ٱللَّهُ ٱلرِّبَوٰا۟ وَيُرْبِى ٱلصَّدَقَٰتِ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ

خدا سود کو نابود (یعنی بےبرکت) کرتا اور خیرات (کی برکت) کو بڑھاتا ہے اور خدا کسی ناشکرے گنہگار کو دوست نہیں رکھتا

Explained together with ayah 275

Al-Baqara 2:276Listen in Qur'an →
277

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُا۟ ٱلزَّكَوٰةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہے ان کو ان کے کاموں کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کچھ خوف ہوا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

Explained together with ayah 275

Al-Baqara 2:277Listen in Qur'an →
278

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَذَرُوا۟ مَا بَقِىَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓا۟ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

مومنو! خدا سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو

قول باری ہے (یآیھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ وذروا مابقی من الربوٰ ان کنتم مؤمنین ۔ فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ۔ ( ) اے ایمان والو خدا سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو ۔ اگر واقعی تم ایمان لائے ہو لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا تو آگاہ ہوجائو کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے)- ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ آیت میں دو معنوں کا احتمال ہے۔ ایک معنی یہ ہے کہ ” اگر تم اللہ کے حکم کو قبول نہ کرو اور اس کے آگے جھک نہ جائو۔ “ اور دوسرا معنی یہ ہے کہ سود ترک کردینے کے حکم کے نزول کے بعد بھی لوگوں کے ذمہ اپنا باقی رہ جانے والا سود نہ چھوڑو تو سود کی تحریم کا اعتقاد رکھتے ہوئے بھی آگاہ ہوجائو کہ اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) ، قتادہ اور ربیع بن انس سے مروی ہے کہ جو شخص سود کھاتا ہو تو امام اس سے توبہ کا مطالبہ کرے اگر وہ سود خوری سے توبہ کرلے تو فیہا ورنہ اسے قتل کردے گا۔- یہ قول اس پر محمول ہے کہ وہ شخص سود کو حلال سمجھ کر اسے کھاتا ہو کیونکہ اہل علم کا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص سود کی تحریم کا اعتقاد رکھتے ہوئے سود خوری کرے تو وہ کافر نہیں ہوگا۔- قول باری (فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ) ( ) ایسے لوگوں کو کافر قرار دینے کے وجوب کا تقاضا نہیں کرتا کیونکہ اس فقرے کا کفر سے کم درجے کی معصیتوں پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔ زید بن اسلم نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت معاذ (رض) کو روتے دیکھا۔ آپ نے رونے کی وجہ پوچھی تو حضرت معاذ (رض) نے فرمایا :- میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سنا ہے کہ (الیسیر من الریاء شرک ومن عاد اولیاء اللہ فقد بارز اللہ بالمحاربۃ ( ) تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے۔ اور جو شخص اللہ کے دوستوں سے دشمنی رکھے گا وہ اللہ کو جنگ کی دعوت دے گا)- حدیث معاذ (رض) نے اس پر لفظ محاربت کا اطلاق کیا اگرچہ اس نے کفر نہ بھی کیا ہو۔ اسباط نے سدی سے، انہوں نے حضرت ام سلمہ (رض) کے آزاد کردہ غلام صبیح سے ، انہوں نے زید بن ارقم (رض) سے یہ روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) ، حضرت فاطمہ (رض) ، حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) سے فرمایا (انا حرب لمن حاربتم وسلم لمن سالمتم ( ) جس کے ساتھ تمہاری جنگ ہے میری بھی اس کے ساتھ صلح ہے)- قول باری ہے (انما جزاء الذین یحاربون اللہ ورسولہ ویسعون فی الارض فساداً ( ) ۔۔۔ ان لوگوں کی سزا جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں بس یہ ہے ۔۔۔ )- فقہاء اس پر متفق ہیں کہ یہ حکم الہ ملت یعنی مسلمانوں پر جاری ہوتا ہے اور یہ نشان ان مسلمانوں کو لگ جاتا ہے جو کہ ڈاکہ زنی اور لوٹ مار کا بازار گرم کردیں۔ لیکن آیت کی اس پر دلالت ہورہی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کا اطلاق ان لوگوں پر ہوسکتا ہے جن کے گناہ عظیم ہوں اور کھلم کھلا معصیت والے افعال کے مرتکب ہورہے ہوں اگرچہ یہ افعال کفر سے کم درجے کے ہوں۔- قول باری (فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ) ( ) درحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف معصیت کی بڑائی اور سنگینی کی اطلاع ہے۔ اور یہ کہ ایسی معصیت کا مرتکب اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے خلاف اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ کردیا جائے اگرچہ وہ کافر نہ ہو لیکن امام المسلمین کا باغی اور اطاعت نہ قبول کرنے والا ہو۔- اگر وہ بغاوت اور سرکشی کا مظاہرہ نہ کرنے والا ہو تو امام المسلمین اسے حسب ضرورت تعزیری سزا دے گا یہی حکم ان تمام معاصی کا ہونا چاہیے جن پر اللہ تعالیٰ نے سزا کی دھمکی دی ہے جبکہ کوئی شخص ان پر اصرار کرے اور کھلم کھلا ان کا مرتکب ہو اور اگر وہ شخص سرکشی اور بغاوت پر اتر آئے اور طاقت پکڑلے تو اس کے اور اس کے ساتھیوں کے …

Al-Baqara 2:278Listen in Qur'an →
279

فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا۟ فَأْذَنُوا۟ بِحَرْبٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَٰلِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ

اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ (کہ تم) خدا اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے (تیار ہوتے ہو) اور اگر توبہ کرلو گے (اور سود چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کا نقصان اور تمہارا نقصان

Explained together with ayah 278

Al-Baqara 2:279Listen in Qur'an →
280

وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍۢ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍۢ ۚ وَأَن تَصَدَّقُوا۟ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

اور اگر قرض لینے والا تنگ دست ہو تو (اسے) کشائش (کے حاصل ہونے) تک مہلت (دو) اور اگر (زر قرض) بخش ہی دو توتمہارے لئے زیادہ اچھا ہے بشرطیکہ سمجھو

قول باری ہے (وان کان ذو عسرۃ فنظرۃ الی میسرۃ ( ) اور اگر وہ تنگدست ہو تو اسے فراخی تک مہلت ہے) اس آیت کی دو تاویلیں کی گئی ہیں۔ اول یہ کہ اگر کوئی تنگدست تمہارا مقروض ہوجائے تو اسے قرض کی ادائیگی کے لئے اس کی فراخی تک مہلت دے۔- دوسری تاویل کی بنیاد یہ ہے کہ کان ( ) کو تامہ مان لیا جائے یعنی فعل ناقص ’ کان ‘ ( ) صرف اپنے اسم ” ذوعسرۃ “ ( ) پر اکتفا کرے اور اسے خبر کی ضرورت نہ ہو اور اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ ” ان وقع ذو عسرۃ “ ( ) یا ” ان وجدنی عسرۃ ( ) (اگر کوئی تنگ دست ہوجائے یا اگر کوئی تنگ دست پایا جائے جیسا کہ شاعر کا قول ہے :- فدی لبنی شیبان رحلی و ناقتی اذا کان یوم ذوکواکب اشھب ( ) - جب ٹھنڈی ہوا اور پالے کا دن ہو اور دن کو ستارے نکلے ہوں یعنی جنگ کا بازار گرم ہو اور ہتھیاروں کی چمک ستاروں کی طرح ہو اس دن نبی شیعبان پر میرا کجاوہ اور میری اونٹنی سب قربان ہوجائیں۔ شاعر کے قول کا مطلب یہ ہے کہ جب اس طرح کا دن پایا جائے۔- قول باری (وان کان ذو عسرۃ فنظرۃ الیٰ میسرۃ) ( ) کے معنی میں اختلاف ہے۔ ابن عباس، قاضی شریح اور ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ یہ حکم خاص کر سود پر دیے ہوئے قرض کے متعلق ہے۔ قاضی شریح سود پر دیئے ہوئے قرض کے سوا دوسرے قرضوں کے مقدمات میں تنگ دست مقروض کو جیل بھیج دیتے تھے۔- حسن بصری، ابراہیم، ربیع بن حثیم اور ضحاک سے مروی ہے کہ یہ حکم تمام قسم کے ویون کے لئے ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے ایک اور روایت اسی طرح کی ہے۔ کچھ دوسروں کا یہ قول ہے کہ آیت میں جو حکم ہے وہ سود پر دیئے ہوئے قرض میں تنگدست کو مہلت دینے کے متعلق ہے اور باقی تمام دیون اسی کے حکم میں ہیں اور انہیں اس پر قیاس کیا گیا ہے۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قول باری (وان کان ذو عسرۃ فنظرۃ الی میسرۃ) ( ) میں چونکہ یہ بھی احتمال ہے کہ اس کے حکم کا تعلق قرضوں کی تمام اقسام کے ساتھ ہو جیسا کہ ہم اوپر بیان کر آئے ہیں اور یہ بھی احتمال ہے کہ سلف میں جن حضرات نے اس کی دوسری تفسیر کی ہے وہ بھی درست ہو کیونکہ یہ تو ہوسکتا ہے کہ سلف آیت کی ایسی تفسیر کریں جس کا سرے سے اس میں احتمال ہی نہ ہو۔- اس لئے اب یہ ضروری ہے کہ آیت کے حکم کو اس کے عموم پر محمول کیا جائے اور اسے صرف سودی قرضوں تک محدود نہ رکھا جائے الا یہ کہ کوئی دلالت قائم ہوجائے کیونکہ ہم اگر اسے سودی قرضوں تک محدود رکھیں گے تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ دلالت کے بغیر ایک عموم کی تخصیص کی جارہی ہے۔- اگر یہاں یہ کہا جائے کہ درج بالا قول باری افادہ حکم میں خود مکتفی نہیں ہے اور یہ ماقبل کے معنی کو متضمن ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس کے حکم کو سودی قرضوں تک محدود رکھا جائے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ کلام اپنی ذات کے لحاظ سے اپنا مفہوم بیان کرنے کے لئے خود مکتفی یعنی کفایت کرنے والا ہے کیونکہ فحوائے کلام میں اس کے مفہوم و معنی پر دلالت موجود ہے۔ وہ اس طرح کہ اعسار یعنی تنگدستی اور انظار یعنی مہلت کا ذکر ایسے دین اور قرض پر دلالت کررہا ہے جس کا مطالبہ واجب ہے اور مہلت تو صرف اس حق کے لئے ہوتی ہے جس کا وجوب ثابت ہوچکا ہو۔ اور اس کا مطالبہ بھی درست ہو خواہ فوری طور پر یا ٹھہر کر۔- جب لفظ کے مضمون میں اس دین پر دلالت موجود ہے جس کا تعلق اس لفظ کے ساتھ ہے اور جس کی وجہ سے تنگدستی کی بنا پر انظارمعنی مہلت دینے کا حکم دیا جارہا ہے تو ایسی صورت میں لفظ اپنے معنی کے لئے خود مکتفی ہوگا اور اس کے عموم کا اعتبار واجب ہوگا اور صرف سودی قرضے تک اس کا اقتصار واجب نہیں ہوگا۔- ہمارے مذکورہ قول کی تائید میں بعض نے یہ خیال کیا کہ اس کا ربوٰ یعنی سودی قرضے کے متعلق ہونا سرے سے درست نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سود کو باطل قرار دیا ہے اس لئے اس کی خاطر مہلت دینا کیسا ؟ اس لئے یہ ضروری ہے کہ یہ آیت قرضوں کی تمام صورتوں کے لئے عام ہو۔- …

Al-Baqara 2:280Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.