Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 21–30 of 286

21

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱعْبُدُوا۟ رَبَّكُمُ ٱلَّذِى خَلَقَكُمْ وَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

لوگو! اپنے پروردگار کی عبات کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم (اس کے عذاب سے) بچو

Explained together with ayah 10

Al-Baqara 2:21Listen in Qur'an →
22

ٱلَّذِى جَعَلَ لَكُمُ ٱلْأَرْضَ فِرَٰشًۭا وَٱلسَّمَآءَ بِنَآءًۭ وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَأَخْرَجَ بِهِۦ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ رِزْقًۭا لَّكُمْ ۖ فَلَا تَجْعَلُوا۟ لِلَّهِ أَندَادًۭا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

جس نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے مینہ برسا کر تمہارے کھانے کے لیے انواع و اقسام کے میوے پیدا کئے۔ پس کسی کو خدا کا ہمسر نہ بناؤ۔ اور تم جانتے تو ہو

قول باری ہے : الذی جعل لکم الارض فراشاً (وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا) یعنی تمہارے لئے قرار اور ٹھکانا بنایا اور صرف فراش کا لفظ علی الاطلاق ذکر کیا جائے تو یہ زمین کو شامل نہیں ہوگا، بلکہ زمین کو فرش کا نام اسی لفظ کے ساتھ مقید کر کے دیا جاتا ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے : والجبال اوتاداً (اور پہاڑوں کو میخیں ) اوتاد یعنی میخوں کے اسم کا اطلاق پہاڑوں کا مفہوم ادا نہیں کرتا۔ اسی طرح قول باری ہے : والشمس سراجاً اور سورج کو چراغ ) اسی بنا پر فقہاء نے کہا ہے کہ جو شخص فرش اور بچھونے پر نہ سونے کی قسم کھالے اور پھر زمین پر سو جائے تو وہ حانث نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص چراغ تلے نہ بیٹھنے کی قسم کھا کر دھوپ میں بیٹھ جائے تو وہ حانث قرار نہیں پائے گا اس لئے کہ قسموں کو ان اسماء پر محمول کیا جاتا ہے جو معتاد و متعارف ہوں۔- عرف کے اندر فراش اور سراج کے الفاظ کا اطلاق زمین اور سورج پر نہیں ہوتا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے اللہ سبحانہ نے اپنے منکر کو کافر کا نام دیا ہے۔ اسی طرح زارع یعنی کاشتکار کو نیز غرق، آہن شخص کو کافر کہا اجتا ہے۔ کافر کا یہ اسم علی الاطلاق مذکورہ بالا دونوں افراد کو شامل نہیں ہوتا، بلکہ اللہ کا کفر کرنے والے کو شامل ہوتا ہے۔ ایسے مطلق اور مقید اسماء کی مثالیں بہت زیادہ ہیں اور بہت سے احکام میں ان کا اعتبار واجب ہوتا ہے، یعنی عرف اور عادت کے اندر جو لفظ مطلق ہو اسے اس کے اطلاق پر رکھا جائے اور جو عقید ہوا سے اس کی تقیید پر برقرار رہنے دیا جائے۔ کسی لفظ کو اس کے اصل مقام سے آگے نہ لے جایا جائے۔- زیر بحث آیت میں اللہ کی وحدانیت پر نیز ایسے صانع اور قادر مطلق پر دلالت موجود ہے جس کے مشابہ کوئی چیز نہیں اور جسے کوئی چیز عاجز اور درماندہ نہیں کرسکتی۔ یہ دلالت آسمانوں کی بلندی، ستونوں کے بغیر ان کے قیام اور مردر ایام کے باوجود ان کے دوام کی شکل میں موجود ہے۔ زمانہ ہائے دراز گزر جانے کے باوجود آسمان اپنی جگہ قائم ہیں اور ان میں کوئی تغیر و تبدل پیدا نہیں ہوا، قول باری ہے : وجعلنا لسمآء سفقاً محفوظاً (اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت کی شکل دے دی) اسی طرح زمین کا ثبات اور کسی سہارے کے بغیر اس کا قیام توحید باری اور خالق کائنات کی قدرت کے عظیم ترین دلائل میں سے ہیں جن سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کوئی چیز اللہ کو عاجز نہیں کرسکتی۔ زمین و آسمان کے اس کارخانے میں ہمارے لئے اس کی ذات سے آگاہ ہونے، اس کی ذات پر ان سے استدلال کرنے اور اس کی نعمتوں کی یاد دہانی کے تمام اسباب موجود ہیں۔- قول باری : فاخر جبہ من الثمرات رزقا لکم (اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لئے رزق پہنچایا) اس قول باری : ھو الذی خلق لکم ما فی فی الارض جمیعاً (وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں) نیز : وسخرلکم ما فی السموت وما فی الارض (اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اس نے اسے تمہارے لئے مسخر کردیا) نیز : قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لبعادہ و الطیبات من الرزق صاے محمد، ان سے کہو کہ کس نے اللہ کی اس زینت کو حرام کردیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لئے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کردیں) کی نظیر ہے۔ ان تمام آیات سے اس بارے میں استدلال کیا جاتا ہے کہ اشیاء کی اصل اباحت ہے اور ان میں سے کوئی چیز صرف اس وقت حرام ہوگی جب اس کے متعلق حرمت کی دلیل قائم ہوجائے گی۔

Al-Baqara 2:22Listen in Qur'an →
23

وَإِن كُنتُمْ فِى رَيْبٍۢ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا۟ بِسُورَةٍۢ مِّن مِّثْلِهِۦ وَٱدْعُوا۟ شُهَدَآءَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

اور اگر تم کو اس (کتاب) میں، جو ہم نے اپنے بندے (محمدﷺ عربی) پر نازل فرمائی ہے کچھ شک ہو تو اسی طرح کی ایک سورت تم بھی بنا لاؤ اور خدا کے سوا جو تمہارے مددگار ہوں ان کو بھی بلالو اگر تم سچے ہو

قول باری ہے : وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورۃ من مثلہ وادعوا شھدآء کم من دون اللہ ان کنتم صدقین (اور اگر تمہیں اس امر میں شک ہے کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے، یہ ہماری ہے یا نہیں، تو اس کے مانند ایک ہی سورت بنا لائو، اپنے سارے ہمنوائوں کو بلالو، ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو مدد لے لو، اگر تم سچے ہو تو یہ کام کر کے دکھائو۔ )- اس آیت میں کئی وجوہ سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی صحت کی سب سے بڑی دلالت موجود ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ اللہ نے مخاطبین کو اس جیسی ایک سورت پیش کرنے کا چیلنج کردیا اور پھر ببانگ دہل یہ اعلان کردیا کہ اپنی حمیت اور فخر و غرور کے باوجود وہ ایسا کرنے سے عاجز ہیں، حالانکہ اس کتاب کی زبان دہی ہے جو ان کی اپنی زبان ہے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے اندر ہی پیدا ہو کر عربی زبان سیکھی تھی، لیکن اس چیلنج کا جواب دینے کے لئے ان کا نہ تو کوئی خطیب میدان میں آیا اور نہ ہی کسی شاعر نے یہ تکلیف اٹھائی حالانکہ ان لوگوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت اسلام کو کمزور کرنے اور آپ کے پیش کردہ دلائل کو باطل قرار دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا اور اپنی جان اور اپنا مال صرف کیا تھا۔ اگر یہ لوگ مذکورہ چیلنج قبول کر کے میدان میں آ جاتے اور کتاب اللہ کا مقابلہ کرنے کی قدرت حاصل کرلیتے تو ان کی یہ کارکردگی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دعوائے نبوت کو باطل کرنے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رفقاء کی طرف سے آپ کا ساتھ چھوڑ جانے کے لئے موثر ترین حربہ ہوتی، لیکن جب مقابلہ میں آنے سے ان کی عاجزی واضح ہوگئی تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوگئی کہ یہ کتاب اللہ قادر مطلق کی طرف سے آپ پر نازل ہوئی ہے اور اس جیسی کتاب پیش کرنا بندوں کے بس سے باہر ہے۔ مقابلہ میں آنے کی بجائے انہوں نے زیادہ سے زیادہ یہی عذر پیش کردیا کہ یہ جادو ہے اور اگلے لوگوں کی کہانیوں پر مشتمل ہے۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا : فلیا توا بحدیث مثلہ ان کانوا صدقین (تو پھر یہ لوگ اس جیسی کوئی بات ہی پیش کردیں، اگر یہ سچے ہیں) نیز فرمایا : فاتوا بعشر سور مثلہ مفتریان (تو اس جیسی دس سورتیں ہی گھڑ کر پیش کر دو ) اس صورت میں اللہ سبحانہ نے انہیں نظم قرآنی کے ساتھ چیلنج کیا، معنی کے ساتھ چیلنج نہیں کیا اور ان کی عاجزی اور درماندگی بھی واضح کردی۔ اس طرح یہ کتاب ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک معجزے کے طور پر قیامت تک کے لئے باقی رہ گئی اور اس کے ذریعے اللہ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور اس کی بنیاد پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فضیلت کو واضح کردیا، اس لئے کہ دیگر تمام انبیاء کے معجزات ان کے گزر جانے کے ساتھ ہی ختم ہوگئے اور اب صرف خبر کے واسطے سے ہمیں ان کا معجزات ہونا معلمو ہوتا ہے، لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ معجزہ دنیا سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رخصت ہوجانے کے بعد بھی باقی اور قائم ہے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد جو شخص بھی اس معجزے پر اعتراض کرے گا ہم اسے یہی چیلنج دیں گے کہ اس جیسی کتاب پیش کرو، اور پھر اسے پتہ لگ جائے گا کہ آپ کی نبوت کی تثبیت کے لئے اس کتاب میں دلالت کے کون کون سے پہلو ہیں۔ جس طرح یہی صورت ان لوگوں کے لئے تھی جو آپ کے زمانے میں موجود تھے۔ ان پر بھی اسی طرح کی حجت قائم ہوگئی تھی اور انہیں لاجواب کردیا گیا تھا۔- حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی صحت پر دلالت کی دوسری وجہ یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے والے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کرنے والے دونوں کو یہ معلوم ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام انسانوں میں عقل و دانش کے اعتبار سے کامل ترین، حلم و بردباری کے لحاظ سے …

Al-Baqara 2:23Listen in Qur'an →
24

فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا۟ وَلَن تَفْعَلُوا۟ فَٱتَّقُوا۟ ٱلنَّارَ ٱلَّتِى وَقُودُهَا ٱلنَّاسُ وَٱلْحِجَارَةُ ۖ أُعِدَّتْ لِلْكَٰفِرِينَ

لیکن اگر (ایسا) نہ کر سکو اور ہرگز نہیں کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے (اور جو) کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے

Explained together with ayah 23

Al-Baqara 2:24Listen in Qur'an →
25

وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ ۖ كُلَّمَا رُزِقُوا۟ مِنْهَا مِن ثَمَرَةٍۢ رِّزْقًۭا ۙ قَالُوا۟ هَٰذَا ٱلَّذِى رُزِقْنَا مِن قَبْلُ ۖ وَأُتُوا۟ بِهِۦ مُتَشَٰبِهًۭا ۖ وَلَهُمْ فِيهَآ أَزْوَٰجٌۭ مُّطَهَّرَةٌۭ ۖ وَهُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، ان کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لیے (نعمت کے) باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جب انہیں ان میں سے کسی قسم کا میوہ کھانے کو دیا جائے گا تو کہیں گے، یہ تو وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا۔ اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے اور وہاں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور وہ بہشتوں میں ہمیشہ رہیں گے

عقلی دلائل کے استعمال اور ان سے استدلال - ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ زیر بحث آیات دلائل توحید اور اثبات نبوت کے ان مضامین کو متضمن ہونے کے ساتھ ساتھ جن کا ہم نے گزشتہ سطور میں ذکر کیا ہے عقلی دلائل اور ا ندلائل سے استدلال کرنے کے حکم کو بھی متضمن ہیں۔ یہ بات ان لوگوں کے مسلک کو باطل قرار دیتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے مہیا کردہ دلائل سے استدلال کرنے کی نفی کرتے اور اپنے زعم میں اللہ کی معرفت کے لئے خبر اور رسول اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے علم پر اقتصار کرتے ہیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کی معرفت اور اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت کی گواہی کے لئے لوگوں کو جو دعوت دی ہے اس میں صرف خبر پر اقتصار نہیں کیا ہے، بلکہ اس کی صحت پر ہماری عقول کی جہت سے بھی دلالت قائم کی ہے۔ درج بالا قول باری اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ بشارت خوش کن خبر کا نام ہے اور زیادہ واضح اور اغلب بات یہی ہ کہ اس لفظ کا اطلاق ایسی خبر کو شامل ہوتا ہے جو سامع کے لئے خوش کن ہوا اور اس میں سرور کی لہر دوڑ ا دے ۔ غیر خوش کن خبر کے لئے اس لفظ کو مقید صورت میں بیان کیا جاتا ہے۔ مثلاً قول باری ہے۔ فبشرھم بعذاب الیم (انہیں ایک درد ناک عذاب کی خبر دیجیے) اسی طرح ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر ایک شخص کہے کہ ” میرا جو بھی غلام فلاں کی ولادت کی خوش خبری دے گا وہ آزاد ہے۔ “ اور پھر اس کے غلام ایک ایک کر کے مذکورہ شخص کی پیدائش کی خوش خبری اسے سنائیں تو خوش خبری پہنچانے والا پہلا غلام آزاد ہوجائے گا۔ دیگر غلام آزاد نہیں ہوں گے کیونکہ آقا کو پہلے غلام کے ذریعے خوش خبری ملی تھی۔ دوسروں کے ذریعے صرف خبر ملی تھی۔ ہمارے اصحاب کے نزدیک درج بالا صورت اس طرح ہے کہ کوئی شخص کہے :” کہ میرا جو بھی غلام فلاں کی ولادت کی مجھے خبر دے گا وہ آزاد ہے۔ “ اور پھر اس کے غلام ایک ایک کر کے اسے یہ خبر دیں تو خبر دینے والے تمام غلام آزاد ہوجائیں گے۔ کیونکہ آقا نے مطلق خبر دینے پر عقید یمین کیا تھا، اس لئے یہ عقد خبر دینے والے تمام غلاموں کو شامل ہوگا، جبکہ پہلی صورت میں اس نے ایک خاص صفت کے ساتھ مخصوص خبر دینے پر عقیدیمین کیا تھا ۔ وہ خاص صفت یہ تھی کہ مذکورہ خبر اس کے لئے خوش کن ہو اور اس کے دل میں سرور کی لہر دوڑا دے۔ اس خبر کا موضوع وہی بات ہے جس کا ہم نے ذکر کیا اس پر یہ محاورہ دلالت کرتا ہے کہ : رأیت البشر فی وجھہ (میں نے اس کے چہرے پر خوشی اور سرور دیکھا) اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے چہروں کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا : وجوہ یومئذ مسفرہ ضاحکۃ ستبشرۃ (بہت سے چہرے اس روز چمکتے ہوئے ہنستے ہوئے بشاش ہوں گے) اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے چہروں پر پیدا ہونے والے خوشی اور سرور کے آثار کی خبر استبشار (خوش ہونے) کے ذکر سے دی ہے اور اسی بنا پر عرب کے لوگ مرد کو بشیر کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ یعنی اس میں یہ نیک فالی ہوتی ہے کہ وہ خیر کی خبر دے گا۔ شرک کی خبر نہیں دے گا خیر کی خبر دینے پر بشیر کو جو انعام دیا جاتا ہے اسے بشریٰ کے نام سے موسوم کتر یہیں۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ بشارت کے لفظ کا اطلاق ایسی خبر پر ہوتا ہے جو خوش کن ہو اور سرور کا باعث بن جائے۔ اس بنا پر بشارت کے لفظ کو غیر خوش کن خبر کے لئے صرف کسی دلالت کی بنا پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اور اگر اس لفظ کا اطلاق شرپر کیا جائے تو اس سے صرف خبر مراد ہوگی۔ اس بنا پر قول باری : فبشر ھم بعذاب الیم کا مفہوم یہ ہوگا کہ انہیں درد ناک عذاب کی خبر دیجیے۔ - اوپر ہم نے فقہی مسئلے میں بیان کیا تھا کہ ہمارے اصحاب کی رائے میں مذکورہ فلاں کی ولادت کی خوشی خبری دینے والا پہلا غلام آزاد ہوجانے کا مستحق ہوگا یعنی خبر دینے والا پہلا غلام بشیر کہلائے گا۔ اس پر عربوں کا یہ قول دلالت کرتا ہے : ظھرت لنا تباشیرھذا الامر (اس معاملے سے پیدا ہونے والی خوشیاں ہمارے …

Al-Baqara 2:25Listen in Qur'an →
26

۞ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَسْتَحْىِۦٓ أَن يَضْرِبَ مَثَلًۭا مَّا بَعُوضَةًۭ فَمَا فَوْقَهَا ۚ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۖ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فَيَقُولُونَ مَاذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلًۭا ۘ يُضِلُّ بِهِۦ كَثِيرًۭا وَيَهْدِى بِهِۦ كَثِيرًۭا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِۦٓ إِلَّا ٱلْفَٰسِقِينَ

الله اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز (مثلاً مکھی مکڑی وغیرہ) کی مثال بیان فرمائے۔ جو مومن ہیں، وہ یقین کرتے ہیں وہ ان کے پروردگار کی طرف سے سچ ہے اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے خدا کی مراد ہی کیا ہے۔ اس سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا تو نافرمانوں ہی کو

Explained together with ayah 25

Al-Baqara 2:26Listen in Qur'an →
27

ٱلَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مِيثَٰقِهِۦ وَيَقْطَعُونَ مَآ أَمَرَ ٱللَّهُ بِهِۦٓ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

جو خدا کے اقرار کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس چیز (یعنی رشتہٴ قرابت) کے جوڑے رکھنے کا الله نے حکم دیا ہے اس کو قطع کئے ڈالتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

Explained together with ayah 25

Al-Baqara 2:27Listen in Qur'an →
28

كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِٱللَّهِ وَكُنتُمْ أَمْوَٰتًۭا فَأَحْيَٰكُمْ ۖ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

(کافرو!) تم خدا سے کیوں کر منکر ہو سکتے ہو جس حال میں کہ تم بےجان تھے تو اس نے تم کو جان بخشی پھر وہی تم کو مارتا ہے پھر وہی تم کو زندہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

Explained together with ayah 25

Al-Baqara 2:28Listen in Qur'an →
29

هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ لَكُم مَّا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا ثُمَّ ٱسْتَوَىٰٓ إِلَى ٱلسَّمَآءِ فَسَوَّىٰهُنَّ سَبْعَ سَمَٰوَٰتٍۢ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۭ

وہی تو ہے جس نے سب چیزیں جو زمین میں ہیں تمہارے لیے پیدا کیں پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو ان کو ٹھیک سات آسمان بنا دیا اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے

Explained together with ayah 25

Al-Baqara 2:29Listen in Qur'an →
30

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَٰٓئِكَةِ إِنِّى جَاعِلٌۭ فِى ٱلْأَرْضِ خَلِيفَةًۭ ۖ قَالُوٓا۟ أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ ٱلدِّمَآءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۖ قَالَ إِنِّىٓ أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ

اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں (اپنا) نائب بنانے والا ہوں۔ انہوں نے کہا۔ کیا تُو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت وخون کرتا پھرے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح وتقدیس کرتے رہتے ہیں۔ (خدا نے) فرمایا میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

Explained together with ayah 25

Al-Baqara 2:30Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.