Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 261–270 of 286

261

مَّثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِى كُلِّ سُنۢبُلَةٍۢ مِّا۟ئَةُ حَبَّةٍۢ ۗ وَٱللَّهُ يُضَٰعِفُ لِمَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ

جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے۔ وہ بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

Explained together with ayah 259

Al-Baqara 2:261Listen in Qur'an →
262

ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَآ أَنفَقُوا۟ مَنًّۭا وَلَآ أَذًۭى ۙ لَّهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

جو لوگ اپنا مال خدا کے رستے میں صرف کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ اس خرچ کا (کسی پر) احسان رکھتے ہیں اور نہ (کسی کو) تکلیف دیتے ہیں۔ ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس (تیار) ہے۔ اور (قیامت کے روز) نہ ان کو کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

صدقہ دے کر احسان جتلانا - قول باری ہے (الذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ ثم لایتبعون ما انفقوا منا ولا اذی لھم اجرھم عند ربھم ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون، ( ) جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں پھر احسان نہیں جتاتے نہ دکھ دیتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان کے لئے کسی رنج اور خوف کا موقع نہیں) ۔- اسی طرح قول باری ہے (یآیھا الذین اٰمنوا لا تبطلوا صدقاتکم بالمن والاذیٰ کالذی ینفق مالہ رئا الناس ولایومن باللہ والیوم الاٰخر، ( ) اے ایمان والو اپنے صدقات کو احسان جتاکر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح خاک میں نہ ملادو جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے اور نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے، نہ آخرت پر) ۔- اسی طرح قول باری ہے (قول معروف ومغفرۃ خیر من صدقۃ یتبعھا اذی، ( ) ایک میٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دکھ ہو) ایک جگہ ارشاد ہے (وما اتیتم من ربا لیربو فی اموال الناس فلا یربو عند اللہ وما اٰتیتم من زکوۃ تریدون وجہ اللہ فائولئک ھم المضعفون ( ) اور جو سود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں شامل ہوکر وہ بڑھ جائے اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا۔ اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے ارادے سے دیتے ہو اسی کے دینے والے درحقیقت اپنا مال بڑھاتے ہیں) ۔- اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں یہ بتلادیا ہے کہ صدقات اگر خالصۃً اللہ تعالیٰ کے لئے نہیں ہوں گے نیز احسان جتلانے اور اذیت پہنچانے سے مبرا نہ ہوں گے تو وہ درحقیقت صدقات ہی نہیں ہوں گے کیونکہ ان کے اجر اور ثواب کے حبط ہوجانے کی وجہ سے یہ باطل ہوجائیں گے اور صدقہ دینے والے کی حیثیت یہ ہوجائے گی کہ گویا اس نے صدقہ دیا ہی نہیں ہے۔- اسی طرح وہ تمام کی تمام عبادات ہیں جو تقرب الیٰ اللہ کی خاطر کی جاتی ہیں۔ ان میں ریاکاری یا اللہ کی خوشنودی کے علاوہ کسی اور عنصر کا شامل ہوجانا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ چیز اس عبادت کو باطل کردیتی ہے۔ قول باری ہے (ولا تبطلوا اعمالکم، ( ) اور تم اپنے اعمال باطل نہ کرو) ۔ نیز ارشاد ہے (وما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین حنفآء، ( ) انہیں صرف اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں۔ اطاعت اور فرمانبرداری کو اسی کے لئے خالص کرکے اور تمام باطل طریقوں سے منہ موڑ کر) ۔- اس لئے جس عبادت میں اللہ کے لئے خالص فرمانبرداری نہیں پائی جائے گی اس پر اس کے فاعل کو کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (من کان یرید حوث الاٰخرۃ نخلہ فی حرثہ ومن کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا وما لہ فی الاٰخرۃ من نصیب، ( ) جو شخص آخرت کی کھیتی طلب کرے گا ہم اس کی کھیتی میں اور اضافہ کردیں گے اور جو شخص دنیا کی کھیتی چاہے گا ہم اسے دنیا میں سے دیں گے لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا) ۔- یہی وجہ ہے کہ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ حج کرنے، نماز ادا کرنے ، قرآن کی تعلیم دینے اور ایسے تمام افعال میں کسی کو کرایہ پر رکھنا جائز نہیں ہے جو تقرب الٰہی اور اس کی خوشنودی کی خاطر سرانجام دیئے جائیں کیونکہ ان پر اجرت لینا انہیں قربت یعنی تقرب الٰہی کا ذریعہ بننے کے دائرے سے خارج کردیتا ہے۔- درج بالا آیات اس استدلال کی بنیاد ہیں۔ نیز ان آیات کے نظائر سے بھی اس دعوے کی تائید ہوتی ہے۔ عمرو نے حسن بصری سے آیت (لاتبطلوا صدقاتکم بالمن والاذیٰ ) ( ) کے سلسلے میں روایت کی ہے کہ اس سے مراد ایسا صدقہ ہے جس پر انسان جتایا جائے اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمادیا۔ حسن بصری نے مزید کہا کہ صدقہ کرنے والے کو اللہ کی حمدو ثناء کرنی چاہیے کہ اس نے اسے صدقہ کرنے کی راہ دکھلائی اور توفیق عطاء کی۔- قول باری (مثلو الذین ینفقون اموالھم ابتغاء موضات اللہ وتثبیتاً من انفسھم، ( ) ان لوگوں کی مثال جو اپنے اموال اللہ تعالیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے دل کے …

Al-Baqara 2:262Listen in Qur'an →
263

۞ قَوْلٌۭ مَّعْرُوفٌۭ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌۭ مِّن صَدَقَةٍۢ يَتْبَعُهَآ أَذًۭى ۗ وَٱللَّهُ غَنِىٌّ حَلِيمٌۭ

جس خیرات دینے کے بعد (لینے والے کو) ایذا دی جائے اس سے تو نرم بات کہہ دینی اور (اس کی بے ادبی سے) درگزر کرنا بہتر ہے اور خدا بےپروا اور بردبار ہے

Explained together with ayah 262

Al-Baqara 2:263Listen in Qur'an →
264

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُبْطِلُوا۟ صَدَقَٰتِكُم بِٱلْمَنِّ وَٱلْأَذَىٰ كَٱلَّذِى يُنفِقُ مَالَهُۥ رِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ ۖ فَمَثَلُهُۥ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌۭ فَأَصَابَهُۥ وَابِلٌۭ فَتَرَكَهُۥ صَلْدًۭا ۖ لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَىْءٍۢ مِّمَّا كَسَبُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْكَٰفِرِينَ

مومنو! اپنے صدقات (وخیرات) احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا۔ جو لوگوں کو دکھاوے کے لئے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے۔ (اسی طرح) یہ (ریاکار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

Explained together with ayah 262

Al-Baqara 2:264Listen in Qur'an →
265

وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمُ ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ وَتَثْبِيتًۭا مِّنْ أَنفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌۭ فَـَٔاتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِن لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌۭ فَطَلٌّۭ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

اور جو لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو (جب) اس پر مینہ پڑے تو دگنا پھل لائے۔ اور اگر مینہ نہ بھی پڑے تو خیر پھوار ہی سہی اور خدا تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے

Explained together with ayah 262

Al-Baqara 2:265Listen in Qur'an →
266

أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَن تَكُونَ لَهُۥ جَنَّةٌۭ مِّن نَّخِيلٍۢ وَأَعْنَابٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ لَهُۥ فِيهَا مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ وَأَصَابَهُ ٱلْكِبَرُ وَلَهُۥ ذُرِّيَّةٌۭ ضُعَفَآءُ فَأَصَابَهَآ إِعْصَارٌۭ فِيهِ نَارٌۭ فَٱحْتَرَقَتْ ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلْءَايَٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ

بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے ننھے بچے بھی ہوں۔ تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہوا بگولا چلے اور وہ جل کر (راکھ کا ڈھیر ہو) جائے۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (اور سمجھو)

Explained together with ayah 262

Al-Baqara 2:266Listen in Qur'an →
267

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنفِقُوا۟ مِن طَيِّبَٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّآ أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا۟ ٱلْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِـَٔاخِذِيهِ إِلَّآ أَن تُغْمِضُوا۟ فِيهِ ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ حَمِيدٌ

مومنو! جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہوں اور جو چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سےنکالتے ہیں ان میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرو۔ اور بری اور ناپاک چیزیں دینے کا قصد نہ کرنا کہ (اگر وہ چیزیں تمہیں دی جائیں تو) بجز اس کے کہ (لیتے وقت) آنکھیں بند کرلو ان کو کبھی نہ لو۔ اور جان رکھو کہ خدا بےپروا (اور) قابل ستائش ہے

کمائی کرنے کا بیان - قول باری ہے (یآ ایھا الذین امنوا انفقوا من طیبات ما کسبتم ومما اخرجنا لکم من الارض ۔ ( ) اے ایمان والو جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ تم نے زمین سے تمہارے لئے نکالا ہے اس میں سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو) ۔- اس آیت میں کمائی کی صورتوں کی اباحت کا ذکر ہے اور یہ بیان ہے کہ کمائیوں میں پاکیزہ صورتیں بھی موجود ہیں۔ کمائی دو طرح سے ہوتی ہے۔ اموال اور ان کے منافع کی ادلا بدلی کے ذریعے اور چیزوں سے حاصل شدہ فوائد کی ادلا بدلی کے ذریعے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلی صورت کی اباحت کا کئی مواقع پر صراحتہً ذکر فرمادیا ہے۔- ارشاد ہے (واحل اللہ البیع، ( ) اللہ نے بیع یعنی خریدو فروخت کو حلال کردیا) اسی طرح ارشاد ہے (واٰخرون یضربون فی الارض یبتغون من فضل اللہ واٰخرون یقاتلون فی سبیل اللہ، ( ) کچھ لوگ ہیں جو زمین میں چل پھر کر اللہ کا فضل تلاش کررہے ہیں اور کچھ دوسرے ہیں جو اللہ کی راہ میں لڑ رہے ہیں) ۔- اسی طرح ارشاد ہے (لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلاً من ربکم، ( ) تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو) یعنی ۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔ جو شخص تجارت کرے یا اپنی چی کرایہ پردے دے اور اس کے ساتھ حج بھی کرلے تو اس کے لئے یہ کوئی گناہ کی بات نہیں ہے۔ چیزوں سے حاصل ہونے والے فوائد کی ادلا بدلی کے متعلق قول باری ہے (فان ارضعنا لکم فآتوھن اجورھن ، ( ) اگر وہ تمہارے لئے تمہارے بچوں کو دودھ پلائیں تو انہیں ان کی اجرت دے دو ) ۔- اسی طرح حضرت شعیب (علیہ السلام) کا قول قرآن کے الفاظ میں ہے (انی ارید ان انکحک احدبنتی ھا تین علی ان تاجرنی ثمانی حجج، ( ) میں چاہتا ہوں کہ ان دونوں میں سے ایک بیٹی تم سے اس شرط پر بیاہ دوں کہ تم آٹھ برسوں تک میرا کام کروگے) ۔- مزدور کی مزدوری پہلے طے کرلی جائے۔- حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے (من استاجرا جیرا فلیعلمہ اجرہ، ( ) جو شخص کسی کو مزدوری پر رکھے اسے اس کی مزدوری بتادے۔ آپ کا یہ ارشاد بھی ہے (لان یاخذ احدکم جلاً فیحتطب خیرلہ من ان یسال الناس اعطوہ اومنعوہ۔ ( ) تم میں سے کوئی شخص ایک رسی لے کر جنگل میں چلا جائے اور وہاں سے لکڑیاں سمیٹ کرلے آئے یہ اس سے بہتر ہے کہ لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتا پھرے پھر لوگ چاہیں تو اس کی جھولی میں کچھ ڈال دیں اور چاہیں تو اسے کچھ نہ دیں) ۔- اعمش نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے اسود سے ، انہوں نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (ان اطیب ما اکل الرجل من کسبہ وان ولدہ من کسبہ، ( ) انسان کے لئے پاکیزہ ترین غذا وہ ہے جو اس کی اپنی کمائی ہو اور اس کا بیٹا بھی اس کی کمائی ہے) سلف کی ایک جماعت سے قول باری (انفقوا من طیبات ما کسبتم) ( ) کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس سے مراد تجارت کی مختلف صورتیں ہیں ۔ ان حضرات میں حسن بصری اور مجاہد بھی شامل ہیں۔- اس آیت کا عمول تمام اموال میں صدقہ واجب کرتا ہے۔ اس لئے کہ قول باری (ماکسبتم) ( ) تمام اموال پر مشتمل ہے اگرچہ یہ بیان اموال میں واجب صدقہ کی مقدار کی وضاحت کے لئے کافی نہیں ہے تاہم یہ اموال کے جملہ اصناف کو شامل ہے اور مقدار واجب کے بیان میں مجمل ہے۔ جسے بیان اور وضاحت کی ضرورت تھی۔ پھر جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے اس اجمال کی تفصیل اموات میں صدقات کی واجب مقادیر کی شکل میں آگئی تو اب آیت کے علوم سے ہر اس مال میں صدقہ کے وجوب پر استدلال کرنا درست ہوگیا جس میں ایجاب صدقہ کے متعلق اختلاف رائے ہے مثلاً اموال تجارت وغیرہ۔- جو لوگ عروض یعنی مال اسباب پر زکوٰۃ کی نفی کرتے ہیں۔ ظاہر آیت سے ان کے خلاف استدلال کیا جاسکتا ہے نیز گھوڑوں پر زکوٰۃ کے وجوب کے سلسلے میں بھی آیت سے استدلال کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ہر وہ مال جس میں وجوب زکوٰۃ کے متعلق اختلاف رائے ہو آیت سے وجوب کے حق …

Al-Baqara 2:267Listen in Qur'an →
268

ٱلشَّيْطَٰنُ يَعِدُكُمُ ٱلْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِٱلْفَحْشَآءِ ۖ وَٱللَّهُ يَعِدُكُم مَّغْفِرَةًۭ مِّنْهُ وَفَضْلًۭا ۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌۭ

(اور دیکھنا) شیطان (کا کہنا نہ ماننا وہ) تمہیں تنگ دستی کا خوف دلاتا اور بےحیائی کے کام کر نے کو کہتا ہے۔ اور خدا تم سے اپنی بخشش اور رحمت کا وعدہ کرتا ہے۔ اور خدا بڑی کشائش والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے

قول باری ہے (الشیطان یعدکم الفقر ویامرکم بالفحشاء، ( ) شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور شرمناک طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے) اس کے متعلق ایک قول ہے کہ لفظ فحشاء، ( ) کا اطلاق کئی معانی پر ہوتا ہے لیکن اس جگہ اس سے مراد بخل ہے۔ عرب کے لوگ بخیل کو ’ فاحش ‘ ( ) اور بخل کو ’ فحش ‘ ( ) کہتے ہیں۔ ایک شاعر کا شعر ہے۔- ادی الموت یعتام الکرام ویصطفی عقیلۃ مال الفاحش المتشدد ( ) - میں موت کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ عمدہ صفات کے حامل افراد کو چن لیتی ہے۔ یعنی انہیں جلد موت آجاتی ہے جس طرح کہ سخت قسم کے بخیل انسان کے مال مویشی میں سے عمدہ جانور چن لئے جائیں۔ یہاں شاعر نے الفاحش کو بخیل کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ اس آیت میں بخیل اور بخل دونوں کی مذمت کی گئی ہے۔

Al-Baqara 2:268Listen in Qur'an →
269

يُؤْتِى ٱلْحِكْمَةَ مَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُؤْتَ ٱلْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِىَ خَيْرًۭا كَثِيرًۭا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ

وہ جس کو چاہتا ہے دانائی بخشتا ہے۔ اور جس کو دانائی ملی بےشک اس کو بڑی نعمت ملی۔ اور نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہیں

Explained together with ayah 268

Al-Baqara 2:269Listen in Qur'an →
270

وَمَآ أَنفَقْتُم مِّن نَّفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُم مِّن نَّذْرٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُهُۥ ۗ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ

اور تم (خدا کی راہ میں) جس طرح کا خرچ کرو یا کوئی نذر مانو خدا اس کو جانتا ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

Explained together with ayah 268

Al-Baqara 2:270Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.