قول باری ہے (لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی، ( ) دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے صحیح بات غلط بات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے) ۔ ضحاک، سدی اور سلیمان بن موسیٰ سے مروی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے اور اس کی ناسخ یہ آیت ہے (یآیھا النبی جاھد الکفار والمنافقین، ( ) اے نبی کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو) ۔- نیز یہ قول باری ہے (فاقتلوا المشرکین، ( ) مشرکین کو قتل کرو) حسن بصری اور قتادہ سے مروی ہے کہ یہ آیت اہل کتاب کے ساتھ خاص ہے جنہوں نے جزیہ ادا کرنا قبول کرلیا تھا۔ مشرکین عرب کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہے کیونکہ ان کے حق میں جزیہ قابل قبول نہیں ہے۔ ان کے لئے صرف ایک ہی راستہ تھا اسلام یا تلوار۔ ایک قول ہے کہ یہ آیت انصار کے ان بعض اولاد کے متعلق نازل ہوئی تھی جنہیں ان کے والدین نے اسلام لانے پر مجبور کیا تھا۔ حضرت ابن عباس (رض) اور سعید بن جبیر سے یہی روایت ہے۔- اس کی تشریح میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ ” جو شخص جنگ کے بعد اسلام لے آیا ہو اسے یہ نہ کہو کہ وہ زبردستی مسلمان ہوگیا ہے، اس لئے کہ جب وہ اسلام لانے پر رضامند ہوگیا اور درست طریقے سے اسلام لے آیا تو اب زبردستی کی صورت باقی نہ رہی۔- ابو بکر حصاص کہتے ہیں کہ قول باری (لا اکراہ فی الدین) ( ) کی خیر کی صورت میں امر ہے۔ اس میں اس کی گنجائش ہے کہ مشرکین کے ساتھ قتال کے حکم سے پہلے اس آیت کا نزول ہوا ہو۔ اس لئے اس کا حکم تمام کفار کو عام ہو۔ جس طرح کہ یہ قول باری ہے (اد فع بالتیھی احسن فاذا الذی بینک وبینہ عداوۃ کانہ ولی حمیم، ( ) آپ نیکی سے بدی کو ٹال دیا کیجئے تو پھر یہ ہوگا کہ جس شخص میں اور آپ میں عداوت ہے وہ ایسا ہوجائے گا جیسا کوئی دلی دوست ہوتا ہے۔ - اسی طرح یہ قول باری ہے (ادفع بالتیھی احسن السیئۃ، ( ) آپ نیکی سے بدی کو ٹال دیا کیجئے) نیز قول باری ہے (وجادلھم بالتیھی احسن، ( ) آپ ان کا مقابلہ نیکی سے کیجئے) اسی طرح قول باری ہے (واذا خاطبھم الجاھلون قالوا سلاماً ۔ ( ) اور جب ان سے جہالت والے لوگ بات چیت کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں خیر) ۔- ابتدائے اسلام میں قتال کی ممانعت تھی حتیٰ کہ مخالفین کے سامنے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی صحت کی حجت قائم ہوگئی لیکن جب حجت تام ہونے اور معاملہ واضح ہوجانے کے بعد بھی مخالفین نے معاندانہ رویہ اپنائے رکھا تو مسلمانوں کو تلوار اٹھانے کا حکم ملا گیا۔ اس لئے زیر بحث آیت میں مندرج حکم مشرکین عرب کے حق میں قول باری (واقلتوا المشرکین حیث وجدتموھم، ( ) اور مشرکین کو تم جہاں کہیں بھی پائو قتل کردو) کی بنا پر منسوخ ہوگیا۔- البتہ اہل کتاب کے حق میں آیت کا حکم باقی رہا۔ بشرطیکہ وہ جزیہ کی ادائیگی تسلیم کرلیں اور اہل اسلام کے حکم اور ان کی ذمہ داری میں داخل ہوجائیں۔ اس پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین عرب سے اسلام یا تلوار کے سوا اور کوئی بات قبول نہیں کی۔ اس آیت میں یہ بھی جائز ہے کہ اس کا حکم فی الحال تمام کافروں کے لئے ثابت ہو۔ اس لئے کہ اگر کوئی بھی مشرک یہودی یا عیسائی ہوجائے تو اسے اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا بلکہ ہم اسے جزیہ کے بدلے اس کے دین پر باقی رہنے دیں گے۔- اب اگر آیت کا حکم ان تمام مشرکین کے لئے ثابت ہے جنہوں نے اہل کتاب کا دین اختیار کرلیا ہو تو پھر آیت امام شافعی کے قول کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ ان کا قول ہے مجوس یا نصاریٰ میں سے جو شخص یہودیت اختیار کرے گا اسے اپنے دین کی طرف لوٹ جانے یا اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ آیت بہرحال اس قول کے بطلان پر دلالت کررہی ہے کیونکہ اس میں یہ حکم ہے کہ ہم کسی کو دین کے معاملے میں مجبور نہ کریں۔ اس حکم میں جو عموم ہے اسے تمام کفار کے حق میں اس طرح استعمال کرنا ممکن ہے جو ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں۔- اگر کوئی شخص یہ سوال …