Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 251–260 of 286

251

فَهَزَمُوهُم بِإِذْنِ ٱللَّهِ وَقَتَلَ دَاوُۥدُ جَالُوتَ وَءَاتَىٰهُ ٱللَّهُ ٱلْمُلْكَ وَٱلْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُۥ مِمَّا يَشَآءُ ۗ وَلَوْلَا دَفْعُ ٱللَّهِ ٱلنَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍۢ لَّفَسَدَتِ ٱلْأَرْضُ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ

تو طالوت کی فوج نے خدا کے حکم سے ان کو ہزیمت دی۔ اور داؤد نے جالوت کو قتل کر ڈالا۔ اور خدا نے اس کو بادشاہی اور دانائی بخشی اور جو کچھ چاہا سکھایا۔ اور خدا لوگوں کو ایک دوسرے (پر چڑھائی اور حملہ کرنے) سے ہٹاتا نہ رہتا تو ملک تباہ ہوجاتا لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہربان ہے

Explained together with ayah 249

Al-Baqara 2:251Listen in Qur'an →
252

تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِٱلْحَقِّ ۚ وَإِنَّكَ لَمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں (اور اے محمدﷺ) تم بلاشبہ پیغمبروں میں سے ہو

Explained together with ayah 249

Al-Baqara 2:252Listen in Qur'an →
253

۞ تِلْكَ ٱلرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ ۘ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ ٱللَّهُ ۖ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَٰتٍۢ ۚ وَءَاتَيْنَا عِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ٱلْبَيِّنَٰتِ وَأَيَّدْنَٰهُ بِرُوحِ ٱلْقُدُسِ ۗ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقْتَتَلَ ٱلَّذِينَ مِنۢ بَعْدِهِم مِّنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ ٱلْبَيِّنَٰتُ وَلَٰكِنِ ٱخْتَلَفُوا۟ فَمِنْهُم مَّنْ ءَامَنَ وَمِنْهُم مَّن كَفَرَ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقْتَتَلُوا۟ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ

یہ پیغمبر (جو ہم وقتاً فوقتاً بھیجتے رہیں ہیں) ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ بعض ایسے ہیں جن سے خدا نے گفتگو فرمائی اور بعض کے (دوسرے امور میں) مرتبے بلند کئے۔ اور عیسیٰ بن مریم کو ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں عطا کیں اور روح القدس سے ان کو مدد دی۔ اور اگر خداچاہتا تو ان سے پچھلے لوگ اپنے پاس کھلی نشانیاں آنے کے بعد آپس میں نہ لڑتے لیکن انہوں نے اختلاف کیا تو ان میں سے بعض تو ایمان لے آئے اور بعض کافر ہی رہے۔ اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ باہم جنگ و قتال نہ کرتے۔ لیکن خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

Explained together with ayah 249

Al-Baqara 2:253Listen in Qur'an →
254

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنفِقُوا۟ مِمَّا رَزَقْنَٰكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌۭ لَّا بَيْعٌۭ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌۭ وَلَا شَفَٰعَةٌۭ ۗ وَٱلْكَٰفِرُونَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ

اے ایمان والو جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے پہلے خرچ کرلو جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہو اور نہ دوستی اور سفارش ہو سکے اور کفر کرنے والے لوگ ظالم ہیں

Explained together with ayah 249

Al-Baqara 2:254Listen in Qur'an →
255

ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلْحَىُّ ٱلْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُۥ سِنَةٌۭ وَلَا نَوْمٌۭ ۚ لَّهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ مَن ذَا ٱلَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذْنِهِۦ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَىْءٍۢ مِّنْ عِلْمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ ۖ وَلَا يَـُٔودُهُۥ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ ٱلْعَلِىُّ ٱلْعَظِيمُ

خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں زندہ ہمیشہ رہنے والا اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہیں سب اسی کا ہے کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کر سکے جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کر سکتے ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے (اسی قدر معلوم کرا دیتا ہے) اس کی بادشاہی (اور علم) آسمان اور زمین سب پر حاوی ہے اور اسے ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں وہ بڑا عالی رتبہ اور جلیل القدر ہے

Explained together with ayah 249

Al-Baqara 2:255Listen in Qur'an →
256

لَآ إِكْرَاهَ فِى ٱلدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ ٱلرُّشْدُ مِنَ ٱلْغَىِّ ۚ فَمَن يَكْفُرْ بِٱلطَّٰغُوتِ وَيُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُرْوَةِ ٱلْوُثْقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَا ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے ہدایت (صاف طور پر ظاہر اور) گمراہی سے الگ ہو چکی ہے تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور خدا پر ایمان لائے اس نے ایسی مضبوط رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں اور خدا (سب کچھ) سنتا اور (سب کچھ) جانتا ہے

قول باری ہے (لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی، ( ) دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے صحیح بات غلط بات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے) ۔ ضحاک، سدی اور سلیمان بن موسیٰ سے مروی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے اور اس کی ناسخ یہ آیت ہے (یآیھا النبی جاھد الکفار والمنافقین، ( ) اے نبی کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو) ۔- نیز یہ قول باری ہے (فاقتلوا المشرکین، ( ) مشرکین کو قتل کرو) حسن بصری اور قتادہ سے مروی ہے کہ یہ آیت اہل کتاب کے ساتھ خاص ہے جنہوں نے جزیہ ادا کرنا قبول کرلیا تھا۔ مشرکین عرب کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہے کیونکہ ان کے حق میں جزیہ قابل قبول نہیں ہے۔ ان کے لئے صرف ایک ہی راستہ تھا اسلام یا تلوار۔ ایک قول ہے کہ یہ آیت انصار کے ان بعض اولاد کے متعلق نازل ہوئی تھی جنہیں ان کے والدین نے اسلام لانے پر مجبور کیا تھا۔ حضرت ابن عباس (رض) اور سعید بن جبیر سے یہی روایت ہے۔- اس کی تشریح میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ ” جو شخص جنگ کے بعد اسلام لے آیا ہو اسے یہ نہ کہو کہ وہ زبردستی مسلمان ہوگیا ہے، اس لئے کہ جب وہ اسلام لانے پر رضامند ہوگیا اور درست طریقے سے اسلام لے آیا تو اب زبردستی کی صورت باقی نہ رہی۔- ابو بکر حصاص کہتے ہیں کہ قول باری (لا اکراہ فی الدین) ( ) کی خیر کی صورت میں امر ہے۔ اس میں اس کی گنجائش ہے کہ مشرکین کے ساتھ قتال کے حکم سے پہلے اس آیت کا نزول ہوا ہو۔ اس لئے اس کا حکم تمام کفار کو عام ہو۔ جس طرح کہ یہ قول باری ہے (اد فع بالتیھی احسن فاذا الذی بینک وبینہ عداوۃ کانہ ولی حمیم، ( ) آپ نیکی سے بدی کو ٹال دیا کیجئے تو پھر یہ ہوگا کہ جس شخص میں اور آپ میں عداوت ہے وہ ایسا ہوجائے گا جیسا کوئی دلی دوست ہوتا ہے۔ - اسی طرح یہ قول باری ہے (ادفع بالتیھی احسن السیئۃ، ( ) آپ نیکی سے بدی کو ٹال دیا کیجئے) نیز قول باری ہے (وجادلھم بالتیھی احسن، ( ) آپ ان کا مقابلہ نیکی سے کیجئے) اسی طرح قول باری ہے (واذا خاطبھم الجاھلون قالوا سلاماً ۔ ( ) اور جب ان سے جہالت والے لوگ بات چیت کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں خیر) ۔- ابتدائے اسلام میں قتال کی ممانعت تھی حتیٰ کہ مخالفین کے سامنے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی صحت کی حجت قائم ہوگئی لیکن جب حجت تام ہونے اور معاملہ واضح ہوجانے کے بعد بھی مخالفین نے معاندانہ رویہ اپنائے رکھا تو مسلمانوں کو تلوار اٹھانے کا حکم ملا گیا۔ اس لئے زیر بحث آیت میں مندرج حکم مشرکین عرب کے حق میں قول باری (واقلتوا المشرکین حیث وجدتموھم، ( ) اور مشرکین کو تم جہاں کہیں بھی پائو قتل کردو) کی بنا پر منسوخ ہوگیا۔- البتہ اہل کتاب کے حق میں آیت کا حکم باقی رہا۔ بشرطیکہ وہ جزیہ کی ادائیگی تسلیم کرلیں اور اہل اسلام کے حکم اور ان کی ذمہ داری میں داخل ہوجائیں۔ اس پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین عرب سے اسلام یا تلوار کے سوا اور کوئی بات قبول نہیں کی۔ اس آیت میں یہ بھی جائز ہے کہ اس کا حکم فی الحال تمام کافروں کے لئے ثابت ہو۔ اس لئے کہ اگر کوئی بھی مشرک یہودی یا عیسائی ہوجائے تو اسے اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا بلکہ ہم اسے جزیہ کے بدلے اس کے دین پر باقی رہنے دیں گے۔- اب اگر آیت کا حکم ان تمام مشرکین کے لئے ثابت ہے جنہوں نے اہل کتاب کا دین اختیار کرلیا ہو تو پھر آیت امام شافعی کے قول کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ ان کا قول ہے مجوس یا نصاریٰ میں سے جو شخص یہودیت اختیار کرے گا اسے اپنے دین کی طرف لوٹ جانے یا اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ آیت بہرحال اس قول کے بطلان پر دلالت کررہی ہے کیونکہ اس میں یہ حکم ہے کہ ہم کسی کو دین کے معاملے میں مجبور نہ کریں۔ اس حکم میں جو عموم ہے اسے تمام کفار کے حق میں اس طرح استعمال کرنا ممکن ہے جو ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں۔- اگر کوئی شخص یہ سوال …

Al-Baqara 2:256Listen in Qur'an →
257

ٱللَّهُ وَلِىُّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ يُخْرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ ۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَوْلِيَآؤُهُمُ ٱلطَّٰغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ ٱلنُّورِ إِلَى ٱلظُّلُمَٰتِ ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست خدا ہے کہ اُن کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں یہی لوگ اہل دوزخ ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

Explained together with ayah 256

Al-Baqara 2:257Listen in Qur'an →
258

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِى حَآجَّ إِبْرَٰهِۦمَ فِى رَبِّهِۦٓ أَنْ ءَاتَىٰهُ ٱللَّهُ ٱلْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَٰهِۦمُ رَبِّىَ ٱلَّذِى يُحْىِۦ وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا۠ أُحْىِۦ وَأُمِيتُ ۖ قَالَ إِبْرَٰهِۦمُ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَأْتِى بِٱلشَّمْسِ مِنَ ٱلْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ ٱلْمَغْرِبِ فَبُهِتَ ٱلَّذِى كَفَرَ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ

بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس (غرور کے) سبب سے کہ خدا نے اس کو سلطنت بخشی تھی ابراہیم سے پروردگار کے بارے میں جھگڑنے لگا۔ جب ابراہیم نے کہا میرا پروردگار تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے۔ وہ بولا کہ جلا اور مار تو میں بھی سکتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے آپ اسے مغرب سے نکال دیجیئے (یہ سن کر) کافر حیران رہ گیا اور خدا بےانصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

Explained together with ayah 256

Al-Baqara 2:258Listen in Qur'an →
259

أَوْ كَٱلَّذِى مَرَّ عَلَىٰ قَرْيَةٍۢ وَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىٰ يُحْىِۦ هَٰذِهِ ٱللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ۖ فَأَمَاتَهُ ٱللَّهُ مِا۟ئَةَ عَامٍۢ ثُمَّ بَعَثَهُۥ ۖ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ ۖ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍۢ ۖ قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِا۟ئَةَ عَامٍۢ فَٱنظُرْ إِلَىٰ طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ ۖ وَٱنظُرْ إِلَىٰ حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ ءَايَةًۭ لِّلنَّاسِ ۖ وَٱنظُرْ إِلَى ٱلْعِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًۭا ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُۥ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جسے ایک گاؤں میں جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا اتفاق گزر ہوا۔ تو اس نے کہا کہ خدا اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا۔ تو خدا نے اس کی روح قبض کرلی (اور) سو برس تک (اس کو مردہ رکھا) پھر اس کو جلا اٹھایا اور پوچھا تم کتنا عرصہ (مرے) رہے ہو اس نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ خدا نے فرمایا (نہیں) بلکہ سو برس (مرے) رہے ہو۔ اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ (اتنی مدت میں مطلق) سڑی بسی نہیں اور اپنے گدھے کو بھی دیکھو (جو مرا پڑا ہے) غرض (ان باتوں سے) یہ ہے کہ ہم تم کو لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنائیں اور (ہاں گدھے) کی ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم ان کو کیونکر جوڑے دیتے اور ان پر (کس طرح) گوشت پوست چڑھا دیتے ہیں۔ جب یہ واقعات اس کے مشاہدے میں آئے تو بول اٹھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے

قول باری ہے (قال لبثت یوماً او بعض یوم قال بل لبثت مائۃ عام، ( ) اس نے کہا میں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ گزارا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمای تو نے یہاں ایک سو برس گزارے ہیں) اس قائل کا قول کذب بیانی نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے تو اسے ایک سو برسوں تک موت کی حالت میں رکھا تھا، اس نے اپنے خیال کے مطابق یہ کہا تھا گویا اس نے یوں کہا تھا کہ ” میرے خیال میں میں ایک دن یا دن کا بعض حصہ گزارا ہوں۔ “ اس کی نظیر اصحاب کہف کی زبان سے ادا ہونے والا فقرہ ہے جس کی حکایت اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں کی ہے (قال قائل منھم کم لبثتم قالوا لبثنا یوماً او بعض یوم) ( ) حالانکہ انہوں نے تین سو نو سال گزارے تھے، انہوں نے اپنے خیال کے مطابق جو بات کہی تھی اس میں انہیں کاذب قرار نہیں دیا جاسکتا گویا انہوں نے یوں کہا تھا۔ ” ہمارے خیال میں ہم نے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ گزارا ہے۔ اس کی نظیر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وہ قول ہے جو آپ نے اس وقت فرمایا تھا جب چار رکعتوں والی ایک فرض نماز کی آپ نے دو رکعتیں ادا کیں اور اس پر ایک صحابی ذوالیدین (رض) نے عرض کیا تھا کہ آیا نماز مختصر کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا (لم تقصرولم انس، ( ) نہ نماز مختصر ہوئی اور نہ ہی میں بھولا ہوں) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اس قول میں سچے تھے کیونکہ آپ نے اس بات کی اطلاع دی تھی جو آپ کے اپنے ظن اور گمان کے مطابق تھا۔ آپ کے گمان میں یہ تھا کہ آپ نے نماز پوری ادا کی ہے۔- کلام کے اندر اس بات کی گنجائش ہوتی ہے کہ جب کوئی شخص اپنے ظن و تخمین کے مطابق کسی بات کی اطلاع دے تو وہ قابل گرفت نہیں ہوتی۔ البتہ حقیقت نفس الامری کے متعلق اطلاع نہ دے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے لغو قسم کھانے والے کو درگذر کردیا ہے اور روایت کے مطابق اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی سے پوچھے کہ آیا فلاں بات یا فلاں واقعہ پیش آیا ہے ؟ جس کے جواب میں وہ شخص اپنے خیال کے مطابق کہے کہ ” نہیں بخدا نہیں “ یا یوں کہے کہ ” بخدا کیوں نہیں “ اگرچہ حقیقت نفس الامری اس کے خلاف ہو۔ اس شخص کی گرفت نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے قسم کھاکر جو جواب دیا تھا وہ اس کے عقیدے اور ضمیر کے مطابق تھا۔ واللہ الموفق۔

Al-Baqara 2:259Listen in Qur'an →
260

وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِۦمُ رَبِّ أَرِنِى كَيْفَ تُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ ۖ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن ۖ قَالَ بَلَىٰ وَلَٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِى ۖ قَالَ فَخُذْ أَرْبَعَةًۭ مِّنَ ٱلطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ ٱجْعَلْ عَلَىٰ كُلِّ جَبَلٍۢ مِّنْهُنَّ جُزْءًۭا ثُمَّ ٱدْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًۭا ۚ وَٱعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

اور جب ابراہیم نے (خدا سے) کہا کہ اے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا۔ خدا نے فرمایا کیا تم نے (اس بات کو) باور نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ لیکن (میں دیکھنا) اس لئے (چاہتا ہوں) کہ میرا دل اطمینان کامل حاصل کرلے۔ خدا نے فرمایا کہ چار جانور پکڑوا کر اپنے پاس منگا لو (اور ٹکڑے ٹکڑے کرادو) پھر ان کا ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھوا دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑتے چلے آئیں گے۔ اور جان رکھو کہ خدا غالب اور صاحب حکمت ہے۔

Explained together with ayah 259

Al-Baqara 2:260Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.