Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 241–250 of 286

241

وَلِلْمُطَلَّقَٰتِ مَتَٰعٌۢ بِٱلْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى ٱلْمُتَّقِينَ

اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق نان و نفقہ دینا چاہیئے پرہیزگاروں پر (یہ بھی) حق ہے

Explained together with ayah 239

Al-Baqara 2:241Listen in Qur'an →
242

كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمْ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ

اسی طرح خدا اپنے احکام تمہارے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

Explained together with ayah 239

Al-Baqara 2:242Listen in Qur'an →
243

۞ أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ خَرَجُوا۟ مِن دِيَٰرِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ ٱلْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ ٱللَّهُ مُوتُوا۟ ثُمَّ أَحْيَٰهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو (شمار میں) ہزاروں ہی تھے اور موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے۔ تو خدا نے ان کو حکم دیا کہ مرجاؤ۔ پھر ان کو زندہ بھی کردیا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا لوگوں پر مہربانی رکھتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

طاعون سے بھاگ نکلنے کا بیان - قول باری ہے (الم تر الی الذین خرجوا من دیارھم وھم الوف حذر الموت فقال لھم اللہ موتوا ثم احیاھم، ( ) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے گھروں سے موت کے خوف سے نکل پڑے حالانکہ ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا جائو۔ پھر انہیں زندہ کردیا) ۔- حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ ان کی تعداد چار ہزار تھی اور یہ لوگ طاعون سے بھاگ نکلنے کے لئے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے پھر سب کے سب مرگئے۔ ان پر اللہ کے ایک نبی کا گذر ہوا۔ انہوں نے اللہ سے انہیں انہیں زندہ کردینے کی دعا کی ، اللہ نے انہیں زندہ کردیا۔ حسن بصری سے بھی منقول ہے کہ یہ لوگ طاعون سے بھاگ نکلے تھے۔ عکرمہ کا قول ہیح کہ یہ لوگ جنگ سے بھاگے تھے۔ یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طاعون سے ان کے بھاگ نکلنے کو ناپسند فرمایا تھا۔- اس کی نظیر یہ قول باری ہے (اینما تکونوا یدرککم الموت ولوکنتم فی بروج مشیدۃ ( ) تم جہاں کبھی ہوگے موت تمہیں آلے گی خواہ تم مضبوط برجوں میں ہی کیوں نہ ہو) اسی طرح قول باری ہے (قل ان الموت الذی تفرون منہ فانہ ملاقیکم، ( ) آپ کہہ دیجئے کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ ضرور ت میں آملے گی) ۔- اسی طرح قول باری ہے (قل لن ینفعکم الفرار ان فرر تم من الموت او لقتل، ( ) آپ کہہ دیجئے کہ فرار سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا اگر موت یہ قتل سے فرار اختیار کروگے) نیز ارشاد ربانی ہے (فاذا جآء اجلھم لایتاخرون ساعۃ ولا یستقدمون، ( ) پس جس وقت ان کی اجل آجائے گی تو نہ وہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے) ۔- جب انسانوں کے اجال موقت اور محصور ہیں کہ ان میں تقدیم و تاخیر کا کوئی امکان نہیں۔ جس کی جو اجل اللہ نے مقرر کردی ہے وہ آگے پیچھے نہیں ہوسکی۔ اب طاعون کے مقام سے جان بچانے کی خاطر بھاگ نکلنا اور اصل اس قانون خداوندی سے روگردانی کے مترادف ہے۔ بدفالی، شگون کی خاطر پرندہ اڑانے اور ستاروں کی چال پر یقین کرنے کا بھی یہی حکم ہے۔- یہ سب صورتیں دراصل اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے فرار کی شکلیں ہیں حالانکہ کسی کو اس کی قضاء و قدر سے نکلنے کا یارا نہیں ہوتا، عمرو بن جابر الحضرمی سے روایت ہے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (الفرار من الطاعون کالفرار من الزحف والصابر فیہ کالصابر فی الزحف، ( ) طاعون کے مقام سے بھاگنا اسی طرح گناہ کی بات ہے جس طرح میدان جنگ اور لشکر اسلام سے فرار ہونا اور طاعون کی وبا میں صبر کرکے اپنی جگہ مقیم انسان میدان جنگ میں ڈٹ جانے والے انسان کی طرح ہے) ۔- یحییٰ بن کثیر نے سعید بن المسیب سے، انہوں نے حضرت سعد (رض) سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ (لاعدویٰ وادطیرۃ وان تکن الطیرۃ فی شیء فھی فی الفرس ولمرأۃ والدار واذا سمعتم یالطاعون بارض و لستم بھا فلاتھیلوا علیہ واذا کان وانتم بھا فلا تخرجوانوارا عنہ ( ) چھوت اور بدفالی کی کوئی حیثیت نہیں۔ اگر کسی چیز میں بدشگونی ہوتی تو گھوڑے، عورت یا گھر میں ہوتی۔ اگر تمہیں کسی علاقے میں طاعون پھوٹ پڑنے کی خبر ملے اور تم اس علاقے کے اندر نہ ہو تو وہاں نہ جائو اور اگر کسی جگہ تمہارے ہوتے ہوئے یہ بیماری پھیل جائے تو اس سے بھاگنے کی خاطر وہاں سے نہ نکلو) ۔- حضرت ابامہ بن زید (رض) کے واسطیح سے طاعون کے متعلق حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی قسم کی حدیث مروی ہے۔ زہری نے عبدالحمید بن عبدالرحمن سے ہے، انہوں نے عبداللہ بن حارث بن عبداللہ بن نوفل سے، انہوںں نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر (رض) سرزمین شام کی طرف گئے جب مقام سرغ میں پہنچے تو تاجروں نے اطلاع کردی کہ وبائی بیماری پھیلی ہوئی ہے۔- آپ نے مہاجرین و انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کیا …

Al-Baqara 2:243Listen in Qur'an →
244

وَقَٰتِلُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ

اور (مسلمانو) خدا کی راہ میں جہاد کرو اور جان رکھو کہ خدا (سب کچھ) جانتا ہے

قول باری ہے (وقاتلوا فی سبیل اللہ واعلموٓا ان اللہ سمیع علیم۔ ( ) اور اللہ کے راستے میں قتال کرو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سننے والا جاننے والا ہے) اس آیت میں اللہ کے راستے میں قتال کا حکم ہے لیکن یہ حکم مجمل ہے کیونکہ اس میں اس سبیل کا ذکر نہیں ہے جس کے ذریعے قتال کیا جائے۔ البتہ دوسرے مواقع میں اس کا ذکر ہے۔ ہم جب ان مواقع میں پہنچیں گے تو انشاء اللہ تفصیل سے گفتگو کریں گے۔

Al-Baqara 2:244Listen in Qur'an →
245

مَّن ذَا ٱلَّذِى يُقْرِضُ ٱللَّهَ قَرْضًا حَسَنًۭا فَيُضَٰعِفَهُۥ لَهُۥٓ أَضْعَافًۭا كَثِيرَةًۭ ۚ وَٱللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْصُۜطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

کوئی ہے کہ خدا کو قرض حسنہ دے کہ وہ اس کے بدلے اس کو کئی حصے زیادہ دے گا۔ اور خدا ہی روزی کو تنگ کرتا اور (وہی اسے) کشادہ کرتا ہے۔ اور تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

قول باری ہے (من ذا الذین یقرض اللہ قرضاً حسناً فیضاعفہ لہ اضعافاً کثیرۃ، ( ) کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے کہ پھر اللہ اسے اس کے لئے کئی گنا کردے) آیت میں لطیف ترین کلام اور بلیغ ترین پیرایہ بیان کے ذریعے نیکی کے کاموں اور بھلائی کی راہوں میں اتفاق کی دعوت دی گئی ہے۔ اسے قرض نام دیا تاکہ نیکی کے کاموں پر ثواب کے استحقاق کی تاکید ہوجائے۔ کیونکہ قرض کا لازمی طورپر عوض ہوت ہے جس کا قرض دینے والا مستحق ہوتا ہے۔- یہود کو اس لطیف نکتے کی خبر نہ ہوسکی یا انہوں نے جان بوجھ کر جاہل بننے کی کوشش کی چناچہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے قرض مانگ رہا ہے گویا ہم دولتمند ہیں اور وہ (نعوذ باللہ) ہمارا محتاج ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (لقد سمع اللہ قول الذین قالوا ان اللہ فقیر ونحن اغنیاء، ( ) بیشک اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بات سن لی ہے جنہوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور ہم مال دار ہیں) ۔- لیکن دوسری طرف اہل اسلام نے اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لیا اور انہیں اللہ کی طرف سے دیئے جانے والے ثواب اور کئے جانے والے وعدے کا پورا وثوق ہوگیا جس کے نتیجے میں وہ صدقات و خیرات میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں کوشاں ہوگئے۔ روایت ہے کہ آپ پر جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابوال حد (رض) اح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو کچھ عطا کیا ہے اس میں سے قرض مانگ رہا ہے اور میرے پاس دو زمینیں ہیں ایک اوپر کی طرف یعنی عالیہ میں اور دوسری نیچے کی جانب یعنی سافلہ میں۔ اب میں اس میں سے بہتر زمین کو اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں۔

Al-Baqara 2:245Listen in Qur'an →
246

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلْمَلَإِ مِنۢ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ مِنۢ بَعْدِ مُوسَىٰٓ إِذْ قَالُوا۟ لِنَبِىٍّۢ لَّهُمُ ٱبْعَثْ لَنَا مَلِكًۭا نُّقَٰتِلْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۖ قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِن كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلْقِتَالُ أَلَّا تُقَٰتِلُوا۟ ۖ قَالُوا۟ وَمَا لَنَآ أَلَّا نُقَٰتِلَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِن دِيَٰرِنَا وَأَبْنَآئِنَا ۖ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ ٱلْقِتَالُ تَوَلَّوْا۟ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّنْهُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِٱلظَّٰلِمِينَ

بھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا جس نے موسیٰ کے بعد اپنے پیغمبر سے کہا کہ آپ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیں تاکہ ہم خدا کی راہ میں جہاد کریں۔ پیغمبر نے کہا کہ اگر تم کو جہاد کا حکم دیا جائے تو عجب نہیں کہ لڑنے سے پہلو تہی کرو۔ وہ کہنے لگے کہ ہم راہ خدا میں کیوں نہ لڑیں گے جب کہ ہم وطن سے (خارج) اور بال بچوں سے جدا کردیئے گئے۔ لیکن جب ان کو جہاد کا حکم دیا گیا تو چند اشخاص کے سوا سب پھر گئے۔ اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے

Explained together with ayah 245

Al-Baqara 2:246Listen in Qur'an →
247

وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ ٱللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًۭا ۚ قَالُوٓا۟ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ ٱلْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِٱلْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةًۭ مِّنَ ٱلْمَالِ ۚ قَالَ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصْطَفَىٰهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُۥ بَسْطَةًۭ فِى ٱلْعِلْمِ وَٱلْجِسْمِ ۖ وَٱللَّهُ يُؤْتِى مُلْكَهُۥ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌۭ

اور پیغمبر نے ان سے (یہ بھی) کہا کہ خدا نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے۔ وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہوسکتا ہےبادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں۔ پیغمبر نے کہا کہ خدا نےاس کو تم پر فضیلت دی ہے اور (بادشاہی کے لئے) منتخب فرمایا ہے اس نے اسے علم بھی بہت سا بخشا ہے اور تن و توش بھی (بڑا عطا کیا ہے) اور خدا (کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے۔ وہ بڑا کشائش والا اور دانا ہے

قول باری ہے (ان اللہ قد بعث لکم طالوت ملکا قالوا انی یکون لہ الملک علینا، ( ) بیشک اللہ تعالیٰ نے تم پر طالوت کو بادشاہ بناکر بھیجا ہے۔ کہنے لگے کہ ہم پر اسے کس طرح حکومت حاصل ہوسکتی ہے) آیت اس پر دلالت کررہی ہے کہ امامت میں وراثت نہیں ہے کیونکہ جب یہود نے اپنے اوپر ایسے شخص کو بادشاہ بنائے جانے کو ناپسند کیا جو اہل نبوت اور سلطنت میں سے نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ طالوت علم اور قوت کی بنا پر اس اعزاز کے مستحق ٹھہرے ہیں نسب کی بنا پر نہیں۔- نیز آیت کی اس پر بھی دلالت ہورہی ہے کہ علم اور ذاتی فضائل کے مقابلے میں نسب کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور یہ خوبیاں نسب پر مقدم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ اس نے طالوت کا انتخاب ان کے علم اور قوت کی بنا پر کیا ہے اگرچہ دوسرے یہود ان سے نسب کے لحاظ سے افضل تھے۔- یہاں جسم کا ذکر دراصل طالوت کی جسمانی قوت اور طاقت کی زیادتی سے عبارت ہے کیونکہ عادۃً جس شخص کے جسم میں پھیلائو زیادہ ہوتا ہے اس کی طاقت و قوت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں موٹاپا مراد نہیں کہ جس میں قوت و طاقت کا فقدان ہو اس لئے کہ جنگ کے اندر ایسے جسم کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہوتی بلکہ یہوبال جان ہوتا ہے جبکہ یہ اعلیٰ قوت کا مالک نہ ہو۔

Al-Baqara 2:247Listen in Qur'an →
248

وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ ءَايَةَ مُلْكِهِۦٓ أَن يَأْتِيَكُمُ ٱلتَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌۭ مِّمَّا تَرَكَ ءَالُ مُوسَىٰ وَءَالُ هَٰرُونَ تَحْمِلُهُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے

Explained together with ayah 247

Al-Baqara 2:248Listen in Qur'an →
249

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِٱلْجُنُودِ قَالَ إِنَّ ٱللَّهَ مُبْتَلِيكُم بِنَهَرٍۢ فَمَن شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّى وَمَن لَّمْ يَطْعَمْهُ فَإِنَّهُۥ مِنِّىٓ إِلَّا مَنِ ٱغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِيَدِهِۦ ۚ فَشَرِبُوا۟ مِنْهُ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّنْهُمْ ۚ فَلَمَّا جَاوَزَهُۥ هُوَ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ قَالُوا۟ لَا طَاقَةَ لَنَا ٱلْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِهِۦ ۚ قَالَ ٱلَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَٰقُوا۟ ٱللَّهِ كَم مِّن فِئَةٍۢ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةًۭ كَثِيرَةًۢ بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ

غرض جب طالوت فوجیں لے کر روانہ ہوا تو اس نے (ان سے) کہا کہ خدا ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے۔ جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا (اس کی نسبت تصور کیا جائے گا کہ) وہ میرا نہیں۔ اور جو نہ پئے گا وہ (سمجھا جائے گا کہ) میرا ہے۔ ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلو بھر پانی پی لے (تو خیر۔ جب وہ لوگ نہر پر پہنچے) تو چند شخصوں کے سوا سب نے پانی پی لیا۔ پھر جب طالوت اور مومن لوگ جو اس کے ساتھ تھے نہر کے پار ہوگئے۔ تو کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ ان کو خدا کے روبرو حاضر ہونا ہے وہ کہنے لگے کہ بسااوقات تھوڑی سی جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور خدا استقلال رکھنے والوں کے ساتھ ہے

قول باری ہے (فمن شرب منہ فلیس منی ومن لم یطعمہ فانہ منی لا من اغترف غرفۃ بیدہ، ( ) جو اس کا پانی پئے گا وہ میرا ساتھی نہیں۔ میرا ساتھی صرف وہ ہے جو اس سے پیاس نہ بجھائے۔ ہاں ایک آدھ کلو کوئی پی لے تو پی لے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دریا سے پینے سے مراد منہ لگاکر اور اپنے ہونٹ پانی پر رکھ کر پنا ہے۔ اس لئے کہ آیت میں دریا سے پینے اور پیاس بجھانے کی ممانعت تھی۔ البتہ ایک آدھ چلو بھر لینے کی اجازت تھی۔- یہ تشریح امام ابوحنیفہ کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے۔ ” میں نے اگر دریائے فرات سے پانی پی لیا تو میرا غلام آزاد ہے۔ “ تو اسے منہ لگاکر پینے پر محمول کیا جائے گا۔ اگر اس نے چلو بھر کر یا کسی برتن میں ڈال کر دریا کا پانی پی لیا تو حانث نہیں ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آیت میں انہیں دریا سے پانی پینے کی ممانعت کردی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ پیاس بجھانے سے بھی انہیں روک دیا گیا تھا۔ لیکن اس سے چلو بھر لینے کو مستثنیٰ کردیا گیا تھا۔ اس لئے شرب یعنی پانی پینے کی ممانعت بحالہ باقی رہی اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ چلو بھر لینا شرب میں داخل نہیں ہے۔

Al-Baqara 2:249Listen in Qur'an →
250

وَلَمَّا بَرَزُوا۟ لِجَالُوتَ وَجُنُودِهِۦ قَالُوا۟ رَبَّنَآ أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًۭا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَٱنصُرْنَا عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل آئے تو (خدا سے) دعا کی کہ اے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں (لڑائی میں) ثابت قدم رکھ اور (لشکر) کفار پر فتحیاب کر

Explained together with ayah 249

Al-Baqara 2:250Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.