Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 231–240 of 286

231

وَإِذَا طَلَّقْتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍۢ ۚ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًۭا لِّتَعْتَدُوا۟ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُۥ ۚ وَلَا تَتَّخِذُوٓا۟ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ هُزُوًۭا ۚ وَٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمَآ أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ وَٱلْحِكْمَةِ يَعِظُكُم بِهِۦ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۭ

اور جب تم عورتوں کو (دو دفعہ) طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو انہیں یا تو حسن سلوک سے نکاح میں رہنے دو یا بطریق شائستہ رخصت کردو اور اس نیت سے ان کو نکاح میں نہ رہنے دینا چاہئے کہ انہیں تکلیف دو اور ان پر زیادتی کرو۔ اور جو ایسا کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور خدا کے احکام کو ہنسی (اور کھیل) نہ بناؤ اور خدا نے تم کو جو نعمتیں بخشی ہیں اور تم پر جو کتاب اور دانائی کی باتیں نازل کی ہیں جن سے وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے ان کو یاد کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھوکہ خدا ہر چیز سے واقف ہے

مطلقہ بیوی سے رجوع کرنے میں نقصان کا ارادہ نہ ہونا - قول باری ہے (و اذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او سرحوھن بمعروف، اور جب تم عورتوں کو طلاق دو پھر وہ اپنی عدت پوری کرلیں تو معروف طریقے سے روک لو یا معروف طریقے سے انہیں رخصت کر دو )- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قول باری (بلغن اجلھن) سے مراد حقیقت اجل نہیں جو عدت ہے بلکہ اس سے مراد اس کے خاتمے کے قریب پہنچ جانا ہے کیونکہ حقیقی معنی لینے کی صورت میں اجل کو پہنچ جانے کا مطلب عدت کا گزر جانا ہوگا جبکہ عدت کے گزر جانے کے بعد رجوع کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ عدت کو لفظ اجل سے متعدد مقامات پر تعبیر کیا گیا ہے۔ ان میں سے یہ قول باری (فاذا بلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او فارقوھن بمعروف) اس کا معنی بھی وہی ہے جو درج بالا آیت کا ہے۔ اسی طرح قول باری ہے (وا ولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن اور حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔ اسی طرح قول باری ہے (واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن اور جب عورتوں کو طلاق دے دو تو انہیں نہ روکو…) نیز فرمایا (ولا تعزموا عقدۃ النکاح حتیٰ یبلغ الکتاب اجلہ اور نکاح کی گرہ کو پختہ نہ کر وجب تک کہ عدت پوری نہ ہوجائے) ان تمام آیات میں جہاں جہاں لفظ اجل ذکر ہوا ہے اس سے مراد عدت ہے جب اللہ تعالیٰ نے اجل کا ذکر اپنے قول (فاذا بلغن اجلھن) میں بھی کیا ہے تو اس سے مراد اجل کا ختم ہوجانا نہیں بلکہ اس کا قرب الاختتام ہونا ہے۔ قرآن مجید اور محاورات میں اس کے بہت سے نظائر موجود ہیں چناچہ ارشاد باری ہے (اذا طلقتم النساء فطلقوھن بعدتھن) اس کا معنی ہے جب تم طلاق کا ارادہ کرو اور طلاق دینے کے قریب پہچ جائو تو عدت پر طلاق دو ۔- اسی طرح ارشاد باری ہے (فاذا اقرات القرآن فاستعذ باللہ جب تم قرآن کی تلاوت کرنے لگو تو استفادہ کرلو) اس کا معنی ہے کہ جب تم قرآن پڑھنے کا ارادہ کرو۔ اسی طرح قول باری ہے (واذا قلتم فاعدلوا۔ جب تم بات کرو تو انصاف کی بات کرو) اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ بات کرنے کے بعد عدل کرو بلکہ بات کرنے سے پہلے یہ عزم کرو کہ انصاف پر مبنی بات کے سوا اور کوئی بات نہیں کریں گے۔ اسی طرح زیر بحث آیت میں بلوغ اجل کا ذکر کر کے اس سے عدت کا قریب الاختتام ہونا مراد لیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے معروف طریقے سے بیوی کو روکے رکھنے کا حکم دیتے وقت عدت کے قریب الاختتام ونے کا ذکر کیا ہے حالانکہ معروف طریقے سے بیوی کو روکے رکھنا نکاح کے بقاء کے تمام احوال میں شوہر پر لازم ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ معروف طریقے سے امساک کے ذکر کے ساتھ تسریح یعنی بھلے طریقے سے رخصل کردینے کا بھی ذکر کیا ہے جس کا مفہوم عدت کا اختتام ہے۔ اور پھر دونوں کو امر کے تحت جمع کردیا ہے اور چونکہ تسریح کی صرف ایک حالت ہوتی ہے جو زیادہ عرصے تک باقی نہیں رہتی اس لئے بلوغ اجل یعنی عدت کے قریب الاختتام ہونے والی حالت کو اس کے ساتھ خاص کردیا تاکہ معروف یعنی بھلے طریقے کا تعلق دونوں معاملوں (امساک اور تسریح) کے ساتھ ہوجائے۔- قول باری (فامسکوھن بمعروف) سے مراد عدت گزرنے سے پہلے رجوع کرلینا ہے۔ یہی قول حضرت ابن عباس (رض) ، حسن بصری، مجاہد اور قتادہ سے مروی ہے۔ اب رہا قول باری (او سرحومن بمعروف) تو اس کا معنی یہ ہے کہ طلاق دینے کے بعد اسے چھوڑے رکھے یہاں تک کہ اس کی عدت گزر جائے۔ اللہ تعالیٰ نے امساک بالمعروف کو مباح کردیا جس کا مفہوم یہ ہے کہ شوہر اس کے ضروری حقوق ادا کرے جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا، نیز بھلے طریقے سے تسریح کو بھی مباح کردیا جس کا مفہوم یہ ہے کہ رجوع کے ذریعے اس کی عدت کی مدت کو طویل تر کر کے اسے نقصان پہنچانے کا ارادہ نہ کرے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے (او سرحوھن) کے ذکر کے فوراً بعد (ولا تمسکوھن ضرارا) کے ذکر سے بیان فرمائی ہے۔ اس میں اس تاویل کی بھی گنجائش ہے کہ معروف طریقے سے رخصل کردینے کی شکل یہ ہو تو اسے …

Al-Baqara 2:231Listen in Qur'an →
232

وَإِذَا طَلَّقْتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَٰجَهُنَّ إِذَا تَرَٰضَوْا۟ بَيْنَهُم بِٱلْمَعْرُوفِ ۗ ذَٰلِكَ يُوعَظُ بِهِۦ مَن كَانَ مِنكُمْ يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ ۗ ذَٰلِكُمْ أَزْكَىٰ لَكُمْ وَأَطْهَرُ ۗ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو ان کو دوسرے شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہوجائیں نکاح کرنے سے مت روکو۔ اس (حکم) سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں خدا اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ یہ تمہارے لئے نہایت خوب اور بہت پاکیزگی کی بات ہے اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

مطلقہ بیوی سے رجوع کرنے میں نقصان کا ارادہ نہ ہونا - قول باری ہے (و اذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او سرحوھن بمعروف، اور جب تم عورتوں کو طلاق دو پھر وہ اپنی عدت پوری کرلیں تو معروف طریقے سے روک لو یا معروف طریقے سے انہیں رخصت کر دو )- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قول باری (بلغن اجلھن) سے مراد حقیقت اجل نہیں جو عدت ہے بلکہ اس سے مراد اس کے خاتمے کے قریب پہنچ جانا ہے کیونکہ حقیقی معنی لینے کی صورت میں اجل کو پہنچ جانے کا مطلب عدت کا گزر جانا ہوگا جبکہ عدت کے گزر جانے کے بعد رجوع کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ عدت کو لفظ اجل سے متعدد مقامات پر تعبیر کیا گیا ہے۔ ان میں سے یہ قول باری (فاذا بلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او فارقوھن بمعروف) اس کا معنی بھی وہی ہے جو درج بالا آیت کا ہے۔ اسی طرح قول باری ہے (وا ولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن اور حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔ اسی طرح قول باری ہے (واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن اور جب عورتوں کو طلاق دے دو تو انہیں نہ روکو…) نیز فرمایا (ولا تعزموا عقدۃ النکاح حتیٰ یبلغ الکتاب اجلہ اور نکاح کی گرہ کو پختہ نہ کر وجب تک کہ عدت پوری نہ ہوجائے) ان تمام آیات میں جہاں جہاں لفظ اجل ذکر ہوا ہے اس سے مراد عدت ہے جب اللہ تعالیٰ نے اجل کا ذکر اپنے قول (فاذا بلغن اجلھن) میں بھی کیا ہے تو اس سے مراد اجل کا ختم ہوجانا نہیں بلکہ اس کا قرب الاختتام ہونا ہے۔ قرآن مجید اور محاورات میں اس کے بہت سے نظائر موجود ہیں چناچہ ارشاد باری ہے (اذا طلقتم النساء فطلقوھن بعدتھن) اس کا معنی ہے جب تم طلاق کا ارادہ کرو اور طلاق دینے کے قریب پہچ جائو تو عدت پر طلاق دو ۔- اسی طرح ارشاد باری ہے (فاذا اقرات القرآن فاستعذ باللہ جب تم قرآن کی تلاوت کرنے لگو تو استفادہ کرلو) اس کا معنی ہے کہ جب تم قرآن پڑھنے کا ارادہ کرو۔ اسی طرح قول باری ہے (واذا قلتم فاعدلوا۔ جب تم بات کرو تو انصاف کی بات کرو) اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ بات کرنے کے بعد عدل کرو بلکہ بات کرنے سے پہلے یہ عزم کرو کہ انصاف پر مبنی بات کے سوا اور کوئی بات نہیں کریں گے۔ اسی طرح زیر بحث آیت میں بلوغ اجل کا ذکر کر کے اس سے عدت کا قریب الاختتام ہونا مراد لیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے معروف طریقے سے بیوی کو روکے رکھنے کا حکم دیتے وقت عدت کے قریب الاختتام ونے کا ذکر کیا ہے حالانکہ معروف طریقے سے بیوی کو روکے رکھنا نکاح کے بقاء کے تمام احوال میں شوہر پر لازم ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ معروف طریقے سے امساک کے ذکر کے ساتھ تسریح یعنی بھلے طریقے سے رخصل کردینے کا بھی ذکر کیا ہے جس کا مفہوم عدت کا اختتام ہے۔ اور پھر دونوں کو امر کے تحت جمع کردیا ہے اور چونکہ تسریح کی صرف ایک حالت ہوتی ہے جو زیادہ عرصے تک باقی نہیں رہتی اس لئے بلوغ اجل یعنی عدت کے قریب الاختتام ہونے والی حالت کو اس کے ساتھ خاص کردیا تاکہ معروف یعنی بھلے طریقے کا تعلق دونوں معاملوں (امساک اور تسریح) کے ساتھ ہوجائے۔- قول باری (فامسکوھن بمعروف) سے مراد عدت گزرنے سے پہلے رجوع کرلینا ہے۔ یہی قول حضرت ابن عباس (رض) ، حسن بصری، مجاہد اور قتادہ سے مروی ہے۔ اب رہا قول باری (او سرحومن بمعروف) تو اس کا معنی یہ ہے کہ طلاق دینے کے بعد اسے چھوڑے رکھے یہاں تک کہ اس کی عدت گزر جائے۔ اللہ تعالیٰ نے امساک بالمعروف کو مباح کردیا جس کا مفہوم یہ ہے کہ شوہر اس کے ضروری حقوق ادا کرے جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا، نیز بھلے طریقے سے تسریح کو بھی مباح کردیا جس کا مفہوم یہ ہے کہ رجوع کے ذریعے اس کی عدت کی مدت کو طویل تر کر کے اسے نقصان پہنچانے کا ارادہ نہ کرے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے (او سرحوھن) کے ذکر کے فوراً بعد (ولا تمسکوھن ضرارا) کے ذکر سے بیان فرمائی ہے۔ اس میں اس تاویل کی بھی گنجائش ہے کہ معروف طریقے سے رخصل کردینے کی شکل یہ ہو تو اسے …

Al-Baqara 2:232Listen in Qur'an →
233

۞ وَٱلْوَٰلِدَٰتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَٰدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ ٱلرَّضَاعَةَ ۚ وَعَلَى ٱلْمَوْلُودِ لَهُۥ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ ۚ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَا تُضَآرَّ وَٰلِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌۭ لَّهُۥ بِوَلَدِهِۦ ۚ وَعَلَى ٱلْوَارِثِ مِثْلُ ذَٰلِكَ ۗ فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَن تَرَاضٍۢ مِّنْهُمَا وَتَشَاوُرٍۢ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا ۗ وَإِنْ أَرَدتُّمْ أَن تَسْتَرْضِعُوٓا۟ أَوْلَٰدَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُم مَّآ ءَاتَيْتُم بِٱلْمَعْرُوفِ ۗ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ

اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں یہ (حکم) اس شخص کے لئے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے۔ اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق باپ کے ذمے ہوگا۔ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی (تو یاد رکھو کہ) نہ تو ماں کو اس کے بچے کے سبب نقصان پہنچایا جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے اور اسی طرح (نان نفقہ) بچے کے وارث کے ذمے ہے۔ اور اگر دونوں (یعنی ماں باپ) آپس کی رضامندی اور صلاح سے بچے کا دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور اگر تم اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ تم دودھ پلانے والیوں کو دستور کے مطابق ان کا حق جو تم نے دینا کیا تھا دے دو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے

رضاعت کا بیان - قول باری ہے (والوالدات یرضعن اولادھن حولین کاملین اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں گی) تاآخر آیت۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت تو خبر یک صورت میں ہے لیکن مفہوم خطاب سے یہ بات معلوم ہوتی ہے اس سے خبر کا ارادہ نہیں کیا گیا کیونکہ اگر یہ خبر ہوتی تو اس کا مخبر (جس کے متعلق خبر دی جا رہی ہے) بھی موجود ہوتا جبکہ مائوں میں ایسی بھی ہیں جو سروے سے بچے کو دودھ پلاتی ہی نہیں ہیں۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ آیت کے الفاظ میں خبرمراد نہیں ہے۔ اب جبکہ حقیقت الفاظ مراد نہیں جو خبر ہے تو پھر یا تو یہ مراد ہے کہ ماں پر بچے کو دودھ پلانا واجب کردیا گیا ہے اور اس آیت کے ذریعے اسے اس کا حکم دے دیا گیا ہے کیونکہ صیغہ خبر کے ذریعے کبھی امر مراد ہوتا ہے۔ جیسا کہ قول باری ہے (والمطلقات یتربصن بانفسھن ثلثۃ قروء) یا یہ مراد ہے کہ اس سے مال کے لئے رضاعت کا حق ثابت کیا گیا ہے خواہ باپ اسے ناپسند ہی کیوں نہ کرے۔ یا رضاعت کی بنا پر باپ پر عائد ہونے والے اخراجات کا اندازہ لگایا گیا ہے جب اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں یہ فرمایا (فان ارضعن لکم فاتوھن اجورھن اگر یہ تمہارے بچوں کو دودھ پلائیں تو انہیں ان کا معاوضہ ادا کر دو ) ۔- نیز یہ فرمایا (و ان تعامرتم فسترضع لہ اخریٰ اور اگر تم باہم کشمکش کرو گے تو رضاعت کوئی دوسری کرے گی) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں زیر بحث آیت میں رضاعت مراد نہیں ہے۔ خواہ ماں یہ چاہے نہ چاہے بلکہ اسے اختیار ہے کہ اپنے بچے کو دودھ پلائے یا نہ پلائے۔ اس لئے اب دو آخری صورتیں باقی رہ گئیں۔ وہ یہ کہ باپ اگر بچے کی ماں سے دودھ پلوانے سے انکار کر دے تو اسے اس پر مجبور کیا جائے گا اور اس پر زیادہ سے زیادہ جتنے عرصے کی رضاعت کے اخراجات لازم ہوں گے وہ دو سال ہے۔ اگر وہ اس سے زائد عرصے کی رضاعت کا خرچ دینے سے انکار کر دے تو اسے اس پر مجبور نہیں کیا جاسکے گا۔ پھر قول باری (والوالدات یوضعن اولادھن) یا تو تمام مائوں کیلئے عام ہے خواہ طلاق یافتہ ہوں یا غیرطلاق یافتہ یا یہ کہ اس کا عطف ان طلاق یافتہ عورتوں پر ہوگا جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے اور آیت کے حکم کا اقتصار ان پر ہی ہوگا۔ اگر اس سے مراد تمام طلاق یافتہ اور شوہروں والیاں مراد ہوں گی تو ان میں سے خاوندوں والیوں کے لئے واجب شدہ خرچ سے مراد زوجیت کا نان و نفقہ ہوگا۔ رضاعت کا نفقہ مراد نہیں ہوگا کیونکہ ایسی عورت زوجیت کی بقا کے ساتھ رضاعت کے نفقہ کی مستحق نہیں ہوگی کہ اس طرح اسے دوہرا خرچ دینا پڑے، ایک زوجیت کا اور دوسرا رضاعت کا۔ اگر دودھ پلانے والی طلاق یافتہ ہو تو اس صورت میں بھی وہ رضاعت ک نفقہ کی مستحق ہوگی۔- ظاہر آیت کا یہی مقتضی ہے کیونکہ ظاہر آیت نے رضاعت کی وجہ سے اس کا نفقہ واجب کیا ہے اور اس حالت میں نہ تو و بیوی ہے اور نہ ہی عدت گزار رہی ہے کیونکہ اس صورت میں آیت زیر بحث کا عطف قول باری (واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن) پر ہوگا اس صورت میں عورت کی عدت وضع حمل کی بناء پر گزر چکی ہوگی اور وہ رضاعت کی بنا پر نفقہ کی مستحق ہوگی اس میں یہ بھی امکان ہے کہ شوہر نے وضع حمل کے بعد اسے طلاق دے دی ہو اس صورت میں وہ حیض کے حساب سے عدت گزارے گی۔ رضاعت اور عدت دونوں کے نفقہ کے اکٹھے وجوب کے متعلق ہمارے اصحاب کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ ایک روایت میں تو ہے کہ وہ دونوں نفقہ کی ایک ساتھ مستحق ہوگی اور دوسری روایت میں ہے کہ عدت کے نفقہ کیساتھ رضاعت کے نفقہ میں سے کوئی چیز اسے نہیں ملے گی۔ آیت کی دلالت دو معنوں پر ہو رہی ہے ایک یہ کہ ماں اپنے بچے کو دو سال کے عرصے میں دودھ پلانے کی زیادہ حقدار ہے اور اگر وہ دودھ پلانے پر رضامند ہو تو باپ کسی اور عورت سے دودھ نہیں پلوا سکتا۔ دوم یہ کہ جس مدت کی رضاعت کا خرچ باپ پر لازم ہے وہ دو سال ہے۔ آیت میں اس پر بھی دلالت …

Al-Baqara 2:233Listen in Qur'an →
234

وَٱلَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَٰجًۭا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍۢ وَعَشْرًۭا ۖ فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِىٓ أَنفُسِهِنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌۭ

اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔ اور جب (یہ) عدت پوری کرچکیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

جس عورت کا شوہر وفات پا جائے اس کی عدت کا بیان - قول باری ہے (والذین یتوفون منکم و یذرون ازواجا یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھرو عشرا، تم میں سے جو لوگ وفات پاجائیں اور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ اپنے آپ کو چار مہینے دس دنوں تک روکے رکھیں) ۔ کسی چیز کے انتظار کو تربص کہتے ہیں۔ قول باری ہے (فتربصوا حتیٰ حین، ایک مدت تک اس کے انتظار میں رہو) اسی طرح قول باری ہے (ومن الاعراب من یتخذ ما ینفق مغرما و یتربص بکم الدوائر، ان بدوی عربوں میں ایسے بھی ہیں جو راہ خدا میں کچھ خرچ کرتے ہیں تو اسے اپنے اوپر زبردستی کی چٹی سمجھتے ہیں اور تمہارے حق میں زمانے کی گردشوں کا انتظار کر رہے ہیں) یعنی انتظار میں ہیں۔- نیز قول باری ہے (ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون، ہاں کیا یہ کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہیں اور ہم ان کے بارے میں حادثہ موت کا انتظار کر رہے ہیں) اللہ تعالیٰ نے ان بیوائوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو اس مدت تک شادیاں کرنے سے انتظار میں رکھیں۔ آپ نہیں دیکھتے کہ آیت کے فوراً بعد یہ ارشاد باری ہے (فاذا بلغن اجلھن فلا جناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن، پھر جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو انہیں اختیار ہے اپنی ذات کے معاملے میں معروف طریقے سے جو چاہیں کریں) ۔ شوہر مرجانے پر بیوہ کی عدت ایک سال تھی۔ قول باری ہے (والذین یتوفون منکم و یذرون ازواجا و میۃ لا زواجھم متاعا الی الحول غیر اختراج، تم میں سے جو لوگ وفات پاجائیں اور پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں ان کو چاہیے کہ اپنی بیویوں ک حق میں یہ وصیت کر جائیں کہ ایک سال تک ان کو نان و نفقہ دیا جائے اور وہ گھر سے نہ نکالی جائیں) ۔ یہ آیت کئی احکامات پر مشتمل تھی۔ ایک تو عدت کی مدت ایک سال تھی دوسری یہ کہ بیوہ کا نان و نفقہ مرحوم شوہر کے ترکے سے دیا جائے گا جب تک وہ عدت میں رہے گی قول باری ہے (وصیۃ لازواجھم) تیسری یہ کہ اسے عدت کی مدت کے دوران وہاں سے نکل جانے سے روک دیا گیا تھا۔ پھر چار ماہ دس دن سے زائد مدت منسوخ کردی گئی اور بیوی کو شوہر کے ترکہ میں واثر بنا کر نان و نفقہ منسوخ کردیا گیا۔ قول باری ہے (ادبعۃ اشھر و عشرا) اس میں نان و نفقہ واجب نہیں کیا گیا لیکن بیوہ کو گھر سے نکال دینے کے حکم کی منسوخی ثابت نہیں ہوئی۔ اس بنا پر عدت کے دوران بیوہ کو اس مکان سے نہ نکالنے کا حکم بحالہ باقی ہے کیونکہ اس کی منسوخیت ثابت نہیں ہوئی۔ ہمیں جعفر بن محمد الواسطی نے، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، انہیں ابو عبید نے، انہیں حجاج نے ابن جریح سے اور عثمان بن عطاء نے عطاء خراسانی سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے اس آیت یعنی قول باری (وصیۃ لازواجھم متاعاً الی الحول غیر اخراج) کے متعلق یہ روایت کی کہ شوہر مرجانے پر بیوہ کے لئے ایک سال تک نان و نفقہ ہوتا تھا پھر اسے آیت میراث نے منسوخ کردیا۔- اللہ نے ان کے لئے شوہر کے ترکے میں چوتھا حصہ (شوہر کی اولاد نہ ہونے کی صورت میں) یا آٹھواں حصہ (شوہر کی اولاد ہونے کی مقرر کردیا۔ نیز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرما دیا (لاوصیۃ لوارث الا ان یرضی الورثۃ، وارث کے لئے کوئی وصیت نہیں الا یہ کہ دوسرے تمام ورثاء راضی ہوجائیں) ۔ جعفر نے کہا کہ ہمیں ابو عبید نے، انہیں یزید نے یحییٰ بن سعید، انہوں نے حمید سے، انہوں نے نافع سے روایت کی کہ انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ کو حضرت ام سلمہ (رض) اور حضرت ام حبیبہ (رض) سے روایت کرتے ہوئے سنا کہ ایک عورت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئی اور عرض کیا کہ اس کی بیٹی کا شوہر وفات پا گیا، اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے وہ سرمہ لگانا چاہتی ہے کیا وہ ایسا کرسکتی ہے۔ اس پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (قد کانت احداکن ترمی باعبرۃ عند راس الحول و اتماھی اربعۃ اشھر و عشرا، زمانہ جاہلیت میں تمہاری حالت یہ تھی کہ بیوہ پر ایک سال گزرنے کے بعد مینگنی …

Al-Baqara 2:234Listen in Qur'an →
235

وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُم بِهِۦ مِنْ خِطْبَةِ ٱلنِّسَآءِ أَوْ أَكْنَنتُمْ فِىٓ أَنفُسِكُمْ ۚ عَلِمَ ٱللَّهُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُونَهُنَّ وَلَٰكِن لَّا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلَّآ أَن تَقُولُوا۟ قَوْلًۭا مَّعْرُوفًۭا ۚ وَلَا تَعْزِمُوا۟ عُقْدَةَ ٱلنِّكَاحِ حَتَّىٰ يَبْلُغَ ٱلْكِتَٰبُ أَجَلَهُۥ ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِىٓ أَنفُسِكُمْ فَٱحْذَرُوهُ ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌۭ

اور اگر تم کنائے کی باتوں میں عورتوں کو نکاح کا پیغام بھیجو یا (نکاح کی خواہش کو) اپنے دلوں میں مخفی رکھو تو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ خدا کو معلوم ہے کہ تم ان سے (نکاح کا) ذکر کرو گے۔ مگر (ایام عدت میں) اس کے سوا کہ دستور کے مطابق کوئی بات کہہ دو پوشیدہ طور پر ان سے قول واقرار نہ کرنا۔ اور جب تک عدت پوری نہ ہولے نکاح کا پختہ ارادہ نہ کرنا۔ اور جان رکھو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے تو اس سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا بخشنے والا اور حلم والا ہے

دوران عدت اشارہ کنایہ میں پیغام نکاح دینا - قول باری ہے (ولا جناح علیکم فیما عرضتم بہ من خطبۃ النکاح او اکننتم فی انفسکم، اور تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اگر تم ان عورتوں کو پیغام نکاح دینے کے سلسلے میں کوئی بات اشارۃ کہو یا نکاح کا ارادہ تم اپنے دل میں پوشیدہ رکھو) خطبہ کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ گفتگو ہے جس کے ذریعہ عقد نکاح کی دعوت دی جائے، اگر خطبہ بضم الخاء ہو تو اس سے مراد نصیحت و موعظت کی وہ صورت ہے جس میں تسلسل اور تربیت و تنسیق ہو۔ خطبہ کے متعلق ایک قول یہ بھی ہے کہ جس کا اول و آخر موجود ہو۔- جس طرح کہ رسالہ یعنی خط، پیغام وغیرہ کی صورت ہوتی ہے اور خطبہ حال کے بیان کے لئے آتا ہے جیسے ” جلسۃ اور قعدۃ “ حال بیان کرتا ہے تو تعریض کا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ کلام میں ایسی چیز پر دلالت موجود ہو جس کا ذکر کلام میں نہ کیا گیا ہو مثلاً کوئی شخص یہ کہے۔ ” ما انا بزان “ (میں زانی نہیں ہوں) اس میں اشارۃ مخاطب کے زانی ہونے کی بات کی گئی ہے۔ اسی بنئا پر حضرت عمر نے اس قول پر اسے تصریح قرار دے کر حد قذف جاری کی تھی۔ کنایہ کا مفہوم یہ ہے کہ کسی چیز کو اس کے صریح نام سے ذکر کئے بغیر اس پر دلالت کرنے والا لفظ ذکر کیا جائے جیسا کہ قول باری ہے (انا انزلناہ فی لیلۃ القدر، ہم نے اسے قدر کی رات میں نازل کیا) یعنی قرآن مجید۔ یہاں ’ ہا ‘ اس سے کنایہ ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ پیغام نکاح کے سلسلے میں اشارۃً بات کرنے کی صورت یہ ہے کہ مثلاً یوں کہے ” انی اریدان اتزوج امراۃ من امرھا “ ص میں کسی عورت سے اس کی رضامندی کی بنیاد پر نکاح کرنا چاہتا ہوں) لفظ ’ امرھا ‘ کے ذریعے الفاظ میں اشارہ ہوگیا۔ حسن بصری کا قول ہے کوئی شخص اس سے یوں کہے ” ان بک لمعجب و انی فیک راغب ولا تفوتینا نفسک “ (میری نظروں میں تم جچ گئی ہو، تمہاری ذات میں مجھے دلچسپی ہے۔ اپنے آپ کو ہمارے دائرہ رغبت سے باہر نہ لے جانا) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت فاطمہ بن قیس سے عدت کے دوران یہ فرمایا تھا (لا تفوتینا نفسک) پھر عدت گزرنے کے بعد آپ نے انہیں حضرت اسامہ بن زید یک طرف سے نکاح کا پیغام بھیجا تھا۔ عبدالرحمن بن القاسم نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ وہ مثلاًٰ اس سے یوں کہے جبکہ وہ عدت میں ہو : ” انک لکریمۃ و انی فیک لراغب “ تم بہت شرف والی ہو، مجھے تمہاری ذات میں دلچسپی ہے) یا اس قسم کا کوئی فقرہ ہو۔- عطاء بنذ ابی رباح کا قول ہے کہ مرد یوں کہے۔ ” ان لجمیلۃ و ان فیک الراغب و ان قضی اللہ شیئا کان۔ “ (تم بہت حسین ہو، مجھے تمہاری ذات سے دلچسپی ہے اور اگر اللہ چاہے تو کچھ نہ کچھ ہو کر رہے گا) غرض تعریض سے مراد ایسا کلام ہے جس کا مفہوم عدت گزارنے والی عورت می اس کی دلچسپی پر دلالت کرتا ہو۔ لیکن وہ اسے صریح الفاظ میں پیغام نکاح نہیں دے سکتا۔ قول باری ہے (الا ان تقولوا قولا معروفا۔ الا یہ کہ تم کوئی ڈھنگ کی بات کرو) اس کے متعلق سعید بن جبیر کا قول ہے کہ مثلاً وہ یوں کہے۔ ” انی فیک لراغب ان لا رجوا ان نجتمع “ مجھے تمہاری ذات میں دلچسپی ہے اور مجھے امید ہے کہ ہم اکٹھے ہوجائیں گے) ۔ قول باری (او اکننتم فی انفسکم) کا معنی یہ ہے کہ تم نے عدت ختم ہوجانے کے بعد اس سے نکاح کرنے کا ارادہ اپنے دل میں چھپائے رکھا ہو۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اشارۃ پیغام نکاح دینے اور نکاح کا ارادہ اپنے دل میں پوشیدہ رکھنے اور اسے ظاہر نہ کرنے کی صورتوں کو مباح کردیا۔ اسماعیل بن اسحاق نے کسی کا قول نقل کیا ہے کہ اس نے اشارۃً کسی پر زنا کی تہمت لگانے کی بناء پر لازم ہونے والی حد کی نفی کے لئے یہ استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اشارۃً پیغام نکاح کو بمنزلہ صراحتہً ذکر نکاح قرار نہیں دیا۔ اس بناء پر اشارۃً تہمت زنا صراحتہً تہمت کی طرح نہیں ہوسکتی۔- اسماعیل بن اسحاق کا کہنا ہے کہ اس کا یہ استدلال خود اس کے …

Al-Baqara 2:235Listen in Qur'an →
236

لَّا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن طَلَّقْتُمُ ٱلنِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا۟ لَهُنَّ فَرِيضَةًۭ ۚ وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى ٱلْمُوسِعِ قَدَرُهُۥ وَعَلَى ٱلْمُقْتِرِ قَدَرُهُۥ مَتَٰعًۢا بِٱلْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى ٱلْمُحْسِنِينَ

اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے یا ان کا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ ہاں ان کو دستور کے مطابق کچھ خرچ ضرور دو (یعنی) مقدور والا اپنے مقدور کے مطابق دے اور تنگدست اپنی حیثیت کے مطابق۔ نیک لوگوں پر یہ ایک طرح کا حق ہے

مطلقہ کے متعہ کا بیان - قول باری ہے (لا جناح علیکم ان طلقتم النساء ما لم تمسوھن او تفرضوا لھن فریضۃ و متعوھن، تم پر کچھ گناہ نہیں اگر اپنی عورتوں کو طلاق دے دو قبل اس کے کہ ہاتھ لگانے کی نوبت آئے یا مہر مقرر ہو اس صورت میں انہیں کچھ نہ کچھ دینا ضرور چاہیے) مفہوم کے لحاظ سے عبارت اس طرح ہے۔ ” مالم تمسوھن ولم تفرضوا لھن فریضۃ “ (جب تک ہم نے انہیں ہاتھ نہ لگایا ہو اور ان کے لئے کوئی مہر مقرر نہ کی ہو) ۔- آپ نہیں دیکھتے کہ اس آیت پر اس قول باری کا لطف ہے (و ان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن و قد فرضتم لھن فریضۃ فنصف ما فرضتم، اور اگر تم نے انہیں طلاق دے دی جبکہ تم نے ان کے لئے مہر مقرر کی ہو تو مقرر شدہ رقم کا نصف ادا کرو) ۔- اگر پہلی آیت کا مفہوم یہ ہوتا کہ ” مالم تمسوھن و قد فرضتم لھن فریضۃ اولم تفرضوا۔ “ (جب تک کہ تم نے انہیں ہاتھ نہ لگایا ہو جبکہ تم نے ان کے لئے مہر مقرر کردی ہو یا نہ مقرر کی ہو) تو اس پر اس مطلقہ کا عطف نہ ہوتا جس کے لئے مہر کی رقم مقرر کردی گئی ہو۔ یہ تشریح اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آیت زیربحث میں حرف ” او “ بمعنی ” وائو “ ہے اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے۔ قول باری ہے (ولا تطع منھم اثما او کفورا، آپ ان میں سے کسی گنہگار یا ناشکرے کی بات نہ مانیں) اس کا معنی ہے۔ ” نہ کسی گنہگار کی اور نہ ہی کسی ناشکرے کی۔ “ اسی طرح قول باری ہے (و ان کنتم مرضی او علی سفر او جاء احدمنکم من الغائط، اور اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا تم سے کوئی قضائے حاجت سے فارغ ہوا ہو…) اس کا معنی یہ ہے۔ ” تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت سے فارغ ہوا ہو درآنحالیکہ تم مریض اور مسافر ہو۔ اسی طرح قول باری (و ارسلناہ الی مائۃ الف او یزیدون) اور ہم نے اسے یعنی یونس (علیہ السلام) کو، ایک لاکھ یا اس سے زائد لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا) اس کا معنی ہے۔ ” ایک لاکھ اور اس سے زائد۔ “ ان مثالوں سے اس بات کی وضاحت ہوگئی کہ لغت میں حرف او کا حرف وائو کے معنی میں استعمال موجود ہے۔ جب حرف ” او “ منفی فقرے میں موجود ہوتا ہے تو اس صورت میں اس کا حرف ” وائو “ کے معنی میں استعمال زیادہ واضح ہوتا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ قول باری ہے (ولا تطع منھم آثما او کفورا) چونکہ اس حرف کا نفی پر دخول ہوا ہے اس لئے یہاں (او کفورا) کا معنی ” ولا کفورا “ ہے۔ ایک اور مثال یہ قول باری ہے (و حرمنا علیھم شحومھما الا ما حملت ظہورھما اوالحوایا او مااختلط بعظم) اور گائے اور بکری کی چربی بھی ہم نے ان پر حرام کردی تھی بجز اس کے جو ان کی پیٹھ یا ان کی آنتوں سے لگی ہوئی ہڈی ہو یا ہڈی سے لگی رہ جائے) ۔- ان تمام مواقع میں حروف ’ او ‘ بمعنی وائو ہے اس لئے ضروری ہے کہ قول باری (لا جناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسوھن او تفرضوا لھن فریضۃ) میں بھی حرف ’ او ‘ کو حرف وائو کے معنی میں لیا جائے کیونکہ نفی پر اس کا خول ہوا ہے اس بنا پر متعہ یعنی مطلقہ کو طلاق کے بعد ساز و سامان دینے کے وجوب کی دو شرطیں ہیں اول عدم مسیس یعنی ہاتھ نہ لگانا ہو اور مہر مقرر نہ کیا ہو۔ یعنی ان دونوں باتوں کا بیک وقت موجودگی پر وجوب متعہ لازم آتا ہے۔ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو ہمبستری سے قبل حالض حیض میں بھی طلاق دے سکتا ہے۔ کیونکہ آیت میں طلاق کی مطلقاً اباحت ہے اور یہ تفصیل نہیں ہے کہ طلاق حالت طہر میں دی جائے حیض میں نہ دی جائے۔ وجوب متعہ کے متعلق سلف اور فقاء امصار کے درمیان اختلاف ہے۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ مطلقہ کو متعہ دیا جائے گا۔ زہری کا بھی یہی قول ہے۔ حضرت ابن عمر (رض) کا قول ہے کہ ہر مطلقہ کو متعہ دی جائے گا البتہ اسے نہیں دیا جائے گا جس کے لئے مہر کی رقم مقرر کردی گئی ہو اور شوہر نے اسے ہاتھ نہ لگایا ہو۔ ایسی مطلقہ کے لئے مقررہ مہر کی نصف رقم کافی ہے۔- قاسم بن محمد سے بھی یہی مروی ہے۔ قاضی شریح، ابراہیم …

Al-Baqara 2:236Listen in Qur'an →
237

وَإِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةًۭ فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّآ أَن يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَا۟ ٱلَّذِى بِيَدِهِۦ عُقْدَةُ ٱلنِّكَاحِ ۚ وَأَن تَعْفُوٓا۟ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۚ وَلَا تَنسَوُا۟ ٱلْفَضْلَ بَيْنَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے سے پہلے طلاق دے دو لیکن مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا مہر دینا ہوگا۔ ہاں اگر عورتیں مہر بخش دیں یا مرد جن کے ہاتھ میں عقد نکاح ہے (اپنا حق) چھوڑ دیں۔ (اور پورا مہر دے دیں تو ان کو اختیار ہے) اور اگر تم مرد لوگ ہ اپنا حق چھوڑ دو تو یہ پرہیزگاری کی بات ہے۔ اور آپس میں بھلائی کرنے کو فراموش نہ کرنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

قول باری ہے (وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن و قد فرضتم لھن فریضۃ فنصف ما فرضتم لھن فریضۃ فنصف ما فرضتم، اور اگر تم انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو جبکہ تم نے ان کے لئے مہر مقرر کردیئے ہوں تو مقررہ مہر کا نصف انہیں دے دو ) فرض کا لغوی معنی ہے تیروں میں علامت اور شناخت و امتیاز کے لئے سوراخ کرنا۔ فرضہ اس علامت کو کہتے ہیں جو پانی کے حصے کے سلسلے میں کسی لکڑی یا پتھر یا چونے پر بنادی جاتی ہے تاکہ ہر حصے دار پانی میں اپنی باری کی پہچان کرسکے دریا یا سمندر کے کنارے کو جہاں کشتیاں لنگر انداز ہوتی ہیں فرضہ کہا جاتا ہے کیونکہ کشتی میں آنے جانے سے وہاں نشان بن جاتا ہے۔ پھر شرع میں فرض کے اسم کا اطلاق مقدار پر اور ان واجبات پر ہونے لگا جو ایجاب کے اعلیٰ مراتب پر ہیں۔- قول باری (ان الذی فرض علیک القرآن، جس ذات نے آپ پر قرآن فرض کیا…) کے معنی یہ ہیں کہ جس ذات نے قرآن نازل کیا اور آپ پر اس کے احکام اور اس کی تبلیغ واجب کردی۔ اللہ تعالیٰ نے میراث کے حصوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (فریضۃ من اللہ) اس میں دونوں معنی موجود ہیں یعنی ان حصوں کے مقداروں کا ایجاب جو اللہ تعالیٰ نے میراث میں حصہ پانے والوں کے لئے بیان کردیئے ہیں۔ قول باری (و ان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن و قد فرضتم لھن فریضۃ) میں فرض سے مراد مہر کی مقدار اور عقد نکاح کے وقت اس کا تعین ہے۔ اسی سے ’ فرائض الا بل ‘ ہے جس سے مراد وہ مقداریں ہیں جو اونٹوں کی تعداد اور ان کی عمروں کے لحاظ سے واجب ہوتی ہیں مقدار کو فرض کہا گیا۔ دراصل اسے تیروں میں کئے گئے ان شگافوں سے تشبیہ دی گئی ہے جن کے ذریعے ان کی شناخت کی جاتی ہے اور یہ ایک دوسرے سے متمیز ہوتے ہیں۔ اسی طرح جس چیز کی مقدار بیان کردی جائے وہ دوسری تمام چیزوں سے متمیز اور جدا ہوجاتی ہے۔ قول باری (وقد فرضتم لھن فریضۃ) سے مراد عقد نکاح میں مہر کی مقدار کا تعین ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس سے پہلے اس مطلقہ کا ذکر کیا گیا جس کی مہر کی مقدار متعین نہیں کی گئی۔ قول باری ہے (لا جناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسوھن و تفرضوا لھن فریضۃ) پھر اس کے بعد اس عورت کا ذکر کیا گیا جس کے لئے مہر مقرر کردیا گیا تھا لیکن دخول سے قبل اسے طلاق ہوگئی تھی۔ پہلی آیت مہر کے تعین کی نفی پر دلالت کر رہی تھی دوسری آیت اس کے اثبات پر دلالت کر رہی ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے غیر مدخول بہاء کے لئے مقرر شدہ مہر کا نصف فرض کردیا۔ اگر کسی عورت سے عقد کے بعد اس کے لئے مہر مقرر کیا جائے اور پھر دخول سے پہلے اسے طلاق دے دی جائے تو اس کے حکم کے متعلق فقاء میں اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ اسے مہر مثل ملے گا۔ یہی امام محمد کا قول ہے۔ امام ابو یوسف پہلے اس کے قائل تھے کہ اسے مقرر شدہ مہر کا نصف ملے گا لیکن پھر انہوں نے امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے قول کی طرف رجوع کرلیا۔ امام مالک اور امام شافعی کا قول ہے کہ اسے مقرر شدہ مہر کا نصف ملے گا۔ مہر مثل دیے جانے کی دلیل یہ ہے کہ اس عقد کا موجب مہر مثل ہے۔ عقد نکاح کی وجہ سے مہر مثل کے وجوب کا تقاضا یہ تھا کہ دخول سے پہلے طلاق ہوجانے پر متعہ واجب ہوجائے۔ پھر عقد نکاح کے بعد جب طرفین مہر کی ایک مقدار مقرر کرنے ر رضامند ہوگئے تو اس سے عقد کا موجب یعنی متعہ منتفی نہیں ہوگا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ مہر کی یہ مقدار عقد نکاح میں مقرر نہیں کی گئی تھی جس طرح کہ مہر مثل بھی مقرر نہیں ہوا تھا اگرچہ مہر مثل واجب ہوگیا تھا۔ اب جبکہ دخول سے پہلے طلاق کا وقوع مہر مثل کو اس کے وجوب کے بعد ساقط کردیتا ہے کیونکہ وہ عقد نکاح میں مقرر نہیں ہوا تھا۔ تو اب یہ واجب ہوگیا کہ عقد نکاح کے بعد متعین کئے جانے والے مہر کا بھی یہی حکم ہو کیونکہ وہ بھی عقد نکاح میں مقرر نہیں ہوا تھا۔- اگر یہ کہا جائے کہ عقد نکاح مہر مثل کو واجب نہیں کرتا بلکہ مہر مثل دخول کی بنا پر واجب ہوتا …

Al-Baqara 2:237Listen in Qur'an →
238

حَٰفِظُوا۟ عَلَى ٱلصَّلَوَٰتِ وَٱلصَّلَوٰةِ ٱلْوُسْطَىٰ وَقُومُوا۟ لِلَّهِ قَٰنِتِينَ

(مسلمانو) سب نمازیں خصوصاً بیچ کی نماز (یعنی نماز عصر) پورے التزام کے ساتھ ادا کرتے رہو۔ اور خدا کے آگے ادب سے کھڑے رہا کرو

صلوٰۃ وسطیٰ اور نماز میں کلام کرنے کا ذکر - قول باری ہے (حافظون علی الصلوت والصلوۃ الوسطی، اپنی نمازوں کی نگہداشت رکھو خصوصاً صلوۃ وسطی کی) اس میں نماز کے عمل کو سرانجام دینے کا حکم ہے اور مخافظت کے ذکر کے ساتھ اس کے وجوب کی تاکید کردی گئی ہے۔ ’ الصلوت ‘ سے دن رات کی پانچوں نمازیں مراد ہیں جچو مخاطبین کے ذہنوں میں متعین ہیں اس لئے کہ اس لفظ پر الف لام داخل ہے جو معہود یعنی معلوم و متعین چیز کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔- اس میں نمازوں کو قائم رکھنے، ان کے فرائض کو پورا کرنے، ان کے حدود کی پاسداری کرنے انہیں وقت پر ادا کرنے اور ادائیگی میں کوتاہی نہ کرنے کے تمام معانی و مفاہیم داخل ہیں کیونکہ محافظت کا حکم ان تمام باتوں کا مقتضی ہے۔ پھر نمازوں کے ذکر کر کے بعد صلوۃ وسطی کا الگ سے ذکر کر کے اس کی اہمیت کی تاکید کردی صلوۃ وسطیٰ کا الگ سے ذکر دو معنوں پر دلالت کرتا ہے۔ یو تو یہ تمام نمازوں سے افضل اور اس کی محافظت سب سے اولیٰ ہے۔ اس لئے دوسری نمازوں سے اسے الگ کر کے بیان کیا یا یہ کہ اس نماز کی نگہداشت کا حکم دوسری نمازوں سے بڑھ کر ہے۔- سلف سے اس بارے میں مختلف روایات میں جن میں سے بعض پہلے معنی پر اور بعض دوسرے معنی پر دلالت کرتی ہیں۔ حضرت زید بن ثابت (رض) سے مروی ہے کہ یہ ظہر کی نماز ہے کیونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوپہر کے وقت یہ نماز ادا کرتے تھے اور آپ کے پیچھے مقتدیوں کی صرف ایک یا دو صفیں ہوتیں اور باقی لوگ قیلولہ کر رہے ہوتے یا کاروبار میں مصروف ہوتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں کہ ظہر کی نماز صحابہ کرام کے لئے سب سے زیادہ بھاری نماز تھی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت زید بن ثابت (رض) نے مزید فرمایا کہ اسے صلاۃ وسطیٰ یعنی درمیانی نماز اس لئے کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے دو نمازیں اور اس کے بعد دو نمازیں ہیں۔ اس لئے یہ درمیانی نماز ہوگئی۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) اور حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے مروی ہے کہ اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے ایک روایت ہے کہ یہ فجر کی نماز ہے۔ حضرت عائشہ (رض) اور حضرت حفصہ (رض) سے مروی ہے کہ ان کے مصحف میں یہ الفاظ تھے۔ (حافظوا علی الصلوات والصلوۃ الوسطی صلوۃ العصر) حضرت براء بن عازب (رض) سے مروی ہے کہ یہ آیت اس طرح نازل ہوئی (حافظون علی الصلوت و صلوۃ العصر) اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں آیت کی قرأت اسی طرح ہوتی ریہ پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت (حافظوا علی الصلوت والصلوۃ الوسطی) کے ذریعے اسے منسوخ کردیا۔ اس طرح حضرت براء نے یہ بتادیا کہ حضرت عائشہ وغیرھا کے مصحف میں آیت کا اندراج جس طرح ہے وہ اب منسوخ ہوچکا ہے، عاصم بن زر نے حضرت علی (رض) سے روایت کی ہے کہ جنگ خندق میں کفار ہم سے مسلسل لڑتے رہے یہاں تک کہ ہمیں عصر کی نماز ادا کرنے کا موقع نہیں ملا حتیٰ کہ سورج غروب ہونے لگا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس موقع پر فرمایا (اللھم املا قلوب الذین شغلونا عن الصلوۃ الوسطی تارا، اے اللہ جن لوگوں نے ہمیں صلوۃ وسطیٰ کی ادائیگی سے مشغول رکھا ان کے دل جہنم کی آگ سے بھر دے) ۔- حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ ہم پہلے یہ سمجھتے تھے کہ صلوۃ وسطیٰ سے مراد فجر کی نماز ہے۔ عکرمہ، سعید بن جبیر اور مقسم نے حضرت ابن عباس (رض) سے اور آپ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی قسم کی روایت کی ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ یہ عصر کی نماز ہے۔ اس طرح حضتر سمرہ بن جندب (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت علی (رض) سے یہی روایت کی ہے کہ یہ عصر کی نماز ہے۔ اسی طرح حضرت ابی بن کعب (رض) اور حضرت قبیصہ بن ذویب (رض) سے مروی ہے کہ یہ مغرب کی نماز ہے۔ ایک قول میں کہا گیا ہے کہ عصر کی نماز کو صلوۃ وسطیٰ اس لئے کہا …

Al-Baqara 2:238Listen in Qur'an →
239

فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًۭا ۖ فَإِذَآ أَمِنتُمْ فَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا۟ تَعْلَمُونَ

اگر تم خوف کی حالت میں ہو تو پیادے یا سوار (جس حال میں ہو نماز پڑھ لو) پھر جب امن (واطمینان) ہوجائے تو جس طریق سے خدا نے تم کو سکھایا ہے جو تم پہلے نہیں جانتے تھے خدا کو یاد کرو

حالت خوف میں نماز - قول باری ہے (فان خفتم فوجالا اور کبانا، اگر تمہیں خوف ہو تو پھر پیدل یا سوار کی صورت میں) اول خطاب میں اللہ تعالیٰ نے نماز اور اس کی محافظت کا حکم دیا اور یہ چیز نماز کے تمام فرائض کی انجام دہی کے لزوم اور اس کی حدود کو قائم رکھنے کی ضرورت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ محافظت کا ذکر ان باتوں کا مقتضی ہے۔- پھر صلوۃ وسطی کا الگ ذکر کر کے اس کی تاکید فرمائی۔ ہم نے تاکید کے ذکر کا فائدہ پہلے بیان کردیا ہے پھر اس پر (قومو اللہ قانتین) کو عطف کیا۔ یہ فقرہ سکوت کے لزوم، نماز میں خشوع اور نماز کی حالت میں چلنے پھرنے اور کام کرنے سے باز رہنے کے معانی پر مشتمل ہے جبکہ امن اور اطمینان کی کیفیت ہو۔ پھر اس حالت خوف کو عطف کر کے تمام احوال میں نماز کی ادائیگی کا حکم دیا اور خوف کی بنا پر ترک صلوٰۃ کی رخصت نہیں دی۔ فرمایا (فان خفتم فرجالا اور کبانا) اس میں لفظ (فرجالا) راجل (پیدل چلنے والا) کی جمع ہے۔ اس لئے آپ ” راجل “ اور ” رجال “ اسی طرح کہتے ہیں جس طرح ’ تاجر “ اور ” تجار “ یا ” صاحب “ اور ” صحاب “ یا ” قائم “ اور ” قیام “ کہتے ہیں۔ خوف کی حالت میں پیدل نماز پڑھنے کا حکم دیا اور ترک صلوٰۃ کے سلسلے میں اسے معذور نہیں سمجھا جس طرح کہ بیمار کو یہ حکم دیا کہ وہ بیماری کی حالت میں کھڑے ہو کر، بیٹھ کر، پہلو پر لیٹ کر جس صورت میں بھی نماز ادا کرسکتا ہو کرے۔ اسی طرح خوف کی حالت میں سواری پر سوار صورت میں نماز کا حکم دیا اور اس طرح اشارے سے ارکان صلوۃ کی ادائیگی کی اباحت کردی کیونکہ سوار کے لئے صرف یہی ممکن ہے کہ وہ اشارے سے نماز ادا کرے اس کے لئے قیام، قعود، رکوع اور سجود ممکن نہیں۔ صلوۃ الخوف کے متعلق حضرت ابن عمر سے مروی ہے ک اگر خوف اس سے زیادہ ہو یعنی جنگ کی صورت ہو تو لوگ اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر پیدل نماز ادا کریں گے یا سوار ہو کر خواہ ان کا رخ قبلے کی طرف ہو یا نہ ہو۔ نافع کا کہنا ہے کہ حتر اب عمر (رض) نے یہ بات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے۔ آیت میں جس خوف کا ذکر ہے وہ جنگ سے کم درجے کا خوف ہے لیکن اگر جنگ کا خوف ہو اور دشمن مقابلے پر موجود ہو تو پھر درج بالا طریقے سے نماز ادا کرنا جائز ہوگا۔ خوف کی حالت میں جب سواری پر نماز کی ادائیگی مباح کردی گئی اور اس میں فرق نہیں رکھا گیا کہ کس کا رخ قبلے کی طرف ہے اور کس کا نہیں ہے تو آیت اس دلالت پر مشتمل ہوگئی کہ استقبال قبلہ کے بغیر بھی نماز کی ادائیگی جائز ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر حالت میں نماز کی ادائیگی کا حکم دیا اور یہ فرق نہیں رکھا کہ کس کے لئے استقبال قبلہ ممکن ہے اور کس کے لئے نہیں ممکن تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوگئی کہ جس کے لئے قبلے کی طرف رخ کرنا ممکن نہ ہو وہ جس حالت میں بھی ادائیگی ممکن ہو نماز ادا کرسکتا ہے۔ - اس پر ایک اور جہت سیبھی دلات ہو رہی ہے وہ یہ کہ قیام، رکوع اور سجود نماز کے فرائض ہیں اور اللہ تعالیٰ نے سواری پر سوار ہو کر نماز کی ادائیگ کا حکم دے کر ان فرائض کو چھوڑ دینا مباح کردیا تو پھر استقبال قبلہ کے چھوڑ دینے کا جواز اولیٰ ہوگا کیونکہ قیام، رکوع اور سجود استقبال قبلہ سے بڑھ کر موجکد ہیں اور جب ان کا چھوڑنا جائز ہے تو استقبال قبلہ کا چھوڑنا اس سے بڑھ کر جائز ہوگا۔- اگر یہ کہا جائے کہ درج بالا سطور میں جو کچھ کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خوف کی حالت میں بھی ترک صلوۃ کو مباح قرار نہیں دیا اور جس طرح بھی اس کی ادائیگی ممکن ہو اسے ادا کرنے کا حکم دیا لیکن دوسیر طرف ہم یہ دیکھتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خندق کی جنگ میں چار نمازیں نہیں پڑھیں حتیٰ کہ رات آ گئی پھر آپ نے انہیں اسی ترتیب سے قضا کیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس عم ل میں یہ دلیل موجود ہے کہ خوف کی حالت میں ترک صلوٰۃ کے جواز کی گنجائش ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا …

Al-Baqara 2:239Listen in Qur'an →
240

وَٱلَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَٰجًۭا وَصِيَّةًۭ لِّأَزْوَٰجِهِم مَّتَٰعًا إِلَى ٱلْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍۢ ۚ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِى مَا فَعَلْنَ فِىٓ أَنفُسِهِنَّ مِن مَّعْرُوفٍۢ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں وہ اپنی عورتوں کے حق میں وصیت کرجائیں کہ ان کو ایک سال تک خرچ دیا جائے اور گھر سے نہ نکالی جائیں۔ ہاں اگر وہ خود گھر سے نکل جائیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا زبردست حکمت والا ہے

Explained together with ayah 239

Al-Baqara 2:240Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.