Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 221–230 of 286

221

وَلَا تَنكِحُوا۟ ٱلْمُشْرِكَٰتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ ۚ وَلَأَمَةٌۭ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌۭ مِّن مُّشْرِكَةٍۢ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ ۗ وَلَا تُنكِحُوا۟ ٱلْمُشْرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤْمِنُوا۟ ۚ وَلَعَبْدٌۭ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌۭ مِّن مُّشْرِكٍۢ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ يَدْعُونَ إِلَى ٱلنَّارِ ۖ وَٱللَّهُ يَدْعُوٓا۟ إِلَى ٱلْجَنَّةِ وَٱلْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِۦ ۖ وَيُبَيِّنُ ءَايَٰتِهِۦ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ

اور (مومنو) مشرک عورتوں سے جب تک کہ ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرنا۔ کیونکہ مشرک عورت خواہ تم کو کیسی ہی بھلی لگے اس سے مومن لونڈی بہتر ہے۔ اور (اسی طرح) مشرک مرد جب تک ایمان نہ لائیں مومن عورتوں کو ان کو زوجیت میں نہ دینا کیونکہ مشرک (مرد) سے خواہ وہ تم کو کیسا ہی بھلا لگے مومن غلام بہتر ہے۔ یہ (مشرک لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں۔ اور خدا اپنی مہربانی سے بہشت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے۔ اور اپنے حکم لوگوں سے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ نصیحت حاصل کریں

مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح - قول باری ہے ولاتنکحوا المشرکات حتی یومن، مشرک عورتیں جب تک ایمان نہ لے آئیں انکے ساتھ نکاح نہ کرو) ہمیں جعفر بن محمد الواسطی نے حدیث بیان کی، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے ، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے ابوطلحہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہ اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ولاتنکحوا المشرکات حتی یومن۔ پھر اہل کتاب کو اس سے مستثنیٰ کردیا۔ چناچہ فرمایا والمحصنات من الذین ادتوا الکتاب من قبلکم اذا تیتموھن اجودھن محصنین غیر مسافحین ولامتخذی اخدان۔ اور محفوظ عورتیں بھی تمہارے لئے حلال ہیں جو ان قوموں میں سے ہوں جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی بشرطیکہ تم ان کے مہر ادا کر کے نکاح میں ان کے محافظ بنو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھپے آشنائیاں کرو) ۔ حضرت ابن عباس (رض) نے محصنات کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ پاکدامن ہوں بدکار نہ ہوں۔- یہ کہہ کر حضرت ابن عباس (رض) نے بتادیا کہ قول باری ولاتنکحوا المشرکات حتی یومن ۔ قول باری والمحصنات من الذین اوتوا الکتاب من قبلکم۔ پر مرتب ہے اور کتابی عورتیں ان سے مستثنیٰ ہیں۔ حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ یہ آیت کتابی اور غیر کتابی تمام عورتوں کو عام ہے۔ ہمیں جعفر بن محمد نے ، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، انہیں ابوعبید، انہیں یحییٰ بن سعید نے عبید اللہ بن نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر (رض) سے روایت بیان کی کہ آپ اہل کتاب کے طعام میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے لیکن ان کی عورتوں سے نکاح کو مکروہ خیال کرتے تھے۔ ابوعبید کہتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن صالح نے، انہیں لیث نے، انہیں نافع نے حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کی جب آپ سے یہودی یا نصرانی عورت سے نکاح کے بارے میں پوچھا جاتا تو آپ فرماتے کہ اللہ تعالیٰ نے مشرک عورتوں کو مسلمانوں پر حرام کردیا ہے۔ آپ یہ بھی فرماتے کہ ” مجھے کسی ایسے شرک کا علم نہیں جو اس بات سے بڑھ کر ہو۔۔۔ یا یوں فرماتے، اس سے زیادہ عظیم ہو۔۔۔ کہ کوئی عورت یہ کہے کہ میرا رب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یا اللہ کے بندوں میں سے کوئی بندہ ہے “۔ حضرت ابن عمر (رض) نے پہلی روایت میں کتابی عورت سے نکاح کو مکروہ کہا ہے لیکن تحریم کا ذکر نہیں کیا جبکہ دوسری روایت میں صرف آیت کی تلاوت کی لیکن قطعی طور پر کوئی بات نہیں کی اور یہ بتایا کہ عیسائیوں کا مذہب شرک ہے۔ ہمیں ابوعبید نے روایت کی ، انہیں علی بن سعد نے ابواللیح سے، انہوں نے میمون بن مہران سے کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے کہا کہ ہم ایسی سرزمین میں رہتے ہیں جہاں ہمارے ساتھ اہل کتاب بھی بستے ہیں، ہم ان کے ساتھ شادی بیاہ بھی کرتے ہیں اور ان کا کھانا بھی کھالیتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت ابن عمر (رض) نے کہا میرے سامنے آیت تحلیل اور آیت تحریم دونوں تلاوت کردیں میں نے پھر کہا کہ یہ آیتیں تو میں بھی پڑھتا ہوں لیکن ہم ان کی عورتوں سے نکاح کرتے اور ان کا کھانا کھاتے ہیں یہ سن کر حضرت ابن عمر (رض) نے دوبارہ آیت تحلیل اور آیت تحریم کی تلاوت کردی۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) کا اباحت یا ممانعت کے جواب سے پہلو تہی کر کے آیت کی تلاوت کردینا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کو اس کے حکم کے متعلق توقف تھا یعنی اس حکم کے متعلق آپ کوئی قطعی رائے نہیں رکھتے تھے کراہت کی جو روایت آپ سے منقول ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کے نزدیک یہ کراہت تحریم کی بنا پر نہیں تھی جس طرح کہ ایسی کتابی عورتوں سے نکاح کرنا جن کا تعلق اہل حرب سے ہو یعنی ایسے لوگوں سے ہو جو مسلمانوں سے پر سرپیکار ہوں۔ یہ کراہت بھی تحریم کی بنا پر نہیں ہوتی۔- کتابی عورتوں سے نکاح پر صحابہ کا تعامل۔۔۔ صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت سے کتابی عورتوں سے نکاح کی اباحت منقول ہے ہمیں جعفر بن محمد الواسطی نے ، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، …

Al-Baqara 2:221Listen in Qur'an →
222

وَيَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًۭى فَٱعْتَزِلُوا۟ ٱلنِّسَآءَ فِى ٱلْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ ٱللَّهُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلتَّوَّٰبِينَ وَيُحِبُّ ٱلْمُتَطَهِّرِينَ

اور تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ تو نجاست ہے۔ سو ایام حیض میں عورتوں سے کنارہ کش رہو۔ اور جب تک پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو۔ ہاں جب پاک ہوجائیں تو جس طریق سے خدا نے ارشاد فرمایا ہے ان کے پاس جاؤ۔ کچھ شک نہیں کہ خدا توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے

حیض کا بیان - قول باری ہے ویسئلونک عن المحیض قل ھواذی فاعتزلوا النساء فی المحیض۔ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا کیا حکم ہے کہہ دیجئے کہ وہ ایک گندگی کی حالت ہے اس میں عورتوں سے الگ رہو) لفظ محیض حیض کے لئے اسم ہے اور یہ بھی درست ہے کہ یہ موضع حیض کے لئے اسم ہو۔ مثلا مقیل (قیلولہ کرنے کی جگہ) یا مبیت (رات گزارنے کی جگہ) وغیرہ۔ لیکن لفظ محیض سے جس مضمون کی طرف اشارہ ہو رہا ہے اس کی دلالت یہ ہے کہ یہاں اس سے حیض مراد ہے اس لئے کہ سوال کا جواب ان الفاظ میں دیا گیا ہے کہ ” یہ گندگی کی حالت ہے “ یہ بات حیض کی صفت موضع حیض کی نہیں ہوسکتی لوگوں نے دراصل اس کے حکم کے متعلق سوال کیا تھا اور یہ پوچھا تھا کہ اس حالت میں ان کا طرز عمل کیا ہونا چاہیے۔ اس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ مدینہ میں یہود ان کے پڑوسی تھے جو حیض کی حالت میں عورتوں کے ساتھ کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا بھی ترک کردیتے تھے اس لئے مسلمانوں نے یہ جاننا چاہا کہ اسلام میں اس کا کیا حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا ھواذیً یعنی حیض نجاست اور گندگی ہے حیض کی اس کیفیت کے بیان سے یہ لازم آگیا کہ لوگ اس سے اجتناب کریں اس لئے کہ انہیں نجاستوں سے اجتناب کا پہلے ہی سے علم تھا۔ اس بنا پر حیض پر نجاست اور گندگی کا اطلاق کر کے انہیں سمجھا دیا کہ اس سے اجتناب ضروری ہے۔ نجاستوں پر لفظ اذی کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس کی دلیل حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ قول ہے ۔- اذا اصاب نعل احدکم اذی فلیمسحھا ب الارض ولیصل فیہ فانہ لہ طھور، جب تم میں سے کسی کے جوتے کو نجاست لگ جائے تو اسے زمین پر گڑ کر صاف کرلے اور اس کے ساتھ نماز پڑھ لے کیونکہ زمین اس کی طہارت کا ذریعہ ہے) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجاست کو اذی کا نام دیا۔ نیز جب یہ بات واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ھواذی فرما کر یہ خبر نہیں دی کہ حیض کی وجہ سے لوگوں کو اذیت ہوتی ہے کیونکہ اس اطلاع کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ لوگوں کو فطری طور پر یہ بات م معلوم تھی۔ اس بنا پر ہمیں یہ پتہ چل گیا کہ ھواذی فرما کر دراصل اس کی نجاست اور اس سے اجتناب کی اطلاع دی جا رہی ہے کیونکہ ہر وہ چیز جس پر لفظ اذی کا اطلاق ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ وہ نجاست ہو مثلاً یہ قول باری ہے ولاجناح علیکم ان کان بکم اذیً من مطر، تم پر کوئی گناہ نہیں ہے اگر تمہیں بارش کی وجہ سے وقت ہو…) بارش نجس نہیں ہوتی۔ اسی طرح قول باری ہے ولتسمعن من الذین اوتوالکتاب من قبلکم و من الذین اشرکوا اذی کثیراً ۔ اور تم ضرور ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے) اس لئے زیر بحث آیت میں جس اذی کا ذکر ہوا ہے اس سے مراد نجاست ہے اور ایسی گندگی جس سے اجتناب لازم ہے یہ تشریح اس لئے کی گئی کہ سوال کرنے والوں کے سوال کا یہی مقتضیٰ تھا اور خطاب کے الفاظ کی بھی اس پر دلالت ہو رہی ہے۔ فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ حیض کی حالت میں مافوق الازار استمتاع جائز ہے لیکن اختلاف اس میں ہے کہ کن باتوں سے اجتناب ضروری ہے۔ پہلی بات کی اجازت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طرز عمل سے حاصل ہوئی جس کی روایت حضرت عائشہ (رض) اور حضرت میمونہ (رض) نے ان الفاظ میں کی کہ آپ ازواج مطہرات سے حیض کے دوران مافوق الازارہم کنار ہوتے تھے۔ فقہاء کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ فرج سے اجتناب ضروری ہے لیکن ماتحت الازاراستمتاع میں اختلاف رائے ہے۔- حضرت عائشہ (رض) اور حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ فرج کے ماسوا اس کے لئے عمل جنسی کرنا جائز ہے ۔ (اس میں دبر داخل نہیں ہے اس لئے کہ ایتان و بریہرصورت حرام ہے) یہی سفیان ثوری اور محمد بن الحسن کا قول ہے۔ ان دونوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ خون نکلنے کی جگہ سے اس عمل کے دوران پرہیز کرے گا۔ اسی قسم کی روایت حسن بصری، شعبی، سعید بن المسیب اور ضحاک …

Al-Baqara 2:222Listen in Qur'an →
223

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌۭ لَّكُمْ فَأْتُوا۟ حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ وَقَدِّمُوا۟ لِأَنفُسِكُمْ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّكُم مُّلَٰقُوهُ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ

تمہاری عورتیں تمہارای کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ۔ اور اپنے لئے (نیک عمل) آگے بھیجو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ (ایک دن) تمہیں اس کے روبرو حاضر ہونا ہے اور (اے پیغمبر) ایمان والوں کو بشارت سنا دو

(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)- اگر ہم ان کو ہمارے مخالف کے قول کے مطابق عمل میں لائیں تو اس صورت میں دو میں سے ایک غایت کا اسقاط لازم آئے گا کیونکہ ہمارا مخالف یہ کہتا ہے کہ اگر حائضہ پاک بھی ہوجائے اور اس کا خون رک بھی جائے پھر بھی غسل سے پہلے وطی کرنا جائز نہیں ہوگا۔ اگر ہم اس بات کو اپنے مخالف کے خلاف ابتدائی دلیل کے طور پر استعمال کریں تو ہمارے لئے اس کی گنجائش ہے اور ہماری یہ دلیل اسے مطمئن کرسکتی ہے ہمارے اصحاب نے اس عورت کے متعلق جس کے ایام دس دن سے کم ہوں اور اس کا خون رک جائے وطی کی اباحت کے لئے یہ شرط رکھی ہے کہ یا تو وہ غسل کرے لے یا اس پر ایک نمازکا وقت گزر جائے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ دوبارہ خون جاری ہوجائے اور یہ خون حیض بن جائے کیونکہ ہر طہر جسے عورت دیکھتی ہے صحیح طہر نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ حائضہ عورت کبھی خون کہ بہتا ہوا دیکھتی ہے اور کبھی رکا ہوا۔ اس لئے خون کا ایسے وقت میں رک جانا جس میں حیض آسکتا ہو اس امر کا سبب نہیں بن سکتا کہ اس پر زوال حیض کا حکم لگا دیا جائے۔ اس لئے ہمارے اصحاب نے یہ کہا ہے ایسی عورت میں انقطاع دم کا اعتبار دو میں سے ایک شے کے ذریعے کیا جائے گا یا تو غسل کرلے کہ اس کے ساتھ حیض کا حکم اس سے زائل ہوجائے گا اس پر سب کا اتفاق ہے غسل کرنے کے ساتھ نماز پڑھ لے کیونکہ نمازحیض کے حکم کے منافی ہے۔ اس لئے نماز کی وجہ سے یہ سمجھ لیا جائے گا کہ اس کا حیض ختم ہوگیا یا اس پر ایک نماز کا وقت گزر جائے وقت گزر جانے کے ساتھ اس پر فرض نماز لازم ہوجائے گی اور فرض نماز کالزوم حکم حیض کے بقاء کے منافی ہے کیونکہ یہ جائز ہی نہیں ہے کہ حائضہ کو نماز کی فرضیت لازم ہوجائے۔ اس دوسری صورت میں جب حیض کا حکم منتفی ہو کر طہر کا حکم ثابت ہوجائے گا اور صرف غسل کرنا باقی رہ جائے گا تو یہ وطی سے مانع نہیں ہوگا جس طرح کہ ایک جنبی عورت کی حیثیت ہوتی ہے وہی اس کی ہوجائے گی اور ظاہر ہے کہ اگر اجنبی عورت سے اس کا شوہر ہمبستری کرے تو اس کے لئے ایسا کرنا جائز ہوتا ہے۔- صحابہ کرام سے عدت کی مدت کے اختتام کے لئے غسل کے اعتبار کی جو روایات منقول ہیں وہ ہمارے نزدیک اسی معنی پر محمول ہوں گی۔ عیسیٰ الخیاط نے شعبی سے اور انہوں نے تیرہ صحابہ سے یہ روایت نقل کی ہے جن میں حضرت ابوبکر (رض) حضرت عمر (رض) حضرت ابن مسعود (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) شامل ہیں ان سب کا قول ہے کہ مرد اپنی بیوی کا زیادہ حق دار ہوتا ہے جب تک وہ تیسرے حیض سے غسل نہ کرلے۔ اس قسم کی روایت حضرت علی (رض) ، حضرت عبادہ بن صامت (رض) اور حضرت ابودرد (رض) سے بھی ہے۔ جب عورت کے ایام دس دنوں کے ہوں تو ہمارے نزدیک دس دنوں کے بعد حیض کا وجود نہیں ہوتا اس لئے دس دنوں کے بعد اس پر حیض گزر جانے کا حکم لگانا واجب ہوگا اس لئے کہ اب اس کے حکم کے بقاء کا جواز ممتنع ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے تو صرف حائضہ یا ایسی عورت کی ہمبستری سے منع فرمایا ہے جس کا حیض آسکتا ہو۔ لیکن جب حیض کا حکم مرتفع ہوجائے اور حیض زائل ہوجائے تو اب ہمبستری میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔ اس لئے کہ قول باری ہے فاعتزلوا النساء فی المحیض ولاتقربوھن حتی یطھرن۔- اور اب وہ لامحالہ پاک ہوچکی ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر وہ عدت گزار رہی ہو تو اس کے ساتھ اس کی عدت ختم ہوجاتی ہے اور اس کا حکم وہی ہوتا ہے جو طہر والی دوسری عورتوں کا ہے۔ وطی کی ممانعت کے لئے غسل کے وجوب کا کوئی اثر نہیں ہوتا یعنی غسل سے پہلے وطی کا جواز ہوجاتا ہے جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ جب دس دن سے کم مد ت میں اس کا خون بند ہوجائے تو اس پر غسل واجب ہوجاتا ہے اور غسل کالزوم حکم حیض کے بقاء کے منافی ہے کیونکہ یہ بالکل درست نہیں ہے کہ حائضہ عورت کے لئے غسل لازم ہو جیسا کہ آپ نے نماز کی فرضیت کے سلسلے میں بیان کیا ہے اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ جب …

Al-Baqara 2:223Listen in Qur'an →
224

وَلَا تَجْعَلُوا۟ ٱللَّهَ عُرْضَةًۭ لِّأَيْمَٰنِكُمْ أَن تَبَرُّوا۟ وَتَتَّقُوا۟ وَتُصْلِحُوا۟ بَيْنَ ٱلنَّاسِ ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ

اور خدا (کے نام کو) اس بات کا حیلہ نہ بنانا کہ (اس کی) قسمیں کھا کھا کر سلوک کرنے اورپرہیزگاری کرنے اور لوگوں میں صلح و سازگاری کرانے سے رک جاؤ۔ اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

قول باری ہے ولاتجعلوا اللہ عرضۃ لایمانکم ان تبروا وتتقواوتصلحوا بین الناس واللہ سمیع علیم۔ اللہ کے نام کو ایسی قسمیں کھانے کے لئے استعمال نہ کرو جن سے مقصود نیکی اور تقویٰ اور بندگان خدا کی بھلائی کے کاموں سے باز رہنا ہو۔- اللہ تمہاری ساری باتیں سن رہا ہے اور سب کچھ جانتا ہے) ۔ اس آیت کی دوتفسیریں کی گئیں ہیں اول یہ کہ وہ اپنی قسم کو نیکی، تقوی اور بندگان خدا کی بھلائی کے کاموں کے لئے رکاوٹ بنا دے جب اس سے ان کاموں کو سرانجام دینے کا مطالبہ کیا جائے تو کہہ دے کہ میں نے تو ان کاموں کے نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے اور اس طرح وہ اپنی قسم کو اپنے اور نیکی کے کاموں کے درمیان حائل بنا دے یا یہ کہ نیکی تقوی اور بھلائی کے کاموں پر مامور ہے اگر وہ ان کاموں کے نہ کرنے کی قسم کھائے گا تو اللہ کے حکم کی مخالفت کرے گا۔ اس لئے اسے اپنی قسم توڑ کرنی کی کے یہ کام کرلینے چاہئیں۔ مجاہد، سعید بن جبیر، ابراہیم نخعی، حسن بصری اور طائوس سے یہی منقول ہے اس کی نظیر یہ قول باری ہے ولایاتل اولوا الفضل منکم والسعۃ ان یوتوا اولی القربی والمساکین والمھاجرین فی سبی اللہ اور تم سے جو صاحب حیثیت اور صاحب مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھا بیٹھیں کہ اپنے رشتہ دار مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے۔ اشعث نے ابن سیرین سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوبکر کے پاس دو یتیم پرورش پا رہے تھے ایک کا نام مسطح تھا یہ غزوہ بدر میں بھی شامل ہوچکا تھا۔- جب افک کا مشہور واقعہ پیش آیا تو مسطح اس معاملے میں مخالفین کے ہتھے چڑھ گیا۔ حضرت ابوبکر (رض) کو اس سے بڑا غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ ان دونوں کے ساتھ نہ صلہ رحمی کریں گے اور نہ ہی ان کی کوئی مددکریں گے۔ اس پر یہ آیت ولایاتل اولوا الفضل منکم۔ نازل ہوئی۔ حضرت ابوبکر نے ایک کے لئے کپڑے بنا دیئے اور دوسرے کو سواری مہیا کردی ہم نے زیر بحث آیت کا جو مفہوم بیان کیا ہے سنت میں بھی اسی مفہوم کی روایتیں موجود ہیں۔ حضرت انس بن مالک (رض) ، حضرت عدی بن حاتم اور حضرت ابوہریرہ (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آپ کا یہ قول نقل کیا ہے من حلف علی یمین فوا غیرھا، خیراً منھا خلیات الذی ھو خیر ولیکفرعن یمینہ جو شخص کسی بات کی قسم کھا بیٹھے اور پھر دیکھے کہ کوئی دوسری بات اس سے بہتر ہے تو وہ بہتر بات پر عمل کرے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے۔ آیت زیر بحث کی جو تاوایل ہم نے کی ہے اس کے بھی یہی معنی ہیں اس تاویل کی بنیاد پر قول باری ولاتجعلوا اللہ عرضۃ لایمانکم کا مفہوم یہ ہوگا کہ اس کی قسم اسے بھلائی کے کاموں سے نہ روکے بلکہ وہ بھلائی کے کام کرے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے۔ آیت کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ قول باری عرضۃ لایمانکم۔ سے مراد ہے کثرت سے اللہ کی قسمیں کھانا۔ یہ بات اللہ کے مقابلے میں دلیری کرنے اور ہر الٹے سیدھے کام میں اس کے نام کے بےجا استعمال کی ایک صورت ہے یعنی کثرت سے اللہ کے نام کی قسمیں نہ کھائو تاکہ کم قسمیں کھانے کی صورت میں) ان قسموں کو پورا کرسکو اور قسم توڑنے کے گناہ سے بچ سکو حضرت عائشہ (رض) سے اسی قسم کی ایک روایت ہے۔ جو شخص کسی شئے کا کثرت سے ذکر کرتا ہے وہ اسے نشانہ بنالیا ہے جیسا کہ کوئی کہنے والا یہ کہے کہ ” تم نے تو مجھے نشانہ ملامت بنا لیا ہے “ (جب کوئی شخص کسی کو کثرت سے ملامت کرے تو اس وقت یہ فقرہ بولا جاتا ہے) شاعر کا قول ہے۔ لاتجعلینی عرضۃ اللوائم۔ اے محبوبہ تو مجھے ملازمت کرنے والی عورتوں کا نشانہ نہ بنا۔ اللہ تعالیٰ نے کثرت سے قسم کھانے والوں کی مذمت کی ہے۔ قول باری ہے ولاتطع کل حلاف مھین تم ایسے ہر شخص کی بات نہ مانو جو بہت زیادہ قسمیں کھانے والا ذلیل ہے۔ آیت کا معنی یہ ہوگا کہ اللہ کے نام کو نشانہ نہ بنائو اور اسے ہر الٹے سیدھے کام میں استعمال نہ کرو تاکہ جب تمہاری قسمیں کم ہوں تو تم انہیں پورا …

Al-Baqara 2:224Listen in Qur'an →
225

لَّا يُؤَاخِذُكُمُ ٱللَّهُ بِٱللَّغْوِ فِىٓ أَيْمَٰنِكُمْ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌۭ

خدا تمہاری لغو قسموں پر تم سے مواخذہ نہ کرے گا۔ لیکن جو قسمیں تم قصد دلی سے کھاؤ گے ان پر مواخذہ کرے گا۔ اور خدا بخشنے والا بردبار ہے

قول باری ہے لایواخدکم اللہ باللغوفی ایمانکم ولکن اخذکم بما کسبت قلوبکم واللہ غفور حلیم۔ جو بےمعنی قسمیں تم بلا ارادہ کھالیتے ہو ان پر اللہ گرفت نہیں کرتا مگر جو قسمیں تم سچے دل سے کھاتے ہو ان کی باز پرس وہ ضرور کرے گا۔ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور بردبار ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لفظ اللغو کا کئی مقام پر ذکر کیا ہے۔- اس لئے استعمال کے موقع و محل کی مناسبت سے اس سے مختلف معانی مراد لئے گئے ہیں قول باری ہے۔ لاتسمع فیھا لاغیہ۔ تم جنت میں کوئی فحش اور قبیح کلمہ نہیں سنو گے) یہاں لاغیۃ سے مراد فحش اور قبیح کلمہ ہے۔ اس طرح قول باری لایسمعون فیھا لغواً ولاتاثیماً ۔ وہ جنت میں کوئی لغو اور گناہ میں مبتلا کرنے والی بات نہیں سنیں گے) یہاں لفظ لغو کا وہی مفہومہ ہے جو پچھلی آیت میں لاغیۃ کا ہے۔ نیز قول باری ہے واذاسمعوا اللغوا عرضواعنہ اور جب کوئی لغو بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں یہاں لغو سے مراد کفر اور کلام قبیح ہے۔ اسی طرح قول باری ہے والغوافیہ اور قرآن سننے کے درمیان غل مچا دیا کرو۔ یہاں اس سے مراد وہ شور و غل ہے جس کا کوئی فائدہ نہ ہوتا کہ سامعین کے ذہنوں کو قرآن سننے کی طرف سے مشغول کردیا جائے۔ اسی طرح قول باری ہے واذا مروا باللغومروکداما اور جب یہ کسی فضول چیز کے پاس سے گزرتے ہیں تو دامن بچا کر وقار سے گزر جاتے ہیں) یہاں لغو سے مراد فضول اور باطل گفتگو یا شئے ہے جب کوئی شخص بےفائدہ اور بےمعنی گفتگو کرے تو محاورے میں یہ فقرہ کہا جاتا ہے لغافی کلامہ اس نے فضول اور لایعنی باتیں کیں۔ بےمعنی قسم کے متعلق سلف سے کئی اقوال منقول ہیں حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ یہ وہ شخص ہے جو کسی ایسی بات کی قسم کھا بیٹھتا ہے جس کے متعلق اس کا خیال ہو کہ وہ ایسی ہی ہوگی حالانکہ وہ ایسی نہیں ہوتی مجاہد اور ابراہیم نخعی سے بھی اسی طرح کی روایت ہے۔ مجاہد نے قول باری ولکن یواخذکریما عقدتم الایمان۔ مگر جو قسمیں تم جان بوجھ کر کھاتے ہو اس کی وہ ضرور تم سے بازپرس کرے گا) کی تفسیر میں کہا ہے کہ تم جانتے ہوئے ایک چیز کی قسم کھا بیٹھو یہی معنی قول باری بما کسبت قلوبکم کا بھی ہے حضر ت عائشہ (رض) کا قول ہے کہ یمین لغویہ ہے کہ کوئی شخص یہ کہے ” لاو اللہ یا بلی واللہ (نہیں، بخدا نہیں یا بخدا کیوں نہیں) حضرت عائشہ (رض) سے یہ روایت مرفوعاً بھی نقل ہوئی ہے۔ ہمارے نزدیک اس سے مراد گزری ہوئی بات پر قسم کھانے سے روکنا ہے عطاء نے اس کے متعلق حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ کوئی شخص یہ کہے ” فعلنا واللہ کذایاصنعنا واللہ کذا، (بخدا ہم نے یہ کام کیا یا بخدا ہم نے یہ حرکت کی) حسن بصری اور شعبی سے بھی اسی قسم کی روایت ہے اس کے متعلق سعید بن جبیر کا قول ہے یہ وہ شخص ہے جو کسی حرام کام کے کرنے کی قسم کھا لیتا ہے پھر وہ کام نہ کرنے پر اللہ اس کی گرفت نہیں کرتا “۔- آیت زیر بحث کی یہ تاویل قول باری عرضۃ لایمانکم کی اس تاویل کے مطابق ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کسی شخص کا قسم کے ذریعے ایک مباح فعل سے باز رہنا یا ممنوع فعل کر گزرنا ہے اب جبکہ لفظ لغو ان تمام معانی کا احتمال رکھتا ہے اور دوسری طرف یہ بھی واضح ہے کہ باری تعالیٰ نے اپنے قول ولکن یواخذکم بما کسبت قلوبکم کا ماقبل کے قول پر عطف کر کے ایسی قسم مراد لی ہے جس کی گرہ دل میں جھوٹ اور خلاف واقعہ بات پر باندھی جائے۔ تو اس سے یہ واجب ہوجاتا ہے کہ آیت میں جس گرفت اور مواخذہ کا ذکر ہے وہ سزائے آخرت ہو اور اس قسم کے ٹوٹنے پر کفارہ لازم نہ آئے۔ اس لئے کہ اس کفار سے کا دل کے کسب سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اس کے ذریعے قاصد خیر اور قاصد شرودنوں کا حال یکساں ہوتا ہے نیز عمد اور سہو دونوں کا حکم بھی ایک جیسا ہوتا ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوگیا کہ آیت میں مذکورہ عقوبت سے مراد وہ سزا ہے جو اسے یمین غموس کا ارادہ کرنے پر …

Al-Baqara 2:225Listen in Qur'an →
226

لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍۢ ۖ فَإِن فَآءُو فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

جو لوگ اپنی عورتوں کے پاس جانے سے قسم کھالیں ان کو چار مہینے تک انتظار کرنا چاہیئے۔ اگر (اس عرصے میں قسم سے) رجوع کرلیں تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

ایلاء کا بیان - قول باری والذین یویون من نساء ھم تربص اربعۃ اشھر جو لو اپنی بیویوں سے ہمبستری نہ کرنے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں ان کے لئے مہلت چار ماہ تک ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ لغت میں ایلاء حلف کو کہتے ہیں۔ چناچہ عرب کہتے ہیں الی یولی ایلاء والیۃ) کثیر کا شعر ہے۔ قلیل الا لا یا حافظ لیمینہ و ان مدرت منہ الایہ برت۔۔ میرا ممدوح بہت کم قسمتیں کھاتا ہے لیکن اپنی کھائی ہوئی قسم کی حفاظت پوری طرح کرتا ہے اور اگر اس کے منہ سے کوئی قسم نکل جائے تو وہ پوری ہوسکتی ہے۔ لغت میں ایلاء کے اصل معنی یہی ہیں۔ شریعت میں ایلاء بیوی کے ساتھ ہمبستری ترک کرنے کی قسم کو کہتے ہیں جس کے نتیجے میں مدت گزرنے کے ساتھ ہی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ حتی کہ اگر کوئی شخص یہ فقرہ کہے ” آلی فلان من امراتہ (فلاں نے اپنی بیوی سے ایلا کرلیا) تو اس سے درج بالا مفہوم ہی سمجھ میں آتا ہے۔ ایک شخص کس قسم کی قسم کھا کر ایلاء کرنے والا (مولی) بنتا ہے۔ اس کے متعلق اہل علم کے درمیان اختلاف کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک تو وہ صورت ہے جس کی روایت حضرت علی (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) سے حسن بصری اور عطاء بن ابی رباح نے کی ہے کہ اگر کوئی شخص یہ قسم کھائے کہ وہ رضاعت کی بنا پر عورت سے قربت نہیں کرے گا تو ایسا شخص مولی نہیں ہوگا۔- مولی صرف اس وقت بنے گا جب غصے کی بنا پر اہ ربیوی کو نقصان پہنچانے کی غرض سے قسم کھائے کہ وہ اس کے ساتھ ہمبستری نہیں کرے گا۔ دوسری روایت حضرت ابن عباس (رض) سے ہے کہ ہر وہ قسم جو جماع کے لئے رکاوٹ بن جائے ایلاء ہے۔ اس کے اندر رضا اور غضب کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے یہی ابراہیم نخعی، ابن سیرین اور شعبی کا قول ہے۔ تیسری وہ صورت ہے جس کی روایت سعید بن المسیب سے کی گئی ہے کہ اس کا تعلق جماع اور غیر جماع جیسی باتوں سے ہے مثلا یہ قسم کھالے کہ وہ بیوی سے بات نہیں کرے گا اس سے وہ شخص مولی بن جائے گا۔ جعفر بن برقان نے یزیدبن الاصم سے یہ نقل کیا ہے کہ میں نے ایک عورت سے نکاح کرلیا پھر میری ملاقات حضرت ابن عباس (رض) سے ہوئی۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے اس کے اخلاق و عادات اچھے نہیں ہیں۔ یہ سن کر میں نے کہا ” بخدا وہ جا چکی ہے اور اب میں اس سے بات تک بھی نہیں کروں گا “۔ یہ سن کر حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا ” چار ماہ گزرنے سے پہلے پہلے تم اس کے پاس چلے جائو “۔ حضرت ابن عباس (رض) کا یہ قول سعید بن المسیب کے قول اور حضرت ابن عمر (رض) کے اس قول کی موافقت پر دلالت کرتا ہے کہ قسم کھائے بغیر کنارہ کشی بھی ایلاء کی ایک صورت ہے۔ چوتھی صورت وہ ہے جو حضرت ابن عمر (رض) کے اس قول پر مشتمل ہے کہ اگر اس نے اپنی بیوی کو چھوڑ دیا اور اس سے کنارہ کشی کرلی تو یہ ایلاء ہے حضرت ابن عمر (رض) نے اس میں قسم اٹھانے کا ذکر نہیں کیا۔- جن لوگوں نے بیوی کو نقصان پہنچانے کی خاطر ترک جماع اور نقصان نہ پہنچانے کے ارادے سے اس کے ترک میں فرق کیا ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ جماع عورت کا حق ہے جس کا وہ مطالبہ بھی کرسکتی ہے اور شوہر کو اسے اس حق سے محروم کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس لئے اگر وہ قسم کھا کر بیوی کے حق جماع کا تارک بن جائے گا تو وہ مولی ہوگا یہاں تک کہ بیوی اپنی علیحدگی کے حق تک پہنچا جائے اس لئے کہ مرد کے لئے اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے کہ اسے معروف طریقے سے اپنی بیوی بنائے رکھے یا حسن سلوک کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے چھوڑ دے۔ اگر ترک جماع سے اس کا ارادہ کسی بھلائی کا ہو مثلا بیوی بچے کو دودھ پلاتی ہو اور شوہر اس سے ہمبستری نہ کرنے کی قسم کھالے تاکہ ہمبستری سے دودھ خراب ہوجانے کی بنا پر بچے کو نقصان نہ پہنچے۔ تو اس صورت میں بیوی کو اس کے حق سے محروم کرنے کا کوئی ارادہ شامل نہیں ہوگا اور نہ ہی معروف طریقے سے اسے بیوی بنائے رکھنے کی کوئی خلاف ورزی ہوگی۔ اس لئے تیسری بات یعنی بھلے طریقے سے اسے چھوڑ …

Al-Baqara 2:226Listen in Qur'an →
227

وَإِنْ عَزَمُوا۟ ٱلطَّلَٰقَ فَإِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ

اور اگر طلاق کا ارادہ کرلیں تو بھی خدا سنتا (اور) جانتا ہے

قول باری ہے وان عزموا الطلاق فان اللہ سمیع علیم۔ اور اگر وہ طلاق کی ہی ٹھان لیں تو اللہ سننے والا جاننے والا ہے) ۔- ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ طلاق کی ٹھان لینے کے متعلق جبکہ وہ رجوع نہ کرے، سلف کا اختلاف درج ذیل ہے حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ چار ماہ گزر جانا عزیمت طلاق ہے یعنی یہ اس بات کی نشانی ہے کہ اس نے طلاق کی ٹھان لی ہے۔ حضرت ابن مسعود (رض) ، حضرت زید بن ثابت (رض) اور حضرت عثمان (رض) کا یہی قول ہے۔ ان سب نے فرمایا ہے کہ مدت گزرنے کے ساتھ ہی اس پر ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی یعنی وہ عدت کے دوران رجوع نہیں کرسکے گا البتہ عدت کے بعد اس سے نکاح کرسکے گا حضرت علی (رض) ، حضرت ابن عمر (رض) اور حضرت ابوالدرداء سے اس بارے میں رویا ات مختلف ہیں۔ ایک روایت کے مطابق ان حضرات کا بھی وہی قول ہے جو پہلے گروہ کا ہے۔ دوسری روایت ہے کہ مدت گزرنے کے بعد بذریعہ عدالت اسے مطلع کیا جائے گا کہ یا تو وہ رجوع کرلے یا طلاق دے دے حضرت عائشہ (رض) اور حضرت ابوالدرداء (رض) کا یہی قول ہے تیسرا قول سعید بن المسیب، سالم بن عبداللہ، ابوبکر بن عبدالرحمن، زہری، عطاء اور طائوس کا ہے کہ جب مدت گزر جائے گی تو اس پر ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی یعنی وہ عدت کے اندر اس سے رجوع کرسکے گا۔ ہمارے اصحاب نے حضرت ابن عباس (رض) اور ان کے ساتھیوں کا قول اختیار کیا ہے کہ اگر رجوع کرنے سے پہلے چار ماہ کی مدت گزر جائے تو اس پر ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔ سفیان ثوری اور حسن بن صالح کا یہی قول ہے امام مالک، لیث بن سعد اور امام شافعی نے حضرت ابوالدرداء (رض) اور حضرت عائشہ (رض) کا قول اختیار کیا ہے کہ مدت گزر جانے کے بعد اسے بذریعہ عدالت مطلع کیا جائے گا کہ یا تو رجوع کرلے یا طلاق دے دے طلاق کی صورت میں اس پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔ امام مالک کا قول ہے کہ جب تک وہ عدت کے اندر اس سے وطی نہیں کرے گا اس کا رجوع درست نہیں ہوگا۔- امام شافعی کا قول ہے کہ مدت گزرنے کے بعد اگر عورت وطی سے دامن بچائے تو اس کے بعد بھی وہ وطی کا مطالبہ کرسکتی ہے اور جماع کے لئے ایک دن سے زائد کی مہلت نہیں دی جائے گی امام اوزاعی نے سعید بن المسیب اور سالم بن عبداللہ اور ان کے ساتھیوں کا قول اختیار کیا ہے کہ مدت گزرنے کے ساتھ اس پر ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری وان عزموا الطلاق وان اللہ سمیع علیم) ان تمام وجوہ کا احتمال رکھتا ہے جو سلف کے اختلاف کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔ اگر آیت میں ان وجوہ کا احتمال نہ ہوتا تو یہ حضرات اس کی ا ن صورتوں میں تاویل نہ کرتے۔ اس لئے کہ یہ جائز ہی نہیں ہے کہ لفظ کی وہ تاویل کی جائے جس کا اس لفظ میں احتمال ہی نہ ہو۔ حضرات سلف اہل لغت تھے اور لفظ کے احتمالات اور معانی مختلفہ سے باخبر تھے۔ انہیں یہ بھی خبر تھی کہ لفظ میں کون سے احتمالات نہیں ہوسکتے جب ان حضرات کا اختلاف ان وجوہ کی شکل میں ظاہر ہوا تو اس سے معلوم ہوگیا کہ لفظ میں یہ سارے احتمالات موجود ہیں۔ اس کا ایک اور پہلو بھی ہے ۔- سلف کا یہ اختلاف ان کے درمیان مشہورو معروف تھا لیکن کسی کی طرف سے بھی کسی کی تردید نہیں ہوئی۔ اس طرح ان وجوہ میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کے لئے اجتہاد کی گنجائش پر ایک قسم کا اجماع ہوگیا۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی تو ہمیں یہ ضرورت پیش آگئی ہم ان اقوال میں سے اولیٰ اور حق سے زیادہ قریب قول پر نظر ڈالیں۔ ہم نے دیکھا کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا ہے کہ شوہر کے رجوع سے قبل چار ماہ کی مدت کا گزر جانا عزیمت طلاق ہے یعنی یہ اس بات کی نشانی ہے کہ شوہر نے طلاق کی ٹھان لی ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے مدت گزر جانے تک رجوع نہ کرنے کی عزیمت طلاق کا نام دیا ہے ۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ یہی اس کا نام بن جائے اس لئے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے یہ نام یا تو شرعی طور پر رکھا ہوگا یا لغوی طور پر۔ …

Al-Baqara 2:227Listen in Qur'an →
228

وَٱلْمُطَلَّقَٰتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَٰثَةَ قُرُوٓءٍۢ ۚ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ فِىٓ أَرْحَامِهِنَّ إِن كُنَّ يُؤْمِنَّ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ ۚ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِى ذَٰلِكَ إِنْ أَرَادُوٓا۟ إِصْلَٰحًۭا ۚ وَلَهُنَّ مِثْلُ ٱلَّذِى عَلَيْهِنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ ۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌۭ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنی تئیں روکے رہیں۔ اور اگر وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کا جائز نہیں کہ خدا نے جو کچھ ان کے شکم میں پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں۔ اور ان کے خاوند اگر پھر موافقت چاہیں تو اس (مدت) میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔ اور عورتوں کا حق (مردوں پر) ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر ہے۔ البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔ اور خدا غالب (اور) صاحب حکمت ہے

(والمطلقات یتربصن بانفسھن ثلاثہ مودء اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین قرہ یعنی حیض تک انتظار میں رکھیں گی) اب تین حیض کے انتظار کی صورت میں مدت کے گزرتے ہی دونوں میں علیحدگی ہوجاتی ہے تو ضروری ہے کہ ایلاء کے انتظار کا بھی کئی وجوہ سے یہی حکم ہو کہ مدت گزرتے ہی طلاق واقع ہوجائے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ اگر ہم بذریعہ عدالت مولی کو مطلع کریں تو پھر انتظار کی مدت چار ماہ سے بڑھ جائے گی اور یہ بات کتاب اللہ کے خلاف ہے اور اگر مولی اپنی بیوی سے ایک یا دو سال غائب رہے اور عورت یہ معاملہ عدالت میں نہ لے جائے اور اپنے حق کا بھی مطالبہ نہ کرے تو پھر انتظار کے وقت کی کوئی مقدار متعین نہیں ہوگی اور یہ بات بھی کتاب اللہ کے خلاف ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ قرہ یعنی حیض کے انتظار کی صورت میں جب مدت گزرتے ہی میاں بیوی کے درمیان علیحدگی واقع ہوجاتی ہے تو ایلاء میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے ان دونوں میں جو مشترک چیز ہے وہ دونوں مدتوں میں تریص یعنی انتظار کا مذکور ہونا ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک مدت شوہر کے قول کی بنا پر واجب ہوتی ہے اور پھر مدت کے ساتھ علیحدگی کا حکم متعلق ہوتا ہے۔ جب ان میں سے ایک کے اندر مدت کے گزرنے کے ساتھ علیحدگی کے حکم کا تعلق ہوجاتا ہے اور دوسری کے ساتھ بھی ایسا ہی ہونا چاہیے دونوں میں مشترک جو چیز ہے یعنی شوہر کا قول اس کا ابھی ہم نے ذکر کیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ نامرد کو بالاتفاق ایک سال کی مہلت دی جاتی ہے اور سال گزرنے کے بعد جماع نہ ہونے کی صورت میں اس کی بیوی کو علیحدہ ہونے کا اختیار دیا جاتا ہے۔ اس چیز سے مدت میں زیادتی لازم نہیں آتی۔ اسی طرح ایلاء میں مدت گزرنے کے بعد وقف (بذریعہ عدالت شوہر کو مطلع کر کے اسے رجوع کرنے یا طلاق دینے کے لئے کہنا) کے ایجاب سے مدت میں زیادتی لازم نہیں آتی۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ نہ تو کتاب اللہ میں اور نہ ہی سنت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نامرد کے لئے مہلت کی مدت کی تعیین ہے۔- یہ حکم تو اقوال سلف سے اخذ کیا گیا ہے جن حضرات نے اس کے لئے ایک سال کی مہلت کا تعین کیا ہے انہوں نے ہی عورت کو یہ اختیار دیا ہے کہ جماع نہ ہونے کی صورت میں سال گزرنے کے بعد وہ اس سے علیحدگی اختیار کرلے۔ انہوں نے مدت کے گزر جانے سے پہلے عورت پر طلاق واقع نہیں کی۔ اس کے برعکس ایلاء کی مدت کتاب اللہ کے ذریعے مقرر کی گئی ہے اور اس کے ساتھ تخیر کا ذکر نہیں کیا گیا، اس لئے اس مقررہ مدت پر اضافہ کتاب اللہ کے حکم کے خلاف ہوگا۔ نیز نامرد کو دی گئی مہلت کے گزرنے پر اس کی بیوی کو اختیار ملتا ہے۔ اور ایلاء کی مہلت معترض کے نزدیک شوہر پر رجوع کو واجب کرتی ہے۔ چناچہ اگر شوہر کہہ دے کہ میں رجوع کرتا ہوں تو میاں بیوی کو علیحدہ نہیں کیا جائے گا۔ اگر نامرد یہ کہہ دے کہ میں مہلت کی مدت گزرنے کے بعد جماع کرلوں گا تو اس کے قول پر کان نہیں دھرا جائے گا اور عورت کے اختیار کی بنا پر دونوں میں علیحدگی کردی جائے گی۔ اگر یہ کہا جائے کہ ایلاء نہ تو طلاق صریح ہے اور نہ ہی طلاق کنایہ، اس لئے یہ واجب ہے کہ طلاق واقع نہ ہو۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ لعان بھی تو نہ طلاق صریح ہے اور نہ طلاق کنایہ، اس لئے معترض کے قول کے بموجب یہ ضروری ہے کہ لعان کی صورت میں میاں بیوی کے درمیان علیحدگی نہ کی جائے یہاں تک کہ حاکم اپنے حکم کے ذریعے دونوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر دے۔- ہمارے اصول کی بنا پر یہ بات ہمیں لازم نہیں آتی کیونکہ ایلاء میں اس کا جواز ہے کہ وہ علیحدگی کے لئے کنایہ بن جائے۔ کیونکہ شوہر کا یہ کہنا کہ میں تجھ سے قربت نہیں کروں گا طلاق کے کنایہ کے مشابہ ہے اور چونکہ کنایہ صریح کی بہ نسبت کمزو ر ہوتا ہے اس لئے اس کی وجہ سے اس وقت تک طلاق واقع نہیں ہوگی جب تک کہ ایک بات اس کے ساتھ شامل نہ ہوجائے اور وہ ہے مدت کا اسی طریقے پر گزر …

Al-Baqara 2:228Listen in Qur'an →
229

ٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌۢ بِإِحْسَٰنٍۢ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُوا۟ مِمَّآ ءَاتَيْتُمُوهُنَّ شَيْـًٔا إِلَّآ أَن يَخَافَآ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا ٱفْتَدَتْ بِهِۦ ۗ تِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ

طلاق (صرف) دوبار ہے (یعنی جب دو دفعہ طلاق دے دی جائے تو) پھر (عورتوں کو) یا تو بطریق شائستہ (نکاح میں) رہنے دینا یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا۔ اور یہ جائز نہیں کہ جو مہر تم ان کو دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لے لو۔ ہاں اگر زن و شوہر کو خوف ہو کہ وہ خدا کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو اگر عورت (خاوند کے ہاتھ سے) رہائی پانے کے بدلے میں کچھ دے ڈالے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ خدا کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں ان سے باہر نہ نکلنا۔ اور جو لوگ خدا کی حدوں سے باہر نکل جائیں گے وہ گنہگار ہوں گے

(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)- یہ بات اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ بیوی کا حق ہے کہ شوہر اس کے اور دوسری بیوی کے درمیان دنوں کو تقسیم کر دے اور باریاں مقرر کر دے۔ اس لئے کہ اس صورت میں ایک بیوی کو چھوڑ کر دوسری بیویوں کی طرف میلان کا اظہار نہیں ہوگا۔ نیز یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اس کے ساتھ ہمبستری کرنا بھی اس پر لازم ہے کیونکہ قول باری ہے فتذدوھا کالمعلقۃ یعنی نہ تو وہ آزاد ہو کہ کہیں اور نکاح کرلے اور نہ ہی شوہر والی ہو کیونکہ مرد نے اس کے ساتھ ہمبستری کا حق پورا نہیں کیا۔ عورت کا بھی یہ حق ہے کہ مرد اس کو نقصان پہنچانے کی نیت سے نہ روکے رکھے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ نیز فرمایا ولاتعضلوھن ان ینکحن ازواجھن اذا ترا ضوابینھم بالمعروف۔ عورتوں کو طلاق دینے کے بعد تم اس میں مانع نہ بنو کہ وہ اپنے زیر تجویز شوہروں سے نکاح کرلیں جب کہ وہ معروف طریقے سے باہم مناکحت پر رضامند ہوں) اگر یہ خطاب شوہر سے ہے تو یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جب اس کی طرف شوہر کا میلان ختم ہوجائے تو اس کا حق یہ ہے کہ شوہر اسے طلاق نہ دے کر کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنے کے راستے میں حائل نہ ہو۔- شوہر پر عورتورں کے یہ وہ حقوق ہیں جن کا اثبات درج بالا آیتوں میں کیا گیا ہے۔ عورتوں پر مردوں کے جن حقوق کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے ان میں سے چند یہ ہیں ارشاد ہے فالصالحت قانتات حافظات للغیب بما حفظ اللہ ، پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت اور نگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں) اس بارے میں کئی اقوال ہیں۔ ایک قول ہے کہ شوہر نے بیوی کے رحم میں جو قطرے ٹپکائے ہیں ان کی وہ حفاظت کرے اور اسقاط کے لئے حیلے نہ کرے۔ ایک قول ہے کہ اپنے بستر کو شوہر کے لئے محفوظ رکھے یعنی بدکاری سے بچے۔ ایک احتمال یہ بھی ہے کہ گھر میں شوہر کا جو مال و متاع ہو اس کی اور اپنی دونوں کی حفاظت کرے اس کی بھی گنجائش ہے کہ درج بالا تمام احتمالات مراد ہوں کیونکہ الفاظ میں ان سب کی گنجائش ہے۔ قول باری الرجال قوامون علی النساء) نے یہ بتادیا کہ بیوی پر شوہر کی اطاعت لازم ہے۔ کیونکہ شوہر کو قوامیت کے وصف سے متصف کرنا اس کا متقاضی ہے۔ نیز قول باری واللاتی تخافون نشوزھن فعظوھن واھجروھن فی المضاجع واضربوھن فان اطعنکم فلاتبعو علیھن سبیلاً اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھائوخواب گاہوں میں ان سے علیحدہ رہو اور مارو۔ پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہوجائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لئے بہانے تلاش نہ کرو) اس پر دلالت کرتا ہے کہ بیوی پر اپنی ذاتی حیثیت سے شوہر کی فرمانبرداری لازمی ہے نیز وہ اس کے ساتھ بدسلوکی سے پیش نہ آئے۔ زوجین میں سے ہر ایک پر دوسرے کے حقوق کے متعلق حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت سی احادیث مروی ہیں ان میں سے بعض تو ایسی ہیں جن کا مضمون درج بالا قرآنی آیات کے مضمون کی طرح ہے اور بعض میں اس سے کچھ زائد باتیں ہیں۔ ان میں سے ایک روایت ہے جسے محمد بن بکر بصری نے ہمیں بیان کی انہیں ابودائود نے انہیں عبداللہ بن محمد النفیلی وغیرہ نے انہیں خاتم بن اسماعیل نے انہیں جعفر بن محمد نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا :” عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہو کیونکہ تم نے اللہ کی امانت کے وسیلے سے انہیں حاصل کیا ہے اور اللہ کے کلمے کے ذریعے ان کی شرمگاہوں کو اپنے لئے حلال کیا ہے۔ تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی ایسے شخص کو قدم نہ رکھنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو، اگر وہ ایسا کریں تو ان کی پٹائی کرو لیکن پٹائی سخت نہ ہو کہ زخموں کے نشان پڑجائیں تم پر ان کے حقوق یہ ہیں کہ معروف طریقے سے ان کے روٹی کپڑے یعنی نان و نفقہ کے ذمہ دار ہو) ۔- لیث نے ملک سے ، انہوں نے …

Al-Baqara 2:229Listen in Qur'an →
230

فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُۥ ۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ ۗ وَتِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍۢ يَعْلَمُونَ

پھر اگر شوہر (دو طلاقوں کے بعد تیسری) طلاق عورت کو دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے اس (پہلے شوہر) پر حلال نہ ہوگی۔ ہاں اگر دوسرا خاوند بھی طلاق دے دے اورعورت اور پہلا خاوند پھر ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ دونوں یقین کریں کہ خدا کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ خدا کی حدیں ہیں ان کو وہ ان لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے جو دانش رکھتے ہیں

(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر :)- اگر اس شخص کے ارادے کے تحت تین طلاقوں کے واقع ہوجانے کی گنجائش نہ ہوتی تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے حلفاً یہ نہ کہلواتے کہ اس نے صرف ایک کا ارادہ کیا۔ اس سلسلے میں ہم نے سلف کے اقوال نقل کر دئیے ہیں اور یہ واضح کردیا ہے کہ اگرچہ یہ طریقہ معصیت کا طریقہ ہے لیکن اس سے طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ اس لیی کتاب و سنت اور اجماع امت ایک ساتھ دی گئی تین طلاقوں کے واقع وہ جانے کو واجب کر رہے ہیں اگرچہ اس طرح طلاق دینا معصیت ہے۔ بشرین الولید نے امام ابویوسف سے نقل کیا ہ کہ ان کے قول کے مطابق حجاج بنارطاۃ اس مسئلے میں بڑے سخت تھے اور کہا کرتے تھے کہ تین طلاق کوئی چیز نہیں ہے ۔- محمد بن اسحاق کا قول ہے کہ تین طلاق کو ایک طلاق کی طرف لوٹا دیا جائے گا۔ انہوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے ہے جو انہوں نے دائون بن حصین سے، انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ حضرت رکانہ بن عبد یزید (رض) نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دیں لیکن انہیں اس کا بڑا صدمہ ہوا۔ انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا کہ تم ن طلاق کس کیفیت سے دی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ” تین طلاقیں دی ہیں “۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کہ ” کیا ایک مجلس میں دی ہیں ؟ “ اس نے اثبات میں جو اب دیا، اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ایک مجلس میں دی گئی یہ تین طلاقیں حقیت میں ایک طلاق ہے، اگر رجوع کرنا چاہو تو جائو جا کر رجوع کرلو، چناچہ حضرت رکانہ نے رجوع کرلیا۔ اسی طرح اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے جو بو عاصم نے ابن جریج سے، انہوں نے طائوس کے ایک بیٹے سے اور انہوں نے اپنے والد طائوس سے روایت کی ہے ابوالصہباء نے حضرت ابن عباس (رض) سے عرض کیا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) کی خلافت کے ابتدائی دور میں تین طلاقوں کو صرف ایک طلاق کی طرف لوٹا دیا جاتا تھا۔ حضرت ابن عباس (رض) نے اثبات میں اس کا جوا دیا۔- ان دونوں روایتوں کے متعلق کہا گیا کہ یہ منکر ہیں۔ سعید بن جبیر، مالک بن الحارث، محمد بن ایاز اور نعمان بن ابی عیاش سب نے حضرت ابن عباس (رض) سے اپنی بیوی کو تین طلاق دینے والے کے متعلق روایت کی ہے کہ اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور اس کی بیوی اس سے علیحدہ ہوگئی۔ ابوالصہباء کی یہ حدیث اور ایک سند سے بھی روایت کی گئی ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) کی خلاف کے ابتدائی دور میں تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھی۔ پھر حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ ن تین طلاقوں کو تین ہی رکھیں ( تو بہتر ہوگا) ہمارے نزدیک اس قول کا مطلب یہ ہے کہ لوگ تین طلاقیں دیا کرتے تھے۔ حضرت عمر (رض) نے ان تینوں کو اسی طرح تین رہنے دیا۔ ابن وہب نے کہا ہے کہ انہیں عیاش بن عبداللہ فہری نے ابن شہاب سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد (رض) سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب عویمر (رض) عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کرا دیا تو عویمر نے کہا کہ اگر میں اسے اپنی زوجیت میں رکھوں گا تو میں جھوٹا قرار پائوں گا اس لیے میں اسے تین طلاق دیتا ہوں۔ اس طرح عویمر (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد سے پہلے ہی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان طقالوں کو نافذ کردیا۔ - کیا حالت حیض میں طلاق واقع ہوجاتی ہے ؟- آیت سنت اور اجماع امت کے جو دلائل ہم پچھلے صفحات میں بیان کر آئے ہیں وہ حیض کی حالت میڈ دی گئی طلاق کے واقع ہوجانے کو واجب کردیتے ہیں اگرچہ حیض کی حالت میں طلاق دینا خود معصیت ہے۔ بعض جاہلوں کا یہ خیال ہے کہ حیض میں دی …

Al-Baqara 2:230Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.