وَلَا تَنكِحُوا۟ ٱلْمُشْرِكَٰتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ ۚ وَلَأَمَةٌۭ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌۭ مِّن مُّشْرِكَةٍۢ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ ۗ وَلَا تُنكِحُوا۟ ٱلْمُشْرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤْمِنُوا۟ ۚ وَلَعَبْدٌۭ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌۭ مِّن مُّشْرِكٍۢ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ يَدْعُونَ إِلَى ٱلنَّارِ ۖ وَٱللَّهُ يَدْعُوٓا۟ إِلَى ٱلْجَنَّةِ وَٱلْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِۦ ۖ وَيُبَيِّنُ ءَايَٰتِهِۦ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
اور (مومنو) مشرک عورتوں سے جب تک کہ ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرنا۔ کیونکہ مشرک عورت خواہ تم کو کیسی ہی بھلی لگے اس سے مومن لونڈی بہتر ہے۔ اور (اسی طرح) مشرک مرد جب تک ایمان نہ لائیں مومن عورتوں کو ان کو زوجیت میں نہ دینا کیونکہ مشرک (مرد) سے خواہ وہ تم کو کیسا ہی بھلا لگے مومن غلام بہتر ہے۔ یہ (مشرک لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں۔ اور خدا اپنی مہربانی سے بہشت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے۔ اور اپنے حکم لوگوں سے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ نصیحت حاصل کریں
مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح - قول باری ہے ولاتنکحوا المشرکات حتی یومن، مشرک عورتیں جب تک ایمان نہ لے آئیں انکے ساتھ نکاح نہ کرو) ہمیں جعفر بن محمد الواسطی نے حدیث بیان کی، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے ، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے ابوطلحہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہ اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ولاتنکحوا المشرکات حتی یومن۔ پھر اہل کتاب کو اس سے مستثنیٰ کردیا۔ چناچہ فرمایا والمحصنات من الذین ادتوا الکتاب من قبلکم اذا تیتموھن اجودھن محصنین غیر مسافحین ولامتخذی اخدان۔ اور محفوظ عورتیں بھی تمہارے لئے حلال ہیں جو ان قوموں میں سے ہوں جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی بشرطیکہ تم ان کے مہر ادا کر کے نکاح میں ان کے محافظ بنو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھپے آشنائیاں کرو) ۔ حضرت ابن عباس (رض) نے محصنات کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ پاکدامن ہوں بدکار نہ ہوں۔- یہ کہہ کر حضرت ابن عباس (رض) نے بتادیا کہ قول باری ولاتنکحوا المشرکات حتی یومن ۔ قول باری والمحصنات من الذین اوتوا الکتاب من قبلکم۔ پر مرتب ہے اور کتابی عورتیں ان سے مستثنیٰ ہیں۔ حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ یہ آیت کتابی اور غیر کتابی تمام عورتوں کو عام ہے۔ ہمیں جعفر بن محمد نے ، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، انہیں ابوعبید، انہیں یحییٰ بن سعید نے عبید اللہ بن نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر (رض) سے روایت بیان کی کہ آپ اہل کتاب کے طعام میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے لیکن ان کی عورتوں سے نکاح کو مکروہ خیال کرتے تھے۔ ابوعبید کہتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن صالح نے، انہیں لیث نے، انہیں نافع نے حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کی جب آپ سے یہودی یا نصرانی عورت سے نکاح کے بارے میں پوچھا جاتا تو آپ فرماتے کہ اللہ تعالیٰ نے مشرک عورتوں کو مسلمانوں پر حرام کردیا ہے۔ آپ یہ بھی فرماتے کہ ” مجھے کسی ایسے شرک کا علم نہیں جو اس بات سے بڑھ کر ہو۔۔۔ یا یوں فرماتے، اس سے زیادہ عظیم ہو۔۔۔ کہ کوئی عورت یہ کہے کہ میرا رب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یا اللہ کے بندوں میں سے کوئی بندہ ہے “۔ حضرت ابن عمر (رض) نے پہلی روایت میں کتابی عورت سے نکاح کو مکروہ کہا ہے لیکن تحریم کا ذکر نہیں کیا جبکہ دوسری روایت میں صرف آیت کی تلاوت کی لیکن قطعی طور پر کوئی بات نہیں کی اور یہ بتایا کہ عیسائیوں کا مذہب شرک ہے۔ ہمیں ابوعبید نے روایت کی ، انہیں علی بن سعد نے ابواللیح سے، انہوں نے میمون بن مہران سے کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے کہا کہ ہم ایسی سرزمین میں رہتے ہیں جہاں ہمارے ساتھ اہل کتاب بھی بستے ہیں، ہم ان کے ساتھ شادی بیاہ بھی کرتے ہیں اور ان کا کھانا بھی کھالیتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت ابن عمر (رض) نے کہا میرے سامنے آیت تحلیل اور آیت تحریم دونوں تلاوت کردیں میں نے پھر کہا کہ یہ آیتیں تو میں بھی پڑھتا ہوں لیکن ہم ان کی عورتوں سے نکاح کرتے اور ان کا کھانا کھاتے ہیں یہ سن کر حضرت ابن عمر (رض) نے دوبارہ آیت تحلیل اور آیت تحریم کی تلاوت کردی۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) کا اباحت یا ممانعت کے جواب سے پہلو تہی کر کے آیت کی تلاوت کردینا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کو اس کے حکم کے متعلق توقف تھا یعنی اس حکم کے متعلق آپ کوئی قطعی رائے نہیں رکھتے تھے کراہت کی جو روایت آپ سے منقول ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کے نزدیک یہ کراہت تحریم کی بنا پر نہیں تھی جس طرح کہ ایسی کتابی عورتوں سے نکاح کرنا جن کا تعلق اہل حرب سے ہو یعنی ایسے لوگوں سے ہو جو مسلمانوں سے پر سرپیکار ہوں۔ یہ کراہت بھی تحریم کی بنا پر نہیں ہوتی۔- کتابی عورتوں سے نکاح پر صحابہ کا تعامل۔۔۔ صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت سے کتابی عورتوں سے نکاح کی اباحت منقول ہے ہمیں جعفر بن محمد الواسطی نے ، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، …