Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 211–220 of 286

211

سَلْ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ كَمْ ءَاتَيْنَٰهُم مِّنْ ءَايَةٍۭ بَيِّنَةٍۢ ۗ وَمَن يُبَدِّلْ نِعْمَةَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَإِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

(اے محمد) بنی اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے ان کو کتنی کھلی نشانیاں دیں۔ اور جو شخص خدا کی نعمت کو اپنے پاس آنے کے بعد بدل دے تو خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

Explained together with ayah 210

Al-Baqara 2:211Listen in Qur'an →
212

زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ۘ وَٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ فَوْقَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ وَٱللَّهُ يَرْزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍۢ

اور جو کافر ہیں ان کے لئے دنیا کی زندگی خوشنما کر دی گئی ہے اور وہ مومنوں سے تمسخر کرتے ہیں لیکن جو پرہیز گار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر غالب ہوں گے اور خدا جس کو چاہتا ہے بےشمار رزق دیتا ہے

Explained together with ayah 210

Al-Baqara 2:212Listen in Qur'an →
213

كَانَ ٱلنَّاسُ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ فَبَعَثَ ٱللَّهُ ٱلنَّبِيِّۦنَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ ٱلْكِتَٰبَ بِٱلْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ ٱلنَّاسِ فِيمَا ٱخْتَلَفُوا۟ فِيهِ ۚ وَمَا ٱخْتَلَفَ فِيهِ إِلَّا ٱلَّذِينَ أُوتُوهُ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ ٱلْبَيِّنَٰتُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ ۖ فَهَدَى ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لِمَا ٱخْتَلَفُوا۟ فِيهِ مِنَ ٱلْحَقِّ بِإِذْنِهِۦ ۗ وَٱللَّهُ يَهْدِى مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍ

(پہلے تو سب) لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا (لیکن وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے) تو خدا نے (ان کی طرف) بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے پیغمبر بھیجے اور ان پر سچائی کے ساتھ کتابیں نازل کیں تاکہ جن امور میں لوگ اختلاف کرتے تھے ان کا ان میں فیصلہ کردے۔ اور اس میں اختلاف بھی انہیں لوگوں نے کیا جن کو کتاب دی گئی تھی باوجود یہ کہ ان کے پاس کھلے ہوئے احکام آچکے تھے (اور یہ اختلاف انہوں نے صرف) آپس کی ضد سے (کیا) تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھا دی۔ اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھا رستہ دکھا دیتا ہے

قول باری ہے (کان الناس امۃ واحدۃ فبعث اللہ النبیین ابتدا میں سب لوگ ایک ہی طریقے پر تھے (پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلاف رونما ہوئے) تب اللہ نے نبی بھیجے) اس کی ایک تفسیر یہ کی گئی ہے کہ تمام لوگ کفر کے طریقے پر تھے اگرچہ ان کے مذاہب مختلف تھے اور یہ ممکن ہے کہ ا ن میں مسلمان بھی ہوں اگرچہ ان کی تعداد تھوڑی تھی، اس صورت حال کے تحت کافروں کی جماعت پر امت کے لفظ کا اطلاق درست ہوگیا اس لئے کہ ایک لفظ کا اطلاق اکثریت اور عمومیت کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ ضحاک اور قتادہ کا قول ہے کہ پہلے تما م لوگ حق کے راستے پر ایک امت تھے لیکن پھر ان میں اختلافات پیدا ہوگئے۔- قول باری ہے (فھدی اللہ الذین امنوا لما اختلفوا فیہ من الحق باذنہ ۔ پس جو لوگ ایمان لائے انہیں اللہ نے اپنے اذن سے اس حق کا راستہ دکھا دیا جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا)- عبداللہ بن طائوس نے اپنے والد طائوس سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (نحن الاخزون السابقون یوم القیامہ بیدان کل امۃ اوتوا الکتاب قبلنا واوتیناہ من بعدھم فھذ ایومھم الذی اختلفوا فیہ فھدانا اللہ لہ و للیھود غد و انصاری بعد غد ہم دنیا میں سب سے آخر میں آئے لیکن قیاتم میں سب سے آگے ہوں گے۔ البتہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد کتاب ملی۔ یہی وہ دن ہے جس کے متعلق انہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق ہمیں سیدھی راہ دکھائی یہود کے لئے آنے والا کل اور نصاریٰ کے لئے آنے والا پرسوں ہے۔ )- اعمش نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے اور آپ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے لیکن اس میں ایک لفظ یہ ہے (یوم لجمعتہ لناوغداللیھود و بعد غد للنصاری جمعے کا دن ہمارے لئے، ہفتے کا دن یہودیوں کے لئے اور اتوار کا دن عیسائیوں کے لئے ہے۔ )- اس حدیث میں یہ بیان ہے کہ قول باری (فھدی اللہ الذین امنوا لما اختلفوا فیہ) سے مراد جمعہ کا دن ہے ۔ لیکن عموم لفظ حق کی ان تمام صورتوں کا متقاضی ہے جن کی ہدایت اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو دی۔ یوم جمعہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ او اللہ اعلم بالصواب

Al-Baqara 2:213Listen in Qur'an →
214

أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا۟ ٱلْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ ٱلَّذِينَ خَلَوْا۟ مِن قَبْلِكُم ۖ مَّسَّتْهُمُ ٱلْبَأْسَآءُ وَٱلضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُوا۟ حَتَّىٰ يَقُولَ ٱلرَّسُولُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ مَتَىٰ نَصْرُ ٱللَّهِ ۗ أَلَآ إِنَّ نَصْرَ ٱللَّهِ قَرِيبٌۭ

کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ (یوں ہی) بہشت میں داخل ہوجاؤ گے اور ابھی تم کو پہلے لوگوں کی سی (مشکلیں) تو پیش آئی ہی نہیں۔ ان کو (بڑی بڑی) سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ (صعوبتوں میں) ہلا ہلا دیئے گئے۔ یہاں تک کہ پیغمبر اور مومن لوگ جو ان کے ساتھ تھے سب پکار اٹھے کہ کب خدا کی مدد آئے گی ۔ دیکھو خدا کی مدد (عن) قریب (آيا چاہتی) ہے

Explained together with ayah 213

Al-Baqara 2:214Listen in Qur'an →
215

يَسْـَٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ ۖ قُلْ مَآ أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍۢ فَلِلْوَٰلِدَيْنِ وَٱلْأَقْرَبِينَ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْرٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٌۭ

(اے محمدﷺ) لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کس طرح کا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ (جو چاہو خرچ کرو لیکن) جو مال خرچ کرنا چاہو وہ (درجہ بدرجہ اہل استحقاق یعنی) ماں باپ اور قریب کے رشتے داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو (سب کو دو) اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے

خرچ کی ابتداء کس سے کی جائے - قول باری ہے (لیسئلونک ماذا ینفقون قل ما انفقتم من خیر خلق الدین و الاقربین والیتامی والمساکین و ابن السبیل، وما تفعلوا من خیر فان اللہ بہ علیم۔ لوگ پوچھتے ہیں ہم کیا خرچ کریں۔ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر، رشتے داروں پر، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو اور جو بھلائی بھی تم کرو گے اللہ اس سے باخبر ہوگا۔ ) ۔ سوال کے ذریعے خرچ کی مقدار پوچھی گئی ہے اور جواب میں کہا گیا ہے کہ جو کچھ تم خرچ کرو گے خواہ اس کی مقدار تھوڑی ہو یا بہت۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بیان کردیا گیا ہے کہ کن لوگوں پر خرچ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا قل ماانفقتم من خیر یہ فقرہ قلیل اور کثیر دونوں کو شامل ہے اس لئے کہ خیر کا لفظ انفاق یعنی خرچ کی ان تمام صورتوں کو شامل ہے جو رضائے الٰہی حاصل کرنے کے لئے کی جاتی ہیں۔ پھر یہ بتادیا کہ کن لوگوں پر خرچ کیا جائے فللوالدین ولاقربین یعنی والدین اور رشتہ دار اور وہ تمام لوگ جن کا اس آیت میں ذکرہوا ہے لیکن والدین اور رشتے داران دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ حق دار ہیں جو قرابت اور تنگدستی میں ان کے ہم پلہ نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں مال کے اس حصے کی نشاندہی فرما دی ہے جس میں سے خرچ کرنا واجب ہے۔- قول باری ہے ویسئلونک ماذا ینفقون قل العفو۔ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ہم راہ خدا میں کیا خرچ کریں کہو جو کچھ ضرورت سے زیادہ ہو۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جو کچھ تمہارے اہل و عیال کے خرچ سے بچ جائے۔ قتادہ کا قول ہے کہ العفو سے مراد الفضل ہے یعنی بچ رہنے والا۔- اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خبر دی ہے کہ انسان کی اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال کے اخراجات سے جو بچ رہے اس سے نفقہ کیا جائے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس قول کے بھی یہی معنی ہیں خیرالصدقۃ ماکان عن ظھر غنی بہترین صدقہ وہ ہے جو غنی یعنی فراخی کی حالت کی موجودگی میں کیا جائے۔ ایک اور روایت میں ہے خیرالصدقۃ ماایقت غنی وابدا بمن تعول۔ بہترین صدقہ وہ ہے جو فراخی کو باقی رہنے دے اور خرچ کی ابتدا اس سے کرو جس کے نان و نفقہ کی ذمہ داری تم پر ہے۔ ان احادیث میں مندرجہ مضمون اس قول باری کے مطابق ہے ویسئلونک ماذا ینفقون قل العفو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بھی مروی ہے الیدالعلیاخیرمن الیدالسفلی وابداء بمن تعول امک وابوک اختک ماخوک دادناک فادناک۔ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ خرچ کی ابتدا ان لوگوں سے کرو جن کے نان و نفقہ کی ذمہ داری تم پر ہے۔ یعنی تمہاری ماں، تمہارا باپ، تمہاری بہن، تمہارا بھائی اور تمہارا قریبی اور اس کے بعد کا قریبی اور اسی طرح آگے تک۔ ثغلبہ بن زہدم اور طارق نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی قسم کی روایت کی ہے۔ یہ حدیث اس آیت کے معنی پر دلالت کر رہی ہے کہ قل ما انفقتم من خیر فللوالدین والاقربین۔ اس سے مراد یہ ہے کہ زیادہ قریبی کو مقدم کیا جائے پھر اس کے بعد کے قریبی کو اور اسی طرح آگے تک۔ حسن بصری سے روایت ہے کہ آیت زکوۃ اور تطوع یعنی خیرات و صدقات سب کے متعلق ہے۔ اس کا حکم باقی ہے اور یہ منسوخ نہیں ہوئی۔ سدی کا قول ہے کہ یہ آیت زکوۃ کی فرضیت کے ساتھ منسوخ ہوگئی ہے۔- ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہوئی بلکہ یہ زکواۃ یعنی فرض اور تطوع دونوں کو عام ہے۔ جہاں تک فرض یعنی زکواۃ کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں والدین اور ولد نیچے تک مراد نہیں ہیں اس لئے کہ انہیں زکواۃ دینے کے متعلق دلیل موجود ہے۔ رہ گیا تطوع یعنی نفلی اخراجات تو یہ سب کے لئے عام ہے۔ پھر جب ہمارے لئے فرضیت زکواۃ کے باوجود ان دونوں صورتوں پر عمل ممکن ہے تو اس آیت پر منسوخ ہونے کا حکم لگانا درست نہیں ہے۔ یہی حکم تمام آیات کا ہے کہ جب ان کے احکام پر کسی ایک کی منسوخیت کے اثبات کے بغیر عمل کرنا ممکن ہو تو اسی …

Al-Baqara 2:215Listen in Qur'an →
216

كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌۭ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰٓ أَن تَكْرَهُوا۟ شَيْـًۭٔا وَهُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰٓ أَن تُحِبُّوا۟ شَيْـًۭٔا وَهُوَ شَرٌّۭ لَّكُمْ ۗ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

(مسلمانو) تم پر (خدا کے رستے میں) لڑنا فرض کردیا گیا ہے وہ تمہیں ناگوار تو ہوگا مگر عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بھلی ہو اور عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ تمہارے لئے مضر ہو۔ اور ان باتوں کو) خدا ہی بہتر جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

قول باری ہے کتب علیکم القتال وھوکرہ لکم تمہیں جنگ کا حکم دیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے۔ آیت کے الفاظ قتال کی فرضیت پر دلالت کرتے ہیں۔ اس لئے کہ کتب علیکم کے معنی فرض علیکم کے ہیں یعنی تم پر جنگ فرض کردی گئی ہے جس طرح کہ روزے کے سلسلے میں فرمایا گیا کہ کتب علیکم الصیام۔ آیت میں مذکورہ القتال میں الف لام یا تو معہود کے لئے ہے جس سے مخاطبین آگاہ ہیں یا معہود کے لئے نہیں بلکہ ہم جنس کے لئے ہے اس لئے کہ اسم نکرہ پر داخل ہونے والے الف لام یا تو معہود کے لئے ہوتے ہیں یا جنس کے لئے۔ اگر اس سے مراد وہ جنگ ہے جس کا مخاطبین کو علم ہے تو یہ کلام اسی کی طرف راجع ہوگا جس طرح کہ قول باری ہے وقاتلوا المشرکین کا نۃ کما یقاتلونکم کافۃ۔ تم اسی طرح تمام مشرکوں سے جنگ کرو جس طرح وہ تم سے جنگ کرتے ہیں۔- یا یہ قول باری ہے ولاتقاتلوھم عندالمسجد الحرام حتی یقاتلوکم فیہ فان قاتلوکم فاقتلوھم۔ ان سے مسجد حرام کے قریب جنگ نہ کرو جب تک کہ وہ یہاں تم سے جنگ نہ کریں اگر وہ تم سے جنگ کریں تو انہیں قتل کرو اگر الف لام سے مراد معہود ہے تو اس میں جنگ کا حکم ایک خاص حالت کے تحت ہوگا اور وہ یہ کہ ہم مشرکین سے اسی وقت جنگ کریں جب وہ ہم سے جنگ کریں۔ اس صورت میں یہ کلام ایسے معہود پر مبنی ہوگا جس کا حکم معلوم ہے اور تاکید کے طور پرا س کے ذکر کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اگر الف لام کسی معہود کے لئے نہیں ہے تو لامحالہ یہ کلام ایسے مجمل کی طرف راجع ہے جس کے بیان اور تفصیل کی ضرورت ہے۔ وہ اس طرح کہ اس حکم کے ورود کے وقت یہ بات معلوم تھی کہ الہ نے ہمیں تمام لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم نہیں دیا اس لئے کلام میں عموم کا اعتقاد رکھنا درست نہیں ہوا، اور جس حکم میں عموم کا اعتقاد نہ رکھا جاسکے وہ مجمل ہوتا ہے اور اسے بیان اور وضاحت کی ضرورت ہوتی ہے۔- ہم عنقریب جہاد کی فرضیت کے متعلق اہل علم کے اختلاف کو بیان کریں گے۔ نیز جہاد کی کیفیت کے بارے میں بھی وضاحت کریں گے۔ جب ہم آیت یقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم۔ پر پہنچیں گے۔ قول باری وھوکرہ لکم کے معنی ہیں کہ یہ تمہیں ناپسند ہے یہاں مصدر کو اسم مفعول کے قائم مقام کردیا گیا ہے۔ جیسے آپ کہتے ہیں کہ فلان رضی اس کے معنی یہ ہیں کہ فلان مرضی (فلاں پسندیدہ ہے)

Al-Baqara 2:216Listen in Qur'an →
217

يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلشَّهْرِ ٱلْحَرَامِ قِتَالٍۢ فِيهِ ۖ قُلْ قِتَالٌۭ فِيهِ كَبِيرٌۭ ۖ وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَكُفْرٌۢ بِهِۦ وَٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِۦ مِنْهُ أَكْبَرُ عِندَ ٱللَّهِ ۚ وَٱلْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ ٱلْقَتْلِ ۗ وَلَا يَزَالُونَ يُقَٰتِلُونَكُمْ حَتَّىٰ يَرُدُّوكُمْ عَن دِينِكُمْ إِنِ ٱسْتَطَٰعُوا۟ ۚ وَمَن يَرْتَدِدْ مِنكُمْ عَن دِينِهِۦ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌۭ فَأُو۟لَٰٓئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

(اے محمدﷺ) لوگ تم سے عزت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان میں لڑنا بڑا (گناہ) ہےاور خدا کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ میں جانے) سے (بند کرنا) ۔ اور اہل مسجد کو اس میں سے نکال دینا (جو یہ کفار کرتے ہیں) خدا کے نزدیک اس سے بھی زیادہ (گناہ) ہے۔ اور فتنہ انگیزی خونریزی سے بھی بڑھ کر ہے۔ اور یہ لوگ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ اگر مقدور رکھیں تو تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں۔ اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر کر (کافر ہو) جائے گا اور کافر ہی مرے گا تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہوجائیں گے اور یہی لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں جس میں ہمیشہ رہیں گے

قول باری ہے یسئلونک عن الشھرالحرام قتال فیہ، قل قتال فیہ کبیر و صدعن سبیل اللہ وکفر بہ والمسجد الحرام و اخراج اھلہ منہ اکبر عنداللہ۔ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ماہ حرام میں لڑنا کیسا ہے ؟ کہو اس میں لڑنا بہت برا ہے مگر راہ خدا سے لوگوں کو روکنا اور اللہ کے کفر کرنا اور مسجد حرام کا راستہ خدا کے بندوں پر بند کردینا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برا ہے) ۔ یہ آیت اشہر حرام میں تحریم قتال کے حکم کو متضمن ہے۔ اس مضمون پر دلالت میں اس کی طرح یہ قول باری ہے (الشھرالحرام بالشھرالحرام و الحرمات قصاص ماہ حرام کا بدلہ ماہ حرام ہی ہے اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہوگا) ۔ اسی طرح قول باری ہے ان عدۃ الشھور عنداللہ اثنا عشر شھراً فی کتاب اللہ یوم خلق السموت والارض منھا اربعۃ حرم ذلک الدین القیم فلا تظلموافیھن انفسکم۔ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد اس کے نوشتے میں بارہ ہے جب سے اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ ان میں چار حرمت کے مہینے ہیں یہی ٹھیک ضابطہ ہے لہٰذا ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔ ہمیں جعفر بن محمد الواسطی نے انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں حجاج نے لیث بن سعد سے، انہوں نے ابوالتربیر سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے، آپ نے فرمایا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اشہر حرام میں کفار سے جنگ نہیں کرتے تھے البتہ اگر آپ پر کافروں کی طرف سے حملہ ہوتا تو پھر ایسا کرتے، جب ماہ حرام آجاتا تو آپ ٹھہر جاتے حتی کہ وہ مہینہ گزر جاتا۔ اس آیت کی منسوخیت کے متعلق اختلاف ہے۔ حضرت عائشہ (رض) کا قول ہے کہ اس کا حکم باقی ہے منسوخ نہیں ہوا۔ عطاء بن ابی رباح کا بھی یہی قول ہے۔ ہمیں جعفر بن محمد نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں حجاج نے ابن جریج سے یہ بیان کیا ہے کہ میں نے عطاء بن ابی رباح سے یہ پوچھا کہ پہلے تو ماہ حرام میں مسلمانوں کے لئے جنگ کرنا حلال نہیں ہوتا تھا پھر اس کے بعد وہ اس ماہ میں کافروں سے جنگ کرنے لگ گئے۔ یہ سن کر عطاء نے مجھ سے حلیفہ کہا کہ مسلمانوں کے لئے یہ حلال ہی نہیں کہ وہ حرم اور ماہ حرام میں جنگ کریں الایہ کہ انہیں جنگ پر مجبور کردیا جائے پھر کہنے لگے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہوئی ہے۔ سلیمان بن یسار اور سعید بن المسیب نے کہا ہے کہ ماہ حرام میں بھی قتال جائز ہے اور یہی فقہائے امصار کا قول ہے۔- اور پہلی آیت اللہ کے اس قول سے منسوخ ہے اقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم تمہیں جہاں کہیں بھی مشرک ملیں انہیں قتل کرو۔ اسی طرح قول باری ہے قاتلوا الذین لایومنون باللہ ولا بالیوم الاخر ان مشرکین سے قتال کرو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اس لئے کہ یہ آیت ماہ حرام میں قتال کی ممانعت کے بعدنازل ہوئی۔ اسی طرح ماہ حرام کے متعلق سائلین کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ کون لوگ تھے۔ حسن اور ان کے سوا دوسروں کا کہنا ہے کہ کافروں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آکر یہ بات پوچھی تھی ان کے اس سوال کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو نشانہ تنقید بنایا جائے کیونکہ انہوں نے ماہ حرام میں قتال کو حلال کردیا تھا۔ بعض دوسروں کا قول ہے کہ یہ سوال خود مسلمانوں نے کیا تھا تاکہ اللہ کے متعلق اللہ کے حکم کا پتہ لگ جائے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس آیت کے نزول کا ایک پس منظر ہے۔ وہ ہے ایک مشرک و اقدبن عبداللہ عمرو بن حضرمی کا قتل جس کا وقوعہ مسلمانوں کے ہاتھوں ہوا تھا۔ اس پر مشرکین نے پروپیگنڈہ شروع کردیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماہ حرام میں قتال کو حلال کردیا۔ اہل جاہلیت حرمت کے مہینوں میں قتال کی حرمت کا اعتقاد رکھتے تھے۔- اللہ تعالیٰ نے انہیں بتادیا کہ ماہ حرام میں قتال علی حالہ ممنوع ہے اور مشرکین کے سامنے ان کی دو عملی کو واضح کردیا کہ ایک طرف تو وہ کفر پر اڑے بیٹھے ہیں اور دوسری طرف ماہ …

Al-Baqara 2:217Listen in Qur'an →
218

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَٱلَّذِينَ هَاجَرُوا۟ وَجَٰهَدُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أُو۟لَٰٓئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ ٱللَّهِ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

جو لوگ ایمان لائے اور خدا کے لئے وطن چھوڑ گئے اور (کفار سے) جنگ کرتے رہے وہی خدا کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ اور خدا بخشنے والا (اور) رحمت کرنے والا ہے

Explained together with ayah 217

Al-Baqara 2:218Listen in Qur'an →
219

۞ يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْخَمْرِ وَٱلْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِيهِمَآ إِثْمٌۭ كَبِيرٌۭ وَمَنَٰفِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَآ أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا ۗ وَيَسْـَٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ ٱلْعَفْوَ ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلْءَايَٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ

(اے پیغمبر) لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کے نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کون سا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح خدا تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو

شراب کی حرمت - ارشاد باری ہے یسئلونک عن الخمروالمسر قل فیھما اثم کبیر و منافع للناس و اثمھما اکبر من نفعھما۔ آپ سے پوچھتے ہیں کہ شراب اور جوئے کا کیا حکم ہے ؟ آپ کہہ دیجئے کہ ان دونوں چیزوں میں بڑی خرابی ہے اگرچہ ان میں لوگوں کے لئے کچھ منافع بھی ہیں مگر ان کا نقصان ان کے فائدے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ آیت تحریم خم کا تقاضا کرتی ہے اگر اس کی تحریم کے لئے کوئی اور آیت نازل نہ بھی ہوتی پھر بھی یہی آیت اس مقصد کے لئے کافی ہوتی۔ اس لئے کہ ارشاد باری ہے قل فیھما اثم کبیر اور گناہ سارے کا سارا حرام ہوتا ہے۔ اس کی دلیل یہ قول باری ہے قل انما حرم ربی الفواحش ماظھرمنھما وما بطن والاثم آپ ان سے کہہ دیجئے کہ جو چیزیں میرے رب نے حرام کی ہیں وہ یہ ہیں بےشرمی کے کام، خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ کردیا کہ گناہ حرام ہے۔ پھر شراب کے متعلق صرف اتنی بات پر اکتفا نہیں کیا کہ اس میں گناہ ہے بلکہ فرمایا گناہ کبیر ہے تاکہ اس کی ممانعت کی اور تاکید ہوجائے اور و منافع للناس میں اس کی اباحت پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے مراد دنیاوی فوائد ہیں اور یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کیونکہ دنیاوی لحاظ سے محرمات کے مرتکبین کو کوئی نہ کوئی فائدہ تو ضرور ہوتا ہے لیکن یہ فوائد انہیں اس عذاب سے نہیں بچا سکتے جو انہیں ملنے والا ہے۔- شراب کے فوائد کا ذکر اس کی اباحت کی دلیل نہیں ہے۔۔ اس بنا پر شراب کے فوائد کا ذکر اس کی اباحت کی دلیل نہیں ہے۔ خاص طور پر جب کہ آیت کے سیاق میں اس کے منافع کے ذکر کے ساتھ اس کی ممانعت کی بھی تاکید کردی ہے چناچہ فرمایا واثمھما اکبر من نفعھما یعنی شراب کے استعمال پر ملنے والے اس فوری فائدے کے مقابلہ میں بہت بڑھ کر ہے جو اسے حاصل ہوسکتی ہے۔ شراب کے متعلق جو دوسری آیتیں نازل ہوئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے یایھا الذین امنوا لاتقرلوا الصلوۃ وانتم سگاری حتی تعلموا ماتقولون۔ اے ایمان والو نشے کی حالت میں نماز کے قریب بھی نہ جائو یہاں تک کہ تمہیں یہ معلوم ہونے لگے کہ تم کیا کہہ ہو۔ اس آیت میں شراب کی اتنی مقدار کی تحریم پر دلالت نہیں ہے جس سے نشہ آجائے۔ اس میں نشہ آور مقدار کی حرمت پر دلالت ہے۔ اس لئے کہ نماز ایک فرض عبادت ہے جس کی ادائیگی کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اور جو چیز نماز کی وقت پر ادائیگی میں رکاوٹ ہو وہ ممنوع ہوگی۔ اب جبکہ نماز حالت سکر میں ممنوع ہے اور شرب خم سے ترک صلوۃ لازم آتی ہے اس بنا پر اس کے پینے کی ممانعت ہوگی اس لئے کہ ایسا کام جو فرض کے لئے رکاوٹ بن جائے وہ ممنوع ہوتا ہے۔ شراب کے متعلق ایک اور آیت ہے جس میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں ہے۔ ارشاد باری ہے انما الفمووا المیسروالانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ۔ یہ شراب، یہ جوا اور یہ آستانے اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے پرہیز کرو تاقول باری فھل انتم منتھون کیا تم باز آجائو گے۔ اس آیت میں شراب کی حرمت کا کئی وجوہ سے ذکر ہے۔ اول یہ قول باری ہے رجس من عمل الشیطان۔ رجس کا اطلاق صرف اسی چیز پر کرنا درست ہوتا ہے جو ممنوع اور حرام ہو پھر اس کی تاکید اپنے اس ارشاد فاحتنبوہ سے کی۔ یہ امر ہے جس کا تقاضا ہے کہ اس کے اجتناب کو اپنے اوپر لازم کرلیا جائے۔ پھر یہ فرمایا فھل انتم منتھون جس کا مفہوم یہ ہے کہ فانتھوا یعنی باز آجائو۔- کیا شراب کی قلیل مقدار بھی حرام ہے ؟۔۔۔ اگر یہ کہا جائے کہ قول باری فیھما اثم کبیر۔ میں شراب کی قلیل مقدار کی تحریم پر کوئی دلالت نہیں ہے۔ اس لئے کہ آیت میں مراد یہ ہے کہ وہ مقدار جسے استعمال کر کے سکر، ترک صلوۃ غیر انسانی حرکات اور جنگ و جدل کی وجہ سے پینے والا گنہگار ٹھہرے۔ جب ان باتوں کی وجہ سے اس پر گناہ میں ملوث ہونے کا حکم لگا دیا جائے گا تو اس صورت میں ہم ظاہر آیت کا متقضیٰ یعنی حکم تحریم کو پورا کریں گے اور ظاہر ہے کہ …

Al-Baqara 2:219Listen in Qur'an →
220

فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ ۗ وَيَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْيَتَٰمَىٰ ۖ قُلْ إِصْلَاحٌۭ لَّهُمْ خَيْرٌۭ ۖ وَإِن تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَٰنُكُمْ ۚ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ ٱلْمُفْسِدَ مِنَ ٱلْمُصْلِحِ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَأَعْنَتَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

(یعنی) دنیا اور آخرت (کی باتوں) میں (غور کرو) ۔ اور تم سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان کی (حالت کی) اصلاح بہت اچھا کام ہے۔ اور اگر تم ان سے مل جل کر رہنا (یعنی خرچ اکھٹا رکھنا) چاہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے کہ خرابی کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون۔ اور اگر خدا چاہتا تو تم کو تکلیف میں ڈال دیتا۔بےشک خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

یتیم کے مال میں تصرف - قول باری ہے ویسئلونک عن الیتامی قل اصلاح لھم خیروان تخالطوھم فاخوانکم۔ اور آپ سے پوچھتے ہیں کہ یتیموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے کہہ دیجئے جس طرز عمل میں ان کے لئے بھلائی ہو وہی اختیار کرنا بہتر ہے اور اگر تم اپنا اور ان کا خرچ اور رہنا سہنا مشترک رکھو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں آخر وہ تمہارے بھائی بند ہی تو ہیں) ۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یتیم وہ ہوتا ہے جو اپنے ماں باپ میں سے ایک سے تنہا رہ جائے چناچہ باپ کے رہتے ہوئے ماں کی وفات کی وجہ سے وہ یتیم ہوتا ہے اس کے برعکس صورت میں بھی وہ یتیم ہوتا ہے البتہ یتیم کا اطلاق زیادہ تر اس صورت میں ہوتا ہے جب باپ نہ ہو خواہ ماں زندہ ہی کیوں نہ ہو۔ باپ زندہ ہونے کی صورت میں ماں کی وفات کی وجہ سے بہت ہی کم یتیم کا اطلاق ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے سلسلے میں جتنے احکام بیان کئے ہیں ان میں وہ یتیم مراد ہیں جن کے باپ موجود نہ ہوں اور وہ نابالغ ہوں۔ بالغ ہونے کے بعد ایسے شخص پر یتیم کا اطلاق بطور مجاز ہوتا ہے کیونکہ یتیمی سے ان کا زمانہ بہت قریب ہوتا ہے۔ اس بات کی دلیل کہ تنہا رہ جانے والے کو یتیم کہا جاتا ہے۔ یہ ہے کہ عربوں کے نزدیک تنہا رہ جانے والی بیوی کو بھی یتیمہ کا نام دیا جاتا ہے خواہ وہ بڑی ہو یا چھوٹی۔ شاعر کا شعر ہے۔ ان القبور تنکح الایسامی۔۔ النسوۃ الاراصل الیتامی۔۔- بے شک قبریں بیوہ عورتوں سے نکاح کرلیتی ہیں وہ عورتیں جو بیوہ اور شوہر کی وفات کے بعد تنہا رہ جاتی ہیں۔ ٹیلے کو بھی یتیمہ کہتے ہیں اس لئے کہ وہ اپنے گرد کے ماحول میں تنہا ہوتا ہے۔ ایک شاعر نے اپنی اونٹنی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے۔۔ قوداء یملک وحلھا مثل الیتیم من الامانب۔۔ یہ اونٹنی ایسی سدھائی ہوئی ہے کہ ایک تنہا ٹیلے کی طرح خرگو ش بھی اس کے کجا وے کو اپنے قابو میں کرسکتا ہے۔ اگر سیپ میں ایک ہی موتی ہو تو اسے ” درۃ یتیمۃ “ کہا جاتا ہے کیونکہ سیپ میں وہ تنہا ہوتا ہے اور اس کی کوئی نظیر نہیں ہوتی خلیفہ ابوالعباس سفاح کی مدح اور خوارج کے مختلف مذاہب کے متعلق ابن المقفع نے کتاب لکھی ہے جس کا نام اس نے یتیمیۃ الدہر رکھا ہے۔ ابوتمام نے اس کے متعلق یہ شعر کہا ہے۔۔ وکثیر عزۃ یوم مبین ینسب وابن المقفع فی الیتیمۃ یسھب۔ مشہور شاعر اور غزہ کا عاشق کثیر جس دن تشبیب بیان کرتا ہے تو عورتوں کے حسن و خوبصورتی کی خوب شرح کرتا ہے اور ابن المقفع اپنی کتاب یتیمہ الدہر میں بھی ایک چیز کے بیان میں بہت طاولت اختیار کرتا ہے۔- اب جبکہ یتیم کا اسم تنہا رہ جانے والے کے لئے ہے تو یہ ہر اس فرد کو شامل ہوگا جس کی ماں یا باپ گزر گیا ہو خواہ وہ خود نابالغ ہو یا بالغ۔ تاہم اس کا اطلاق اس بچے پر ہوتا ہے جو نابالغ ہو اور اس کا باپ دنیا میں موجود نہ ہو۔ ہمیں جعفر بن محمد نے، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے انہیں ابوعبید نے انہیں عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے انہوں نے علی بن ابی طلحہ سے انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے قول باری ویسئلونک عن الیتامی قل اصلاح لھم خیر) کی تفسیر میں بیان کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ان الذین یا کلون اموال الیتامی ظلماً انمایاکلون فی بطونھم ناراً وسیصلون سعیراً ۔ وہ لوگ جو ظلم کے ساتھ یتیموں کے مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ جہنم کی آگ سے بھرتے ہیں انہیں جلد ہی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دیا جائے گا) ۔ تو مسلمان یتیموں کو اپنے ساتھ رکھنے کو ناپسند کرنے لگے اور اپنے ساتھ ان کے مشترک رہن سہن اور خرچ وغیرہ کو گناہ کی بات سمجھنے لگے۔ مسلمانوں نے اس کے متعلق حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استفسار بھی کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ویسئلونک عن الیتامی لوگ آپ سے یتیموں کے متعلق پوچھتے ہیں) تا قول باری ولوشاء اللہ لاعنتکم۔ اگر اللہ چاہتا تو لئے تنگی پیدا کردیتا) یعنی اگر …

Al-Baqara 2:220Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.