Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 201–210 of 286

201

وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَآ ءَاتِنَا فِى ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ وَفِى ٱلْءَاخِرَةِ حَسَنَةًۭ وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ

اور بعضے ایسے ہیں کہ دعا کرتے ہیں کہ پروردگار ہم کو دنیا میں بھی نعمت عطا فرما اور آخرت میں بھی نعمت بخشیو اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھیو

Explained together with ayah 200

Al-Baqara 2:201Listen in Qur'an →
202

أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌۭ مِّمَّا كَسَبُوا۟ ۚ وَٱللَّهُ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

یہی لوگ ہیں جن کے لئے ان کے کاموں کا حصہ (یعنی اجر نیک تیار) ہے اور خدا جلد حساب لینے والا (اور جلد اجر دینے والا) ہے

Explained together with ayah 200

Al-Baqara 2:202Listen in Qur'an →
203

۞ وَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ فِىٓ أَيَّامٍۢ مَّعْدُودَٰتٍۢ ۚ فَمَن تَعَجَّلَ فِى يَوْمَيْنِ فَلَآ إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَن تَأَخَّرَ فَلَآ إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ لِمَنِ ٱتَّقَىٰ ۗ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

اور (قیام منیٰ کے) دنوں میں (جو) گنتی کے (دن میں) خدا کو یاد کرو۔ اگر کوئی جلدی کرے (اور) دو ہی دن میں (چل دے) تو اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ اور جو بعد تک ٹھہرا رہے اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ یہ باتیں اس شخص کے لئے ہیں جو (خدا سے) ڈرے اور تم لوگ خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تم سب اس کے پاس جمع کئے جاؤ گے۔

قول باری ہے (فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ ومن تاخر فلا اثر علیہ لمن اتقی پھر جو کوئی جلدی کر کے دو ہی دن میں واپس تو کوئی حرج نہیں اور جو کچھ دیر ٹھہر کر پلٹا تو بھی کوئی حرج نہیں بشرطیکہ یہ دن اس نے تقویٰ کے ساتھ بسر کئے ہوں) اس آیت کی دو تفسیریں بیان کی گئی ہیں اول یہ کہ جو شخص دو دنوں میں واپس ہوگیا اس پر کوئی گناہ نہیں اس لئے کہ حج مقبول کی بنا پر اس کی سیئات اور اس کے گناہوں کی تکفیر ہوگئی ہے۔- اسی طرح کی روایت حضرت عبداللہ بن مسعود سے ہے ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی اسی مضمون کی ایک روایت ہے ۔ آپ نے فرمایا (من حج فلو یرفث ولم یفسق رجع کیوں مرولدتہ امہ۔ جس شخص نے حج کیا اور حج کے دوران رفث اور فسق سے اجتناب کیا تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو کر لوٹے گا جس طرح اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔- دوسری تفسیر یہ ہے کہ دو ہی دن میں واپسی کے اندر جلدی کرنے میں اس پر کوئی گناہ نہیں۔ حسن وغیرہ سے اسی قسم کی تفسیر مروی ہے۔ قول باری ہے (من تاخر فلا اثم علیہ) اس لئے کہ اس کے لئے تاخیر مباح ہے اور قول باری (لمن اتقی) میں یہ احتمال ہے کہ جو شخص ان تمام باتوں سے جو اللہ نے (فلا رفث ولا فسوق لاجدال فی الحج میں بتائی ہیں احرام کی حالت میں بچتا رہا۔ اگر نہیں بچا تو اس سے کسی ثواب کا وعدہ نہیں۔- نیت درست نہ ہو تو بھلی باتیں کرنے والا منافق ہوسکتا ہے

Al-Baqara 2:203Listen in Qur'an →
204

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُۥ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَيُشْهِدُ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا فِى قَلْبِهِۦ وَهُوَ أَلَدُّ ٱلْخِصَامِ

اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی مانی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے

قول باری ہے (ومن الناس من یعجیک قولہ فی الحیاۃ الدنیا ویشھد اللہ علی مافی قلبہ وھو الذالخصام انسانوں میں کوئی تو ایسا ہے جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں اور اپنی نیک نیتی پر بار بار خدا کو گواہ ٹھہراتا ہے مگر حقیقت میں وہ بدترین دشمن حق ہوتا ہے)- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں اس بات سے خبردار کیا گیا ہے کہ کسی شخص کی ظاہری باتوں شیریں بیانی اور نیک نیتی کی بار بار یقین دہانیوں سے ہرگز دھوکا نہ کھایا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ انسانوں میں کوئی تو ایسا ہوتا ہے جس کی باتیں ظاہری طور پر بڑی بھلی معلوم ہوتی ہیں اور وہ اپنی نیک نیتی پر بار بار خدا کو گواہ ٹھہراتا ہے۔- یہ منافقین کی صفت ہے جیسا کہ قول باری ہے (قالوا نشھد انک لرسول اللہ ۔ واللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشھد ان المنافقین لکذبون اتخذوا ایمانھم جنۃ منافقین کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ بھی جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں لیکن اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین جھوٹے ہیں۔ انہوں نے اپنی قسموں کو اپنے لئے ڈھال بنا رکھا ہے۔ )- قضا، امامت اور عدالت وغیرہ کے مناصب صرف ظاہری حالت دیکھ کر نہ سپرد کردیئے جائیں - اسی طرح قول باری ہے (واذا رایتھم تعجبک اجسامھم وان یقولوا تسمع لقولھم اور جب آپ ان کو دیکھیں تو ان کے قدو قامت آپ کو خوشنما معلوم ہوں اور یہ باتیں کرنے لگیں تو آپ ان کی باتیں سننے لگیں) اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان باتوں سے آگاہ کردیا جو انہوں نے اپنے دلوں میں چھپا رکھی ہیں تاکہ آپ ان کی ظاہری باتوں سے دھوکے میں نہ آ جائیں۔ نیز اللہ تعالیٰ نے ان جیسے لوگوں میں ہمارے لئے عبرت کا سامان رکھ دیا تاکہ ہم لوگوں کے ظاہری امور پر اور ان کی ان باتوں پر بھروسہ نہ کر بیٹھیں جو وہ اپنے ما فی الضمیر کے اظہار کے طور پر بیان کرتے ہوں۔- ان جیسے لوگوں کے ساتھ جن دینی اور دنیاوی امور کا تعلق ہو اس آیت میں ان میں ہمیں احتیاط برتنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہم کسی دینی یا دنیاوی امر میں کسی انسان کی صرف ظاہری حالت پر ہی اعتماد نہ کر بیٹھیں بلکہ اس کے متعلق تحقیق و تفتیش بھی کریں۔- اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جس شخص کو قضا یا امامت (خلافت) یا اسی قسم کے کسی اہ ممنصب کے لئے منتخب کیا جائے یا عدالت میں گواہی دینے کے لئے طلب کیا جائے تو یہ ضروری ہے کہ صرف ان کے ظاہر کو قابل قبول نہ سمجھا جائے بلکہ ان کے متعلق پوری طرح چھان پھٹک کرلی جائے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان جیسے لوگوں کو مسلمانوں کے معاملات سپرد کردینے کے سلسلے میں ہمیں پوری طرح چوکنا رہنے کا حکم دیا ہے۔- آپ نہیں دیکھتے کہ درج بالا آیت کے فوراً ہی بعد اللہ کا ارشاد ہے (واذا تولی سعی فی الارض لیفسد فیھا و یھلک الحرث والنسل۔ جب اسے اقتدار حاصل ہوجاتا ہے تو زمین میں اس کی ساری دوڑ دھپو اس لئے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے، کھیتوں کو غارت کرے اور نسل انسانی کو تباہ کرے۔- اس مقام پر اقتدار کے ذکر کی وجہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ جسے اقتدار سونپا جائے جب تک مختلف ذرائع سے اس کے حالات کی چھان پھٹک نہ کرلی جائے۔ اس وقت تک صرف) اس کے ظاہر پر انحصار کرنا جائز نہیں ہوتا۔- قول باری (وھو الدالخصام) یہ اس شخص کی کیفیت ہے جو بار بار اپنی نیک نیتی پر خدا کو گواہ بناتا ہے لیکن اس کی حالت یہ ہے کہ اپنی بدنیتی کی بنا پر انتہائی جھگڑالو ہے۔ اگر کسی معاملے میں اس کا کسی کے ساتھ تنازعہ ہوجائے تو شدید جھگڑے کے ذریعے اپنے فریق مقابل کو مجبور کر کے اس کے حق سے ہٹا کر اسے اپنے قبضے میں کرلیتا ہے۔- محاورہ ہے لدہ عن کذا یعنی اس نے اسے مجبور و محبوس کردیا۔ اس معنی میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (انکم تختصمون الی ولعل بعض کو یکون الحسن بججتہ من بعض …

Al-Baqara 2:204Listen in Qur'an →
205

وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِى ٱلْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ ٱلْحَرْثَ وَٱلنَّسْلَ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلْفَسَادَ

اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی) نسل کو نابود کردے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا

قول باری ہے (واللہ لایحب الفساد اور اللہ تعالیٰ پسند نہیں کتا اس کا ارادہ بھی نہیں کرتا اور جس چیز کا ارادہ نہیں کرتا اسے پسند بھی نہیں کرتا۔ اس فقرے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا ہے کہ وہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔- یہ چیز اس بات کو واجب کردیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فساد کا کام نہ کرے کیونکہ اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ فساد کا ارادہ کرنے والا اور اسے پسند کرنے والا قرار پائے گا اور اللہ کی ذات اس سے بہت بلند ہے کہ وہ ایسا کرے۔ اس کی مثال ایک اور قول باری میں موجود ہے۔ ارشاد ہوتا ہے (وما اللہ یرید ظلماً للعباد اور یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کا ارادہ کرتا ہو۔- اس بات پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ فعل کے ہونے کے متعلق اس کی پسندیدگی اس فعل کے لئے اس کا ارادہ ہوتی ہے کیونکہ یہ بات تو بالکل غلط ہے کہ وہ ایک فعل کے ہونے کو پسند کرے اور اس کے ہونے کا ارادہ نہ کرے بلکہ اس کا ہونا اسے ناپسند ہو اس سے تو تنا قض لازم آتا ہے۔- مثلاً کوئی یہ کہے کہ وہ ایک کام کا ارادہ رکھتا ہے لیکن اسے ناپسند بھی کرتا ہے، اس کا یہ کلام تناقض کا شکار ہوگا اور اس میں اختلال واقع ہوجائے گا۔ اس حقیقت پر یہ قول باری دلالت کرتا ہے (ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین امنوا لھم عذاب الیم وہ لوگ جو یہ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان کے گروہ میں فحش پھیلے بلاشبہ ا ن کے لئے درد ناک عذاب ہے ) یہاں یحبون کے معنی یریدون (وہ چاہتے ہیں) ہیں۔- آیت سے اس بات پر دلالت ہو رہی ہے کہ پسند کرنا ہی ارادہ کرنا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (ان اللہ احب لکم ثلاثا وکرہ لکم ثلاثا۔ احب لکم القیل والقال وکثرۃ السئوال و اضاعۃ المال اللہ تعالیٰ نے تین باتوں کو تمہارے لئے پسند اور تین باتوں کو ناپسند کیا ہے۔ اس نے یہ پسند کیا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور سا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور یہ کہ تم اس شخص کے لئے خیر خواہانہ جذبات رکھو جسے وہ تم پر والی مقرر کرے۔ اس نے قلیل وقال (بلاوجہ اعتراضات کرنے) کثرت سوال اور مال کے ضیاع کو ناپسند کیا ہے)- اس حدیث میں کراہت کو محبت کے مقابل ہمیں بیان کیا گیا ہے۔ اس سے یہ دلالت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اسے پسند بھی کرتا ہے اور جس بات کو وہ ناپسند کرتا ہے اس کا ارادہ نہیں کرتا۔ کیونکہ کراہت ارادے کے بالمقابل ہے جس طرح کہ یہ محبت یعنی پسندیدگی کے بالمقابل ہوتی ہے۔ جب کراہت ارادے اور پسندیدگی کی نقیض ہے تو اس سے یہ معلوم ہوا کہ ارادہ اور محبت دونوں ایک چیز ہیں۔

Al-Baqara 2:205Listen in Qur'an →
206

وَإِذَا قِيلَ لَهُ ٱتَّقِ ٱللَّهَ أَخَذَتْهُ ٱلْعِزَّةُ بِٱلْإِثْمِ ۚ فَحَسْبُهُۥ جَهَنَّمُ ۚ وَلَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ

اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے

Explained together with ayah 205

Al-Baqara 2:206Listen in Qur'an →
207

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشْرِى نَفْسَهُ ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ رَءُوفٌۢ بِٱلْعِبَادِ

اور کوئی شخص ایسا ہے کہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور خدا بندوں پر بہت مہربان ہے

Explained together with ayah 205

Al-Baqara 2:207Listen in Qur'an →
208

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱدْخُلُوا۟ فِى ٱلسِّلْمِ كَآفَّةًۭ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيْطَٰنِ ۚ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ

مومنو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو وہ تو تمہارا صریح دشمن ہے

Explained together with ayah 205

Al-Baqara 2:208Listen in Qur'an →
209

فَإِن زَلَلْتُم مِّنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ ٱلْبَيِّنَٰتُ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

پھر اگر تم احکام روشن پہنچ جانے کے بعد لڑکھڑاجاؤ تو جان جاؤ کہ خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

قول باری ہے (فاعلموا ان اللہ عزیز حکیم۔ جان لو کہ اللہ عزیز و حکیم ہے) عزیزوہ ذات ہے جو غالب و قوی ہو اور اسے اس بات کی پوری قدرت ہو کہ جو چاہے روک دے اور جو چاہے نہ روکے۔ اس لئے کہ عزت کے اصل معنی امتناع کے ہیں۔ اسی محاورہ ہے : ایسی سر زمین جو شدت اور صعوبت کی بنا پر ممتنع الوصول ہو۔- لفظ الحکیم کا اطلاق اللہ کی صفت میں دو معنوں پر ہوتا ہے۔ ایک العالم (جاننے والا) جب یہ معنی مراد ہو تو یہ کہنا جائز ہے کہ اس کا علم ہمیشہ سے ہے۔ دوسرا معنی متفن و محکم فعل یعنی پختہ اور محکم کام کرنے والا جب یہ معنی مراد ہو تو یہ کہنا جائز نہیں ہوگا وہ ہمیشہ سے حکیم ہے جس طرح کہ یہ کہنا جائز نہیں کہ وہ ہمیشہ سے کا م کرنے والا ہے۔- جب اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی یہ صفت بیان کی کہ وہ حکیم ہے تو یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ نہ تو ظلم کا کام ہے، نہ ہی بےوقوفی کا اور نہ ہی قبائح کا ، نیز وہ ان کا ارادہ بھی نہیں کرتا۔ اس لئے کہ جس ذات میں یہ باتیں پائی جائیں گی وہ اہل عقل کے نزدیک حکیم نہیں ہوگا۔ اس میں بھی جبر یہ فرقہ کے مذہب کا بطلان ہے۔

Al-Baqara 2:209Listen in Qur'an →
210

هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن يَأْتِيَهُمُ ٱللَّهُ فِى ظُلَلٍۢ مِّنَ ٱلْغَمَامِ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ وَقُضِىَ ٱلْأَمْرُ ۚ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرْجَعُ ٱلْأُمُورُ

کیا یہ لوگ اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان پر خدا (کاعذاب) بادل کے سائبانوں میں آنازل ہو اور فرشتے بھی (اتر آئیں) اور کام تمام کردیا جائے اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے

قول باری ہے ھل ینظرون الا ان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام والملئکۃ ان ساری نصیحتوں اور ہدایتوں کے بعد بھی لوگ سیدھے نہ ہوں تو) کیا اب وہ اس کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کا چتر لگائے فرشتوں کے پرے ساتھ لیے خود سامنے آ موجود ہو) یہ آیت متشابہات میں سے ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کو محکمات کی طرف لوٹایا جائے۔- قول باری ہے (ھو الذی انزل علیک الکتب منہ ایات محکمات ھن ام الکتاب واخرمتشابھات، فاما الذین فی قلوبھم ذیغ فیتبعون ماتشابہ منہ وہی خدا ہے جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے۔ اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں۔ ایک محکمات جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ ہمیشہ متشابہات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں)- ایسی آیت کو متشابہ اس لئے کہا گیا ہے کہ اس میں یہ احتمال ہے کہ لفظ اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہو اور اللہ سچ مچ آ جائے اور یہ احتمال کہ اس سے مراد اللہ کا امر اور اس کی نشانیاں ہیں جو اس کی ذات اور قدرت پر دلالت کرتی ہیں جس طرح کہ ایک اور جگہ ارشاد ہوا (ھل ینظرون الا ان تاتیھم الملائکۃ اویاتی امر ربک اویاتی بعض آیات ربک کیا وہ اب اس کے منتظر ہیں کہ فرشتے ان کے پاس آ اجئیں یا تیرے رب کا امر آ جائے یا تیرے رب کی بعض نشانیاں آ جائیں) ۔- یہ تمام آیات متشابہات اس معنی پر محمول ہیں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول (ائو یاتی ربک ) میں کیا ہے۔ سا لئے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے آنا جانا، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا اور زوال ان تمام باتوں کا ثبوت جائز نہیں ہے اس لئے کہ یہ تمام باتیں اجسام کی صفات اور حدوث کی نشانیاں ہیں۔- اللہ تعالیٰ نے اپنے محکم قول میں یہ فرما دیا ہے (لیس کمثلہ شیء اس جیسی کوئی چیز نہیں ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ستاروں کی حرکات، ان کی منتقلی اور ان کے زوال کو ان کے حدوث کی دلیل قرار دیا اور اپنی قوم کے خلاف اس سے استدلال کیا چناچہ قول باری ہے (وتلک ججتنا اتینا ھا ابراھیم علی قومہ یہ ہماری وہ حجت ہے جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلے میں عطا کیا) یعنی کواکب اور اجسام کے حدوث کے متعلق، اللہ تعالیٰ تجیم و تشبیہ کے قائلین کے قول سے بہت بلند ہے۔- اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ آیا یہ جائز ہے کہ جاء ربک (تیرا پروردگار آیا) جاء کتابہ یا جاء رسولہ ( اس کی کتاب آئی یا اس کا رسول آیا) یا اسی قسم کے کسی اور فقرے کے معنی میں ہو ؟ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ مجاز ہے اور مجاز کا استعمال صرف اس جگہ ہوتا ہے جہاں مجازی معنی مراد لینے کی دلیل موجود ہو۔- اللہ تعالیٰ نے فرمایا (واسئلک القریۃ گائوں سے پوچھو) اور اس سے مرا دلیا گائوں والوں سے پوچھو۔ اسی طرح فرمایا (والذین یوذون اللہ و رسولہ اور وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں) یہاں مراد ہے کہ اللہ کے دوستوں کو ایذا پہنچاتے ہیں۔ مجاز تو صرف اسی جگہ استعمال ہوتا ہے جہاں اس کے استعمال کے لئے دلیل موجود ہو یا سننے والے کے لئے اس کے معنی میں کوئی اشتباہ نہ ہو۔- قول باری ہے (والی اللہ ترجع الامور، اور آخر کار سارے معاملات پیش تو اللہ ہی کے حضور ہونے والے ہیں ۔ اس کی دو طرح سے تفسیر کی گئی ہے اول یہ کہ پیشتر اس سے کہ بندے کسی امر کے مالک ہوتے تمام معاملات اللہ ہی کے ہاتھ میں تھے پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت سے معاملات کا مالک بنادیا اب آخرت میں پھر سے تمام معاملات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوں گے۔ مخلوق کے ہاتھ میں کچھ نہ ہوگا ۔ اس لئے یہ کہنا درست ہوگیا کہ تمام معاملات اسی کی طرف لوٹا دیئے جائیں گے۔- دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس فقرے کے وہی معنی ہیں جو قول باری (الا الی اللہ تصیر الامور آگاہ رہو تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ ان تمام معاملات کا مالک ہے اس کے سوا اور کوئی مالک نہیں ہے …

Al-Baqara 2:210Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.