Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 191–200 of 286

191

وَٱقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ ۚ وَٱلْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ ٱلْقَتْلِ ۚ وَلَا تُقَٰتِلُوهُمْ عِندَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ حَتَّىٰ يُقَٰتِلُوكُمْ فِيهِ ۖ فَإِن قَٰتَلُوكُمْ فَٱقْتُلُوهُمْ ۗ كَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور ان کو جہاں پاؤ قتل کردو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے (یعنی مکے سے) وہاں سے تم بھی ان کو نکال دو۔ اور (دین سے گمراہ کرنے کا) فساد قتل وخونریزی سے کہیں بڑھ کر ہے اور جب تک وہ تم سے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے پاس نہ لڑیں تم بھی وہاں ان سے نہ لڑنا۔ ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان کو قتل کرڈالو۔ کافروں کی یہی سزا ہے

ارشاد باری (واقتلوھم حیث تقفتموھم واخرجوھم من حیث اخرجو کم) میں ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ مشرکین جہاں کہیں بھی قابو میں آ جائیں انہیں نہ چھوڑو بلکہ ا ن کی گردنیں اڑا دو یہ حکم تمام مشرکین سے جنگ کرنے کے متعلق عام ہے۔ خواہ وہ ہم سے برسر پیکار ہوں یا نہ ہوں البتہ وہ جنگ میں حصہ لینے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ اس لئے کہ عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت ایک متفقہ مسئلہ ہے نیز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گرجا گھروں کے باسیوں کو بھی قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔- اگر ارشاد باری (وقاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم) سے مراد ہم سے جنگ کرنے والوں سے جنگ کرنا ہے اور جو جنگ کے قابل نہیں ان سے ہاتھ روکنا ہے اور قول باری (ولا تعتدوا ان اللہ لایحب المعتدین ) میں ان لوگوں سے جنگ کرنے کی ممانعت ہے جو ہم سے جنگ نہیں کرتے تو لامحالہ اس آیت کو قول باری (واقتلوھم حیث ثقفتموھم) کی وجہ سے منسوخ ماننا پڑے گا اس لئے کہ اس آیت میں ان لوگوں کو قتل کرنے کا حکم ہے جن کے قتل کی پہلی آیت میں ممانعت تھی اور (ولا تعبدوا) میں اعتداد کا اس جگہ مفہوم جنگ نہ کرنے والوں سے جنگ کرنا ہوگا اور قول باری (اخرجوھم من حیث اخرجوکم) کا مفہوم یہ ہے کہ اگر تمہارے لئے ممکن ہو تو ان مشرکین کو مکہ سے نکال دو ۔ اس لئے کہ ان مشرکین نے مسلمانوں کو مکہ میں اس قدر تکلیفیں دیں کہ انہیں وہاں سے نکلنے پر مجبور ک ردیا۔ اس طرح یہ مشرکین مسلمانوں کو نکالنے والے بن گئے۔- اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (واذیمکربک الذین کفروا لیتبتوک اویقتلوک او یخرجوک ) اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جبکہ منکرین حق آپ کے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے کہ آپ کو قید کردیں یا قتل کر ڈالیں یا جلا وطن کردیں) پھر جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر قتال فرض کردیا تو انہیں یہ حکم دیا کہ ان منکرین حق کو طاقت کے ذریعے مکہ سے نکال دیں ۔ کیونکہ مسلمانوں کو مکہ کے اندر جنگ سے منع کردیا گیا تھا۔ الا یہ کہ مشرکین مکہ میں بھی جنگ پر کمر بستہ ہوجائیں۔- اس صورت میں قول باری (واقتلوھم حیث ثقفتموھم) تمام مشرکین کے متعلق ایک عام حکم ہوگا۔ البتہ اس حکم سے وہ مشرکین مستثنیٰ ہوں گے جو مکہ میں رہتے ہوں۔ ان کو مکہ سے نکال دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ ان میں سے صرف ان لوگوں کے خلاف جنگ کی اجازت تھی جو جنگ پر کمربستہ ہوجاتے۔- اس کی دلیل خطاب کے تسلسل میں وہ ارشاد باری ہے جس میں فرمایا گیا کہ (ولا تقاتلوھم عند المسجد الحرام حتی یقاتلو کم فیہ) اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ قول باری (واقتلوھم حیث ثقفتموھم) ان مشرکین کے متعلق ہے جو مکہ کے سوا دوسری جگہوں پر رہنے والے تھے۔- ارشاد باری ہے (وائفتنہ اشد من القتل۔ قتل اگرچہ برا ہے لیکن فتنہ اس سے بھی زیادہ برا ہے) سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ فتنہ سے مراد کفر ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ مشرکین مسلمانوں کو اذیتیں دے دے کر آزمائشوں میں مبتلا کرتے اور انہیں کفر پر مجبور کرتے تھے اور جب ایک صحابی حضرت واقد بن عبداللہ نے ماہ حرام یعنی رجب میں ایک مشرک عمرو بن الحضرمی کو قتل کردیا تھا تو مشرکین مسلمانوں کو طعنے دیتے تھے کہ محمد ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) نے ماہ حرام میں قتال کو حلال کردیا۔- اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (والفتنۃ اشد من القتل) یعنی ان مشرکین کا کفر اور بلد حرام مکہ کے اندر اور ماہ حرام کے دوران مسلمانوں کو اذیتیں دینا ماہ حرام میں کسی کو قتل کردینے سے بڑھ کر گناہ اور سنگین جرم ہے۔- قول باری (ولاتقاتلوھم عند المسجد الحرام حتی یقاتلوکم فیہ) میں (حتی یقاتلوا کم فیہ) سے مراد یہ ہے کہ ان کے ہاتھوں سے تم میں سے کسی کا خون بہہ جائے جس طرح کہ قول باری (ولا تلمزوا انفسکم) میں مراد یہ ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کی عیب جئوی نہ کرو۔ کیونکہ یہ کسی طرح بھی درست نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مشرکین کے قتل کا …

Al-Baqara 2:191Listen in Qur'an →
192

فَإِنِ ٱنتَهَوْا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور اگر وہ باز آجائیں تو خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے

Explained together with ayah 191

Al-Baqara 2:192Listen in Qur'an →
193

وَقَٰتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌۭ وَيَكُونَ ٱلدِّينُ لِلَّهِ ۖ فَإِنِ ٱنتَهَوْا۟ فَلَا عُدْوَٰنَ إِلَّا عَلَى ٱلظَّٰلِمِينَ

اور ان سے اس وقت تک لڑتے رہنا کہ فساد نابود ہوجائے اور (ملک میں) خدا ہی کا دین ہوجائے اور اگر وہ (فساد سے) باز آجائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں (کرنی چاہیئے)

قول باری (وقاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ ویکون الدین للہ) کافروں سے قتال کی فرضیت کو ضروری قرار دیتا ہے حتیٰ کہ وہ کفر سے باز آ جائیں ۔ حضرت ابن عباس، قتادہ، مجاہد اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ یہاں فتنہ سے مراد شرک ہے۔ ایک قول ہے کہ کفر کو اس لئے فتنہ کہا گیا ہے کہ یہ انسان کو ہلاکت تک لے جاتا ہے جس طرح فتنہ انسان کو ہلاکت کی راہ دکھاتا ہے۔- ایک قلو یہ بھی ہے کہ فتنہ سے مراد آزمائش ہے اور کفر سے مراد آزمائش کی گھڑی میں اظہار فساد ہے۔ دین کے معنی طاعات کے ذریعے اللہ کے سامنے جھک جانے اور فرماں برداری بجا لانے کے ہیں۔ لغت میں دین کا مفہوم دو معنوں میں منقسم ہے۔ اول انقیاد یعنی فرماں برداری۔ اعشیٰ کا شعر ہے۔- ھودان الدباب اذکر ھوالدب ن درا کا بغروۃ وصیال - ثم دانت بعد الرباب وکانت کعذاب عقوبۃ الاقوال - جب لوگوں نے جنگوں اور حملوں کے لگاتار سلسلے کے سامنے خود سپردگی کو ناپسند کیا تو اس نے اپنی محبوبہ رباب کی فرماں برداری اختیار کرلی اس کے بعد رباب نے اس کی فرما برداری اختیار کی لیکن وہ منہ سے نکالے ہوئے الفاظ کے نتیجے میں ملنے والی سزائوں والی عذاب بن گئیے۔- دوم۔ عادت ۔ شاعر کا شعر ہے - تقول و قدد رأت لھا وضینی اھذا دینہ ابداً و دینی - میں نے اپنا بالوں سے بنا ہوا نمدہ یا بسترہٹا لیا تو وہ کہنے لگی کیا ہمیشہ اس کی یہی عادت رہی ہے اور میری بھی۔- شریعت میں دین کا مفہوم اللہ کی دائمی طور پر فرماں برداری اور اسکے لئے خود سپردگی کی عادت ہے یہ آیت خاص طور پر مشرکین کے بارے میں ہے۔ اہل کتاب اس میں داخل نہیں ہیں۔ اس لئے کہ خطاب کی ابتداء ان مشرکین کے ذکر سے ہوئی ہے چناچہ فرمایا گیا (واقتلوھم حیث تقفتموھم واخرجوھم من حیث اخرجوکم) یہ کیفیت مشرکین مکہ کی تھی جنہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کرام کو مکہ سے نکالا تھا اس لئے اہل کتاب اس حکم میں داخل نہیں ہیں۔- یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ مشرکین عرب سے اسلام یا تلوار کے سوا کوئی تیسری چیز قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ قول باری ہے (وقاتلوھم حتی لاتکون فتنہ) عینی کفر باقی نہ رہے۔ اور (ویکون الدین للہ) اللہ کا دین اسلام ہے۔ - قول باری ہے (ان الدین عند اللہ الاسلام ) دین اللہ کے ہاں اسلام ہے۔ اور قول باری (فان انتھوا فلاعدوان الا علی الظالمین، اگر یہ باز آ جائیں تو ظالموں کے سوا کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی) معنی یہ ہے کہ ان کے باز آ جانے کی صورت میں ظالموں کے سوا اور کسی کو قتل کی سزا نہیں ملے گی۔- اس سے مراد … واللہ اعلم … وہ قتل ہے جس کی ابتداء کا ذکر صوقاتلوھم) کے قول سے ہوا تھا۔ کفر کی وجہ سے مشرکین جس قتل کے سزا وار ٹھہر ی تھے اسے عدوان کا نام دیا گیا کیونکہ یہ ان کے ظلم کی سزا تھی۔ سزا کے لئے اصل جرم کا نام تجویز کیا گیا جس طرح کہ قول باری (وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا، اور بدی کا بدلہ اس جیسی بدی ہے۔ )- اسی طرح (فمن اعتدیٰ علیکم فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدی علیکم جو شخص تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس کے ساتھ اسی طرح زیادتی سے پیش آئو جس طرح وہ تمہارے ساتھ پیش آیا ہے) حالانکہ بدی اور زیادتی کا بدلہ نہ بدی ہے اور نہ زیادتی ۔- ارشاد باری ہے (الشھر الحرام باشھر الحرام و الحرمات قصاص، ماہ حرام کا بدلہ ماہ حرام ہی ہے اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہوگا) حسن سے مروی ہے کہ مشرکین عرب نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کہ آیا آپ کو ماہ حرام میں ہمارے ساتھ جنگ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اثبات میں جوا بدیا۔ مشرکین نے موقعہ غنیمت جان کر ماہ حرام میں مسلمانوں پر حملہ کرنے اور ان سے برسر پیکار ہونے کا ارادہ کرلیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔- مقصد یہ ہے کہ اگر مشرکین نے ماہ حرام میں جنگ وجدل کا دروازہ کھول دیا تو تم بھی اسی طرح ان …

Al-Baqara 2:193Listen in Qur'an →
194

ٱلشَّهْرُ ٱلْحَرَامُ بِٱلشَّهْرِ ٱلْحَرَامِ وَٱلْحُرُمَٰتُ قِصَاصٌۭ ۚ فَمَنِ ٱعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَٱعْتَدُوا۟ عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا ٱعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُتَّقِينَ

ادب کا مہینہ ادب کے مہینے کے مقابل ہے اور ادب کی چیزیں ایک دوسرے کا بدلہ ہیں۔ پس اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی وہ تم پر کرے ویسی ہی تم اس پر کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا ڈرنے والوں کے ساتھ ہے

Explained together with ayah 193

Al-Baqara 2:194Listen in Qur'an →
195

وَأَنفِقُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا تُلْقُوا۟ بِأَيْدِيكُمْ إِلَى ٱلتَّهْلُكَةِ ۛ وَأَحْسِنُوٓا۟ ۛ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ

اور خدا کی راہ میں (مال) خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بےشک خدا نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

Explained together with ayah 193

Al-Baqara 2:195Listen in Qur'an →
196

وَأَتِمُّوا۟ ٱلْحَجَّ وَٱلْعُمْرَةَ لِلَّهِ ۚ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا ٱسْتَيْسَرَ مِنَ ٱلْهَدْىِ ۖ وَلَا تَحْلِقُوا۟ رُءُوسَكُمْ حَتَّىٰ يَبْلُغَ ٱلْهَدْىُ مَحِلَّهُۥ ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ بِهِۦٓ أَذًۭى مِّن رَّأْسِهِۦ فَفِدْيَةٌۭ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍۢ ۚ فَإِذَآ أَمِنتُمْ فَمَن تَمَتَّعَ بِٱلْعُمْرَةِ إِلَى ٱلْحَجِّ فَمَا ٱسْتَيْسَرَ مِنَ ٱلْهَدْىِ ۚ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَٰثَةِ أَيَّامٍۢ فِى ٱلْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ ۗ تِلْكَ عَشَرَةٌۭ كَامِلَةٌۭ ۗ ذَٰلِكَ لِمَن لَّمْ يَكُنْ أَهْلُهُۥ حَاضِرِى ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

اور خدا (کی خوشنودی) کے لئے حج اور عمرے کو پورا کرو۔ اور اگر (راستےمیں) روک لئے جاؤ تو جیسی قربانی میسر ہو (کردو) اور جب تک قربانی اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے سر نہ منڈاؤ۔ اور اگر کوئی تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کسی طرح کی تکلیف ہو تو (اگر وہ سر منڈالے تو) اس کے بدلے روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر جب (تکلیف دور ہو کر) تم مطمئن ہوجاؤ تو جو (تم میں) حج کے وقت تک عمرے سے فائدہ اٹھانا چاہے وہ جیسی قربانی میسر ہو کرے۔ اور جس کو (قربانی) نہ ملے وہ تین روزے ایام حج میں رکھے اور سات جب واپس ہو۔ یہ پورے دس ہوئے۔ یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جس کے اہل وعیال مکے میں نہ رہتے ہوں اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے

آیا عمرہ فرض ہے یا نقل ؟- ارشاد باری ہے (واتموا الحج والعمرۃ للہ، اللہ کے لئے حج اور عمرہ پورا کرو) اس آیت کی تاویل میں سلف کا اختلاف ہے۔ حضرت علی ، حضرت عمر، سعید بن جبیر اور طائوس سے مروی ہے کہ حج اور عمرہ کے اتمام کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنے گھر سے دونوں کا احرام باندھ لو۔- مجاہد کا قول ہے کہ اتمام کا مفہمو یہ ہے کہ حج اور عمرہ میں داخل ہونے کے بعد ان دونوں کے آخری افعال تک ادا کئے جائیں۔ سعید بن جبیر اور عطاء کا قول ہے۔ اللہ کے لئے ان کے تمام افعال و ارکان کو قائم کرنا اس لئے کہ یہ دونوں واجب ہیں۔ گویا ان دونوں نے آیت کی یہ تاویل کی کہ اس میں ان دونوں چیزوں کی ادائیگی کا حکم ہے گویا یوں فرمایا گیا کہ حج اور عمرہ کرو۔- حضرت ابن عمر اور طائوس سے مروی ہے کہ اتمام سے مراد افراد ہے ینی الگ الگ احرام کے ذریعے ان دونوں کی ادائیگی ہے ۔ قتادہ کا قول ہے عمرہ پورا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ حج کے مہینوں کے سوا دوسرے مہینوں میں عمرہ ادا کیا جائے۔- عمرہ کے وجوب کے متعلق بھی سلف میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن مسعود، ابراہیم نخعی اور شعبی سے مروی ہے کہ یہ نفل ہے ۔ مجاہد نے قول باری (واتموا الحج والعمرۃ للہ) کی تفسیر میں کہا ہے کہ ان دونوں کے اندر جن افعال کا ہم نے حکم دیا ہے انہیں پورا کرو۔ حضرت عائشہ ، حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، حسن بصری اور ابن سیرین سے مروی ہے کہ عمرہ واجب ہے۔ مجاہد سے بھی اسی قسم کی روایت ہے۔- طائوس نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ یہ واجب یعنی فرض ہے ۔ جو لوگ عمرے کے وجوب یعنی فرضیت کے قائل ہیں انہوں نے ظاہر آیت (واتموا الحج والعمرۃ للہ) سے استدلال کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آیت کے الفاظ میں احتمال ہے کہ حج اور عمرہ میں داخل ہونے کے بعد انہیں پورا کیا جائے اور اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ ان دونوں کے اعفال کے ابتداء کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اس لئے آیت کے الفاظ کو ان دونوں احتمالات پر محمول کرنا واجب ہے اور اس کی حیثیت اس عموم کی طرح ہے جو ہر اس چیز کو شامل ہوتا ہے جو اس میں شامل ہوسکتی ہے اور کوئی چیز اس کے دائرے سے کسی دلیل کے بغیر نکل نہیں سکتی۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں وجوب عمرہ پر کوئی دلالت موجود نہیں ہے۔ وہ اس طرح کہ آیت میں زیادہ سے زیادہ جو بات ہے وہ حج اور عمرے کے اتمام کا حکم ہے اور یہ حکم صرف اس بات کا متقاضی ہے کہ ان کی ادائیگی میں کوئی کمی نہ رہے بلکہ ان کے ارکان و افعال پورے پر وے ادا کئے جائیں۔ اس لئے کہ لغت کے لحاظ سے نقصان یعنی کمی رہ جانا تمام یعنی پورا ہونے کے مفہوم کی ضد ہے۔ بطلان اس کی ضد نہیں ہے۔- آپ ناقص کو غیر تام کہتے ہیں لیکن کسی ایسی چیز کو غیر تام نہیں کہتے جس کے کسی حصے کا وجود ہی نہ ہو۔ اس سے ہمیں یہ معلوم ہوگیا کہ اتمام کا حکم نقصان کی نفی کا متقاضی ہے۔ اسی بنا پر حضرت علی اور حضرت عمر کا قول ہے کہ ان دونوں کے اتمام کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنے گھر سے ہی ان دونوں کے لئے احرام باندھ لو۔- اگر بات اسی طرح ہے جو ہم نے یان کی ہے تو آیت کی تاویل یہ ہوگی کہ ان کی ادائیگی ناقص طریقے سے نہ ہو۔ اب ناقص طریقے سے ادائیگی کا نہ ہونا وجوب پر دلالت نہیں اس لئے کہ نوافل پر بھی اب فقرے کا اطلاق درست ہے۔ آپ حسب موقع یہ کہتے ہیں کہ نفلی حج یا نفلی عمرہ نقاص طرقیے سے ادا نہ کرو۔ اسی طرح نفل نماز کو بھی ناقص ادائیگی سے بچائو۔ اس لئے جب اتمام کا حکم نقصان کی نفی کا متقاضی ہے تو اس صورت میں وجوب پر اس کی دلالت نہیں ہوگی۔- ہمارے استدلال کی صحت پر یہ بات دلالت کر رہی ہے کہ آیت میں نفلی حج اور نفلی عمرہ مراد ہیں جنہیں ناقص طور پر ادا کرنے سے منع کیا گیا ہے اور بنیادی طور پر ان دونوں کے وجوب پر آیت کی دلالت نہیں ہے۔ نیز یہ پہلو بھی موجود ہے کہ لفظ اتمام کے زیادہ ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کا اطلاق کسی چیز میں دخول یا ابتداء کے …

Al-Baqara 2:196Listen in Qur'an →
197

ٱلْحَجُّ أَشْهُرٌۭ مَّعْلُومَٰتٌۭ ۚ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ ٱلْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِى ٱلْحَجِّ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْرٍۢ يَعْلَمْهُ ٱللَّهُ ۗ وَتَزَوَّدُوا۟ فَإِنَّ خَيْرَ ٱلزَّادِ ٱلتَّقْوَىٰ ۚ وَٱتَّقُونِ يَٰٓأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ

حج کے مہینے (معین ہیں جو) معلوم ہیں تو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرلے تو حج (کے دنوں) میں نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے نہ کسی سے جھگڑے۔ اور جو نیک کام تم کرو گے وہ خدا کو معلوم ہوجائے گا اور زاد راہ (یعنی رستے کا خرچ) ساتھ لے جاؤ کیونکہ بہتر (فائدہ) زاد راہ (کا) پرہیزگاری ہے اور اے اہل عقل مجھ سے ڈرتے رہو

(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر) - اب ان کے نزدیک دم احصار وہی قربانی ہے جو حج فوت ہونے کی وجہ سے لازم آتی ہے۔ اس لئے وہ عمرہ کے قائم مقام نہیں ہوسکتی جس طرح کہ وہ اس حج کے قائم مقام نہیں ہوسکتی جو فوت ہوچکا ہے۔- اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ آپ تو عمرہ کے احرام کے بعد یوم النحر سے قبل تمتع کے تین دنوں کے روزوں کے جواز کے قائل ہیں جبکہ یہ روزے قربانی کا بدل ہیں اور خود قربانی کو یوم النحر سے پہلے ذبح نہیں کیا جاسکتا ہے۔- اس سے یہ لازم آتا ہے کہ روزوں کا جواز بھی نہ ہو۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ان روزوں کا جواز ایک سبب کی وجہ سے ہوا ہے اور وہ ہے تمتع یعنی عمرہ اس بنا پر قربانی کی ذبح کے وقت پر روزوں کو مقدم کرنا جائز ہوگیا۔- دوسری طرف محصر پر عمرہ کے لزوم کا کوئی سبب نہیں ہے جبکہ اس کا حقیقی سبب فوات حج یعنی وقوف عرفہ سے پہلے دسویں تاریخ کی صبح کا طلوع ہوجانا ہے یہی وجہ ہے کہ فوات حج پر لازم ہونے والا عمرہ ایسا ہے کہ دم اس کے قائم مقام نہیں ہوسکتا۔ اس حقیقت پر یہ چیز بھی دلالت کرتی ہے کہ عمرہ کرنے والے پر دم لازم ہوتا ہے حالانکہ اسے فوات عمرہ کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا کیونکہ عمرہ کے لئے کوئی مقررہ وقت تو ہوتا نہیں۔- یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دم کا فوات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس کے ذریعے احرام جلد کھل جائے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ لزوم دم کے لحاظ سے حکم میں کوئی فرق نہیں پڑتا خواہ فوت ہونے کا خطرہ ہو یا نہ ہو۔- اگر یہ کہا جائے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حجاج بن عمرو انصاری کی حدیث میں جس کے الفاظ یہ ہیں (من کسوا و عرج فقد حل و علیہ الحج من قابل) عمرہ کا ذکر نہیں ہے۔ اگر حج کے ساتھ عمرہ بھی واجب ہوتا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا بھی ذکر ضرور کرتے جس طرح کہ آپ نے حج کی قضاء کے وجوب کا ذکر فرمایا۔- اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اس حدیث میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دم یعنی قربانی کا ذکر نہیں فرمایا اس کے باوجود ایسا شخص قربانی کے بعد ہی اپنا احرام کھول سکتا ہے۔ دراصل یہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف مرض کی وجہ سے پیدا ہونے والے احصار اور اس میں احرام کھولنے کی وجہ سے قضا کے لزوم کے متعلق امت کو بتانا چاہتے ہیں۔- حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابن عباس بروایت سعید بن جبیر اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے محصر کے ذکر کے بعد جو یہ فرمایا ہے (فمن تمتع بالمعرۃ الی الحج) تو اس سے مراد وہ عمرہ ہے جو حج کا احرام کھول دینے پر لازم ہوتا ہے اگر اس عمرے کو حج کے مہینں میں اس حج کے ساتھ ادا کرنا چاہے گا جس کا احرام اس نے احصار کی وجہ سے کھول دیا ہے تو اس کا فدیہ واجب ہوگا۔- محصر کے متعلق حضرت ابن عباس سے ایک اور قول منقول ہے جس کی روایت عبدالرزاق نے انہیں سفیان ثوری نے ابن ابی نجیع سے، انہوں نے عطاء اور مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے ، آپ نے فرمایا :” حبس وہ ہوتا ہے جو دشمن کی وجہ سے ہو۔- اگر محرم محبوب ہوگیا اور اس کے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے تو وہ حبس کی جگہ میں احرام کھول دے گا اور اگر اس کے پاس قربانی کا جانور ہو تو وہ اس کے ذریعے احرام کھول دے گا لیکن جب تک یہ جانور ذبح نہ ہوجائے اس وقت تک اس کا احرام نہیں کھلے گا۔ اس کے بعد اس پر نہ حج لازم ہوگا اور نہ ہی عمرہ۔- عطاء بن ابی رباح سے درج بالا روایت کا انکار مروی ہے کہ اس روایت کے راوی محمد بن بکر ہیں۔ انہیں ابن جریج نے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ” جس محرم کو دشمن نے گھیر یا ہو اس کی قربانی نہیں ہے۔ “- عمرو بن دینار کا خیال ہے کہ حضرت ابن عباس نے یہ بھی فرمایا کہ ” اس پر نہ حج ہے اور نہ ہی عمرہ۔ “ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات عطا بن ابی رباح سے بیان کی ۔ میں نے ان …

Al-Baqara 2:197Listen in Qur'an →
198

لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا۟ فَضْلًۭا مِّن رَّبِّكُمْ ۚ فَإِذَآ أَفَضْتُم مِّنْ عَرَفَٰتٍۢ فَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ عِندَ ٱلْمَشْعَرِ ٱلْحَرَامِ ۖ وَٱذْكُرُوهُ كَمَا هَدَىٰكُمْ وَإِن كُنتُم مِّن قَبْلِهِۦ لَمِنَ ٱلضَّآلِّينَ

اس کا تمہیں کچھ گناہ نہیں کہ (حج کے دنوں میں بذریعہ تجارت) اپنے پروردگار سے روزی طلب کرو اور جب عرفات سے واپس ہونے لگو تو مشعر حرام (یعنی مزدلفے) میں خدا کا ذکر کرو اور اس طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تم کو سکھایا۔ اور اس سے پیشتر تم لوگ (ان طریقوں سے) محض ناواقف تھے

(آیت 196 کی بقیہ تفسیر)- ہمیں جعفر بن محمد واسطی نے روایت بیان کی۔ انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، انہیں ابو عبید نے، انہیں عبدالرحمٰن بن مہدی نے مالک بن انس سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ سے کہ آپ فرماتی ہیں کہ ہم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے۔ ہم میں سے بعض نے توجیح کا تلبیہ کہا، بعض نے حج اور عمر دونوںں کا اور بعض نے صرف عمرے کا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کا تلبیہ کہا تھا جن لوگوں نے عمرے کا تلبیہ کہا تھا وہ طواف اور سعی کے بعد معرام سے باہر آ گئے اور جن لوگوں نے حج یا حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ کہا تھا انہوں نے دسویں ذوالحجہ تک احرام نہیں کھولا۔- جعفر محمد بن الیمان کہتے ہیں کہ ہمیں ابوعبید نے بیان کیا، انہیں عبدالرحمٰن نے مالک سے انہوں نے ابوالاسود سے اور انہوں نے سلیمان بن یسار اسی قسم کی روایت بیان کی۔ تاہم اس روایت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تلبیہ کا ذکر نہیں۔- حضرت عائشہ سے اس کے برعکس بھی روایت ہے جو ہمیں جعفر بن محمد نے بیان کی، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں یزید نے یحییٰ بن سعید سے کہ عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے بتایا کہ انہوں نے حضرت عائشہ کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ہم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ذی قعدہ کی پچیس تاریخ کو نکلے اور ہم سمجھ رہے تھے کہ حج پر ہی جا رہے ہیں۔- جب ہم مکہ کے قریب پہنچ گئے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ جو لوگ اپنے ساتھ قربانی کے جانور نہیں لائے ہیں وہ اس حج کو عمرہ میں تبدیل کردیں۔ یہ سن کر سائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ قربانی کے جانور تھے، تمام لوگوں نے احرام کھول دیا۔- جعفر بن محمد کہتے ہیں کہ ہمیں ابو عبید نے، انہیں ابن صالح نے لیث سے، انہوں نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عمرہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ اور آپ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسی ہی روایت بیان کی۔ اس روایت میں یہ اضافہ ہے کہ یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تمہیں درست روایت پہنچی ہے۔- غرض حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام کو حج فسخ کرنے کا جو حکم دیا تھا اس سلسلے میں منقول تمام متواتر روایات میں یہی روایت صحیح ہے۔ حضرت عمر نے صحابہ کرام کے سامنے یہ فرمایا تھا کہ ” حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں دو متعہ تھے جن سے اب میں روکتا ہوں اور ان کے مرتکب کو سزا دیتا ہوں۔ ایک متعہ حج اور دوسرا عورتوں سے متعہ “ تو اس سے حضرت عمر نے یہی متعہ یعنی متعہ حج مراد لیا تھا۔ صحابہ کرام میں سے کسی نے اس کی تردید نہیں کی تھی اور نہ ہی کسی نے اس سے اختلاف کیا تھا۔- اگر حضرت عائشہ کی روایات کو متعارض تسلیم کرلیا جائے تو اس کے حل کا یہی طریقہ ہے کہ یہ تمام روایات ساقط ہوجائیں گی اور یوں سمجھ لیا جائے گا کہ گویا کہ حضرت عائشہ سے اس کے متعلق سرے سے کوئی روایت ہی نہیں ہے۔- اس صورت میں دوسری روایات باقی رہ جائیں گی جن میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام کو فسخ حج کا حکم دیا تھا۔ ان روایات کی معارض کوئی دوسری روایت نہیں ہے اور پھر یہ روایات قول باری (واتموا الحج والعمرۃ للہ) سے منسوخ سمجھی جائیں گی جیسا کہ حضرت عمر سے منقول ہے۔- ارشاد باری ہے (فما استیسو من الھدی) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہاں جس ہدی یعنی قربانی کا ذکر ہے وہ اسی طرح کی قربانی ہے جو احصار کے لئے مذکور ہے اور جیسا کہ ہم ذکر کر آئے ہیں اس کا کم سے کم درجہ ایک بکری ہے۔- تاہم اگر کوئی چاہے تو گائے یا اونٹ بھی دے سکتا ہے جو افضل ہے۔ یہ قربانی دسویں ذی الحجہ کو ہی درست ہوگی۔ کیونکہ ارشاد باری ہے (فاذا وجبت جنوبھا فکلوا منھا واطعموا القانع والمعتر۔ اور جب قربانی کے بعد ان کی پیٹھیں زمین پر ٹک جائیں تو ان سے خود …

Al-Baqara 2:198Listen in Qur'an →
199

ثُمَّ أَفِيضُوا۟ مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ ٱلنَّاسُ وَٱسْتَغْفِرُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

پھر جہاں سے اور لوگ واپس ہوں وہیں سے تم بھی واپس ہو اور خدا سے بخشش مانگو۔ بےشک خدا بخشنے والا اور رحمت کرنے والا ہے

(آیت 197 کی بقیہ تفسیر)- اگر یہ کہا جائے کہ ایسا شخص اس شخص کی طرح ہوگا جس کا حج فوت ہوگیا ہو اس لئے اس پر عمرہ کے ذریعے احرام کھول دینا لازم ہوگا۔ اس کے جوا ب میں یہ کہا جائے گا کہ یہ عمرہ نہیں ہوتا یہ تو صرف عمرہ کا فعل ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ حج کے احرام سے باہر آ جاتا ہے۔- آپ نہیں دیکھتے کہ جو شخص مکہ مکرمہ میں ہو اور اس کا حج فوت ہوجائے تو اسے لازم شدہ عمرے کے عمل کے لئے مکہ مکرمہ سے نکل کر حل کی طرف جانے کا حکم نہیں دیا جائے گا۔ کیونکہ جو شخص مکہ مکرمہ میں ہوتا ہے عمرے کے لئے اس کا میقات حل ہوتا ہے۔ اگر وہ شخص عمرے کی ابتداء کا ارادہ کرتا تو اسے حل کی طرف جانے کے لئے کہا اجتا ۔- اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ حج فوت ہونے کے بعد احرام کھولنے کے لئے اس نے جو کچھ کیا وہ عمرہ نہیں تھا بلکہ وہ عمرے کا عمل تھا جس کے ذریعے وہ حج کا احرام کھول رہا ہے۔ حج فوت ہنے کے بعد اس کا احرام باقی رہ گیا تھا۔- ایک اور پہلو سے دیکھیے جس شخص کا حج فوت ہوجائے اس کے حج کا احرام باقی رہتا ہے اور اس احرام سے باہر آنے کے لئے اسے عمرے کے عمل کی ضرورت ہوتی ہے تو کیا امام شافعی یہ کہتے ہیں کہ اشہر حج سے پہلے حج کا احرام باندھنے والے پر حج لازم ہوگیا ہے اور اب وہ حج فوت ہوجانے یک صورت میں عمرے کے عمل کے ذریعے احرام کھول رہا ہے اور اس پر قضا واجب ہوگئی ہے۔- اگر امام شافعی کے نزدیک ایسا شخص حج کا احرام باندھنے والا قرار نہیں پاتا تو اس صورت میں اسے دو باتیں لازم ہوگئیں اول اسے ایسا عمرہ لازم ہوگیا جو اس نے اپنے اوپر لازم نہیں کیا تھا اور نہ ہی اس کی نیت تھی۔- دوم امام شافعی نے اسے بمنزلہ اس کے قرار دیا جس کا احرام باندھنے کے بعد حج فوت ہوچکا ہو۔ حالانکہ ان کے نقطہ نظر سے اس شخص نے کبھی حج کا احرام باندھا ہی نہیں۔ اس طرح انہوں نے اس پر ایسا عمرہ لازم کردیا جس کا کوئی سبب نہ تھا جبکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے (انما الاعمال بالغیات و انما لا موی مانوی) اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔ - اگر اس نے احرام باندھ کر حج کی نیت کرلی تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد (وانما لا مری مانوی) کی روشنی میں یہ ضروری ہے کہ جس چیز کی اس نے نیت کی ہے وہ اس پر لازم ہوجائے۔- قول باری ہے (فمن فرض فیھن الحج) پس جو شخص ان مقررہ مہینوں میں حج کی نیت کرلے) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کا اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے اور حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ (فمن فرض) کے معنی ” فمن احرم “ (جس نے احرام باندھا) کے ہیں۔- شریک نے ابو اسحقٰ کے واسطے سے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا (فمن فرض) کے معنی ہیں ” جس نے تلبیہ کہا “ اسی طرح کی روایت حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت ابن عمر، ابراہیم نخعی، طائوس، مجاہد اور عطاء سے بھی ہے۔ عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے حضرت عائشہ سے روای ت کی ہے کہ ’ دصرف اس شخص کا احرام ہوتا ہے جو احرام باندھا کر تلبیہ کہے۔ “- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جس نے (فمن فرض فیھن الحج) کو اس شخص پر محمول کیا ہے جس نے احرام باندھا، تو اس سے یہ دلالت نہیں ہوتی کہ اس نے احرام کو تلبیہ کے بغیر جائز سمجھا وہ اس لئے کہ یہ کہنا تو جائز ہے کہ ” اس نے احرام باندھا “ یعنی اس میں تلبیہ کا ذکر نہ کیا جائے۔ اب احرام کی شرط تلبیہ کہنا ہے اس لئے جس نے تلبیہ کا ذکر نہیں کیا اس نے بھی تلبیہ کہنا مراد لیا ہے۔- اس لئے سلف میں سے کسی سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ تلبیہ کہے بغیر احرام میں داخل ہونا جائز ہو۔ تلبیہ کہنا یا تلبیہ کے قائم مقام کوئی کام کرنا مثلاً قربانی کے جانور کے گلے میں پٹہ ڈال دینا اور اسے بانک کرلے چلنا، ضروری ہے۔- ہمارے اصحاب تلبیہ کہے بغیر یا قربانی کے جانور کے گلے میں پٹہ ڈال کر اسے ہنکائے بغیر …

Al-Baqara 2:199Listen in Qur'an →
200

فَإِذَا قَضَيْتُم مَّنَٰسِكَكُمْ فَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ كَذِكْرِكُمْ ءَابَآءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًۭا ۗ فَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَآ ءَاتِنَا فِى ٱلدُّنْيَا وَمَا لَهُۥ فِى ٱلْءَاخِرَةِ مِنْ خَلَٰقٍۢ

پھر جب حج کے تمام ارکان پورے کرچکو تو (منیٰ میں) خدا کو یاد کرو۔ جس طرح اپنے باپ دادا کو یاد کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بعض لوگ ایسے ہیں جو (خدا سے) التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو (جو دنیا ہے) دنیا ہی میں عنایت کر ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں

مناسک حج ادا کرنے کے بعد کیفیت ذکر - قول باری ہے (فاذا قضیتم مناسکم فاذاکروا اللہ کذکرکم اباء کم اواشد ذکراً پھر جب تم اپنے حج کے ارکان ادا کر چکو تو جس طرح پہلے اپنے آبائو اجداد کا ذکر کرتے تھے اسی طرح اب اللہ کا ذکر کرو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر) قضا مناسک کا معنی علی وجہ التمام ان کی ادائیگی ہے۔- اس معنی میں قول باری ہے (فاذا قضیتم الصلوۃ فاذکروا اللہ قیا ما وقعوداً جب تم نماز ادا کرلو تو قیام وعقود کی حالت میں اللہ کو یاد کرو ) اسی طرح (فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروافی الارض جب نماز پڑھ لی جائے تو تم زمین میں پھیل جائو)- اس معنی میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول ہے (فما ادرکتم فصلوا وما فاتکم فاقضوا ، نماز با جماعت کی صورت میں تمہیں امام کے ساتھ جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لو اور جتنی نہ ملے اسے ادا کرلو) یعنی جتنی نہ ملے اسے پوری طرح ادا کرلو۔- اس قول باری (فاذکروا اللہ کذکر کم) کے دو معانی بیان کئے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے وہ تمام اذکار مراد ہیں جو مناسب کی ادائیگی کے دوران پڑھے جاتے ہیں جس طرح کہ قول باری ہے (اذا طلقتم النسآء فطلقوھن بعد تھن واحصوالعدۃ جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دو تو انہیں عدت پر طلاق دو اور عدت کو شمار کرلو) جب کہ اسے طلاق دینے پہلے عدت کو شمار کرنے کا حکم ہے۔- یہ طرز بیان عربی کے ان محاوروں کے مطابق ہے مثلاً آپ کہیں ” اذا حججت فطف بالبیت “ (جب حج کرو تو بیت اللہ کا طواف کرو) یا اذا احرمت فاغتسل “ (جب تم احرام باندھو تو غسل کرلو ) یا ” اذا صلیت فتوضا “ (جب تم نماز پڑھنے لگو تو وضو کرلو)- ان تمام فقروں میں جن افعال کے کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے وہ دراصل فقروں میں بیان کردہ امور سے پہلے ادا کئے جانے چاہئیں۔ قول باری ہے (اذا قمتم الی الصلوۃ فاغسلوا وجوھکم جب تم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو جائو تو اپنے چہرے دھو لو) حالانکہ چہرے کا دھونا نماز سے پہلے عمل میں آتا ہے۔- اسی طرح قول باری ہے (فاذا قضیتم مناسککم فاذکروا اللہ) اس میں یہ جائز ہے کہ اس سے مراد وہ اذکار منسونہ ہوں جو عرفات اور مزدلفہ میں وقوف کے وقت اور رمی جمار اور طواف کے وقت پڑھے جاتے ہیں۔- اس آیت کا دوسرا معنی یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ مناسک ادا کرتے ہوئے ٹھہر اتے اور ٹھہر کر اپنی خاندانی روایات اور اپنے آبائو اجداد کے مفاخر بیان کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے ان غلط باتوں کے ذکر کی بجائے اپنے ذکر، نعمتوں پر شکر اور حمد و ثنا کا حکم دیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میدان عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا۔- (ان اللہ قد اذھب عنکم نخوۃ الجاھلیۃ ولعظمھا بالآ باء ۔ الناس من ادم و ادم من تواب۔ لافضل لعوبی علیٰ عجمی الا بالتقویٰ ۔ اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے فخر و غرور اور آبائو اجداد کے نام پر جھوٹے وقار اور بڑائی کو ختم کردیا ہے ۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے ہیں۔ سکی عربی کو سکی عجمی یعنی غریب عرب پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ اگر فضیلت ہے تو صرف تقویٰ کی بنا پر ہے۔- پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی (یایھا الناس انا خلقنکم من ذکروا انثی و جعلنکم شعرباً و قبائل لتعارفوا۔ ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم اے لوگو ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت کے ملاپ سے پیدا کیا اور تمہیں مختلف قومیں اور خاندان بنادیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم سے سب سے معزز شخص وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔ )- اس بنا پر درج بالا آیت میں زمانہ جاہلیت کی اس صورت کو پیش نظر رکھ کر وہ اپنے آبائو اجداد کے مئوثر و مفاخر بیان کیا کرتے تھے، اللہ کے ذکر کا حکم دیا گیا، اس طرح آیت کو زمانہ جاہلیت کی صورت حال کی روشنی میں دیکھا جائے۔ واللہ اعلم۔- ایام منیٰ اور ان میں کوچ - قول باری ہے (واذکرواللہ فی ایام معدودات فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ یہ گنتی کے …

Al-Baqara 2:200Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.