فَمَنۢ بَدَّلَهُۥ بَعْدَمَا سَمِعَهُۥ فَإِنَّمَآ إِثْمُهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُۥٓ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ
جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے تو اس (کے بدلنے) کا گناہ انہیں لوگوں پر ہے جو اس کو بدلیں۔ اور بےشک خدا سنتا جانتا ہے
وصیت تبدیل کرنے کا بیان - ارشاد باری ہے : فمن بدلہ بعد ما سمعہ فانما اتمہ علی الذین یبدلونہ پھر جنہوں نے وصیت سنی اور بعد میں اسے بدل ڈالا تو اس کا گناہ ان بدلنے والوں پر ہوگا) نیز قول باری : فمن بدلہ میں ہائے ضمیر وصیت کی طرف راجع ہے، اس کے لیے مذکر ضمیر جائز ہے۔ کیونکہ وصیت اور ایصاء دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ قول باری : اثمُہ میں ہائے ضمیر تبدیل کی طرف راجع ہے جس پر قول باری : فمن بدلہ سے دلالت ہو رہی ہے۔ قول باری : فمن بدلہ بعد ما سمعہ میں احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو وصیت پر گواہ ہو۔ اس صورت میں آیت میں اسے وصیت تبدیل کرنے سے روکا گیا ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے : ذلک ادنی ان یا تو باشھادہ علی وجھھا ( اس طریقے سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت دیں گے) زیر بحث آیت میں یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے وصی مراد ہو کیونکہ وہی اس وصیت کو جاری کرنے کا نگران اور اس کی تنقید کا مال ہوتا ہے اور اسی بنا پر وصیت تبدیل کرنے کا موقعہ اسے میسر ہوتا ہے۔ یہ بات بعید ہے کہ آیت میں تمام لوگ مراد ہوں کیونکہ اس معاملے میں انہیں کوئی دخل نہیں ہوتا اور نہ ہی اس سلسلے میں انہیں کسی تصرف کا حق ہوتا ہے۔ ہمارے نزدیک آیت مذکورہ بالا پہلے دو معنوں، یعنی گواہ اور وصی پر محمول ہے، کیونکہ آیت میں ان دونوں کا احتمال ہے۔ گواہ کی گواہی کی جب ضرورت پڑے تو وہ ٹھیک اسی طرح گواہی دینے کا پابند ہے جس طرح ان سے سنا تھا۔ وہ اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں کرسکتا۔ وصی وصیت کی اسی طرح تنفیذ کا پابند ہے جس طرح اس نے سنا تھا ، بشرطیکہ وصیت کا تعلق ایسی چیز سے ہو جس ک بارے میں وصیت جائز ہے، عطاء اور مجاہد سے مروی ہے کہ انہوں ن کہا : یہی وہ وصیت ہے جو شاہد ولی کو پہنچتی ہو۔ حسن بصری نے کہا ہے : یہی وصیت ہے ، جو شخص وصیت سنے اور سننے کے بعد اسے بدل ڈالے تو اس کا گناہ بدل ڈالنے والے پر ہوگا۔ - ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ زیر بحث آیت میں حاکم مراد لینا بھی جائز ہے۔ کیونکہ جب وصیت کا معاملہ اس کے سامنے پیش ہو تو اسے اس پر ولایت حاصل ہوجاتی ہے اور وہ تصرف بھی کرسکتا ہے۔ اس لیے وہ اس وصیت کے نفاذ کا پابند ہوگا اگر یہ جائز ہو اور اسے تبدیل کرنے کی اس کو اجازت نہیں ہوگی۔ آیت میں وصیت کو حق و صداقت کی بنیاد پر جاری اور نافذ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قول باری : فمن بدلہ بعد ما سمعہ وصی کی طرف سے وصیت کو اسی طرح جاری کرنے کے جواز کا مقتضی ہے جس طرح اس نے وصی سے یہ وصیت سنی ہو۔ خواہ اس پر گواہ قائم کیے گئے ہوں یا نہ کیے گئے ہوں۔ یہ بات اس امر کی بنیاد اور اصل ہے کہ اگر کوئی شخص ایک بات سنے تو حاکم کے حکم اور گواہوں کی گواہی کے بغیر اس کے لیے عندالامکان اسے اس کے مقتضا اور موجَب کے مطابق جاری کردینا جائز ہے۔ اس میں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ اگر مرنے والے نے وصی کے سامنے کسی شخص کے حق دین کا اقرار کیا ہو تو اس کے لیے جائز ہے کہ وارث یا حاکم یا کسی اور کے علم میں لائے بغیر وہ یہ دین ادا کر دے کیونکہ اگر وہ دین کی بات سننے کے بعد اس کی ادائیگی نہیں کرے گا تو اس کی یہ کوتاہی موصی کی وصیت میں تبدیلی کی مترادف ہوگی۔ قول باری : فانما اثمہ علی الذین یبدلونہ کئی معانی کو متضمن ہے۔ ایک معنی تو یہ ہے کہ یہ فقرہ اس فرض شدہ وصیت پر عطف ہے جو والدین اور رشتہ داروں کے لیے تھی اور وہ لا محلہ اس فقرے میں پوشیدہ ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو کلام درست نہیں ہوگا کیونکہ قول باری : فمن بدلہ بعد ما سبعہ فانما اثمہ علی الذین یبدلونہ ایجاب فائدہ کے اعتبار سے مستقل بنفسہ کلام نہیں ہے کیونکہ یہ کنایہ اور ضمیر پر مشتمل ہے جن کے لیے ایک مذکور اور مظہر کا ہونا ضروری ہے ۔ جبکہ آیت میں کوئی مظہر لفظ نہیں ہے سوائے اس کے جس کا ذکر آیت کی ابتدا میں ہے۔ اس وضاحت کے تحت آیت اس امر کا افادہ کرے گی کہ نفس وصیت کے ساتھ موصی کا فرض پورا …