Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 181–190 of 286

181

فَمَنۢ بَدَّلَهُۥ بَعْدَمَا سَمِعَهُۥ فَإِنَّمَآ إِثْمُهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُۥٓ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ

جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے تو اس (کے بدلنے) کا گناہ انہیں لوگوں پر ہے جو اس کو بدلیں۔ اور بےشک خدا سنتا جانتا ہے

وصیت تبدیل کرنے کا بیان - ارشاد باری ہے : فمن بدلہ بعد ما سمعہ فانما اتمہ علی الذین یبدلونہ پھر جنہوں نے وصیت سنی اور بعد میں اسے بدل ڈالا تو اس کا گناہ ان بدلنے والوں پر ہوگا) نیز قول باری : فمن بدلہ میں ہائے ضمیر وصیت کی طرف راجع ہے، اس کے لیے مذکر ضمیر جائز ہے۔ کیونکہ وصیت اور ایصاء دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ قول باری : اثمُہ میں ہائے ضمیر تبدیل کی طرف راجع ہے جس پر قول باری : فمن بدلہ سے دلالت ہو رہی ہے۔ قول باری : فمن بدلہ بعد ما سمعہ میں احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو وصیت پر گواہ ہو۔ اس صورت میں آیت میں اسے وصیت تبدیل کرنے سے روکا گیا ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے : ذلک ادنی ان یا تو باشھادہ علی وجھھا ( اس طریقے سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت دیں گے) زیر بحث آیت میں یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے وصی مراد ہو کیونکہ وہی اس وصیت کو جاری کرنے کا نگران اور اس کی تنقید کا مال ہوتا ہے اور اسی بنا پر وصیت تبدیل کرنے کا موقعہ اسے میسر ہوتا ہے۔ یہ بات بعید ہے کہ آیت میں تمام لوگ مراد ہوں کیونکہ اس معاملے میں انہیں کوئی دخل نہیں ہوتا اور نہ ہی اس سلسلے میں انہیں کسی تصرف کا حق ہوتا ہے۔ ہمارے نزدیک آیت مذکورہ بالا پہلے دو معنوں، یعنی گواہ اور وصی پر محمول ہے، کیونکہ آیت میں ان دونوں کا احتمال ہے۔ گواہ کی گواہی کی جب ضرورت پڑے تو وہ ٹھیک اسی طرح گواہی دینے کا پابند ہے جس طرح ان سے سنا تھا۔ وہ اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں کرسکتا۔ وصی وصیت کی اسی طرح تنفیذ کا پابند ہے جس طرح اس نے سنا تھا ، بشرطیکہ وصیت کا تعلق ایسی چیز سے ہو جس ک بارے میں وصیت جائز ہے، عطاء اور مجاہد سے مروی ہے کہ انہوں ن کہا : یہی وہ وصیت ہے جو شاہد ولی کو پہنچتی ہو۔ حسن بصری نے کہا ہے : یہی وصیت ہے ، جو شخص وصیت سنے اور سننے کے بعد اسے بدل ڈالے تو اس کا گناہ بدل ڈالنے والے پر ہوگا۔ - ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ زیر بحث آیت میں حاکم مراد لینا بھی جائز ہے۔ کیونکہ جب وصیت کا معاملہ اس کے سامنے پیش ہو تو اسے اس پر ولایت حاصل ہوجاتی ہے اور وہ تصرف بھی کرسکتا ہے۔ اس لیے وہ اس وصیت کے نفاذ کا پابند ہوگا اگر یہ جائز ہو اور اسے تبدیل کرنے کی اس کو اجازت نہیں ہوگی۔ آیت میں وصیت کو حق و صداقت کی بنیاد پر جاری اور نافذ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قول باری : فمن بدلہ بعد ما سمعہ وصی کی طرف سے وصیت کو اسی طرح جاری کرنے کے جواز کا مقتضی ہے جس طرح اس نے وصی سے یہ وصیت سنی ہو۔ خواہ اس پر گواہ قائم کیے گئے ہوں یا نہ کیے گئے ہوں۔ یہ بات اس امر کی بنیاد اور اصل ہے کہ اگر کوئی شخص ایک بات سنے تو حاکم کے حکم اور گواہوں کی گواہی کے بغیر اس کے لیے عندالامکان اسے اس کے مقتضا اور موجَب کے مطابق جاری کردینا جائز ہے۔ اس میں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ اگر مرنے والے نے وصی کے سامنے کسی شخص کے حق دین کا اقرار کیا ہو تو اس کے لیے جائز ہے کہ وارث یا حاکم یا کسی اور کے علم میں لائے بغیر وہ یہ دین ادا کر دے کیونکہ اگر وہ دین کی بات سننے کے بعد اس کی ادائیگی نہیں کرے گا تو اس کی یہ کوتاہی موصی کی وصیت میں تبدیلی کی مترادف ہوگی۔ قول باری : فانما اثمہ علی الذین یبدلونہ کئی معانی کو متضمن ہے۔ ایک معنی تو یہ ہے کہ یہ فقرہ اس فرض شدہ وصیت پر عطف ہے جو والدین اور رشتہ داروں کے لیے تھی اور وہ لا محلہ اس فقرے میں پوشیدہ ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو کلام درست نہیں ہوگا کیونکہ قول باری : فمن بدلہ بعد ما سبعہ فانما اثمہ علی الذین یبدلونہ ایجاب فائدہ کے اعتبار سے مستقل بنفسہ کلام نہیں ہے کیونکہ یہ کنایہ اور ضمیر پر مشتمل ہے جن کے لیے ایک مذکور اور مظہر کا ہونا ضروری ہے ۔ جبکہ آیت میں کوئی مظہر لفظ نہیں ہے سوائے اس کے جس کا ذکر آیت کی ابتدا میں ہے۔ اس وضاحت کے تحت آیت اس امر کا افادہ کرے گی کہ نفس وصیت کے ساتھ موصی کا فرض پورا …

Al-Baqara 2:181Listen in Qur'an →
182

فَمَنْ خَافَ مِن مُّوصٍۢ جَنَفًا أَوْ إِثْمًۭا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَآ إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے (کسی وارث کی) طرفداری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو اگر وہ (وصیت کو بدل کر) وارثوں میں صلح کرادے تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بےشک خدا بخشنے والا (اور) رحم والا ہے

وصیت میں ظلم کا علم ہوجائے تو وہ کیا کریں - ارشاد باری ہے : فمن خاف من موص جنفا او اثما فاصلح بینھم فلا اثم علیہ ( البتہ جس شخص کو یہ اندیشہ ہو کہ وصیت کرنے والے نے نادانستہ یا قصداً حق تلفی کی ہے اور پھر معاملے سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان وہ اصلاح کرے تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن محمد اسحاق نے الحسن بن ابی ربیع سے، ان سے عبدالرزاق نے اور ان سے معمر نے قتادہ سے قول باری : فن خاف من موص جنفاً او اثما کی تفسیر میں روایت بیان کی ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو وصیت کرے، لیکن اپنی وصیت میں حق تلفی سے کام لے اور پھر ولی اس وصیت کو حق اور انصاف کی طرف لوٹا دے۔ ابو جعفر الرازی نے رلربیع بن انس سے نقل کیا ہے جنف خطا اور اثم عمد کے معنوں میں ہے ۔ ابن ابی البخیح نے مجاہد سے اور ابن طائوس نے اپنے والد سے اس آیت کی تفسیر میں روایت بیان کی ہے کہ اس سے مراد وہ موصی ہے جو اپنے نواز سے کے لیے وصیت کرے اور ارادہ یہ ہو کہ اس طرح یہ وصیت اس کی بیٹی کو مل جائے ۔ المعتمر بن سلیمان نے اپنے والے سے، انہوں نے حسن بصری سے اس شخص کے بارے میں روایت بیان کی ہے جو اقارب کو نظر انداز کر ک اباعد کے لیے وصیت کرے۔ انہوں نے کہا کہ اسے چاہیے کہ اپنی وصیت کے دو تہائی حصے اقارب کے لیے رکھے اور ایک تہائی اباعد کے لیے۔ طائوس سے اس شخص کے بارے میں مروی ہے جو اباعد کے لیے وصیت کرے ، اسے چاہیے کہ ان سے یہ وصیت لے کر اقارب کے حوالے کر دے الا یہ کہ اباعد میں کوئی شخص فقیر ہو۔ - ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جنف غلطی اور نادانستہ طور پر حق سے ہٹ جانے کو کہتے ہیں۔ ہم نے اوپر الربیع بن انس سے جنف کے معنی خطا اور غلطی نقل کئے ہیں اور یہ ممکن ہے کہ ان کی مراد غلطی کی بنا پر حق سے ہٹ جانا ہو۔ اثم عمداً اور قصداًٰ حق سے ہٹ جانے کا نام ہے۔ یہی تاویل درست ہے حسن بصری نے اس کی تاویل یہ کی ہے کہ وصیت ان رشتہ داروں کے لیے ہونی چاہیے جو وارث نہ بن رہے ہوں۔ طائوس نے اس کی تاویل دو معنوں پر کی ہے۔ ایک تو یہ ک اباعد کے لیے وصیت کی جائے ایسی صورت میں یہ وصیت اقارت کی طرف لوٹا دی جائے گی۔ دوسرے یہ کہ وہ اپنے نواسے کے لیے وصیت کرے اور اس کا ارادہ ہو کہ یہ وصیت اس کی بیٹی کو مل جائے ، حالانکہ والدین اور رشتہ داروں کے لیے وصیت کا وجوب منسوخ ہوچکا ہے۔ قول باری : ثمن خاف من موص جنفا او اثما۔ اس امر کا موجب نہیں ہے کہ یہ حکم اس وصیت تک محدود رہے جس کا ذکر اس سے پہلے ہوچکا ہے کیونکہ آیت ایک مستقل بنفسہ کلام ہے اور اس کے ساتھ خطاب کی ابتدا درست ہے نیز یہ اپنے ما قبل کے ضمن میں نہیں ہے۔ یہ وصیت کی تمام صورتوں کے لیے عام ہے، جبکہ ان ک ذریعے انصاف سے ہٹ کر ظلم اور جور کی طرف میلان کا اظہار کیا گیا ہو، یہ اس وصیت کو بھی شامل ہے جو والدین اور رشتہ داروں کے لیے اسی وقت واجب تھی جب اس کا وجوب باقی تھا اور اس کے سوا دیگر وصیتوں کو بھی شامل ہے۔ اس لیے عوام الناس میں سے جو شخص بھی کسی وصیت کنندہ کے اندر حق و انصاف سے ہٹ جانے اور ظلم و جور کی طرف میلان محسوس کرے ۔ اس پر واجب ہوگا کہ وہ اسے عدل و انصاف کی راہ دکھائے اور اپنی اصلاح کرنے کی طرف اس کی توجہ مبذول کرائے۔ اس کام کے ساتھ شاہد یا وصی یا حاکم مختص نہیں ہیں، بلکہ تمام لوگ اس میں داخل ہیں۔ کیونکہ اس کا تعلق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے باب سے ہے۔ اگر کہا جائے کہ قول باری : فمن خاف من موص جنافا او اثما کا کیا مفہوم ہے جبکہ خوف صرف اس امر کے ساتھ مختص ہوتا ہے جس کا مستقبل میں وقوع ممکن ہو۔ ماضی سے تعلق رکھنے والے کسی امر کے ساتھ خوف وابستہ نہیں ہوتا۔ - اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ متعلقہ شخص کے سامنے موصی کی کچھ ایسی حرکات ظاہر ہوگئی ہوں جنہیں دیکھ کر اس کا غلب گمان یہ ہو کہ وہ جو رکا ارادہ رکھتا ہے اور میراث کو ورثا کے …

Al-Baqara 2:182Listen in Qur'an →
183

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

مومنو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں۔ جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو

روزے کی فرضیت - ارشاد باری ہے ( یایھا الذین امنو کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون، اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیروئوں پر فرض کیے گئے تھے۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے ہم پر روزے فرض کردیے اس لیے کہ قول باری ( کتب علیکم کے معنی فرض علیکم کے ہیں۔ یعنی تم پر فرض کر دئیے گئے۔ مثلاً قول باری ہے ( کتب علیکم القتال وھوا کرہ لکم ، تم پر قتال فرض کیا گیا اور وہ تمہیں ناگوار ہے) اسی طرح ارشاد باری ہے ( ان الصلوٰۃ کانت علی المومنین کتابا موقوتا، نماز در حقیقت ایسا فرض ہے جو مقرر وقت کے ساتھ الہ ایمان پر لازم ہے) یعنی ایسا فرض جس میں پابندی وقت کا اہتمام کیا جائے۔ لغت میں سیام ک معنی امساک یعنی رک جانے کے ہیں۔ ارشاد باری ہے ( انی نذرت للرحمن صوما فلن اکلم الیوم انسیا ، میں نے رحمن کے لیے روزہ رکھا ہوا ہے پج میں کسی نے بولوں گی) حضرت مریم کے اس قول کا مطلب ہے کہ میں نے بات نہ کرنے کا تہیا کیا ہے۔ بولنے سے رُک جانے کو صوم کہا گیا ہے اور کہا جاتا ہے۔ خیل صیام اور گھوڑے رک جانے والے چارہ کھانے ، اور محاورہ ہے ۔ صامت الشمس نصف النھار ، سورج دوپہر کے وقت کھڑا ہوگیا، یہ اس بنا پر ہے کہ اس وقت سورج حرکت کرنے سے رکتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور صیام کے یہ لغوی معنی ہیں۔ اور وہ شریعت میں کھانے پینے سے رک جانے کا نام ہے۔ شریعت میں اسی مفہوم کے ساتھ دن کے روزے میں جماع سے باز رہنے کا حکم ہے اور وہ مجمل لفظ محتاج بیان ہے اپنے ورود کے لحاظ سے، کیونکہ ایسا شرعی نام وضع کیا گیا ہے مختلف معانی کے لیے جو لغت میں تفصیلی معنی کے ساتھ موجود نہیں ہے۔ آیت کے لیے اس کی توضیح و تشریح کردینے ک بعد جب شریعت میں روزے کی عملی شکل متعین ہوگئی تو اس لفظ کے وہ معنی سمجھ میں آگئے جس کے لیے اسے وضع کیا گیا تھا۔ - اللہ تعالیٰ کے اس قول ( کما کتب علی الذین من قبلکم کے تین معانی ہیں جو سب ک سب سلف سے مروی ہیں۔ حسن، شعبی اور قتادہ سے منقول ہے کہ ہم سے پہلے لوگوں یعنی نصاریٰ پر بھی رمضان کے مہینے یا اس کے مساوی دوسرے دنوں کے روزے فرض کئے گئے تھے۔ پھر انہوں نے یہ دن بدل ڈالے اور انذ کی تعداد میں اپنی طرف سے اضافہ کردیا۔ ابن عباس، ربیع بن انس اور سدی سے منقول ہے کہ روزہ عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد سے لے کر اگلی نماز عشاء تک کا ہوتا تھا اور سوجانے کے بعد دوبارہ اٹھ کر کھانا پینا اور ہمبستری کرنا حلال نہ ہوتا، پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ بعض دوسرے حضرات کا قول ہے کہ ہم مسلمانوں پر اسی طرح چند دنوں کے روزے فرض کیے گئے تھے جس طرح ہم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے۔ اس صورت میں روزوں کی مقدار میں یکسانیت پر آیت کے الفاظ دلالت نہیں کرتے بلکہ اس میں مقدار کی کمی بیشی جائز ہے۔ مجاہد اور قتادہ سے مروی ہے کہ الذین من قبلکم سے مراد اہل کتاب ہیں۔ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کے واسطے سے حضرت معاذ بن جبل سے مروی ہے کہ ” روزے کی فرضیت تین مرحلوں سے گزری ، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مدینہ تشریف لے گئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر ماہ تین دنوں کے روزے اور یوم عاشورہ یعنی دسویں محرم کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ( کتب علیکم الصیام) کے حکم کے ذریعے رمضان کے روزے فرض کر دئیے “۔ آگے حضرت معاز بن جبل نے جو کچھ فرمایا وہ حضرت ابن عباس کے درج بالا قول سے ملتا جلتا ہے۔ مصنف کتاب ابوبکر جصاص فرماتے ہیں :” چونکہ ( کما کتب علی الذین من قبلکم) کے الفاظ اس پر دلالت نہیں کرتے کہ اس سے کتنی تعداد مراد ہے یا روزے کی کیفیت کیا ہے یا اس کا وقت کونسا ہے، اس لیے لفظ صیام اپنے مدلول کے لحاظ سے مجمل تھا۔ اور اگر ہمیں گزشتہ لوگوں کے روزوں کا وقت اور ان کی تعداد معلوم ہوجاتی تو اس صورت میں درج بالا …

Al-Baqara 2:183Listen in Qur'an →
184

أَيَّامًۭا مَّعْدُودَٰتٍۢ ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍۢ فَعِدَّةٌۭ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ وَعَلَى ٱلَّذِينَ يُطِيقُونَهُۥ فِدْيَةٌۭ طَعَامُ مِسْكِينٍۢ ۖ فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًۭا فَهُوَ خَيْرٌۭ لَّهُۥ ۚ وَأَن تَصُومُوا۟ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

(روزوں کے دن) گنتی کے چند روز ہیں تو جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں روزوں کا شمار پورا کرلے اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھیں (لیکن رکھیں نہیں) وہ روزے کے بدلے محتاج کو کھانا کھلا دیں اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے۔ اور اگر سمجھو تو روزہ رکھنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہے

ابوبکر جصاص کہتے ہیں ظاہر آیت اس امر کا مقتضی ہے کہ جس شخص پر لفظ مریض کا اطلاق ہوا اس کے لیے افطار یعنی روزے چھوڑ دینا جائز ہے خواہ روزہ رکھنے کی وجہ سے اسے کوئی ضرر لاحق ہو یا نہ ہوتا ہم ہمیں اس امر میں کسی اختلاف کا علم نہیں کہ ایسا مریض جسے روزہ رکھنے کی صورت میں کوئی ضرر لاحق نہ ہو اسے روزہ چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے۔ چناچہ حضرت امام ابوحنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد کا قول ہے کہ اگر کسی کو اس بات کا خوف ہو کہ روزہ رکھنے کی وجہ سے اس کی آنکھ کی تکلیف بڑھ جائے گی یا بخار اور شدت اختیار کرلے گا تو وہ روزہ نہ رکھے۔ امام مالک کا مئوطا میں قول ہے کہ جو شخص روزے کی وجہ سے نڈھال ہوجائے تو وہروزہ توڑ دے ور اس کی قضا کرے ایسی صورت میں اس پر کوئی کفارہ عائد نہیں ہوگا۔ میں ( ابوبکر جصاص ) نے جو سنا ہے وہ یہ ہے کہ جب کسی مریض کے لیے اس کے مرض کی وجہ سے روزہ رکھنا مشکل ہوجائے اور اس کی جان پر آ بنے تو وہ روزہ نہ رکھے اور بعد میں قضا کرلے۔ امام مالک اور دیگر اہل علم کی رائے ہے کہ حاملہ عورت کو اگر روزے کی تاب نہ ہو تو اس کے لیے روزے چھوڑ دینا ضروری ہے بعد میں وہ ان کی قضا کرلے، ان کی رائے میں حمل بھی ایک قسم کی بیماری ہے۔ امام اوزای کا قول ہے کہ جس شخص کو کسی قسم کا بھی مرض لاحق ہوجائے اس کے لیے روزہ چھوڑ دینا حلال ہوگا۔ اگر اسے روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو تو وہ روزہ نہیں رکھے گا۔ البتہ اگر اسے روزہ رکھنے کی طاقت ہو، خواہ اسے مشقت ہی کیوں نہ پیش آئے۔ تو وہ روزہ نہ چھوڑے۔ - امام شافعی کا قول ہے کہ اگر روزے کی وجہ سے مرض کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوجائے تو پھر روزہ نہ رکھے۔ اور اگر شدت قابل برداشت ہو تو روزہ نہ چھوڑے۔ درج بالا اقوال سے یہ بات واضح ہوگئی کہ فقہا سے بالاتفاق یہ ثابت ہے کہ مریض کے لیے روزہ چھوڑنے کی اجازت، روزے کی وجہ سے مرض کے بڑھ جانے پر موقوف ہے، نیز جب تک اسے ضرر پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو اس وقت تک اس پر روزہ رکھنا لازم ہے۔ رہی یہ بات کہ مریض کے لیے افطار یعنی روزہ چھوڑ دین کی اجازت کا تعلق اندیشہ ضرر کے ساتھ ہے تو اس پر وہ روایت دلالت کرتی ہے جو انس بن مال قشیری نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کی ہے ، آپ کا ارشاد ہے ( اللہ وضع عن المسافر شطر الصلوۃ والصوم وعن الحامل و المرضع، اللہ تعالیٰ نے مسافر کے حق میں آدھی نماز اور روزہ معاف کردیا ہے اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی) یہ بات ظاہر ہے کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت اس بنا پر ملی ہے کہ اس سے ان دونوں کو یا ان کے بچوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ غرض اس جیسی صورت میں روزہ چھوڑنے کا جواز اندیشہ ضرر کے ساتھ متعلق ہے۔ کیونکہ حاملہ اور دودھ پالنے والی عورت دونوں تندرست ہوت ہییں لیکن اندیشہ ضرر کی وجہ سے ان کے لیے روزہ نہ رکھنا جائز کردیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے مسافر کے لیے روزہ چھوڑنا مباح کردیا ہے۔ لغت میں سفر کے لیے کوئی معلوم و مقرر حد نہیں ہے کہ جس کے ذریعے تھوڑے اور زیادہ سفر میں خط امتیاز کھینچا جاسکے، تا ہم اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ افطار کو مباح کردینے والے سفر کے لیے ایک مقررہ حد ہے،۔ لیکن اس حد میں اختلاف رائے ہے، ہمارے اصحاب یعنی احناف کا قول ہے اس کی حدتیں دن اور تین راتوں کی مسافت ہے جبکہ دوسرے حضرات کے نزدیک یہ دو دنوں کی اور بعض کے نزدیک ایک دن کی مسافت ہے۔ اس تحدید میں لغت کو کوئی دخل نہیں ہے اس لیے کہ اس کی کم سے کم مدت کو ایسے وقت کے ساتھ محصور نہیں کیا گیا ہے کہ جس سے کم کا کوئی جواز نہ ہو، یہ تو ایسا نام ہے جسے عام طور پر زندگی کے عمومی اصول و ضوابط سے لیا گیا ہے اور جس چیز کا حکم زندگی کے عمومی اصول و ضوابط سے اخذ کیا جائے اس کی اقل قلیل ( کم سے کم حد) کے ساتھ تحدید ممکن نہیں ہوتی۔ یہ کہا گیا ہے کہ سفر کا لفظ سفر بمعنی کشف سے …

Al-Baqara 2:184Listen in Qur'an →
185

شَهْرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلْقُرْءَانُ هُدًۭى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَٰتٍۢ مِّنَ ٱلْهُدَىٰ وَٱلْفُرْقَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ ٱلشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍۢ فَعِدَّةٌۭ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ يُرِيدُ ٱللَّهُ بِكُمُ ٱلْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ ٱلْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا۟ ٱلْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا۟ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہیئے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (رکھ کر) ان کا شمار پورا کرلے۔ خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا اور (یہ آسانی کا حکم) اس لئے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کرلو اور اس احسان کے بدلے کہ خدا نے تم کو ہدایت بخشی ہے تم اس کو بزرگی سے یاد کر واور اس کا شکر کرو

ارشاد باری ہے ( شھر رمضان الذی انزل فیہ القران۔۔۔۔۔ الایۃ) مصنف کتاب ابوبکر جصاص کہتے ہیں : گزشتہ سطور میں ہم نے ان حضرات کا قول نقل کیا ہے جو کہتے ہیں کہ ابتدا میں ہر ماہ ک تین روزے فرض تھے اس کے لیے قول باری ہے ص کتب علیکم الصیام تم پر روزے فرض کئے گئے) نیز قول باری ہے ( ایاما معدودات گنتی کے چند دن) پھر یہ حکم اس قول باری سے منسوخ ہوگیا کہ ( شھر رمضان الذی انزل فیہ القران) بعض اہل علم کا قول ہے کہ ( کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم اور ( ایاما معدودات) سے جس چیز کا وجوب ہوا تھا ، یعنی روزہ ( شھر رمضان ) اس کا بیان ہے۔ اس صورت میں تقدیر عبارت یہ ہوگی کہ گنتی کے چند دن جو رمضان کے مہینے کے ہیں “ ار ایام معدودات ، کے روزے اللہ تعالیٰ کے اس قول ( شھر رمضان ) تا قول باری ( فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ) سے منسوخ ہوگئے تو اس صورت میں قول باری ( شھر رمضان) کے ذریعے پہلی آیت کے دو حکم منسوخ ہوجائیں گے۔ پہلا ” ایام معدودات “ جو غیر رمضان ہیں اور دوسرا روزہ رکھنے اور کھانا کھلانے کے درمیان اختیا جو ( وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین) کے ذریعے دیا گیا تھا۔ جیسا کہ ہم نے پچھلے صفحات میں سلف سے نقل کیا ہے۔ - اگر ( شھر رمضان) اللہ کے قول ( ایاما معدودات) کا بیان قرر دیا جائے تو پھر لا محالہ یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ فرض رمضان کے نزول کے بعد وجوب صوم کے ابتدائی مراحل میں روزہ رکھنے اور کھانا کھلا دینے کے درمیان اختیار باقی تھا اور یہ حکم اسی طرح باقی اور جاری رہا حتیٰ کہ افمن شھد منکم الشھر فلیصمہ) کے ذریعے اس پر نسخ وارد ہوا اور یہ منسوخ ہوگیا کیونکہ یہ بات درست نہیں ہوسکتی کہ فعل کا وقت آنے سے پہلے اور اس پر عمل درآمد سے قبل ہی اس پر نسخ وار ہوجائے۔ دوسرا قول درست ہے اس لیے ک سلف سے اس بارے میں روایات کی کثرت ہے کہ روزہ رکھنے اور کھانا کھلانے کے درمیان اختیار رمضان کے روزوں میں تھا اور پھر یہ ( فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ) سے منسوخ ہوگیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیت کے مضمون میں یہ دلالت موجود ہے کہ ( ایاماً معذودات) سے غیر رمضان مراد ہے۔ اسی لیے کہ سلسلہ کلام میں اس کا ذکر روزہ رکھنے اور کھانا کھلانے کے درمیان اختیار کے ذکر کے ساتھ مقرون و متصل ہے۔ - اگر ( ایام معدودات) ایسا فرض مجمل ہوتا جس کا حکم کسی بیان پر موقوف ہوتا تو پھر ثبوت فرض سے پہلے تخییر کے ذکر کا کوئی معنی نہ ہوتا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ کسی ایسے فرض کے ورود میں کوئی امتناع نہیں ہے جو اگر مجمل ہو لیکن اس کے ضمن میں ایسا حکم موجود ہو جس کے معنی سمجھ میں آ رہے ہوں اور بس یہ حکم کسی بیان پر موقوف ہو ، جب یہ بیان آ جائے کہ اس حکم سے کیا مراد ہے تو اس بیان کے ساتھ ہی اس حکم کا ثبوت ہوجائے گا۔ - اس بنا پر تقدیر کلام کچھ اس طرح ہوگی کہ ” گنتی کے چند دن ہیں جن کا حکم یہ ہے کہ جب ان کا وقت اور ان کی مقدار کا بیان آ جائے تو اس کے حکم کے مخاطب لوگوں کو روزہ رکھنے اور فدیہ دینے کے درمیان اختیار ہوگا “۔ مثلاً قول باری ہے ( خذ من اموالھم صدقۃ تطھرھم، آپ ان کے اموال میں سے صدقہ وصول کیجئے جس کے ذریعہ انہیں پاک کر دیجئے) یہاں اموال کے لفظ میں عموم تھا جس کا اس سے متعلقہ حکم میں - اعتبار کرنا درست ہوگیا۔ لیکن لفظ صدقہ ایک مجمل لفظ ہے جسے بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ جب صدقہ کا بیان آگیا یعنی اس سے مراد کفارہ ذنوب ہے جن میں وہ لوگ مبتلا ہوگئے تھے جو غزوہ تبوک کے موقع پر پیچھے رہ گئے تھے تو اس کے بعد اس میں اموال کے لفظ کے عموم کا اعتبار کرنا بالکل درست رہا۔ اس کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں۔ ایک احتما ل یہ بھی ہے کہ ( وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین) کا نزول بعد میں ہوا ہو اگرچہ تلاوت میں یہ پہلے ہے۔ اس صورت میں تقدیر آیات اور ان کے معانی کی ترتیب اس طرح ہوگی۔ ” گنتی کے چند دن کو ک رمضان کے ہیں ، …

Al-Baqara 2:185Listen in Qur'an →
186

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِّى فَإِنِّى قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ ٱلدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا۟ لِى وَلْيُؤْمِنُوا۟ بِى لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ

اور (اے پیغمبر) جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک رستہ پائیں

(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)- امت کا اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ہر ایسا روزہ جو واجب فی الذمہ ہو اس کی صحت کی شرط ہے کہ اس کے لیے نیت کی جائے۔ اس لیے رمضان کے روزوں کا بھی یہ حکم ہونا چاہیے کہ ان کی صحت کے لیے نیت شرط قرار دی جائے۔ امام زفر نے اسقاط نیت کے لحاظ سے رمضان کے روزوں کو طہارت کے مشابہ قرار دیا ہے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ طہارت متعین اعضاء میں فرض کی گئی ہے ۔ اس لیے روزہ اس حیثیت سے اس کے مشابہ ہوجائے گا وہ بھی ایسے وقت میں فرض کیا گیا ہے جو صرف اسی کے لیے متعین و مخصوص ہے۔ لیکن دوسرے تمام فقہاء کے نزدیک امام زفر کا یہ طرز استدلال درست نہیں ہے ۔ اس لیے کہ جس علت کا ذکر امام زفر نے طہارت میں کیا ہے وہ روزہ میں موجود نہیں ہے کیونکہ انہوں نے طہارت کی یہ علت قرار دی ہے کہ وہ خاص جگہ یعنی جسم کے خاص اعضاء میں فرض کی گئی ہے اور یہ مفہوم روزہ میں موجود نہیں ہے۔ اس لیے کہ روزہ خاص جگہ کے لیے موضوع نہیں ہے بلکہ وہ ایک وقت معین کے لیے موضوع ہے۔ نیز امام زفر کی بیان کردہ علت طواف کعبہ کی صورت میں ٹوٹ جاتی ہے۔ اس لیے کہ طواف ایک معین جگہ میں فرض کیا گیا ہے۔ اگر کوئی قرض خواہ اپنے مقروض کا پیچھا کرتے ہوئے یوم النحر یعنی قربانی کے دن بیت اللہ کا چکر لگالے تو اس کا یہ چکر طواف زیارت نہیں کہلائے گا ۔ اسی طرح اگر کوئی شخص بیت اللہ کے گرد اور صفا و مرو ہ کے درمیان لوگوں کو پانی پلاتا پھرے تو اس کا یہ عمل اس پر فرض شدہ عمل کے قائم مقام نہیں ہوگا ۔- اب اگر یہ علت اپنے معلول یعنی طواف اور سعی میں متعلقہ حکم کی موجب نہیں بن سکتی تو پھر جہاں پر علت سرے سے موجود نہ ہو وہاں اس کا متعلقہ حکم کی موجب نہ بننا بطریق اولیٰ ہوگا ۔ نیز جیسا کہ ہم بیان کر آئے ہیں طہارت اس حیثیت سے روزے سے جدا ہے کہ یہ مقروض بالذات نہیں ہے یہ تو دوسری عبادتوں کے لیے صرف شرط ہے جو کسی اور کا بدل نہیں ۔ اس لیے اس میں نیت کا شرط ہونا ضروری نہیں ٹھہرا ۔ گویا کہ یوں کہا گیا کہ تم نماز نہ پڑھو مگر اس وقت جب تم حدث اور نجاست سے پاک ہو ۔ یا تم نماز نہ پڑھو مگر اس وقت جب تمہارے اندر ستر عورت پائی جائے اب نجاست کو دھونے اور ستر عورت کے لیے نیت شرط نہیں ہے۔ اسی طرح پانی کے ذریعے طہارت حاصل کرنے کے لیے نیت شرط نہیں ہے ۔ رہا روزہ تو وہ مقصود بالذات فرض ہے جس طرح کہ وہ تمام فرائض جن کا ہم پہلے ذکر آئے ہیں اس بنا پر نیت کا دل میں پیدا کرنا اس کی صحبت کے لیے شرط ہے۔ ایک اور پہلو ملاحظہ کیجئے۔ ہمیں یہ معلوم ہے کہ صوم کی دو قسمیں ہیں ۔ صوم لغوی اور صوم شرعی اور یہ دونوں ایک دوسرے سے صرف اس نیت کی بنا پر جدا ہوتے ہیں ۔ جس کی شرائط کا ہم نے پہلے ذکرکر دیا ہے ۔ روزہ میں جب نیت نہیں ہوگی تو یہ روزہ لغوی طور پر تو صوم کہلائے گا لیکن اس میں شریعت کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ اسی بنا پر رمضان کے روزوں میں نیت کا اعتبار کیا گیا ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی شخص غیر رمضان میں ان چیزوں سے امساک کرے جن سے ایک روزہ دار باز رہتا ہے لیکن روزے کی نیت نہ ہو تو اس کا یہ امساک صوم شرعی نہیں کہلائے گا ۔ نفلی روزہ اس حیثیت سے رمضان کے روزے کے مشابہ ہے کہ اس میں رات سے نیت نہ کرنے کی گنجائش ہے جس طرح کہ رمضان کے روزے میں ہے۔ اب جبکہ ایک شخص صرف امساک کے ذریعے نیت کے بغیر نفلی روزہ دار نہیں کہلا سکتا اسی طرح یہ ضروری ہے کہ رمضان کے روزے کی بھی یہی حیثیت ہو۔- امام زفر کے استدلال کی بنا پر ان پر یہ لازم آتا ہے کہ ہو ایسے شخص کو جو رمضان میں چند دن کھائے پئے بغیر بےہوشی کی حالت میں رہا ہو، روزہ دار قرار دیں اس لیے کہ امساک کا وجود پایا گیا ، اگر کوئی شخص اس صورت حال کا قائل ہوجائے تو یقینا وہ ایک بہت ہی ناپسندیدہ بات کا قائل ہوجائے گا ۔ ہم نے جو یہ کہا ہے کہ روزہ دار کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ ہر ورز یا تو رات سے …

Al-Baqara 2:186Listen in Qur'an →
187

أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ ٱلصِّيَامِ ٱلرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَآئِكُمْ ۚ هُنَّ لِبَاسٌۭ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌۭ لَّهُنَّ ۗ عَلِمَ ٱللَّهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ ۖ فَٱلْـَٰٔنَ بَٰشِرُوهُنَّ وَٱبْتَغُوا۟ مَا كَتَبَ ٱللَّهُ لَكُمْ ۚ وَكُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ ٱلْخَيْطُ ٱلْأَبْيَضُ مِنَ ٱلْخَيْطِ ٱلْأَسْوَدِ مِنَ ٱلْفَجْرِ ۖ ثُمَّ أَتِمُّوا۟ ٱلصِّيَامَ إِلَى ٱلَّيْلِ ۚ وَلَا تُبَٰشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَٰكِفُونَ فِى ٱلْمَسَٰجِدِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ ءَايَٰتِهِۦ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ

روزوں کی راتوں میں تمہارے لئے اپنی عورتوں کے پاس جانا کردیا گیا ہے وہ تمہاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو خدا کو معلوم ہے کہ تم (ان کے پاس جانے سے) اپنے حق میں خیانت کرتے تھے سو اس نے تم پر مہربانی کی اور تمہاری حرکات سےدرگزرفرمائی۔اب (تم کو اختیار ہے کہ) ان سے مباشرت کرو۔ اور خدا نے جو چیز تمہارے لئے لکھ رکھی ہے (یعنی اولاد) اس کو (خدا سے) طلب کرو اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے۔ پھر روزہ (رکھ کر) رات تک پورا کرو اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو ان سے مباشرت نہ کرو۔ یہ خدا کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جانا۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ پرہیزگار بنیں

(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)- رمضان کی قضا میں تاخیر کا جواز - ارشاد باری ہے فمن کان منکم مریضاً او علی سفر فعدۃ من ایام اخر اللہ تعالیٰ نے گنتی پوری کرنا ایسے دنوں میں واجب کردیا جن کی آیت میں تعیین نہیں کی گئی ہے۔ اس بنا پر ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ اس کے لیے جائز ہے کہ جس وقت چاہے روزے رکھ لے البتہ سال کے اختتام تک قضا کی تاخیر کے جواز میں ہمارے اصحاب سے کوئی روایت محفوظ نہیں ہے ، میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس کے لیے اتنی تاخیر جائز نہیں کہ اگلا رمضان شروع ہوجائے۔ میری یہ رائے احناف کے مسلک کے مطابق ہے ۔ اس لیے کہ ان کے نزدیک اگر امر غیر موقت ہو ، یعنی اس کا کوئی وقت مقرر نہ ہو ، تو وہ علی الفور ہوتا ہے یعنی اس پر امکانی حد تک فی الفور عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ہم نے اس اصول کی اصول فقہ میں وضاحت کردی ہے ۔ جب یہ بات درست ہے تو اگر رمضان کی قضا پورے سال کے ساتھ موقت نہ ہوتی تو عبد الفطر کے دوسرے ہی دن سے اس پر روزہ رکھنا لازم ہوجاتا اور تاخیر جائز نہ ہوتی اس لیے کہ تاخیر کی وجہ سے قضا میں کوتاہی کرنا ہی اس کے لیے جائز نہیں خاص کر جبکہ اسے اس بات کا علم بھی نہیں کہ وجوب فرض کا آخری وقت کون سا ہے جس سے موخر کرنا اس کے لیے جائز نہیں جس طرح کہ یہ بات جائز نہیں کہ شریعت کی طرف سے کسی ایسی عبادت کی فرضیت کا امر کردیا جائے جو مامورین کے نزدیک مجہول ہو یعنی جن لوگوں کو اس عبادت کی فرضیت کا امر کیا گیا ہے وہ سرے سے اس سے واقف نہ ہوں اور پھر اس کی وضاحت سے پہلے اس کے ترک پر شریعت کی طرف سے سختی کی جائے اور تارکین کو قابل ملامت گردانا جائے ، مذکورہ بالا دونوں باتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔- جب یہ بات ثابت ہوگئی اور ہمارے علم میں یہ بات بھی ہے کہ احناف کا مسلک یہ ہے کہ امکان قضا کے اول اوقات سے رمضان کی قضا کو موخر کردینا جائز ہے تو اس سے اس بات کا ثبوت مل گیا کہ قا کی تاخیر سال کے گزرنے کے ساتھ موقت ہے یعنی قضا میں سال کے گزرنے تک تاخیر کی جاسکتی ہے۔ تو اس کی مثال بمنزلہ ظہر کے وقت کی ہوگی کہ اس کے اول اور آخر دونوں معلوم ہیں ۔ - اس لیے اول سے آخر تک کے درمیان کسی بھی وقت اس کی عبادت کا ورود درست ہے۔ یعنی ان دونوں اوقات کے درمیان کسی بھی وقت ظہر پڑھی جاسکتی ہے اور اس کی تاخیر بھی اس وقت تک جائز ہے کہ اگر اس کے اندر یہ عباد ت بجا لائی جائے تو اس کے فوت ہونے کا خطرہ ہو اس لیے کہ اس کا وہ آخری وقت معلوم ہے جس تک اگر وہ اسے موخر کر دے تو وہ کوتاہی کرنے والا قرار پائے گا ۔ سلف کی ایک جماعت سے سال کے اندر رمضان کی قضا میں تاخیر کا جواز منقول ہے ۔ یحییٰ بن سعید نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا ” میرے اوپر رمضان کے روزوں کی قضا ہوتی ، مجھے ان کے قضا کی استطاعت نہ ہوتی ۔ یہاں تک کہ شعبان کا مہینہ آ جاتا “ ۔ حضرت عمر (رض) اور حضرت ابوہریرہ (رض) سے یہ قول مروی ہے کہ دس دس دنوں میں رمضان کے روزے قضا رکھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اسی طرح سعید بن جبیر سے بھی منقول ہے۔ عطا بن ابی رباح ، طائوس اور مجاہد کا قول ہے کہ جب چاہو رمضان کی قضا کرلو ۔ البتہ فقہاء کا اس میں اختلاف ہے کہ ایک شخص رمضان کی قضا میں اتنی تاخیر کر دے کہ اگلا رمضان آ جائے ۔ ہمارے جملہ اصحاب کا یہ قول ہے کہ وہ آنے والے رمضان کے روزے خود رکھے گا اور پھر قضا شدہ رمضان کی قضا کرے گا اور اس پر کوئی فدیہ لازم نہیں آئے گا ۔ امام مالک ، سفیان ثوری ، امام شافعی اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ اگر اس نے پہلے رمضان کی قضا میں کوتاہی کی یہاں تک کہ اگلا رمضان آگیا تو وہ قضا کے ساتھ ساتھ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کھانا کھلائے گا ۔ ثوری اور الحسن بن حی کا قول ہے کہ ہر دن کے بدلے نصف صاع گندم کا فدیہ دے گا ۔ امام مالک اور شافعی کا قول ہے کہ ہر دن کے بدلے ایک مد ( دو یا تقریباً سو …

Al-Baqara 2:187Listen in Qur'an →
188

وَلَا تَأْكُلُوٓا۟ أَمْوَٰلَكُم بَيْنَكُم بِٱلْبَٰطِلِ وَتُدْلُوا۟ بِهَآ إِلَى ٱلْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا۟ فَرِيقًۭا مِّنْ أَمْوَٰلِ ٱلنَّاسِ بِٱلْإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اورنہ اس کو (رشوةً) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر کھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے بھی ہو

(سابقہ آیات کی بقیہ تفسیر)- جیسا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس شخص کے متعلق مروی ہے جس نے سفر میں روزہ رکھا تھا اور نڈھال ہوجانے کی بنا پر سائے کی خاطر اس کے سر پر سائبان سا تان دیا گیا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے دیکھ کر فرمایا تھا لیس من البر الصیام فی السفر سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے آیت مبارکہ نے یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ تم سے ایسے روزے کا طلب گار ہے جو تمہارے لیے آسان ہو ایسے روزے کا نہیں جو تمہارے لیے مشکل اور جان جو ھوں والا ہو ۔ اس لیے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود بھی سفر کے اندر روزہ رکھا ہے اور اس شخص کے لیے اسے مباح بھی کردیا جسے اس سے ضرر نہ پہنچے۔ یہ بات تو سب کے علم میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے حکم کے پیرو کار اور منشائے الٰہی کے مطابق کام کرنے والے تھے۔ یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قول باری یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر سفر میں جو از صوم کے منافی نہیں ہے بلکہ اس پر دلالت کر رہا ہے کہ اگر روزہ ضرر رساں ہو تو اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ وہ روزہ رکھے اور اس کے لیے ایسا کرنا مکروہ ہوگا۔ آیت کی اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ جس شخص نے سفر میں روزہ رکھ لیا اس کا روزہ درست ہوگا اور اسی پر روزے کی قضا لازم نہیں آئے گی ۔ - اس لیے کہ قضا واجب کرنے کی صورت میں عسرکا اثبات ہوجائے گا نیز لفظ یسر کا اقتضا یہ ہے کہ اسے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا اختیار ہو ۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے اور جب اسے روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے درمیان اختیار ہوگا تو اس پر قضا لازم نہیں آئے گی ۔ آیت کی اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ مریض ، حاملہ ، مرضعہ اور ہر ایسا شخص جسے روزے کی وجہ سے اپنی جان کا یا بچے کی جان کا خطرہ ہو تو اس کے لیے روزہ نہ رکھنا لازمی ہے۔ اس لیے کہ روزے کی وجہ سے ضرر برداشت کرنے یا مشقت اٹھانے کی صورت میں ایک قسم کا عسر پایا جائے گا جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق اس بات کی نفی کردی ہے کہ وہ ہمارے لیے کوئی عسر یا تنگی چاہتا ہے اور یہ اس حدیث کی نظیر ہے جس میں بیان ہوا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب کبھی دو باتوں کے درمیان اختیار دیا گیا تو آپ نے ہمیشہ زیاد ہ آسان بات کو اختیار کیا ۔ یہ آیت اس کلیہ کی اصل اور بنیاد ہے کہ انسان کسی ایسے حکم کا مکلف نہیں ہوتا جو اس کے لیے ضرر رساں ہو ، جو اسے نڈھال کر دے اور اس کی بیماری کا سبب ہے یا اس کی بیماری میں اور اضافہ کر دے ، کیونکہ ایسا حکم یسر کے خلاف ہوگا ۔ مثلاً ایک شخص پیدل حج کرنے کی قدرت رکھتا ہو لیکن وہ سواری اور زاد راہ سے محروم ہو تو آیت کی دلالت اس پر ہو رہی ہے کہ ایسا شخص اسی حالت میں حج کا مکلف نہیں ہوگا کیونکہ اس سے یسر کی مخالفت ہوگی ۔ آیت اس پر بھی دلالت کر رہی ہے کہ جس شخص نے رمضان کی قضا کرنے میں کوتاہی کی یہاں تک کہ اگلا رمضان آگیا تو اس پر فدیہ واجب نہیں ہوگا ۔ کیونکہ فدیہ کے وجوب سے یسر کی نفی ہوگی اور عسر کا اثبات ہوگا ۔ نیز آیت سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ تمام فرائض اور نوافل کی ادائیگی کا حکم عسر اور شدید مشقت کی نفی کے ساتھ مشروط ہے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کی قضا کرنے والے کو اجازت ہے کہ وہ روزے متفرق طور پر قضا کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یسر کا ذکر فعدۃ من ایام اخر کے فوراً بعد کیا ہے۔ متفرق طورپر قضا کرنے پر اس کی دو طرح سے دلالت ہو رہی ہے۔ اول یہ کہ قول باری یرید اللہ بکم الیسوولا یرید بکم العسر کا تقاضا ہے کہ بندے کو قضا میں اختیار دیا جائے ۔ دوم یہ کہ بندے کا متفرق طور پر قضا کرنا یسر سے زیادہ قریب اور عسر سے زیادہ دور ہے۔ اس سے لگا تار روزے رکھنے کے وجوب کی بھی نفی ہوتی ہے کیونکہ اس سے عسر پیدا ہوگا ، نیز اس سے اس شخص کے قول کا بھی بطلان ہوتا ہے جو قضا کو فی الفور واجب کرتا ہے اور …

Al-Baqara 2:188Listen in Qur'an →
189

۞ يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَهِلَّةِ ۖ قُلْ هِىَ مَوَٰقِيتُ لِلنَّاسِ وَٱلْحَجِّ ۗ وَلَيْسَ ٱلْبِرُّ بِأَن تَأْتُوا۟ ٱلْبُيُوتَ مِن ظُهُورِهَا وَلَٰكِنَّ ٱلْبِرَّ مَنِ ٱتَّقَىٰ ۗ وَأْتُوا۟ ٱلْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَٰبِهَا ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

(اے محمدﷺ) لوگ تم سے نئے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ گھٹتا بڑھتا کیوں ہے) کہہ دو کہ وہ لوگوں کے (کاموں کی میعادیں) اور حج کے وقت معلوم ہونے کا ذریعہ ہے اور نیکی اس بات میں نہیں کہ (احرام کی حالت میں) گھروں میں ان کے پچھواڑے کی طرف سے آؤ۔ بلکہ نیکوکار وہ ہے جو پرہیز گار ہو اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ نجات پاؤ

(آیت 187 کی بقیہ تفسیر)- بہر حال اس حدیث پر جس قدر نقد و جوع کی جائے فقہاء کے نزدیک یہ نقد و جرح اسے فاسد قرار نہیں دیتی ۔ اصحاب حدیث کے اعتراضات فقہاء کے نزدیک نہ تو حدیث کو فاسد کرتے ہیں اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی کوئی معنوی خرابی پیدا کرتے ہیں ۔ اس حدیث کی روایت خصیف نے عکرمہ سے اور انہوں نے ابن عباس سے کی ہے کہ حضرت عائشہ (رض) اور حضرت حفصہ (رض) ایک روز صبح کے وقت روزے سے تھیں ، ان کے پاس بطور ہدیہ کھانا آگیا اور پھر دونوں روزہ توڑ لیا ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کو اس کے بدلے ایک روزہ قضا کرنے کا حکم دیا ۔ ہمیں عبد الباقی نے روایت کی ، انہیں عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے ، انہیں محمد بن عباد نے ، انہیں حاتم بن اسماعیل نے ابو حمزہ سے ، ابو حمزہ نے حسن سے اور انہوں نے حضرت ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ حضر ت عائشہ (رض) اور حضر ت حفصہ (رض) دونوں ایک روز صبح کے وقت روزے سے تھیں، ہدیہ کے طور پر انہیں کھانا بھیجا گیا ، دونوں نے روزہ توڑ دیا ، ابھی وہ کھانا ہی ہی تھیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کیا تم دونوں کا روزہ نہیں تھا ۔ دونوں نے عرض کیا کہ روزہ تھا ۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ اس کی جگہ ایک دن روزہ رکھ کر اس کی قضا کرو اور آئندہ ایسا نہ کرو۔ ایک اور سند سے یہ حدیث مروی ہے ۔ ہمیں عبد الباقی نے ، انہیں اسماعیل بن فضل بن موسیٰ ، انہیں حرملہ نے ، انہیں ابن وہب نے انہیں جریر بن حازم نے یحییٰ بن سعید سے ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت بیان کی کہ ایک دن میں اور حفصہ دونوں روزے سے تھیں ۔ ہمارے پاس بطور ہدیہ کھانا آیا جو ہمیں بہت اچھا لگا ہم نے روزہ توڑ دیا ۔- جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو حفصہ (رض) نے سبقت کر کے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مسئلہ پوچھا، اور وہ کیوں نہ سبقت کرتیں جبکہ وہ اپنے باپ کی بیٹی تھیں یعنی حضرت عمر (رض) کی طرح وہ بھی جری تھیں ۔ یہ سن کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس روزے کے بدلے ایک دن روزہ رکھو۔ حجاج بن ارطاۃ نے زہری سے ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضر ت عائشہ (رض) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ نیز عبید اللہ بن عمر نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) سے اس واقعے کی روایت کی البتہ اس میں تطوع یعنی نفل کا ذکر نہیں کیا ہے۔ یہ ہیں وہ روایات کثیرہ جو کئی طرق یعنی سلسلہ ہائے اسناد سے مروی ہیں جن میں سے بعض میں یہ مذکورہ ہے کہ دونوں صبح کے وقت نفلی روزے سے تھیں اور بعض میں نفل کا ذکر نہیں ہے ، لیکن تمام طرق میں قضا کرنے کے حکم کا ذکر ہے۔ وجوب قضا پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے جو ہمیں محمد بن بکر نے ، انہیں ابو دائود نے انہیں مسدد نے انہیں عیسیٰ بن یونس نے ، انہیں ہشام بن حسان نے محمد بن سیرین سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ۔ آپ نے فرمایا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا من ذرعہ فی وھو صائم فلیس علیہ قضاء وان استقاء فلیقض جس روزہ دار کو ازخود قے آ جائے اس پر قضا نہیں ہے اور جو جان بوجھ کر قے کرے وہ قضا کرے۔ اس حدیث میں یہ بیان ہے کہ نفلی روزہ رکھنے والا جب جان بوجھ کر قے کرے اس پر قضا واجب ہے اس لیے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اس حکم میں نفلی اور فرض روزہ رکھنے والوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا ہے اس لیے یہ حکم سب کو عام ہے۔- اس بات پر عقلی طور پر بھی اس طرح دلالت ہورہی ہے کہ تمام لوگوں کا اس مسئلے میں اتفاق ہے کہ اگر نفلی طور پر صدقہ کرنے والا کسی شخص کو صدقہ دے دے اور وہ شخص اس صدقہ پر قبضہ کرلے تو صدقہ کرنے والا اب اپنے صدقہ میں رجوع نہیں کرسکتا کیونکہ اس کی وجہ سے وہ قربت باطل ہوجاتی ہے جو اسے اس صدقہ سے حاصل ہوئی تھی۔- اس طرح نفلی …

Al-Baqara 2:189Listen in Qur'an →
190

وَقَٰتِلُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ يُقَٰتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْمُعْتَدِينَ

اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں تم بھی خدا کی راہ میں ان سے لڑو مگر زیادتی نہ کرنا کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

(آیت 187 کی بقہ تفسیر)- یہ حدیث اس مسئلے پر بھی دلالت کرتی ہے کہ جو شخص مسجد کے اندر ہو اور وہ اپنا سر باہر نکال کر کسی سے دھلوائے تو وہ شخص مسجد کے اندر سر دھونے والا خیال کیا جائے گا ۔ اس مسئلے کا عملی طور پر اثر اس صورت میں پڑے گا جبکہ کوئی شخص یہ قسم اٹھالے کہ وہ فلاں شخص کا سر مسجد میں نہیں دھوئے گا ، پھر اگر وہ اس کا مسجد سے باہر نکال کر دھو لے جبکہ دھونے والا مسجد سے باہر ہو تو ایسی صورت میں سر دھونے والا حانث ہوجائے گا ۔ دراصل اس قسیمہ فقرے میں مغسول یعنی جس کا سردھویا گیا اس کی جگہ کا اعتبار کیا گیا ہے۔ سردھونے والے کی جگہ اور مقام کا اعتبار نہیں کیا گیا ۔ اس لیے دھونے کا عمل اس وقت مکمل ہوگا جب مغسول کا وجود ہوگا ۔ اسی بناء پر فقہاء کا قول ہے کہ اگر کسی نے قسم کھالی کہ میں فلاں شحص کو مسجد میں نہیں ماروں گا تو اس قسمیہ فقرے میں مضروب کے وجود کا مسجد میں پایا جانا ضروری ہے۔ ضارب کے وجود کا نہیں۔- یہ حدیث حائضہ کے ہاتھ اور اس کے جو ٹھے کی طہارت پر دلالت کرتی ہے۔ اس کا حیض اس کے جسمانی طہارت کے لیے مانع نہیں ہوسکتا۔ یہ بات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس قول کی طرح ہے جس میں آپ نے فرمایا لیس حیضک فی یدک تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ واللہ اعلم - آیت 187 کی تفسیر ختم ہوئی)- ۔۔۔۔- تفسیر آیت 188- حاکم کے حکم سے حلال ہونے اور نہ ہونے والے امور - ارشاد باری ہے ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل وتدلوا بھا الی الحکام لتا کلوا فریقا ً من اموال الناس بالباطل اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دوسرے کا مال ناروا طریقے سے کھائو اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لیے بیش کرو کہ تمہیں دوسروں کے کمال کا کوئی حصہ قصدا ً ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے ۔ اس سے مراد ۔۔۔۔ واللہ اعلم ۔۔۔ یہ ہے کہ تم میں سے بع بعض کا مال ناجائز طریقے سے نہ کھائے جیسا کہ ارشاد باری ہے ولا تقتلوا انفسکم آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کرو ولا تلمزوا انفسکم سے مرادآپس میں بعض بعض کو یا جس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول ہے اموالکم واعراضکم علیکم حرام تمہارا مال اور تمہاری عزت و آبرو تم پر حرام ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ تم میں سے ایک دوسرے کا مال اور ایک دوسرے کی عزت و آبرو تمہارے لیے حرمت کی چیزیں ہیں ۔ ناجائز طریقے سے مال کھانے کی دو صورتیں ہیں اول یہ کہ ظلم و جبر کے ذریعے یا چوری ، خیانت اور غضب کے ذریعے یا اسی قسم کے کسی اور ہتھکنڈے کے ذریعے کسی کا مال ہتھیا لینا ۔ دوم یہ کہ ممنوعہ طریقوں مثلاً قمار بازی ، گانے بجانے یا کھیل تماشوں یا نوحہ خوانی کی اجرت کے طور پر یا شراب سور اور آزاد شخص کی قیمت کے طور پر حاصل کیا جائے یا ایسی چیز کی ملکیت حاصل کرلی جائے جس کا جواز نہ ہو اگرچہ مالک اس چیز کو برض اورغبت اس کی ملکیت میں دے دے۔ آیت میں ان تمام صورتوں میں حاصل شدہ مال کے اکل پر پابندی لگا دی گئی ہے اور اسے ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ ارشاد باری وتدلوا بھا الی الحکام کا تعلق ان صورتوں میں سے ہے جنہیں حاکم کے سامنے پیش کیا جائے اور پھر حاکم ان کے متعلق ظاہری طور پر فیصلہ کر دے تا کہ یہ حلال ہوجائیں جبکہ وہ فریق جس کے حق میں فیصلہ ہوا ہو اسے معلوم ہو کہ وہ اس مال کا حق دار نہیں ہے اور فیصلہ غلط ہوا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں واضح فرما دیا کہ حاکم کے فیصلے سے ایسے مال کو اپنے قبضے میں کرلینا مباح نہیں ہوگا ۔- اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے کھانے سے ڈانٹ کر روک دیا ۔ پھر ہمیں یہ بتادیا کہ اگر حاکم کے فیصلے کے نتیجے میں اس قسم کا مال کسی کے قبضے میں آ جائے تو وہ بھی ناجائز اور باطل مال کے زمرے میں آئے گا اور جس کا لینا ممنوع ہوگا ۔ ایک دوسری آیت میں ارشاد فرمایا یایھا الذین امنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ ً عن …

Al-Baqara 2:190Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.