مردار کی تحریم - ارشاد باری ہے : انما حرم علیکم المیتہ والدم والحم الخنزیر وما اھل بہ لغیر اللہ ( اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے مردارنہ کھائو، خون سے اور سور کے گوشت سے پرہیز کرو اور کوئی ایسی چیز نہ کھائو جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو) ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہش رع میں میتہ اس مردہ جانور کو کہتے تھے جسے ذبح نہ کیا گیا ہو۔ جانور کبھی مردار اس طرح ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی طبعت موت مرجائے، اس کی موت میں کسی آدمی کا داخل نہ ہو اور کبھی وہ کسی آدمی کے فعل کے سبب مردار ہوجاتا ہے بشرطیکہ آدمی کا یہ فعل اسے ذبح کرنے کی صورت میں نہ ہو۔ ہم انشاء اللہ ذبح کی شرائط کا اس کے موقعہ پر ذکر کریں گے۔- مردار ہوجانا اگرچہ اللہ کی مثیت سے ہوتا ہے لیکن تحریم کو اس کے ساتھ معلق کردیا گیا ہے، حالانکہ ہمیں ی ہ معلوم ہے کہ تحریم و تحلیل اور ممانعت و اباحت ہمارے افعال سے متعلق ہوتے ہیں کسی اور کے افعال سے ان کا تعلق نہیں ہوتا لیکن چونکہ یہ مفہوم مخاطبین کی سمجھ میں آسکتا تھا اس لئے اس میں لفظ تحریم و تحلیل کا اطلاق درست ہوگیا۔ اگرچہ حقیقت یہ نہیں تھی، تاہم یہ انداز بیان تحریم کے حکم کی تاکید بن گیا۔ کیونکہ تحریم منافع (جمع منفعت) کی تمام صورتوں کوش امل ہے، اسی بنا پر ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ مردار سے کسی صورت میں بھی فائدہ حاصل کرنا جائز نہیں ہے حتیٰ کہ کتوں اور دیگرجانوروں کو بھی اسے کھلانا درست نہیں ہے۔ یہ بھی انتفاع کی ایک صورت ہے اور اللہ سبحانہ نے مردار کی مطلقاً تحریم کردی ہے اور تحریم کو عین مردار کے ساتھ معلق کرکے ممانعت کے حکم کو اور بھی موکد کردیا ہے، البتہ اگر کوئی مردار کسی دلیل کی بنا پر تحریم کے حکم سے خاص کردیا گیا ہو تو اسے تسلیم کرلینا واجب ہوگا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مردہ مچھلی اور مردہ ٹڈی کی مذکورہ حکم سے تخصیص مروی ہے ۔ عبدالرحمن بن زید بن اسلم نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضر ت ابن عمر (رض) سے روایت بیان کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمارے لیے د و مردار اور دو خون حلال کردئیے گئے ہیں۔ دو مردار ٹڈی ار مچھلی ہیں اور دو خون تلی اور جگر ہیں۔- عمر و بن دینار نے حضرت جابر (رض) سے جیش الخبط کے واقعہ کے سلسلے میں روایت بیان کی ہے کہ سمندر کی موجوں نے مجاہدین کی طرف ایک بڑی مچھلی اچھا ل دی جس کا گوشت وہ نصف ماہ تک کھاتے رہے۔ پھر جب یہ مجاہدین واپس آئے تو انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تمہارے پاس اس مچھلی کا کوئی حصہ مجھے کھلانے کے لئے ہے ؟- اہل اسلام کے مابین غیر طانی مچھلی اور ٹڈی کی اباحت کے بارے میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے ( طافی اس مچھلی کو کہتے ہیں جو پانی میں مرکر سطح آب پر آجائے) بعض حضرات نے مردار کی تحریم والی آیت کے عموم کی تخصیص پر قول باری : احل لکم صید البحر و طعامہ متاعًا لکم وللسیارۃ (تمہارے لئے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کردیا گیا ہے جہاں تم ٹھہرو وہاں بھی اسے کھا سکتے ہو اور قافلے کے لیے زادراہ بھی سناسکتے ہو) سے استدلال کیا ہے۔ انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد سے بھی یہ استدلال کیا ہے جس کا ذکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سمندر کے بارے میں کیا تھا کہ : اس کا پانی پاک اور اس کا مردار حلال ہے۔ اس حدیث کی روایت صفوان بن سلیم الرزقی نے سعید بن سلمہ سے کی ہے۔ انہوں نے المغیرہ بن ابی بردہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا۔ اس روایت کی سند کا ایک راوی سعید بن سلمہ مجہول اور حفظ میں غیر معروف ہے۔ یحییٰ بن سعید انصاری نے سند میں اس سے اختلاف کیا ہے اور المغیرہ بن عبداللہ بن ابی بردہ سے روایت بیان کی ہے، انہوں نے اپنے والد …