Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 171–180 of 286

171

وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ كَمَثَلِ ٱلَّذِى يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَآءًۭ وَنِدَآءًۭ ۚ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْىٌۭ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ

جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ سن نہ سکے۔ (یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کچھ) سمجھ ہی نہیں سکتے

Explained together with ayah 164

Al-Baqara 2:171Listen in Qur'an →
172

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُلُوا۟ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقْنَٰكُمْ وَٱشْكُرُوا۟ لِلَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ

اے اہل ایمان جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائیں ہیں ان کو کھاؤ اور اگر خدا ہی کے بندے ہو تو اس (کی نعمتوں) کا شکر بھی ادا کرو

Explained together with ayah 164

Al-Baqara 2:172Listen in Qur'an →
173

إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ ٱلْمَيْتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحْمَ ٱلْخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ بِهِۦ لِغَيْرِ ٱللَّهِ ۖ فَمَنِ ٱضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍۢ وَلَا عَادٍۢ فَلَآ إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌ

اس نے تم پر مرا ہوا جانور اور لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کردیا ہے ہاں جو ناچار ہوجائے (بشرطیکہ) خدا کی نافرمانی نہ کرے اور حد (ضرورت) سے باہر نہ نکل جائے اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بےشک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے

مردار کی تحریم - ارشاد باری ہے : انما حرم علیکم المیتہ والدم والحم الخنزیر وما اھل بہ لغیر اللہ ( اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے مردارنہ کھائو، خون سے اور سور کے گوشت سے پرہیز کرو اور کوئی ایسی چیز نہ کھائو جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو) ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہش رع میں میتہ اس مردہ جانور کو کہتے تھے جسے ذبح نہ کیا گیا ہو۔ جانور کبھی مردار اس طرح ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی طبعت موت مرجائے، اس کی موت میں کسی آدمی کا داخل نہ ہو اور کبھی وہ کسی آدمی کے فعل کے سبب مردار ہوجاتا ہے بشرطیکہ آدمی کا یہ فعل اسے ذبح کرنے کی صورت میں نہ ہو۔ ہم انشاء اللہ ذبح کی شرائط کا اس کے موقعہ پر ذکر کریں گے۔- مردار ہوجانا اگرچہ اللہ کی مثیت سے ہوتا ہے لیکن تحریم کو اس کے ساتھ معلق کردیا گیا ہے، حالانکہ ہمیں ی ہ معلوم ہے کہ تحریم و تحلیل اور ممانعت و اباحت ہمارے افعال سے متعلق ہوتے ہیں کسی اور کے افعال سے ان کا تعلق نہیں ہوتا لیکن چونکہ یہ مفہوم مخاطبین کی سمجھ میں آسکتا تھا اس لئے اس میں لفظ تحریم و تحلیل کا اطلاق درست ہوگیا۔ اگرچہ حقیقت یہ نہیں تھی، تاہم یہ انداز بیان تحریم کے حکم کی تاکید بن گیا۔ کیونکہ تحریم منافع (جمع منفعت) کی تمام صورتوں کوش امل ہے، اسی بنا پر ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ مردار سے کسی صورت میں بھی فائدہ حاصل کرنا جائز نہیں ہے حتیٰ کہ کتوں اور دیگرجانوروں کو بھی اسے کھلانا درست نہیں ہے۔ یہ بھی انتفاع کی ایک صورت ہے اور اللہ سبحانہ نے مردار کی مطلقاً تحریم کردی ہے اور تحریم کو عین مردار کے ساتھ معلق کرکے ممانعت کے حکم کو اور بھی موکد کردیا ہے، البتہ اگر کوئی مردار کسی دلیل کی بنا پر تحریم کے حکم سے خاص کردیا گیا ہو تو اسے تسلیم کرلینا واجب ہوگا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مردہ مچھلی اور مردہ ٹڈی کی مذکورہ حکم سے تخصیص مروی ہے ۔ عبدالرحمن بن زید بن اسلم نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضر ت ابن عمر (رض) سے روایت بیان کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمارے لیے د و مردار اور دو خون حلال کردئیے گئے ہیں۔ دو مردار ٹڈی ار مچھلی ہیں اور دو خون تلی اور جگر ہیں۔- عمر و بن دینار نے حضرت جابر (رض) سے جیش الخبط کے واقعہ کے سلسلے میں روایت بیان کی ہے کہ سمندر کی موجوں نے مجاہدین کی طرف ایک بڑی مچھلی اچھا ل دی جس کا گوشت وہ نصف ماہ تک کھاتے رہے۔ پھر جب یہ مجاہدین واپس آئے تو انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تمہارے پاس اس مچھلی کا کوئی حصہ مجھے کھلانے کے لئے ہے ؟- اہل اسلام کے مابین غیر طانی مچھلی اور ٹڈی کی اباحت کے بارے میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے ( طافی اس مچھلی کو کہتے ہیں جو پانی میں مرکر سطح آب پر آجائے) بعض حضرات نے مردار کی تحریم والی آیت کے عموم کی تخصیص پر قول باری : احل لکم صید البحر و طعامہ متاعًا لکم وللسیارۃ (تمہارے لئے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کردیا گیا ہے جہاں تم ٹھہرو وہاں بھی اسے کھا سکتے ہو اور قافلے کے لیے زادراہ بھی سناسکتے ہو) سے استدلال کیا ہے۔ انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد سے بھی یہ استدلال کیا ہے جس کا ذکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سمندر کے بارے میں کیا تھا کہ : اس کا پانی پاک اور اس کا مردار حلال ہے۔ اس حدیث کی روایت صفوان بن سلیم الرزقی نے سعید بن سلمہ سے کی ہے۔ انہوں نے المغیرہ بن ابی بردہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا۔ اس روایت کی سند کا ایک راوی سعید بن سلمہ مجہول اور حفظ میں غیر معروف ہے۔ یحییٰ بن سعید انصاری نے سند میں اس سے اختلاف کیا ہے اور المغیرہ بن عبداللہ بن ابی بردہ سے روایت بیان کی ہے، انہوں نے اپنے والد …

Al-Baqara 2:173Listen in Qur'an →
174

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ وَيَشْتَرُونَ بِهِۦ ثَمَنًۭا قَلِيلًا ۙ أُو۟لَٰٓئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِى بُطُونِهِمْ إِلَّا ٱلنَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ ٱللَّهُ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

جو لوگ (خدا) کی کتاب سے ان (آیتوں اور ہدایتوں) کو جو اس نے نازل فرمائی ہیں چھپاتے اور ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منفعت) حاصل کرتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں محض آگ بھرتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے خدا قیامت کے دن نہ کلام کرے گا اور نہ ان کو (گناہوں سے) پاک کرے گا۔اور ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب ہے

(بقیہ تفسیر سابقہ آیت)- گھی میں گر کر مرجانے والی چوہیا کا مسئلہ - قول باری ہے : انما حرم علیکم المیتۃ نیز ارشاد ہے : حرمت علیکم المیتۃ یہ آیات ان مائع چیزوں کی تحریم کی متقضی نہیں ہیں جن میں گر کر کوئی جانور مرجائے، بلکہ یہ صرف عین مردار اور مردار کے اردگرد والے حصوں کی تحریم کی متقضی بھی ہیں مذکورہ مائع چیز مردار نہیں کہلائے گی۔ اس لئے تحریم کا لفظ اسے شامل نہیں ہوگا۔ تاہم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت سے اس مائع چیز کے استعمال کی حرمت ثابت ہے چناچہ زہری نے سعید المسیب سے، اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت بیان کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گھی کے اندر گر جانے والی چوہیا کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں فرمایا : اگر گھی منجمد ہو تو چوہیا نیز اس کے ارد گرد کا گھی نکال کر پھینک دو اور اگر گھی مائع شکل میں ہو تو اس کے قریب نہ جائو۔ حضرت ابو سعید خدری (رض) نے بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی قسم کی روایت بیان کی ہے۔ زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے اور انہوں نے حضرت میمونہ (رض) سے روایت بیان کی ہے کہ گھی کے اندر ایک چوہیا گر کر مرگئی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چوہیا اور اس کے ارد گرد کا گھی نکال کر پھینک دو اور باقی ماندہ گھی کھالو۔ عبدالجبار بن عمر نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر (رض) سے روایت بیان کی ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) نے انہیں بتایا تھا کہ وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے کہ ایک شخص نے آپ ؐ سے ودک ( گوشت اور چربی کی چکنائی) میں گر جانے والی چوہیا کے متعلق مسئلہ پوچھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا کہ چربی منجمد تھی ؟ اس نے اثبات میں جواب دیا۔ یہ سن کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چوہیا اور اس کے اردگرد موجود چربی نکال کر پھینک دو اور باقی ماندہ چربی کھالو۔ سائل نے عرض کیا کہ وہ مائع ہو تو کیا حکم ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں فرمایا تو پھر اس سے فائدہ اٹھالو۔ لیکن اسے کھائو نہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کھانے کے سوا دوسرے طریقوں سے اس سے فائدہ اٹھانے کی بات مطلق رکھی۔ یہ بات اس کی بیع کی جواز کی متقضی ہے کیونکہ بیع بھی اس سے انتفاع کی ایک صورت ہے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انتفاع کی کسی صورت کی تخصیص نہیں فرمائی۔- حضرت ابن عمر (رض) حضرت ابو سعید خدری (رض) اور حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) اور حضرت حسن بصری نیز سلف کے دیگر حضرات سے منقول ہے کہ کھانے کے سوا دوسرے طریقوں سے اس سے فائدہ اٹھا لینا جائز ہے۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) نے فرمایا : اسے فروخت کردو لیکن اسے کھائو نہیں ہمیں کسی بھی فقیہ کے متعلق علم نہیں کہ اس نے مذکورہ گھی یا چیز کے انتفاع مثلاً اسے چراغ میں جلانے اور کھالیں رنگنے میں استعمال سے روکا ہو ۔ ہمارے اصحاب کے نزدیک اس کی بیع بھی جائز ہے۔ البتہ مائع مبیع یعنی چربی یا گھی وغیرہ کا یہ عیب مشتری سے بیان کردے۔- امام شافعی سے منقول ہے کہ اس کی بیع جائز نہیں ہے، البتہ اسے چراغ میں ڈال کر جلانا جائز ہے حالانکہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی روایت کردہ حدیث میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے انتفاع کا اطلاق منقول ہے اور اس میں کسی خاص صورت کے ساتھ اس انتفاع کی تخصیص نہیں ہے جس سے اس بات پر دلالت ہوگئی کہ اسے کھانا تو حرام ہے کسی اور بات کی حرمت نہیں ہے نیز یہ کہ اس کی بیع جائز ہے جس طرح ان دیگر اشیاء کی جن سے انتفاع جائز ہے۔ مثلاً گدھا، خچر وغیرہ کیونکہ ان اشیاء کے اندر کوئی ایسا حق نہیں ہوتا جو ان کی بیع کے لیے رکاوٹ بن جائے جبکہ ان سے انتفاع جائز ہے اور وہ محرم العین بھی نہیں ہیں۔- اگر کہاجائے کہ …

Al-Baqara 2:174Listen in Qur'an →
175

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱشْتَرَوُا۟ ٱلضَّلَٰلَةَ بِٱلْهُدَىٰ وَٱلْعَذَابَ بِٱلْمَغْفِرَةِ ۚ فَمَآ أَصْبَرَهُمْ عَلَى ٱلنَّارِ

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی اور بخشش چھوڑ کر عذاب خریدا۔ یہ (آتش) جہنم کی کیسی برداشت کرنے والے ہیں!

Explained together with ayah 174

Al-Baqara 2:175Listen in Qur'an →
176

ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ نَزَّلَ ٱلْكِتَٰبَ بِٱلْحَقِّ ۗ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ ٱخْتَلَفُوا۟ فِى ٱلْكِتَٰبِ لَفِى شِقَاقٍۭ بَعِيدٍۢ

یہ اس لئے کہ خدا نے کتاب سچائی کے ساتھ نازل فرمائی۔ اور جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ ضد میں (آکر نیکی سے) دور (ہوگئے) ہیں

Explained together with ayah 174

Al-Baqara 2:176Listen in Qur'an →
177

۞ لَّيْسَ ٱلْبِرَّ أَن تُوَلُّوا۟ وُجُوهَكُمْ قِبَلَ ٱلْمَشْرِقِ وَٱلْمَغْرِبِ وَلَٰكِنَّ ٱلْبِرَّ مَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةِ وَٱلْكِتَٰبِ وَٱلنَّبِيِّۦنَ وَءَاتَى ٱلْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ ذَوِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينَ وَٱبْنَ ٱلسَّبِيلِ وَٱلسَّآئِلِينَ وَفِى ٱلرِّقَابِ وَأَقَامَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَى ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَٰهَدُوا۟ ۖ وَٱلصَّٰبِرِينَ فِى ٱلْبَأْسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ وَحِينَ ٱلْبَأْسِ ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ صَدَقُوا۟ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُتَّقُونَ

نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق یا مغرب کو (قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ خدا پر اور روز آخرت پر اور فرشتوں پر اور (خدا کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائیں۔ اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں (کے چھڑانے) میں (خرچ کریں) اور نماز پڑھیں اور زکوٰة دیں۔ اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں۔ اور سختی اور تکلیف میں اور (معرکہ) کارزار کے وقت ثابت قدم رہیں۔ یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں) سچے ہیں اور یہی ہیں جو (خدا سے) ڈرنے والے ہیں

مال میں زکوٰۃ کے سوا کوئی اور حق - ارشاد باری ہے : لیس البر ان تولوا وجوھکم قبل المشرق و المغرب ( نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کرلیے یا مغرب کی طرف) تا آخر آیت ۔ اس آیت کی تفسیر میں کہا گیا ہے اللہ سبحان، نے اس سے یہود و نصاریٰ مراد لیے ہیں۔ جب انہوں نے نسخ قبلہ کی بات تسلیم نہیں کی تو اللہ نے انہیں بتادیا کہ نیکی تو اللہ کی اطاعت اور اس کے اوامر کے اتباع کے اندر ہے، مشرق یا مغرب کی طرف چہرے کرلینے کے اندر نہیں ہے جبکہ اس میں اللہ کے حکم کی پیروی موجود نہ ہو، نیز یہ کہ اب اللہ کی طاعت کعبہ کی طرف رخ کرنے میں ہے کیونکہ کسی اور طرف رخ کرنے کا حکم منسوخ ہوچکا ہے۔ قول باری : ولکن المبر من امن باللہ والیوم الاخر ( لیکن نیکی تو اس کی ہے جو اللہ اور یو آخر پر ایمان لے آئے) کی تفسیر میں کہا گیا کہ یہاں ایک لفظ مخدوف ہے اور آیت کے معنی ہیں : نیکی اس شخص کی نیکی ہے جو اللہ اور یوم آخر پر ایمان لے آئے۔ ایک قول کے مطابق آیت سے مراد یہ ہے کہ نیکو کار وہ شخص ہے جو اللہ اور یوم آخر پر ایمان لائے۔ جس طرح خنساء کا یہ شعر ہے۔ - توقع ما غفلت حتی اذا ادکرت فاز ماھی اقبال و ادبار - ( یہ اونٹنی جب تک غافل رہتی ہے چرتی رہتی ہے، حتی کہ جب اسے یاد آ جاتا ہے تو پھر آگے پیچھے سے آنے جانے کا سماں ہوتا ہے، یعنی پھر اونٹنی آگے پیچھے آتی جاتی ہے) ۔ قول باری ہے ( اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال خرچ کرے) یعنی نیکوکار وہ شخص ہے جو دلی رغبت سے مال خرچ کرے۔ ایک قول کے مطابق مراد یہ ہے کہ وہ اپنا دل پسند مال دے یعنی ایک مال سے محبت کے باوجود اسے دے دے۔ جس طرح یہ قول باری ہے : لن تنالو البر حتیٰ تنفقوا مما تحبون ( تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں ( خدا کی راہ) خرچ نہکرو جنھیں تم عزیز رکھتے ہو) ایک اور قول کے مطابق مفہوم یہ ہے : دلی محبت کے تحت مال دے اور دیتے وقت ناراضگی کا اظہار نہ کرے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد یہ وہ : کہ وہ اللہ کی محبت میں مال دے جس طرح یہ قول باری ہے : قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی (کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو) آیت میں درج بالا تمام معانی مراد لینا جائز ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں جو روایت ہے وہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ سبحانہ کی مراد انفاق ہے۔ اس حدیث کی روایت جریر بن عبدالحمید نے عمارہ بن القعقاع سے۔ انہوں نے ابوزرعہ اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے کی ہے کہ ایک شخص حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کون سا صدقہ سب سے افضل ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں فرمایا : تم صدقہ کرو جبکہ تم تندرست ہو، تمہیں فقرا اور تنگدستی کا خوف و اور مالداری کی امید ہو، اور اتنی دیر نہ کرو کہ جان حلق تک آ جائے اور اس وقت تم کہو کہ فلاں کے لیے اتنا ، فلاں کے لیے اتنا ( اس حالت میں تمہارے بغیر) وہ دوسروں کے لیے ہوچکا۔ ابوالقاسم عبداللہ بن اسحاق المروزی نے روایت بیان کی، ان سے الحسن بن ابی الربیع الجرجانی نے، ان سے عبدالرزاق نے، ان سے الثوری نے ربید سے، انوں نے مُرہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے قول باری واتی المال علی حبہ کی تفسیر میں بیان کیا کہ تم مال خرچ کرو در آنی لی کہ تم تندرست ہو، تمہیں فراخی عیش کی امید ہو اور تنگدستی کا خوف ہو۔ قول باری : واتی المال علی خبح ذوی القربی ( اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتہ داروں پر خرچ کرے) میں اتحمال ہے کہ اس سے صدقہ واجبہ مراد ہو۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ نفلی صدقہ مراد ہو، تا ہم آیت میں کوئی دلالت موجود نہیں ہے جس سے پتہ چل سکے کہ صدقہ واجبہ مراد ہے، بلکہ آیت میں تو صرف صدقہ کرنے پر ابھارا ہے اور اس پر ثواب کا وعدہ ہے کیونکہ آیت …

Al-Baqara 2:177Listen in Qur'an →
178

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلْقِصَاصُ فِى ٱلْقَتْلَى ۖ ٱلْحُرُّ بِٱلْحُرِّ وَٱلْعَبْدُ بِٱلْعَبْدِ وَٱلْأُنثَىٰ بِٱلْأُنثَىٰ ۚ فَمَنْ عُفِىَ لَهُۥ مِنْ أَخِيهِ شَىْءٌۭ فَٱتِّبَاعٌۢ بِٱلْمَعْرُوفِ وَأَدَآءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَٰنٍۢ ۗ ذَٰلِكَ تَخْفِيفٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ وَرَحْمَةٌۭ ۗ فَمَنِ ٱعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُۥ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

مومنو! تم کو مقتولوں کے بارےمیں قصاص (یعنی خون کے بدلے خون) کا حکم دیا جاتا ہے (اس طرح پر کہ) آزاد کے بدلے آزاد (مارا جائے) اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت اور قاتل کو اس کے (مقتول) بھائی (کے قصاص میں) سے کچھ معاف کردیا جائے تو (وارث مقتول) کو پسندیدہ طریق سے (قرار داد کی) پیروی (یعنی مطالبہٴ خون بہا) کرنا اور (قاتل کو) خوش خوئی کے ساتھ ادا کرنا چاہیئے یہ پروردگار کی طرف سے تمہارے لئے آسانی اور مہربانی ہے جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لئے دکھ کا عذاب ہے

قصاص کا بیان - ارشاد باری ہے : کتب علیکم القصاص فی القتلی ( تمہارے لیے قتل کے مقدموں میں قصاص کا حکم لکھ دیا گیا ہے) یہ خود کفیل اور مکتفی بالذات کلام ہے اور اسے اپنے مفہوم کی ادائیگی کے لیے ما بعد کے کلام کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر صرف اسی فقرے پر اقتصار کرلیا جاتا تو الفاظ سے اس کے مفہوم کی پوری ادائیگی ہوجاتی۔ اس کلام کا ظاہر تمام مقتولین کے اندر اہل ایمان قر قصاص کا مقتضی ہے۔ قصاص کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص کے ساتھ وہی کچھ کیا جائے جو اس نے دوسرے شخص کے ساتھ کیا ہے۔ یہ لفظ اس قول سے ماحوذ ہے : اقتص اثر فلان ( فلاں شخص نے فلاں شخص جیسا فعل کیا) قول باری ہے : فارتدا علی اثارھما قصصا ( چناچہ وہ دونوں اپنے نقش قدم پر واپس ہوئے) نیز ارشاد ہے : وقالت الاختہ قصیہ ( اور اس نے حضرت موسیٰ کی ماں نے ) اس کی ( حضرت موسیٰ کی) بہن سے کہا : اس کے نقش قدم پر جائو) قول باری : کتب علیکم کے معنی ہیں ” تم پر فرض کردیا گیا “ جس طرح یہ قول باری ہے : کتب علیکم الصیام ( تم پر روزے فرض کر دئیے گئے) نیز : کتب علیکم اذا حضر احدکم الموت ان ترک خیر الوصیۃ للوالدین ( تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آ جائے اور وہ اپنے پیچھے مال چھوڑ رہا ہو تو والدین کے لیے وصیت کرے) ایک وقت میں وصیت واجب تھی اسی طرح ” صلوات مکتوبات “ سے فرض نمازیں مراد ہیں۔ زیر بحث آیت اہل ایمان پر قصاص کے ایجاب کے حکم پر مشتمل ہے۔ یعنی جب کوئی قتل کا ارتکاب کرے تو اس پر مقتول کا قصاص واجب ہوجاتا ہے۔ اس حکم میں تمام قسم کے مقتولین شامل ہیں۔- حصوص تو صرف قاتلین میں ہے کیونکہ ان پر قصاص صرف اس وقت فرض ہوگا جب وہ قاتل بنیں گے اس لیے آیت ہر اس شخص پر وجوب قصاص کے مقتضی ہے جس نے کسی آلے کے ذریعے عمداً قتل کا ارتکاب کیا ہو، سوائے ان صورتوں کے جن کی تخصیص کسی شرعی دلیل کی بنا پر ہوئی ہو۔ خواہ مقتول غلام ہو یا ذمی، مذکر ہو یا مونث، کیونکہ آیت میں مذکور ( القتلیٰ ) کا لفظ سب کو شامل ہے ۔ مقتولین کے سلسلے میں اہل ایمان قر قصاص کے ایجاب پر مشتمل خطاب کا رخ ان کی طرف ہونا اس امر کا موجب نہیں ہے کہ مقتولین بھی اہل ایمان ہوں کیونکہ ہم پر تو لفظ کے عموم کا اتباع لازم ہے جب تک خصوص کی دلالت قائم نہ ہوجائے۔ زیر بحث آیت میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جو بعض مقتولین کے ساتھ حکم کے خصوص کی موجب ہو اور بعض کے ساتھ نہ ہو۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مقتولین کے اعتبار سے حکم میں دو وجوہ سے تخصیص موجود ہے۔ ایک وجہ تو آیت کے تسلسل میں یہ قول باری ہے : فمن عفی لہ من اخیہ شی ف اتباع بالمعروف ( ہاں اگر کسی قاتل کے ساتھ اس کا بھائی ( مقتول کا ولی) کچھ نرمی کرنے کے لیے تیار ہو تو معروف طریقے کے مطابق خونبہا کا تصفیہ ہونا چاہیے ) اور کافر چونکہ مسلمان کا بھائی نہیں ہوتا اس لیے آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ یہ اہل ایمان کے مقتولین کے ساتھ خاص ہے۔ دوسری وجہ یہ قول باری ہے : المحر بالحر و العبد بالعبد والانثی بالانثی ( آزاد کے بدلے آزاد غلام کے بدلے غلام اور مونث کے بدلے مونث) اس کے جواب میں جواب میں کہا جائے گا کہ معترض کی بات دو وجوہ سے غلط ہے، ایک وجہ تو یہ ہے کہ خطاب کا اول حصہ جب سب کو شامل ہے، تو خصوص کے لفظ کے ساتھ اس پر عطف ہونے والا عموم کی تخصیص کا موجب نہیں ہوتا۔ - اس کی مثال یہ قول باری ہے : والمطلقات یستربصن بانفسھن ثلاثۃ قروء ( اور طلاق یافتہ عورتیں تین مرتبہ ایام ماہواری آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں) آیت کے الفاظ میں تین طلاقوں والی مطلقہ اور تین سے کم والی مطلقہ کے لیے عموم ہے پھر اس پر یہ قول باری عطف ہوا : واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او سرحوھن بمعروف ( اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہونے والی ہو تو یا بھلے طریقے سے انہیں روک لو یا بھلے طریقے سے رخصت …

Al-Baqara 2:178Listen in Qur'an →
179

وَلَكُمْ فِى ٱلْقِصَاصِ حَيَوٰةٌۭ يَٰٓأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

اور اے اہل عقل (حکم) قصاص میں (تمہاری) زندگانی ہے کہ تم (قتل و خونریزی سے) بچو

(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)- جب فاعل کے اپنے حصے کے اندر اس پر حد واجب نہیں ہوئی تو یہ بات دوسرے شریک کے حلے میں حد کے وجوب کے لیے مانع بن جائے گی، کیونکہ اس میں تبعیض نہیں ہوسکتی، اسی بنا پر ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ اگر دو افراد کسی ایسے شخص کی چوری کرلیں جو ان میں سے ایک کا بیٹا ہو دونوں میں سے کسی کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ مسروقہ چیز کی حفاظت کا حصار توڑنے کے جرم میں ایک کی مسارکت ایسے دوسرے شخص کے ساتھ ہوئی تھی جو قطع ید کا مستحق نہیں ہے۔ یعنیی مال کے مالک کا باپ۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ عامد اور مخطی، عاقل اور دیوانے ، بالغ اور بچے کی شراکتوں میں وقوع پذیر ہونے والے قتل عمد میں عمد کا حکم عامد یا عاقل یا بالغ کے ساتھ متعلق ہونے کی وجہ سے ان پر قصاص واجب کردیتا ہے جیسا کہ آپ نے تلاوت کردہ آیات سے استدلال کیا ہے کہ مذکورہ بالا قاتلین کے جوڑوں میں ہر جوڑے کا ہر فراد پوری جان کا قاتل اور پوری زندگی کا متلف ہوتا ہے۔ اور سای بنا پر وہ اشتراک و انفراد کی دونوں حالتوں میں وعید کا مستحق گردانا جاتا ہے، نیز اسی بنا پر کسی شخص کو عمداًٰ قتل کرنے والی پوری جماعت کے ہر فرد پر قصاص واجب ہوجاتا ہے کیونکہ ایسی صورت میں مذکورہ جماعت کا ہر فرد اس شخص کا حکم میں ہوتا ہے جس نے انفرادی طور پر پوری جان لی ہو۔ یہ وضاحت اس امر کی موجب ہے کہ اگر عاقل اور دیوانے کا جورُا قتل عمد میں شریک ہو تو عاقل کو قصاص میں قتل کردیا جائے۔ نیز بچے اور بالغ کے جوڑے کی صورت میں بالغ کو عامد اور مخطی کے جوڑے کی صورت میں عامد کو قتل کردیا جائے اور مذکورہ افراد سے قصاص کا حکم اس بنا پر ساقط نہ ہو کہ ان کی مشارکت ایسے افراد کے ساتھ تھی جن سے قصاص نہیں لیا جاسکتا۔ - اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ بات اس بنا پر واجب نہیں ہے کہ سب حضرات اس امر پر متفق ہیں کہ اگر قتل کے ارتکاب میں شرکت کرنے والا شخص ایسا ہو جس پر قصاص کا حکم جاری نہیں ہوتا، یعنی دیوانہ یا نابالغ یا مخطی تو اس صورت میں اس پر دیت کا کچھ حصہ لازم ہوجائے گا۔ اور جب دیت لازم ہوجائے گی تو اس کے نتیجے میں دونوں قاتلوں سے عمد کا حکم منتفی ہوجائے گا۔ کیونکہ اتلاف کی حالت میں جان کی تبعیض نہیں ہوتی۔ اس لیے دونوں قاتل قتل خطا کے حکم میں ہوجائیں گے۔ اور یہ قتل قصاص والا قتل قرار نہیں پائے گا۔ اسے ایک اور جہت سے دیکھیے جس شریک قاتل پر قصاص کا حکم جاری نہیں ہوتا اس پر دیت کا ایک حصہ واجب ہوتا ہے، پوری دیت واجب نہیں ہوتی۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ دونوں قاتل قتل خطا کے حکم میں ہوگئے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو پوری دیت واجب ہوجاتی۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر تمام قاتلوں پر قصاص کا حکم جاری ہوتا تو ایسی صورت میں ہم تمام قاتلین سے قصاص لے لیتے اور ان میں ہر قاتل کے حکم میں ہوتا جس نے تنہا قتل کا ارتکاب کیا ہو اور جب اس شریک قاتل پر دیت کا ایک حصہ واجب ہوگیا جس پر قصاص کا حکم جاری نہیں ہوسکتا۔ تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوگئی کہ قصاص ساقط ہوگیا۔ نیز یہ کہ مقتول کی جان قتل خطا کے حکم میں ہوگئی اور اسی بنا پر دیت قاتلوں کی تعداد پر تقسیم ہوگئی۔ جب امام شافعی ہمارے ساتھ اس بات پر متفق ہیں کہ اگر قتل کے ارتکاب میں شریک دو افراد میں سے ایک فرد عامد ہو اور دوسرا مخطی تو عامد پر قصاص واجب نہیں ہوگا تو ان پر لازم آتا ہے کہ وہ یہی حکم ان صورتوں میں بھی عائد کریں جب عاقل اور دیوانہ یا بالغ اور بچہ مل کر کسی کو قتل کردیں کیونکہ ان صورتوں میں عاقل یا بالغ کی مشارکت ایسے افراد کے ساتھ ہوگی جن پر قصاص کا حکم جاری نہیں ہوتا۔- علاوہ ازیں ہم نے اصول کے اندر یہ بات دیکھی ہے کہ ایک شخص کے سلسلے میں مال اور قصاص دونوں کا وجوب ممتنع ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر قاتل ایک شخص ہو اور اس پر مال واجب ہوجائے۔ تو قصاص کا وجوب منتفی ہوجاتا ہے۔ اسی طرح وطی، یعنی عورت …

Al-Baqara 2:179Listen in Qur'an →
180

كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا ٱلْوَصِيَّةُ لِلْوَٰلِدَيْنِ وَٱلْأَقْرَبِينَ بِٱلْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى ٱلْمُتَّقِينَ

تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے تو اگر وہ کچھ مال چھوڑ جانے والا ہو تو ماں با پ اور رشتہ داروں کے لئے دستور کے مطابق وصیت کرجائے (خدا سے) ڈر نے والوں پر یہ ایک حق ہے

(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)- قصاص کی کیفیت - ارشاد باری ہے : یایھا الذین امنو کتب علیکم القصاص فی القتلی دوسری آیت میں ارشاد ہے : والجروح قصاص ( اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہض نیز ارشاد ہے : وان عاقبتم فعاقبو بمثل ماعوقبتم بہ ان آیات کے ذریعے اللہ سبحانہ نے مثل کی وصولی کو واجب کردیا۔ اور کسی کو خواہ وہ جنایت کی زد میں آنے والا شخص ہو یا اس کا ولی ہو اس بات کی اجازت نہیں دی کہ وہ جنایت کے مرتکب سے اس کے جرم سے بڑھ کر بدلہ لے۔ قصاص کی کیفیت کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ ، امام ابو یوسف، امام محمد اور امام زفر کا قول ہے کہ قاتل نے مقتول کو خواہ جس طرح بھی قتل کیا ہو اسے تلوار کے ذریعے قتل کیا جائے گا۔ ابن القاسم نے امام مالک کا قول نقل کیا ہے کہ اگر قاتل نے مقتول کو لاٹھی یا پتھر مار کر یا آگ میں ڈال کر یا پانی میں ڈبو کر قتل کیا ہو تو اسے بھی اسی طرح قتل کیا جائے گا۔ اگر قاتل نہ مرے تو اس پر اسی عمل کی تکرار ہوگی جس کے تحت اس نے قتل کا ارتکاب کیا تھا حتیٰ کہ وہ مرجائے خواہ یہ عمل قاتل کے اپنے فعل سے بڑھ کیوں نہ جائے۔ قاضی ابن شبرمہ نے کہا ہے کہ ہم قاتل کو اس ضرب کی طرح ضرب لگائیں گے جو اس نے مقتول کو لگائی تھی اور اس سے زائد ضرب نہیں لگائیں گے۔ - سلف مثلہ ( ناک ، کان اور دیگر اعضاء کاٹ ڈالنے) کو ناجائز سمجھتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ تلوار ان تمام باتوں کی کفایت کردیتی ہے۔ اگر قاتل نے مقتول کی ڈبکیاں دے دے کر مارا ہو تو میں بھی اسے ڈبکیاں دوں گا حتیٰ کہ اس کی جان نکل جائے۔ امام شافعی کا قول ہے کہ اگر قاتل نے مقتول کو پتھر مار مار کر ہلاک کردیا ہو تو اس کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا جائے گا۔ اگر اس نے مقتول کو مقید کر کے بلا آب و دانہ ہلاک کردیا ہو تو اسے بھی محبوس کردیا جائے گا۔ اگر وہ حبس کے اندر مقتول والی مدت میں نہ مرے تو پھر تلوار سے اسے قتل کردیا جائے گا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جب قول باری : کتب علیکم القصاص فی القتلی نیز : والجروح قصاص کا مفہوم کسی اضافے کے بغیر مثل کا استیفاء ( وصولی) ہے تو پھر ولی پر مجرم کے فعل سے زائد کا استیفاء ممنوع ہوگا۔ اگر ولی قصاص کا استیفاء ان حضرات کے مسلک کے مطابق کرے گا جن کا ذکر ہم نے آگ میں جلا کر ، پانی میں ڈبو کر، پھتر مار مار کر اور قید میں ڈال کر قتل کرنے کے سلسلے میں کیا ہے۔ تو اس کا یہ استیفاء قاتل کے لیے ہوئے جرم سے بڑھ کر فعل پر منتج ہوگا کیونکہ اگر قاتل درج بالا صورتوں کے تحت نہیں مرے گا تو اسے یا تو تلوار سے قتل کردیا جائے گا یا اس کے کیے ہوئے فعل کی اس پر تکرار کی جائے گی۔ جبکہ یہی وہ اعتداء ( زیادت) ہے جس سے اللہ سبحانہ نے ہمیں اپنے ارشاد : فمن اعتدی بعد ذلک فلہ عذب الیم اور اس کے بعد جو زیادتی کرے گا اس کے لیے درد ناک عذاب ہے) کے ذریعے روکا ہے، اعتداء قصاص سے آگے چلے جانے کا نام ہے اور قصاص قاتل کے ساتھ اس کے کیے ہوئے فعل کی طرح فعل کرنے کا نام ہے، بشرطیکہ ایسا کرنا ممکن ہوا اور اگر ایسا کرنا معتذر ہو تو ولی اسے قتل کی آسان ترین صورت کے تحت قتل کر دے گا۔ امام مالک کا قول ” قاتل پر اس کے کیے ہوئے فعل جیسے فعل کی تکرار کی جائے گی حتیٰ کہ وہ مرجائے “ درحقیقت قاتل کے فعل سے زائد فعل ہے اور قصاص کے معنی سے خارج ہے۔ - اسی طرح امام شافعی کا قول : قاتل کے ساتھ وہی کچھ کیا جائے گا جو اس نے مقتول کے ساتھ کیا تھا اور اگر وہ پھر بھی نہ مرے تو اسے تلوار سے قتل کردیا جائے گا۔ در حقیقت مذکورہ بالا آیات کے حکم کے خلاف ہے۔ اس لیے کہ قصاص کی جہت اگر یہ ہے کہ قاتل کے ساتھ وہی کچھ کیا جائے جو اس نے مقتول کے ساتھ کیا تھا تو وہ یہ کا مکر کے اپنا حق وصول کرے گا۔ اس کے بعد قاتل کو قتل کر نا در حقیقت قصاص کی حد سے تجاوز اور اس سے آگے نکل جانا ہوگا جبکہ ارشاد باری ہے : ومن یتعد حدود اللہ …

Al-Baqara 2:180Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.