Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 161–170 of 286

161

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَمَاتُوا۟ وَهُمْ كُفَّارٌ أُو۟لَٰٓئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ ٱللَّهِ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةِ وَٱلنَّاسِ أَجْمَعِينَ

جو لوگ کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ایسوں پر خدا کی اور فرشتوں اور لوگوں کی سب کی لعنت

کافروں پر لعنت بھیجنے کا بیان - قول باری ہے : ان الذین کفروا وما تو ا وھم کف اولئک علیھم لعنۃ اللہ والملئکۃ والناس اجمعین ( جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا اور کفر کی حالت ہی میں جان دی ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے) آیت میں اس بات پر دلالت ہورہی ہے کہ کفر کی حالت میں مرجانے والوں پر مسلمان لعنت کریں، نیز یہ کہ موت کی بنا پر کافر سے احکام الٰہی کے مکلف ہونے کی بات ختم ہوجانے کے باوجود اس پر لعنت کرنے اور اس سے برات کے اظہار کی بات ختم نہیں ہوتی اس لئے کہ قول باری : والناس اجمعین کافر کی موت کے بعد بھی اس پر لعنت کرنے کے حکم کی ہم سے متقضی ہے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کافر پاگل ہوجائے تو اس صورت میں اس کے مکلف ہونے کی بات ختم ہوجانے کے باوجود اس پر لعنت، نیز اس سے برأت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یہی کیفیت اس دوستی کی ہے جو کسی کے ساتھ اس کے ایمان اور سلامت روی کی بنا پر وجود میں آتی ہے۔ اس کی موت یا دیوانگی کے بعد بھی موالات کا یہ سلسلہ قائم رہتا ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔- اگر یہاں یہ کہا جائے کہ ابو العالیہ سے مروی ہے کہ زیر بحث آیت سے مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن لوگ مذکورہ کافر پر لعنت کریں گے جس طرح یہ قول باری ہے : ثم یوم القیامۃ یکفر بعضکم بعضاً ویلعن بعضکم بعضاً ( پھرق یا مت کے دن تم میں سے بعض بعض کا انکار کریں گے اور تم میں سے بعض بعض پر لعنت بھیجیں گے) تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ بلا دلالت تخصیص ہے۔ اس امر پر کوئی اختلاف نہیں ہے کہ آیت کی رو سے مذکورہ کافر دنیا میں اللہ اور فرشتوں کی لعنت کا مستحق ہے۔ اسی طرح وہ آخرت میں لوگوں کی لعنت کا بھی مستحق ہوگا۔ اس بارے میں اشتباہ صرف ان لوگوں کو پیش آتی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ زیر بحث آیت میں اللہ کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ لوگ مذکورہ کافر پر لعنت بھیجتے ہیں، حالانکہ بات یہ نہیں ہے بلکہ اللہ کی طرف سے یہ خبر دی گئی ہے کہ مذکورہ کافر لوگوں کی لعنت کا مستحق ہوتا ہے پھر خواہ لوگ اس پر لعنت کریں یا نہ کریں۔

Al-Baqara 2:161Listen in Qur'an →
162

خَٰلِدِينَ فِيهَا ۖ لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ ٱلْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ

وہ ہمیشہ اسی (لعنت) میں (گرفتار) رہیں گے۔ ان سے نہ تو عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں (کچھ) مہلت ملے گی

Explained together with ayah 161

Al-Baqara 2:162Listen in Qur'an →
163

وَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ ۖ لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلرَّحْمَٰنُ ٱلرَّحِيمُ

اور (لوگو) تمہارا معبود خدائے واحد ہے اس بڑے مہربان (اور) رحم کرنے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

قول باری ہے والھکم الہ واحد ( اور تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے) یہاں اللہ سبحانہ کا اپنی ذات کو اس صفت سے موصوف کرنا کہ وہ ایک ہے انے اندر کئی معانی رکھتا ہے اور یہ تمام معانی اس لفظ کے اندر مراد ہیں۔ ایک معنی تو یہ ہے کہ اللہ واحد ہے کسی بھی چیز کے اندر اس کی نہ کوئی نظیر ہے نہ شبیہ اور نہ کوئی مثل ہے نہ مساوی۔ اسی بنا پر وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اسے واحد کی صفت کے ساتھ موصوف قرار دیاجائے۔- دوم یہ کہ وہ عبادت کے استحقاق نیز الہٰیت کے وصف میں واحد ہے۔ اس میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں ہے۔ سوم یہ کہ وہ ان معنوں میں واحد ہے کہ اس پر تجری اور تقسیم کا حکم عائد کرنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی اس کی ذات کے حصے کیے جاسکتے ہیں۔ اس لئے کہ جس ذات کے حصے کیے جائیں اور اس پر تجزی اور تقسیم کا حکم عائد کرنا جائز ہو وہ ذات حقیقت میں ایک اور واحد نہیں ہوسکتی۔ چہارم یہ کہ وہ وجود کے اعتبار سے واحد ہے۔ وہ قدیم ہے اور قدیم کی صفت میں منفرد ہے۔ وجود کے اندر اس کے ساتھ اس کی ذات کے سوا کوئی اور چیز نہیں تھی۔ اپنی ذات کو واحد کی صفت کے ساتھ موصوف کرنا مذکورہ بالا تمام معانی پر مشتمل ہے۔

Al-Baqara 2:163Listen in Qur'an →
164

إِنَّ فِى خَلْقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱخْتِلَٰفِ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ وَٱلْفُلْكِ ٱلَّتِى تَجْرِى فِى ٱلْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ وَمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مِن مَّآءٍۢ فَأَحْيَا بِهِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٍۢ وَتَصْرِيفِ ٱلرِّيَٰحِ وَٱلسَّحَابِ ٱلْمُسَخَّرِ بَيْنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَعْقِلُونَ

بےشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اور کشتیوں اور جہازوں میں جو دریا میں لوگوں کے فائدے کی چیزیں لے کر رواں ہیں اور مینہ میں جس کو خدا آسمان سے برساتا اور اس سے زمین کو مرنے کے بعد زندہ (یعنی خشک ہوئے پیچھے سرسبز) کردیتا ہے اور زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلانے میں اور ہواؤں کے چلانےمیں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان گھرے رہتے ہیں۔ عقلمندوں کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں

قول باری ہے : ان فی خلق السموت والارض واختلاف اللیل والنھار ( آسمانوں اور زمین کی ساخت میں اور رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے میں) تا آخر آیت۔ یہ آیت توحید باری پر نیز اس بات پر کہ اس کی کوئی نظیر ہے نہ شبیہ، کئی قسم کی دلالتوں کو متضمن ہے۔ اس آیت میں ہمارے لیے یہ حکم بھی ہے کہ ہم ان دلالتوں سے استدلال کریں ، چناچہ ارشاد ہے : لا یات لقوم یعقلون ( جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں ان کے لئے بیشمار نشانیاں ہیں) اس نے یہ نشانیاں اس لئے قائم کی ہیں کہ ان سے استدلال کرکے اس کی معرفت، اس کی توحید کی پہچان نیز اس کی ذات سے اشباہ و امثال کی نفی تک رسائی حال کی جائے۔ اس میں ان لوگوں کے قول کا ابطال ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ کی ذات کی معرفت صرف خبر کے ذریعے ہوسکتی ہے اور اس کی ذات کی معرفت تک رسائی میں انسانی عقول کا کوئی دخل نہیں۔- اللہ کی ذات پر آسمانوں اور زمین کی دلالت کی صورت یہ ہے کہ آسمان اپنی وسعت اور حجم کے پھیلائو کے باوجود کسی ستون اور سہارے کے بغیر ہمارے اوپر قائم ہے اور اپنی جگہ نہیں چھوڑتا۔ اسی طرح زمین بھی اپنی عظیم ساخت کے باوجود ہمارے نیچے قائم اور موجود ہے۔ اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ ان میں سے ہر ایک کی کوئی نہ کوئی انتہا ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک وقت واحد کے اندر موجود ہے اور کمی بیشی کا احتمال رکھتا ہے۔ ہمیں یہ معلوم ہے کہ اگر ساری مخلوق اکٹھی ہوکر ایک پتھر کو سہارے کے بغیر ہوا میں معلق رکھنا چاہیے تو وہ ایسا نہیں کرسکتی۔ اس سے ہمیں اس بات عا علم ہوتا ہے کہ آسمانوں کو ستونوں کے بغیر اور زمین کو سہارے کے بغیر قائم رکھنے والی کوئی نہ کوئی ذات ضرور ہے، گویا یہ بات ذات باری کے وجود پر دلالت کرتی ہے اور یہ واضح کردیتی ہے کہ اللہ ہی ان کا خالق ہے اس میں اس امر کی دلیل بھی موجود ہے کہ اللہ کی ذات اجسام کی مشابہ نہیں ہے، نیز وہ قادر مطلق ہے اور کوئی بھی چیز اسے عاجز نہیں کرسکتی اور جب یہ بات ثابت ہوگئی تو اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ وہ اجسام کے اختراع پر قادر ہے کیونکہ عقول کے نزدیک اجسام و اجرام کا اختراع اور ان کی ایجاد ان کے حجم کے پھیلائو اور کثافت ( بھاری پن) کے باوجود انہیں ستونوں اور سہاروں کے بغیر قائم رکھنے کی بہ نسبت زیادہ مشکل نہیں ہے۔ یہ باتیں ایک اور جہت سے ان اجسام کے حدوث پر بھی دلالت کرتی ہیں۔ وہ یوں کہ متضاد اعراض ( پیدا ہونے والی متنوع قسم کی کیفیات ) سے ان اجسام کے خالی رہنے کا جواز ممتنع ہے۔ یہ بات تو معلوم ہی ہے کہ مذکورہ اعراض حادث ہیں۔ اس لئے کہ ان میں سے ہر ایک پہلے معدوم تھا اور پھر موجود ہوا۔ اور جو چیز احداث سے پہلے موجود نہ ہو وہ حادث ہوتی ہے۔ اس استدلال سے مذکورہ اجسام و اجرام کے حدوث کا دعویٰ درست ہوگیا۔ حادث اشیاء کسی محدث (وجود میں لانے والے) کی متقضی ہوتی ہیں۔ جس طرح عمارت تعمیر کنندہ کی اور کتابت کاتب کی نیز تاثیر موثر کی۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ آسمان و زمین اور ان کے مابین موجود ساری کائنات اللہ کی آیات ہیں اور اس کی ذات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ حضرت سعدی نے کیا خوب کہا ہے ؎- برگ درختان سبز در نظر ہوشیار ہر درقے دفتریست معرفت کردگار - رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے کا سلسلہ اللہ کی ذات پر اس جہت سے دلالت کرتا ہے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کا دوسرے کے بعد حدوث ہوتا ہے اور حادث کسی محدث ( وجود میں لانے والے) کا متقضی ہوتا ہے۔ اس طرح رات اور دن اپنے محدث پر دلالت کرتے ہیں، نیز اس بات کی نشاندہی بھی کرتے ہیں کہ ان کا محدث ان کے مشابہ نہیں ہے، کیونکہ غافل اپنے فعل کے مشابہ نہیں ہوتا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ معمار اپنی عمارت کے اور کاتب اپنی کتابت کے مشابہ نہیں ہوتا۔ اسے ایک اور جہت سے دیکھئے، اگر محدث حادث کے مشابہ ہوتا تو اس پر بھی حدوث کی وہی دلالت جاری ہوتی جو حادث پر جاری ہوتی ہے اور …

Al-Baqara 2:164Listen in Qur'an →
165

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَندَادًۭا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ ٱللَّهِ ۖ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَشَدُّ حُبًّۭا لِّلَّهِ ۗ وَلَوْ يَرَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ إِذْ يَرَوْنَ ٱلْعَذَابَ أَنَّ ٱلْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًۭا وَأَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعَذَابِ

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر خدا کو شریک (خدا) بناتے اور ان سے خدا کی سی محبت کرتے ہیں۔ لیکن جو ایمان والے ہیں وہ تو خدا ہی کے سب سے زیادہ دوستدار ہیں۔ اور اے کاش ظالم لوگ جو بات عذاب کے وقت دیکھیں گے اب دیکھ لیتے کہ سب طرح کی طاقت خدا ہی کو ہے۔ اور یہ کہ خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

Explained together with ayah 164

Al-Baqara 2:165Listen in Qur'an →
166

إِذْ تَبَرَّأَ ٱلَّذِينَ ٱتُّبِعُوا۟ مِنَ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوا۟ وَرَأَوُا۟ ٱلْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ ٱلْأَسْبَابُ

اس دن (کفر کے) پیشوا اپنے پیرووں سے بیزاری ظاہر کریں گے اور (دونوں) عذاب (الہیٰ) دیکھ لیں گے اور ان کے آپس کے تعلقات منقطع ہوجائیں گے

Explained together with ayah 164

Al-Baqara 2:166Listen in Qur'an →
167

وَقَالَ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوا۟ لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةًۭ فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا۟ مِنَّا ۗ كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ ٱللَّهُ أَعْمَٰلَهُمْ حَسَرَٰتٍ عَلَيْهِمْ ۖ وَمَا هُم بِخَٰرِجِينَ مِنَ ٱلنَّارِ

(یہ حال دیکھ کر) پیروی کرنے والے (حسرت سے) کہیں گے کہ اے کاش ہمیں پھر دنیا میں جانا نصیب ہو تاکہ جس طرح یہ ہم سے بیزار ہو رہے ہیں اسی طرح ہم بھی ان سے بیزار ہوں۔ اسی طرح خدا ان کے اعمال انہیں حسرت بنا کر دکھائے گااور وہ دوزخ سے نکل نہیں سکیں گے

Explained together with ayah 164

Al-Baqara 2:167Listen in Qur'an →
168

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ كُلُوا۟ مِمَّا فِى ٱلْأَرْضِ حَلَٰلًۭا طَيِّبًۭا وَلَا تَتَّبِعُوا۟ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيْطَٰنِ ۚ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌ

لوگو جو چیزیں زمین میں حلال طیب ہیں وہ کھاؤ۔ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

Explained together with ayah 164

Al-Baqara 2:168Listen in Qur'an →
169

إِنَّمَا يَأْمُرُكُم بِٱلسُّوٓءِ وَٱلْفَحْشَآءِ وَأَن تَقُولُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

وہ تو تم کو برائی اور بےحیائی ہی کے کام کرنے کو کہتا ہے اور یہ بھی کہ خدا کی نسبت ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں (کچھ بھی) علم نہیں

Explained together with ayah 164

Al-Baqara 2:169Listen in Qur'an →
170

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱتَّبِعُوا۟ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ قَالُوا۟ بَلْ نَتَّبِعُ مَآ أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَآ ۗ أَوَلَوْ كَانَ ءَابَآؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْـًۭٔا وَلَا يَهْتَدُونَ

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔ بھلا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اورنہ سیدھے رستے پر ہوں (تب بھی وہ انہیں کی تقلید کئے جائیں گے)

Explained together with ayah 164

Al-Baqara 2:170Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.