إِذْ قَالَ لَهُۥ رَبُّهُۥٓ أَسْلِمْ ۖ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سر اطاعت خم کرتا ہوں
Explained together with ayah 130
سُورَةُ البَقَرَةِ
Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr
Ayahs 131–140 of 286
إِذْ قَالَ لَهُۥ رَبُّهُۥٓ أَسْلِمْ ۖ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سر اطاعت خم کرتا ہوں
Explained together with ayah 130
وَوَصَّىٰ بِهَآ إِبْرَٰهِۦمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَٰبَنِىَّ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصْطَفَىٰ لَكُمُ ٱلدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ
اور ابرہیم نے اپنے بیٹوں کو اسی بات کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی (اپنے فرزندوں سے یہی کہا) کہ بیٹا خدا نے تمہارے لیے یہی دین پسند فرمایا ہے تو مرنا ہے تو مسلمان ہی مرنا
Explained together with ayah 130
أَمْ كُنتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ ٱلْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنۢ بَعْدِى قَالُوا۟ نَعْبُدُ إِلَٰهَكَ وَإِلَٰهَ ءَابَآئِكَ إِبْرَٰهِۦمَ وَإِسْمَٰعِيلَ وَإِسْحَٰقَ إِلَٰهًۭا وَٰحِدًۭا وَنَحْنُ لَهُۥ مُسْلِمُونَ
بھلا جس وقت یعقوب وفات پانے لگے تو تم اس وقت موجود تھے، جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے، تو انہوں نے کہا کہ آپ کے معبود اور آپ کے باپ دادا ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو معبود یکتا ہے اور ہم اُسی کے حکم بردار ہیں
دادا کی میراث - قول باری ہے : ام کنتم شھدآء اذ حضر یعقوب الموت اذ قال لبنیہ ما تعبدون من بعدی قالوا نعبد الھلک والہ والہ آبآئک ابراھیم و اسمعیل فراسحق الھا واحدا (پھر کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب اس دنیا سے رخصت ہو رہا تھا ؟ اس نے وفات کے وقت اپنے بیٹوں سے پوچا۔ بچو، میرے بعد تم کس کی بندگی کرو گے ؟ ان سب نے جواب دیا : ہم اسی ایک خدا کی بندگی کریں گے جسے آپ نے اور آپ کے بزرگ ابراہیم، اسمعیل اور اسحاق نے مانا ہے) یہاں دادا اور چچا کو باپ کا نام دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی حکایت بیان کرتے ہوئے فرمایا : واتبعت ملۃ ابائی ابراھیم و اسحق ویعقوبا میں نے اپنے بزرگوں ابراہیم، اسحق اور یعقوب کا طریقہ اختیار کیا ہے)- حضرت ابن عباس نے میت کے دادا اور بھائیوں کی موجودگی میں بھائیوں کے بجائے دادا کو وارث قرار دینے کے لئے ان آیات سے استدلال کیا ہے۔ الحجاج نے عطا سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : جو شخص چاہے میں اس کے ساتھ حجر اسود کے پاس جا کر اس بات پر لعان کرسکتا ہوں کہ دادا باپ ہے، بخدا ، اللہ نے دادا اور دادی کا ذکر آباء کے الفاظ میں کیا ہے : واتبعت ملۃ ابائی ابراہیم و اسحق و یعقوب ۔ بھائیوں کے بجائے دادا کو وارث قرار دینے اور باپ کی عدم موجودگی میں دادا کو باپ کا درجہ دینے کے سلسلے میں حضرت ابن عباس کا استدلال اس امر کا مقتضی ہے کہ قول باری : وورثہ ابواہ فلامہ الثلث (اور اس کے ابوین اس کے وارث ہوں : تو اس کی ماں کے لئے تہائی حصہ ہے) کے ظاہر سے اس امر پر استدلال جائز ہے کہ بھائیوں کے بجائے میت کا دادا دو تہائی ترکے کا مستحق ہوگا، جس طرح میت کا باپ میت کے بھائیوں کے بجائے اس کا مستحق ہوتا ہے، اگر وہ زندہ ہو۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ باپ کے اسم کا اطلاق دادا کو شامل ہوتا ہے اور اس امر کا مقتضی ہے کہ میراث کے اندر باپ کی عدم موجودگی میں دادا اور باپ کے حکم میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔- حضرت ابوبکر اور دیگر صحابہ کرام کا یہی مسلک ہے۔ حضرت عثمان نے فرمایا : ابوبکر نے فیصلہ دیا تھا کہ دادا باپ ہے، اور انہوں نے دادا پر باپ ہونے کے اسم کا اطلاق کیا تھا۔ امام ابوحنیفہ کا یہی قول ہے۔ امام ابو یوسف، امام محمد، امام مالک اور امام شافعی نے دادا کے بارے میں حضرت زید بن ثابت کا قول اختیار کیا ہے کہ دادا اس وقت تک بھائیوں کی طرح شمار ہوگیا جب تک مقاسمہ کے طور پر اسے ملنے والا حصہ کل ترکہ کے تہائی سے کم نہ ہو۔ اگر کم ہوگا تو اسے ترکہ کا تہائی حصہ دیا جائے گا اور اس کا حصہ تہائی حصے سے کم ہونے نہیں دیا جائے گا (مقاسمہ اسے کہتے ہیں کہ دادا کو ایک بھائی فرض کر کے اسے میت کے دیگر موجود بھائیوں کے برابر حصہ دے دیا جائے۔ مترجم)- قاضی ابن ابی لیلیٰ نے دادا کے بارے میں حضرت علی کا قول اختیار کیا ہے کہ دادا اس وقت تک بھائیوں کی طرح شمار ہوگا جب تک مقاسمہ کے طور پر اسے ملنے والا حصہ کل ترکہ کے چھٹے حصے سے کم نہ ہو۔ اگر کم ہوگا تو اسے ترکہ کا چھٹا حصہ دیا جائے گا۔- ہم نے مختصر الطحاوی “ کی شرح میں دادا کی میراث کے سلسلے میں صحابہ کرام کے اختلاف اور ان کے دلائل کا ذکر کردیا ہے، البتہ زیر حث آیت سے اس سلسلے میں دو طریقفوں سے استدلال کیا گیا ہے۔ اول یہ کہ آیت کا ظاہر اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ اللہ سبحانہ نے دادا کو باپ کے نام سے ذکر کیا ہے۔ دوم یہ کہ حضرت ابن عباس نے اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے دادا پر باپ کا اطلاق کیا ہے۔ حضرت ابوبکر نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔ یہ دونوں حضرات چونکہ اہل زبان تھے اس لئے ان سے لغت کے اعتبار سے اسماء کا حکم مخفی نہیں رہ سکتا۔ اگر ان حضرات نے شرعی طور پر اس کا اطلاق کیا ہے تو بھی ان کی حجت ثابت ہوجائے گی کیونکہ شرعی ور پر اسماء کا استعمال توقیف کے طریقے پر ہوتا ہے۔ یعنی ایک …
تِلْكَ أُمَّةٌۭ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْـَٔلُونَ عَمَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
یہ جماعت گزرچکی۔ ان کو اُن کے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور جو عمل وہ کرتے تھے ان کی پرسش تم سے نہیں ہوگی
قول باری ہے : تلک امۃ قد خلت لھا ما کسبت ولکم ما کسبتم ولا تسئلون عما کانو ا یعملون ( وہ کچھ لوگ تھے جو گزر گئے ، جو کچھ انہوں نے کیا یا وہ ان کے لیے ہے اور جو کچھ تم کمائو گے وہ تمہارے لیے ہے، تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے)- یہ آیت تین معانی پر دلالت کرتی ہے۔ اول یہ کہ آباء کی اطاعت پر ابناء ( بیٹوں) کو ثواب نہیں ملے گا اور آباء کے گناہوں کی سزا بیٹوں کو نہیں دی جائے گی۔ اس میں ان لوگوں کے مسلک کا ابطال ہے جو مشرکین کی اولاد کی ان کے آباء کے گناہوں کی بنا پر تعذیب کو جائز قرار دیتے ہیں، نیز اس سے یہود کا یہ زعم بھی باطل قرار پاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے آباء کی نیکیوں کی بنا پر ان کے گناہ معاف کردے گا۔- اللہ تعالیٰ نے دیگر آیات میں بھی اس مضمون کو بیا ن فرمایا ہے، چناچہ ارشاد ہے ( ولا تکسب کل نفس الا علیھا (اور ہر شخص کی کمائی اس کے ہی ذمے ہوگی) نیز : ولا تزرو ازرۃ وزراخری ( اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی اور کا بوجھ نہیں اٹھائے گا) نیز : فان تولو فانما علیہ ما حمل وعلیکم ما حملتہ (لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو خوب سمجھ کر رسول پر جس فرض کا بار رکھا گیا ہے اس کا ذمہ وہ ہے اور تم پر جس فرض کا بار رکھا گیا ہے اس کے ذمہ دار تم ہو)- اس مضمون کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ارشاد کے ذریعے واضح فرما دیا ہے۔ آپ نے ابو رمثہ کے ساتھ ان کے بیٹے کو دیکھ کر پوچھا کہ : یہ تمہارا بیٹا ہے ؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا یہ سن کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سنو اس کے جرم کی نسبت تمہاری طرف نہیں ہوگی اور تمہارے جرم کی نسبت اس کی طرف نہیں ہوگی۔- اسی طرح بنو ہاشم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : اے بنی ہاشم، ایسا نہ ہو کہ لوگ میرے پاس اپنے اچھے اچھے اعمال لے کر آئیں اور تم میرے پاس اپنے انساب ( حسب نسب) لے کر آئو اور پھر میں تم میں سے کہہ دوں کہ میں اللہ کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آسکتا۔ نیز آپ نے فرمایا : جس شخص کو اس کا عمل سست کردے اسے اس کا نسب تیز نہیں کرسکتا۔
وَقَالُوا۟ كُونُوا۟ هُودًا أَوْ نَصَٰرَىٰ تَهْتَدُوا۟ ۗ قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَٰهِۦمَ حَنِيفًۭا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ
اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی ہو جاؤ تو سیدھے رستے پر لگ جاؤ۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو، (نہیں) بلکہ (ہم) دین ابراہیم (اختیار کئے ہوئے ہیں) جو ایک خدا کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے
Explained together with ayah 134
قُولُوٓا۟ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَآ أُنزِلَ إِلَىٰٓ إِبْرَٰهِۦمَ وَإِسْمَٰعِيلَ وَإِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ وَٱلْأَسْبَاطِ وَمَآ أُوتِىَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَمَآ أُوتِىَ ٱلنَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍۢ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُۥ مُسْلِمُونَ
(مسلمانو) کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اتری، اس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل ہوئے ان پر اور جو (کتابیں) موسیٰ اور عیسی کو عطا ہوئیں، ان پر، اور جو اور پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملیں، ان پر (سب پر ایمان لائے) ہم ان پیغمروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرمانبردار ہیں
Explained together with ayah 134
فَإِنْ ءَامَنُوا۟ بِمِثْلِ مَآ ءَامَنتُم بِهِۦ فَقَدِ ٱهْتَدَوا۟ ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا هُمْ فِى شِقَاقٍۢ ۖ فَسَيَكْفِيكَهُمُ ٱللَّهُ ۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ
تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہو جائیں اور اگر منہ پھیر لیں (اور نہ مانیں) تو وہ (تمھارے) مخالف ہیں اور ان کے مقابلے میں تمھیں خدا کافی ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے
قول باری ہے : فسیکفیکھم اللہ وھو السمیع العلیم ( اطمینان رکھو کہ ان کے مقابلے میں اللہ تمہاری حمایت کے لیے کافی ہے وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے) اس آیت میں یہ خبر دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اپنے دشمنوں کے معاملے میں کافی ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ دشمنوں کی کثرت عداد اور ان کی شدید مخاصمت کے باوجود اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کافی ہوگیا اور اس کی دی ہوئی خبر خارج میں پیش آنے والے واقعات کے عین مطابق پائی گئی۔ اسی طرح یہ قول باری ہے : واللہ یعصمد من الناس ( اللہ آپ کو لوگوں کے ہاتھوں سے بچائے گا) چناچہ اللہ نے آپ کو لوگوں سے بچایا اور ان کے مکروفریب نیز ریشہ دوانیوں سے آپ کو اپنے حفظ میں رکھا۔ یہ بات آپ کی نبوت کے عین مطابق صرف اس وقت ہوسکتی ہے جب خبر دینے والا اللہ ہو جو عالم الغیب والشہادۃ ہے۔ اٹکل سے کام لے کر خبر دینے والو نیز کذب بیانی کرنے والوں کی خبروں کا تمام احوال میں خارجی حالات کے مطابق ہونا ممکن ہی نہیں ہوتا، بلکہ ان کی اکثر خبریں دروغ بیانی کا پلندہ ہوتی ہیں۔ اگر اتفاق سے ان کی دی ہوئی ایک آدم خبر سچی ہو بھی جاتی ہے تو یہ ایک اتفاقیہ امیر ہوتا ہے۔
صِبْغَةَ ٱللَّهِ ۖ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ ٱللَّهِ صِبْغَةًۭ ۖ وَنَحْنُ لَهُۥ عَٰبِدُونَ
(کہہ دو کہ ہم نے) خدا کا رنگ (اختیار کر لیا ہے) اور خدا سے بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے۔ اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں
Explained together with ayah 137
قُلْ أَتُحَآجُّونَنَا فِى ٱللَّهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ وَلَنَآ أَعْمَٰلُنَا وَلَكُمْ أَعْمَٰلُكُمْ وَنَحْنُ لَهُۥ مُخْلِصُونَ
(ان سے) کہو، کیا تم خدا کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو، حالانکہ وہی ہمارا اور تمھارا پروردگار ہے اور ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور ہم خاص اسی کی عبادت کرنے والے ہیں
Explained together with ayah 137
أَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَٰهِۦمَ وَإِسْمَٰعِيلَ وَإِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ وَٱلْأَسْبَاطَ كَانُوا۟ هُودًا أَوْ نَصَٰرَىٰ ۗ قُلْ ءَأَنتُمْ أَعْلَمُ أَمِ ٱللَّهُ ۗ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَتَمَ شَهَٰدَةً عِندَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ ۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
(اے یہود ونصاریٰ) کیا تم اس بات کے قائل ہو کہ ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا عیسائی تھے۔ (اے محمدﷺ ان سے) کہو کہ بھلا تم زیادہ جانتے ہو یا خدا؟ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون، جو خدا کی شہادت کو، جو اس کے پاس (کتاب میں موجود) ہے چھپائے۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو، خدا اس سے غافل نہیں
Explained together with ayah 137
Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.