قو ل باری ہے : واذا ابتلی ابراھیم ربہ بکلمات فاتمھن (یاد کرو جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب پر پورا اتر گیا) اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس کے قول کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مناسک میں آزمایا حسن بصری کے قول کے مطابق یہ آزمائش حضرت اسماعیلی (علیہ السلام) کی قربانی اور کواکب کے ذریعے کی گئی (کواکب کے ذریعے آزمائش کا ذکر قرآن میں موجود ہے) طائوس نے حضرت ابن عباس سے روایت بیان کی ہے کہ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو طہارت کے حکم کے ذریعے آزمایا۔ اس سلسلے میں سر کے ساتھ تعلق رکھنے والے پانچ حکم اور جسم ک یساتھ تعلق رکھنے والے پانچ حکم دیئے گئے پہلے پانچ حکم یہ تھے ۔ لب کتروانا، کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مسواک کرنا اور سر میں مانگ نکالنا۔ دوسرے پانچ حکم یہ تھے : ناخن کاٹنا، موئے زیر ناف صاف کرنا، ختنہ کرنا بغل کے بال اکھیڑنا اور پاخانہ پیشاب کے بعد پانی سے دھونا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ ” دس باتوں کا تعلق فطرت سے ہے۔ یعنی انبیاء علیہم ا لسلام ک سنت سے ہے۔ اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ بالا باتیں بیان فرمائیں۔ البتہ سر میں مانگ نکالنے کی جگ داڑھی بڑھانے کا ذکر فرمایا۔- اس روایت میں آیت کی تاویل کا ذکر نہیں ہے۔ حضرت عمار، حضرت عائشہ اور حضرت ابوہریرہ نے بھی کم و بیش یہ روایت بیان کی ہے۔ طوالت کے خوف سے ہم نے ان روایتوں کے اسانید اور ان کے ال فاظ کا ذکر ترک کردیا ہے ۔ کیونکہ یہ مشہور روایتیں ہیں اور لوگوں نے قول اور عمل دونوں اعتبار سے انہیں نقل کیا ہے اور انہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کے طور پر پہنچانا ہے۔ رہ گیا زیر بحث آیت کی تاویل میں سلف کا اختلاف جس کا ذکر ہم نے اوپر کیا ہے، تو عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مذکورہ تمام باتوں کے ذریعے آزمایا ہو اور حضرت ابراہیم علیہ ا لسلام ان تمام باتوں میں پورے اترے ہوں اور ان میں کسی قسم کی کمی کئے بغیر منشائے الٰہی کے مطابق انہیں پورا کیا ہو۔ کیونکہ نقص یعنی کمی اتمام کی ضد ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے اتمام کی خبر دی ہے ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ١ ؎ فاضل مصنف نے جو کچھ لکھا ہے، اس کے علاوہ حدیث کا ایک مفہوم یہ بھی مراد لیا جاسکتا ہے کہ ایک شخص دنیا کے مشاغل میں منہمک ہو کر گویا خود کو فروخت کردیتا ہے اور ہلاک ہوجاتا ہے اور دوسرا دنیا کو ٹھکرا کر گویا خود کو آزاد کرلیتا ہے اور فلاح پاتا ہے۔ - سے یہ جو مقنول ہے کہ : سر اور جسم میں دس باتیں فطرت سے تعلق رکھتی ہیں۔ “ تو عین ممکن ہے کہ آپ ان باتوں میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پیرو کار تھے کیونکہ قول باری ہے : ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراھیم حنیفاً (پھر ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی کہ ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو جو حنیف تھے) نیز فرمایا : اولئک الذین ھدی اللہ فبھدا ھم اقتدہ (یہی وہ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے) اس لئے مذکورہ بالا باتیں حضرت ابراہیم علیہ ا لسلام اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کے طور پر ثابت ہیں اور یہ اس بات کی مقتضی ہیں کہ صفائی اور پاکیزگی نیز کپڑوں سے گندی اور میل کچیل دور کرنا ایسے امور ہیں جن کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے جب احرام کے اندر جسم سے بال اتارنے اور میل کچیل دور کرنے سے منع فرما دیا تو احرام کھولنے پر انہیں دور کرنے کا حکم دیا، چناچہ ارشاد ہوا : ثم لیقضوا تفثھم (پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں)- حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی جمعہ کے دن غسل کرنے کے سلسلے میں اسی طرح کی روایت ہے کہ مسواک کا استعمال کیا جائے اور گھر میں موجود خوشبو …