Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 121–130 of 286

121

ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَتْلُونَهُۥ حَقَّ تِلَاوَتِهِۦٓ أُو۟لَٰٓئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِهِۦ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

جن لوگوں کو ہم نے کتاب عنایت کی ہے، وہ اس کو (ایسا) پڑھتے ہیں جیسا اس کے پڑھنے کا حق ہے۔ یہی لوگ اس پر ایمان رکھنے والے ہیں، اور جو اس کو نہیں مانتے، وہ خسارہ پانے والے ہیں

Explained together with ayah 116

Al-Baqara 2:121Listen in Qur'an →
122

يَٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتِىَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّى فَضَّلْتُكُمْ عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ

اے بنی اسرائیل! میرے وہ احسان یاد کرو، جو میں نے تم پر کئے اور یہ کہ میں نے تم کو اہلِ عالم پر فضیلت بخشی

Explained together with ayah 116

Al-Baqara 2:122Listen in Qur'an →
123

وَٱتَّقُوا۟ يَوْمًۭا لَّا تَجْزِى نَفْسٌ عَن نَّفْسٍۢ شَيْـًۭٔا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌۭ وَلَا تَنفَعُهَا شَفَٰعَةٌۭ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ

اور اس دن سے ڈرو جب کوئی شخص کسی شخص کے کچھ کام نہ آئے، اور نہ اس سے بدلہ قبول کیا جائے اور نہ اس کو کسی کی سفارش کچھ فائدہ دے اور نہ لوگوں کو (کسی اور طرح کی) مدد مل سکے

Explained together with ayah 116

Al-Baqara 2:123Listen in Qur'an →
124

۞ وَإِذِ ٱبْتَلَىٰٓ إِبْرَٰهِۦمَ رَبُّهُۥ بِكَلِمَٰتٍۢ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّى جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًۭا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِى ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِى ٱلظَّٰلِمِينَ

اور جب پروردگار نے چند باتوں میں ابراہیم کی آزمائش کی تو ان میں پورے اترے۔ خدا نے کہا کہ میں تم کو لوگوں کا پیشوا بناؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ (پروردگار) میری اولاد میں سے بھی (پیشوا بنائیو) ۔ خدا نے فرمایا کہ ہمارا اقرار ظالموں کے لیے نہیں ہوا کرتا

قو ل باری ہے : واذا ابتلی ابراھیم ربہ بکلمات فاتمھن (یاد کرو جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب پر پورا اتر گیا) اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس کے قول کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مناسک میں آزمایا حسن بصری کے قول کے مطابق یہ آزمائش حضرت اسماعیلی (علیہ السلام) کی قربانی اور کواکب کے ذریعے کی گئی (کواکب کے ذریعے آزمائش کا ذکر قرآن میں موجود ہے) طائوس نے حضرت ابن عباس سے روایت بیان کی ہے کہ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو طہارت کے حکم کے ذریعے آزمایا۔ اس سلسلے میں سر کے ساتھ تعلق رکھنے والے پانچ حکم اور جسم ک یساتھ تعلق رکھنے والے پانچ حکم دیئے گئے پہلے پانچ حکم یہ تھے ۔ لب کتروانا، کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مسواک کرنا اور سر میں مانگ نکالنا۔ دوسرے پانچ حکم یہ تھے : ناخن کاٹنا، موئے زیر ناف صاف کرنا، ختنہ کرنا بغل کے بال اکھیڑنا اور پاخانہ پیشاب کے بعد پانی سے دھونا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ ” دس باتوں کا تعلق فطرت سے ہے۔ یعنی انبیاء علیہم ا لسلام ک سنت سے ہے۔ اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ بالا باتیں بیان فرمائیں۔ البتہ سر میں مانگ نکالنے کی جگ داڑھی بڑھانے کا ذکر فرمایا۔- اس روایت میں آیت کی تاویل کا ذکر نہیں ہے۔ حضرت عمار، حضرت عائشہ اور حضرت ابوہریرہ نے بھی کم و بیش یہ روایت بیان کی ہے۔ طوالت کے خوف سے ہم نے ان روایتوں کے اسانید اور ان کے ال فاظ کا ذکر ترک کردیا ہے ۔ کیونکہ یہ مشہور روایتیں ہیں اور لوگوں نے قول اور عمل دونوں اعتبار سے انہیں نقل کیا ہے اور انہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کے طور پر پہنچانا ہے۔ رہ گیا زیر بحث آیت کی تاویل میں سلف کا اختلاف جس کا ذکر ہم نے اوپر کیا ہے، تو عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مذکورہ تمام باتوں کے ذریعے آزمایا ہو اور حضرت ابراہیم علیہ ا لسلام ان تمام باتوں میں پورے اترے ہوں اور ان میں کسی قسم کی کمی کئے بغیر منشائے الٰہی کے مطابق انہیں پورا کیا ہو۔ کیونکہ نقص یعنی کمی اتمام کی ضد ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے اتمام کی خبر دی ہے ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ١ ؎ فاضل مصنف نے جو کچھ لکھا ہے، اس کے علاوہ حدیث کا ایک مفہوم یہ بھی مراد لیا جاسکتا ہے کہ ایک شخص دنیا کے مشاغل میں منہمک ہو کر گویا خود کو فروخت کردیتا ہے اور ہلاک ہوجاتا ہے اور دوسرا دنیا کو ٹھکرا کر گویا خود کو آزاد کرلیتا ہے اور فلاح پاتا ہے۔ - سے یہ جو مقنول ہے کہ : سر اور جسم میں دس باتیں فطرت سے تعلق رکھتی ہیں۔ “ تو عین ممکن ہے کہ آپ ان باتوں میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پیرو کار تھے کیونکہ قول باری ہے : ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراھیم حنیفاً (پھر ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی کہ ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو جو حنیف تھے) نیز فرمایا : اولئک الذین ھدی اللہ فبھدا ھم اقتدہ (یہی وہ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے) اس لئے مذکورہ بالا باتیں حضرت ابراہیم علیہ ا لسلام اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کے طور پر ثابت ہیں اور یہ اس بات کی مقتضی ہیں کہ صفائی اور پاکیزگی نیز کپڑوں سے گندی اور میل کچیل دور کرنا ایسے امور ہیں جن کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے جب احرام کے اندر جسم سے بال اتارنے اور میل کچیل دور کرنے سے منع فرما دیا تو احرام کھولنے پر انہیں دور کرنے کا حکم دیا، چناچہ ارشاد ہوا : ثم لیقضوا تفثھم (پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں)- حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی جمعہ کے دن غسل کرنے کے سلسلے میں اسی طرح کی روایت ہے کہ مسواک کا استعمال کیا جائے اور گھر میں موجود خوشبو …

Al-Baqara 2:124Listen in Qur'an →
125

وَإِذْ جَعَلْنَا ٱلْبَيْتَ مَثَابَةًۭ لِّلنَّاسِ وَأَمْنًۭا وَٱتَّخِذُوا۟ مِن مَّقَامِ إِبْرَٰهِۦمَ مُصَلًّۭى ۖ وَعَهِدْنَآ إِلَىٰٓ إِبْرَٰهِۦمَ وَإِسْمَٰعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِىَ لِلطَّآئِفِينَ وَٱلْعَٰكِفِينَ وَٱلرُّكَّعِ ٱلسُّجُودِ

اور جب ہم نے خانہٴ کعبہ کو لوگوں کے لیے جمع ہونے اور امن پانے کی جگہ مقرر کیا اور (حکم دیا کہ) جس مقام پر ابراہیم کھڑے ہوئے تھے، اس کو نماز کی جگہ بنا لو۔ اور ابراہیم اور اسمٰعیل کو کہا کہ طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لیے میرے گھر کو پاک صاف رکھا کرو

قول باری ہے : واذ جعلنا البیت مثابۃ للناس وامنا (اور یہ کہ ہم نے اس گھر (کعبے) کو لوگوں کے لئے مرکز اور امن کی جگہ قرار دیا تھا) بیت سے بیت اللہ، یعنی کعبہ مراد ہے صرف بیت کے علی الاطلاق ذکر پر اس لئے اکتفا کرلیا گیا کہ اس پر الف لام داخل ہے کیونکہ الف لام کا دخول ایک معہود چیز کو معرف بنانے یا جنس کا مفہوم ادا کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ اس کلام کے مخاطبین کو علم تھا کہ یہاں جنس مراد نہیں ہے اس لئے اس کا انصراف اس چیز یعنی کعبہ کی طرف ہوگیا جو مخاطبین کے نزدیک معہود تھی۔ قول باری : مثابۃ للناس کی تفسیر میں حسن سے مروی ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ لوگ اس کی طرف ہر سال لوٹ لوٹ کر آتے ہیں۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد سے مروی ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ بیت اللہ جو شخص بھی واپس جاتا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ ابھی اس کی مراد پوری نہیں ہوئی ہے، اس لئے وہ پھر اس کی طرف واپس ہوتا ہے۔ ایک قول کے مطابق اس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ بیت اللہ کا حج کرنے جاتے ہیں اور انہیں اس کا ثواب ملتا ہے۔ - ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اہل لغت کے قول کے مطابق اس لفظ کی اصل تعلق (ثاب، یثوب مثابۃ و ثواباً ) سے ہے جس کے معنی واپس آنے کے ہیں۔ بعض کے قول اس پر حرف ھاء (گول تاء) کا دخول مبالغے کے لئے ہے ۔ جسے طرح مبالغے کے طور پر کہا جاتا ہے۔ نسابۃ علامۃ سیارۃ (نساب کا بڑا ماہر، بہت بڑا عالم، بہت چلنے والا) فراء نحوی کے قول کے مطابق یہ لفظ اسی طرح ہے جیسے کہا جاتا ہے : المقامۃ ، المقامہ (ٹھہرنا)- حضرات سلف سے سطور بالا میں جو تین تاویلیں نقل کی گئی ہیں، یعنی ہر سال لوگوں کا بیت اللہ کی طرف رجوع کرنا، لوگوں کا بیت اللہ کے حج کو جانا اور اس پر ثواب پانا اور بیت اللہ سے واپس آنے والے شخص کے دل میں اس کی طرف واپس جانے کی امنگ کا موجزن ہونا، آیت کے لفظ میں چونکہ ان تینوں کا احتمال ہے اس لئے تمام معانی مراد لینا جائز ہے، جو حضرات اس کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ بیت اللہ سے واپس آنے والے کے دل میں دوبارہ جانے کی امنگ ہوتی ہے، ان کی تاویل کی گواہی اس قول سے باری سے ظاہر ہے : فاجعل افئدۃ من الناس تھوی الیھم (پس تو لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا دے) اس لفظ : مثابۃ نے طواف کے عمل پر نص کردی ہے کیونکہ بیت اللہ طواف کے ملئے مقصود اور طواف کا ٹھکانا ہے۔ اس میں طواف کے وجوب پر کوئی دلالت نہیں ہے۔ یہ تو صرف اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ طواف کرنے والا ثواب کا مستحق قرار پاتا ہے۔- عمرہ کو واجب قرار دینے والے حضرات بعض دفعہ اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو ایسا مرکز بنادیا ہے جس طرف لوگ بار بار لوٹ کر آتے ہیں تو اس کی طرف لوٹ لوٹ کر آناحج کے بعد عمرہ کرنے کا مقتضی ہے۔ لیکن اس استدلال میں کوئی جان نہیں ہے کیونکہ لفظ کے اندر ایجاب کی دلیل موجود نہیں ہے۔ لفظ کے اندر صرف اتنی بات ہے کہ اللہ نے لوگوں کے لئے بیت اللہ کی طرف واپس آنا مقرر کردیا ہے اور سا پر ان سے ثواب کا وعدہ فرمایا ہے۔ یہ بات استحباب کی مقتضی ہے ایجاب کی نہیں۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی شخص آپ سے کہے کہ :” تم چاہو تو عمرہ کرلو اور چاہو تو نمازپڑھ لو۔ “ تو اس میں آپ پر وجوب کی کوئی بات نہیں ہوگی۔ علاوہ ازیں آیت میں بیت اللہ کی طرف عمرہ کے لئے واپس آنے کی تخصیص نہیں ہے۔ اس کے ساتھ حج کے اندر طواف قدوم، طواف زیارت اور طواف صدر ہے۔ ان طوافوں کی وجہ سے بیت اللہ کی طرف بار بار واپس آنا حاصل ہوجاتا ہے۔ جب ایک شخص یہ تمام طواف کرے گا تو آیت میں مذکورہ لفظ سے عہدہ برا ہوجائے گا۔ اس لئے ہم یہ کہیں گے کہ اس لفظ کے اندر عمرہ کے وجوب پر کوئی دلالت نہیں ہے۔ - قول باری اوامناً میں بیت اللہ کو امن کے وصف سے موصوف کیا گیا ہے اور اس سے پورا حرم مراد ہے۔ جس طرح یہ قول باری : ھدیاً بالغ الکعبۃ (کعبہ کو پہنچنے والا ہدی یعنی قربانی کا جانور) …

Al-Baqara 2:125Listen in Qur'an →
126

وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِۦمُ رَبِّ ٱجْعَلْ هَٰذَا بَلَدًا ءَامِنًۭا وَٱرْزُقْ أَهْلَهُۥ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ مَنْ ءَامَنَ مِنْهُم بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ ۖ قَالَ وَمَن كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُۥ قَلِيلًۭا ثُمَّ أَضْطَرُّهُۥٓ إِلَىٰ عَذَابِ ٱلنَّارِ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ

اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ اے پروردگار، اس جگہ کو امن کا شہر بنا اور اس کے رہنے والوں میں سے جو خدا پر اور روزِ آخرت پر ایمان لائیں، ان کے کھانے کو میوے عطا کر، تو خدا نے فرمایا کہ جو کافر ہوگا، میں اس کو بھی کسی قدر متمتع کروں گا، (مگر) پھر اس کو (عذاب) دوزخ کے (بھگتنے کے) لیے ناچار کردوں گا، اور وہ بری جگہ ہے

قول باری ہے : واذ قال ابراھیم رب اجعل ھذا بلدا امنا (اور یہ کہ ابراہیم نے دعا کی۔ اے میرے رب، اس شہر کو امن کا شہر بنا دے) اس آیت میں دو معنوں کا احتمال ہے اول یہ کہ یہ شہر مامون فیہ ہو، یعنی اس میں امن و امان رہے جس طرح یہ قول باری ہے : فی عیشۃ راضیۃ یعنی فی عیشۃ مریضۃ (پسندیدہ زندگی میں) دوم یہ کہ اس سے مراد مکہ میں رہنے والے ہیں جس طرح یہ قول باری ہے : واسئل القریۃ (اور گائوں سے پوچھو) یعنی گائوں والوں سے پوچھو، یہ تعبیر مجاز پر مبنی ہے، اس لئے کہ امن اور خوف شہر کو لاحق نہیں ہوتے۔ بلکہ شہر میں رہنے والوں کو لاحق ہوتے ہیں۔- آیت میں جس امن کی التجا کی گئی ہے اس کی تفسیر میں اختلاف رائے ہے۔ کچھ حضرات کا قول ہے کہ قحط اور خشک سالی سے امن کی ا لتجا کی گئی ہے کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے اہل و عیال کو ایسی وادی میں لا بسایا تھا جہاں نہ کسی زراعت کا نام و نشان تھا اور نہ دودھ دینے والے جانوروں کا ہی۔ آپ نے زمین دھنس جانے اور پتھر برسنے سے امن کی التجا نہیں کی تھی کیونکہ مکہ کی سر زمین ان باتوں سے پہلے ہی مامون و محفوظ تھی، ایک قول کے مطابق آپ نے مذکورہ بالا چیزوں سے امن کی درخواست کی تھی۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ زیر بحث قول باری اس قول باری کی طرح ہے : مشابۃ للناس وامناً نیز : ومن دخلہ کان امناً ۔ واللہ اعلم۔- زیر بحث قول باری سے مراد قتل سے امن ہے، وہ اس طرح کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے امن کی التجا کے ساتھ ساکنان شہر کے لئے پھلوں سے رزق عطا کرنے کی بھی درخواست کی تھی، چناچہ ارشاد ہے : رب اجعل ھذا بلداً امنا وارزق اھلہ من الثمرات۔ (اے میرے رب، اس شہر کو امن کا شہر بنا دے اور اس کے باشندوں کو ہر قسم کے پھلوں کا رزق دے) دوسری جگہ قرآن کے الفاظ میں امن کی التجا کرنے کے بعد دعا کی : رب اجعل ھذا البلداً امناً واجنبنی وبنی ان تعبدا لا صنا م (اے میرے پروردگار، اس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا) پھر اسی سیاق میں کہا : ربنا الی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم (پروردگار) میں نے ایک بےآب و گیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لابسایا ہے) تا قول باری : وارزقھم من الثمرات (اور انہیں کھانے کو پھل دے) ان آیتوں میں امن کے سوال کے ساتھ کھانے کو پھل دینے کا بھی ذکر ہے۔ اس لئے یہ بات اولیٰ ہوگی کہ امن کے سوال کو ایک ایسے نئے فائدے کے معنوں پر محمول کیا جائے جو سیاق کے اندر مذکورہ فائدے یعنی رزق کے علاوہ ہو جسے منصوص طور پر بیان کردیا گیا ہے۔- یہاں اگر کوئی یہ کہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مکہ پر قتل سے امن کا حکم عائد کردیتا تو یہ حکم تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے پہلے ہی اس شہر پر عائد ہوچکا تھا کیونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : اللہ تعالیٰ نے مکہ کو اسی دن حرام یعنی محترم قرار دے دیا تھا جس دن اس نے زمین اور آسمانوں کی تخلیق کی تھی ۔ مجھ سے پہلے کسی کے لئے مکہ لحال قرار نہیں دیا گیا اور نہ میرے بعد ہی کسی کے لئے حلال قرار دیا اجئے گا۔ میرے لئے بھی اسے دن کی ایک گھڑی بھر کے لئے حلال کردیا گیا تھا۔- اس کے جواب میں کہ اجائے گا کہ یہ بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سوال کی صحت کے منافی نہیں ہے، کیونکہ یہ جائز ہے کہ مکہ میں قتل و قتال کی تحریم کا حکم منسوخ کردیا گیا ہو اور پھر حضرت ابراہیم علیہ ا لسلام نے اللہ سے سوال کیا ہو کہ تحریم کا حکم جاری رکھا جائے اور میرے بعد آنے والے پیغمبروں کے زمانوں میں بھی اسے باقی رکھا جائے۔- بعض حضرات کا کہنا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سوال سے پہلے مکہ حرم اور جائے امن نہیں تھا، کیونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں نے مدینہ کو حرم …

Al-Baqara 2:126Listen in Qur'an →
127

وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَٰهِۦمُ ٱلْقَوَاعِدَ مِنَ ٱلْبَيْتِ وَإِسْمَٰعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّآ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

اور جب ابراہیم اور اسمٰعیل بیت الله کی بنیادیں اونچی کر رہے تھے (تو دعا کئے جاتے تھے کہ) اے پروردگار، ہم سے یہ خدمت قبول فرما۔ بےشک تو سننے والا (اور) جاننے والا ہے

قول باری ہے : واذیرفع ابراھیم القوا عد من البیت واسمعیل (اور یہ کہ ابراہیم اور اسماعیل جب اس گھر کی دیواریں اٹھا رہے تھے) تاآخر آیت بیت کی اساس اور بنیاد کو قواعد البیت کہتے ہیں۔- حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھوں تعمیر کعبہ کے بارے میں یہ اختلاف رائے ہے کہ آیا آپ نے اس کی پرانی بنیادوں پر دیواریں اٹھائی تھیں یا نئی بنیادیں رکھی تھیں ؟ معمر نے ایوب سے انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوںں نے حضرت ابن بع اس سے زیر بحث آیت کی تفسیر میں روایت بیان کی ہے کہ ان بنیادوں سے مراد وہ بنیادیں ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تعمیر کعبہ سے پہلے موجود تھیں۔ عطاء سے بھی اسی قسم کی روایت منقول ہے۔ منصور نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر سے ان کا قول نقل کیا ہے کہ : اللہ تعالیٰ نے زمین کی تخلیق سے دو ہزار برس پہلے بیت اللہ کی تخلیق کردی تھی اور پھر اس کے نیچ۔ ے زمین بچھا دی گئی۔ حضرت انس سے مروی ہے کہ حضو ر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حضرت آدم (علیہ السلام) سے پہلے فرشتے بیت اللہ کا حج کرتے تھے اور پھر آدم (علیہ السلام) نے اس کا حج کیا۔ مجاہد اور عمرو بن دنیار سے مرو ی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم کے تحت بیت اللہ کی تعمیر کی تھی۔ حسن بصری کا قول ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سب سے پہلے بیت اللہ کا حج کیا تھا۔- حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) میں بیت اللہ کا تعمیر کنندہ کون ہے ؟ اس بارے میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس کے قول کے مطابق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دیواروں کی چنائی کرتے تھے اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) انہیں پتھر اور گارا وغیرہ پکڑاتے جاتے تھے۔ یہ بات تعمیر کے فعل کو ان دونوں کی طرف منسوب کرتی ہے، اگرچہ ان میں سے ایک فرد محض ہاتھ بٹا رہا تھا۔ اسی بنا پر ہم نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس قول کے بارے میں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ سے فرمایا تھا کہ : اگر ت م مجھ سے پہلے وفات پا جاتیں تو میں تمہیں غسل دیتا اور دفن کرتا کہا تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس سے مراد یہ تھی کہ میں تمہیں غسل دینے میں اعانت کرتا۔- السدی اور عبید بن عمیر کے قول کے مطابق دونوں حضرات نے بیت اللہ کی تعمیر کی تھی۔ ایک شاذ و روایت کے مطابق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تنہا ہی کعبے کی دیواریں اٹھائی تھیں اس وقت حضرت اسماعیل بہت چھوٹے تھے، لیکن یہ روایت غلط ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے تعمیر کے فعل کی دونوں کی طرف نسبت کی ہے۔ اور اس کا اطلاق صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب یہ تسلیم کرلیا جائے کہ دونوں نے ہی دیواریں اٹھائی تھیں یا ایک دیوار کی چنائی میں مصروف رہے اور دوسرے انہیں پتھر اور گارا وغیرہ پکڑاتے رہے۔ یہ دونوں صورتیں درست ہیں لیکن درج بالا تیسری صورت غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب یہاں یہ فرما دیا : وطھر بیتی للطائفین اور دوسری جگہ فرمایا : ولیطوفوا بالبیت العتیق تو یہ آیتیں پورے بیت اللہ کے طواف کی مقتضی بن گئیں۔- ہشام نے عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت بیان کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اہل جاہلیت نے کعبہ کی عمارت کو چھوٹا کردیا تھا۔ اس لئے تم حجر (حطیم) میں داخل ہو کر وہاں نماز پڑھ لیا کرو۔ یہی وجہ ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام نے حجر (حطیم) کے گرد یعنی اس کے پیچھے سے طواف کیا تھا، تاکہ پورے بیت اللہ کے طواف کا یقین حاصل ہوجائے۔ اسی بن اپر حضرت عبداللہ بن الزبیر نے اپنی خلافت کے زمانے میں اسے اس وقت بیت اللہ میں داخل کردیا تھا جب اس میں آگ لگنے کی وجہ سے اس کی دوبارہ تعمیر کی تھی۔ پھر جب حجاج آیا تو اس نے حطیم کو بیت اللہ سے باہر کردیا۔- قول باری ہے …

Al-Baqara 2:127Listen in Qur'an →
128

رَبَّنَا وَٱجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَآ أُمَّةًۭ مُّسْلِمَةًۭ لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ

اے پروردگار، ہم کو اپنا فرمانبردار بنائے رکھیو۔ اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کو اپنا مطیع بنائے رہیو، اور (پروردگار) ہمیں طریق عبادت بتا اور ہمارے حال پر (رحم کے ساتھ) توجہ فرما۔ بے شک تو توجہ فرمانے والا مہربان ہے

قول باری ہے : وارنا منا سکنا (ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا) کہ اجاتا ہے کہ لغت میں نسک کے اصل معنی غسل یعنی دھونے کے ہیں۔ اگر ایک شخص اپنے کپڑے دھو لے تو اس موقعہ پر کہا جائے گا کہ ” نسک ثوبہ “ اس سلسلے میں ایک شعر بھی پیش کیا گیا ہے۔- ولا ینبت الموعی سباح عراعر ولونسکت بالماء ستۃ اشھر - (پہاڑوں کی شوز زدہ چوٹایں کوئی چراگاہ نہیں اگا سکتیں خواہ چھ برسوں تک پانی سے ان کی دھلائی کیوں نہ کی جاتی رہے)- شرع میں نسک عیادت کا اسم ہے۔ کہا اجتا ہے ” رجل ناسک “ یعنی عابد شخص حضرت براء بن عازب کہتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یوم الاضحی کو گھر سے نکلے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آج کے دن ہماری پہلی عبادت نماز ہوگی اور پھر جانور کی قربانی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کو نسک کا نام دیا۔ ذبیحہ کو تقرب الٰہی کے طور پر نسک کا نام دیا جاتا ہے۔ ارشاد باری ہے : فقہ یۃ من صیام او صدقۃ اونسک (تو روزے یا صدقہ یا قربانی کی صورت میں فدیہ ادا کرو) مناسک حج بشمول قربانی ان تمام افعال کو کہا جاتا ہے جن کا حج مقتضی ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : مجھ سے تم اپنے مناسک لے لو یعنی سکھ لو۔ قول باری : وارنا مناسکنا کا زیادہ ظاہر مفہوم یہی ہے کہ اس سے تمام اعمال حج مراد ہیں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل کو حج کی خاطر بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا تھا۔- ابن ابی لیلیٰ نے ابن ابی ملیکہ سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت بیان کی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حضرت جبرئیل (علیہ السلام) حضتر ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے اور انہیں مکہ لے گئے پھر منیٰ لے گئے پھر حضرت ابن عمر نے حج کے وہ تمام افعال اسی ترتیب سے روایت میں بیان کردیئے جس ترتیب سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجتہ الودا ع کے موقع پر بیان کئے تھے اس کے بعد حضرت عمر نے فرمایا : پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل فرمائی : ان اتبع ملۃ ابراھیم حنیف (یہ کہ تم ابراہیم کی پیروی کرو جو حنیف تھے) اسی طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفات میں کچھ لوگوں کو جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے وقوف کر رہ ی تھے پیغام بھیجا کہ : تم لوگ اپنے مشاعر پر رہو، کیونکہ تم لوگ حضرت ابراہیم علیہ ا لسلام کے ترکہ پر ہو۔ یہاں مشاعر سے حج کے مناسک و افعال مراد ہیں۔

Al-Baqara 2:128Listen in Qur'an →
129

رَبَّنَا وَٱبْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًۭا مِّنْهُمْ يَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

اے پروردگار، ان (لوگوں) میں انہیں میں سے ایک پیغمبر مبعوث کیجیو جو ان کو تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرے اور کتاب اور دانائی سکھایا کرے اور ان (کے دلوں) کو پاک صاف کیا کرے۔ بےشک تو غالب اور صاحبِ حکمت ہے

Explained together with ayah 128

Al-Baqara 2:129Listen in Qur'an →
130

وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَٰهِۦمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُۥ ۚ وَلَقَدِ ٱصْطَفَيْنَٰهُ فِى ٱلدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُۥ فِى ٱلْءَاخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ

اور ابراہیم کے دین سے کون رو گردانی کر سکتا ہے، بجز اس کے جو نہایت نادان ہو۔ ہم نے ان کو دنیا میں بھی منتخب کیا تھا اور آخرت میں بھی وہ (زمرہٴ) صلحا میں سے ہوں گے

قول باری ہے : ومن یرغب عن ملۃ ابراھیم الا من سفہ نفسہ (اب کون ہے جو ابراہیم کے طریقے سے نفرت کرے ؟ جس نے خود اپنے آپ کو حماقت و جہالت میں مبتلا کرلیا، اس کے سوا اور کون یہ حرکت کرسکتا ہے) یہ آیت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے شرائع میں سے ان امور کے لزوم پر دلالت کرتی ہے جن کا نسخ ثابت نہ ہوا ہو۔ اس آیت میں یہ بات بھی بتلا دی گئی ہے کہ جو شخص حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقے سے نفرت کرے گا وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے سے نفرت کرنے والا شمار ہوگا، اس لئے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی لائی ہوئی شریعت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت پر نہ صرف مشتمل ہے، بلکہ اس پر اضافہ ہے۔

Al-Baqara 2:130Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.