Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 111–120 of 286

111

وَقَالُوا۟ لَن يَدْخُلَ ٱلْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَٰرَىٰ ۗ تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ ۗ قُلْ هَاتُوا۟ بُرْهَٰنَكُمْ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی بہشت میں نہیں جانے کا۔ یہ ان لوگوں کے خیالاتِ باطل ہیں۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو

Explained together with ayah 109

Al-Baqara 2:111Listen in Qur'an →
112

بَلَىٰ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُۥ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌۭ فَلَهُۥٓ أَجْرُهُۥ عِندَ رَبِّهِۦ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

ہاں جو شخص خدا کے آگے گردن جھکا دے، (یعنی ایمان لے آئے) اور وہ نیکو کار بھی ہو تو اس کا صلہ اس کے پروردگار کے پاس ہے اور ایسے لوگوں کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

Explained together with ayah 109

Al-Baqara 2:112Listen in Qur'an →
113

وَقَالَتِ ٱلْيَهُودُ لَيْسَتِ ٱلنَّصَٰرَىٰ عَلَىٰ شَىْءٍۢ وَقَالَتِ ٱلنَّصَٰرَىٰ لَيْسَتِ ٱلْيَهُودُ عَلَىٰ شَىْءٍۢ وَهُمْ يَتْلُونَ ٱلْكِتَٰبَ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ ۚ فَٱللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ

اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی رستے پر نہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی رستے پر نہیں۔ حالانکہ وہ کتاب (الہٰی) پڑھتے ہیں۔ اسی طرح بالکل انہی کی سی بات وہ لوگ کہتے ہیں جو (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) تو جس بات میں یہ لوگ اختلاف کر رہے خدا قیامت کے دن اس کا ان میں فیصلہ کر دے گا

Explained together with ayah 109

Al-Baqara 2:113Listen in Qur'an →
114

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا ٱسْمُهُۥ وَسَعَىٰ فِى خَرَابِهَآ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَن يَدْخُلُوهَآ إِلَّا خَآئِفِينَ ۚ لَهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا خِزْىٌۭ وَلَهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون، جو خدا کی مسجدوں میں خدا کے نام کا ذکر کئے جانے کو منع کرے اور ان کی ویرانی میں ساعی ہو۔ان لوگوں کو کچھ حق نہیں کہ ان میں داخل ہوں، مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب

قول باری ہے : ومن اظلم ممن منع مساجد اللہ ان یذکر فیھا اسمہ وسعی فی خرابھا اولئک ما کان لھم ان یدخلوھا الا خائفین۔ (اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کو نہو گا جو اللہ کے معبدوں میں اس کے نام کی یاد سے روکے اور اس کی ویرانی کے در پے ہو ؟ ایسے لوگ اس قابل ہیں کہ ان عبادت گاہوں میں قدم نہ رکھیں اور اگر وہاں جائیں بھی تو ڈرتے ہوئے جائیں۔ )- معمر نے قتادہ سے روایت بیان کی ہے کہ یہ بخت نصر تھا جس نے بیت المقدس کو ویران کردیا تھا اور اس سلسلے میں نصرانیوں نے اس کی مدد کی تھی : قول باری : اولئک ما کان لھم ان یدخلوھا الا خائفین میں مذکورہ لوگوں سے مراد نصاریٰ ہیں جو بیت المقدس میں چوری چھپے داخل ہوتے تھے اور اگر پکڑے جاتے تو انہیں سزا دی جاتی۔ قول باری : لھم فی الدین اخزی (ان کے لئے تو دنیا میں رسوائی ہے) کی تفسیر میں قتادہ میں کہا کہ ” وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔ ابن ابی نجیح نے مجاہد سے زیر بحث آیت کی تفسیر روایت کی ہے کہ یہ نصاریٰ تھے جنہوں نے بیت المقدس کو ویران کیا تھا۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قتادہ سے جس روایت کا ذکر ہے اس میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ راوی سے غلطی ہوگئی ہے۔ اس لئے کہ گزشتہ اقوام کے واقعات کا علم رکھنے والوں کے درمیان اس امر میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ بخت نصر کا زمانہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے بہت پہلے گزر چکا اور نصاری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد وجود میں آئے تھے اور اپنی نسبت ان کی طرف کرتے تھے، یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ بیت المقدس کو وریان کرنے میں انہوں نے بخت نصر کا ساتھ دیا ہو۔ نصرانیوں کا دین شہنشاہ قسطنطین کے عہد میں شام و روم کے علاقوں میں پھیلا تھا اور یہ بات اسلام سے دو سو سے زائد برس پہلے کی ہے۔ یہ لوگ عیسائیت سے پہلے بتوں کے پجاری تھے، ان میں جو لوگ عیسائیت قبول کرتے وہ گمنام رہتے اور ایک دوسرے کے ادیان کا مذاق اڑاتے، اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی ہے کہ نصاریٰ اسی طرح بیت المقدس کی تعظیم کا اعتقاد رکھتے تھے جس طرح یہود رکھتے تھے، پھر یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے مذکورہ اعتقاد کے باوجود بیت المقدس کی ویرانی میں کسی کی مدد کی ہو۔ بعض حضرات اس بات کے قائل ہیں کہ زیر بحث آیت مشرکین کے بارے میں ہے جنہوں نے مسلمانوں کو مسجد حرام میں اللہ کا نام لینے سے روک دیا تھا۔ مسجد حرام کو ویران کرنے کی سعی سے مرادیہ ہے کہ انہوں نے اسے اللہ کی یاد اور اس کی عبادت کے ذریعے آباد کرنے سے مسلمانوں کو روک دیا تھا۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ زیر بحث آیت میں اہل ذمہ کو مساجد میں داخل ہونے سے روکنے پر دو وجوہ سے دلالت موجود ہے۔ ایک وجہ تو یہ قول باری : ومن اظلم ممن منع مساجد اللہ ان یذکر فیھا اسمہ روکنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت تو دبائو اور غلبہ کے تحت روکنا ہے اور دوسری صورت اعتقاد ، مذہب اور حکم کے ذریعے روکنا ہے۔- قول باری : اولٓئک ما کان لھم ان یدخلوھا الا خائفین۔ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اہل ذمہ مساجد میں داخل ہوجائیں تو انہیں وہاں سے نکال دینا مسلمانوں پر واجب ہے دوسری وجہ یہ قول باری ہے : وسعی فی خرابھا۔ اس کی بھی دو صورتیں ہیں پہلی صورت یہ ہے کہ اہل ذمہ مساجد کو اپنے ہاتھوں سے برباد کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ ان مساجد کو برباد کرنے کے وجوب کا اعتقاد رکھتے ہیں، اس لئے کہ اہل ذمہ کے مذاہب مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو ویران اور برباد کرنے کے مقتضی ہوتے ہیں اور اپنے پیروکاروں پر اسے واجب قرار دیتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت پر اس آیت کا عطف کیا : اولئک ما کان لھم ان یدخلوھا الا خائفین۔ یہ آیت بھی اہل ذمہ کو مساجد میں داخل ہونے سے روکنے پر دلالت کرتی ہے۔ اس آیت کی طرح اس قول باری کی بھی دلالت ہے۔ ما کان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ (مشرکین کے لئے یہ گنجائش نہیں کہ وہ اللہ کی …

Al-Baqara 2:114Listen in Qur'an →
115

وَلِلَّهِ ٱلْمَشْرِقُ وَٱلْمَغْرِبُ ۚ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا۟ فَثَمَّ وَجْهُ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ وَٰسِعٌ عَلِيمٌۭ

اور مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ تو جدھر تم رخ کرو۔ ادھر خدا کی ذات ہے۔ بے شک خدا صاحبِ وسعت اور باخبر ہے

قول باری ہے : وللہ المشرق والمغرب فایتماتو لوا فثم وجہ اللہ (مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں۔ جس طرف بھی تم رخ کرو گے اسی طرف اللہ کا رخ ہے) ابو اشعث السمان نے عاصم بن عبید اللہ سے، انہوں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت بیان کی ہے کہ ہم ایک تاریک رات میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے، ہمیں پتہ نہیں چلا کہ قبلہ کس طرف ہے۔ چناچہ ہر شخص نے اپنے اپنے رخ پر نماز ادا کی ۔ جب صبح ہوئی تو ہم نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات کا ذکر کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : فاینما تولوا فثم وجہ اللہ۔- ایوب بن عتبہ نے قیس بن طلق سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت بیان کی ہے کہ کچھ لوگ سفر پر نکلے، انہوں نے جب نماز ادا کی تو انہیں قبلہ کا پتہ نہیں چلا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو پتہ لگا کہ انہوں نے قبلہ کے سوا کسی اور رخ پر نماز ادا کرلی ہے۔ پھر انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :’ دتمہاری نماز پوری ہوگئی۔ “ - ابن لہیعہ نے بکر بن سوادہ سے ایک شخص کے بارے میں روایت بیان کی جس نے حضرت عمر (رض) سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا جو سفر کے دوران غلطی سے قبلہ رخ ہوئے بغیر نماز پڑھ لیتا ہے ۔ حضرت ابن عمر نے جواب میں مذکورہ آیت کی تلاوت فرما دی۔- ابو علی الحسین بن علی الحافظ نے رویات بیان کی، انہیں محمد بن سلیمان الواسطی نے ، انہیں احمد بن عبداللہ بن الحسن العنبری نے بتایا کہ میں نے ابوعبید اللہ بن الحسن کی کتاب میں یہ تحریر دیکھی کہ عبدالملک بن ابی سلیمان لاعرزمی نے عطاء بن ابی رباح سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت بیان کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جہاد پر ایک چھوٹا لشکر روانہ کیا جس میں بھی شامل تھا۔ ہمیں تاریکی نے چاروں طرف سے گھیر لیا اور قبلہ کا ہمیں کوئی پتہ نہ چلا۔ پھر ہم میں سے ایک گروہ نے بتایا کہ ہمیں قبلہ معلوم ہوگیا ہے، یہ کہہ کر انہوں نے شمال کی طرف اشارہ کیا۔ چناچہ لوگوں نے اسی طرخ نماز ادا کی اور چند لکیریں لگا دیں۔ دوسرے گروہ نے جنوب کی طرف قبلے کی نشاندہی کر کے چند لکیریں لگا دیں، لیکن جب صبح ہوئی تو ہم نے دیکھا کہ مذکورہ لکیریں قبلے کے رخ نہیں تھیں۔ پھر جب ہم سفر سے واپس ہوئے تو اس بارے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استفسار کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ فاینما تولوا فثم وجہ اللہ۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ مذکورہ بالا روایات میں یہ بات ذکر ہوئی ہے کہ زیر بحث آیت کے نزول کا سبب ان حضرات کی وہ نماز تھی جسے انہوں نے اپنے اجتہاد سے کام لے کر قبلہ کے سوا کسی اور رخ پر ادا کیا تھا۔- حضرت ابن عمر سے ایک اور روایت میں مذکور ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آتے ہوئے اپنی سواری پر اسی رخ نماز ادا کرتے رہے جس رخ آپ کی سواری ہوتی۔ اسی سلسلے میں مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی۔- معمر نے قتادہ سے اسی آیت کی تفسیر میں ان کا قول نقل کیا ہے کہ یہ قبلہ اول تھا اور پھر اسے مسجد حرام کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کے حکم نے منسوخ کردیا۔ اس بارے میں ایک قول یہ بھی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے پھر جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو یہود نے اسے بہت ناپسند کیا۔ اس پر زیر تفسیر آیت نازل ہوئی۔- بعض حضرات کا قول ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اختیار دیا گیا تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس طرف چاہیں رخ کر کے نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اس بنا پر بیت المقدس کی طرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رخ کرنا ایجاب کی بنا پر نہیں تھا، بلکہ اختیار کی بنا پر تھا۔ حتیٰ کہ کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم …

Al-Baqara 2:115Listen in Qur'an →
116

وَقَالُوا۟ ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ وَلَدًۭا ۗ سُبْحَٰنَهُۥ ۖ بَل لَّهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ كُلٌّۭ لَّهُۥ قَٰنِتُونَ

اور یہ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ خدا اولاد رکھتا ہے۔ (نہیں) وہ پاک ہے، بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کا ہے اور سب اس کے فرماں بردار ہیں

قول باری ہے : وقال اتخذ اللہ ولداً سبحانہ بل لہ ما فی السموت والارض (ان کا قول ہے کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ اللہ پاک ہے۔ ان باتوں سے، اصل حقیقت یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں کی تمام موجودات اس کی ملک ہیں)- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس آیت میں اس امر پر دلالت موجود ہے کہ انسان کی اپنے بیٹے پر ملکیت باقی نہیں رہتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قول : بل لہ ما فی السموت والارض سے ملکیت کے اثبات کے ذریعے ولد کی نفی کردی، یعنی بیٹا اللہ کی ملکیت ہوتا ہے اللہ کا بیٹا نہیں ہوتا۔ یہ آیت اس قول باری کی نظیر ہے : وما ینبغی للرحمن ان یتخذ ولداً ان کل من فی السموت والارض الا اتی الرحمٰن عبداً (رحمٰن کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔ زمین اور آسمانوں کے اندر جو بھی ہیں سب اس کے حضور بندوں کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں) یہ بات اس امر کی مقتضی ہے کہ باپ جب اپنے بیٹے کا مالک بن جائے تو وہ اس پر آزاد ہوجائے گا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس جیسا حکم والد کے بارے میں جاری کیا ہے جب بیٹا اس کا مالک بن جائے۔ چناچہ آپ نے فرمایا :” کوئی بیٹا اپنے باپ کو اس کے احسانات کا بدلہ نہیں دے سکتا۔ الا یہ کہ وہ اسے مملوک پائے اور پھر اسے خرید کر آزاد کردے۔ “ اس طرح آیت اس امر کی مقتضی ہے کہ باپ جب اپنے بیٹے کا مالک بنے تو وہ اس پر آزاد ہوجائے گا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد اس امر کا مقتضی ہے کہ بیٹا جب اپنے باپ کا مالک بنے تو وہ اس پر آزاد ہوجائے گا۔- بعض بےعلم لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ اگر بیٹا اپنے باپ کا مالک بن جائے تو وہ اس وقت تک اس پر آزاد نہیں ہوگا جب تک بیٹا اسے آزاد نہ کرے کیونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :” وہ اسے خرید لے اور پھر آزاد کر دے۔ “ یہ بات ملکیت کے بعد ایک نئے عتق کی مقتضی ہے جو لغت اور عرف کے اعتبار سے لفظ کے حکم سے جہالت پر مبنی ہے۔ کیونکہ مذکورہ الفاظ سے یہ مفہوم سمجھ میں آتا ہے کہ :” بیٹا اسے خریدے اور آزاد کر دے۔ “ اس لئے کہ آپ نے یہ بتادیا کہ اس کی خریداری اس کے عتق کی موجب ہے۔ یہ بات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد کی طرح ہے : لوگ دو ٹولیوں میں اپنے گھروں سے صبح کے وقت نکلتے ہیں۔ ایک وہ ہوتا ہے جو اپنی ذات فروخت کر کے اسے ہلاک کردیتا ہے اور ایک وہ ہوتا ہے جو اپنی ذات خرید کر کے اسے آزاد کردیتا ہے۔ “ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ وہ خریداری کے ذریعے اسے آزاد کردیتا ہے۔ نہ کہ اس کے بعد نئے سرے سے آزادی دے کر اسے آزاد - ١ ؎ غلام بیٹے کا مالک بن جانا مراد ہے۔ اسی طرح باپ کا مالک بن جانے سے غلام باپ کا مالک بن جانا مراد ہے (ادارہ) کرتا ١ ؎ ہے۔

Al-Baqara 2:116Listen in Qur'an →
117

بَدِيعُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ وَإِذَا قَضَىٰٓ أَمْرًۭا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ

(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والاہے۔ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اس کو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے.

Explained together with ayah 116

Al-Baqara 2:117Listen in Qur'an →
118

وَقَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا ٱللَّهُ أَوْ تَأْتِينَآ ءَايَةٌۭ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّثْلَ قَوْلِهِمْ ۘ تَشَٰبَهَتْ قُلُوبُهُمْ ۗ قَدْ بَيَّنَّا ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يُوقِنُونَ

اور جو لوگ (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) وہ کہتے ہیں کہ خدا ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا۔ یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے، وہ بھی انہی کی سی باتیں کیا کرتے تھے۔ ان لوگوں کے دل آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ جو لوگ صاحبِ یقین ہیں، ان کے (سمجھانے کے) لیے نشانیاں بیان کردی ہیں

Explained together with ayah 116

Al-Baqara 2:118Listen in Qur'an →
119

إِنَّآ أَرْسَلْنَٰكَ بِٱلْحَقِّ بَشِيرًۭا وَنَذِيرًۭا ۖ وَلَا تُسْـَٔلُ عَنْ أَصْحَٰبِ ٱلْجَحِيمِ

(اے محمدﷺ) ہم نے تم کو سچائی کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اہل دوزخ کے بارے میں تم سے کچھ پرسش نہیں ہوگی

Explained together with ayah 116

Al-Baqara 2:119Listen in Qur'an →
120

وَلَن تَرْضَىٰ عَنكَ ٱلْيَهُودُ وَلَا ٱلنَّصَٰرَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى ٱللَّهِ هُوَ ٱلْهُدَىٰ ۗ وَلَئِنِ ٱتَّبَعْتَ أَهْوَآءَهُم بَعْدَ ٱلَّذِى جَآءَكَ مِنَ ٱلْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن وَلِىٍّۢ وَلَا نَصِيرٍ

اور تم سے نہ تو یہودی کبھی خوش ہوں گے اور نہ عیسائی، یہاں تک کہ تم ان کے مذہب کی پیروی اختیار کرلو۔ (ان سے) کہہ دو کہ خدا کی ہدایت (یعنی دین اسلام) ہی ہدایت ہے۔ اور (اے پیغمبر) اگر تم اپنے پاس علم (یعنی وحی خدا) کے آ جانے پر بھی ان کی خواہشوں پر چلو گے تو تم کو (عذاب) خدا سے (بچانے والا) نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار

Explained together with ayah 116

Al-Baqara 2:120Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.