ساحر کا حکم - قول باری ہے : واتبعوا ماتتلوا الشیطین علی ملک سلمین، وما کفر سلیمن ولکن الشیطین کفروا ( اور ان چیزوں کی پیروی کرنے جو شیاطین سلیمان کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے، حالانکہ سلیمان نے کبھی کفر نہیں کیا۔ کفر کے مرتکب تو شیاطین تھے) تا آخر آیت - ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہاں سحر، یعنی جادو کی حققیت پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے کیونکہ بہت سے اہل علم کی نظروں سے بھی یہ بات پوشیدہ ہے، عوام الناس کا تو پوچھنا ہی کیا، اس کے بعد ہم معانی اور احکام کے سلسلے میں مذکورہ بالا آیت کے مقتضاد کو سامنے رکھ کر جادو کا حکم بیان کریں گے۔- اہل لغت کے قول کے مطابق سحر ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو بہت لطیف ہو اور جس کا سبب نظروں س ے مخفی ہو، عربی زبان میں حرف سین کے زبر کے ساتھ لفظ سحر کا اطلاق غذا پر ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ اس میں خفا ہوتا ہے اور غذا کی نالیاں بہت باریک ہوتی ہیں۔ بعید کا شعر ہے۔- ارانا موضعین لا مرغیب ونسحر بالطعام والشراب - (میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں کسی غیبی امر کے لئے رکھا گیا ہے اور طعام و شراب کے ذریعے ہمیں غذا مہیا کی جا رہی ہے۔ )- اس شعر کی تشریح دو طرح سے کی گئی ہے۔ ایک کا مفہوم تو وہی ہے جس کا ذکر ترجمے میں کردیا گیا ہے۔ دوسری کا مفہوم یہ ہے کہ ہمیں اس طرح بہلایا اور دھوکے میں رکھا جا رہا ہے جس طرح سحر زدہ اور فریب خوردہ شخص کو رکھا جاتا ہے۔ بہرحال اس شعر کا مفہوم جو بھی ہو اس کے معنی خفا کے ہوں گے۔- ایک اور شاعر نے کہا ہے :- فان تسئلینا فیم نحن فاننا عصا فیرمن ھذا ار نام المسحر - (اے محبوبہ اگر تو ہم سے پوچھے کہ ہم کس حال میں ہیں، تو سن، ہم غذا خور انسانوں سے تعلق رکھنے والی چڑیا ہیں)- اس شعر میں بھی معنی کے اعتبار سے پہلے شعر کی طرح دو احتمال ہیں۔ علاوہ ازیں یہ احتمال بھی ہے کہ شاعر نے لفظ (المسحر) سے دو سحر، یعنی پھیپھڑے والا مراد لیا ہو۔ سحر پھیپھڑے نیز حلقوم سے متصل جگہ کو کہتے ہیں۔ یہ بات بھی خفاء کی طرف راجع ہے۔ حضرت عائشہ (رض) کا قول ہے۔ “ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے پھیپھڑے اور حلقوم کے درمیان وفات پائی۔- قول باری : انما انت من المسحرین کا مفہوم ہے کہ ” تمہارا تعلق تو اس مخلوق سے ہے جو کھاتی اور پیتی ہے “ اس مفہوم پر یہ قول باری دلالت کرتا ہے : وما انت الا بشر مثلنا تم تو ہمارے ہی جیسے بشر ہو۔ نیز : مالھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق (اس رسول کو کیا ہوگیا کہ کھانا کھاتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے) یہاں یہ بھی احتمال ہے کہ یہ بھی ہماری طرح پھیپھڑے والا ہے۔ “ چناچہ یہ اور ان جیسے مقامات کے لئے سحر کے لفظ کا اطلاق اس بنا پر ہوتا ہے کہ جسم کے یہ حصے بہت ہی لطیف اور کمزور ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود انسانی جسم کا قوم اور ٹھہرائو ان ہی اعضاء پر ہے اس لئے جو بھی اس صفت کا حام لہو گا وہ ضعیف اور سہارے کا محتاج ہوگا۔ لغت میں سحر کے یہی معنی ہیں۔ پھر اس لفظ کو ہر ایسی بات کا مفہوم ادا کرنے کے لئے منتقل کردیا گیا جس کا سبب مخفی ہو اور اس کا تخیل اس کی حقیقت سے ہٹ کر کیا گیا ہو اور اس کی حیثیث ملمع کاری اور خدا ع یعنی فریب وہی جیسی ہو۔ جب اس لفظ کا اطلاق کسی قید کے بغیر ہو تو اس کے فاعل کے ذم، یعنی مذمت کا مفہوم ادا ہوتا ہے اسے مقید صورت میں قابل ستائش کا موں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔- حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے۔” بعض بیان جادو جیسے اثر کا حامل ہوتا ہے۔ “ عبدالباقی نے روایت بیان کی، ان سے ابراہیم الحرانی نے ، ان سے سلمیان بن حرب نے ۔ ان سے حماد بن زید نے محمد بن الزبیر سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں زبرقان بن بدر، عمرو بن الاہتم اور قیس بن عاصم حاضر ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرو سے فرمایا :” مجھے زبرقان کے بارے میں بتلائو۔ “ انہوں نے جواب دیا : …