Muslim99Muslim99
← Tafsir library

2. Al-Baqara

The Cow · Medinan · 286 ayahs

سُورَةُ البَقَرَةِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 101–110 of 286

101

وَلَمَّا جَآءَهُمْ رَسُولٌۭ مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ مُصَدِّقٌۭ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِيقٌۭ مِّنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ كِتَٰبَ ٱللَّهِ وَرَآءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

اور جب ان کے پاس الله کی طرف سے پیغمبر (آخرالزماں) آئے، اور وہ ان کی (آسمانی) کتاب کی بھی تصدیق کرتے ہیں تو جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی، ان میں سے ایک جماعت نے خدا کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا، گویا وہ جانتے ہی نہیں

Explained together with ayah 94

Al-Baqara 2:101Listen in Qur'an →
102

وَٱتَّبَعُوا۟ مَا تَتْلُوا۟ ٱلشَّيَٰطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَٰنَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَٰنُ وَلَٰكِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ كَفَرُوا۟ يُعَلِّمُونَ ٱلنَّاسَ ٱلسِّحْرَ وَمَآ أُنزِلَ عَلَى ٱلْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَٰرُوتَ وَمَٰرُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَآ إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌۭ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِۦ بَيْنَ ٱلْمَرْءِ وَزَوْجِهِۦ ۚ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا۟ لَمَنِ ٱشْتَرَىٰهُ مَا لَهُۥ فِى ٱلْءَاخِرَةِ مِنْ خَلَٰقٍۢ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا۟ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ

اور ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہدِ سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کی، بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے، جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہٴ) آزمائش ہیں۔ تم کفر میں نہ پڑو۔ غرض لوگ ان سے (ایسا) جادو سیکھتے، جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔ اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا، اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔ اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، وہ بری تھی۔ کاش وہ (اس بات کو) جانتے

ساحر کا حکم - قول باری ہے : واتبعوا ماتتلوا الشیطین علی ملک سلمین، وما کفر سلیمن ولکن الشیطین کفروا ( اور ان چیزوں کی پیروی کرنے جو شیاطین سلیمان کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے، حالانکہ سلیمان نے کبھی کفر نہیں کیا۔ کفر کے مرتکب تو شیاطین تھے) تا آخر آیت - ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہاں سحر، یعنی جادو کی حققیت پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے کیونکہ بہت سے اہل علم کی نظروں سے بھی یہ بات پوشیدہ ہے، عوام الناس کا تو پوچھنا ہی کیا، اس کے بعد ہم معانی اور احکام کے سلسلے میں مذکورہ بالا آیت کے مقتضاد کو سامنے رکھ کر جادو کا حکم بیان کریں گے۔- اہل لغت کے قول کے مطابق سحر ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو بہت لطیف ہو اور جس کا سبب نظروں س ے مخفی ہو، عربی زبان میں حرف سین کے زبر کے ساتھ لفظ سحر کا اطلاق غذا پر ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ اس میں خفا ہوتا ہے اور غذا کی نالیاں بہت باریک ہوتی ہیں۔ بعید کا شعر ہے۔- ارانا موضعین لا مرغیب ونسحر بالطعام والشراب - (میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں کسی غیبی امر کے لئے رکھا گیا ہے اور طعام و شراب کے ذریعے ہمیں غذا مہیا کی جا رہی ہے۔ )- اس شعر کی تشریح دو طرح سے کی گئی ہے۔ ایک کا مفہوم تو وہی ہے جس کا ذکر ترجمے میں کردیا گیا ہے۔ دوسری کا مفہوم یہ ہے کہ ہمیں اس طرح بہلایا اور دھوکے میں رکھا جا رہا ہے جس طرح سحر زدہ اور فریب خوردہ شخص کو رکھا جاتا ہے۔ بہرحال اس شعر کا مفہوم جو بھی ہو اس کے معنی خفا کے ہوں گے۔- ایک اور شاعر نے کہا ہے :- فان تسئلینا فیم نحن فاننا عصا فیرمن ھذا ار نام المسحر - (اے محبوبہ اگر تو ہم سے پوچھے کہ ہم کس حال میں ہیں، تو سن، ہم غذا خور انسانوں سے تعلق رکھنے والی چڑیا ہیں)- اس شعر میں بھی معنی کے اعتبار سے پہلے شعر کی طرح دو احتمال ہیں۔ علاوہ ازیں یہ احتمال بھی ہے کہ شاعر نے لفظ (المسحر) سے دو سحر، یعنی پھیپھڑے والا مراد لیا ہو۔ سحر پھیپھڑے نیز حلقوم سے متصل جگہ کو کہتے ہیں۔ یہ بات بھی خفاء کی طرف راجع ہے۔ حضرت عائشہ (رض) کا قول ہے۔ “ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے پھیپھڑے اور حلقوم کے درمیان وفات پائی۔- قول باری : انما انت من المسحرین کا مفہوم ہے کہ ” تمہارا تعلق تو اس مخلوق سے ہے جو کھاتی اور پیتی ہے “ اس مفہوم پر یہ قول باری دلالت کرتا ہے : وما انت الا بشر مثلنا تم تو ہمارے ہی جیسے بشر ہو۔ نیز : مالھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق (اس رسول کو کیا ہوگیا کہ کھانا کھاتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے) یہاں یہ بھی احتمال ہے کہ یہ بھی ہماری طرح پھیپھڑے والا ہے۔ “ چناچہ یہ اور ان جیسے مقامات کے لئے سحر کے لفظ کا اطلاق اس بنا پر ہوتا ہے کہ جسم کے یہ حصے بہت ہی لطیف اور کمزور ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود انسانی جسم کا قوم اور ٹھہرائو ان ہی اعضاء پر ہے اس لئے جو بھی اس صفت کا حام لہو گا وہ ضعیف اور سہارے کا محتاج ہوگا۔ لغت میں سحر کے یہی معنی ہیں۔ پھر اس لفظ کو ہر ایسی بات کا مفہوم ادا کرنے کے لئے منتقل کردیا گیا جس کا سبب مخفی ہو اور اس کا تخیل اس کی حقیقت سے ہٹ کر کیا گیا ہو اور اس کی حیثیث ملمع کاری اور خدا ع یعنی فریب وہی جیسی ہو۔ جب اس لفظ کا اطلاق کسی قید کے بغیر ہو تو اس کے فاعل کے ذم، یعنی مذمت کا مفہوم ادا ہوتا ہے اسے مقید صورت میں قابل ستائش کا موں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔- حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے۔” بعض بیان جادو جیسے اثر کا حامل ہوتا ہے۔ “ عبدالباقی نے روایت بیان کی، ان سے ابراہیم الحرانی نے ، ان سے سلمیان بن حرب نے ۔ ان سے حماد بن زید نے محمد بن الزبیر سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں زبرقان بن بدر، عمرو بن الاہتم اور قیس بن عاصم حاضر ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرو سے فرمایا :” مجھے زبرقان کے بارے میں بتلائو۔ “ انہوں نے جواب دیا : …

Al-Baqara 2:102Listen in Qur'an →
103

وَلَوْ أَنَّهُمْ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّقَوْا۟ لَمَثُوبَةٌۭ مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ خَيْرٌۭ ۖ لَّوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ

اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو خدا کے ہاں سے بہت اچھا صلہ ملتا۔ اے کاش، وہ اس سے واقف ہوتے

(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)- زیر بحث آیت میں مذکورہ ساحر کفر کے اسم کا مستحق ہے۔ اس کی دلیل یہ قول باری ہے : واتبعوا ماتتلوا الشیاطین علی ملک سلیمان وما کفر سلیمان (اور وہ ان چیزوں کی پیروی کرنے لگے جو شیاطین سلیمان کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے حالانکہ سلیمان نے کبھی کفر نہیں کیا) یعنی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے عہد میں۔ یہ بات حضرات مفسرین سے مروی ہے قول باری تتلوا اس کا مفہوم ہے۔” خبر دیتے اور پڑھتے تھے۔ “ قول باری : وما کفر سلیمان ولکن الشیاطین کفروا (حالانکہ سلیمان نے کفر نہیں کیا، کفر کے مرتکب تو یہ شیاطین ہوئے تھے۔ ) اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ شیاطین حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے نام سے جن باتوں کی خبر دیتے اور جس جادوگری کا دعویٰ کرتے تھے وہ کفر کی صورت تھی، اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے اس کی نفی کردی اور سا پر عمل کرنے والے شیاطین پر کفر کا حکم عائد کردیا۔ اور اس پر اپنے اس قول کو عطف کیا۔ وما انزل علی الملکین ببابل ھاروت و ماروت وما یعلمان من احد حتی یقولآ انما نحن فتنہ فلا تکفر (وہ پیچھے پڑے اس چیز کے جو بایل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر نازل کی گئی تھی حالانکہ وہ (فرشتے) جب بھی کسی کو اس کی تعلیم دیتے تھے تو پہلے صاف طور پر متنبہ کردیا کرتے تھے کہ ” دیکھو، ہم محض ایک آزمائش ہیں، تو کفر میں مبتلا نہ ہو۔ )- یہاں اللہ تعالیٰ نے ان دونوںں فرشتوں کے بارے میں بتادیا کہ وہ جس شخص کو اس کی تعلیم دیتے اس سے پہلے کہتے کہ ” اس جادو کے عمل اور اس کے اعتقاد کے ذریعے کفر نہ کر “ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس کا عمل کرنا نیز اعتقاد رکھنا کف رہے۔ پھر فرمایا : ولقد علموا لمن اشتراہ مالہ فی الاخرۃ من خلاق (اور انہیں خوب معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خریدا رہنا اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے) یعنی جو شخص اللہ کے دین کے بدلے جادوگری لے لے آخرت میں اس کے لئے کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ پھر فرمایا : ولبئس ماشروابہ انفسھم لوکانوا یعلمون، ولوا انھم امنوا واتقوآ لمثوبۃ من عند اللہ خیر لو کانوا یعلمون۔ (کتنی بری متاع تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا۔ کاش انہیں معلوم ہوتا۔ اگر وہ ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ کے ہاں اس کا جو بدلہ ملتا وہ ان کے لئے زیادہ بہتر تھا، کاش انہیں خبر ہوتی۔ )- اللہ تعالیٰ نے جادوگری کو ایمان کے ضد قمرار دیا کیونکہ اس نے ایمان کو جادوگری کے بالمقابل کردیا اور یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ جادوگر کافر ہے اور جب اس کا کفر ثابت ہوگیا تو اگر وہ اس سے پہلے مسلمان ہو یا کسی وقت اس کی طرف سے اسلام کا اظہار ہوا ہو تو وہ جادوگری کی بنا پر کافر ہو کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد :” جو شخص اپنا دین بدل ڈالے اسے قتل کردو۔ “ کے تحت قتل کا مستحق قرار پائے گا۔- امام ابوحنیفہ نے حسن بن زیاد کی روایت کے مطابق فرمایا ہے کہ اسے قتل کردیا جائے گا اور سا کی توبہ تسلیم نہیں کی جائے گی اور ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے اصحاب میں سے کسی نے حسن کی مذکورہ روایت کی مخالفت کی ہے۔ امام ابو یوسف نے روایت بیان کی ہے کہ امام ابوحنیفہ نے ساحر اور مرتد کے درمیان فرق کیا ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ساحر اپنے کفر کے ساتھ فساد فی الارض کی سعی کو شامل کرلیتا ہے۔- یہاں اگر کوئی کہے کہ آپ گلا گھونٹنے والے نیز محارب پر صرف اس وقت قتل کا حکم عائد کرتے ہیں جب وہ قتل کا ارتکاب کریں۔ یہی حکم آپ جادوگر پر کیوں نہیں عائد کرتے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ دونوں کے مابین اس اعتبار سے فرق ہے کہ گلا گھونٹنے والا نیز محارب ارتکاب قتل سے پہلے اور نہ ہی اس کے بعد کفر کرتے ہیں اس لئے وہ قتل کے سزا وار نہیں ہوں گے۔ بشرطیکہ ان سے کوئی ایسا سبب وجود میں نہ آئے جس کی بنا پر انہیں قتل کا مستحق گردانا جائے۔ رہ گیا جادو گر تو وہ اپین جادوگری کی بنا …

Al-Baqara 2:103Listen in Qur'an →
104

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَقُولُوا۟ رَٰعِنَا وَقُولُوا۟ ٱنظُرْنَا وَٱسْمَعُوا۟ ۗ وَلِلْكَٰفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

اے اہل ایمان! (گفتگو کے وقت پیغمبرِ خدا سے) راعنا نہ کہا کرو۔ انظرنا کہا کرو۔ اور خوب سن رکھو، اور کافروں کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے

قول باری ہے : یایھا الذین امنوا لا تقولوا راعنا (اے ایمان لانے والو، راعنا نہ کہا کرو) قطرب نے کہا ہے کہ آیت میں مذکورہ کلمہ اہل حجاز کا کلمہ ہے جسے وہ تمسخر کے طور پر کہتے تھے۔ ایک قول کے مطابق یہود یہ کلمہ کہتے تھے جس طرح ایک اور مقام پر قول باری ہے : ویقولون سمعنا وعصینا و اسمع غیر مسمع وراعنا لیا بالسنتھم وطعنا فی الدین (اور دین حق کے خلاف نیش زنی کرنے کے لئے اپنی زبانوں کو توڑ موڑ کر کہتے ہیں سمعنا وعصینا اور اسمع غیر مسمع اور راعنا) یہود یہ الفاظ آپس میں گٹھ جوڑ کر کے تمسخر کے طور پر کہتے۔ “(درج بالا الفاظ کا مفہوم سمجھنے کے لئے یہ نوٹ ملاحظہ کیجیے۔ مترجم)- جب انہیں یعنی یہود کو خدا کے احکام سنائے جاتے ہیں تو زور سے کہتے ہیں۔ سمعنا ہم نے سن لیا اور آہستہ سے کہتے ہیں۔ عصینا ہم نے قبول نہیں کیا یا اطعنا ہم نے قبول کیا کا تلفظ اس انداز سے زبان کو لچکا وے کر کرتے ہیں کہ عصینا بن جاتا ہے۔ دوران گفتگو میں جب وہ کوئی بات محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہنا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں اسمع سینے اور پھر ساتھ ہی غیر مسمع بھی کہتے ہیں جو ذومعنی ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ آپ ایسے محترم ہیں کہ آپ کو کوئی بات خلاف مرضی نہیں سنائی جاسکتی۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم اس قابل نہیں ہو کہ تمہیں کوئی کچھ سنائے ایک اور مطلب یہ ہے کہ خدا کرے تو بہرے ہو جائو۔ راعنا بھی ایک ذومعنی لفظ ہے۔ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دوران میں یہودیوں کو کبھی یہ کہنے کی ضرورت پیش آئی کہ ٹھہریے ۔ ذرا ہمیں یہ بات سمجھ لینے دیجیے، تو وہ راعنا کہتے تھے۔ اس لفظ کا ایک ظاہری مفہوم تو یہ تھا کہ ذرا ہماری رعایت کیجیے یا ہماری بات سن لیجیے، مگر اس لفظ میں کئی احتمالات اور بھی تھے مثلاً عربانی زبان میں اس سے ملتا جلتا ایک لفظ تھا جس کے معنی تھے : سن، تو بہرا ہوجائے۔ “ اور خود عربی میں اس کے ایک معنی صاحب رعونت اور جاہل و احمق کے بھی تھے۔ اور گفتگو میں یہ ایسے موقع پر بولا جاتا تھا جب یہ کہنا ہو کہ ” تم ہماری سنو تو ہم تمہاری سنیں۔ “(تفہیم القرآن جلد اول کچھ تصرف کے ساتھ)- یہود راعنا کا لفظ تمسخر کے طور پر کہتے تھے جیسا کہ یہ قول باری ہے : واذا جائوک حیرک بمالم یحیک بہ اللہ (اور جب یہ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو ایسے لفظ سے آپ کو سلام کہتے ہیں جس سے اللہ نے آپ کو سلام نہیں کہا) یہودی جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتے تو السلام علیک کہنے کی بجائے ” السام علیک “ کہتے جس کے معنی ہیں ” تم پر موت ہو۔ “ وہ یہ الفاظ اس طرح کہتے کہ سننے والوں کو وہم ہوتا کہ وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کر رہے ہیں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی اس خباثت سے آگاہ مسلمانوں کو اس جیسے ذومعنی الفاظ کہنے سے روک دیا۔ قول باری : رعنا میں اگرچہ ” رعایت کیجیے اور ” ذرا ٹھہریے “ کے معانی موجود ہیں، لیکن جب اس لفظ کے اندر تمسخر کے معنی بھی موجود تھے جو یہودیوں کے ہاں مراد تھے تو مسلمانوں کو اس لفظ کے استعمال سے روک دیا گیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اگرچہ اس میں ذرا ٹھہریے “ کے معنی کا احتمال ہے، لیکن اس کا اطلاق تمسخر کے معنوں کا مقتضی ہو۔ اس کی مثل نعت میں موجود ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ وعد کے اسم کا اطلاق خیر اور شر دونوں پر ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے : وعدھا اللہ الذین کفروا (اس کا وعدہ اللہ نے ان لوگوں سے کیا ہے جنہوں نے کفر کیا) نیز فرمایا : ذلک وعد غیر مکذوب (یہ ایسا وعدہ ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا)- لیکن جب اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے تو اس سے خیر کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے شرکا مفہوم سمجھ میں نہیں آتا۔ قول باری : راعنا بھی دونوں باتوں کا احتمال رکھتا ہے، لیکن اطلاق کے وقت یہ لفظ ” ذرا ٹھہریے “ کے معنوں کی بہ نسبت تمسخر کے معنوں کے ساتھ اخص ہوتا ہے۔ یہ بات اس امر پر دلالت …

Al-Baqara 2:104Listen in Qur'an →
105

مَّا يَوَدُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ وَلَا ٱلْمُشْرِكِينَ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْكُم مِّنْ خَيْرٍۢ مِّن رَّبِّكُمْ ۗ وَٱللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِۦ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيمِ

جو لوگ کافر ہیں، اہل کتاب یا مشرک وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے خیر (وبرکت) نازل ہو۔ اور خدا تو جس کو چاہتا ہے، اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر لیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

Explained together with ayah 104

Al-Baqara 2:105Listen in Qur'an →
106

۞ مَا نَنسَخْ مِنْ ءَايَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍۢ مِّنْهَآ أَوْ مِثْلِهَآ ۗ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ

ہم جس آیت کو منسوخ کر دیتے یا اسے فراموش کرا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا ویسی ہی اور آیت بھیج دیتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ خدا ہر بات پر قادر ہے

سنت کے ذریعے قرآن کے نسخ اور وجوہ نسخ کا بیان - ارشاد باری ہے : ماننسخ من ایۃ او ننسھا نات بخیر منھا او مثلھا۔ (ہم اپنی جس آیت کو منسوخ کردیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں اس کی جگہ اس سے بہتر لاتے ہیں یا کم از کم ویسی ہی) کچھ حضرات کا قول ہے کہ نسخ ازالہ کو کہتے ہیں اور کچھ دیگر حضرات نسخ کو ابدال (بدل دینے) کا نام دیتے ہیں۔ ارشاد باری ہے : فینسخ اللہ ما ینقی الشیطان (اللہ تعالیٰ اس چیز کو منسوخ کردیتا ہے جس کا شیطان القا کرتا ہے) یعنی اسے زائل اور باطل کر کے اس کی جگہ آیات محکمات نازل کردیتا ہے۔ ایک قول کے مطابق نسخ نقل کو کہتے ہیں اور سا کی بنیاد یہ قول باری ہے : انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون (تم جو کچھ بھی کرتے رہتے تھے ہم سب لکھواتے یعنی نقل کراتے جاتے تھے۔ )- مذکورہ بالا اختلاف اصل لغت میں اس لفظ کے معنی موضوع لہ کے بارے میں ہے۔ لغت میں اس لفظ کے جو بھی معنی ہوں، اطلاق شرع میں اس کے معنی حکم اور تلاوت کی مدت کے بیان کئے گئے ہیں نسخ کبھی تلاوت کے اندر ہوتا ہے اور حکم باقی رہتا ہے اور کبھی حکم کے اندر ہوتا ہے اور تلاوت باقی رہتی ہے نسخ کی صرف یہی دو صورتیں ہیں۔- ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ غیر فقیہ قسم کے بعض متاخرین کا خیال ہے کہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت میں کوئی نسخ نہیں ہے، نیز یہ کہ ہمارے شریعت میں نسخ کی جن صورتوں کا ذکر ہے ان سے انبیائے متقدمین کی شرائط کا نسخ مراد ہے۔ مثلاً سبت اور مشرق و مغرب کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا وغیرہ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آخری نبی ہیں اور آپ کی لائی ہوئی شریعت قیامت تک باقی رہنے والی شریعت ہے۔ ان صاحب کو اگرچہ فصاحت و بلاغت نیز علم لغت کا وافر حصہ عطا ہوا تھا لیکن علم فقہ اور اس کے نصول سے انہیں کوئی حصہ نصیب نہیں ہوا تھا۔ یہ صاحب سلیم الاعتقاد تھے اور ان کی ظاہری حالت کے سوا ان کے بارے میں کسی اور طرح کا گمان نہیں کیا جاسکتا، لیکن یہ اپنا مذکورہ بالا قول بیان کر کے توفیق سے دور چلے گئے ہیں۔ کیونکہ ان سے پہلے کسی نے بھی اس قول کا اظہار نہیں کیا، بلکہ امت کے سلف اور خلف نے اللہ کے دین اور اس کی شریعت سے بہت سے احکام کے نسخ کا مفہوم اخذ کیا ہے اور انہوں نے ہم تک اسے ایسی صورت میں نقل کردیا ہے جس میں انہیں کوئی شک نہیں ہے اور نہ وہ اس میں تاویل ہی کو جائز سمجھتے ہیں جس طرح امت نے یہ سمجھا ہے کہ قرآن میں عام، خاص، محکم اور متشابہ کا وجود ہے۔ اس لئے قرآن اور سنت میں نسخ کی بات رد کرنے والا قرآن کے خاص، عام، محکم اور متشابہ کو رد کرنے والے کی طرح ہوگا۔ اس بارے میں تمام اقوال کا ورود اور ان کی نقل یکساں طریقے سے ہوئی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان صاحب نے ناسخ و منسوخ آیات اور ان کے احکام کے سلسلے میں ایسے اقدامات کا ارتکاب کیا ہے جن کی وجہ سے ان کا یہ قول امت کے اقوال کے دائرے سے خارج ہوگیا ہے اور اس کے ساتھ ان صاحب کو معانی کے بیان میں تعسف اور زبردستی کا مظاہرہ کرنا پڑا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے یہ قول کس بنا پر اختیار کیا ہے غالب گمان یہ ہے کہ انہوں نے اس بارے میں ناقلین کی نقل کے متعلق اپنی کم علمی کی بنا پر یہ مسلک اپنایا ہے حالانکہ انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ :” جو شخص قرآن میں اپنی رائے سے کچھ کہے اور درست کہے تو بھی وہ خط اکار ہے۔ “ اللہ تعالیٰ ہمیں اور انہیں معاف کرے۔ ہم نے اصول فقہ کے اندر نسخ کی صورتوں پر نیز ان کے جواز اور عدم جواز پر سیر حاصل بحث کی ہے اور اس کے کسی پہلو کو بھی تشنہ نہیں چھوڑا ہے۔- قول باری : اوننسھا کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ یہ نسیان سے ہے اور دوسری قرأت ” ننساھا “ جو تاخیر سے ماخوذ ہے کہا جاتا ہے ” نسات الثی “ (میں نے یہ کام مئوخر کردیا) ” نسیئہ “ اس دین اور قرض کو کہتے ہیں جس کی ادائیگی مئوخر …

Al-Baqara 2:106Listen in Qur'an →
107

أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۗ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِىٍّۢ وَلَا نَصِيرٍ

تمہیں معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے، اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مدد گار نہیں

Explained together with ayah 106

Al-Baqara 2:107Listen in Qur'an →
108

أَمْ تُرِيدُونَ أَن تَسْـَٔلُوا۟ رَسُولَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوسَىٰ مِن قَبْلُ ۗ وَمَن يَتَبَدَّلِ ٱلْكُفْرَ بِٱلْإِيمَٰنِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ

کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے پیغمبر سے اسی طرح کے سوال کرو، جس طرح کے سوال پہلے موسیٰ سے کئے گئے تھے۔ اور جس شخص نے ایمان (چھوڑ کر اس) کے بدلے کفر لیا، وہ سیدھے رستے سے بھٹک گیا

Explained together with ayah 106

Al-Baqara 2:108Listen in Qur'an →
109

وَدَّ كَثِيرٌۭ مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّنۢ بَعْدِ إِيمَٰنِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًۭا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم مِّنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ ٱلْحَقُّ ۖ فَٱعْفُوا۟ وَٱصْفَحُوا۟ حَتَّىٰ يَأْتِىَ ٱللَّهُ بِأَمْرِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

بہت سے اہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تم کو پھر کافر بنا دیں۔ حالانکہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے۔ تو تم معاف کردو اور درگزر کرو۔ یہاں تک کہ خدا اپنا (دوسرا) حکم بھیجے۔ بے شک خدا ہر بات پر قادر ہے

قول باری ہے : فاغفوا واصفحوا حتی یاتی اللہ بامرہ (تم عفو و درگزر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ خود ہی اپنا فیصلہ نافذ کر دے) معمر نے قتادہ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت بیان کی ہے کہ یہ آیت قول باری : اقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم (مشرکین کو قتل کر ڈالو جہاں بھی انہیں پائو) کی بنا پر منسوخ ہوگئی ہے۔ ابو محمد جعفر بن محمد الواسطی نے روایت بیان کی، ان سے ابوالفضل جعفر بن محمد بن الیمان نے کہ ابو عبید کے سامنے یہ روایت پڑھی گئی اور میں اسے سن رہا تھا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یہ روایت عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے علی بن ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے قول باری : لست علیھم بمصیطر (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر داروغہ نہیں ہیں) نیز : وما انت علیھم بجبار (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں) نیز : فاعرض عنھم واصفح (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے منہ پھیر لیجیے اور درگزر کیجیے) نیز : قل للذین امنوا یغفروا للذین لایرجون ایام اللہ (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو ایمان لائے کہ وہ ان لوگوں کے بارے میں عفو سے کام لیں جو ایام اللہ کی امید نہیں رکھتے) کی تفسیر میں نقل کی ہے کہ مذکورہ بالا تمام آیات کو قول باری : فاقتلوا لمشرکین حیث وجدتموھم نیز قول باری : فاقتلوا الذین لایومنون باللہ ولا بالیوم الاخر ولا یحرمون ما حرم اللہ و رسولہ (جنگ کرو ان لوگوں کے ساتھ جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور نہ ہی یوم آخر پر اور نہ ہی ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے) تا آخر آیت نے منسوخ کردیا ہے : اسی طرح یہ قول باری : فاعرض عمن لولی عن ذکرنا ولم یرد الا الحیوۃ الدنیا (ان لوگوں سے منہ پھیر لیجیے جو ہمارے ذکر سے روگردانی کریں اور دنیاوی زندگی کے سوا کچھ نہ چاہیں) نیز : ادفع بالتیھی احسن فاد الذین بینک وبینہ عداوۃ کانہ ولی حمیم (آپ نیکی سے بدی کو ٹال دیا کیجیے تو پھر یہ ہوگا کہ جس شخص میں اور آپ میں عداوت ہے وہ ایسا ہوجائے گا جیسا کوئی دلی دوست ہوتا ہے) نیز : واذا خاطبھم الجاھلون قالوا سلاماً (اور جب جاہل لوگ ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو یہ کہتے ہیں ” سلام ہے۔ “)- یہ تمام آیتیں قتال کی فرضیت کے لزوم سے پہلے نازل ہوئی تھیں اور یہ بات ہجرت سے پہلے تھی۔ ان آیات کا مقصد یہ تھا کہ کفار و مشرکین کو دلائل دے کر نیز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات میں غور و فکر پر آمادہ کر کے اور یہ بتا کر کہ ان جیسے امور انبیاء کے سوا کسی اور کے ہاتھوں ظہور پذیر نہیں ہوتے، اسلام کی طرف بلایا جائے۔ اسی سلسلے میں ذیل کی آیات قرآنی ہیں : قل انما اعظکم بواحدۃ ان تقوموا للہ مثنیٰ و فرادیٰ ثم تتفکرواما بصاحبکم من جنۃ (کہہ دیجیے کہ میں تم کو ایک بات سمجھاتا ہوں کہ تم اللہ کے واسطے ایک ایک، دوددو ہو کر کھڑے ہو جائو پھر سوچو کہ تمہارے ساتھی کو جنون تو نہیں ہے) نیز : قال اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ اباء کم (اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے) نیز : اولم تاتھم بینۃ ما فی الصحف الاولیٰ (کیا ان کے پاس اس کا ظہور نہیں پہنچا جو کچھ اگلے صحیفوں میں ہے) نیز : افلا تعقلون (کیا تم نہیں سمجھتے ؟ ) نیز : فانی توفکون (تمہیں کہاں بہکایا جا رہا ہے) نیز : فانی تصرفون (تمہیں کہاں پھیرا جا رہا ہے) اور اسی طرح کی دیگر آیتیں جن میں لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے معاملے پر نیز آپ پر اللہ کی طر ف سے ظاہر کئے جانے والے ان دلائل پر غور و فکر کریں جو آپ کی سچائی نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا پتہ دیتے ہیں۔- پھر جب آپ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو آپ …

Al-Baqara 2:109Listen in Qur'an →
110

وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا۟ لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍۢ تَجِدُوهُ عِندَ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ

اور نماز ادا کرتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو۔ اور جو بھلائی اپنے لیے آگے بھیج رکھو گے، اس کو خدا کے ہاں پا لو گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

Explained together with ayah 109

Al-Baqara 2:110Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.