قول باری ہے : قل ان کانت لکم الدار الاخرۃ عند اللہ خالصۃ من دون الناس قسموا الموت ان کنتم صدقین (ان سے کہو کہ اگر واقعی اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لئے مخصوص ہے تب تو تمہیں چاہیے کہ موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو) روایت ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اگر یہود موت کی تمنا کرتے تو سب مرجاتے اور جہنم کے اندر اپنے اپنے ٹھکانے دیکھ لیتے اور اگر اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مباہلہ کرنے والے اپنے گھروں سے نکل آتے تو واپس جا کر نہ تو وہ اپنے اہل و عیال کو پاتے اور نہ ہی کوئی مال ملتا۔ “ حضرت ابن عباس نے فرمایا :” اگر یہ لوگ موت کی تمنا کرتے تو انہیں موت کا اچھو لگ جاتا اور وہ مرجاتے۔ “- موت کی تمنا کی تفسیر میں دو اقوال منقول ہیں۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ انہیں چیلنج دیا گیا کہ دونوں گروہوں (مسلمان اور یہودی) میں سے جو گروہ جھوٹا ہو اس کے خلاف وہ موت کی دعا کریں۔ ابوالعالیہ ، قتادہ اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ جب انہوں نے کہا کہ : جنت میں صرف وہی لوگ داخل ہو سکیں گے جو یہودی یا نصاریٰ ہوں گے۔ “ نیز : کہا کہ ” ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے احبا ہیں۔ “ تو ان سے کہا گیا کہ :” پھر متو کی تمنا کرو۔ “ اس لئے کہ جو لوگ مذکورہ بالا صفات سے موصوف ہوں ان کے لئے دنیا میں زندہ رہنے سے موت بہتر ہے۔ اس طرح درج بالا آیت دو معنوں کو متضمن ہے۔ ایک تو ان کے کذب کا اظہار اور انہیں اس کذب بیانی پر ڈانٹ اور دوم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر دلات۔ وہ اس طرح کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کے حکم سے انہیں یہ چیلنج اس طرح دیا تھا جس طرح آپ نے نصاریٰ کو مباہلہ کا چیلنج دیا تھا اگر انہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت اور پانی کذب بیانی کا علم نہ ہوتا تو یہ یہود متو کی تمنا کرنے میں تیزی دکھاتے اور نصاریٰ مباہلہ کرنے کے لئے دوڑ پڑتے، خاص طور پر جب کہ آپ نے دونوں گروہوں کو بتادیا تھا کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان پر موت اور عذاب کا نزول ہوجائے گا۔ اگر یہ لوگ موت کی تمنا کرتے اور مبالہ کے لئے نکل پڑتے اور پھر ان پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول کے مطابق عذاب نازل نہ ہوتا تو اس سے آپ کی تکذیب ہوجاتی اور آپ کی قائم کردہ حجت ختم ہوجاتی۔ لیکن انہوں نے آپ کی طرف سے مذکورہ چیلنج اور وعید کے باوجود موت کی تمنا کرنے اور مباہلہ کے لئے آنے سے گریز کیا، حالانکہ یہ کام ان کے لئے بڑا آسان تا، تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ انہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی صحت کا علم تھا اور یہ علم انہیں اپنی آسمانی کتابوں میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق مذکورہ بیانات و صفات سے حاصل ہوا تھا۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے : ولن یتمتوہ ابداً بما قدمت ایدیھم (یقین جانو کہ یہ کبھی اس کی تمنا نہ کریں گے، اس لئے کہ اپنے ہاتھوں سے جو کچھ کما کر انہوں نے وہاں بھیجا ہے اس کا اقتضا یہی ہے ) اس آیت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی صحت پر ایک اور دلالت موجود ہے۔ وہ یہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن کے الفاظ میں انہیں خبر دی کہ وہ موت کی تمنا نہیں کریں گے، حالانکہ وہ بڑی آسانی سے موت کی تمنا نہ اپنی زبانوں پر لاسکتے تھے۔- یہ بات اسی طرح ہے کہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں سے یہ فرماتے : میری نبوت کی صحت کی دلیل یہ ہے کہ تم میں سے کوئی شخص بھی اپنے اعضاء و جوارح کے صحیح و سالم ہونے کے باوجود اپنے سر کو ہاتھ نہیں لگا سکتا اور اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے سر کو ہاتھ لگا دے تو اپنا بطلان تسلیم کرلوں گا۔ “ اور پھر کوئی شخص اپنے سر کو ہاتھ نہ لگا سکے گا جبکہ تمام کے تمام مخاطبین کے دلوں میں آپ سے عداوت کی آگ بھڑک رہی تھی، اور سب کے سب آپ (صلی اللہ علیہ …