قَالَ هَٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِىٓ إِن كُنتُمْ فَٰعِلِينَ
(انہوں نے) کہا کہ اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یہ میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں (ان سے شادی کرلو)
Explained together with ayah 51
سُورَةُ الحِجۡرِ
Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi
Ayahs 71–80 of 99
قَالَ هَٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِىٓ إِن كُنتُمْ فَٰعِلِينَ
(انہوں نے) کہا کہ اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یہ میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں (ان سے شادی کرلو)
Explained together with ayah 51
لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِى سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ
(اے محمد) تمہاری جان کی قسم وہ اپنی مستی میں مدہوش (ہو رہے) تھے
معارف و مسائل :- رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خصوصی اعزازو اکرام :- قولہ لَعَمْرُكَ ۔ روح المعانی میں جمہور مفسرین کا قول یہ نقل کیا ہے کہ لَعَمْرُكَ کے مخاطب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی حیات کی قسم کھائی ہے بہیقی نے دلائل النبوۃ میں اور ابو نعیم وابن مردویہ وغیرہ نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات و کائنات میں کسی کو محمد مصطفے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ عزت و مرتبہ عطا نہیں فرمایا یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی پیغبر یا فرشتے کی حیات پر کبھی قسم نہیں کھائی اور اس آیت میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر وحیات کی قسم کھائی ہے جو آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتہائی اعزازو اکرام ہے۔- غیر اللہ کی قسم کھانا :- کسی انسان کے لئے جائز نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کے علاوہ کسی اور چیز کی قسم کھائے کیونکہ قسم اس کی کھائی جاتی ہے جس کو سب سے زیادہ بڑا سمجھا جائے اور ظاہر ہے سب سے زیادہ بڑا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہوسکتا ہے۔- حدیث میں ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اپنی ماؤں اور باپوں کی اور بتوں کی قسم نہ کھاؤ اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی قسم نہ کھاؤ اور اللہ تعالیٰ کی قسم بھی صرف اس وقت کھاؤ جب تم اپنے قول میں سچے ہو (رواہ ابو داؤد والنسائی عن ابی ہریرۃ)- اور صحیحین میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو دیکھا کہ اپنے باپ کی قسم کھا رہے ہیں تو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پکار کر فرمایا کہ خبردار رہو اللہ تعالیٰ باپوں کی قسم کھانے سے منع فرماتا ہے جس کو حلف کرنا ہو اللہ کے نام کا حلف کرے ورنہ خاموش رہے (قرطبی مائدہ)- لیکن یہ حکم مخلوقات کے لئے ہے اللہ جل شانہ خود اپنی مخلوقات میں سے مختلف چیزوں کی قسم کھاتے ہیں یہ ان کے لئے مخصوص ہے جس کا مقصد کسی خاص اعتبار سے روکنے کا جو سبب ہے وہ یہاں موجود نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں اس کا کوئی امکان نہیں کہ وہ اپنی کسی مخلوق کو سب سے بڑا اور افضل سمجھیں کیونکہ علی الاطلاق بڑائی تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے مخصوص ہے۔
فَأَخَذَتْهُمُ ٱلصَّيْحَةُ مُشْرِقِينَ
سو ان کو سورج نکلتے نکلتے چنگھاڑ نے آپکڑا
Explained together with ayah 72
فَجَعَلْنَا عَٰلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ حِجَارَةًۭ مِّن سِجِّيلٍ
اور ہم نے اس شہر کو (الٹ کر) نیچے اوپر کردیا۔ اور ان پر کھنگر کی پتھریاں برسائیں
Explained together with ayah 72
إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍۢ لِّلْمُتَوَسِّمِينَ
بےشک اس (قصے) میں اہل فراست کے لیے نشانی ہے
جن بستیوں پر عذاب ہوا ان سے عبرت حاصل کرنا چاہئے :- (آیت) اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِيْنَ وَاِنَّهَا لَبِسَبِيْلٍ مُّقِيْمٍ ۔ اس میں حق تعالیٰ نے ان بستیوں کا محل وقوع بیان فرمایا جو عرب سے شام تک جانے والے راستہ پر ہیں اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا کہ ان میں اہل بصیرت کے لئے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی بڑی نشانیاں ہیں۔- ایک دوسری آیت میں ان کے متعلق یہ بھی ارشاد ہوا ہے (آیت) لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِيْلًا یعنی یہ بستیاں عذاب الہی کے ذریعہ ویران ہونے کے بعد پھر دوبارہ آباد نہیں ہوئیں بجز چند بستیوں کے اس مجموعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ نے ان بستیوں اور ان کے مکانات کو آنے والی نسلوں کے لئے عبرت کا سامان بنایا ہے۔- یہی وجہ ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب ان مقامات سے گذرے ہیں تو آپ پر ہیبت حق کا ایک خاص حال ہوتا تھا جس سے سر مبارک جھک جاتا تھا اور آپ اپنی سواری کو ان مقامات میں تیز کر کے جلد عبور کرنے کی سعی فرماتے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس عمل نے یہ سنت قائم کردی کہ جن مقامات پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا ہے ان کو تماشا گاہ بنانا بڑی قساوت ہے بلکہ ان سے عبرت حاصل کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ وہاں پہنچ کر اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا استحضار اور اس کے عذاب کا خوف طاری ہو۔ - حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیاں جن کا تختہ الٹا گیا ہے قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق عرب سے شام کو جانے والے راستہ پر اردن کے علاقہ میں آج بھی یہ مقام سطح سمندر سے کافی گہرائی میں ایک عظیم صحرا کی صورت میں موجود ہے اس کے ایک بہت بڑے رقبہ پر ایک خاص قسم کا پانی دریا کی صورت اختیار کئے ہوئے ہے اس پانی میں کوئی مچھلی، مینڈک وغیرہ جانور زندہ نہیں رہ سکتا اس دریا کو میت اور بحر لوط کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور تحقیق سے معلوم ہوا کہ درحقیقت اس میں پانی کے اجزاء بہت کم اور تیل کی قسم کے اجزاء زیادہ ہیں اس لئے اس میں کوئی دریائی جانور زندہ نہیں رہ سکتا
وَإِنَّهَا لَبِسَبِيلٍۢ مُّقِيمٍ
اور وہ (شہر) اب تک سیدھے رستے پر (موجود) ہے
Explained together with ayah 75
إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةًۭ لِّلْمُؤْمِنِينَ
بےشک اس میں ایمان لانے والوں کے لیے نشانی ہے
آج کل آثار قدیمہ کے محکمہ نے کچھ رہائشی عمارتیں ہوٹل وغیرہ بھی بنا دئیے ہیں اور آخرت سے غافل مادہ پرست طبیعتوں نے آج کل اس کو ایک سیر گاہ بنایا ہوا ہے لوگ تماشے کے طور پر اسے دیکھنے جاتے ہیں قرآن کریم نے اسی غفلت شعاری پر تنبیہ کیلئے آخر میں فرمایا (آیت) اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلْمُؤ ْمِنِيْنَ یعنی درحقیقت تو یہ واقعات و مقامات ہر چشم بصیرت رکھنے والے کیلئے عبرت آموز ہیں لیکن اس عبرت سے فائدہ اٹھانے والے مؤمنین ہی ہوتے ہیں دوسرے لوگ ان مقامات کو ایک تماشائی کی حیثیت سے دیکھ کر روانہ ہوجاتے ہیں۔
وَإِن كَانَ أَصْحَٰبُ ٱلْأَيْكَةِ لَظَٰلِمِينَ
اور بَن کے رہنے والے (یعنی قوم شعیب کے لوگ) بھی گنہگار تھے
خلاصہ تفسیر :- قصہ اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر :- اور بن والے (یعنی شعیب (علیہ السلام) کی امت بھی) بڑے ظالم تھے سو ہم نے ان سے (بھی) بدلہ لیا (اور ان کو عذاب سے ہلاک کیا) اور دونوں (قوم کی) بستیاں صاف سڑک پر (واقع) ہیں (اور شام کو جاتے ہوئے راہ میں نظر آتی ہیں) اور حجر (بکسرحاء) والوں نے (بھی) پیغمبروں کو جھوٹا بتلایا (کیونکہ جب صالح (علیہ السلام) کو جھوٹا کہا اور سب پیغمبروں کا اصل دین ایک ہی ہے تو گویا سب کو جھوٹا بتلایا) اور ہم نے ان کو اپنی (طرف سے) نشانیاں دیں (جس سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی نبوت ثابت ہوتی تھی مثلا دلائل توحید اور ناقہ کہ معجزہ صالح (علیہ السلام) کا تھا) سو وہ لوگ ان (نشانیوں) سے روگردانی (ہی) کرتے رہے اور وہ لوگ پہاڑوں کو تراش تراش کر ان میں گھر بناتے تھے کہ (ان میں سب آفات سے) امن میں رہیں سو ان کو صبح کے وقت (خواہ اول ہی صبح میں یا دن چڑھے علی الاحتمالین) آواز سخت نے آپکڑا سو ان کے (دنیوی) ہنر ان کے کچھ بھی کام نہ آئے (ان ہی مستحکم گھروں میں عذاب سے کام تمام ہوگیا اس آفت سے ان کے گھروں نے نہ بچایا بلکہ اس آفت کا ان کو احتمال بھی نہ تھا اور اگر ہوتا بھی تو کیا کرتے)- معارف و مسائل :- آیکہ بن یعنی گھنے جنگل کو کہتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ مدین کے پاس ایک بن تھا اس لئے آیکہ اصحاب مدین ہی کا لقب ہے بعض نے کہا ہے کہ اصحاب آیکہ اور اصحاب مدین دو علیحدہ علیحدہ قومیں تھیں ایک قوم کی ہلاکت کے بعد شعیب (علیہ السلام) دوسری قوم کی طرف مبعوث ہوئے - تفسیر روح المعانی میں ابن عساکر کے حوالہ سے یہ مرفوع حدیث نقل کی گئی ہے کہ (ان مدین واصحاب الایکۃ امتان بعث اللہ تعالیٰ الہیما شعیبا واللہ اعلم۔ )- اور حجر ایک وادی ہے جو حجاز وشام کے درمیان واقع ہے اس میں قوم ثمود آباد تھی۔- شروع سورت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کفار مکہ کو جو شدید عناد و مخالفت تھی اس کا بیان تھا اس کے ساتھ اجمالا آپ کی تسلی کا مضمون بھی ذکر کیا تھا اب ختم سورت پر اسی عناد و مخالفت کے بارے میں آپ کی تسلی کے لئے تفصیلی مضمون بیان کیا جارہا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے - بقیہ خلاصہ تفسیر :- اور (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان لوگوں کے عناد و خلاف سے غم نہ کیجئے کیونکہ اس کا ایک روز فیصلہ ہونے والا ہے اور وہ روز قیامت ہے جس کی آمد کے متعلق ہم آپ سے تذکرہ کرتے ہیں کہ) ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے درمیانی چیزوں کو بغیر مصلحت کے پیدا نہیں کیا (بلکہ اس مصلحت سے پیدا کیا کہ ان کو دیکھ کر صانع عالم کے وجود اور وحدت و عظمت پر استدلال کرکے اس کے احکام کی اطاعت کریں اور بعد اقامت اس حجت کے جو ایسا نہ کرے وہ معذب ہو) اور) دنیا میں پورا عذاب ہوتا نہیں تو اور کہیں ہونا چاہئے اس کے لئے قیامت مقرر ہے پس) ضرور قیامت آنے والی ہے (وہاں سب کو بھگتایا جائے گا) سو آپ (کچھ غم نہ کیجئے بلکہ) خوبی کے ساتھ (ان کی شرارتوں سے) درگذر کیجئے (درگذر کا مطلب یہ ہے کہ اس غم میں نہ پڑئیے اس کا خیال نہ کیجئے اور خوبی یہ کہ شکوہ و شکایت بھی نہ کیجئے کیونکہ) بلاشبہ آپ کا رب (چونکہ) بڑا خالق (ہے اس سے ثابت ہوا کہ) بڑا عالم (بھی) ہے (سب کا حال اس کو معلوم ہے آپ کے صبر کا بھی ان کی شرارت کا بھی اس لئے ان سے پورا پورا بدلہ لے لے گا )
فَٱنتَقَمْنَا مِنْهُمْ وَإِنَّهُمَا لَبِإِمَامٍۢ مُّبِينٍۢ
تو ہم نے ان سے بھی بدلہ لیا۔ اور یہ دونوں شہر کھلے رستے پر (موجود) ہیں
Explained together with ayah 78
وَلَقَدْ كَذَّبَ أَصْحَٰبُ ٱلْحِجْرِ ٱلْمُرْسَلِينَ
اور (وادی) حجر کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی
Explained together with ayah 78
Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.