Muslim99Muslim99
← Tafsir library

16. An-Nahl

The Bee · Meccan · 128 ayahs

سُورَةُ النَّحۡلِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 1–10 of 128

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

أَتَىٰٓ أَمْرُ ٱللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ ۚ سُبْحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ

خدا کا حکم (یعنی عذاب گویا) آ ہی پہنچا تو (کافرو) اس کے لیے جلدی مت کرو۔ یہ لوگ جو (خدا کا) شریک بناتے ہیں وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے

خلاصہ تفسیر :- اس سورة کا نام سورة نحل اس مناسبت سے رکھا گیا ہے کہ اس میں نحل یعنی شہد کی مکھیوں کا ذکر قدرت کی عجیب و غریب صنعت کے بیان کے سلسلے میں ہوا ہے اس کا دوسرا نام سورة نعم بھی ہے (قرطبی) نعم بکسر نون نعمت کی جمع ہے اس لئے کہ اس سورة میں خاص طور پر اللہ جل شانہ کی عظیم نعمتوں کا ذکر ہے۔- خدا تعالیٰ کا حکم (یعنی سزائے کفر کا وقت قریب) آپہنچا سو تم اس میں (منکرانہ) جلدی مت مچاؤ (بلکہ توحید اختیار کرو اور اس کی حقیقت سنو کہ) وہ لوگوں کے شرک سے پاک اور برتر ہے وہ اللہ تعالیٰ فرشتوں (کی جنس یعنی جبرئیل) کو وحی یعنی اپنا حکم دے کر اپنے بندوں میں جس پر چاہیں (یعنی انبیاء (علیہم السلام) پر) نازل فرماتے ہیں (اور وہ حکم) یہ (ہے) کہ لوگوں کو خبردار کردو کہ میرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں سو مجھ سے ہی ڈرتے رہو (یعنی میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ورنہ سزا ہوگی )- معارف و مسائل :- اس سورة کو بغیر کسی خاص تمہید کے ایک شدید وعید اور ہیبت ناک عنوان سے شروع کیا گیا جس کی وجہ مشرکین کا یہ کہنا تھا کہ محمد (مصطفے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں قیامت سے اور اللہ کے عذاب سے ڈراتے رہتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غالب کرنے اور مخالفوں کو سزا دینے کا وعدہ کیا ہے ہمیں تو یہ کچھ ہوتا نظر نہیں آتا اس کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ آپہنچا حکم اللہ کا تم جلد بازی نہ کرو۔ - حکم اللہ سے اس جگہ مراد وہ وعدہ ہے جو اللہ نے اپنے رسول سے کیا ہے کہ ان کے دشمنوں کو زیر و مغلوب کیا جاوے گا اور مسلمانوں کو فتح ونصرت اور عزت و شوکت حاصل ہوگی اس آیت میں حق تعالیٰ نے ہیبت ناک لہجہ میں ارشاد فرمایا کہ حکم اللہ کا آپہنچا یعنی پہنچنے ہی والا ہے جس کو تم عنقریب دیکھ لو گے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس میں حکم اللہ سے مراد قیامت ہے اس کے آ پہنچنے کا مطلب بھی یہی ہے کہ اس کا وقوع قریب ہے اور پوری دنیا کی عمر کے اعتبار سے دیکھا جائے تو قیامت کا قریب ہونا یا آ پہنچنا بھی کچھ بعید نہیں رہتا (بحر محیط)- اس کے بعد کے جملے میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شرک سے پاک ہے اس سے مراد یہ ہے کہ یہ لوگ جو حق تعالیٰ کے وعدہ کو غلط قرار دے رہے ہیں یہ کفر و شرک ہے اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہیں (بحر)- اس آیت کا خلاصہ ایک وعید شدید کے ذریعہ توحید کی دعوت دینا ہے دوسری آیت میں دلیل نقلی سے توحید کا اثبات ہے کہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک دنیا کے مختلف خطوں مختلف زمانوں میں جو بھی رسول آیا ہے اس نے یہی عقیدہ توحید پیش کیا ہے حالانکہ ایک کو دوسرے کے حال اور تعلیم کی بظاہر اسباب کوئی اطلاع بھی نہ تھی غور کرو کہ کم از کم ایک لاکھ بیس ہزار حضرات عقلاء جو مختلف اوقات میں مختلف ملکوں مختلف خطوں میں پیدا ہوں اور وہ سب ایک ہی بات کے قائل ہوں تو فطرۃ انسان یہ سمجھنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ یہ بات غلط نہیں ہو سکتی ایمان لانے کے لئے تنہا یہ دلیل بھی کافی ہے۔- لفظ روح سے مراد اس آیت میں بقول ابن عباس اور بقول بعض مفسرین ہدایت ہے (بحر) اس آیت میں توحید کا روایتی اور نقلی ثبوت پیش کرنیکے بعد اگلی آیتوں میں اسی عقیدہ توحید کو عقلی طور سے حق تعالیٰ کی نعمتیں پیش نظر کر کے ثابت کیا جاتا ہے۔

2

يُنَزِّلُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ بِٱلرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦٓ أَنْ أَنذِرُوٓا۟ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱتَّقُونِ

وہی فرشتوں کو پیغام دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ (لوگوں کو) بتادو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی سے ڈرو

Explained together with ayah 1

3

خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ بِٱلْحَقِّ ۚ تَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ

اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی برحکمت پیدا کیا۔ اس کی ذات ان (کافروں) کے شرک سے اونچی ہے

لغات کی تشریح :- خصیم خصومت سے مشتق ہے بمعنی جھگڑا لو انعام، نعم (بفتح نون) کی جمع ہے چوپایوں میں سے اونٹ، بکری گائے کو کہا جاتا ہے (مفردات راغب)- دف گرمی اور گرمائی حاصل کرنے کی چیز مراد اون ہے جس کے گرم کپڑے بنائے جاتے ہیں تریحون رواح سے اور تسرحون سراح سے مشتق ہے چوپائے جانوروں کے صبح کے وقت چراگاہ کی طرف جانے کو سراح اور شام کو گھر میں واپس آنے کو رواح کہا جاتا ہے شق الانفس جان کی محنت ومشقت۔- خلاصہ تفسیر :- (اللہ تعالیٰ نے) آسمانوں کو اور زمین کو حکمت سے بنایا وہ ان کے شرک سے پاک ہے (اور) انسان کو نطفہ سے بنایا پھر وہ اچانک کھلم کھلا (خدا ہی کی ذات وصفات میں) جھگڑنے لگا (یعنی بعض ایسے بھی ہوئے مطلب یہ ہے کہ ہماری یہ نعمتیں اور انسان کی طرف سے ناشکری) اور اسی نے چوپایوں کو بنایا ان میں تمہارے جاڑے کا بھی سامان ہے (جانوروں کی بال اور کھال سے انسان کے پوستین اور کپڑے بنتے ہیں) اور بھی بہت سے فائدے ہیں (دودھ سواری باربرداری وغیرہ) اور ان میں (جو کھانے کے قابل ہیں ان کو) کھاتے بھی ہو اور ان کی وجہ سے تمہاری رونق بھی ہے جب کہ شام کے وقت (جنگل سے گھر) لاتے ہو اور جب کہ صبح کے وقت (گھر سے جنگل کو) چھوڑ دیتے ہو اور وہ تمہارے بوجھ بھی (لاد کر) ایسے شہر کو لے جاتے ہیں جہاں تم بدون جان کو محنت میں ڈالے ہوئے نہیں پہنچ سکتے واقعی تمہارا رب بڑی شفقت و رحمت والا ہے (کہ تمہارے آرام کے لئے کیا کیا سامان پیدا کئے) اور گھوڑے اور خچر اور گدھے بھی پیدا کئے تاکہ ان پر سوار ہو اور نیز زینت کے لئے بھی اور وہ ایسی ایسی چیزیں (تمہاری سواری وغیرہ کے لئے) بناتا ہے جن کی تم کو خبر بھی نہیں۔

4

خَلَقَ ٱلْإِنسَٰنَ مِن نُّطْفَةٍۢ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌۭ مُّبِينٌۭ

اسی نے انسان کو نطفے سے بنایا مگر وہ اس (خالق) کے بارے میں علانیہ جھگڑنے لگا

معارف و مسائل :- ان آیتوں میں تخلیق کائنات کی عظیم نشانیوں سے حق تعالیٰ کی توحید کا اثبات ہے اول تو سب سے پہلی مخلوق آسمان اور زمین کا ذکر فرمایا اس کے بعد تخلیق انسان کا ذکر فرمایا جس کو اللہ تعالیٰ نے مخدوم کائنات بنایا ہے انسان کی ابتداء ایک حقیر نطفے سے ہونا بیان کر کے فرمایا (آیت) فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ یعنی جب اس ضعیف الخلقت انسان کو طاقت اور قوت گویائی عطا ہوئی تو خدا ہی کی ذات وصفات میں جھگڑے نکالنے لگا۔

5

وَٱلْأَنْعَٰمَ خَلَقَهَا ۗ لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌۭ وَمَنَٰفِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ

اور چارپایوں کو بھی اسی نے پیدا کیا۔ ان میں تمہارے لیے جڑاول اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو

انسان کی بعد ان اشیاء کی تخیلق کا ذکر فرمایا جو انسان کے فائدے کے لئے خصوصی طور پر بنائی گئی ہیں اور قرآن کے سب سے پہلے مخاطب چونکہ عرب تھے اور عرب کی معیشت کا بڑا مدار پالتو چوپاؤں اونٹ گائے بکری پر تھا اس لئے پہلے ان کو ذکر فرمایا والْاَنْعَامَ خَلَقَهَا پھر انعام سے جو فوائد انسان کو حاصل ہوتے ہیں ان میں سے دو فائدے خاص طور سے بیان کردیئے ایک۔ ۚ لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ یعنی ان جانوروں کے اون سے انسان اپنے کپڑے اور کھال سے پوستین اور ٹوپیاں وغیرہ تیار کرکے جاڑے کے موسم میں گرمائی حاصل کرتا ہے۔- دوسرا فائدہ وَمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ یعنی انسان ان جانوروں کو ذبح کر کے اپنی خوراک بھی بنا سکتا ہے اور جب تک زندہ ہے ان کے دودھ سے اپنی بہترین غذا پیدا کرتا ہے دودھ دہی مکھن گھی اور ان سے بننے والی تمام اشیاء اس میں داخل ہیں۔- اور باقی عام فوائد کے لئے فرما دیا وَمَنَافِعُ یعنی بیشمار منافع اور فوائد انسان کے جانوروں کے گوشت چمڑے، ہڈی اور بالوں سے وابستہ ہیں اس ابہام و اجمال میں ان سب نئی سے نئی ایجادات کی طرف بھی اشارہ ہے جو حیوانی اجزاء سے انسان کی غذاء لباس دواء استعمالی اشیاء کے لئے اب تک ایجاد ہوچکی ہیں یا آئندہ قیامت تک ہوں گی - اس کے بعد ان چوپایہ جانوروں کا ایک اور فائدہ عرب کے مذاق کے مطابق یہ بیان کیا گیا کہ وہ تمہارے لئے جمال اور رونق کا ذریعہ ہیں خصوصا جب وہ شام کو چراگاہوں سے تمہارے مویشی خانوں کی طرف آتے ہیں یا صبح کو گھروں سے چراگاہوں کی طرف جاتے ہیں کیونکہ اس وقت مویشی سے ان کے مالکان کی خاص شان و شوکت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔- آخر میں ان جانوروں کا ایک اور اہم فائدہ یہ بیان کیا کہ یہ جانور تمہارے بوجھل سامان دور دراز شہروں تک پہنچا دیتے ہیں جہاں تمہاری اور تمہارے سامان کی رسائی جان جوکھوں میں ڈالے بغیر ممکن نہ تھی اونٹ اور بیل خاص طور سے انسان کی یہ خدمت بڑے پیمانے پر انجام دیتے ہیں آج ریل گاڑیوں ٹرکوں ہوائی جہازوں کے زمانے میں بھی انسان ان جانوروں سے مستغنی نہیں کتنے مقامات دنیا میں ایسے ہیں جہاں یہ تمام نو ایجاد سواریاں بار برداری کا کام نہیں دے سکتیں وہاں پھر انہی کی خدمات حاصل کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔- وَالْاَنْعَام یعنی اونٹ اور بیل وغیرہ کی بار برداری کا ذکر آیا تو اس کے بعد ان چوپایہ جانوروں کا ذکر بھی مناسب معلوم ہوا جن کی تخلیق ہی سواری اور بار برداری کے لئے ہے ان کے دودھ یا گوشت سے انسان کا فائدہ متعلق نہیں کیونکہ از روئے شرع وہ اخلاقی بیماریوں کا سبب ہونے کی وجہ سے ممنوع ہیں

6

وَلَكُمْ فِيهَا جَمَالٌ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِينَ تَسْرَحُونَ

اور جب شام کو انہیں (جنگل سے) لاتے ہو اور جب صبح کو (جنگل) چرانے لے جاتے ہو تو ان سے تمہاری عزت وشان ہے

Explained together with ayah 5

7

وَتَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ إِلَىٰ بَلَدٍۢ لَّمْ تَكُونُوا۟ بَٰلِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ ٱلْأَنفُسِ ۚ إِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور (دور دراز) شہروں میں جہاں تم زحمتِ شاقّہ کے بغیر پہنچ نہیں سکتے وہ تمہارے بوجھ اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار نہایت شفقت والا اور مہربان ہے

Explained together with ayah 5

8

وَٱلْخَيْلَ وَٱلْبِغَالَ وَٱلْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةًۭ ۚ وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ

اور اسی نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور (وہ تمہارے لیے) رونق وزینت (بھی ہیں) اور وہ (اور چیزیں بھی) پیدا کرتا ہے جن کی تم کو خبر نہیں

(آیت) وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَزِيْنَةً یعنی ہم نے گھوڑے خچر گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو سکو اس میں بار برداری بھی ضمنا آگئی اور ان کو اس لئے بھی پیدا کیا کہ یہ تمہارے لئے زینت بنیں زینت سے وہی شان و شوکت مراد ہے جو عرفا ان جانوروں کے مالکان کو دنیا میں حاصل ہوتی ہے۔- قرآن میں ریل موٹر ہوائی جہاز کا ذکر :- آخر میں سواری کے تین جانور گھوڑے خچر گدھے کا خاص طور سے بیان کرنے کے بعد دوسری قسم کی سواریوں کے متعلق بصیغہ استقبال فرمایا۔- (آیت) وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ یعنی اللہ تعالیٰ پیدا کرے گا وہ چیزیں جن کو تم نہیں جانتے اس میں وہ تمام نو ایجاد سواری گاڑیاں بھی داخل ہیں جن کا زمانہ قدیم میں نہ وجود تھا نہ کوئی تصور مثلا ریل، موٹر، ہوائی جہاز وغیرہ جو اب تک ایجاد ہوچکے ہیں وہ تمام چیزیں بھی اس میں داخل ہیں جو آئندہ زمانے میں ایجاد ہوں گی کیونکہ تخلیق ان سب چیزوں کی درحقیقت خالق مطلق ہی کا فعل ہے سائنس قدیم وجدید کا اس میں صرف اتنا ہی کام ہے کہ مختلف کل پرزے بنا لے اور پھر اس میں قدرت الہیہ کی بخشی ہوئی ہوا پانی آگ وغیرہ سے برقی رو پیدا کرلے یا قدرت ہی کے دیئے ہوئے خزانوں میں سے پیڑول نکال کر ان سواریوں میں استعمال کرے سائنس قدیم وجدید مل کر بھی نہ کوئی لوہا پیتل پیدا کرسکتی ہے نہ ایلومونیم قسم کی ہلکی دھاتیں بنا سکتی ہے نہ لکڑی پیدا کرسکتی ہے نہ ہوا اور پانی پیدا کرنا اس کے بس میں ہے اس کا کام اس سے زائد نہیں کہ قدرت الہیہ کی پیدا کی ہوئی قوتوں کا استعمال سیکھ لے دنیا کی ساری ایجادات صرف اسی استعمال کی تفصیل ہیں اس لئے جب ذرا بھی کوئی غور وفکر سے کام لے تو ان سے نئی ایجادات کو تخلیق خالق مطلق کہنے اور تسلیم کرنے کے سوا چارہ نہیں - یہاں یہ بات خاص طور سے قابل نظر ہے کہ پچھلی تمام اشیاء کی تخلیق میں لفظ ماضی خلق استعمال فرمایا گیا ہے اور معروف سواریوں کا ذکر کرنے کے بعد بصیغہ مستقبل یخلق ارشاد ہوا ہے اس تعبیر عنوان سے واضح ہوگیا کہ یہ لفظ ان سواریوں اور دوسری اشیاء کے متعلق ہے جو ابھی معرض وجود میں نہیں آئیں اور اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ اگلے زمانے میں کیا کیا سواریاں اور دوسری اشیاء پیدا کرنا ہیں ان کا اظہار اس مختصر جملے میں فرما دیا۔- حق جل شانہ یہ بھی کرسکتے تھے کہ آئندہ وجود میں آنے والی تمام نئی ایجادات کا نام لے کر ذکر فرما دیتے مگر اس زمانے میں اگر ریل، موٹر طیارہ وغیرہ کے الفاظ ذکر بھی کردیئے جاتے تو اس سے بجز تشویش ذہن کے کوئی فائدہ نہ ہوتا کیونکہ ان اشیاء کا اس وقت تصور کرنا بھی لوگوں کے لئے آسان نہ تھا اور نہ یہ الفاظ ان چیزوں کے لئے اس وقت کہیں مستعمل ہوتے تھے کہ اس سے کچھ مفہوم سمجھا جاسکے۔- میرے والد ماجد حضرت مولانا محمد یسین صاحب نے فرمایا کہ ہمارے استاذ استاذ الکل حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتوی فرمایا کرتے تھے کہ قرآن کریم میں ریل کا ذکر موجود ہے اور اسی آیت سے استدلال فرمایا اس وقت تک موٹریں عام نہ ہوئی تھیں اور ہوائی جہاز ایجاد نہ ہوئے تھے اس لئے ریل کے ذکر پر اکتفاء فرمایا۔- مسئلہ : قرآن کریم نے اول انعام یعنی اونٹ گائے، بکری کا ذکر فرمایا اور ان کے فوائد میں سے ایک اہم فائدہ ان کا گوشت کھانا بھی قرار دیا پھر اس سے الگ کر کے فرمایا۔- وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيْرَ ان کے فوائد میں سواری لینے اور ان سے اپنی زینت حاصل کرنے کا تو ذکر کیا مگر گوشت کھانے کا یہاں ذکر نہیں کیا اس میں یہ دلالت پائی جاتی ہے کہ گھوڑے، خچر، گدھے کا گوشت حلال نہیں خچر اور گدھے کا گوشت حرام ہونے پر تو جمہور فقہاء کا اتفاق ہے اور ایک مستقل حدیث میں ان کی حرمت کا صراحۃ بھی ذکر آیا ہے مگر گھوڑے کے معاملہ میں حدیث کی دو روایتیں متعارض آئی ہیں ایک سے حلال اور دوسری سے حرام ہونا معلوم ہوتا ہے …

9

وَعَلَى ٱللَّهِ قَصْدُ ٱلسَّبِيلِ وَمِنْهَا جَآئِرٌۭ ۚ وَلَوْ شَآءَ لَهَدَىٰكُمْ أَجْمَعِينَ

اور سیدھا رستہ تو خدا تک جا پہنچتا ہے۔ اور بعض رستے ٹیڑھے ہیں (وہ اس تک نہیں پہنچتے) اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو سیدھے رستے پر چلا دیتا

خلاصہ تفسیر :- اور (دلائل مذکورہ سابقہ ولاحقہ سے جو) سیدھا راستہ (دین کا ثابت ہوتا ہے وہ خاص) اللہ تک پہنچتا ہے اور بعض رستے (جو کہ دین کے خلاف ہیں) ٹیڑھے بھی ہیں (کہ ان سے اللہ تک رسائی ممکن نہیں پس بعض تو سیدھے رستہ پر چلتے ہیں اور بعض ٹیڑھے پر) اور اگر خدا چاہتا تو تم سب کو (منزل) مقصود تک پہنچا دیتا (مگر وہ اسی کو پہنچاتے ہیں جو صراط مستقیم کا طالب بھی ہو (آیت) وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّهُمْ سُـبُلَنَا اس لئے تم کو چاہئے کہ دلائل میں غور کرو اور ان سے حق کو طلب کرو کہ تم کو منزل مقصود تک رسائی عطا ہو)- معارف و مسائل :- ان آیات میں اللہ جل شانہ کی عظیم الشان نعمتوں کا ذکر فرما کر توحید کے عقلی دلائل جمع کئے گئے آگے بھی ان نعمتوں کا ذکر ہے درمیان میں یہ آیت بطور جملہ معترضہ کے اس بات پر تنبیہ کرنے کے لئے لائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ قدیمہ کی بناء پر اپنے ذمہ لے لیا ہے کہ لوگوں کے کئے وہ صراط مستقیم واضح کر دے جو اللہ تک پہنچانے والا ہے اسی لئے نعماء الہیہ کو پیش کرکے اللہ تعالیٰ کے وجود اور توحید کے دلائل جمع کئے جا رہے ہیں۔- لیکن اس کے برخلاف کچھ لوگوں نے دوسرے ٹیڑھے راستہ پر مجبور کر کے ڈال دیں تو ان کے اختیار میں تھا مگر حکمت و مصلحت کا تقاضا یہ تھا کہ جبر نہ کیا جائے دونوں راستے سامنے کردیئے جائیں چلنے والا جس راستہ پر چلنا چاہئے چلا جائے صراط مستقیم اللہ تعالیٰ اور جنت تک پہونچائے گا اور ٹیڑھے راستے پر جہنم پر پہونچائیں گے انسان کو اختیار دے دیا کہ جس کو چاہے انتخاب کرلے۔

10

هُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ ۖ لَّكُم مِّنْهُ شَرَابٌۭ وَمِنْهُ شَجَرٌۭ فِيهِ تُسِيمُونَ

وہی تو ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جسے تم پیتے ہو اور اس سے درخت بھی (شاداب ہوتے ہیں) جن میں تم اپنے چارپایوں کو چراتے ہو

خلاصہ تفسیر :- وہ (اللہ) ایسا ہے جس نے تمہارے (فائدہ کے) واسطے آسمان سے پانی برسایا جس سے تم کو پینے کو ملتا ہے اور جس (کے سبب) سے درخت (پیدا ہوتے) ہیں جن میں تم (اپنے مواشی کو) چرنے دیتے ہو (اور) اس (پانی) سے تمہارے (فائدے کے) لئے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل (زمین سے) اگاتا ہے بیشک اس (مذکور) میں سوچنے والوں کے لئے (توحید کی) دلیل (موجود) ہے اور اس (اللہ) نے تمہارے (فائدہ کے) لئے رات اور دن اور سورج اور چاند کو (اپنا) مسخر (قدرت) بنایا اور (اسی طرح اور) ستارے (بھی) اس کے حکم سے مسخر (قدرت) ہیں بیشک اس (مذکور) میں (بھی) عقلمند لوگوں کے لئے (توحید کی) چند دلیلیں (موجود) ہیں اور (اسی طرح) ان چیزوں کو بھی مسخر (قدرت) بنایا جن کو تمہارے (فائدہ کیلئے) اس طور پر پیدا کیا ہے کہ ان کے اقسام (یعنی اجناس و انواع واصناف) مختلف ہیں (اس میں تمام حیوانات و نباتات و جمادات مفردات ومرکبات داخل ہوگئے) بیشک اس (مذکور) میں (بھی) سمجھدار لوگوں کے لئے (توحید کی) دلیل (موجود) ہے اور وہ (اللہ) ایسا ہے کہ اس نے دریا کو (بھی) مسخر (قدرت) بنایا تاکہ اس میں سے تازہ تازہ گوشت (یعنی مچھلی نکال نکال کر) کھاؤ اور (تاکہ) اس میں سے (موتیوں کا) گہنا نکالو جس کو تم (مرد و عورت سب) پہنتے ہو اور (اے مخاطب اس دریا کا ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ) تو کشتیوں کو (خواہ چھوٹی ہوں یا بڑی جیسے بڑے جہاز تو ان کو) دیکھتا ہے کہ اس (دریا) میں (اس کا) پانی چیرتی ہوئی چلی جا رہی ہیں اور (نیز اس لئے دریا کو مسخر قدرت بنایا) تاکہ تم (اس میں مال تجارت لے کر سفر کرو اور اس کے ذریعہ سے) خدا کی روزی تلاش کرو اور تاکہ (ان سب فائدوں کو دیکھ کر اس کا) شکر (ادا) کرو اور اس نے زمین میں پہاڑ رکھ دئیے تاکہ وہ (زمین) تم کو لے کر ڈگمگانے (اور ہلنے) نہ لگے اور اس نے (چھوٹی چھوٹی) نہریں اور رستے بنائے تاکہ (ان رستوں کے ذریعہ سے اپنی) منزل مقصود تک پہنچ سکو اور (ان رستوں کی پہچان کے لئے) بہت سی نشانیاں بنائیں (جیسے پہاڑ درخت تعمیرات وغیرہ جن سے رستہ پہچانا جاتا ہے ورنہ اگر تمام زمین کی سطح یکساں حالت پر ہوتی تو رستہ ہرگز نہ پہچانا جاتا) اور ستاروں سے بھی لوگ رستہ معلوم کرتے ہیں (چنانچہ ظاہر و معلوم ہے)- معارف و مسائل :- مِنْهُ شَجَـرٌ فِيْهِ تُسِيْمُوْنَ لفظ شجر اکثر درخت کے لئے بولا جاتا ہے جو ساق یعنی تنے پر کھڑا ہوتا ہے اور کبھی مطلق زمین سے اگنے والی ہر چیز کو بھی شجر کہتے ہیں گھاس اور بیل وغیرہ بھی اس میں داخل ہوتی ہیں اس آیت میں یہی معنی مراد ہیں کیونکہ آگے جانوروں کے چرانے کا ذکر ہے اس کا تعلق زیادہ تر گھاس ہی سے ہے۔- تُسِيْمُوْنَ اسامت سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں جانور کو چراگاہ میں چرنے کیلئے چھوڑنا

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.