Muslim99Muslim99
← Tafsir library

17. Al-Israa

The Night Journey · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ الإِسۡرَاءِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 1–10 of 111

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

سُبْحَٰنَ ٱلَّذِىٓ أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِۦ لَيْلًۭا مِّنَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ إِلَى ٱلْمَسْجِدِ ٱلْأَقْصَا ٱلَّذِى بَٰرَكْنَا حَوْلَهُۥ لِنُرِيَهُۥ مِنْ ءَايَٰتِنَآ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْبَصِيرُ

وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجدالحرام یعنی (خانہٴ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں۔ بےشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے

خلاصہ تفسیر :- وہ ذات پاک ہے جو اپنے بندہ (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شب کے وقت مسجد حرام (یعنی مسجد کعبہ) سے مسجداقصی (یعنی بیت المقدس) تک جس کے آس پاس (کہ ملک شام ہے) ہم نے (دینی اور دنیوی) برکتیں کر رکھی ہیں (دینی برکت یہ ہے کہ وہاں بکثرت انبیاء (علیہم السلام) مدفون ہیں اور دنیوی برکت یہ ہے کہ وہاں باغات اور نہروں چشموں اور پیداوار کی کثرت ہے غرض اس مسجد اقصی تک عجیب طور پر اس واسطے) لے گیا تاکہ ہم ان کو اپنے کچھ عجائبات قدرت دکھلا دیں (جن میں بعض تو خود وہاں کے متعلق ہیں مثلا اتنی بڑی مسافت کو بہت تھوڑے سے وقت میں طے کرلینا اور سب انبیاء (علیہم السلام) سے ملاقات کرنا اور ان کی باتیں سننا وغیرہ اور بعض آگے کے متعلق ہیں مثلا آسمانوں پر جانا اور وہاں عجائبات کا مشاہدہ کرنا) بیشک اللہ تعالیٰ بڑے سننے والے بڑے دیکھنے والے ہیں (چونکہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اقوال کو سنتے اور احوال کو دیکھتے تھے اس کے مناسب ان کو یہ خاص امتیاز اور اعزاز بخشا اور اپنے قرب خاص کا وہ مقام عطا کیا جو کسی کو نہیں ملا)- معارف و مسائل :- اس آیت میں واقعہ معراج کا بیان ہے جو ہمارے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک خصوصی اعزاز اور امتیازی معجزہ ہے لفظ اَسْرٰى اسراء سے مشتق ہے جس کے لغوی معنی رات کو لے جانا ہیں اس کے بعد لَيْلًا کے لفظ سے صراحۃ بھی اس مفہوم کو واضح کردیا اور لفظ لَيْلًا کے نکرہ لانے اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ اس تمام واقعہ میں پوری رات بھی صرف نہیں بلکہ رات کا ایک حصہ صرف ہوا ہے مسجد حرام سے مسجد اقصی تک کا سفر جس کا ذکر اس آیت میں ہے اس کو اسراء کہتے ہیں اور یہاں سے جو سفر آسمانوں کی طرف ہوا اس کا نام معراج ہے اسراء اس آیت کی نص قطعی سے ثابت ہے اور معراج کا ذکر سورة نجم کی آیات میں ہے اور احادیث متواترہ سے ثابت ہے بِعَبْدِهٖ اس مقام اعزازو اکرام میں لفظ بِعَبْدِهٖ ایک خاص محبوبیت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ حق تعالیٰ کس کو خود فرما دیں کہ یہ میرا بندہ ہے اس سے بڑھ کر کسی بشر کا بڑا اعزاز نہیں ہوسکتا حضرت حسن دہلوی نے خوب فرمایا۔- بندہ حسن بصد زبان گفت کہ بندہ توام تو بزبان خود بگوبندہ نواز کیستی - یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک دوسری آیت میں (آیت) عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ الَّذِین الخ فرما کر اپنے مقبولان بارگاہ کا اعزاز بڑھانا مقصود ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انسان کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ اللہ کا عبد کامل بن جائے اس لئے کہ خصوصی اعزاز کے مقام پر آپ کی بہت سی صفات کمال میں سے صفت عبدیت کو اختیار کیا گیا اور اس لفظ سے ایک بڑا فائدہ یہ بھی مقصود ہے کہ اس حیرت انگیز سفر سے جس میں اول سے آخر تک سب فوق العادت معجزات ہی ہیں کسی کو خدائی کا وہم نہ ہوجائے جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان پر اٹھائے جانے سے عیسائیوں کو دھوکہ لگا ہے اس سے لفظ عَبْد کہہ کر یہ بتلا دیا کہ ان تمام صفات و کمالات اور معجزات کے باوجود آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے ہی ہیں خدا نہیں۔- معراج کے جسمانی ہونے پر قرآن وسنت کے دلائل اور اجماع :- قرآن مجید کے ارشادات اور احادیث متواترہ سے جن کا ذکر آگے آتا ہے ثابت ہے کہ اسراء و معراج کا تمام سفر صرف روحانی نہیں تھا بلکہ جسمانی تھا جیسے عام انسان سفر کرتے ہیں قرآن کریم کے پہلے ہی لفظ سُبْحٰنَ میں اس طرف اشارہ موجود ہے کیونکہ یہ لفظ تعجب اور کسی عظیم الشان امر کے لئے استعمال ہوتا ہے اگر معراج صرف روحانی بطور خواب کے ہوتی تو اس میں کون سی عجیب بات ہے خواب تو ہر مسلمان بلکہ ہر انسان دیکھ سکتا ہے کہ میں آسمان پر گیا فلاں فلاں کام کئے۔- دوسرا اشارہ لفظ عَبْد سے اسی طرف ہے کیونکہ عَبْد صرف روح نہیں بلکہ جسم و روح کے مجموعہ کا نام ہے اس کے علاوہ۔- واقعہ معراج آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے …

2

وَءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَٰبَ وَجَعَلْنَٰهُ هُدًۭى لِّبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ أَلَّا تَتَّخِذُوا۟ مِن دُونِى وَكِيلًۭا

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی تھی اور اس کو بنی اسرائیل کے لئے رہنما مقرر کیا تھا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ ٹھہرانا

خلاصہ تفسیر :- اور ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو کتاب (یعنی توریت) دی اور ہم نے اس کو بنی اسرائیل کے لئے (آلہ) ہدایت بنایا (جس میں اور احکام کے ساتھ یہ توحید کا عظیم الشان حکم بھی تھا) کہ تم میرے سوا (اپنا) کوئی کارساز مت قرار دو اے ان لوگوں کی نسل جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا (ہم تم سے خطاب کر رہے ہیں تاکہ اس نعمت کو یاد کرو کہ اگر ہم ان کو کشتی پر سوار کر کے نہ بچاتے تو آج تم ان کی نسل کہاں ہوتے اور نعمت کو یاد کر کے اس کا شکر کرو جس کی بڑی فرد توحید ہے اور) وہ نوح (علیہ السلام) بڑے شکر گذار بندہ تھے (پس جب انبیاء (علیہم السلام) شکر کرتے رہے تو تم کیسے اس کے تارک ہو سکتے ہو۔ )

3

ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَبْدًۭا شَكُورًۭا

اے اُن لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا۔ بےشک نوح (ہمارے) شکرگزار بندے تھے

Explained together with ayah 2

4

وَقَضَيْنَآ إِلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ فِى ٱلْكِتَٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِى ٱلْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّۭا كَبِيرًۭا

اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل سے کہہ دیا تھا کہ زمین میں دو دفعہ فساد مچاؤ گے اور بڑی سرکشی کرو گے

خلاصہ تفسیر :- اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں (خواہ توریت میں یا دوسرے انبیاء (علیہم السلام) بنی اسرائیل کے صیحیفوں میں) یہ بات (بطور پیشن گوئی کے) بتلادی تھی کہ تم سر زمین (شام) میں دو مرتبہ (گناہوں کی کثرت سے) خرابی کرو گے (ایک مرتبہ شریعت موسویہ کی مخالفت اور دوسری مرتبہ شریعت عیسویہ کی مخالفت) اور دوسروں پر بھی بڑا زور چلانے لگو گے (یعنی ظلم و زیادتی کرو گے اس طرح لَتُفْسِدُنَّ میں حقوق اللہ کے ضائع کرنے کی طرف اور لَتَعْلُنّ میں حقوق العباد ضائع کرنے کی طرف اشارہ ہے اور یہ بھی بتلا دیا تھا کہ دونوں مرتبہ سخت سزاؤں میں بتلا کئے جاؤ گے) پھر جب ان دو مرتبہ میں پہلی مرتبہ کی میعاد آئے گی تو ہم تم پر اپنے ایسے بندوں کو مسلط کردیں گے جو بڑے جنگجو ہوں گے پھر وہ (تمہارے) گھروں میں گھس پڑیں گے (اور تم کو قتل و قید اور غارت کردیں گے اور یہ (وعدہ سزا) ایک وعدہ ہے جو ضرور ہو کر رہے گا پھر (جب تم اپنے کئے پر نادم وتائب ہوجاؤ گے) تو ہم پھر ان پر تمہارا غلبہ کردیں گے (گو بواسطہ سہی کہ جو قوم ان پر غالب آئے گی وہ تمہاری حامی ہوجائے گی اس طرح تمہارے دشمن اس قوم سے اور تم سے دونوں سے مغلوب ہوجائیں گے) اور مال اور بیٹوں سے (جو کہ قید اور غارت کئے گئے تھے) ہم تمہاری امداد کریں گے (یعنی یہ چیزیں تم کو واپس مل جائیں گی جن سے تمہیں قوت پہنچے گی) اور ہم تمہاری جماعت (یعنی تابعین) کو بڑھا دیں گے (پس جاہ ومال اور اولاد ومتبعین سب میں ترقی ہوگی اور اس کتاب میں بطور نصیحت یہ بھی لکھا تھا کہ) اگر (اب آئندہ) اچھے کام کرتے رہو گے تو اپنے ہی نفع کے لئے اچھے کام کرو گے (یعنی دنیا وآخرت میں اس کا نفع حاصل ہوگا) اور اگر (پھر) تم برے کام کرو گے تو بھی اپنے ہی لئے (برائی کرو گے یعنی پھر سزا ہوگی چناچہ ایسا ہی ہوا جس کا آگے بیان ہے کہ) پھر جب (مذکورہ دو مرتبہ کے فساد میں سے) آخری مرتبہ کا وقت آئے گا (اور اس وقت تم شریعت عیسویہ کی مخالفت کرو گے) تو پھر ہم دوسروں کو تم پر مسلط کردیں گے تاکہ (وہ تمہیں مار مار کر) تمہارا چہرہ بگاڑ دیں اور جس طرح وہ (پہلے) لوگ مسجد (بیت المقدس) میں (لوٹ مار کے ساتھ) گھسے تھے یہ (پچھلے) لوگ بھی اس میں گھس پڑیں گے اور جس طرح وہ (پہلے) لوگ مسجد (بیت المقدس) میں (لوٹ مار کے ساتھ) گھسے تھے یہ (پچھلے) لوگ بھی اس میں گھس پڑیں گے اور جس جس چیز پر ان کا زور چلے سب کو (ہلاک و برباد کر ڈالیں (اور اس کتاب میں یہ بھی لکھا تھا کہ اگر اس دوسری مرتبہ کے بعد جب دور شریعت محمدیہ کا ہو تم مخالفت و معصیت سے باز کر شریعت محمدیہ کا اتباع کرلو تو) عجب نہیں (یعنی امید بمعنی وعدہ ہے) کہ تمہارا رب تم پر رحم فرماوے (اور تم کو ادبار وذلت سے نکال دے) اور اگر تم پھر وہی (شرارت) کرو گے تو ہم بھی وہی (سزا کا برتاؤ) کریں گے (چنانچہ آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں انہوں نے آپ کی مخالفت کی تو پھر قتل وقید اور ذلیل ہوئے یہ تو دنیا کی سزا ہوگئی) اور (آخرت میں) ہم نے جہنم کو (ایسے) کافروں کا جی خانہ بنا ہی رکھا ہے۔- ربط آیات :- اس سے پہلی آیات (آیت) جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ میں احکام شرعیہ اور ہدایات الہیہ کے اتباع و اطاعت کی ترغیب تھی اور مذکور الصدر آیات میں ان کی مخالفت سے ترہیب وزجر کا مضمون ہے ان آیات میں بنی اسرائیل کے دو واقعے عبرت و نصیحت کے لئے ذکر کئے گئے کہ انہوں نے ایک مرتبہ معاصی اور حکم ربانی کی مخالفت میں انہماک کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ان پر مسلط کردیا جنہوں نے ان کو تباہ کیا پھر ان کو کچھ تنبہیہ ہوگئی اور شرارت کم کردی تو سنبھل گئے کچھ عرصہ کے بعد پھر وہی شرارتیں اور بداعمالیاں ان میں پھیل گئیں تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے دشمن کے ہاتھ سے سزا دلائی قرآن کریم میں دو واقعوں کا ذکر ہے مگر تاریخ میں اس اس طرح …

5

فَإِذَا جَآءَ وَعْدُ أُولَىٰهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًۭا لَّنَآ أُو۟لِى بَأْسٍۢ شَدِيدٍۢ فَجَاسُوا۟ خِلَٰلَ ٱلدِّيَارِ ۚ وَكَانَ وَعْدًۭا مَّفْعُولًۭا

پس جب پہلے (وعدے) کا وقت آیا تو ہم نے سخت لڑائی لڑنے والے بندے تم پر مسلط کردیئے اور وہ شہروں کے اندر پھیل گئے۔ اور وہ وعدہ پورا ہو کر رہا

Explained together with ayah 4

6

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ ٱلْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَأَمْدَدْنَٰكُم بِأَمْوَٰلٍۢ وَبَنِينَ وَجَعَلْنَٰكُمْ أَكْثَرَ نَفِيرًا

پھر ہم نے دوسری بات تم کو اُن پر غلبہ دیا اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کی۔ اور تم کو جماعت کثیر بنا دیا

Explained together with ayah 4

7

إِنْ أَحْسَنتُمْ أَحْسَنتُمْ لِأَنفُسِكُمْ ۖ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا ۚ فَإِذَا جَآءَ وَعْدُ ٱلْءَاخِرَةِ لِيَسُۥٓـُٔوا۟ وُجُوهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا۟ ٱلْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍۢ وَلِيُتَبِّرُوا۟ مَا عَلَوْا۟ تَتْبِيرًا

اگر تم نیکوکاری کرو گے تو اپنی جانوں کے لئے کرو گے۔ اور اگر اعمال بد کرو گے تو (اُن کا) وبال بھی تمہاری ہی جانوں پر ہوگا پھر جب دوسرے (وعدے) کا وقت آیا (تو ہم نے پھر اپنے بندے بھیجے) تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑ دیں اور جس طرح پہلی دفعہ مسجد (بیت المقدس) میں داخل ہوگئے تھے اسی طرح پھر اس میں داخل ہوجائیں اور جس چیز پر غلبہ پائیں اُسے تباہ کردیں

Explained together with ayah 4

8

عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يَرْحَمَكُمْ ۚ وَإِنْ عُدتُّمْ عُدْنَا ۘ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَٰفِرِينَ حَصِيرًا

امید ہے کہ تمہارا پروردگار تم پر رحم کرے، اور اگر تم پھر وہی (حرکتیں) کرو گے تو ہم بھی (وہی پہلا سلوک) کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے

ان دونوں واقعات کے ذکر کے بعد آخر میں اللہ تعالیٰ نے ان معاملات میں اپنا ضابطہ بیان فرما دیا وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا یعنی اگر تم پھر نافرمانی اور سرکشی کی طرف لوٹو گے تو ہم پھر اس طرح کی سزاء و عذاب تم پر لوٹا دیں گے یہ ضابطہ قیامت تک کے لئے ارشاد ہوا ہے اور اس کے مخاطب وہ بنی اسرائیل تھے جو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں موجود تھے جس میں اشارہ کردیا گیا ہے کہ جس طرح پہلے شریعت موسویہ کی مخالفت سے اور دوسری مرتبہ شریعت عیسویہ کی مخالفت سے تم لوگ سزا و عذاب میں گرفتار ہوئے تھے اب تیسرا دور شریعت محمدیہ کا ہے جو قیامت تک چلے گا اس کی مخالفت کرنے کا بھی وہی انجام ہوگا چناچہ ایسا ہی ہوا کہ ان لوگوں نے شریعت محمدیہ اور اسلام کی مخالفت کی تو مسلمانوں کے ہاتھوں جلا وطن اور ذلیل و خوار ہوئے اور بالآخر انکے قبلہ بیت المقدس پر بھی مسلمانوں کا قبضہ ہوا فرق یہ رہا کہ پیچھلے بادشاہوں نے ان کو بھی ذلیل و خوار کیا تھا اور ان کے قبلہ بیت المقدس کی بےحرمتی بھی کی تھی اب مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا تو مسجد بیت المقدس جو صدیوں سے منہدم اور غیر آباد پڑی تھی اس کو از سر نو تعمیر کیا اور اس قبلہ انبیاء کے احترام کو بحال کیا۔- واقعات بنی اسرائیل مسلمانوں کے لئے عبرت میں موجودہ واقعہ بیت المقدس اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے :- بنی اسرائیل کے یہ واقعات قرآن کریم میں بیان کرنے اور مسلمانوں کو سنانے سے بظاہر مقصد یہی ہے کہ مسلمان بھی اس ضابطہ الہیہ سے مستثنی نہیں ہیں دنیا ودین میں ان کی عزت و شوکت اور مال و دولت اطاعت خداوندی کے ساتھ وابستہ ہیں جب وہ اللہ و رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت سے انحراف کریں گے تو ان کے دشمنوں اور کافروں کو ان پر غالب اور مسلط کردیا جائے گا جن کے ہاتھوں ان کے معاہدہ ومساجد کی بےحرمتی بھی ہوگی۔- آج کل جو حادثہ فاجعہ بیت المقدس پر یہودیوں کے قبضہ کا اور پھر اس کو آگ لگانے کا سارے عالم اسلام کو پریشان کئے ہوئے ہے حقیقت یہ ہے کہ یہ اسی قرآنی ارشاد کی تصدیق ہو رہی ہے مسلمانوں نے خدا و رسول کو بھلایا آخرت سے غافل ہو کر دنیا کی شان و شوکت میں لگ گئے اور قرآن وسنت کے احکام سے بیگانہ ہوگئے تو وہ ہی ضابطہ قدرت الہیہ سامنے آیا کہ کروڑوں عربوں پر چند لاکھ یہودی غالب آگئے انہوں نے ان کی جان ومال کو بھی نقصان پہنچایا اور شریعت اسلام کی رو سے دنیا کی تین عظیم الشان مسجدوں میں سے ایک جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کا قبلہ رہا ہے وہ ان سے چھین لیا گیا اور ایک ایسی قوم غالب آگئی جو دنیا میں سب سے زیادہ ذلیل و خوار سمجھی جاتی رہی ہے یعنی یہود اس پر مزید مشاہدہ ہے کہ وہ قوم نہ تعداد میں مسلمانوں کے مقابلہ میں کوئی حیثیت رکھتی ہے اور نہ مسلمانوں کے مجموعی موجودہ سامان حرب کے مقابلہ میں اس کی کوئی حیثیت ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ واقعہ یہود کو کوئی عزت کا مقام نہیں دیتا البتہ مسلمانوں کے لئے ان کی سرکشی کی سزا ضرور ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ جو کچھ ہوا ہماری بداعمالیوں کی سزاء کے طور پر ہوا اور اس کا علاج بجز اس کے کچھ نہیں کہ ہم پھر اپنی بداعمالیوں پر نادم ہو کر سچی توبہ کریں احکام الہیہ کی اطاعت میں لگ جائیں سچے مسلمان بنیں غیروں کی نقالی اور غیروں پر اعتماد کے گناہ عظیم سے باز آجائیں تو حسب وعدہ ربانی انشاء اللہ تعالیٰ بیت المقدس اور فلسطین پھر ہمارے قبضہ میں آئے گا مگر افسوس یہ ہے کہ آج کل کے عرب حکمران اور وہاں کے عام مسلمان اب تک بھی اس حقیقت پر متنبہ نہیں ہوئے وہ اب بھی غیروں کی امداد پر سہارا لگائے ہوئے بیت المقدس کی واپسی کے پلان اور نقشے بنا رہے ہیں جس کا بظاہر کوئی امکان نظر نہیں آتا فالی اللہ المشتکی۔- وہ اسلحہ اور سامان جس سے بیت المقدس اور فلسطین پھر مسلمانوں کو واپس مل سکتا ہے صرف اللہ تعالیٰ کی طرف انابت …

9

إِنَّ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانَ يَهْدِى لِلَّتِى هِىَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًۭا كَبِيرًۭا

یہ قرآن وہ رستہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھا ہے اور مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہ اُن کے لئے اجر عظیم ہے

ربط آیات :- شروع سورت میں معجزہ معراج سے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان رسالت کا بیان تھا ان آیات میں معجزہ قرآن سے اس کا اثبات ہے۔- خلاصہ تفسیر :- بلاشبہ یہ قرآن ایسے طریقہ کی ہدایت کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے (یعنی اسلام) اور (اس طریقہ کے ماننے اور نہ ماننے والوں کی جزاء وسزا بھی بتلاتا ہے کہ) ان ایمان والوں کو جو نیک کام کرتے ہیں یہ خوشخبری دیتا ہے کہ ان کو بڑا بھاری ثواب ملے گا اور یہ بھی بتلاتا ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے لئے ایک درد ناک سزا تیار کر رکھی ہے اور (بعض) انسان (جیسے کفار ہیں) برائی (یعنی عذاب) کی ایسی دعا کرتا ہے جس طرح بھلائی کی دعاء (کی جاتی ہے) اور انسان کچھ (کچھ طبعاً ہی) جلد باز (ہوتا) ہے۔- معارف و مسائل :- طریق اقوم :- قرآن جس طریقہ کی ہدایت کرتا ہے اس کو اقوم کہا گیا ہے اقوم کی تفسیر یہ ہے کہ وہ راستہ جو منزل مقصود تک پہنچانے میں قریب بھی ہو آسان بھی ہو خطرات سے خالی بھی ہو (قرطبی) اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم انسانی زندگی کے لئے جو احکام دیتا ہے وہ ان تینوں اوصاف کے جامع ہیں اگرچہ انسان اپنی کوتاہ فہمی کی وجہ سے بعض اوقات اس راستہ کو دشوار یا پرخطر سمجھنے لگے لیکن رب العالمین جو کائنات کے ذرہ ذرہ کا علم رکھتا ہے اور ماضی و مستقبل اس کے سامنے یکساں ہے وہ ہی اس حقیقت کو جان سکتا ہے کہ انسان کا نفع کس کام اور کس صورت میں زیادہ ہے اور خود انسان چونکہ مجموعی حالات سے واقف نہیں وہ اپنے بھلے برے کو بھی پوری طرح نہیں پہچان سکتا۔

10

وَأَنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًۭا

اور یہ بھی (بتاتا ہے) کہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اُن کے لئے ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

Explained together with ayah 9

Al-Israa 17:10Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.