سُبْحَٰنَ ٱلَّذِىٓ أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِۦ لَيْلًۭا مِّنَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ إِلَى ٱلْمَسْجِدِ ٱلْأَقْصَا ٱلَّذِى بَٰرَكْنَا حَوْلَهُۥ لِنُرِيَهُۥ مِنْ ءَايَٰتِنَآ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْبَصِيرُ
وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجدالحرام یعنی (خانہٴ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں۔ بےشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے
خلاصہ تفسیر :- وہ ذات پاک ہے جو اپنے بندہ (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شب کے وقت مسجد حرام (یعنی مسجد کعبہ) سے مسجداقصی (یعنی بیت المقدس) تک جس کے آس پاس (کہ ملک شام ہے) ہم نے (دینی اور دنیوی) برکتیں کر رکھی ہیں (دینی برکت یہ ہے کہ وہاں بکثرت انبیاء (علیہم السلام) مدفون ہیں اور دنیوی برکت یہ ہے کہ وہاں باغات اور نہروں چشموں اور پیداوار کی کثرت ہے غرض اس مسجد اقصی تک عجیب طور پر اس واسطے) لے گیا تاکہ ہم ان کو اپنے کچھ عجائبات قدرت دکھلا دیں (جن میں بعض تو خود وہاں کے متعلق ہیں مثلا اتنی بڑی مسافت کو بہت تھوڑے سے وقت میں طے کرلینا اور سب انبیاء (علیہم السلام) سے ملاقات کرنا اور ان کی باتیں سننا وغیرہ اور بعض آگے کے متعلق ہیں مثلا آسمانوں پر جانا اور وہاں عجائبات کا مشاہدہ کرنا) بیشک اللہ تعالیٰ بڑے سننے والے بڑے دیکھنے والے ہیں (چونکہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اقوال کو سنتے اور احوال کو دیکھتے تھے اس کے مناسب ان کو یہ خاص امتیاز اور اعزاز بخشا اور اپنے قرب خاص کا وہ مقام عطا کیا جو کسی کو نہیں ملا)- معارف و مسائل :- اس آیت میں واقعہ معراج کا بیان ہے جو ہمارے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک خصوصی اعزاز اور امتیازی معجزہ ہے لفظ اَسْرٰى اسراء سے مشتق ہے جس کے لغوی معنی رات کو لے جانا ہیں اس کے بعد لَيْلًا کے لفظ سے صراحۃ بھی اس مفہوم کو واضح کردیا اور لفظ لَيْلًا کے نکرہ لانے اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ اس تمام واقعہ میں پوری رات بھی صرف نہیں بلکہ رات کا ایک حصہ صرف ہوا ہے مسجد حرام سے مسجد اقصی تک کا سفر جس کا ذکر اس آیت میں ہے اس کو اسراء کہتے ہیں اور یہاں سے جو سفر آسمانوں کی طرف ہوا اس کا نام معراج ہے اسراء اس آیت کی نص قطعی سے ثابت ہے اور معراج کا ذکر سورة نجم کی آیات میں ہے اور احادیث متواترہ سے ثابت ہے بِعَبْدِهٖ اس مقام اعزازو اکرام میں لفظ بِعَبْدِهٖ ایک خاص محبوبیت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ حق تعالیٰ کس کو خود فرما دیں کہ یہ میرا بندہ ہے اس سے بڑھ کر کسی بشر کا بڑا اعزاز نہیں ہوسکتا حضرت حسن دہلوی نے خوب فرمایا۔- بندہ حسن بصد زبان گفت کہ بندہ توام تو بزبان خود بگوبندہ نواز کیستی - یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک دوسری آیت میں (آیت) عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ الَّذِین الخ فرما کر اپنے مقبولان بارگاہ کا اعزاز بڑھانا مقصود ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انسان کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ اللہ کا عبد کامل بن جائے اس لئے کہ خصوصی اعزاز کے مقام پر آپ کی بہت سی صفات کمال میں سے صفت عبدیت کو اختیار کیا گیا اور اس لفظ سے ایک بڑا فائدہ یہ بھی مقصود ہے کہ اس حیرت انگیز سفر سے جس میں اول سے آخر تک سب فوق العادت معجزات ہی ہیں کسی کو خدائی کا وہم نہ ہوجائے جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان پر اٹھائے جانے سے عیسائیوں کو دھوکہ لگا ہے اس سے لفظ عَبْد کہہ کر یہ بتلا دیا کہ ان تمام صفات و کمالات اور معجزات کے باوجود آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے ہی ہیں خدا نہیں۔- معراج کے جسمانی ہونے پر قرآن وسنت کے دلائل اور اجماع :- قرآن مجید کے ارشادات اور احادیث متواترہ سے جن کا ذکر آگے آتا ہے ثابت ہے کہ اسراء و معراج کا تمام سفر صرف روحانی نہیں تھا بلکہ جسمانی تھا جیسے عام انسان سفر کرتے ہیں قرآن کریم کے پہلے ہی لفظ سُبْحٰنَ میں اس طرف اشارہ موجود ہے کیونکہ یہ لفظ تعجب اور کسی عظیم الشان امر کے لئے استعمال ہوتا ہے اگر معراج صرف روحانی بطور خواب کے ہوتی تو اس میں کون سی عجیب بات ہے خواب تو ہر مسلمان بلکہ ہر انسان دیکھ سکتا ہے کہ میں آسمان پر گیا فلاں فلاں کام کئے۔- دوسرا اشارہ لفظ عَبْد سے اسی طرف ہے کیونکہ عَبْد صرف روح نہیں بلکہ جسم و روح کے مجموعہ کا نام ہے اس کے علاوہ۔- واقعہ معراج آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے …