Muslim99Muslim99
← Tafsir library

14. Ibrahim

Abraham · Meccan · 52 ayahs

سُورَةُ إِبۡرَاهِيمَ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 1–10 of 52

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓر ۚ كِتَٰبٌ أَنزَلْنَٰهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ ٱلنَّاسَ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَمِيدِ

الٓرٰ۔ (یہ) ایک (پُرنور) کتاب (ہے) اس کو ہم نے تم پر اس لیے نازل کیا ہے کہ لوگوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاؤ (یعنی) ان کے پروردگار کے حکم سے غالب اور قابل تعریف (خدا) کے رستے کی طرف

خلاصہ تفسیر :- الۗرٰ (اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ (قرآن) ایک کتاب ہے جس کو ہم نے آپ پر نازل فرمایا ہے تاکہ آپ (اس کے ذریعہ سے) تمام لوگوں کو ان کے پروردگار کے حکم سے (مرتبہ تبلیغ میں کفر کی) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان و ہدایت کی) روشنی کی طرف یعنی ذات غالب ستودہ صفات کی راہ کی طرف لاویں (روشنی میں لانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ راہ بتلا دیں) جو ایسا خدا ہے کہ اس کی ملک ہے جو کچھ کہ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ کہ زمین میں ہے اور (جب یہ کتاب خدا کا راستہ بتلاتی ہے تو) بڑی خرابی یعنی بڑا سخت عذاب ہے ان کافروں کو جو (اس راہ کو نہ تو خود قبول کرتے ہیں بلکہ) دنیوی زندگانی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں (اس لئے دین کی جستجو نہیں کرتے) اور (نہ دوسروں کو یہ راہ اختیار کرنے دیتے ہیں بلکہ) اللہ کی (اس) راہ (مذکور) سے روکتے ہیں اور اس میں کجی (یعنی شبہات) کے متلاشی رہتے ہیں (جن کے ذریعہ سے دوسروں کو گمراہ کرسکیں) ایسے لوگ بڑی دور کی گمراہی میں ہیں (یعنی وہ گمراہی حق سے بڑی دور ہے)- معارف و مسائل :- سورۃ اور اس کے مضامین :- یہ قرآن کریم کی چودہویں سورة سورة ابراہیم شروع ہوتی ہے یہ سورة مکی ہے قبل از ہجرت نازل ہوئی بجز چند آیات کے جن کے بارے میں اختلاف ہے کہ مدنی ہیں یا مکی۔- اس سورة کے شروع میں رسالت ونبوت اور ان کی کچھ خصوصیات کا بیان ہے پھر توحید کا مضمون اور اس کے شواہد کا ذکر ہے اسی سلسلہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا گیا ہے اور اسی مناسبت سے سورة کا نام سورة ابراہیم رکھا گیا ہے۔- الۗرٰ ۣ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِ ڏ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ ۔ الۗرٰ ان حروف مقطعات میں سے ہیں جن کے متعلق بار بار ذکر کیا جا چکا ہے کہ اس میں اسلم اور بےغبار طریقہ سلف صالحین کا ہے کہ اس میں ایمان و یقین رکھیں کہ جو کچھ اس کی مراد ہے وہ حق ہے لیکن اس کے معانی کی تحقیق وتفتیش کے درپے نہ ہوں۔- كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ میں نحوی ترکیب کے لحاظ سے زیادہ واضح اور صاف بات یہ ہے کہ اس کو لفظ ھذا محذوف کی خبر قرار دی جائے اور جملہ کے معنی یہ ہوں کہ یہ وہ کتاب ہے جس کو ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے اس میں نازل کرنے کی نسبت حق تعالیٰ شانہ کی طرف اور خطاب کی نسبت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کرنے میں دو چیزوں کی طرف اشارہ پایا گیا ایک یہ کہ یہ کتاب نہایت عظیم المرتبہ ہے کہ اس کو خود ذات حق تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے دوسرے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عالی مرتبہ ہونے کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کو اس کا پہلا مخاطب بنایا ہے لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِ ڏ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ ۔ لفظ ناس عام انسانوں کے لئے بولا جاتا ہے اس سے مراد تمام عالم کے موجود اور آئندہ آنے والے انسان ہیں الظُّلُمٰتِ ظلمۃ کی جمع ہے جس کے معنی اندھیرے کے معروف و مشہور ہیں یہاں الظُّلُمٰتِ سے مراد کفر و شرک اور بداعمالیوں کی ظلمت ہے اور نور سے مراد ایمان کی روشنی ہے اسی لئے لفظ ظلمت کو بصیغہ جمع لایا گیا کیونکہ کفر و شرک کی بہت سی انواع و اقسام ہیں اسی طرح برے اعمال بھی بیشمار ہیں اور لفظ نور کو بصیغہ مفرد لایا گیا کیونکہ ایمان اور حق واحد ہے معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہ کتاب ہم نے اس لیے آپ کی طرف نازل کی ہے کہ آپ اس کے ذریعہ تمام عالم کے انسانوں کو کفر و شرک اور برے کاموں کی اندھیریوں سے نجات دلا کو ایمان اور حق کی روشنی میں لے آئیں ان کے رب کی اجازت سے یہاں لفظ رب لانے میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عام انسانوں پر یہ انعام کہ اپنی کتاب اور پیغمبر کے ذریعہ ان کو اندھیروں سے نجات دلائیں اس کا سبب اور منشاء بجز اس لطف و مہربانی کے اور کچھ نہیں جو تمام انسانوں کے خالق ومالک نے اپنی شان ربوبیت سے ان …

2

ٱللَّهِ ٱلَّذِى لَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَوَيْلٌۭ لِّلْكَٰفِرِينَ مِنْ عَذَابٍۢ شَدِيدٍ

وہ خدا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور کافروں کے لیے عذاب سخت (کی وجہ) سے خرابی ہے

اللہ تعالیٰ کی یہ دو صفتیں پہلے بیان کرنے کے بعد فرمایا اللّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَافِي السَّمٰوٰتِ وَمَافِي الْاَرْضِ یعنی یہ وہ ذات ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اس کا پیدا کیا ہوا اور اسی کی ملک خاص ہے جس میں کوئی شریک نہیں۔- وَوَيْلٌ لِّلْكٰفِرِيْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِيْدِ لفظ ویل عذاب شدید اور ہلاکت کے معنی میں آتا ہے معنی یہ ہیں کہ جو لوگ اس نعمت قرآن سے منکر ہیں اور کفر و شرک کے اندھیرے ہی میں رہنے کو پسند کرتے ہیں ان کے لئے بڑی بربادی اور ہلاکت ہے اس عذاب شدید سے جو ان پر آنے والا ہے۔- خلاصہ مفہوم : - آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم اس لئے نازل کیا گیا ہے کہ سب انسانوں کو اندھیرے سے نکال کر اللہ کے راستہ کی روشنی میں لے آئے مگر جو بدنصیب قرآن ہی کے منکر ہوجائیں تو وہ اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو عذاب میں ڈال رہے ہیں جو لوگ قرآن کے کلام الہی ہونے ہی کے منکر ہیں وہ تو اس وعید کی مراد ہیں ہی مگر جو اعتقادا منکر نہیں مگر عملا قرآن کو چھوڑے ہوئے ہیں نہ تلاوت سے کوئی واسطہ ہے نہ اس کے سمجھنے اور عمل کرنے کی طرف کوئی التفات ہے وہ بدنصیب بھی مسلمان ہونے کے باوجود اس وعید سے بالکل بری نہیں۔

3

ٱلَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا عَلَى ٱلْءَاخِرَةِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ فِى ضَلَٰلٍۭ بَعِيدٍۢ

جو آخرت کی نسبت دنیا کو پسند کرتے اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکتے اور اس میں کجی چاہتے ہیں۔ یہ لوگ پرلے سرے کی گمراہی میں ہیں

(آیت) الَّذِيْنَ يَسْتَحِبُّوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا عَلَي الْاٰخِرَةِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَيَبْغُوْنَھَا عِوَجًا ۭ اُولٰۗىِٕكَ فِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ- اس آیت میں منکریں قرآن کافروں کے تین حال بتلائے گئے ہیں ایک یہ کہ وہ دنیا کی زندگی کو بہ نسبت آخرت کے زیادہ پسند کرتے ہیں اور ترجیح دیتے ہیں اسی لئے دنیا کے نفع یا آرام کی خاطر آخرت کا نقصان کرنا گوارا کرلیتے ہیں اس میں ان کے مرض کی تشخیص کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم کے واضح معجزات دیکھنے کے باوجود اس سے منکر کیوں ہیں وجہ یہ ہے کہ ان کو دنیا کی موجودہ زندگی کی محبت نے آخرت کے معاملات سے اندھا کر رکھا ہے اس لئے ان کو اپنی اندہیری ہی پسند ہے روشنی کی طرف آنے سے کوئی رغبت نہیں۔- دوسری خصلت ان کی یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ خود تو اندہیریوں میں رہنے کو پسند کرتے ہی ہیں اس پر ظلم یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لئے دوسروں کو بھی روشنی کی شاہراہ یعنی اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔- قرآن فہمی میں بعض غلطیوں کی نشاندہی :- تیسری خصلت وَيَبْغُوْنَھَا عِوَجًا میں بیان کی گئی ہے اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ یہ لوگ اپنی بدباطنی اور بدعملی کے سبب اس فکر میں لگے رہتے ہیں کہ اللہ کے روشن اور سیدھے راستہ میں کوئی کجی اور خرابی نظر آئے تو ان کو اعتراض اور طعن کا موقع ملے ابن کثیر نے یہی معنی بیان فرمائے ہیں۔- اور اس جملہ کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ لوگ اس فکر میں لگے رہتے ہیں کہ اللہ کے راستے یعنی قرآن وسنت میں کوئی چیز ان کے خیالات اور خواہشات کے موافق مل جائے تو اس کو اپنی حقانیت کے استدلال میں پیش کریں تفسیر قرطبی میں اسی معنی کو اختیار کیا گیا ہے جیسے آج کل بیشمار اہل علم اس میں مبتلا ہیں کہ اپنے دل میں ایک خیال کبھی اپنی غلطی سے کبھی کسی دوسری قوم سے متاثر ہو کر گھڑ لیتے ہیں پھر قرآن و حدیث میں اس کے مؤ یدات تلاش کرتے ہیں اور کہیں کوئی الفظ اس خیال کی موافقت میں نظر پڑگیا تو اس کو اپنے حق میں قرآنی دلیل سمجھتے ہیں حالانکہ یہ طریقہ کار اصولا ہی غلط ہے کیونکہ مومن کا کام یہ ہے کہ اپنے خیالات و خواہشات سے خالی الذہن ہو کر کتاب وسنت کو دیکھے جو کچھ ان سے واضح طور پر ثابت ہوجائے اسی کو اپنا مسلک قرار دے۔- (آیت) اُولٰۗىِٕكَ فِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ اس جملہ میں ان کفار کا انجام بد بیان کیا گیا ہے جن کی تین صفتیں اوپر بیان ہوئی ہیں اور حاصل اس کا یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی گمراہی میں بڑی دور جا پہنچے ہیں کہ اب ان کا راہ پر آنا مشکل ہے۔- احکام و مسائل :- تفسیر قرطبی میں ہے کہ اگرچہ اس آیت میں صراحۃ یہ تین خصلتیں کفار کی بیان کی گئی ہیں اور انہی کا یہ انجام ذکر کیا گیا ہے کہ وہ گمراہی میں دور چلے گئے ہیں لیکن اصول کی رو سے جس مسلمان میں بھی یہ تین خصلتیں موجود ہوں وہ بھی اس وعید کا مستحق ہے ان تین خصلتوں کا خلاصہ یہ ہے - ١ دنیا کی محبت کو آخرت پر غالب رکھیں یہاں تک کہ دین کی روشنی میں نہ آئیں۔- ٢ دوسروں کو بھی اپنے ساتھ شریک رکھنے کے لئے اللہ کے راستہ سے روکیں۔- ٣ قرآن وسنت کو ہیر پھیر کر کے اپنے خیالات پر منطبق کرنے کی کوشش کریں۔ نعوذ باللہ منہ

4

وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِۦ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ۖ فَيُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ ۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا تھا تاکہ انہیں (احکام خدا) کھول کھول کر بتا دے۔ پھر خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ غالب (اور) حکمت والا ہے

خلاصہ تفسیر :- اور (اس کتاب کے منزل من اللہ ہونے میں جو بعض کفار کو یہ شبہ ہے کہ یہ عربی کیوں ہے جس سے احتمال ہوتا ہے کہ خود پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تصنیف کرلیا ہوگا عجمی زبان میں کیوں نہیں تاکہ یہ احتمال ہی نہ ہوتا اور قرآن دوسری کتب سماویہ سے عجمی ہونے میں متوافق بھی ہوتا تو یہ شبہ محض لغو ہے کیونکہ) ہم نے تمام (پہلے) پیغمبروں کو (بھی) انہی کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا ہے تاکہ (ان کی زبان میں) ان سے (احکام الہیہ کو) بیان کریں (کہ اصل مقصود واضح بیان ہے تو سب کتابوں کا ایک زبان میں ہونا کوئی مقصد نہیں) پھر (بیان کرنے کے بعد) جس کو اللہ تعالیٰ چاہے گمراہ کرتے ہیں (کہ وہ ان احکام کو قبول نہیں کرتا) اور جس کو چاہیے ہدایت کرتے ہیں (کہ وہ ان احکام کو قبول کرلیتا ہے) اور وہی (سب امور پر) غالب ہے (اور) حکمت والا ہے (پس غالب ہونے کے سبب سب کو ہدایت کرسکتا تھا مگر بہت سی حکمتیں اس کو مقتضی نہ ہوئیں )- معارف و مسائل :- پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی اس نعمت اور سہولت کا ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب بھی کوئی رسول کس قوم کی طرف بھیجا ہے تو اس قوم کا ہم زبان بھیجا ہے تاکہ وہ احکام الہیہ انہی کی زبان اور انہی کے محاورات میں بتلائے اور ان کو اس کا سمجھنا آسان ہو اگر رسول کی زبان امت کی زبان سے مختلف ہوتی تو ظاہر ہے کہ اس کے احکام سمجھنے میں امت کو ترجمہ کرنے کرانے کی مشقت بھی اٹھانا پڑتی اور پھر بھی احکام کو صحیح سمجھنا مشکوک رہتا اس لئے اگر عبرانی زبان بولنے والوں کی طرف کوئی رسول بھیجا تو رسول کی زبان بھی عبرانی ہی تھی فارسیوں کے رسول کی زبان بھی فارسی، بربریوں کے رسول کی زبان بربری رکھی گئی خواہ اس صورت سے کہ جس شخص کو رسول بنایا گیا وہ خود اسی قوم کا فرد ہو اور مادری زبان اسی قوم کی زبان ہو یا یہ کہ اس کی پیدائشی اور مادری زبان اگرچہ کچھ اور ہو مگر اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب پیدا فرمائے کہ اس نے اس قوم کی زبان سیکھ لی جیسے حضرت لوط (علیہ السلام) اگرچہ اصل باشندے عراق کے تھے جہاں کی زبان فارسی تھی لیکن ملک شام کی طرف ہجرت کرنے کے بعد انہی لوگوں میں شادی کی اور شامیوں کی زبان ہی ان کی زبان بن گئی تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک خطہ شام کا نبی بنایا۔- اور ہمارے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جن کی بعثت مکان و مقام کے اعتبار سے پوری دنیا کے لئے اور زمانے کے اعتبار سے قیامت تک کے لئے عام ہے دنیا کی کوئی قوم کسی ملک کی رہنے والی کسی زبان کی بولنے والی آپ کے دائرہ رسالت ونبوت سے باہر نہیں اور قیامت تک جتنی قومیں اور زبانیں نئی پیدا ہوں گی وہ سب کی سب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت دعوت میں داخل ہوں گی جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے (آیت) يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا۔ یعنی اے لوگو میں اللہ کا رسول ہوں تم سب کی طرف اور صحیح بخاری ومسلم میں بروایت جابر (رض) مذکور ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام انبیاء (علیہم السلام) کے درمیان اپنی پانچ امتیازی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھ سے پہلے ہر رسول و نبی خآص اپنی قوم و برادری کی طرف مبعوث ہوا کرتا تھا اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام اقوام بنی آدم کی طرف مبعوث فرمایا - حق تعالیٰ نے اس عالم میں انسانی آبادی کو حضرت آدم (علیہ السلام) سے شروع فرمایا اور انہی کو انسانوں کا سب سے پہلا نبی اور پیغمبر بنایا پھر انسانی آبادی جس طرح اپنی عمرانی اور اقتصادی حیثت سے پھیلتی اور ترقی کرتی رہی اسی کی مناسبت سے رشد و ہدایت کے انتظامات بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف رسولوں پیغمبروں کے ذریعہ ہوتے رہے زمانہ کے ہر دور اور ہر قوم کے مناسب حال احکام اور شریعتیں نازل ہوتی رہیں یہاں تک کہ عالم انسانی کا نشوونما سن کمال کو پہنچا تو اللہ …

5

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَآ أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ وَذَكِّرْهُم بِأَيَّىٰمِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍۢ لِّكُلِّ صَبَّارٍۢ شَكُورٍۢ

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے جاؤ۔ اور ان کو خدا کے دن یاد دلاؤ اس میں ان لوگوں کے لیے جو صابر وشاکر ہیں (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں

خلاصہ تفسیر :- اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو (کفر و معاصی کی) تاریکیوں سے (نکال کر ایمان و اطاعت کی) روشنی کی طرف لاؤ اور ان کو اللہ تعالیٰ کے معاملات (نعمت اور عذاب کے) یاد دلاؤ بلاشبہ ان معاملات میں عبرتیں ہیں ہر صابر شاکر کے لئے (کیونکہ نعمت کو یاد کر کے شکر کرے گا اور نقمت یعنی عتاب کو پھر اس کے زوال کو یاد کرکے آئندہ حوادث میں صبر کرے گا) اور اس وقت کو یاد کیجئے کہ جب (ہمارے اس ارشاد بالا کے موافق) موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کا انعام اپنے اوپر یاد کرو جب کہ تم کو فرعون والوں سے نجات دی جو تم کو سخت تکلیفیں پہنچاتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو (یعنی لڑکیوں کو جو کہ بڑی کر عورتیں ہوجاتی تھیں) زندہ چھوڑ دیتے تھے (تاکہ ان سے کار و خدمت لیں سو یہ بھی مثل ذبح ہی کے ایک عقوبت تھی) اور اس (مصیبت اور نجات دونوں) میں تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑا امتحان ہے (یعنی مصیبت میں بلاء تھی اور نجات میں نعمت تھی اور بلاء اور نعمت دونوں بندے کے لئے امتحان ہیں پس اس میں موسیٰ (علیہ السلام) نے ایام اللہ یعنی نعمت ونقمت دونوں کی تذکیر فرما دی) اور موسیٰ (علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ اے میری قوم) وہ وقت یاد کرو جب کہ تمہارے رب نے (میرے ذریعہ سے) تم کو اطلاع فرما دی کہ اگر (میری نعمتوں کو سن کر) تم شکر کرو گے تو تم کو (خواہ دنیا میں بھی یا آخرت میں تو ضرور) زیادہ نعمت دوں گا اور اگر تم (ان نعمتوں کو سن کر) ناشکری کرو گے تو (یہ سمجھ رکھو کہ) میرا عذاب بڑا سخت ہے (ناشکری میں اس کا احتمال ہے) اور موسیٰ (علیہ السلام) نے (یہ بھی) فرمایا کہ اگر تم اور تمام دنیا بھر کے آدمی سب کے سب مل کر بھی ناشکری کرنے لگو تو اللہ تعالیٰ (کا کوئی ضرر نہیں کیونکہ وہ) بالکل بےاحتیاج (اور اپنی ذات میں) ستودہ صفات ہیں (استکمال بالغیر کا وہاں احتمال نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ کا ضرر محتمل ہی نہیں اور تم اپنا ضرر سن چکے ہو اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ اس لئے شکر کرنا ناشکری مت کرنا)- معارف و مسائل :- پہلی آیت میں مذکور ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی آیات دے کر بھیجا کہ وہ اپنی قوم کو کفر و معصیت کی تاریکیوں سے ایمان وطاعت کی روشنی میں لے آئیں - لفظ آیات سے آیات تورات بھی مراد ہو سکتی ہیں کہ ان کے نازل کرنے کا مقصد ہی حق کی روشنی پھیلانا تھا اور آیات کے دوسرے معنی معجزات خاص طور سے عطا فرمائے تھے جن میں عصا کا سانپ بن جانا اور ہاتھ کا روشن ہوجانا کئی جگہ قرآن میں مذکور ہے آیات کو معجزات کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسے کھلے ہوئے معجزات دے کر بھیجا گیا جن کو دیکھنے کے بعد کوئی شریف سمجھدار انسان اپنے انکار اور نافرمانی پر قائم نہیں رہ سکتا - ایک نکتہ :- اس آیت میں لفظ قوم آیا ہے کہ اپنی قوم کو اندہیری سے روشنی میں لائیں لیکن یہی مضمون اسی سورة کی پہلی آیت میں جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرکے بیان کیا گیا گو وہاں قوم کے بجائے لفظ ناس استعمال کیا گیا (آیت) لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِ اس میں اشارہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و بعثت صرف اپنی قوم بنی اسرائیل اور مصری اقوام کی طرف تھی اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت تمام عالم کے انسانوں کے لئے ہے۔- پھر ارشاد فرمایا وَذَكِّرْهُمْ ، بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ یعنی حق تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنی قوم کو ایام اللہ یاد دلاؤ۔- ایام اللہ : ایام یوم کی جمع ہے جس کی معنی دن کے مشہور ہیں لفظ ایام اللہ دو معنی کے لئے بولا جاتا ہے اور وہ دونوں یہاں مراد ہو سکتے ہیں اول وہ خاص ایام جن میں کوئی جنگ یا انقلاب آیا ہے …

6

وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ أَنجَىٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌۭ

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا نے جو تم پر مہربانیاں کی ہیں ان کو یاد کرو جب کہ تم کو فرعون کی قوم (کے ہاتھ) سے مخلصی دی وہ لوگ تمہیں بُرے عذاب دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو مار ڈالتے تھے اور عورت ذات یعنی تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی

Explained together with ayah 5

7

وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِى لَشَدِيدٌۭ

اور جب تمہارے پروردگار نے (تم کو) آگاہ کیا کہ اگر شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو (یاد رکھو کہ) میرا عذاب بھی سخت ہے

شکر اور ناشکری کے نتائج :- (آیت) وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ لفظ تاذن، اذن اور اطلاع دینے اور اعلان کرنے کے معنی میں ہے مطلب آیت کا یہ ہے کہ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان عام فرما دیا ہے کہ اگر تم نے میری نعمتوں کا شکر ادا کیا کہ انکو میری نافرمانیوں اور ناجائز کاموں میں خرچ نہ کیا اور اپنے اعمال و افعال کو میری مرضی کے مطابق بنانے کی کوشش کی تو میں ان نعمتوں کو اور زیادہ کر دوں گا یہ زیادتی نعمتوں کی مقدار میں بھی ہو سکتی ہے، اور ان کی بقاء و دوام میں بھی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس شخص کو شکر ادا کرنے کی توفیق ہوگئی وہ کبھی نعمتوں میں برکت اور زیادت سے محروم نہ ہوگا (رواہ ابن مردویہ عن ابن عباس مظہری) اور فرمایا کہ اگر میری نعمتوں کی ناشکری کی تو میرا عذاب بھی سخت ہے ناشکری کا حاصل یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اس کی نافرمانی اور ناجائز کاموں میں صرف کرے یا اس کے فرائض و واجبات کی ادائیگی میں سستی کرے اور کفران نعمت کا عذاب شدید دنیا میں بھی یہ ہوسکتا ہے کہ یہ نعمت سلب ہوجائے یا ایسی مصیبت میں گرفتار ہوجائے کہ نعمت کا فائدہ نہ اٹھا سکے اور آخرت میں بھی عذاب میں گرفتار ہو۔ - یہاں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اس آیت میں حق تعالیٰ نے شکر گذاروں کے لئے تو اجر وثواب اور نعمت کی زیادتی کا وعدہ اور وہ بھی بلفظ تاکید وعدہ فرمایا ہے لَاَزِيْدَنَّكُم لیکن اس کے بالمقابل ناشکری کرنے والوں کے لئے یہ نہیں فرمایا کہ لاعذبنکم یعنی میں تمہیں ضرور عذاب دوں گا بلکہ صرف اتنا فرما کر ڈرایا ہے کہ میرا عذاب بھی جس کو پہنچنے وہ بڑا سخت ہوتا ہے اس خاص تعبیر میں اشارہ ہے کہ ہر ناشکرے کا گرفتار عذاب ہونا کچھ ضروری نہیں معافی کا بھی امکان ہے۔

8

وَقَالَ مُوسَىٰٓ إِن تَكْفُرُوٓا۟ أَنتُمْ وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا فَإِنَّ ٱللَّهَ لَغَنِىٌّ حَمِيدٌ

اور موسیٰ نے (صاف صاف) کہہ دیا کہ اگر تم اور جتنے اور لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ناشکری کرو تو خدا بھی بےنیاز (اور) قابل تعریف ہے

(آیت) وَقَالَ مُوْسٰٓى اِنْ تَكْفُرُوْٓا اَنْتُمْ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ حَمِيْدٌ- یعنی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اگر تم سب اور جتنے آدمی زمین پر آباد ہیں وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگو تو یاد رکھو کہ اس میں اللہ تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں وہ تو سب کی حمد وثناء اور شکر و ناشکری سے بےنیاز اور بالا تر ہے اور وہ اپنی ذات میں حمید یعنی مستحق حمد ہے اس کی حمد تم نہ کرو تو اللہ کے سارے فرشتے اور کائنات کا ذرہ ذرہ کررہا ہے۔- شکر کا فائدہ جو کچھ ہے وہ تمہارے ہی لئے ہے اس لئے شکر گذاری کی تاکید اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ اپنے فائدہ کے لئے نہیں بلکہ بسبب رحمت تمہیں ہی فائدہ پہونچانے کے لئے ہے۔

9

أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَؤُا۟ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوحٍۢ وَعَادٍۢ وَثَمُودَ ۛ وَٱلَّذِينَ مِنۢ بَعْدِهِمْ ۛ لَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا ٱللَّهُ ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَرَدُّوٓا۟ أَيْدِيَهُمْ فِىٓ أَفْوَٰهِهِمْ وَقَالُوٓا۟ إِنَّا كَفَرْنَا بِمَآ أُرْسِلْتُم بِهِۦ وَإِنَّا لَفِى شَكٍّۢ مِّمَّا تَدْعُونَنَآ إِلَيْهِ مُرِيبٍۢ

بھلا تم کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے تھے (یعنی) نوح اور عاد اور ثمود کی قوم۔ اور جو ان کے بعد تھے۔ جن کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں (جب) ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دیئے (کہ خاموش رہو) اور کہنے لگے کہ ہم تو تمہاری رسالت کو تسلیم نہیں کرتے اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے قوی شک میں ہیں

خلاصہ تفسیر :- (اے کفار مکہ) کیا تم کو ان لوگوں (کے واقعات) کی خبر (گو اجمالا سہی) نہیں پہنچی جو تم سے پہلے ہو گذرے ہیں یعنی قوم نوح اور عاد (قوم ہود) اور ثمود (قوم صالح) اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں جن (کی مفصل حالت) کو بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا، (کیونکہ ان کے حالات تفصیلات منضبط و منقول نہیں ہوئے، اور وہ واقعات یہ ہیں کہ) ان کے پیغمبر ان کے پاس دلائل لے کر آئے سو ان قوموں (میں جو کفار تھے انہوں) نے اپنے ہاتھ ان پیغمبروں کے منہ میں دیدئیے (یعنی مانتے تو کیا یہ کوشش کرتے تھے کہ ان کو بات تک نہ کرنے دیں) اور کہنے لگے کہ جو حکم دے کر تم کو (بزعم تمہارے) بھیجا گیا ہے (یعنی توحید و ایمان) ہم ان کے منکر ہیں اور جس امر کی طرف تم ہم کو بلاتے ہو (یعنی وہی توحید و ایمان) ہم تو اس کی جانب سے بہت بڑے شبہ میں ہیں جو (ہم کو) تردد میں ڈالے ہوئے ہے (مقصود اس سے توحید و رسالت دونوں کا انکار ہے توحید کا تو ظاہر ہے اور رسالت کا تدعونا میں جس کا حاصل یہ ہے کہ تم خود اپنی رائے سے دعوت توحید کر رہے ہو مامور ومرسل من اللہ نہیں ہو) ان کے پیغمبروں نے (اس بات کے جواب میں) کہا کیا (تم کو) اللہ تعالیٰ کے بارے میں (یعنی اس کی توحید میں) شک (و انکار) ہے جو کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے (یعنی اس کا ان چیزوں کو پیدا کرنا خود دلیل اس کی ہستی اور وحدانیت کی ہے پھر اس دلیل کے ہوتے ہوئے شک کرنا بڑی تعجب کی بات ہے اور تم جو دعوت الی التوحید کو استقلالا ہماری طرف منسوب کرتے ہو یہ بھی محض غلط ہے گو توحید بوجہ حق ہونے کے اس قابل ہے کہ اگر کوئی اپنی رائے سے بھی اس کی دعوت کرے تو بھی زیبا ہے لیکن محل متنازع فیہ میں تو ہماری دعوت بحکم خداوند تعالیٰ ہے پس) وہ (ہی) تم کو (توحید کی طرف) بلارہا ہے تاکہ (اس کے قبول کرنے کی برکت سے) تمہارے (گذشتہ) گناہ معاف کردے اور (تمہاری عمر کی) معین مدت تک تم کو (خیر و خوبی کے ساتھ) حیات دے (مطلب یہ کہ توحید علاوہ اس کے کہ فی نفسہ حق ہے تمہارے لئے دونوں جہان میں نافع بھی ہے اور اس جواب میں دونوں امر کے متعلق جواب ہوگیا توحید کے متعلق بھی اَفِي اللّٰهِ شَكٌّ الخ اور رسالت کے متعلق بھی يَدْعُوْكُمْ میں جیسا تقریر ترجمہ سے ظاہر ہے) پھر انہوں نے (پھر دونوں امر کے متعلق گفتگو شروع کی اور) کہا کہ تم (پیغمبر نہیں ہو بلکہ) محض ایک آدمی ہو جیسے ہم ہیں (اور بشریت منافی رسالت ہے تم جو کہتے ہو وہ من اللہ نہیں ہے بلکہ) تم (اپنی رائے ہی سے) یوں چاہتے ہو کہ ہمارے آباء و اجداد جس چیز کی عبادت کرتے تھے (یعنی بت) اس سے ہم کو روک دو سو (اگر رسالت کے مدعی ہو تو علاوہ ان دلائل وبینات مذکورہ کے اور) کوئی صاف معجزہ دکھلاؤ (جو ان سب سے واضح تر ہو اس میں نبوت پر تو کلام ظاہر ہے اور يَعْبُدُ اٰبَاۗؤ ُ نَا میں توحید پر کلام کی طرف اشارہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شرک کے حق ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ہمارے بزرگ اس کو کرتے تھے) ان کے رسولوں نے (اس کے جواب میں) کہا کہ (تمھاری تقریر کے کئی جزو ہیں انکار توحید دلیل فعل آباء انکار نبوت مطالبہ سلطان مبین علاوہ بینات سابقہ، سو امر اول کے متعلق فاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ میں جواب ہوگیا کیونکہ دلیل عقلی کے روبرو رسم وعرف کوئی چیز نہیں امر دوم کے متعلق ہم اپنی بشریت کو تسلیم کرتے ہیں کہ واقعی) ہم بھی تمہارے جیسے آدمی ہیں لیکن (بشریت اور نبوت میں تنافی نہیں کیونکہ نبوت ایک اعلی درجہ کا احسان خداوندی ہے اور) اللہ (کو اختیار ہے کہ) اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے (وہ) احسان فرما دے (اور احسان کے غیر بشر کے ساتھ مختص ہونے کی کوئی دلیل نہیں) اور (امر سوم کے متعلق یہ ہے کہ دعوی کے لئے جس میں دعوی نبوت بھی داخل ہے نفس دلیل اور مطلق بینہ جو دعوی نبوت کی صورت میں معجزہ ہوگا ضرور ہے جو کہ پیش کی جا چکی ہے رہا دلیل و معجزہ خاص جس کو …

10

۞ قَالَتْ رُسُلُهُمْ أَفِى ٱللَّهِ شَكٌّۭ فَاطِرِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ يَدْعُوكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى ۚ قَالُوٓا۟ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُنَا تُرِيدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَٰنٍۢ مُّبِينٍۢ

ان کے پیغمبروں نے کہا کیا (تم کو) خدا (کے بارے) میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ وہ تمہیں اس لیے بلاتا ہے کہ تمہارے گناہ بخشے اور (فائدہ پہنچانے کے لیے) ایک مدت مقرر تک تم کو مہلت دے۔ وہ بولے کہ تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو۔ تمہارا یہ منشاء ہے کہ جن چیزوں کو ہمارے بڑے پوجتے رہے ہیں ان (کے پوجنے) سے ہم کو بند کر دو تو (اچھا) کوئی کھلی دلیل لاؤ (یعنی معجزہ دکھاؤ)

Explained together with ayah 9

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.